مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیمنطق وفلسفہ کی تردید

باب ۴۰ از ۵۷صفحات ۵۴۸–۵۶۰

منطق وفلسفہ کی تردید

منطق وفلسفہ اور ان کے حاملین کا رد پہلے ادوار میں بھی ہمارے حساس اسلاف نے کیا اور اس کے مخفی اثرات بد سے لوگوں کو آگاہ کیا خاص کر حضرت سیدنا امام محمد غزالی قدس سرہ نے،مگر اس فن سے علما کا لگاؤ اور دلچسپی بڑھتی چلی گئی اور رفتہ رفتہ اس نے ایسی ترقی کی کہ یہ فن علم کلام کا ایک اہم جز بن گیا،حیرت تو یہ ہے کہ علم کلام سے تجاوز کرکے فقہی کتب تک میں اس کا استعمال ہونے لگا،اس کی اصطلاحات کے ذریعہ مسائل کی تعلیم عمل میں آنے لگی،اصول فقہ میں بھی اس نے جڑ پکڑ لی۔

اس سے خصوصی طور پر دو چیزیں وجود میں آئیں ایک تو یہ کہ اب عقائد واعمال کے معتد بہ حصہ کا علم حاصل کرنے کے لیے پہلے منطق وفلسفہ کا پڑھنا لازمی ہو گیا کیونکہ اس کے بغیر ہم میدان تدریس کے اچھے اور کامیاب کھلاڑی نہیں بن سکتے تھے،ایک با وقار اور ذی علم مدرس بننے کے لیے اس کا سیکھنا ضروری ہو گیا۔

دوم عقول ناقصہ کو اس سے اتنی آزادی مل گئی کہ قیل وقال اور بحث ومباحثہ اور طعن وتشنیع کے دروازے کھل گئے جس کی وجہ سے علم کلام وغیرہ کی تحصیل کٹھن بھی ہو گئی اور ایک سادہ لوح اور کم علم حق کے متلاشی کے لیے حق کی تلاش کا فی دشوار اور طویل ہو گئی،حق وصواب کی منزل تک پہنچنا ہر کس وناکس کا کام نہیں رہا تھا بلکہ راہ میں باطل کے فتنے،چور دروازے اور پر خطر وادیاں پیدا ہو گئی تھیں کہ بھٹکنے اور لٹنے کے امکانات بہت قوی ہو گئے تھے۔

دینیات میں اس کے شمول نے ذہین وطباع علماے کرام کو اس فن نے اپنے دام

تزویر میں اس طرح لیا کہ انھوں نے اپنی وہ ساری ذہنی قوتیں جو دین اور علم دین کی معتد بہ خدمت انجام دے سکتی تھیں اسی فن کے ارتقا میں صرف کردیں،ان لوگوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں اور بالآخر ان بزرگوں کی فکر ونظر کا دائرہ اسی فن تک محدود ہو کر رہ گیا جس سے جہاں قوم کا نقصان ہوا وہیں خود ان حضرات کا بھی کہ ان توانائیوں کو ذکر الٰہی وفکر آیات نا متناہی اور احیاے سنت میں خرچ کرکے اخروی فلاح کے جو مدارج وہ حاصل کرسکتے تھے نہیں کر پائے اس کے بر عکس نرے قعر ضلالت (گمرہی کے گڑھے) میں گر گئے۔

جس فن میں اللہ ورسول پر ایسی کھلی چوٹیں کی گئی تھیں جسے معمولی علم وفہم کا انسان بھی سمجھ سکتا تھا،جب اس سے شغف اور دل چسپی ایسے زبردست علما کو ہو گئی تو آپ جانتے ہیں کہ جن علوم وفنون میں اس طرح کا جارحانہ اقدام اللہ ورسول ﷺ پر نہ تھا مگر وہ دنیوی واخروی منفعتیں اپنے اندر نہیں رکھتے تھے جنھیں علوم غیر نافعہ کہا جاتا ہے ان میں کس قدر دل چسپی بڑھ گئی ہوگی،جبکہ جو کشش اس میں تھی وہ ان میں بھی تھی،ان علوم غیر نافعہ سے جہاں نرے نقصانات ہوئے وہیں ایک کھلا ہوا نقصان یہ بھی تھا کہ عمر عزیز کا قیمتی سرمایہ اس میں خرچ ہوتا رہا جس سے یہ لوگ دینی منفعتوں سے محروم ہو گئے۔

