باب ۴۴ از ۵۷صفحات ۶۱۶–۶۲۶
تصوف وصوفیہ
رہا ہے اسی کو لوگ وسیع الاخلاقی کہتے ہیں مگر حضرت مجدد قدس سرہ کی نظر میں وہ سارے امور تھے جو آپ نے پڑھے کہ تصوف میں یوگیت کیسے کیسے اور کس قدر شامل ہو گئی تھی،اور ان ہندو پیشواؤں کی قدر و عظمت کس قدر دلوں میں بیٹھتی جا رہی تھی؟ لہٰذا آپ کے تصوف کی بنیاد اسلام و کفر کے درمیان مکمل امتیاز پر تھی اور نفرت پر تھی اور سخت تاکید تھی کہ ہر معاملہ میں ان سے بچا جائے،اس سلسلے میں اگر آپ حضرت مجدد قدس سرہ کا مزاج پڑھیں تو آپ کو بہت تعجب ہو گا۔
اسلام جب خاص کر ہندوستان میں پھلا پھولا یہاں کے جوگی اور برہمن اپنے اپنے طریقہ کے مطابق کافی سخت مجاہدات کرتے تھے اور انھیں کشف بھی ہوتا تھا۔ جب ان مشرکین سے اختلاط ہوا خاص کر اکبر کے دور میں ہندو پیشواؤوں سے ربط و ضبط جب حد سے بڑھا تو ان صوفیہ نے ان سے اس سلسلے میں استفادہ شروع کیا اور بہت سے تو ان کی بزرگی کے قائل ہونے لگے۔ اس سلسلے میں آپ مختصر طور پر اکبر کے دور کے حالات پڑھ چکے ہیں، قربت کا ایک سبب اثناے سلوک کی بعض کیفیات کی بھی دین ہے۔ جہاں کفر و اسلام ان کو یکساں نظر آتا ہے، دیر و حرم میں امتیاز یہ لوگ ملاّؤں کا جھگڑا قرار دیتے ہیں۔
یہ مقام جمع میں پیش آتا ہے۔ یہ چیز اسلام کے لیے کس قدر زہر تھی اس کا اندازہ تو کچھ پڑھے لکھے ہی کر سکتے ہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے کفر اور کافروں کی سخت مخالفت کی اور کسی مرحلے میں کسی طرح کا اختلاط گوارہ نہیں کیا۔ اس کو آج بہت سے لوگ شدت پسندی سمجھتے ہیں لیکن جو لوگ اسلام اور حضورﷺ کی غیرت اور مزاج سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنی مہلک چیز ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے اس خالص اسلامی تصوف میں آپ اگر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس میں پیہم عمل کی پابندی، شب و روز یاد الٰہی اور اعتدال و
توسط اختیار کرنا کوئی معمولی مجاہدہ نہیں ہے اگرچہ عوام کی نظر میں چند دنوں کے چلے اور روزے بہت بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے تصوف میں ریاکاری سے دوری اور اوقات کا تحفظ اس قدر ہے کہ بیان نہیں ہو سکتا ہے، خلوتوں کی نذر جو اوقات ہو جاتے تھے غلبات کا شکار جو لمحات ہو جاتے تھے آپ نے وہ راہ اختیار کی کہ اس مجاہدہ میں روحانی ترقی بھی بیشتر تھی۔ قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت بھی بھرپور ااور ارشادو تربیت خلق کا عنصر بھی بہت غالب تھا مگر ان چیزوں کو ہر ایک کہاں پرکھ سکتا ہے۔
