مواد پر جائیں

باب ۱۷ از ۵۷صفحات ۲۵۶–۲۶۷

قیومیت اشیاء

"یہ عارف کہ قیومیت اشیاء کے منصب سے مشرف ہوا ہے وزیر کا حکم رکھتا ہے کہ مہمات مخلوق اس کی طرف راجع کرتے ہیں،ہر چند انعامات بادشاہ کی طرف سے ہیں لیکن ان کا حصول وزیر کے توسط سے وابستہ ہے۔

اسی دولت کے سردار ابوالبشر حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ہیں اور یہ منصب عالی بالاصالۃ انبیاء اولوالعزم علیہم الصلوات والتسلیمات کے ساتھ مخصوص

ہے،ان بزرگواروں کی تبعیت ووراثت کے طور پر جس کو بھی مشرف کردیں۔؏

باکریماں کارہا دشوار نیست

تفصیل کے لیے اسی مکتوب کو دیکھیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کلام بلاغت نظام نے بہت ساری گتھیوں کو سلجھادیا اور آیات واحادیث کے ظاہر سے پیدا ہونے والی نری مشکلات کو حل کردیا ،عظمت انسانیت سے وہ نقاب کشائی فرمائی ہے کہ بیان سے باہر ہے اور وہ راز منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے کہ جو صرف تجدید الف چانی کا فیضان ہے،قرآن وسنت کے عین مطابق اور حقائق ومعارف کا بلند مینار اور جس علمی گتھی کو جس پیرایہ علم میں بیان فرمایا ہے یہ آپ قدس سرہ ہی کا حصہ ہے،اس مقام ومنصب اور اور ان حقائق ودقائق سے جہاں حضرت مجدد قدس سرہ کی عظمت ورفعت کے لہلہاتے باغ نظر آتے ہیں وہیں ان عظمتوں کی بلندی کا سراغ ملتا ہے جو انبیاے کرام،مرسلین عظام اور اولوالعزم رسل علیہم الصلوات والتسلیمات کو عطا فرمائی گئیں،پھر سید الرسل علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات کا تو کہنا ہی کیا ہے۔

مگر جو اس مقدس اور بلند وبالا جماعت کو عام بشر کے پیمانوں میں ڈھال کر دیکھنا جانتی ہو اسے یہاں شرک وکفر کے سوا اور کیا نظر آ سکتا ہے"

خداوند قدوس کی مصلحتیں وہی جانتا ہے یہ وہابی قوم جس نے انبیاے کرام واولیاے عطام کی تنقیص وتوہیں کو شعار بنا لیا ہے اور قرآن وسنت میں انھیں آیات واحادیث کی تلاش جس کا مشغلہ ہو کہ توہین وتنقیص کا پہلو کہاں سے تلاش کیا جا سکتا ہے؟ ایسی بد طینت قوم کے آنے سے پہلے ہی مجدد الف ثانی جیسا عارف کامل پیدا فرمادیا جس نے ان مقدس جماعتوں کے باطنی حقائق اور روحانی عظمتوں سے ایسی نقاب کشائی کردی کہ جن کے دلوں میں ہلکی سی بھی ایمان کی ضیا باقی ہے وہ سنبھل

جائیں گے اور ان باعظمت انسانوں کے بلند آستانوں پر سر نیاز خم کردیں گے اور دونوں جہان کی فلاح سے مالامال ہو جائیں گے،مگر جن کی بالکل پھوٹ گئی ہوں ان کا کیا علاج؟پروردگار عالم ہدایت دے اور اعتراف عظمت کے دروازے کھول دے۔

خیال رہے کہ لفظ قیوم کے اطلاق اور اس منصب ومقام کے احوال اور دیگر علما وبزرگوں کی تائیدات اگر آپ دیکھنا چاہیں تو علامہ ابوالحسن زید فاروقی کی کتاب"حضرت مجدد اور ان کے ناقدین" کا مطالعہ فرمائیں،دل کی تمام الجھنیں دور ہو جائیں گی مگر انصاف شرط ہے۔