ہمیں اس سلسلے میں بزرگوں کی تحریری خدمات سے انکار نہیں ہے مگر اس سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کا اہم کارنامہ جودوسروں سے ممتاز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو آپ نے رد میں ایسا انوکھا انداز اپنایا کہ جو صرف علما ہی کی سمجھ کا نہ تھا بلکہ عوام بھی بہ آسانی اس کی ضلالتوں اور قباحتوں سے آگاہ ہو سکتی تھی،ایک ایسی معقول تردید جو ہر ایک ذہن میں اترتی چلی جائے اور ہر شخص یقین کرتا چلا جائے کہ علم وعقل کا دعویٰ کرنے والا سب سے بڑا علم وعقل سے عاری یہی گروہ ہے۔

دوسرے یہ کہ آپ نے صرف زبانی یا تحریری رد پر اکتفا نہ کیا بلکہ با قاعدہ اس کے خلاف تحریک چلائی،افراد تیار کئے اور ٹھیک اس کے خلاف وہ راہ دکھائی کہ جس میں قلب کا اطمینان،روح کا چین،عقل کا قرار،ایمان کی جلا،اعمال کا جذبہ اور فلاح دارین کا سامان تھا،حق وصواب پر مشتمل نہایت صاف ستھرا،وسیع وکشادہ اور آسان ومختصر راستہ اور ہر عام وخاص کے لیے خدا تک پہنچنے کی عظیم شاہراہ عطا فرمائی۔

اس طریقے سے حضرت مجدد قدس سرہ نے قوم وملت کی جو عظیم خدمت کی ہے اور دینی ودنیوی منفعتوں سے جس قدر مالامال کیا ہے اسے تحریر کرنے کے لیے علاحدہ تحریر کی ضرورت ہے،چند اقتباسات تبرکاً ہدیۂ ناظرین ہیں جن میں منطق وفلسفہ کی تردید،علوم غیر نافعہ سے بچنے کی تلقین وتا کید ہے۔

فلسفہ کی تردید:

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو مختلف صفات وخصوصیات کا حامل پیدا فرمایا اور ہر ایک کو اس کے مناسب اوصاف وکمالات عطا فرمائے اور مختلف ومتفاوت اذہان وعقول اپنی حکمت بالغہ سے عنایت فرمائے مگر ہر ایک کی عقل اس لائق نہیں کہ اشیا کا حسن وقبح اور اس کے خیر وشر کا ادراک کر سکے،اچھائی وبرائی کے مختلف درجے اور جہتیں ہیں،دنیا اور آخرت میں کون سی چیز منفعت کا سبب ہے اور کون سی مضرت کا اس کو کما حقہ پہچان لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے غایت کرم سے ہماری دنیوی اور اخروی بھلائی اور فلاح کے لیے انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کو پیدا فرمایا،اس مقدس گروہ نے خیر وشر اور حسن وقبح کو ہم پر خو ب خوب واضح فرمادیا،اگر یہ حضرات نہ ہوتے تو ہم صرف کمالات ہی سے عاری نہ ہوتے بلکہ نا معلوم ہمارا ٹھکانہ جہنم کی کس گہرائی میں ہوتا،اگر عقل ہی ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہوتی تو ان بزرگوں کی بعثت کی کوئی

حاجت نہ ہوتی۔

اس مقدس جماعت نے انسانیت پر جو احسانات فرمائے زبان وقلم ان کے بیان سے قاصر ہیں،انھوں نے انسانیت کو شکوک وشبہات کی پر خطر وادیوں سے نکال کر اذعان وایقان کی عظیم شاہراہ عطا فرمادی،زندگی گزارنے کے ایسے اصول وضوابط عطا فرما دیے جو دنیوی واخروی فلاح وکامرانی کے ضامن تھے،اگر پوری دنیاے انسانیت سر جوڑ کے بیٹھتی اور چاہتی کہ ایسے کچھ بھی اصول بزور عقل متعین کر لیں تو نہ کر پاتی۔