یہ چیز بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ اکبری دور میں بگڑے ہوئے علما و صوفیہ نے جو اسلام و تصوف پیش کیا تھا وہ ایسا تھا کہ بہت سے لوگوں کے لیے باعث تنفر بنا ہوا تھا، اسلامی قدریں بے پناہ گھٹ رہی تھیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ خالص اسلام اور خالص اسلامی تصوف، صحابہ کرام والا تصوف لوگوں کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ آپ کی تجدید کا یہ عنصر ہر جگہ قابل لحاظ ہے۔
یہ سب اجمال تھا، اب ہم آپ کے سامنے تصوف و صوفیہ کی کچھ تفصیل سپرد قلم کرتے ہیں جس سے آپ کو حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمات کا صحیح اندازہ ہو سکےگا۔
تصوف وصوفیہ:
یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ صوفیہ کرام سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں اور عقائد واعمال پر جو اثرات مرتب ہوئے اس کی قباحتیں وشناعتیں میری نظر میں سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئیں،کیونکہ فلسفہ ومنطق اور روافض وخوارج نے اگر چہ اسلامی عقائد واعمال پر بہت حملے کیے لیکن باطل ایسے لبادے میں تھا کہ جسے عام طور سے پہچان لیا گیا اس کے بر خلاف صوفیہ خام سے جو غلطیاں ہوئیں وہ ایسی تھیں کہ جنھیں پہچاننا مشکل تھا،یہاں غلط حق کے لباس میں آیا،کشف وشہود کے بھیس میں صوفیانہ
طرز ووضع میں داخل ہوا اسی لیے اس کی شناخت نہایت دشوار ہو گئی بلکہ اسی کو لوگوں نے صراط مستقیم تصور کرلیا۔
خیال رہے کہ صوفیہ میں تین جماعتیں تھیں جنھیں ہم تفصیل سے بیان کر چکے ایک وہ جو اتباع شریعت سے آراستہ،تقویٰ وطہارت کے حامل،صاحب مجاہدات وریاضات اور اصحاب کشف وشہود تھے اس جماعت سے جو غلطیاں ہوئیں وہ کشفی تھیں،انسان کو سلوک باطن میں مختلف مراحل ومنازل سے گزرنا پڑتا ہے،ہر منزل پر نئے نئے انوار وتجلیات اور جدا جدا کیفیات وارد ہوتی ہیں،مختلف النوع احوال ومواجید سے دو چار ہونا پڑتا ہے ،اثناء راہ کے معاملات کبھی خلاف شرع بھی ہوتے ہیں،کبھی ایسے ہوتے ہیں کہ حقائق اصلیہ کے خلاف ہوتے ہیں یعنی نقطۂ آخر پر پہنچ کر جو حقائق رونما ہوتے ہیں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔
اس مقدس جماعت میں بڑے بڑے خدا رسیدہ لوگ ہوئے،ایسی کیفیتیں اور امور قریب قریب ہر سالک پر وارد ہوتے ہیں،مگر ان حضرات نے باطن کو باطن ہی رکھا کبھی کبھی جب وہ اپنے قابو میں نہ ہوتے اس وقت ان سے ایسی چیزیں سرزد ہو گئیں جو بظاہر خلاف شرع تھیں۔
اپنے مکشوفات کو سب سے کثرت اور با ضابطہ طور پر اس امت میں اگر کسی نے سب سے پہلے بیان کیا تو وہ حضرت شیخ محی الدین ابن العربی قدس سرہ تھے جنھوں نے ان امور کو علمی رنگ بھی دیا،حضرت شیخ کی بزرگی وللٰہیت چونکہ مشہور تھی اور آپ مقبول انسان تھے اسی لیے ہر دور میں اکثریت نے آپ کو قبول کیا ،کچھ علما نے رد وقدح سے بھی کام لیا اور حضرت شیخ کو بہت کچھ کہہ ڈالا جس کا حضرت شیخ کے معتقدین نے دفاع کیا ،ان معتقدین میں جو صاحب قلم وعلم تھے انھوں نے شیخ کے مکشوفات کو عالمانہ انداز میں ثابت کرنے کی کوشش کی اور خوب علمی رنگ دیا۔
