باب ۲۴ از ۵۷صفحات ۳۳۵–۳۴۸
اسرار خلت و محبت
حضرت مجدد قدس سرہ مکتوب؍۸۸، جلد سوم میں فرماتے ہیں: حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اپنی دولت خلت سے کہ بالاصالت حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام سے مخصوص ہے، مشرف کرتا ہے اور ولایت ابراہیمی سے سرفراز کرتا ہے تو اس کو اپنا انیس و ندیم فرماتا ہے اور نسبت انس و الفت کہ خلت کے لوازم سے ہے درمیان میں لاتا ہے اور چوں کہ نسبت خلت کہ انس و الفت اس کے لوازم سے ہے درمیان آگئی خلیل کے اخلاق و اوصاف کی کراہت و قبح نظر سے مرتفع ہوگئی کیوں کہ قبح اگر نظر میں ہوگا تو باعث نفرت و بے الفتی ہوگا کہ مقام خلت کے منافی ہے کہ (مقام خلت) سراسر الفت ہے۔
سوال: اوصاف خلیل کی قباحت کا ارتفاع نظر سے مجاز میں تو ظاہر ہے کیوں کہ جائز ہے کہ اس مقام میں نسبت خلت غالب آئے اور اوصاف خلیل کی قباحت کو مستور کر دے لیکن مرتبہ حقیقت میں کہ اس جگہ شے کا علم کما ھو ہے قبیح کو غیر قبیح جاننا اور نسبت خلت سے مغلوب ہونا جائز نہیں ہے۔
جواب: ہر قبیح میں حسن کے وجوہ سے کوئی وجہ ثابت ہے تو ہو سکتا ہے کہ قبیح کو وجہ حسن کے اعتبار سے حسن جانیں اور اس کے حسن ہونے کا حکم فرمائیں۔ جاننا چاہیے کہ اس قبیح میں حسن مطلق (ہر اعتبار سے حسن) پیدا نہیں ہوا ہے لیکن چوں کہ اس کے حسن کی وجہ مولیٰ جل شانہ کو ملحوظ و منظور ہو گئی ہے اس لیے لا محالہ بحکم ﴿فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْغٰلِبُوۡنَ﴾ باقی وجوہ قبح پر وہ غالب آگئی ہے اور سب کو اپنے رنگ میں کر لیا اور پسندیدہ بنا دیا ﴿ فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ﴾
پھر آپ خلت اور محبت کے فرق کو یوں بیان کرتے ہیں: جان لو أرشَدَک اللہُ تعالیٰ سواءَ الطریق کہ خلت اور محبت کے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے
(جیسے انسان اور حیوان میں) خلت عام ہے اور محبت اس کا فرد کامل کیوں کہ انس و الفت کی زیادتی کا نام محبت ہے جو کہ گرفتاری کا باعث ہوتی ہے اور بے قراری و بے آرامی لاتی ہے، خلت سراسر انس و الفت اور آرام ہے۔ محبت ہے کہ جس نے گرفتاری کی کیفیت پیدا کر کے خلت کے دیگر افراد سے جدا ہوا ہے اور دوسری جنس ہوگیا ہے اور باقی افراد کے (مقابلے میں) اس امتیاز میں محبت نے جو ہنر پیدا کیا ہے (وہ) درد و حزن ہے اور نفس خلت ہمہ عیش در عیش اور فرح در فرح اور انس در انس ہے اسی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اپنے خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کو دنیا میں بھی کہ دار محن ہے عمل کا اجر کرامت فرمائے اور آخرت میں بھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا خلیل کے حق میں:
وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ (عنکبوت: ۲۹؍۲۷)
ترجمہ: اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب ِخاص کے سزاواروں میں ہے۔’’