آپ دیکھیے وہی فلسفہ جو عقل کل کا دعویدار ہے اس کی برسہا برس کی کاوش ومحنت کے با وجود بھی سوائے چند اشیا کے فصل وجنس کے اور کچھ نہ بیان کر سکا،اور جو بیان بھی کیا وہ اتنا ناقص کہ عقلمندوں کو ہنسی آتی ہے،عقل کے دعویدار بالکل اپنے مقرر کردہ اصولوں وضابطوں کی وجہ سے عقل سلیم رکھنے والوں کی نظر میں سب سے بڑے احمق ثابت ہو گئے،مجھے اس وقت ان کی حماقتیں اور قباحتیں اور ان کے اصول وضوابط کی کمزوریاں نہیں بیان کرنا ہے،جو انھیں پڑھنا چاہے وہ امام غزالی قدس سرہ کی کتا بیں پڑھے اور خاص کر امام اہل سنت اعلیٰحضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کی الکلمۃ الملہمۃ وغیرہ دیکھے جس سے ان کی عقل وخرد کی رسائی کا پورا پورا اندازہ ہو جائے گا۔

اس وقت مجھے اس کی تھوڑی سی کا رکردگی اور گل افشانی بیان کرنی ہے حقیقت یہ ہے کہ تعلیم وانقیاد کی جو دولت حضرات انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی بارگاہوں سے ملی تھی اس کا زوال اسی کے ذریعہ ہوا،اسی نے قیل وقال اور بحث ومباحثے کے دروازے کھولے،شکوک وشبہات کے باد سموم سے اذعان ویقین کے گلشن کو خزاں رسیدہ کیا،احکام شرع کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کا ذہن دیا،ہر چیز میں عقل کو پیمانہ بنایا،جو چیز ناقص عقل کے دائرے میں آئی مان لی ورنہ انکار

کردیا،عقلیت کے بل بوتے پر دین کے نہایت اہم اصول ومبادیات کا انکار کر دیا حتیٰ کہ نبوت کو غیر ضروری قرار دے دیا،خدا وند قدوس کی شان میں وہ لغو اور بے ہودہ باتیں بکیں کہ سن کر ایمانی بنیادیں لرز اٹھتی ہیں،حضرت مجدد قدس سرہ کے رسالے‘‘اثبات النبوت’’ سے پتہ چلتا ہے کہ علماے سو کو بگاڑنے میں سب سے زیادہ دخل فلسفہ ہی کو ہے۔

اکبر کے دور میں فنون میں اگر کوئی پروان چڑھا ہے تو یہی فلسفہ ہے،ہندوستان میں اس کی سب سے زیادہ آبیاری اکبر کی ذات سے ہوئی یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے متعدد مکتوبات میں سیکڑوں امہات مسائل پر بحث فرمائی ہے،ان میں بہت دخل اسی بات کو ہے کہ اسی فلسفہ کہ وجہ سے دین کی بنیادیں ہلائی جا رہی تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ جگہ جگہ عقل کا عدم استقلال اور بعثت انبیاء کرام علیہم السلام کے فوائد بیان فرماتے ہیں،اور فلسفہ سے لوگوں کو آشنا کرتے ہیں،چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

(۱)اسلام سے ٹکراؤ ،نبوت کی مخالفت اور دیگر اہم امور کا انکار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘عجب معاملہ است عقول ناقصہ فلاسفہ گویا در طرف نقیض بطور نبوت افتادہ است ہم در مبدأ ہم در معاد واحکام آنہا مخالف احکام انبیا است علیہم الصلوات والتسلیمات۔’’(مکتوب ۲۳ جلد ۳)

ترجمہ: ناقص عقل رکھنے والے فلاسفہ کا بڑا عجیب حال ہے کہ گویا مبدأ اور معاد دونوں میں وہ نبوت کی نقیض ہیں۔ اور ان کے احکام حضرات انبیائے کرام علیھم الصلوات والتسلیمات کے احکام کے مخالف ہیں۔

(۲)ان کے ایمان کا یہ حال ہے:‘‘نہ ایمان باللہ درست کردہ اند،نہ ایمان بہ آخرت،بقدم عالم قائل اند وحال آنکہ اجماع ملیین است بر حدوث عالم بجمیع اجزاء خود

وہم چنیں بانشقاق سماوات وانتشار کواکب واندکاک جبال وانفجار بحار کہ بروز قیامت موعود است قائل نیستند ومنکر حشر اجساد اند وانکار نصوص قرآنی می نمایند۔’’(ایضا)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ان کا ایمان درست نہیں ہے، ان کا حال یہ ہے کہ عالم کو قدیم کہتے ہیں، جب کہ تمام اہل مذاہب کا عالم اور اس کے تمام اجزا کے حادث ہونے پر اجماع ہے، اسی طرح یہ لوگ آسمان کے ڈھہ جانے، ستاروں کے جھڑ جانے، پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو جانے اور سمندروں کے آگ بن جانے کے قائل نہیں ہیں۔ جب کہ قیامت کے دن ایسا ہونے کا خدائی وعدہ ہے۔ اس طرح یہ لوگ جسموں کے دوبارہ اُٹھائے جانے کے منکر اور قرآنی نصوص کا انکار کرتے ہیں۔