اور جن پر تصوف کا غلبہ تھا اور وہ اصحاب کشف تھے ان پر بھی چونکہ وہی احوال وارد ہوتے تھے جو شیخ پروارد ہوے اور انھیں بھی ان ہی کیفیات سے واسطہ پڑا اسی لیے جب انھوں نے شیخ کے بیان کردہ مکشوفات کے مطابق ہی اپنے مکشوفات پائے اور انھیں بھی وہی احوال ومواجید حاصل ہوئے تو انھوں نے ان کی حقانیت پر یقین کرلیا اور انھیں کی ترویج واشاعت میں لگ گئے،رفتہ رفتہ علما ومشائخ اتنی کثرت سے جڑ گئے اور مختلف ادوار اور زمانوں میں انھیں مختلف علمی پیرایوں میں یوں بیان کیا گیا کہ وہ مکشوفات گویا عین اسلام بلکہ اصل اسلام بن گیے،ان کی مخالفت کرنے والے مطعون وملعون قرار پائے،بہت سے متوقف بھی تھے۔
یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ہے کہ سرور کونین ﷺ کی گفتگو اور حدیث جس منزل سے تھی،آپ کے صحبت یا فتہ حضرات پر آپ کا پر تو اور عکس وتجلی پڑی لہٰذا قرآن وسنت میں جو عقائد واعمال صراحۃ نہیں بیان کیے گیے ہیں ان کے استنباط واستخراج میں ان بزرگوں کی رہنمائی وہی شرف صحبت کرتا رہا جس کی وجہ سے ان پر حقائق روشن ہوتے چلے گئے،تابعین وتبع تابعین میں بھی محبوب کونین ﷺ کی نسبتیں بہت غالب رہیں جس کا اثر علماے ربانیین پر یہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انھیں عقائد واعمال میں صحیح عرفان حاصل ہوتا رہا،ان میں جو صرف علم وفضل والے تھے وہ اپنے نظر واستدلال اور جو اس کے ساتھ ساتھ صاحب کشف ومشاہدہ بھی تھے ان پر جو امور منکشف ہوتے وہ عہد نبوت سے قرب کی وجہ سے نفس الامر کے مطابق ہوتے تھے۔
الغرض مشیئت الٰہی مقتضی تھی کہ دین کے دونوں حصے عقائد واعمال صحیح طور پر مرتب ومنضبط ہو جائیں تو یہ کام ویسے ہی ہوا اور بالآخر علماے اہل سنت نے تائید غیبی سے ان کو پورے طور پر مرتب کرلیا،پھر ان کی حفاظت وصیانت کے لیے ہر دور میں
علماے حق پیدا ہوتے رہے،اگر چہ عہد نبوت سے جو ں جوں دنیا دور ہوتی چلی گئی نور سنت نکلتا رہا اور عقائد واعمال میں بدعتیں جڑ پکڑتی رہیں،مگر علماے حق ہمیشہ ظلمتوں کے پردے چاک کرتے رہے اور حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کرتے رہے،اگر چہ ہر دور میں کمی آتی رہی۔
غیبی طور پر ایک خاص انتظام یہ بھی ہوا کہ عہد نبوت سے دوری کی وجہ سے جب سرکار مدینہﷺ کی نسبتوں میں اضمحلال اور کمزوری پیدا ہونے لگی تو رفتہ رفتہ لوگوں نے مجاہدات وریاضات شروع کیے پھر دھیرے دھیرے ایک جماعت تیار ہوگئی جنھیں صوفیۂ کرام کہا گیا انھوں نے با ضابطہ اصول و ضوابط منضبط کیے اور بڑے بڑے ہوش ربا مجاہدات کیے جن کے نتیجے میں مختلف قسم کے انوار اور حالات وکیفیات کا ان پر ورود ہونے لگااورپروردگار عالم کی گونا گوں تجلیاں مختلف عکوس ومظاہر میں جلوہ گر ہونے لگیں۔