اور جب محبت دنیا میں در دو حزن کا منشا ہوئی پس ہر فرد میں کہ محبت غالب ہوگی در دو حزن زیادہ ہوگا اسی وجہ سے کہا ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم متواصل الحزن و دائم الفکر اور آپ نے فرمایا: ما أوذی نبی مثلَ ما أوذیتُ کیوں کہ افراد انسانی میں حصول محبت میں فرد کامل آپ تھے اور ہر چند آپ محبوب تھے لیکن چوں کہ نسبت درمیان آگئی محبوب بھی محب کی طرح شیفتہ اور گرفتار ہو گیا۔
پھر ایک حدیث قدسی ذکر کرتے اور اس سے متعلق نہایت ادق (بہت باریک) دو سوال اور ان کے جوابات ذکر کرکے فرماتے ہیں:
خلت بہت بلند مقام ہے اور کثیر البرکت ہے، عالم مجاز میں ہر شخص کو کہ
دوسرے سے انس و الفت اور سکون و آرام ہے سب مقام خلت کے ظلال سے ہیں جو الفت کہ باپ کو بیٹے سے ہے اور اسی طرح ہر حظ (نفع) و لذت اور آرم کہ حسین صورتوں اور مظاہر جمیلہ سے ہے مقام خلت سے محبت دیگر چیز سے جو دوسری کیفیت رکھتی ہے اور اگر خلت و انس و الفت درمیان نہ ہوتی کوئی مرکب وجود میں نہ آتا اور اس کا کوئی جز کسی دوسرے جزکے ساتھ خاص کر جو نسبت تضاد رکھتا ہوتا منضم (پیوستہ) نہ ہوتا بلکہ کوئی وجود کسی ماہیت کے ساتھ ضم نہ ہوتا بلکہ کوئی عالم اس واجب تعالیٰ کے ایجاد کے تحت داخل نہ ہوتا کیوں کہ محبت ہے کہ سلسلہ ایجاد کو حرکت میں لاتی ہے اور وجود اشیا کا باعث ہوتی ہے ‘‘فأحببتُ أن أُعرفَ خلقتُ الخلقَ’’ حدیث قدسی ہے۔
اور حب خلت کا فرد کامل ہے جیسا کہ گزرا پس اگر خلت نہ ہوتی تو کوئی چیز موجود نہ ہوتی اور کوئی شخص دوسرے کے ساتھ جمع نہ ہوتا اور الفت حاصل نہ کرتا عالم کا وجود اور اس کا نظام بھی وجود کی طرح مفقود رہتا تو خلت اصل ایجاد ہوئی جانب موجد میں بھی اور جانب موجود میں کیوں کہ خلت ہے کہ ممکن کو قبول وجود کے لیے مانوس کیا ہے اور قید ایجاد میں لائی بلکہ عدم بھی اپنے خلوت خانہ میں دولت خلت کے ساتھ بنا بلکہ اپنی نقیض (وجود) کے ساتھ انس و الفت حاصل کرکے اس کے کمالات کا آئینہ ہوا اور وجود ممکنات کا واسطہ بنا۔ پس خلت تمام اشیا سے مبارک تر آئی اور اس کے برکات موجود و معدوم کو شامل ہوئے۔
یہ اسرار بیان فرما کر پھر آپ نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کے فضائل بیان فرمائےکہ کس وجہ سے آپ امام الناس ہوئےحضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سب انبیا کوبھائی کہا مگر حضرت ابراہیم کو باپ سے تعبیر فرمایا حضرت ابراہیم کے بعد سارے انبیاے کرام ان کی ملت کے مامور ہوئے صلاۃ منطوقہ میں کما صلیت علیٰ ابراھیم کیوں آیا ہے، پھر آپ نے فرمایا:
‘‘وہی کہ جنھوں نے) غیب الغیب کی آئینہ داری فرمائی ہے اور ابطن بطون کو ظہور میں لائے ہیں پس کسی شخص کو آپ کے توسط سے چارہ نہیں خاتم الانبیا علیہ و علیہم
الصلوات و التسلیمات کو آپ کی متابعت کا حکم فرمایا تاکہ آپ کی تبعیت سے آپ کی ولایت تک پہنچیں اور اس جگہ سے حضرت ذات جل شانہ تک واصل ہوں علیہ و علیٰ جمیع الانبیا الصلوات و التحیات’’
پھر آپ ایک سوال قائم کرتے ہیں جو تقریر بالا سے متوہم ہوتا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت ابراہیم حضرت خاتم الرسل سے افضل ہوں علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات، نیز لازم آتا ہے کہ تجلی ذات بالاصالت حضرت خلیل کا نصیب ہو اور دوسروں کو ان کی تبعیت ہو۔