(۳)یہ تو متقدمین کا حال تھا ان کے متاخرین جو اسلامی کہلاتے ہیں ان کا حال یہ ہے:

‘‘ومتاخران آنہا کہ در زمرۂ اہل اسلام خود را داخل ساختہ اند ہمچناں بر اصول فلسفی خود راسخ اند وبقدم سماوات وکواکب وامثال اینہا قائل اند وبعدم فنا وہلاک اینہا حاکم،قوت ایشاں تکذیب نصوص قرآنی است ورزق شاں انکار ضروریات دین عجب مومن اند بخدا ورسول ایمان آرند اما آنچہ خدا ورسول او فرمودہ است قبول ندارند سفاہت ازیں نمی گزرد؎

فلسفہ چوں اکثرش باشد سفہ پس کل آں

ہم سفہ باشد کہ حکم کل حکم اکثر است’’

(ایضا)

ترجمہ: متاخرین فلاسفہ جنہوں نے اپنے آپ کو اہل اسلام کے زمرے میں داخل مانا ہے۔ یہ لوگ بھی اپنے انہیں فلسفی اصولوں پر قائم ہیں اور آسمانوں اور ستاروں وغیرہ کے قدیم ہونے کی بات کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ فنا نہیں ہوں گے،

نصوص قرآنی کی تکذیب اور ضروریات دین کا انکار ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، عجیب مومن ہیں کہ خدا و رسول پر تو ایمان ہے، مگر ان کے فرمودات کو قبول نہیں کرتے ہیں، اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوگی؟؎

فلسفہ کی اکثر چیزیں جب بےوقوفی پر مبنی ہیں تو پھر پورے کا پورا فلسفہ بےوقوفی ہوگا، اس لیے کہ اکثرپر کل کا حکم لگا دیا جاتا ہے۔

انکا ر ضروریا ت دین میں یہ فرقہ ضالہ یہاں تک پہنچ گیا کہ:

‘‘ کہ حق را سبحانہ بے کار و معطل دانستہ اند وغیر از یک چیز وآں ہم بہ ایجاب نہ بہ اختیار باو تعالیٰ مستفید نساختہ عقل فعال از نزد خود تراشیدہ حوادث را از خالق سماوات وارض باز داشتہ باو منسوب میدارند واثر را از موثر حقیقی جل سلطانہ منع نمودہ آں را اثر منحوت خود میدانند۔’’(ایضا)

ترجمہ: یہ لوگ حق سبحانہ و تعالیٰ کو بے کار اور معطل جانتے ہیں، اور صرف ایک چیز وہ بھی اختیاری نہیں، بلکہ ایجابی کے علاوہ خدا کو کسی اور چیز سے مقید نہیں کرتے ہیں۔ اپنی جانب سے عقل فعال کو گڑھ کر حوادث کو آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے کی طرف نہ منسوب کر کے اس عقل کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اثر کو موثر حقیقی سے پھیر کر اسی عقل کی طرف سے جانتے ہیں۔

ان کے فلسفہ کا مختصر حال تو یہ ہے جو آپ نے پڑھا منطق جس کی تعریف یہ یوں کرتے ہیں‘‘وہ آلۂ قانونیہ ہے جس کی رعایت ذہن کو خطا فی الفکر سے بچائے’’ اس کا حال یہ ہے:

‘‘ایں جماعہ عمر خودرا در تعلیم وتعلم آلتے کہ عاصم از خطاے فکری است صرف کردند ودراں باب دقتہا نمودہ اند چوں بمقصد اقصائے ذات وصفات وافعال واجبی رسیدند جل سلطانہ دست وپاے خود را گم کردند وآلت عاصمہ را از دست دادہ خبطہا خوردند ودر تیہ

ضلالت ماندند در رنگے آنکہ شخصے سالہا آلات حرب را تیار سازد ودر وقت حرب دست وپاے خود را گم کردہ بکار نبرد،مردم علوم فلسفی را متسق ومنتظم دانند واز غلط وخطا را محفوظ می انگارند۔’’(ایضا)