اولیاے کرام کے مشاہدات اس بات پر شاہد ہیں کہ مختلف اعمال صالحہ کی کیفیات وانوار بھی مختلف ہیں اور ان کے سلسلے میں وارد ہونے والے احوال ومواجید بھی مختلف ہیں۔
پھر ان بزرگوں پر جو منازل ومراحل اور حالات وکیفیات وارد ومنکشف ہوئیں انھوں نے ان کے نام اور اصطلاحیں بھی مقرر کردیں،اور رفتہ رفتہ دیگر فنون مثلا نحو وصرف کی طرح تصوف ایک مکمل فن بن گیا اور اس کی بھی دو حیثیتیں ہو گئیں ایک علمی اور دوسرے عملی۔
مختلف حالات واسباب کی وجہ سے ان بزرگوں میں بہت سے لوگ فرق نہیں کر پائے،اور ہر انسان کا ظرف اور استعداد چونکہ جدا جدا ہے اس لیے کوئی کسی منزل پر تو کوئی کسی منزل پر پہنچا،جو کہ آخری منزل پر نہ تھے اس اثناء راہ کے مکشوفات جن میں
اکثر شریعت سے متصادم تھے لوگوں نے ان کو آخری منزل سمجھ لیا اور قید تحریر میں لے آئے۔
جن علما پر علمی رنگ غالب تھا اور ان بزرگوں سے عقیدت واحترام کا تعلق تھا انھوں نے ان کے تقدس کی وجہ سے ان کے اقوال وافعال میں اچھی تا ویلات کر لیں جن کی وجہ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ عقائد حقہ محفوظ رہے،ان علما نے اصل ان عقائد واعمال کو قرار دیا اور مکشوفات کو تابع رکھا،دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ ان بزرگوں کا تقدس ملحوظ رہا،یہ بہت سلامتی کا راستہ تھا۔
کچھ وہ علما تھے جن پر ان بزرگوں کی نسبت وعقیدت کے غلبہ کی وجہ سے تصوف کا رنگ غالب ہو گیا،انھوں نے ان بزرگوں کے مکشوفات کی تائید میں طرح طرح کی علمی بحثیں چھیڑ دیں اور علمی رنگ دے دیا با لآخر بہت سی کتا بیں وجود میں آ گئیں۔
یہاں یہ چیز بھی دھیان میں رکھنے کی ہے کہ جو خاص خاص زمانوں میں بڑے بڑے اولیاے کرام ہوئے وہ چونکہ سلوک اور باطنی پرواز میں آخری حدوں تک پہنچ گئے تھے جہاں مکشوفات شریعت کے مطابق ہو تے ہیں،اس لیے ان کی زبان سے جو بھی وجود میں آیا اس کی کوئی خاص قدر نہیں کی گئی،کیونکہ عام علماے حق کے بیان فرمودہ علوم ان کے مطابق تھے اس لیے کم ظرف لوگوں کو کوئی وجہِ امتیاز نظر نہیں آئی،اور جو مکاشفات علماے حق کے علوم سے متصادم تھے وہ ایک نئی چیز تھے،فطرۃ ایسی چیزوں کی طرف میلان ہوتا ہے،لہٰذا انھیں قبول کر لیا گیا اور اساس وبنیاد بنا دیا گیا،چونکہ ان میں ایک قسم کا امتیاز تھا،خصوصیت تھی۔
الغرض یہی وہ اسباب وحالات تھے جن کی وجہ سے مختلف نام وغیرہ وجود میں آئے،کسی کا نام شریعت،کسی کا طریقت،کسی کا حقیقت رکھا گیا اور ان کے علاوہ دیگر اصطلاحات قائم ہوئیں۔