آپ قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں کہ ذات تک وصول بھی تجلی ذات کی طرح دو قسم پر ہے (ایک ) نظر کے اعتبار سے ہے اور (دوم) قدم کے اعتبار سے یعنی نظر واصل ہے یا ناظربنفس خود واصل ہے اور وہ قسم کہ وصول نظری ہے بالاصالت حضرت خلیل کا نصیب ہے جو کہ اقرب تعینات بحضرت ذات تعالیٰ تعین اول ہے جو کہ حضرت ابراہیم کا رب ہے جیساکہ گزرا اور جب تک اس تعین تک نہ پہنچیں گے نظر اس کے ماورا کی طرف نفوذ نہ کرے گی۔
اور قسم دوم جوکہ باعتبار قدم ہے بالاصالت حضرت حبیب سے مخصوص ہے کہ محبوب رب العالمین ہیں، محبوبوں کو اسی جگہ لے جاتے ہیں کہ خلیل حضرات اس جگہ نہیں پہنچ پاتے ہیں مگر یہ کہ محبوبوں کی تبعیت میں جائیں خلیل چاہتے ہیں کہ ان کی نظر محبوبوں کے سردار علیہ و علیٰ آلہ الصلاۃ و السلام کے مقام وصول تک پہنچے اور ان میں کوتاہی نہ کرے۔
خلاصہ یہ کہ تجلی ذات بیک وجہ حضرت خلیل سے مخصوص ہے اور دوسرے ان کے تابع ہیں علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام اور دوسری وجہ سے وہ تجلی حضرت خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات ست بالاصالت مخصوص ہے اور دیگر سب ان کے تابع ہیں اور چوں کہ دوسری وجہ زیادہ قوی اور مراتب قرب میں زیادہ دخل والی ہے ناچار تجلی ذات کو زیادہ تر مناسبت حضرت خاتم الرسلﷺ سے حاصل ہوئی اور اس نے آپ کے ساتھ تخصیص پیدا کی اور آپ حضرت خلیل اور باقی انبیا سے افضل ہوئے علیہ و علیہم
پس فضل کلی انبیا کے درمیان ان دونوں بزرگوں کا نصیب ہوا، ہر چند ایک دوسرے سے فضل ہیں علیہما و علیہم الصلوات و التسلیمات و البرکات اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوات و التسلیمات چوں کہ محبوں کے سردار ہیں۔ جس طرح ہمارے پیغمبر محبوبوں کے سردار ہیں علیہ و علیٰ اتباعہ الصلاۃ و السلام ناچار حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام بحکم المرء مع من احبّ حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسی معیت ہے کہ دوسروں کو نہیں اور نیز بارگاہ میں حضرت موسیٰ کو قدم گاہ ہے جو صرف اس کی محبت کے وسیلے سے ہے اور دوسروں کو اس جگہ مدخلیت نہیں ہے لیکن یہ فضل جزئی کی طرف راجع ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ (فضل) تجلی کے برابر ہے کیوں کہ جم غفیر انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کا اس مقام میں حضرت موسیٰ کے تابع ہے علیٰ نبینا و علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات۔ اس کے باوجود فضل وہی ہے جو کہ خلیل و حبیب علیہما الصلوات والتسلیمات کا حصہ ہے اور ہر چند ہر ایک، ایک وجہ سے دوسرے کے تابع ہے وصول نظری میں حضرت خلیل اصل ہیں اور حضرت حبیب ان کے تابع علیہما الصلوات و التسلیمات اور وصول قدمی میں حضرت حبیب اصل ہیں اور حضرت خلیل ان کے تابع ہیں علیہما الصلوات و التسلیمات۔’’
