باب ۴۵ از ۵۷صفحات ۶۲۶–۶۳۸
وحدۃ الوجود
سب سے پہلے ہم وحدۃ الوجود کو لیتے ہیں جو اپنی شہرت کے لحاظ سے سب سے اہم ہے،زیر تالیف کتاب کنزالعرفان میں ہم اسے نہایت تفصیل سے بیان کر چکے
یہاں مسئلہ کی مختصر توضیح اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج سپرد قلم کرتے ہیں، مکتوب اول جلد دوم میں آپ قدس سرہ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے،یوں تو متعدد مکتوبات میں اس کا تذکرہ ہے،فرماتے ہیں:
‘‘شیخ محی الدین اور ان کے متبعین فرماتے ہیں کہ اسما وصفات واجبی جل وعلا ذات واجب کا عین ہیں تعالیٰ وتقدس اور اسی طرح ایک دوسرے کا عین ہیں مثلا علم اور قدرت جس طرح عین ذات تعالیٰ ہیں اسی طرح ایک دوسرے کا بھی عین ہیں تو اس محل میں کسی اسم ورسم سے تعدد اور تکثر نہیں ہوگا اور نہ تباین وتمایز بھی زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان اسما وصفات اور شیون واعتبارات نے حضرت علم میں بطور اجمال وتفصیل تمایز وتباین پیدا کیا ہے،اگر تمیز اجمالی ہے تو اس کی تعبیر تعین اول سےکی جاتی ہے اور اگر تفصیلی ہے تو اس کا نام تعین ثانی ہے،تعین اول کو وحدت کا نام دیا ہے اور اسی کو حقیقت محمدی جانتے ہیں اور تعین ثانی کو واحدیت کہتے ہیں اور تمام ممکنات کی حقیقت سمجھتے ہیں ان حقائق ممکنات کو اعیان ثابتہ جانتے ہیں۔
ان دونوں علمی تعینوں؛ وحدت اور واحدیت کو مرتبۂ وجوب میں ثابت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان اعیان نے وجود خارجی کی بو نہیں پائی ہے اور خارج میں احدیت مجردہ کے علاوہ کچھ موجود نہیں اور یہ کثرت جو خارج میں دکھائی دیتی ہے ان اعیان ثابتہ کا عکس ہے کہ ظاہر وجود کے آئینے میں اس کا عکس آ گیا ہے،جس ظاہر وجود کے سوا خارج میں کوئی موجود نہیں اور خیالی وجود پیدا کر لیا ہے جیسے آئینے میں کسی شخص کی صورت منعکس ہو جائے اور خیالی وجود آئینہ میں پیدا کر لے۔
اس عکس کے لیے سوائے خیال کے اور کوئی وجود نہیں اور آئینہ میں کسی امر نے حلول نہیں کیا ہے اور اس آئینہ کے چہرے پر کوئی چیز نقش نہیں ہوئی ہے اگر نقش ہے تو تخیل میں ہے کہ رخ آئینہ میں جس کا وہم ہوا ہے یہ متخیل ومتوہم چونکہ اللہ
تعالیٰ کی کا ریگری ہے جو کہ مکمل مضبوطی رکھتی ہے اسی لیے وہم وخیال کے زوال سے زائل نہیں ہوگی اور ہمیشگی کا ثواب وعذاب اس پر مرتب ہوگا۔
یہ کثرت جس نے خارج میں نمود پیدا کیا ہے تین قسموں کے ساتھ منقسم ہے،قسم اول تعین روحی ہے،قسم دوم تعین مثالی اور قسم سوم تعین جسدی کہ شہادت سے تعلق رکھتی ہے۔ان تینوں تعینات کو تعینات خارجیہ کہتے ہیں اور مرتبۂ امکان میں ثابت کرتے ہیں تنزلات خمسہ انھیں تعینات پنجگانہ کا نام ہے ان تنزلات خمسہ کو حضرات خمس بھی کہتے ہیں۔’’
یہ ہے وحدۃ الوجود کا اجمالی بیان،اس مسئلہ میں سب سے پہلے حضرت شیخ محی الدین ابن العربی نے اس نہج سے گفتگو فرمائی،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اگر چہ توحید واتحاد کی باتیں سکر کے غلبات میں دیگر صوفیہ سے بھی ظاہر ہوئیں اور انا الحق وسبحانی ما اعظم شانی زبان سے نکلا ہے اگر چہ وجہِ اتحاد کو انھوں نے نہیں جانا اور منشأ توحید معلوم نہ ہو سکا،پس شیخ اس جماعت کے متقدمین کی برہان اور ان کے متاخرین کی حجت ہیں۔