صوفیۂ کرام میں ایک تو مقدس جماعت وہ تھی جس نے مختلف حالات و واردات کے ہوتے ہوئے بھی شریعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اپنی تعبیرات میں بھی ان کا لحاظ رکھا،مگر ایک جماعت ایسی پیدا ہو گئی جنھوں نے شریعت،طریقت اور حقیقت میں عجیب طرح کے فرق شروع کر دیے اور صوفیہ کرام کے مکشوفات کو ایسے معانی ومفا ہیم پر محمول کیا جس کی وجہ سے آگے چل کر لوگ الحاد وزندقہ تک پہنچ گئے اور احکام شرع تک پر عمل کو غیر ضروری قرار دے دیا گیا،پھر رفتہ رفتہ ایسے امور وجود میں آئے کہ بیان سے قلم لرزتا ہے۔
پہلا گروہ جس سے میری مراد وہ صوفیہ کرام ہیں جنھوں نے اثنائے راہ کے مکشوفات بیان کیے اور وہ شریعت کے اصول وضوابط سے متصادم تھے مگر یہ لوگ اپنے صدق نیت واخلاص ،تقویٰ وطہارت،علم وفضل وبزرگی میں مشہور تھے،ان کے سربراہ اکثر مسائل میں حضرت شیخ محی الدین ابن العربی قدس سرہ ہیں۔
جس بسط وتفصیل سے انھوں نے اپنے معارف وعلوم بیان کیے ہیں شاید کسی نے بیان نہیں کیے،ان کے معارف دو قسم کے تھے،ایک وہ جن سے شریعت ساکت وخا موش ہے،ان کے اس قسم کے معارف و علوم عام طور پر مقبول ہوئے،دوم وہ جو ظاہر شرع سے متصادم تھے،اس قسم میں علما مختلف ہو گئے ایک وہ تھے جو شخصیات کو نظریات سے پہچانتے تھے اور خالص علم کا غلبہ تھا انھوں نے شیخ کی شدت کے ساتھ تردید کی اور بہت کچھ کہہ ڈالا،اور دوسرے وہ تھے جن کو شیخ کے ساتھ حسن ظن تھا انھوں نے شیخ کی عظمت کو ملحوظ رکھا اور تاویل سے کام لیا اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی علمی حیثیت کمزور تھی اور انھوں نے ظاہر پر محمول کیا اور ان کی ترویج واشاعت کی اور طرح طرح فاسد خیالات پیدا کیے جن میں بعض تو حد کفر تک پہنچ گئے۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے شیخ کے دونوں قسم کے معارف میں اختلاف کیا اور
جو واقعی حیثیت تھی وہ ظاہر فرمادی،حضرت شیخ کے علاوہ بھی جن بزرگوں سے کسی سبب سے اگر ایسے اقوال وافعال صادر ہوئے جو شریعت سے متصادم تھے ان میں اگر تاویل کی گنجائش تھی تو تاویل فرمادی اچھے محمل پر محمول فرمادیا اور اس کا سبب بیان فرماکر ان کی طرف سے عذر بھی پیش کردیا،آپ نے اس قسم کے صوفیہ کی عزت وحرمت کا اس قدر لحاظ رکھا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔
عام طور پر رد وقدح والوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ گرفت کا انداز شخصیتوں کی عظمت کو مجروح کر دیتا ہے مگر آپ کا جدا گانہ ہی طریقہ ہے،گرفت پر آتے ہیں تو کوئی گوشہ نہیں چھوڑتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ان کی با عظمت شخصیت کے معنوی خد وخال بھی ظاہر فرماتے رہتے ہیں تاکہ قاری قابل گرفت باتوں سے دھوکہ کھا کر ان کی تو ہین وتنقیص کا مرتکب نہ ہو نے پائے اور نہ ہی ان کی عظمت کے نقوش ان کے دلوں سے نکلنے پائیں،یہ سب کچھ آپ باتفصیل پڑھیں گے۔
ہاں! دوسرے قسم کے صوفیہ جو عمل میں بھی کمزور اور معنوی خوبیوں سے عاری،محض تقلیداً بزرگوں کی قابل گرفت باتوں کو مانتے اور ان پر عمل کرتے ان کے غلط معانی ومفاہیم پیدا کرکے عوام کو بہکاتے اور شریعت کو بے وقار ثابت کرتے ہیں ایسے لوگوں پر جب رگ فاروقی حرکت میں آتی ہے تو جلال دیکھنے لائق ہوتا ہے۔