اسی مکتوب گرامی میں حضرت خلیل علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے فضائل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: لیکن وہ محبوبیت کہ خاتم الرسل علیہ و علیہم الصلاۃ و السلام کا نصیب ہوئی جمیع فضائل و مراتب قرب پر غالب آئی اور سب سے پیش قدم بنا دیا ہزار مراتب قرب ایک نسبت محبوبیت کے برابر نہیں ہو سکتے ہیں محب محبوب کو اپنی جان سے زیادہ چاہتا ہے دوسروں کو کیا پہنچتا کہ وہ آپ سے مشارکت کریں۔
شب معراج دیدار خداوندی:
ایک صاحب نے سوال کیا کہ اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ رویت (اللہ تعالیٰ کا دیدار) دنیا میں واقع نہیں ہے حتیٰ کہ اکثر علماے اہل سنت نے حضرت
رسالت خاتمیت علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات کی رویت کو شب معراج منع کیا ہے۔ حجۃ الاسلام نے فرمایا کہ آپ نے شب معراج اپنے رب کو نہیں دیکھا اور آپ نے (حضرت مجدد قدس سرہ) اپنے رسائل میں شب معراج حضور سرور عالمﷺ کی رویت کا دنیا میں اعتراف کیا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟
آپ قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں: حضورﷺ کی رویت (دیدار خداوندی) شب معراج دنیا میں واقع نہیں ہوئی ہے، بلکہ آخرت میں واقع ہوئی کیوں کہ آپ سرور علیہ الصلاۃ والسلام اس رویت میں چوں کہ دائرہ مکان و زمان سے باہر نکل گئے اور مکان کی تنگی سے خارج ہوئے ازل اور ابد کو آن واحد پایا (یعنی دائرہ مکان و زمان سے باہر آنے کی وجہ سے ازل و ابد کو موجود پایا) اور ابتدا و انتہا کو ایک نقطہ میں متحد دیکھا اہل بہشت کو کہ چند ہزار سال بعد بہشت میں جائیں گے بہشت میں دیکھا (پھر ایک سطر بعد فرماتے ہیں) پس رویت کہ اس محل میں واقع ہوگی رویت آخرت میں داخل ہوگی اور عدم وقوع رویت پر اجماع کے ساتھ منافات نہیں رکھےگی اور اس رویت کو رویت دنیوی کہنا مجاز پر محمول ہے اور ظاہر پر نہیں۔
علم ما کان و ما یکون:
حضرت مجدد قدس سرہ کے اس کلام بلاغت نظام کو وہ لوگ بار بار پڑھیں جنھیں حضور سرور کونینﷺ کا علم ما کان و ما یکون ایسا لگتا ہے جیسے بجلی گر گئی، فرماتے ہیں:
‘‘جب ازل و ابد کو موجود حاضر پایا تو اب کون سی چیز کائنات کی مخفی رہ گئی مطلب یہ کہ جو کچھ ہونے والا تھا سب کو حاضر پایا حتیّٰ کہ بعد قیامت جنتی جنت میں جائیں گے انھیں بھی جنت میں موجود پایا۔ یہی تو آج اہل سنت کہتے ہیں تو پتا نہیں کہ وہابی دیوبندی چراغ پا کیوں ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الٰہیات میں عقل کی وجہ سے
جس طرح فلاسفہ گمراہ ہوئے اسی طرح نبوات و ولایات میں وہابی گمراہ ہوئے، ان کی ناقص عقلوں نے بعض ظاہری نصوص سے دھوکہ کھایا اور منزل سے بھٹک گئے جن کی نظر میں حضرت مجدد قدس سرہ جیسے بلند و بالا انسان کی کوئی اہمیت نہیں، ان سے ہمیں کچھ نہیں کہنا ہے، لیکن جو آج بھی اس مقدس شخصیت سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ انھیں میں ضرور دعوت دوں گا کہ انبیاے کرام بالخصوص سید الانبیا علیہ و علیہ الصلوات و التسلیمات کے سلسلے میں بعض مکاتیب سے جو بعض اقتباسات میں نے سپرد قلم کیے ہیں انھیں بار بار پڑھیں اور اپنے عقائد صحیح کریں، کیا حضرت مجدد قدس سرہ کی چشم باطن اپنے مشاہدات نہیں بیان فرما رہی ہے کہ جنھیں ہم خاتم الانبیا کہتے ہیں وہی ساری حقیقتوں کی حقیقت، سارے نبیوں کے نبی، سارے رسولوں کے رسول، باعث ایجاد عالم، سید آدم و بنی آدم، محبوبوں کے سردار، رحمت پروردگار ہیں؟ آپ کی تخلیق وجوب و امکان کے ما بین ہوتی ہے جو سب سے ورا ہے، آپ کا حسن و جمال عالم حسن و جمال سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ کے حسن و جمال کی طرح حسن ذاتی ہے جس قدر حضرت موسیٰ جو محبت کرنے والوں کے سردار ہیں، جس طرح افراط محبت کے ساتھ اللہ تعالیٰ حضور پرنورﷺ کو چاہتا ہے ہزاروں فضائل و مناقب پر ایک فضل محبوبیت بھاری ہے وغیرہ وغیرہ۔
اگر آج بھی حضرت مجدد قدس سرہ کے ان مشاہدات کو وہابی مان لیں تو وہابیت سے توبہ کر لیں اور اپنی آخرت بنا لیں۔ یہ نبوت کا معاملہ ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ بعد کی صدیوں میں چوں کہ شان نبوت و رسالت کی توہین کرنے والے، اس مقدس مرتبہ کے حاملین کے مقام کو گھٹانے والے پیدا ہونے والے تھے یہ خداوند قدوس کی خاص رحمت تھی کہ اس فرقۂ ضالہ کے ظہور سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد جیسا داناے راہ پیدا فرما دیا جس نے اپنی بلندیِ نظر سے سب کے مراتب و حقائق دیکھے اور
عظمتیں بیان کرکے ایمان کی حفاظت کا سامان مہیا کر دیا۔ اب سرور کونینﷺ کے چند فضائل کلی اور سماعت فرما لیجیے، ہو سکتا ہے کہ دل پلٹ جائے اور مجددی نور سے قلب میں اعتراف عظمت پیدا ہوجائے۔
اولیاے کرام کے مبادیِ تعینات:
آپ پہلے پڑھ چکے کہ آٹھ صفات حقیقیہ میں سے ہر ایک صفت مشہور و مقتدا انبیاے کرام کا مبدأ تعین ہے اور ان اسما و صفات کے جزئیات دیگر انبیاے کرام کے تابعین کے مبادی تعینات ہیں، مثلاً صفت ارادہ ایک کلی چیز ہے یعنی ارادہ مطلقہ اور ایک ارادہ مقیدہ ہے جیسے ارادۂ صلاۃ، ارادۂ صوم یعنی ہر چیز کا الگ الگ ارادہ، یہ ارادہ مطلقہ نبی مقتدا کا مبدأ تعین ہے اور ارادہ مقیدہ تابعِ نبی کا (مبدأ تعین ہے)۔ اب یہ جان لیجیے کہ ان اسماے کلیہ کے جزئیات کے بھی جزئیات ہیں، یہی جزئیات کے جزئیات اولیاے کرام کا مبدأ تعین ہیں۔
اسے یوں سمجھیے کہ تکوین حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کا مبدأ تعین ہے، یہ اسم کلی ہے، اس کے ہزاروں جزئیات ہیں، یہ جزئیات ان انبیاے کرام کے مبادی تعینات ہیں جن کو حضرت آدم علیٰ بنیا و علیہم الصلوات و التسلیمات سے مناسبت ہے، پھر ان جزئیات کے بھی جزئیات ہیں اور یہ جزئیات ان اولیاے کرام کے جزئیات ہیں جن کو حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات سے مناسبت ہے۔ پھر ان جزئیات کے بھی جزئیات ان اولیاے کرام کے مبادی ہیں جو حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے زیر قدم ہیں۔
یہ تو مومنوں کے مبادی ہیں اور حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ کفار کے مبادی تعینات اسم المضل سے تعلق رکھتے ہیں اور مذکورہ بالا مبادی سے علاحدہ ہیں۔
خلفاے راشدین:
خلفاے راشدین یعنی خلفاے اربعہ اور دیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے کے فضائل و کمالات حضرت مجدد قدس سرہ نے اس کثرت سے بیان فرمائے ہیں کہ اگر سب کو جمع کیا جائے تو ایک علاحدہ کتاب ہو جائےگی۔ ہم یہاں مکتوب ۲۵۱، جلد اول کا ترجمہ درج کرتے ہیں جس سے خلفاے راشدین کے مبادی اور دیگر فضائل معنوی آپ کو معلوم ہوں گے۔ آپ فرماتے ہیں:
‘‘حضرت صدیق و فاروقرضی اللہ عنہما کمالات محمدیﷺ کے حصول اور درجات مصطفویﷺ تک وصول کے باوجود انبیاے ما تقدم صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ نبینا و علیہم کے درمیان طرف ولایت میں حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام سے مناسبت رکھتے ہیں اور طرف دعوت میں کہ مقام نبوت کے مناسب ہے حضرت موسیٰ سے مناسبت رکھتے ہیں صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ نبینا و علیہم۔ اور حضرت ذوالنورین دونوں طرفوں (طرف ولایت اور طرف دعوت) میں حضرت نوح سے مناسبت رکھتے ہیں صلوات اللہ تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ نبینا و علیہ۔
اور حضرت امیر (مولاے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم) دونوں طرفوں میں حضرت عیسیٰ صلوات اللہ سبحانہ و تعالیٰ و تسلیماتہ علیٰ نبینا و علیہ سے مناسبت رکھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ چوں کہ روح اللہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ، اس لیے لامحالہ طرف ولایت ان میں غالب ہے جانب نبوت کی بنسبت اور حضرت امیر میں بھی اس مناسبت کی وجہ سے طرف ولایت غالب ہے اور مبادی تعینات خلفاے اربعہ کے صفۃ العلم ہے علیٰ اختلاف الجہات اجمالاً و تفصیلاً اور وہ صفت باعتبار اجمال رب محمد ہے اور باعتبار تفصیل رب حضرت خلیل اور اجمال و تفصیل کی برزخیت کے اعتبار سے حضرت نوح کا رب ہے جس طرح حضرت موسیٰ کا رب صفۃ الکلام ہے اور حضرت عیسیٰ کا رب صفۃ القدرت اور حضرت آدم کا رب صفۃ التکوین۔
پھر ہم اصل بات بیان کرتے ہیں۔ حضرت صدیق و حضرت فاروق بار نبوت محمدیﷺ کے حامل ہیں علیٰ اختلاف المراتب، اور حضرت امیر حضرت عیسیٰ سے مناسبت کے واسطہ اور جانب ولایت کے غلبہ کی وجہ سے بار ولایت محمدیﷺ کے حامل ہیں اور حضرت ذوالنورین برزخیت کے اعتبار سے دونوں طرف کے بار کے حامل ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس اعتبار سے بھی ان کو ذوالنورین کہتے ہوں اور چوں کہ حضرات شیخین (حضرت ابو بکر و عمر) نے بار نبوت کا بوجھ اٹھایا ہے اس لیے حضرت موسیٰ سے مناسبت زیادہ رکھتے ہیں کیوں کہ مقام دعوت جو کہ مرتبۂ نبوت سے پیدا ہے باقی انبیا کے بیچ ہمارے پیغمبر کے بعد ان (حضرت موسیٰ) میں اتم و اکمل ہے اور ان کی کتاب قرآن مجید کے بعد نازل شدہ کتابوں میں سب سے بہترین کتاب۔ لہٰذا آپ کی امت اگلوں میں جنت میں زیادہ ہوگی اگرچہ حضرت ابراہیم کی شریعت اور ان کی ملت تمام شریعتوں اور ملتوں سے افضل و اکمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر افضل الرسل کو آپ کی ملت کی متابعت کا حکم فرمایا، آیت کریمہ، ‘‘ثُمَّ اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا’’ اس معنی کی گواہ ہے۔
اور حضرت مہدی موعود کہ ان کا رب بھی صفۃ العلم ہے حضرت امیر کی طرح حضرت عیسیٰ سے مناسبت رکھتے ہیں گویا ایک قدم حضرت عیسیٰ کا حضرت امیر کے سر پر ہے اور قدم دیگر حضرت مہدی کے سر پر۔