ان علوم اور دیگر علوم کے بارے میں حضرت شیخ کا نظریہ یہ ہے کہ یہ خاتم الولایۃ کے ساتھ مخصوص ہیں ان کا کہنا ہے کہ خاتم النبوۃ ان علوم کو خاتم الولایۃ سے اخذ کرتا ہے اس مسئلہ کو بعد میں اتنا علمی رنگ دے دیا گیا اور ایسی حاشیہ آرائی ہو ئی کہ تعجب ہو تا ہے، جبکہ یہ مسئلہ خالص احوال سے تھا اور راہ سلوک میں صوفیہ کرام پر ایک مخصوص منزل پر منکشف ہوتا تھا،اور قریب قریب ہر سالک صاحب کشف پر حسب استعداد منکشف ہوتا تھا،ہم پہلے چند برآمد ہونے والے نتائج ذکر کرتے ہیں باقی بحث بعد میں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
(۱)‘‘وجودی در علم و خارج بجز ذات واجب تعالیٰ وغیر از اسما وصفات واجبی جل
سلطانہا کہ عین ذات اند تعالیٰ وتقدس نزد ایشاں ثابت نشدہ وصورت علمیہ را عین ذی صورت دانستہ نہ شبح ومثال آں و ہم چنیں صورت منعکسہ اعیان ثابتہ را کہ در مرات ظاہر وجود نمودے پیدا کردہ است عین آں اعیان تصور کردہ اند نہ شبہ آں ناچار حکم بہ اتحاد نمودہ اند وہمہ اوست گفتہ۔’’
ترجمہ:یعنی چونکہ علم اور خارج میں واجب تعالیٰ کی ذات اور اسما وصفات واجبی جو کہ ان کے نزدیک عین ذات تعالیٰ ہیں کے علاوہ کوئی ثابت نہیں ہو سکا اور علمی صورتوں کو ذی صورت کا عین جانا نہ ان کی مثال و شبح اور اسی طرح اعیان ثابتہ کی صورت منعکسہ کہ ظاہر وجود کے آئینہ میں نمود پیدا کیا ہے ان اعیان کا عین تصور کیا نہ ان کی مثال لا محالہ اتحاد کا حکم کر کے ہمہ اوست کہا۔
مطلب یہ کہ اس سے لازم آتا ہے کہ ممکن عین واجب ہے اور ممکن کے صفات وافعال اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال کا عین ہیں،اسی لیے وحدۃ الوجود کا ایک دیوانہ کہتا ہے۔؎
ہمسایہ وہم نشین وہمرہ ہمہ اوست
در دلق گدا واطلس شہ ہمہ اوست
در انجمن فرق ونہاں خانۂ جمع
باللہ ہمہ اوست ثم باللہ ہمہ اوست
ترجمہ: پڑوس، ہم نشین اور ہمراہی سب وہی ہے۔ فقیر کی گدڑی اور بادشاہ کے اطلسی لباس میں وہی ہے۔ انجمن میں الگ الگ اور خلوت میں اکٹھا۔ خدا کی قسم، سب وہی ہے خدا کی قسم، سب وہی ہے۔’’
یہیں سے اتحاد کی شاخ پھوٹی،ذمہ داروں نے تو حال سے مجبور ہو کر جو کہا وہ کہا مگر تقلید محض اور دل کے مریضوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ایک دفعہ ایک نا
اہل بات کے دوران سامنے موجود اشجار واحجار کو خدا کہنے لگا اور اس کا نام فقیری ودرویشی اور علم لدنی رکھ لیا گیا،یہی وہ کردار ہے جس نے تصوف جیسی اعلیٰ نعمت کے انکار پر نہ جانے کتنوں کو مجبور کر دیا اور صوفیہ واولیاے کرام کا گستاخ بنا ڈالا۔
