باب ۱۸ از ۵۷صفحات ۲۶۷–۲۷۷
تاثیر و تصرف
خوارق عادات سے تاثیر و تصرف ہے۔ یہ تاثیر دو قسم پر ہے؛ ایک یہ کہ صوفی مرید کے باطن میں اثر ڈالے اور اس کو حق تعالیٰ کی طرف جذب کرے یعنی کھینچے، دوم یہ کہ عالم کون و فساد میں تاثیر کرے اور حق تعالیٰ اس کی دعا کے موافق اور اس کے ارادے کے موافق ظاہر فرما دے۔
خوارق عادات کی یہ چند قسمیں ہم نے سپرد قلم کر دیں جن کی حیثیت اصول کی ہے۔ علما و صلحا نے کرامات کی تعریف و شرائط اور انواع و اقسام بہت تفصیل سے بیان فرمائیں، خاص کر علامہ یوسف ابن الخلیل نبہانیرحمۃ اللہ علیہ نے ‘جامع کرامات اولیا’ میں ہر نوع کے تحت مختلف اولیاے کرام کے واقعات اور مثالیں بھی تحریر فرمائی ہیں۔
جب ہم نظر ڈالتے ہیں حضرت مجدد قدس سرہ کی حیات مبارکہ پر تو پتا چلتا ہے کہ خوارق عادات کی کوئی بھی قسم لی جائے آپ کے اندر علیٰ وجہ الکمال دکھائی دیتی ہے۔ ہر بڑی بڑی کرامت اور تصرف کا صدور آپ سے بہت کثرت سے ہوا جب کہ آپ اس سے سخت محتاط تھے اور حتی الامکان ان خوارق سے پرہیز فرماتے تھے جنھیں عوام الناس کرامت سمجھتے ہیں۔ ہم یہاں پر آپ قدس سرہ کے سلسلے میں چند اہم باتیں سپرد قلم کرتے ہیں جن سے آپ کا مزاج، آپ کی شان ارفع و اعلیٰ اور اس شعبے میں آپ کی دسترس کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکیں گے۔ اگر آپ مکاشفات و کرامات و تصرفات بالتفصیل دیکھنا چاہیں تو اس سلسلے میں لکھی جانے والی کتب ملاحظہ فرمائیں،خاص کر
‘برکات احمدیہ’ اور ‘حضرات القدس’ وغیرہ۔
خوارق کی دو قسمیں:
مکتوب؍۲۹۳، دفتر اول میں ایک حدیث کی شرح اور حضور غوث اعظمرضی اللہ عنہ کے ایک مشہور قول کی مراد متعین کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اے بھائی سنو! خوارق عادات دو قسم پر ہیں؛ نوع اول علوم و معارف الٰہی جل سلطانہ ہیں کہ ذات و صفات و افعال واجبی جل و علا سے تعلق رکھتے ہیں اور طور نظر و عقل سے پرے ہیں اور متعارف و معتاد کے خلاف ہیں کہ اپنے خاص بندوں کو ان سے ممتاز کیا ہے اور نوع دوم مخلوقات کی صورتوں کا کشف ہے اور امور غیبیہ کی خبر دینا ہے کہ عالم سے تعلق رکھتا ہے۔ نوع اول اہل حق و ارباب معرفت کے ساتھ مخصوص ہے، اور نوع دوم محق و مبطل دونوں کو شامل ہے کیوں کہ اہل استدراج کو بھی نوع دوم حاصل ہے۔ نوع اول خدا جل و علا کے نزدیک شرافت و اعتبار رکھتی ہے کہ اپنے دوستوں (اولیا) کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور اپنے دشمنوں کو اس میں شرکت نہیں دی ہے اور نوع دوم عوام خلائق کے نزدیک معتبر ہے اور ان کی نطروں میں معزز و محترم۔ یہ معنیٰ (خوارق کی نوع دوم) اگرچہ اہل استدراج سے ظہور میں آئیں، قریب ہے کہ عوام نادانی سے اس (اہل استدراج ) کی پرستش کریں اور ہر رطب و یابس (خشک و تر) کہ وہ (اہل استدراج) تکلیف دے،اس کے مطیع و فرماں بردار ہو جائیں، بلکہ یہ محجوباں (عوام) نوع اول کو خوارق سے نہیں جانتے ہیں اور کرامات سے نہیں شمار نہیں کرتے ہیں، ان کے نزدیک خوارق نوع دوم میں منحصر ہیں اور ان محجوبوں کے گمان میں کرامتیں مخلوقات کی صورتوں کے کشف اور غیبی خبروں سے مخصوص ہیں، کیسے بے عقل ہیں کہ جو علم حاضر یا غائب مخلوقات کے احوال سے تعلق رکھتا ہے کون سی شرافت و کرامت اس میں حاصل ہے۔’’