یہاں ایک بات خاص طور سے دھیان میں رکھنے کی ہے کہ صوفیہ کرام اور بزرگوں سے عوام وخواص کا تعلق عموما عقیدتمندانہ رہا ہے اس مقدس جماعت کے تقدس اور تقویٰ وطہارت اور خوف وخشیت کی وجہ سے لوگوں کو قلبی لگاؤ رہا ہے ،ان کی باطنی عظمت کے خوف سے اہل حق نے ہمیشہ ان کے سلسلے میں احتیاط کا رویہ اختیار کیا ہے اسی وجہ سے صوفیہ کرام کے یہ مکشوفات جو بظاہر شریعت سے متصادم تھے
اگر چہ ان علما میں مقبول نہ ہوئے جن پر علمی رنگ غالب تھا مگر جو صوفیہ کی جماعت تھی ان میں بہت مقبول ہوئے۔
پھر جن پر نفس کا غلبہ تھا اور صوفیہ کے لباس میں تھے مگر صوفی نہ تھے اور کم علم بھی تھے انھوں نے محض نفس کی خاطر ان کو بہت اچھالا اور نروں نے تو ضلالت وگمرہی کے دروازے کھول دیے،عوام تو عوام نرے خواص میں بھی یہ لیا قت نہیں ہوتی ہے کہ وہ سچے صوفی کو پہچان سکیں پھر عوام وخواص کا تعلق بھی والہانہ رہا اسی لیے صوفیہ سے دین کو زبردست نقصان پہنچا اور لوگوں پر برے اثرات مرتب ہوئے۔
جن علما کو عقیدت کا تعلق تھا انھوں نے زبان نہیں کھولی اور جنھوں نے کھولی تو وہ بہت کم تھے اور پھر حد سے بڑھ گیے اس لیے عوام نے ان کی سنی بھی نہیں اور اس طرح رفتہ رفتہ یہ برائیاں پوری اسلامی دنیا میں عام ہو گئیں،پھر ان کا تعلق ذات وصفات باری سے بھی تھا،نبوت ورسالت سے بھی اور اس کے علاوہ دین کے دیگر شعبوں سے بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ،منطق اور روافض وخوارج سے اہل سنت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا جو ان سے عقائد واعمال میں پہنچا ہے،وہاں باطل اتنا بے پردہ تھا کہ لوگ بہ آسانی پہچا ن گئے جبکہ یہاں زبردست حق کا لبا دہ اوڑھے ہوئے تھا،تجدید الف ثانی کا یہ گوشہ اتنا اہم ہے کہ ساری تجدیدیں ایک طرف رکھ دی جائیں تو ان سب پر یہ تجدید بھاری ثابت ہوگی ،یہ وہ برائیاں تھیں جو الف اول(ہزار اول) کے ابتدائی چند صدیوں کے بعد پھیلنا شروع ہو ئیں اور رفتہ رفتہ جنھوں نے پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس انداز ولباس میں لیا کہ جن کے خلاف لب کشائی مشکل ہو گئی۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید کو در اصل عوام تو عوام اکثر خواص نے بھی نہیں سمجھا ورنہ وہ جان لیتے کہ یہ تجدید مأۃ ہے یا تجدید الف؟ یہ صرف ہندوستان میں
دین کی تجدید ہے یا پورے عالم اسلام میں؟ پھر یہاں بھی شان تجدید کی جلوہ گری کا انداز وہی ہے کہ ایک بڑا سے بڑا عارف جہاں تک کی خبر دے سکتا ہے آپ باطنی مشاہدات کو اس سے بھی آگے بیان فرماتے چلے جاتے ہیں،جو کچھ دوسروں نے ان منزلوں اور مرحلوں کے بارے میں بیان کیا جن سے وہ گزرے تھے آپ ان سے کہیں زیادہ پردے اٹھاتے چلے جاتے ہیں پھر کمال یہ کہ جگہ جگہ قرآن وسنت سے استدلال،کشف والہام صریح سے تائید آپ کا عام دستور ہے۔