ترجمہ: اس گروہ نے اپنی زندگی کو اس آلہ قانونیہ کی تعلیم و تعلم میں کہ جس کی رعایت (ان کے نزدیک) فکری غلطیوں سے بچاتی ہے، کھپا دیا اور اس میں بڑی باریکیاں تلاشی ہیں، جب ان لوگوں نے ذات و صفات و افعال واجبی جل سلطانہ کا قصد کیا تو ان کے ہاتھ پیر پھول گئے، خطائے فکری سے محفوظ رکھنے والا آلہ (منطق) بے کار ثابت ہوا، لہٰذا خوب ٹھوکریں کھائیں اور انجام کار صحرائے ضلالت میں سرگرداں ہی رہے۔ بالکل اسی شخص کی طرح جو سالوں سے جنگی اسلحے تیار کرے، مگر جنگ کے وقت انہیں چلا نہ سکے۔ لوگ فلسفیانہ علوم کو منتظم جانتے اور غلطی و خطا سے محفوظ سمجھتے ہیں۔

ان کے علوم وفنون جو برسہا برس کی محنت وکاوش کے بعد تیار ہوئے ان کا حال یہ ہے:

‘‘حجۃ الاسلام امام غزالی در رسالہ منقذ من الضلال می فرمایند کی فلاسفہ علم طب وعلم نجوم را از کتب انبیا ما تقدم علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات سرقہ کردہ اند وخواص ادویہ وغیر آں را کہ عقل در درک آنہا قاصر است از صحف وکتب منزلہ بانبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات اقتباس نمودہ،وعلم تہذیب اخلاق را از کتب صوفیہ الٰہیہ کہ در ہر عصر در امت ہر پیغمبرے بودہ اند از برائے ترویج اباطیل خود سرقہ کردہ اند پس ایں سہ علم معتبر شان سرقے گشت۔’’(ایضا)

ترجمہ: حجۃ الاسلام امام غزالی قدس سرہ رسالہ ‘‘المنقد من الضلال’’ میں فرماتے ہیں کہ فلاسفہ نے علم طب و نجوم کو سابقین انبیا علیٰ نبیا و علیھم الصلوٰت والتسلیم کی کتابوں

سے چرایا ہے، ادویہ وغیرہ کے نسخوں کو کہ جن کے ادراک سے عقل قاصر ہے، اسے بھی انبیاے کرام علیھم السلام پر نازل شدہ کتابوں سے اخذ کیا ہے، اسی طرح علم تہذیب و اخلاق کو خدا رسیدہ صوفیہ جو کہ ہر پیغمبر کے زمانے میں رہے ہیں، کی کتابوں سے اپنے باطل مزخرفات کو رواج دینے اور زور پھیلانے کے لیے سرقہ کیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ فلاسفہ کے یہ تینوں اہم علوم سرقہ کیے ہوئے ہیں۔

الٰہیات میں ان کی رسائی کا یہ عالم ہے:

‘‘جاہل ترین مردم در ذات وصفات واجبی جل سلطانہ اینہا اند کہ حق را سبحانہ بیکار ومعطل دانستہ اند۔’’(ایضا)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ جل شانہ کی ذات و صفات میں سب سے بڑے جاہل یہی فلاسفہ ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے حق سبحانہ و تعالیٰ کو بے کار اور معطل سمجھ رکھا ہے۔

ان جہالتوں اور حماقتوں کے بعد ان کے بارے میں کچھ لوگوں کی عقیدت یہ ہے:

‘‘عجب تر آنکہ جمعے ایں سفہا را حکما می نامند وبحکمت منسوب می دارند اکثر احکام ایشاں سیما در الٰہیات کہ مقصد اسنیٰ است کاذبہ اندومخالف کتاب وسنت،اطلاق حکما بر اینہا کہ سراسر جہل مرکب نصیب است بکدام اعتبار نمودہ آید مگر بر سبیل تہکم واستہزا گفتہ شود ویا از قبیل اطلاق بصیر بر اعمیٰ شمردہ آید۔’’(ایضا)