قیومیت اشیا سے متعلق چند مباحث

۱۔ مکتوبات قدسی آیات سے ہم نے جو چند اقتباسات سپرد قلم کیے اس سے آپ نے قیومیت کی حقیقت اور اس کی بلندی و رفعت سمجھ لی ہوگی۔ مزید حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے دفتر اول، مکتوب؍۸۶ کا اقتباس پڑھیں تاکہ اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے۔ خیال رہے کہ ۱۰۳۲ھ کے ماہ ذی الحجہ کے عشرہ اول میں حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کو یہ بشارت دی تھی کہ خلعت قیومیت ہم سے منتقل ہو کر اب تم پر زیب تن ہوا ہے اور فرمایا تھا کہ ‘‘علاقہ ارتباط من بایں مجمع گاہ ہمیں معاملہ قیومیت بودہ کہ آنرا بتو عطا نمودہ شد و مکونات شبوق تمام بتو رو آوردند۔’’ یہ بھی فرمایا کہ ‘‘اشیا بقیومیت تو راضی تر و خوش تر اند از قیومیت من۔’’

در اصل اس مقام و منصب پر فائز عالم مثال میں دیکھتا کہ پس اشیاے عالم اس کی طرف متوجہ ہیں اور اس سے اکتساب فیض کر رہی ہیں۔ یہیں سے آپ کو اس بات کا راز بھی معلوم ہو گیا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی بارگاہ میں اکتساب فیض کے اعلیٰ و ادنیٰ، امیر و وزیر، غریب و حقیر، ابدال و اوتاد، وغیرہ اور جاہل و عالم ہر شہر اور ہر ملک سے کیوں تیزی سے دوڑے اور اس قدر تیزی سے آپ کا فیضان پورے عالم کو کیسے محیط ہو گیا اور نہایت بلند اور اعلیٰ مقامات پر اس قدر سرعت کے ساتھ کیسے پہنچے۔

حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس بشارت سے دس گیارہ سال پہلے جب کہ میں تقریباً چودہ سال کا تھا، میں نے عرض کیا تھا کہ ‘‘میں اپنے سے ایک ایسا نور پاتا ہوں کہ تمام عالم اس نور سے منور ہے اور وہ نور ہر ذرہ سے ذرات عالم سے ساری ہے سورج کی طرح، اگر وہ نور گم ہو جائے تو عالم تاریک ہو جائے۔’’

حضرت مجدد قدس سرہ نے یہ سن کر بشارت دی تھی کہ تو اپنے وقت کا قطب ہوگا۔ اور میری یہ بات یاد رکھنا۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ‘‘قیوم اس عالم میں حق جل و علا کا خلیفہ اور اس کا نائب مناب ہے، اقطاب و ابدال اس کے دائرہ ظلال میں داخل

ہیں اور افراد و اوتاد اس کے محیط کمال میں گم، تمام افراد عالم اس کی طرف رخ رکھتے ہیں اور وہ جہاں والوں کا قبلہ توجہ ہے جانیں یا نہ جانیں، بلکہ عالم والوں کا قیام اس کی ذرات سے ہے۔ پھر اس کے بعد وہی تقریر ہے جو اس منصب کے اثبات میں حضرت مجدد قدس سرہ نے فرمائی۔

۲۔ آپ بارہا پڑھ چکے کہ سرور کونینﷺ جامع جمیع کمالات الٰہیہ ہیں۔ آپ کے کمالات آپ کی بعثت سے پہلے انبیاے سابقین علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے ذریعہ ظاہر ہوتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے علما، صلحا و اولیا کے ذریعہ ان کا ظہور ہوتا رہا۔ جس دور میں جو کمال مناسب ہوا، کبھی قطبیت، کبھی غوثیت، کبھی کچھ، کبھی کچھ۔ یہ خاص منصب قیومیت مجدد قدس سرہ کے ذریعہ ظاہر ہوا اور آپ کے توسط سے باقی امت تک پہنچا۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات سے اس کمال کا ظہور اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ منصب سرور کونینﷺ کے خزانۂ کمالات میں تھا اور آپ کی تبعیت و وراثت سے آپ کے امتی تک پہنچا۔ اس وقت خاص میں ان کے ظہور کاکیا سبب ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کے بتائے سے اس کے بندے۔