مزید تفصیل کے لیے یہی مکتوب دیکھیے ، خوف طوالت کی وجہ سے میں نے اس پر اکتفا کیا، آپ پورا مکتوب ملاحظہ فرمائیں، پھر آپ دیکھیں گے حضرت مجدد کی بصیرت اور آپ کے معارف و حقائق سے مکتوبات قدسی مالا مال ہیں۔ آپ دیکھیں تو آپ کو پتا چلےگا کہ نوع اول سے تعلق رکھنے والے خوارق میں آپ کو کتنی بلند دسترس حاصل تھی۔ بہت کم آپ کا نظیر ملےگا۔ نوع دوم کے خوارق سے متعلق جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اسے بار بار پڑھیے اور دیکھیے کیا آج واقعی انھی شعبدوں کی وجہ سے نروں کی پرستش نہیں ہو رہی ہے، کیا انھیں کشف صور اور اس جیسے علوم کو وسیلہ بناکر دنیا نہیں لوٹی جا رہی ہے؟ یہ مقام تفصیل کا نہیں۔
معارف اور کشف صور کا فرق:
اسی مکتوب میں حضرت مجدد قدس سرہ آخر میں حضرت شیخ الاسلام ہروی اور امام انصاری رحمۃ اللہ علیہما کا بڑا مفید کلام نقل فرمایا جس کا خلاصہ یہ کہ اہل معرفت کی فراست یہ ہے کہ وہ جان لیں کہ کون اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی صلاحیت رکھتا ہے اور کون نہیں رکھتا ہے۔ نیز یہ جان سکیں کہ جو لوگ ذکر میں مشغول ہیں اور واصل ہو چکے ہیں ان کی استعداد کیا ہے۔ اس کے برخلاف اہل ریاضت کی فراست بھوک اور خلوت اور باطن کے تصفیہ بغیر اس کے کہ وہ بارگاہ الٰہی تک پہنچیں تو ان کے لیے صورتوں کے کشف اور ان غیبی خبروں کی فراست ہے جو مخلوق کے ساتھ مخصوص ہیں۔ یہ لوگ صرف خلق کی ہی خبر دے سکتے ہیں کیوں کہ حق سے ناواقف اور محجوب ہیں اور جو اہل معرفت ہیں ان پر چوں کہ حقائق الٰہیہ وارد ہوتے رہتے ہیں؛ اس لیے ان کی خبریں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں اور عالم چوں کہ اکثر حق سے دور اور دنیا میں مشغول ہے اس لیے صورتوں کے کشف والوں اور احوال مخلوقات کی غیبی خبریں دینے والوں کی طرف مائل ہوئے تو ان عالم والوں نے اسی طرح کا کشف رکھنے والوں کی تعظیم کی اور
سمجھ لیا کہ یہی اللہ والے اور اس کے خاص ہیں۔
ان عالم والوں نے اہل حقیقت کے کشف سے اعراض کیا اور یہ اہل حقیقت جو خبریں دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان میں متہم کیا اور کہہ دیا کہ اگر یہ اہل حق ہوتے تو ہمارے اور مخلوقات کے احوال بتاتے اور جب یہ نہیں بتا سکتے ہیں تو وہ احوال کیسے بتا پائیں گے جو ان سے اعلیٰ ہیں۔ اس فاسد قیاس سے ان اہل حقیقت کی تکذیب کی، ان نادانوں نے یہ نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس بندوں کو خلق کےملاحظہ سے محفوظ رکھا اور ہر ایک سے بے نیاز کر دیا۔ ان کی حمایت کرتے ہوئے اور ان پر غیرت کرتے ہوئے اور ہم نے اہل حق کو دیکھا ہے کہ جب وہ ادنیٰ سا التفات کرتے ہیں کشف صور کی طرف تووہ وہ پا لیتے ہیں جو دوسرے نہیں پا پاتے ہیں۔ اس فراست سے جو حق سے تعلق رکھتی اور حق سے قریب ہے، لیکن اہل صفا کی فراست جو خلق سے تعلق رکھتے ہیں تو اس کا بارگاہ رب سے اور اس کے قرب سے تعلق نہیں اور اس فراست میں مسلمان، نصاریٰ، یہود اور تمام فرقے شامل؛ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شرف والی چیز نہیں۔’’
آپ بار بار اس مبارک کلام کو پڑھیے، کس قدر حقیقت پر مبنی کلام ہے، آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں جو حقیقتاً اللہ تعالیٰ کے چاہنے والے ہیں اور اس کے قرب سے مالا مال ہیں ان کی بولی کیا ہوتی ہے، وہ جب بولیں گے تو وہی جس کا تعلق ان کے محبوب و مطلوب سے ہو وہ جان و تن کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ان کا ہر ذکر و فکر اپنے محبوب سے متعلق ہوتا ہے ایسے لوگ جو اپنے آپ کو خالق کائنات جل و علا کے حوالے کر چکے ہوں انھیں کیا ضرورت پڑی کہ وہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق میں لگیں، اسے جانیں، اس کی طرف متوجہ ہوں اور عتاب الٰہی کا شکار ہوں؟
کشف صور:
جو لوگ اہل کشف اور عوام کی نفسیات سے واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ اوپر کہا گیا ہے کتنا سچ ہے۔ کشف صور رکھنے والوں کی ساری دل چسپی اسی بات پر رہتی ہے کہ وہ دلوں کے حالات جان لیں، کیا ہونے والا ہے، کیا ہو چکا ہے، اس کا پتا لگالیں۔ عوام اس کو بہت بڑا کمال تصور کرتے ہیں۔ سالکین کے لیے یہ اتنی بڑی رکاوٹ ہے کہ بیان نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہی غیر اللہ کی طرف التفات ہے جو روحانی عروج و ارتقا سے روک دیتا ہے اور بالآخر بڑے بڑے مجاہدات کے باوجود بھی انسان کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور کشف صور میں کشش اتنی ہےکہ رفتہ رفتہ ذہن و دماغ پر ہر وقت یہی بھوت سوار ہو جاتا ہے، اس سے نام و نمود، شہرت اور دنیا تو ضرور حاصل ہو جاتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے جلوے میسر نہیں آپاتے ہیں۔ حضرت مجدد قدس سرہ جس زمانے میں ظہور ہوا عام صوفیوں پر آپ نظر ڈال لیں اسی کشف نے انھیں بلندیوں سے روک دیا۔
اصلاحی کوشش:
حقیقت یہ ہے کہ امور طریقت سے اصلاحی کوششوں میں حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ بڑا اصلاحی کارنامہ ہے کہ انھوں نے صوفیہ کو اس قسم کے کشف سے روکا اور جگہ جگہ مذمت بیان فرمائی اور سالکوں کے لیے اسے زہر قاتل فرمایا۔ انھوں نے بنیادی طور پر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طلب کی تاکید کی اور ایسے ایسے حقائق بیان فرمائے کہ اہل حقیقت عش عش کر اٹھے۔ اس سے بہت فوائد حاصل ہوئے۔ ایک تو سالکین کی راہ تیزی سے طے ہونے لگی۔ دوم مخلوق کے رجوع سے جو نفسانی و شیطانی باطنی بیماریاں پیدا ہو جاتی تھیں ان سے لوگ محفوظ ہونے لگے۔ سوم یہ کہ ان لاحاصل دنیوی توجہات سے وقت بچ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر کے حوالے ہونے لگا جن لوگوں کو انوار و برکات سے کچھ بھی حصہ حاصل ہے اور انھیں کسی وقت کوئی خاص کیفیت