(۲)اسی وحدۃ الوجود سے یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا کہ کسی بھی چیز میں شرارت اور نقص ذاتی نہیں ہے اگر ہے تو نسبی واضافی ہے،زہر قاتل انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے شرارت ہے کیونکہ حیات کو زائل کر دیتا ہے اور اسی حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے جس میں زہر پیدا کیا گیا ہے آب حیات اور تریا ق نافع۔
(۳)حضرت مجدد قدس سرہ پر بھی ایک وقت ایسا آیا تھا کہ جب آپ پر یہی توحید منکشف ہوئی تھی اور آپ مغلوب تھے یہاں تک کہ غلبۂ حال میں آپ کی زبان مبارک سے یہ شعر نکل جاتا تھا؎
اے دریغا! کہ ایں شریعت ملت اعمائی است
ملت ما کافری وملت ترسائی است
کفر وایماں زلف روئے آں پری زیبائی است
کفر وایماں ہردو اندر راہ ما یکتائی است
ترجمہ: ہاے افسوس کہ یہ شریعت اندھوں کا مذہب ہے۔ میرا مذہب تو کافروں و مجوسیوں کا ہے۔ کفر اور ایمان سب اس پری پیکر کی زلفوں کا تماشہ ہے۔ میرے راستے میں تو کفر و ایمان سب ایک ہی ہیں۔’’
اسی توحید کے انکشاف اور ورود کے وقت بزرگوں سے جو صادر ہوا آج کے شاعروں اور قوالوں نے اسے سند بنا کر خوب خوب جی بھر کر کفریات بکے،جگہ جگہ سننے میں آتا ہے کہ کہتے ہیں،میاں ہم دیر وحرم کے جھگڑوں میں نہیں پڑتے ہما را مذہب تو عشق ہے،سب خدا کے بندے ہیں،کوئی کسی روپ میں،کوئی کسی روپ میں،اس
طرح کی باتیں ایک دو نہیں بلکہ آئے دن سننے کو ملا کرتی ہیں،بلکہ اب تو کفر وایمان کو مولویوں کا جھگڑا کہا جانے لگا اور اسی سے کافروں کے ساتھ محبت والفت کی راہیں نکالی گئیں۔
نرے جا ہلوں اور نا اہلوں کو تو اب ہر ایک میں تجلیاں نظر آنے لگیں،حتیٰ کہ کا فروں کو مرید کرتے ہیں،اور پھر انھیں ان کے بتوں کی پوجا کا حکم دیتے ہیں،الغرض بزرگوں سے تو غلبۂ حال میں صادر ہوا جو کچھ ہوا مگر یہاں کچھ نہیں صرف اپنا پیٹ بھرنے کے لیے سب کچھ ہو رہا ہے مگر سند ان بزرگوں کو بنایا جا رہا ہے۔
(۴)اسی وحدۃ الوجود سے احاطہ وسریان اور قرب ومعیت ذاتیہ کا عقیدہ پیدا ہوا یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واللہ من ورآئکم محیط اور الآ انہ بکل شئ محیط سے جو احاطہ سمجھ میں آتا ہے وہ ذاتی ہے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے سب کو محیط ہے،سریان سے مراد یہ بتا ئی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قلب مومن میں گنجائش ہونا،یہ اصل میں حدیث قدسی لا یسعنی ارض ولا سماء ولٰکن یسعنی قلب عبدی المومن سے لیا گیا ہے اور قرب نحن اقرب الیہ من حبل الورید سے لیا گیا ہے معیت وہو معکم اینما کنتم سے لی گئی الغرض صوفیہ وجودیہ ہر ایک کے ذاتی ہونے کے قائل ہیں۔
اس طرح کی ایک دو چیزیں نہیں بلکہ سیکڑوں چیزیں ہیں جو وحدۃ الوجود سے پیدا ہوئیں اور بعد کے لوگوں نے تو اس حد پر پہنچا دیا کہ الحاد وزندقہ تک نوبت پہنچ گئی جیسا کہ آپ پڑھیں گے،یہ میں نے نمونہ کے طور پر ذکر کردیے،کچھ آگے آئیں گے،حضرت مجدد قدس سرہ پر اس توحید کا انکشاف ہوا اور اس قدر ہوا کہ آپ فرماتے ہیں:
‘‘در اندک مدت توحید وجودی منکشف گشت وغلوے دریں کشف پیدا شد علوم
ومعارف ایں مقام فراواں ظاہر گشتند وکم دقیقہ از دقائق ایں مرتبہ ماندہ با شد کہ آنرا منکشف نہ گردانیدند۔’’