۳۔ یہ خاص منصب اس امت میں بالاصالت حضرت مجدد کو ملا اور ان کے توسط سے ان کے فرزندوں یا دیگر کسی کو حاصل ہو سکتا ہے، مگر ہر مقام و منصب کے بارے میں یہ نہ تصور کر لیا جائے کہ جس فراوا نی اور کثرت کمال کے ساتھ فلاں منصب فلاں بزرگ کو ملا تھا اتنے ہی کمال کے ساتھ دوسروں کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ ہم آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر عالم علم میں اور ہر فاضل فضل میں اور ہر مفتی فتویٰ نویسی میں برابر کا درجہ نہیں رکھتا ہے۔ مقام و منصب سے حصہ اپنے اپنے ظرف و استعداد کے مطابق ہوتا ہے، پھر اصالت و تبعیت کا فرق بھی نظر میں رہے۔

۴۔ جب اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص بندہ فیض کے لیے واسطہ بنتا ہے تو اس میں یہ تخصیص نہیں ہوتی ہے کہ جو اس کے سلسلے سے وابستہ ہوگا اسی کو فیض ملےگا، بلکہ یہ وہ بلند و بالا منصب ہے کہ اس پر فائز ہونے والے کا فیض ہر ایک کو پہنچتا ہے۔ کائنات میں کوئی بھی ہو، کسی بھی سلسلے سے وابستہ ہو۔ حضور سیدنا علی پھر ان کے فرزندان گرامی یہاں تک کہ سرکار غوثیت مآب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مقدس نفوس ولایت میں ہر ایک کے لیے فیضان کا واسطہ ہیں، خواہ وہ کسی بھی سلسلے کا ہو، وہ اس فیضان کو جانے یا نہ جانے، آپ کو پہچانے یا نہ۔ یہاں سے آپ اس قول کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں جو تجدید الف ثانی کے سلسلے میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی وغیرہ قدست اسرارھم نے فرمایا ہے کہ آپ کے مجدد الف ثانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس ہزارۂ دوم میں ہر ایک کو فیض آپ کے واسطہ سے پہنچےگا تا ظہور امام مہدی‌رضی اللہ عنہ کیوں کہ ان کا معاملہ دوسرا ہے، وہ ہر مقام و منصب پر مستقل پر فائز ہوں گے۔

۵۔ ماسبق تقریرات سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ افراد عالم خواہ وہ کوئی بھی ہوں ہر ایک کو دیتا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور بانٹتے اس کے مخصوص بندے ہیں۔ پہلے تقسیم انبیاے کرام علیہم السلام فرماتے رہے، ان کے بعد ان کے نائبین سے کائنات کو ہر قسم کا فیض پہنچ رہا ہے، لہٰذا ان کے بغیر رشد و ہدایت کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے، جو منکر ہے وہ جہل مرکب کا شکار ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پروردگار عالم نے اپنے خاص کرم سے انسانوں کو ہی ایسے اوصاف کا حامل بنایا ہے کہ جن کی وجہ سے یہ خلافت و نیابت کا کام انجام دیا جا سکتا ہے، دوسروں میں خواہ وہ جنات ہوں یا فرشتے اس بار امانت کو اٹھانے کی کسی میں دم نہیں۔ یہ مقام ان علما کے لیے لائق عبرت ہے جو فرشتوں کو انبیاے کرام علیہم السلام تک سے افضل مانتے ہیں۔ آپ پڑھ چکے کہ غیر نبی بھی کبھی بلندی کی اس حد پر پہنچ جاتا ہے کہ فرشتے اس سے کسب فیض کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تجدید الف ثانی میں اس قیومیت اشیا کے سوا اور کوئی کمال نہ ہوتا تب بھی بہت کچھ تھا اور صرف یہی منصب تجدید الف ثانی اور تجدید مأۃ کے فرق کے لیے بہت کافی تھا۔ یہاں وہ علماے ظاہر، تنگ نظر اور محدود معلومات رکھنے والے غور کریں کہ تجدید مأۃ کیا ہے اور الف کیا ہے۔