جان لیجیے کہ ولایت موسوی ولایت(محمدی) کے دائیں جانب واقع ہوتی ہے اور والایت عیسوی اس ولایت کے بائیں، اور چوں کہ حضرت امیر بار ولایت محمدیﷺ کے حامل ہیں اس لیے اولیا کے اکثر سلسلے ان سے منسوب ہوئے اور حضرت امیر کے کمالات حضرات شیخین کے کمالات سے زیادہ اکثر اولیاے عزلت (گوشہ نشین) پر مکشوف ہوئے جو (اولیاے عزلت) کہ کمالات ولایت کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ا
اگر شیخین کی افضلیت پر اہل سنت کا اجماع نہ ہوتا تو اکثر اولیاے عزلت کا کشف حضرت امیر کی افضلیت کا حکم کرتا کیوں کہ حضرات شیخین کے کمالات کمالات انبیا کے مشابہ ہیں علیہم الصلوات و التسلیمات۔ ارباب ولایت کا ہاتھ ان کمالات کے دامن سے کوتاہ ہے اور ارباب کشوف کا کشف ان کمالات کی بلندیِ درجات کے واسطہ سے راہ میں ہے۔ کمالات ولایت ان کمالات (نبوت) کے پہلو میں کالعدم ہیں کمالات نبوت پر عروج کے لیے کمالات ولایت سیڑھیاں ہیں پس مقدمات کو مقاصد کی کیا ضد ہوگی اور مبادی کو مطالب سے کیا شعور آج کے دن یہ بات زمانۂ نبوت سے دوری کی وجہ سے اکثر لوگوں پر گراں ہے اور قبول سے دور، لیکن کیا کیا جائے؎
در پس آئینہ طوطی صفتم داشتہ اند
ہر چہ استاد ازل گفت ہماں می گویم
لیکن حمد و احسان اللہ تعالیٰ کے لیے کہ اس گفتگو میں علماے اہل سنت شکر اللہ تعالیٰ سعیھم کے موافق ہوں اور ان کے اجماع سے متفق۔
ان کے استدلالی کو مجھ پر کشفی بنا دیا ہے اور اجمالی کو تفصیلی۔ اس فقیر کو جب تک مقام نبوت کے کمالات تک اپنے نبی کی متابعت سے نہیں پہنچایا تھا اور ان کمالات سے کامل حصہ نہیں دیا تھا شیخین کے فضائل پر بطریق کشف اطلاع نہیں بخشی تھی اور تقلید کے سوا کوئی راہ نہیں دکھائی تھی۔
وَمَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوْلَاۤ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (الاعراف: ۷؍۴۳)
ایک دن ایک شخص نے نقل کیا کہ حضرت امیر (علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم) کا نام بہشت کے دروازے پر لکھا ہے دل میں آیا کہ حضرات شیخین کے لیے اس محل کے خصائص سے کیا ہے؟ توجہ تام کے بعد ظاہر ہوا کہ جنت میں اس امت کا داخلہ ان دو اکابر (حضرت ابو بکر و عمررضی اللہ عنہما) کی صواب اور تجویز سے ہوگا،گویا حضرت صدیق جنت کے دروازے پر کھڑے ہیں اور لوگوں کے دخول کی تجویز فرما
رہے ہیں اور حضرت فاروق ہاتھ پکڑ کر اندر لے جا رہے ہیں اور مشہود ہوتا ہے کہ پوری جنت حضرت ابو بکر کے نور سے بھری ہوئی ہے، اس حقیر (حضرت مجدد) کی نظر میں جمیع صحابہ کے درمیان حضرات شیخین کی شان علاحدہ اور درجہ یگانہ ہے، گویا کسی سے شرکت نہیں رکھتے ہیں۔ حضرت صدیق حضور انورﷺ کے ساتھ گویا ہم خانہ ہیں، اگر فرق ہے تو علو و سفل (یعنی بالا خانہ اور پائیں خانہ) کا ہے، حضرت فاروق بھی حضرت صدیق کے طفیل اس دولت سے مشرف ہیں اور باقی صحابہ کرام کو حضور علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کے ساتھ ہم سرائی یا ہم شہری ہونے کی نسبت ہے اولیاے امت توکجا؏
ایں بس کہ رسد زدور بانگ جرسم