یعنی طریقۂ نقشبندیہ میں مشغولی کے بعد تھوڑی مدت میں توحید وجودی منکشف ہوئی اور اس کشف میں غلو پیدا ہوا اس مقام کے علوم ومعارف کثرت سے ظاہر ہوئے اور اس مرتبہ کی با ریکیوں سے کم ہی با ریکی ہو گی جس کو منکشف نہ کیا ہو۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ پر جو کچھ اس توحید کے دقائق وحقائق منکشف ہوئے تھے وہ سب آپ کو حاصل ہوئے بلکہ اس سے بھی زیادہ،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘شیخ محی الدین ابن عربی کے دقائق ومعارف کما ینبغی ظاہر ہوئے اور تجلیِ ذاتی کہ صاحب فصوص نے اس کو بیان فرمایا ہے اور اس کے علاوہ عروج کی انتہا نہیں جانتے ہیں اور اس تجلی کی شان میں کہتے ہیں وما بعد ہٰذا الا العدم المحض اس تجلیِ ذاتی سے مشرف ہوا اور اس تجلی کے علوم ومعارف بھی تفصیل کے ساتھ معلوم ہوئے جس کو شیخ خاتم الولایۃ کے ساتھ مخصوص جانتے ہیں۔’’(مکتوب ۳۱ جلد ۱)
مکتوب ۱ جلد دوم میں آپ فرماتے ہیں:
‘‘مع ذٰلک دقائق کثیرہ دریں مسئلہ مختفی ماندہ است واسرار غامضہ دریں باب بر منصۂ ظہور نیامدہ کہ فقیر با ظہار آں توفیق یا فتہ است و بتحریر آں مبشر گشتہ۔’’ یعنی اس کے ساتھ اس مسئلہ میں بہت سے دقائق پوشیدہ رہے ہیں اور اس باب میں اسرار غامضہ میدان ظہور میں نہیں آئے کہ فقیر نے ان کے اظہار کی تو فیق پائی اور ان کے تحریر کی بشارت دیا گیا ہے۔
آپ کے مکتوبات قدسی آیات کا جس نے غائر نظر سے مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ کیسی کیسی کٹھن بحثیں اور دقیق امور آپ نے وحدۃ الوجود کے سلسلے میں بیان
فرمائے، اس کے اقسام اور اس کے اسباب نہایت شرح وبسط کے ساتھ آغوش تحریر میں آئے،اور جو کچھ قابل اظہار نہ تھا اسے سینے میں لے کر گئے وہ تو آپ ہی جانتے ہیں۔
آپ کی مجددانہ بصیرت ہمیشہ برائیوں کے چشموں پر رہتی ہے کہ یہ کہاں سے پھوٹ رہی ہیں،ہوس نفس کا شکار کہاں سے حظوظ نفسانیہ کی تحصیل کر رہا ہے،اللہ تعالیٰ کو آپ سے یہ ایک اہم کام لینا تھا اسی لیے آپ پر اس منزل سے آگے بھی ایک دوسری منزل بھی منکشف فرمادی جو شریعت کے عین مطابق تھی اور جس سے وہ تمام سوتے بند ہو رہے تھے جن کے نتیجے میں صوفیہ عام طور پر بگڑ رہے تھے۔
وحدۃ الشہود:
اس توحید وجودی کے بعد آپ پر جس توحید کا انکشاف ہوا اسے آپ نے وحدۃ الشہود کے نام سے تعبیر فرمایا۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘وہ توحید جو اس بلند گروہ (صوفیہ) کو درمیان راہ حا صل ہوتی ہے دو قسم پر ہے(۱)توحید وجودی(۲)توحید شہودی،توحید شہودی ایک کو دیکھنا ہے یعنی سالک کا شہود ایک کے علاوہ نہ ہو اور توحید وجودی ایک کو موجود جاننا ہے اور اس ایک کے علاوہ کو معدوم معلوم کرنا اور اس کی جلوہ گاہوں اور مظاہر کی عدمیت کے با وجود ایک جاننا،تو توحید وجودی علم الیقین کے قبیل سے ہوئی اور شہودی عین الیقین کی قسم سے،توحید شہودی اس راہ کی ضروریات سے ہے کیونکہ اس توحید کے بغیر فنا متحقق نہیں ہوتی ہے اور عین الیقین اس کے بغیر میسر نہیں ہوتا ہے، کیونکہ ایک کو دیکھنا اس کے غلبہ کی وجہ سے اس کے ما سوا کے نہ دیکھنے کو مستلزم ہے بخلاف توحید وجودی کہ وہ ایسی نہیں یعنی ضروری نہیں ہے کیونکہ اس معرفت کے بغیر علم الیقین حاصل ہے اس لیے کہ علم الیقین اس کے ما سوا کی نفی کو مستلزم نہیں ہے،زیادہ سے زیادہ اس ایک