۶۔ جو آیات و احادیث کسی ایک مفہوم و معنیٰ میں متعین نہیں ہیں، بلکہ مختلف معنی و مفاہیم کا احتمال رکھتی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں۔ علماے ظاہر نے اپنے علم کے اعتبار سے معانی کا تعین فرمایا اور شرعی حدود میں مفاہیم سمجھا کر دین و سنت کا تحفظ فرمایا، لیکن علماے ظاہر کے کسی معنی و مفہوم کو متعین کر دینے سے یہ لازم نہیں کہ شارح کی مراد بس یہی معنیٰ ہیں، دوسرے نہیں، پس جس طرح علما کو تعیین اور تاویل کا حق ہے، اسی طرح ان علم و فضل کے شہسواروں کو بھی پورا حق ہے جو بحر حقیقت کے غواص ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہی حکمتیں ہیں ان آیات و احادیث میں جن میں مختلف معانی کا احتمال ہے کہ ہر دور میں ایسے مقربین بارگاہ صمدیت نئے نئے حقائق کے موتی اس بحر حقیقت سے نکال نکال کر دین کی تجدید کرتے رہیں گے اور عظمت اسلام کا پرچم لہراتے رہیں گے اور اسلام کی ہمہ گیری ثابت کرتے رہیں گے۔

قرآن و سنت کے الفاظ کے روپ میں معانی و حقائق کا بحر بیکراں پوشیدہ ہے، ‘‘تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ’’اس کی صفت ہے۔ اب یہ اپنا اپنا ظرف ہے اور پہنچ ہے جتنا حاصل کرے۔ پھر نئے نئے حقائق اگر کسی ذات سے جلوہ گر ہوتے ہیں تو ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ صریح دین سے ٹکراتے نہ ہوں نہ کہ یہ ضروری ہے کہ ہر ایک کسی آیت یا حدیث صریح سے ثابت ہو۔

آپ پہلے پڑھ چکے، بہت سارے احکام ہیں جو الہام اور کشف و مشاہدہ سے ثابت

ہوتے ہیں، اسی سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مطالبہ کتنا بے محل ہےکہ قیومیت کس آیت یا حدیث سے ثابت ہے؟ اگر یہی سوال دہرایا جائے تو ہزاروں امور کے بارے میں پھر کیا جواب دیا جائےگا، خاص کر آج کی ترقی یافتہ دنیا میں روز روز نئے نئے حقائق سامنے آرہے ہیں، آپ بتائیں غوثیت کہاں سے ثابت ہے، قطبیت کا کون سی آیت یا حدیث میں ذکر ہے، فنا و بقا کہاں آئی ہے، سیر و سلوک کی تفصیلات کس پارے میں ہیں۔ منکرین کی حماقتوں پر بڑی ہنسی آتی ہے، خاص کر شیخ اکرام جیسے وہابی مؤرخ پر جسے یہ پتا نہیں کہ قیومیت کیا ہے، باطنی حقائق کیا ہیں، حضرت مجدد قدس سرہ نے کس مکتوب تذکرہ کیا ہے؟ جسے نہ استدلال کا طریقہ معلوم نہ دلائل میں کچھ پختگی اور جس کی پہنچ کا عالم یہ کہ ابو الاعلیٰ مودودی جیسے باطن کے اندھے اور علم و عقل کے کورے کو سند میں پیش کرے وہ ان بزرگواروں پر قلم اٹھائے!