اب ہم قدرے تفصیل سے اس باب کو بیان کرتے ہیں تاکہ قارئین دیکھ لیں کہ جو کچھ ان تمہیدات میں کہا گیا ہے وہ زور قلم نہیں بلکہ حق وصداقت کا زبردست شاہکار ہے،اور حضرت مجدد قدس سرہ کا زبردست کا رنامہ بھی۔
حضرت مجدد قدس سرہ کا اصول:
سب سے پہلے آپ مکشوفات کے سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کا اصول سمجھ لیں اور وہ ترازو ذہن میں رکھیں جس سے آپ اپنے اور پرائے کے مکشوفات تولا کرتے تھے مکتوب ۲۵۶ جلد اول میں فرماتے ہیں:
‘‘از جملہ ضروریات طریق سالک اعتقاد صحیح است کہ علماے اہل سنت آنرا از کتاب وسنت وآثار سلف استنباط فرمودہ اند وکتاب وسنت را محمول داشتن بر معانی کہ جمہور علماء اہل سنت وجماعت آں معانی را ازاں کتاب وسنت فہمیدہ اند نیز ضروریست۔’’
ترجمہ:طریقت کے سالک کے لیے اعتقاد صحیح ضروریات سے ہے کہ علماے اہل سنت نے ان کو کتاب وسنت اور آثار سلف سے استخراج فرمایا ہے اور کتاب وسنت کو ان معانی پر محمول رکھنا کہ جن پر جمہور علماے اہل حق نے یعنی علماے اہل سنت وجماعت نے ان معانی کو کتاب وسنت سے سمجھا ہے یہ بھی ضروری ہے۔
اس سے معلوم ہو ا کہ سالک سلوک میں قدم رکھتے وقت اپنا عقیدہ علماے اہل سنت کے مطابق کرے ورنہ سلوک بے کار ہے،پھر قرآن وسنت سے استدلال تو ہر باطل فرقہ بھی کرتا ہے اور لوگوں نے اپنے اپنے مزعومات کے مطابق نصوص کو ڈھالنے کی کوشش کی ہے،اس سلسلے میں معتبر صرف وہی رائے اور وہی معنیٰ ہوں گے جو علماے اہل سنت نے سمجھے ہیں دوسروں کی سمجھ کا کوئی اعتبار نہ ہو گا اگر چہ وہ صوفیہ اور ولایت کے تاجدار ہی کیوں نہ ہوں،فرماتے ہیں:
‘‘واگر بالفرض خلاف آن معانی مفہومہ بکشف والہام امرے ظاہر شودآنرا اعتبار نباید کرد وازاں استعاذہ باید نمود’’
یعنی اگر علماے اہل سنت کے مراد لیے ہوے معانی کے خلاف کشف والہا م سے کوئی امر ظاہر ہو تو اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔
اس چیز کو آپ نے متعدد مکتوبات میں بیان فرمایا اور اسی کسوٹی پر سب کو پرکھا ہے،اب ہم چند مکشوفات اہم اہم حضرت شیخ محی الدین ابن العربی ودیگر اولیاے کرام رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے بیان کرتے ہیں،حضرت شیخ کے مکشوفات کے سلسلے میں آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘اکثر معارف کشفیۂ او کہ از علوم اہل سنت جدا افتادہ است از صواب دور است پس متابعت نکند آں را مگر کسے کہ دلش مریض است یا مقلد صرف۔’’ یعنی شیخ کے اکثر معارف کشفیہ جو کہ اہل سنت کے علوم سے جدا ہوئے وہ صواب سے دور ہیں تو ان کی پیروی وہی کرے گا جس کا دل مریض ہے یا وہ جو خالص مقلد ہے۔