کے علم کے غلبہ و استیلاء کے وقت اس کے ما سوا کے علم کی نفی کو مستلزم ہوگا۔
مثال کے طور پر ایک شخص نے سورج کے وجود کا یقین پیدا کر لیا تو اس یقین کا غلبہ اس کو مستلزم نہیں کہ ستاروں کو اس وقت میں منتفی اور معدوم جانے،لیکن جس وقت سورج کو دیکھے گا تو ستاروں کو نہیں دیکھے گا اور اس کے مشاہدہ میں سورج کے سوا نہ ہوگا ،اور اس وقت میں کہ ستاروں کو نہیں دیکھتا ہے جانتا ہے کہ ستارے معدوم نہیں ہیں بلکہ جانتا ہے کہ ہیں مگر پوشیدہ ہیں اور سورج کی روشنی کے پرتو میں مغلوب ہیں یہ شخص اس جماعت کے ساتھ مقام انکار میں ہے جو اس وقت میں ستاروں کے وجود کی نفی کر رہی ہے اور یہ جانتا ہے کہ یہ معرفت(ستاروں کے وجود کی نفی) واقع کے خلاف ہے۔
پس توحید وجودی کہ ایک ذات تعالیٰ وتقدس کے ما سوا کی نفی ہے عقل وشرع کے ساتھ(بظاہر)جنگ میں ہے بخلاف شہودی کہ ایک دیکھنے میں کوئی مخالفت نہیں ہے مثلا طلوع آفتاب کے وقت میں ستاروں کی نفی کرنا اور معدوم جاننا واقع کے مخالف ہے لیکن ستاروں کو اس وقت نہ دیکھنا ظہور نور آفتاب کے غلبہ اور دیکھنے والے کی نظر کی کمزوری کی وجہ سے ہے،اگر دیکھنے والے کی نظر اس آفتاب کے نور سے سرمگیں ہو جائے اور قوت پیدا کرلے تو ستاروں کو آفتاب سے جدا دیکھے گا اور یہ حق الیقین میں ہے۔’’(مکتوب۴۳ جلد اول)
یہ ہے وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کا اجمالی بیان جس سے آپ بخوبی دونوں کا فرق سمجھ گیے ہوں گے،آپ پڑھ چکے کہ حضرت مجدد قدس سرہ پہلے خود مشرب توحید وجودی رکھتے تھے،ایک مرتبہ شیخ صوفی سے میاں شیخ نظام تھانیسری کے مریدوں میں سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ حضرت مجدد وحدت وجود کا انکار کرتے ہیں ایک صاحب وہاں موجود تھے انھوں نے آکر حضرت مجدد سے سارا ما جرا کہہ سنایا اور عرض کیا کہ جو
حقیقت ہو آپ شیخ صوفی کو تحریر فرمادیں !آپ قدس سرہ شیخ صوفی کومکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
‘‘مخدوما! مکرما! اس فقیر کا معتقد بچپن سے مشرب اہل توحید کا حصہ تھا فقیر(حضرت مجدد قدس سرہ) کے والد قدس سرہ بظاہر اسی مشرب پر ہوئے ہیں اور بطریق دوام اسی طریقہ کے ساتھ اشتغال رکھتے تھے،باطن میں پوری نگرانی کے حصول کے باوجود کہ مرتبۂ بے کیفی کی جانب رکھتے تھے اور بحکم ابن الفقیہ نصف الفقیہ فقیر کو اس مشرب سے از روئے علم حظ وافر حاصل تھا اور لذت عظیم رکھتا تھا۔’’