در اصل انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات کا منصب کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہر وقت ان کے سامنے مخلوق کی رہبری اور دعوت و ارشاد کا کام ہوتا ہے، ان کی نظر میں ساری مخلوق ہوتی ہے، عقل و خرد کا تفاوت، مزاجوں کا فرق، تہذیبوں کا انقلاب۔ اسی وجہ سے ان کی نظر ان احکام و قوانین کی وضع اور تدوین ہوتی ہے جو ہر ایک کے لیے رہبر بن سکیں اور سب کی عقلوں میں کسی نہ کسی طرح اتر سکیں، مگر الفاظ کے روپ میں معانی کا وہ سمندر چھوڑ کر جاتے ہیں کہ ان کے نائبین ہر دور کے مناسب حقائق و کمالات اقوام عالم کو دیتے رہتے ہیں، انبیاے کرام باطنی حقائق سے زیادہ سروکار نہیں رکھتے ہیں کیوں کہ ان کا تعلق فلاحی کاموں سے ویسا نہیں ہوتا ہے جیسا کہ احکام شرع سے ہوتا ہے، پھر امتیں ان کے نور سے ایسی منور ہو جاتی ہیں کہ جن پر ان کا عکس پڑ جاتا ہے۔ وہ ان کے واقعی حقائق اور باطنی کمالات کے خود بخود معترف رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ جب ان کا نور کم ہونے لگتا ہے اور لوگ ان کے بلند مرتبوں سے

انھیں اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔ پروردگار عالم ان کے وارثین میں ایسے بندے پیدا فرماتا ہے جو ان کے باطنی حقائق کو منصہ شہود پر جلوہ گر کرنے لگتے ہیں جس سے ان کی باطنی عظمتوں کا تحفظ ہوتا ہے اور لوگ توہین و تنقیص کی پر خطر وادیوں اور ہلاکت خیز طوفانوں سے بچ جاتے ہیں تو یہ اظہار کمالات بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہوا، مگر ازلی شقاوت جن کا مقدر بن چکی ہو انھیں کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے بیان کردہ معارف کو اپنایا جاتا اور ان حقائق کو تسلیم کر لیا جاتا تو کوئی بھی وہابی نہ ہوتا اور ان مقدس نفوس کی تنقیص کو مشغلہ نہ بناتا۔

قطبیت ارشاد:

اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کو ایک اور بھی بڑا کمال عطا فرمایا تھا وہ یہ کہ آپ کو ایسا قطب ارشاد بنایا جو فردیت کے کمالات کا جامع ہو۔ آپ کا مبارک ارشاد نقل کرتے ہوئے صاحب حضرات القدس درجہ ۸ کے تحت فرماتے ہیں: ‘‘قطب ارشاد جو فردیت کے کمالات کا بھی جامع ہوتا ہے بہت کم ہوا کرتا ہے۔ بہت صدیوں اور بے شمار زمانوں کے بعد اس قسم کا کوئی جوہر ظاہر ہوتا ہے اور یہ تاریک دنیا اس کے ظہور سے منور ہوتی ہے اور اس کے رشد و ہدایت کا نور تمام عالم کو شامل ہوتا ہے یعنی عرش کے دائرے سے فرش کے مرکز تک جس کسی کو بھی رشد و ہدایت اور ایمان و معرفت حاصل ہوتی ہے وہ اسی کے واسطے سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی ذات سے مستفاد ہوتی ہے اور بغیر اس کے توسط کے کوئی شخص اس دولت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ ان کا نورِ ہدایت ایک بحر بیکراں کی طرح تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہوتا ہے اور وہ دریا گویا منجمد ہے جس میں مطلق حرکت نہیں ہے۔ جو شخص ایسے بزرگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اخلاص رکھتا ہے یا وہ بزرگ خود کسی طالب کے حال پر متوجہ ہو جائے تو اس توجہ کے دوران

ایک طرح سے اس طالب کے دل میں ایک سوراخ کھل جاتا ہے اور اس راستے سے (توجہ اور اخلاص کے مطابق) اس دریا سے سیراب ہوتا ہے۔

اسی طرح وہ شخص جو ذکر الٰہی میں مشغول ہے اور اس بزرگ کی طرف انکار سے نہیں، بلکہ لاعلمی کی وجہ سے متوجہ نہیں تو اسے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن پہلی صورت میں زیادہ فائدہ ہوتا ہے، البتہ وہ شخص جو ایسے بزرگ کا منکر یا اس بزرگ کو اس شخص سے گرانی ہو تو وہ شخص خواہ ذکر الٰہی میں بہت کچھ مشغول رہے، لیکن وہ رشد و ہدایت کی حقیقت سے محروم ہی رہےگا بغیر اس کے وہ بزرگ اس شخص کو فیض نہ پہنچانے کا کوئی ارادہ کرے یا اسے نقصان پہنچانے کا قصد، اس کا یہ انکار ہی اس کے لیے استفادے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور اسے ہدایت کی اصل حقیقت حاصل نہیں ہوگی، بلکہ جو کچھ حاصل ہوگا وہ ہدایت کی صورت ہوگی اور حقیقت کے بغیر صرف صورت سے بہت کم فائدہ پہنچتا ہے، لیکن جو لوگ اس بزرگ سے اخلاص و محبت رکھتے ہیں اور ذکر الٰہی سے کتنے ہی خالی ہوں ان کو بھی محض محبت کی وجہ سے رشد و ہدایت کا نور حاصل ہو جاتا ہے۔’’