ترجمہ: تعجب ہے کہ کچھ لوگ ان بے وقوفوں کو حکما کہتے ہیں اور انہیں حکمت سے منسوب کرتے ہیں، ان کے اکثر احکام خاص کر الٰہیات جو کہ سب سے روشن مقصد ہے، اس میں یہ جھوٹے اور کتاب و سنت کے مخالف ہیں، ایسے لوگوں پر حکما کا اطلاق سراسر جہل مرکب ہے جو ان پر کسی طرح درست نہیں۔ ہاں مگر دو صورتوں میں انہیں حکما کیا جا سکتا ہے۔ ایک بطور ہنسی و مذاق اور دوسرے جیسے کہ اندھے کو بینا کہہ دیا جائے۔

کچھ سر پھروں نے تو عقیدت میں اتنا غلو کر دیا اور یہاں تک کہہ بیٹھے:

‘‘وبعضے از مردم کہ بعلوم فلسفی سرے دارند وبتسویلات فلسفی مفتون اند ایں جماعہ را حکما دانستہ عدیل انبیاء می دانند علیہم الصلوات والتسلیمات بلکہ نزدیک است کہ علوم کاذبہ ایشاں را صادقہ دانستہ بر شرائع انبیاء تقدیم می دہند علیہم الصلوات والتسلیمات اعاذنا اللہ سبحانہ من الاعتقاد السوء۔’’(ایضا)

ترجمہ: بعض لوگ جو کہ علوم فلسفہ کے دل دادہ اور فلاسفہ کی ڈینگوں سے مرعوب و مفتون ہیں یہ لوگ تو حکما کو انبیا ے کرام علیھم السلام کے برابر درجہ دیتے ہیں، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے جھوٹے علوم کو سچ جان کر انبیاے کرام علیھم السلام کی شریعتوں پر فوقیت دے دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس برے اعتقاد سے اپنی پناہ میں رکھے۔

یہ فرقۂ ضالہ ضلالت وگمرہی میں اتنا آگے بڑھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بہت سی اشیاء مثلا عقول ونفوس،ہیولیٰ وصورت اور جو کچھ آسمانوں میں ہے سب کے قدیم ہونے کا قائل ہو گیا،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے حضرت امام غزالی قدس سرہ ان کی تکفیر کے قائل ہوئے،بعض ضلالتوں میں تو یہ تمام گمراہوں سے بھی آگے بڑھ گئے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:

‘‘دو چیز دریں بیدولتاں از جمیع فرق ضلالت وبلا ہت بیشتر است یکے کفر وانکار است باحکام منزلہ وعناد وعداوت است باخبار مرسلہ دوئم ترتیب مقدمات فاسدہ است وتلبیس دلائل وشواہد باطلہ در اثبات مقاصد ومطالب واہیہ آں قدر خبط در اثبات مقاصد خود کہ ایشاں خوردہ اند ہیچ سفیہے نہ خوردہ،سماوات وکواکب کہ ہمہ وقت بیقرار و سرگردانند مدار کار را بر حرکات و اوضاع ایشاں داشتہ اند واز خالق سماوات وموجد کواکب ومحرک اینہا ومدبر امر ایشاں چشم پو شیدہ اند ودور از معاملہ دانستہ،زہے بے خرداں زہے

بے دولتاں۔’’(مکتوب ۲۶۶ جلد۱)

حیرت تو اس بات پر ہے کہ ان سب حماقتوں اور علوم وفنون میں اس رسائی اور اثبات واستدلال کی ان کمزوریوں کے با وجود علماے اسلام نے اس منطق وفلسفہ کو ایسا منھ لگا یا کہ بعد کے زمانے میں بس یہی علوم وفنون شمار ہو نے لگے،قرآن وحدیث اور ان سے متعلقہ علوم وفنون کی کوئی گنتی ہی نہ رہی حتیٰ کہ حدیث وتفسیر کے درس میں شرکت طلبا کی نظر میں غیر ضروری ہو گئی،جو منطق وفلسفہ میں مہارت رکھتا ہے بس وہی اعلیٰ مدرس ہے اگر چہ علوم مقصودہ سے کو ئی خاص حصہ نہ رکھتا ہو اور یہ ذہن آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے جبکہ ان علوم وفنون کا حال آپ پڑھ چکے۔

مکتوب ۲۶۶ جلد اول میں حضرت مجدد قدس سرہ ان کی جہالتیں اور ضلالتیں بیان کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:

‘‘سفیہ تر از ایشاں آنکہ ایشاں را زیرک داند وصاحب فطانت انگارد واز علوم متسق ومنتظم ایشاں علم ہندسہ است کہ ما لا یعنی محض است وما لا طائل صرف،مساوات زوایاے ثلث مثلث مر دو قائمہ را بچکار می آید وشکل عروسی ومامونی کہ جانکاہ ایشاں است بکدام غرض مربوط است،علم طب وعلم نجوم وعلم تہذیب اخلاق ایشاں بہترین علوم ایشاں است از کتب انبیاء ما تقدم علیٰ نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات سرقہ کردہ ترویج اباطیل خود نمودہ اند کما صرح بہ الامام الغزالی فی المنقذ من الضلال۔’’

آپ قدس سرہ یہاں پر ایک بڑا پیارا نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے متبعین وپیروکار اگر اثبات واستدلال میں غلطی بھی کریں تو کوئی حرج نہیں اس لیے کہ ان کے کام کا دار ومدار انبیاے کرام کی تقلید پر ہے علیہم الصلوات والتسلیمات اپنے بلند مطالب کے اثبات پر دلائل وبراہین بر سبیل تبرع پیش کرتے ہیں ورنہ ان کے لیے وہی تقلید کا فی ہے،بخلاف ان بے دولتوں کے کہ اپنے

آپ کو تقلید سے آزاد کر کے دلائل کے ساتھ اثبات کے در پے ہوئے۔

حضرت مجدد قدس سرہ کے دور میں ہندوستان میں چونکہ لوگ اس علم کے دیوانے ہوئے جا رہے تھے،آپ جیسے دانا وبینا اور دین وملت کے وفا دار سے سے بھلا یہ کب برداشت ہو سکتا تھا کہ اللہ ورسول ﷺ کی تعلیمات سے اس قدر رو گردانی ہو اور ایسے علم کی طرف اعتنا وتوجہ ہو اسی لیے آپ جہاں تحریروں کے ذریعہ اس کی قباحتیں اور شناعتیں بیان فرماتے ہیں وہیں دوران تدریس بھی،چناں چہ اسی مکتوب گرامی میں فرماتے ہیں:

‘‘دریں ایام فرزندی محمد معصوم جواہر شرح مواقف را تمام کرد در اثناء سبق او قباحتہائے ایں بے خرداں بوضوح آمد وفائدہ ہا براں مترتب شد۔’’

ترجمہ: میرے فرزند دلبند محمد معصوم نے جواہر شرح مواقف کو ختم کر لیا ہے۔ اسے پڑھاتے وقت ان بے عقلوں کی قباحتیں ظاہر ہوئیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے فائدے ہوئے۔

یہ چند اقتباسات سپرد قلم کیے گئے اس کے علاوہ متعدد مکتوبات قدسی آیات میں اس مرد مجاہد نے اس کی قباحتوں اور شناعتوں سے آگاہ فرمایا اور ہمیشہ لوگوں کو لایعنی علوم کے ساتھ مشغولیت کو مضر بتایا اور ہر اس علم سے اجتناب کی تاکید کی جس کے اسلام اور اہل اسلام پر برے اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔

اسلامی احکام میں اذعان وایقان کی کیفیتوں میں یا جن میں مصروفیت دل کو خداوند قدوس سے دور کر سکتی تھی ان سب سے بچاتے رہے اور زندگی کے اس سرمایہ کو ہمیشہ یاد خدا اور فکر آخرت میں گزارنے کی تنبیہ فرماتے رہے،یہ وہ علوم تھے جن کا کم ازکم ادنیٰ اثر یہ تھا کہ ان سے کوئی دنیا کا فائدہ متعلق تھا نہ آخرت کا،اس کے بر خلاف نفس میں رعونت وسر کشی اور پھر عزت وجاہ اور اقتدار وغیرہ کی چاہت اور پھر آپسی اختلافات

اور باہمی تفسیق وتضلیل تک بات پہنچتی تھی۔

حضرت مجدد قدس سرہ کبھی عام رجحان کے تابع نہ ہوئے بلکہ انھوں نے ہمیشہ ہر چیز کو اور ہر علم وفن کو قرآن وسنت کے دائرے میں دیکھنے کی کوشش کی ،حق کو حق کہنا اور باطل کو باطل کہنا آخری دم تک آپ کا وتیرہ رہا،آپ نے قوم وملت کی جس ہمدردی کا ثبوت پیش کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ دنیا کبھی ان کے احسانات کو چکا نہیں سکتی ہے۔