اسی مکتوب میں کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں:‘‘مشرب توحید وجودی کے خلاف علوم ومعارف کے زمانے میں اس فقیر کو بہت بے چینی تھی کیونکہ اس توحید کے علاوہ کوئی دوسرا مرتبہ بلند تر نہیں جانتا تھا اور گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرتا تھا کہ یہ معرفت زائل نہ ہو یہاں تک کہ سارے حجابات مکمل طور پر از روئے کار زائل ہو گئے اور حقیقت کما ینبغی منکشف ہو گئی۔’’(مکتوب۳۱ جلد ۱)
توحید وجودی وشہودی کا انکشاف آپ قدس سرہ پر حضرت خواجہ با قی باللہ قدس سرہ کی خدمت اقدس میں پہنچنے کے بعد ہوا اور ایک دو دن نہیں بلکہ کئی سال یہی کیفیت رہی۔
اس تقریر سے اچھی طرح معلوم ہو گیا ہوگا کہ حضرت مجدد قدس سرہ پہلے کس قدر توحیدوجودی کو پسند کرتے تھے،سب سے بڑا مطلب یہی توحید تھی اسی کی تائید وتوثیق کرتے تھے ایک زمانہ گزرنے کے بعد توحید شہودی کا انکشاف ہوا اور دونوں کی کیفیت کما حقہ ظاہر ہوئی۔
ان تقریرات سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ وحدت وجود کے مقام میں جو چیزیں منکشف ہوتی ہیں وہ شان الوہیت سے کتنی دور ہیں،ذات الوہیت کے لائق وہ امور نہیں
اور نہ ہی ان میں تعظیم وتوقیر ہے پھر جو امور پیدا ہوئے اور جن پر منکشف ہوئے وہ تو معذور قرار دیے جا سکتے ہیں لیکن بعد کے لوگوں کے لیے ان کے نتائج کس قدر نقصان دہ تھے،کچھ آپ پڑھ چکے اور کچھ آگے پڑھیں گے۔
حقائق ممکنات عند الشیخ:
وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے سلسلے میں ایک بنیادی فرق اور بھی ذہن میں محفوظ رکھنے کا ہے وہ یہ کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کے نزدیک ممکنات کے حقائق صور علمیہ ہیں اور حضرت مجدد قدس سرہ کے نزدیک عدمات ممتزجہ،حضرت شیخ اور ان کے متبعین کے اقوال وارشادات کا خلاصہ جسے حضرت مرزا جانجاناں قدس سرہ نے حضرت جامی قدس سرہ کے حوالے سے بیان کیا یہ ہے:
‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے علم قدیم سے حقائق کلیہ وجزئیہ کو جانا اور کسی چیز کا علم علم میں اس کے وجود کو مستلزم ہے تو چاہیے کہ اشیا مکمل طور پر وجود علمی ازلی کے ساتھ موجود ہوں اسی لیے صوفیہ اعیان ثابتہ فی العلم کے قائل ہیں اور مرتبۂ علم میں کہ جسے ان کی اصطلاح میں باطن وجود کہا جاتا ہے چونکہ زمانہ کے اعتبار سے تقدم وتاخر ہے پس چاہیے کہ وجود علمی وجود خارجی کا غیر ہو(بخلاف وجود خارجی کہ اس میں تقدم وتاخر بدیہی ہے) اور اس پر ایسا ہی مقدم ہو جیسے اصل کا فرع پر اور ذی ظل کا ظل پر۔
الغرض یہی علمی صورتیں حضرت شیخ کے نزدیک حقائق ممکنات ہیں پھر ان کے نزدیک ان اشیا کے وجود علمی سے وجود خارجی کے صدور کی کیفیت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ صور علمیہ میں سے کسی صورت کو خارج میں موجود کرے(خارج میں وجود کو وجود منبسط کہتے ہیں اور صوفیہ کے نزدیک اسے ظاہر وجود بھی کہا جاتا ہے) اور اس صورت سے جو آثار مطلوب ہیں ان کو اس صورت سے ظہور میں لائے تو اس صورت اور اس وجود کے نور کے درمیان ایسی کیفیت پیدا فرماتا ہے جو معلوم