حاصل ہوتی ہے وہ جانتے ہیں کہ غیر اللہ کی طرف ادنیٰ سا التفات کس قدر وبال ہے۔
اب آپ اس میزان سے جو حضرت شیخ الاسلام ہروی اور امام انصاری رحمۃ اللہ علیہما نے مقرر فرمائی ہے، دیکھیں اور حضرت مجدد قدس سرہ کے تمام مکتوبات میں جو معارف و حقائق پھیلے ہوئے ہیں انھیں حق کے ترازو میں تولیں تو آپ کو اندازہ ہو جائےگا کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے مکاشفات کیا ہیں اور دیگر عام صوفیوں کے کیا ہیں، ان میں کون عرش ہے اور کون فرش۔ آپ کا دل بڑے اطمینان سے فیصلہ کر لےگا۔ ایک بزرگ نے کتنی سچی بات فرمائی تھی کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے معارف کے قدر داں اس زمانے میں کہاں ہیں، انھیں تو بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کو سمجھنے کے لیے بڑی عقل اور بڑے علم و انصاف کی ضرورت ہے۔
چند فوائد:
۱۔خوارق کے سلسلے میں چند اہم فوائد اور اس سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کا مزاج سماعت فرمائیں جن کو حضرت خواجہ محمد ہاشم کشمی برہان پوری نے ‘‘برکات احمدیہ’’ میں بیان فرمایا، آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ در حقیقت حق سبحانہ تعالیٰ نے اپنے کمال کرم سے اس کمترین (حضرت مجدد قدس سرہ) کو وہ قدرت و قوت عطا فرمائی ہے کہ اگر اس خشک لکڑی پر توجہ اور ہمت کروں تو ایک عالم اس سے منور ہو جائے، لیکن اس زمانے کی آخری جز میں نہ حق تعالیٰ کی مرضی ہے اس قسم کے امور کے ظہور میں اور نہ میرا دل اس ظہور پر ہے۔
۲۔حضرت خواجہ میر محمد نعمان کے برادر میر سعد الدین محمد رحمۃ اللہ علیہما جو کہ مجددی برکات سے کافی مالامال تھے اور چند دنوں میں آپ کی بلند توجہات سے روحانیت کی کافی منزلیں طے کر چکے تھے، فرماتے ہیں کہ آپ کی تھوڑی سی صحبت کی
برکت سے بوقت سجدہ طبقات زمین کے احوال دکھا دیے جاتے تھے۔ خانقاہ میں ایک شخص ایسا تھا جس کو خدشات بہت لاحق ہوتے تھے اس کی صحبت سے ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ حضرت مجدد سے بایں ہمہ بزرگی اور کثرت علم و فضل، عمل و عرفان کوئی ایسا خارق جس کا تعلق عالم کون سے ہو بہت کم دیکھا جاتا ہے۔ اس وسوسہ نے جب غلبہ پکڑا تو جو احوال مشاہدہ کر لیا کرتے تھے انھیں ان میں قبض و بستگی پیدا ہو گئی، انھیں یقین ہو گیا کہ یہ اس وسوسہ کا نتیجہ ہے، معذرت کی نیت سے دستار گردن میں ڈال کر حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے پائے مبارک پر اپنے کو ڈال دیا۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے ایک لمحہ کے بعد ان کا سر اٹھایا اور فرمایا کہ ‘‘میر کرامات کے طالب ہو گئے ہیں اور یہ فلاں کی صحبت کا اثر ہوگا، احباب کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو اس قسم کی کرامتوں پر نظر رکھے وہ دوسرا شیخ ڈھونڈ لے اور جو حضور انورﷺ کی متابعت اور نور فنا و بقا اور معرفت ذات و صفات کے دیگر کمالات حاصل کرنا چاہتا ہو تو وہ ان فقرا کے ساتھ چند دن گزارے۔’’
۳۔کرامات سب کی سب پیغمبر کے معجزات ہیں۔ جس طرح معجزات پیغمبر دین کی ترویج و تقویت کے واسطے ہوتے ہیں اسی طرح کرامتیں بھی اسی مقصد کے لیے ہیں ان کا کوئی دوسرا مقصد اظہار خوارق میں حصول جاہ اور ہنر دکھانا اور اپنی شہرت اور ان جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ اس نیت کے باوجود ان میں سے اکثر آخر عمر میں خوارق کے ظہور پر نادم ہوتے ہیں، ان میں بعض نے تو فرمایا:
عقوبۃ الأنبیاء حبس الوحی و عقوبۃ الأولیاء اظھار الکرامات و عقوبۃ المؤمنین التقصیر إلی الطاعات ( )
................................
۔1 انبیا پر عتاب وحی کا رکنا، اولیا پر کرامتوں کا اظہار اور مومنین کی سزا اطاعت و بندگی کی تقصیر ہے۔
اور زمانہ جس قدر قیامت سے نزدیک تر ہوگا جب دین ضعف پیدا کرےگا اور اس کا رواج ٹھنڈا پڑےگا جیسا کہ بہت ساری حدیثیں اس چیز کی خبر دیتی ہیں لامحالہ خوارق کا ظہورکہ دین کی تقویت و ترویج کے واسطے تھا کم ہو جائےگا یعنی اولیاے کرام ان کے اظہار کے مامور نہ ہوں گے خاص کر جب حضور سید الابرارﷺ کے وصال کو ہزار سال گزر جائیں گے کیوں کہ اس مدت کے گزرنے کو امور دین کے تغیر اور ملت کے ضعف میں پورا دخل ہے۔ اولیاے عشرت بھی اولیاے عزلت کی طرح اظہار خوارق سے غالباً ممنوع ہو جائیں گے کیوں کہ ظہور خوارق اسم الہادی کے مقتضیات سے ہے کہ ارشاد و ہدایت سے تعلق رکھتا ہے اور آخرت فرمان اسم المضل کا مقتضیٰ ہے کہ بدعت و ضلالت سے وابستہ ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے اس میں تاریک رات کی طرح قطع ہوگا یعنی جیسے تاریک رات میں سفر حالات کو دگرگوں کرتا ہے ایسا ہی حال ہوگا یا اندھیری رات کا ٹکڑا مراد ہے، اس میں صبح کو مرد مومن ہوگا اور شام کو کافر اور شام کو مومن تو صبح کو کافر۔
۴۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں جو کرامت ارباب ارشاد کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مریدان رشید کوایک خلق (عادت) سے دوسرے خلق کی طرف لے جائیں اور ایک حال سے دوسرے حال کی طرف گزاریں اور سعادت مند مرید ہر روز اپنے اندر تصرفات پیر کے آثار دیکھتا ہے اور (مریدوں کے علاوہ) دوسروں کے لیے اظہار خوارق اولیاء اللہ کے لیے لازم نہیں ہے کیوں کہ معاملۂ ولایت پوشیدگی کے زیادہ لائق ہے۔ (برکات احمدیہ)