پس یہ لوگ شیخین کے کمالات کو کیا پائیں گے، یہ دونوں بزرگ بزرگی اور بڑائی کی وجہ سے انبیا میں شمار کیے گئے ہیں (یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کو شجاعت و بہادری میں شیر کے ساتھ کمال مشابہت کی وجہ سے شیروں سے شمار کر لیا جائے) اور فضائل انبیا سے محفوف (یعنی ڈھکے ہوئے ہیں) نبیﷺ نے فرمایا ‘‘اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے’’۔
امام غزالی نے لکھا ہے کہ حضرت فاروق کی ماتم پرسی کے زمانہ میں عبد اللہ ابن عمر نے صحابہ کے حضور میں کہا مات تسعۃ اعشار العلم (علم کے دس حصوں سے نو حصے مر گئے) جب بعض سے اس بات کی سمجھ میں توقف دیکھا تو فرمایا کہ میری مراد علم باللہ ہے، حیض و نفاس کا علم نہیں۔
حضرت صدیق کے بارے میں کیا کہیں کہ حضرت عمر کی تمام نیکیاں حضرت صدیق کی ایک نیکی۔ چناں چہ مخبر صادق نے اس کی خبر دی ہے اور محسوس ہوتا ہے وہ انحطاط جو کہ حضرت فاروق کو حضرت صدیق سے ہے اس انحطاط سے زیادہ ہے جو صدیق کو حضرت پیغمبر علیہ و علیٰ آلہ الصلوات و التسلیمات سے ہے تو قیاس کر لیجیے کہ
دوسروں کا انحطاط حضرت صدیق سے کس قدر ہوگا اور شیخین وصال کے بعد بھی حضرت پیغمبر سے جدا نہیں ہوئے اور حشر بھی ان کے درمیان ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے پس افضلیت ان کے اقرب ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
یہ حقیر قلیل البضاعت ان کے کمالات کے بارے میں کیا کہے اور ان کے فضائل کیا بیان کرے، ذرہ کو کیا مجال کہ سورج کی بات کرے اور قطرہ کو کیا گنجائش کہ بحر عمان (دریاے محیط) کی گفتگو زبان پر لائے، اولیا جو کہ دعوت خلق کے لیے (خلق کی جانب لوٹائے گئے) مرجوع ہیں اور طرف دعوت و ولایت سے کامل حصہ رکھتے ہیں اور علماے مجتہدین تابعین اور تبع تابعین سے (ان سب نے) کشف صحیح اور فراست صادقہ کے نور سے اور متواتر احادیث سے شخین کے کچھ کمالات جانے اور تھوڑے ان کے فضائل پہنچانے، ناچار ان پر افضلیت کا حکم لگایا اور اس بات پر اجماع کر لیا اور جو کشف کہ اس اجماع کے خلاف ظاہر ہوا صحیح نہ ہونے پر محمول کیا گیا جس کا اعتبار نہیں۔
پھر آپ نے بخاری اور ابو داؤد کی روایت نقل فرمائی کہ حضرت عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نبی علیہ الصلاۃ و السلام کے دور میں ابو بکر کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے تھے، پھر عمر پھرعثمان پھر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کے اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے اور کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔
کچھ بزرگوں نے فرمایا تھا کہ الولایۃ أفضل من النبوۃ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم ارباب سکر اور اولیاے غیر مرجوع کا لگایا ہوا ہے جن کو کمالات نبوت کا پورا حصہ حاصل نہیں تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ نبوت ولایت سے افضل ہے اگرچہ س نبی کی ہی ولایت کیوں نہ ہو، پھر آپ نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ سلسلہ نقشبندیہ چوں کہ حضرت صدیقرضی اللہ عنہ سے نسبت رکھتا ہے لہٰذا ان کے