الذہنیت اور مجہول الکیفیت ہوتی ہے اور وجود منبسط کے آئینہ کو اس صورت کے عکس کے ظل سے منصبغ کرتا ہے اس طور پر کہ وہ انصباغ اطلاق وجود کو ختم نہ کرے،جس طرح آئینہ دیکھنے والے کا عکس آئینہ کے مقابلہ کے وقت آئینہ میں پیدا ہو جاتا ہے اور آئینہ کا نور اس سے ختم نہیں ہوتا ہے۔’’
(پھر چند سطر بعد فرماتے ہیں) مولانا جا می مراتب ستہ میں فرماتے ہیں:‘‘اگر وجود کو آئینہ پر قیاس کریں تو اس میں صور علمیہ کے آثار واحکام ظاہر ہوں گے بعینہ وہ صورتیں نہیں، لانّ الاعیان الثابتۃ فی العلم ما شمت رائحۃ الوجود فی الخارج اور اگر علمی صورتوں کو آئینہ قرار دیں تو اس میں حضرت وجود کے اسما وصفات وشیونات کی تجلیاں ظاہر ہوں گی نہ کہ بعینہ وجود جیسا کہ دنیا کے آئینہ کی شان ہے اور خزانۂ علم صفحۂ منقوش کے مثل ہے اور وجود منبسط اس کے مقابل منجھے ہوئے آئینہ کی طرح،نہ کوئی نقش اس صفحہ کا نکلا اور نہ کوئی صورت آئینہ وجود میں آئی،کیونکہ صورت علمیہ کا خروج مرتبہ علم سے جہل کو مستلزم ہے اور دخول صورت آئینہ وجود میں قدیم کے ساتھ حادث کے قیام کو واجب کرتا ہے اور یہ دونوں محال ہیں۔
پس باطن وجود اور ظاہر وجود کے درمیان دونوں جانبوں سے آثار واحکام کا منعکس ہونا ایک طلسم ہے قائم جس کی تعبیر قوم کی اصطلاح میں مرتبۂ وہم اور دائرۂ امکان سے کی جاتی ہے جو کہ تین منزلات امکانیہ کو پانچ تنزلات مشہودہ یعنی تنزل روحی ومثالی وجسدی کو متضمن ہے جیسا کہ علم واجبی کا مرتبہ دو وجوبی تنزل کو متضمن ہے یعنی وحدت و احدیت،دونوں سے مراد باری تعالیٰ کا اپنے شیونات صفات کو اجمالا اور تفصیلا مرتبۂ علم میں ملا حظہ کرنا ہے۔
کہتے ہیں کہ خارج میں وجود واحد کے علاوہ کسی چیز کو تحقق اور ثبوت نہیں ہے اور جو کثرت دکھائی دیتی ہے وہ مرتبۂ وہم میں ثابت ہے اور حکمت بالغہ اس وہم کو
مضبوطی دے رہی ہے،ابدی آثار کی بنیاد اس پر رکھی،ایسا نہیں ہے کہ واہم کے ختم ہونے سے وہ وہم ختم ہوجائے قوم کی مراد وہم کے اطلاق سے اس مرتبہ پر یہ ہے کہ اس کثرت کی اس وجود واحد کے سوا کوئی دوسری حقیقت نہیں ہے،اس وجود منبسط کے آئینے میں کثرت کی تجلیات کے ساتھ متجلی ہوا ہے،تجلیات متکثرہ کے تعدد کا سبب شیونات ہیں کہ حضرت وجود میں مندمج ہو گئے ہیں اور مرتبۂ علم میں منفتح ایسے جیسے درخت کا انفتاح ہوتا ہے بیج سے(وہ شیونات) ممکنات کے حقائق ہو گئے ہیں اور ان حقائق کے عکوس وجود منبسط میں پڑے تو اس کا نام عالم پڑگیا اور چونکہ اشیا وجود وہمی کے علاوہ کوئی دوسری حقیقت نہیں رکھتی ہیں بلکہ وجود علمی کا عکس ہیں اور نفس الامر میں اس وجود علمی کے ساتھ اشیا موجود ہیں اور مرتبہ علم سے باہر نہیں آتی ہیں جیسا کہ ذکر ہوا۔
اور علم اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور صفات عین ذات ہیں صوفیہ وجودیہ کے گمان میں پس اس تقریر سے وجود اشیا عین وجود حق ہو گا جیسا کہ حضرت شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،ان شئت قلت حق اور ثابت ہو گیا کہ وجود واحد کے سوا خارج میں کوئی موجود نہیں ہے اسی کا نام وحدت وجود ہے یعنی ان حضرات کے مکشوف ومشہود میں رحمۃ اللہ علیہم۔’’