۵۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: اولیاء اللہ کیا متقدم ہوں کیا متاخر ہر وقت خوارق کا ظہور فرماتے ہیں خواہ مخالف اس کو جانے یا نہ جانے۔ سورج کا کیا قصور ہے اگر کوئی کور ہے؟ مشائخ کی اکثر کرامتیں ان کے خاص مرید اور مخصوص ہم نشیں
حضرات دیکھ لیتے ہیں اور وقت گزر جانے پر لوگوں کی زبانوں اور تحریروں سے ان کی شہرت ہوتی ہے۔
۶۔آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی کمال عنایت مجھ کمترین کے حق میں یہ ہے کہ اس راہ کا کوئی کوچہ ایسا نہیں ہے جس پر مجھے عبور نہ کرایا گیا ہو اور مرید نے اپنی استعداد کے مطابق جس طریقے پر چلنا چاہا اسی کے مطابق مجھ پر وہ طریق کھول دیا گیا اور مرید کو اسی طرح کمال و تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔
۷۔حضرت علامہ بدر الدین سرہندیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسلام کے ضعف اور کفر کے غلبے کے باوجود ہزاروں کافر آپ جیسے قبلہ ابرار کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور فاسقوں اور فاجروں کی کثیر جماعت آپ کے اطوار و اخلاق کو دیکھ کر تائب ہوئی اور صلاح و تقویٰ اور خدا پرستی کی طرف آگئے۔ اسی طرح دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ آپ کو واقعات اور خوابوں میں دیکھ کر اور رابطہ حاصل کرکے آپ کی خدمت میں پہنچتے تھے اور جیسا کہ وہ واقع میں دیکھتے تھے ٹھیک اسی طرح آپ کو حاضر ہوکر دیکھتے تھے۔ بہت سے علما و صلحا، درویشوں اور امیروں نے آپ کو خواب میں دیکھ کرآپ سےذکر و شغل کا طریقہ سیکھااور ان کا دل بھی اس ذکر سے ذاکر بن گیا، پھر پورے اشتیاق کے ساتھ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعلیم طریقہ حاصل کی اور اسے ویسا ہی پایا جیسا کہ خواب میں حاصل کیا تھا اور آپ کی کرامات میں سے یہ بات بھی تھی کہ کثرت سے مرید حاضر خدمت ہوتے اور ہر فرد پر آپ توجہ فرماتے اور احوال و کیفیات وارد فرماتے، پھر ان کیفیات سے گزار کر دوسری کیفیات وارد فرماتے۔ اسی طرح جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ ہر شخص کے ساتھ آپ کا معاملہ مختلف تھا اور ہر فرد کے لیے اسرار بھی جدا تھے اور لطف یہ ہے کہ مریدوں اور ملازموں میں سے ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ جتنی شفقت اور عنایت مجھ پر ہے دوسرے پر نہیں ہے۔
آپ کا معاملہ مریدوں کے ساتھ مرید کرنے اور تعلیم شروع کرانے کے دن سے لے کر درجۂ ولایت کو پہنچانے تک ہر روز ایسا ہی رہتا تھا (بدر الدین سرہندی) اپنا حال جانتا ہے کہ آپ ہر روز کم و بیش دس مرتبہ میرے باطنی احوال دریافت فرمایا کرتے تھے اور جو کیفیت میں آپ سے عرض کرتا تھا اسی لحظہ آپ کی توجہ سے وہ کیفیت دور ہو جاتی تھی اور اس سے کہیں بلند تر کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور کبھی کبھی دو کیفیتوں کے درمیان کوئی انقباض پیدا ہوجاتا تھا تو اس کے بعد ہی آپ کی توجہ سے دوسرا حال وارد ہو جاتا تھا۔ اس حقیر کا یہ ایسا تجربہ ہے کہ کہیں اس کے خلاف نہیں ہوتا تھا اور آپ بھی کبھی کبھی فرماتے تھے کہ تمھارا حال اب ایسا ہے اور اس کے بعد دوسری کیفیت تم پر وارد ہوگی اور آپ جیسا فرماتے ویسا ہی ہوتا، بلکہ بعض حضرات جو ولایت اور خلافت حاصل کرنے کے بعد چلے جاتے تھے ان پر بھی آپ غائبانہ توجہ فرماتے تھے اور احوال خلفا کے بھی ولایت کے کم درجات کو کمالات وارثت نبوت تک واصل فرما دیتے تھے۔ اسی طرح آپ کسی کے لیے چاہتے کہ اسے ولایت موسوی سے ولایت محمدی کے مقام تک پہنچا دیں تو آپ کمال تصرف سے جَیّر ثقیل کرکے اس کو اس مقام سے واصل فرما دیتے تھے اور علم روحانیت والا سالک بھی اپنے اندر محسوس کر لیتا کہ میں کہاں سے کہاں آگیا ہوں جیسا کہ مخدوم زادہ کلاں (یعنی خواجہ محمد صادق علیہ الرحمۃ) اور حضرت میر محمد نعمان علیہ الرحمۃ کے حالات میں معلوم ہوگا۔ طالبوں کے حالات کا معلوم ہو جانا اور ان کے آنے والے حالات کی خبر ہو جانا اور پھر اسی کے مطابق ان کا وقوع ہونا آپ سے بے شمار مرتبہ واقع ہوا ہے۔ آپ کے مریدوں کی تعداد لاکھوں سے زیادہ تھی اگر ہر مرید کےسلسلے میں آپ کی ایک ہی کرامت اور کشف کا شمار کیا جائے تو آپ کے خوارق و کرامات لاکھوں کی تعداد میں ہو جائیں گے۔
یہ فقیر (مؤلف) سترہ سال آپ کی خدمت میں رہا اگر اسی زمانے سے آپ کے مکشوفات اور کرامات اور آپ کے مقامات اور درجات کی تحریر کا رادہ کیا ہوتا اور ہر روز کے واقعات لکھ لیے جاتے (کیوں کہ آپ سے ہر ساعت اور ہر لمحہ خوارق کا ظہور ہوتا تھا) تو اگر کم سے کم ہر روز کی ایک ہی کرامت فرض کر لی جائے تو قریب تین ہزار کرامتیں میری خدمت کے زمانے میں لکھ لی جائیں۔’’
یہ آپ کے روحانی عروج و ارتقااور باطنی کمالات اور جذب و تاثیر اور خوارق و کرامات کا نہایت مختصر اور اجمالی بیان ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ رفعت و عظمت کی کن بلندیوں تک پہنچ گئے تھے اس کا صحیح علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور اس کے رسولﷺ کو، لیکن یہ کمالات آپ کی بلندیوں کی کچھ نشان دہی ضرور کرتے ہیں اور آپ کی ہمہ گیری ہمہ جہتی اور جامعیت کا پتا ضرور لگتا ہے۔ خوارق و کرامات کے سلسلے میں آپ کے احتیاط کے باوجود آج بھی آپ کی سینکڑوں کرامات اور مکاشفات سوانح کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ آپ کے تصرفات پڑھیں گے تو انگشت بدنداں رہ جائیں گے اور کہنے پر مجبور ہوں گے ‘‘ایں سعادت بزور بازو نیست’’
الغرض جس وصف کو دیکھو اور جس کمال پر نظر ڈالو آپ کے اندر اس فراخی کے ساتھ ہے کہ بہت کم افراد ہی میں اس فراخی کے ساتھ ہوگا۔ خیال رہے کہ اس مقام پر بیان کے لائق تو بہت سارے کمالات ہیں مگر خوف طوالت سے میں نے ترک دیا۔ آپ کے احوال و مقامات کے سلسلے میں لکھی جانے والی کتابوں کو آپ دیکھیں۔