خوارق:

خوارق عادات اگرچہ ولایت کے شرائط میں سے نہیں ہیں، مگر پھر بھی نیک اور صالح افراد سے خوارق کا ظہور اور عظیم تصرفات و کرامات کا وجود ان کی عظمت و رفعت اور باطنی وسعتوں کی نشان دہی ضرور کرتا ہے۔ خیال رہے کہ خوارق عادات کی چند قسمیں ہیں؛ ان میں سے ایک کشف و مشاہدہ ہے۔ کشف دو قسم پر ہے:

کشف کونی:

ایک کشف کونی یعنی وہ موجودات جو نظر سے غائب ہیں ان کے احوال اس پر ظاہر ہوں۔ موجودات خواہ وہ ہوں جن کا تعلق ماضی سے ہو یا وہ جن کا حال و استقبال

سے۔ اولیاے کرام دلوں کے خطرات جان لیتے ہیں۔ کہاں کیا ہو رہا ہے، کون کس حال میں ہے، کس قبر میں مردہ عذاب و ثواب سے کون سی حالت پر ہے، کس کا انجام کیا ہوگا، آئندہ زمانے میں کیا کیا حوادث کون کون سے دن میں واقع ہونے والے ہیں، کن کن پر کیا کیا بلائیں آنے والی ہیں۔ الغرض، اولیاے کرام میں جس قدر جس کا کشف ہے اسی قدر اسے کشف مغیبات ہوتا ہے۔ بعض بعض تو اس درجہ بلند ہوتے ہیں کہ تمام روئے زمین کو دیکھ لیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ موجودات کائنات سے تعلق رکھنے والے ہر کشف کو کشف کونی کہتے ہیں۔

کشف الٰہی:

دوم کشف الٰہی، اپنے احوال اور دیگر سالکین کے احوال سلوک طریق جان لینا اور بارگاہ الوہیت سے کس کو کتنا قرب حاصل ہے یہ معلوم کر لینا۔ اسی طرح وہ علوم جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات وغیرہ سے ہے، اگر ان کو عالم مثال میں نظر کشفی سے دیکھےگا تو یہ کشف الٰہی میں داخل ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سالکین کے وہ احوال جن کا تعلق سلوک سے ہے وہ کشفی کونی میں نہیں، الٰہی میں داخل ہیں۔ لہٰذا کشف کونی ان احوال کے علاوہ کا نام ہوگا۔

الہام:

خوارق عادات سے الہام بھی ایک ہے کہ حق تعالیٰ صوفی کے قلب میں کوئی علم القا فرمائے۔ کلام ہاتف بھی الہام میں شمار ہوتا ہے۔ ہم الہام کی شرعی حیثیت شروع میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ الہام میں قلب صوفی کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور یقین کی دولت میسر آتی ہے اور وسوسہ سے قلب سلیم انکار کرتا ہے، اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتا ہے۔

حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ دل جب غیر اللہ کے نقوش اور دنیوی

آفتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے تو دل کا فتویٰ بہت معتبر ہوتا ہے۔ جب نور فراست سے دل پر نور ہو جاتا ہے تو اسے حرام و ناجائز چیزوں سے نفرت ہو جاتی ہے دلائل کے تضاد کی وجہ سے اگر حکم شرعی کی حلت و حرمت صحیح نہ معلوم کر سکے تو ایسے موقع پر قلب صافی کے فتویٰ پر ہی عمل کا حکم دیا گیا ہے۔