باب ۴۸ از ۵۷صفحات ۶۵۹–۶۷۶
اشکال
مذکورہ بالا تحقیق پر ایک نہایت کٹھن اعتراض پیدا ہوتا تھا وہ یہ کہ اس بیان
سے لازم آتا ہے کہ ذات وصفات تعالیٰ وتقدس کے مرتبہ میں وجوب ثابت نہ ہو کیونکہ ابھی بیان ہوچکا کہ وجوب اضافت ونسبت کا نام ہے جو فعل کے پہلے رخ جس کا تعلق فاعل سے ہے کے مناسب ہے،اس ذات وصفات باری تعالیٰ کو واجب نہیں کہنا چاہیے،پس حضرت ذات وصفات سے وجوب مسلوب ہوگا جیسا کہ امتناع وامکان بھی،ذات وصفات تعالیٰ سے مسلوب ہے،اس سے لازم آتا ہے کہ یہاں چوتھی قسم پیدا ہو وجوب وامکان وامتناع کے علاوہ،حالانکہ عقلی انحصار انھیں تینوں میں ثابت ہوا ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس اشکال کا بڑا علمی جواب دیا ہے اور مجددانہ بصیرت کے جوہر دکھائے ہیں،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ وجوب وامکان وامتناع میں انحصار ماہیت کے لیے اس کے وجود کی طرف نسبت کرتے ہوئے یعنی ماہیت کی نسبت وجوب کی طرف کریں گے تو یا تو واجب ہوگی یا ممکن یا ممتنع اور یہاں چونکہ ذات وصفات کا مرتبہ تمام نسبتوں،اضافتوں اور اعتبارات سے مبرا ہے اور خاص اس لیے واجب بھی نہیں کہیں گے۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘پس جس جگہ وجود کی طرف ماہیت کی نسبت نہیں ہوگی تو وہاں انحصار بھی نہیں ہوگا جیسا کہ ذات واجب تعالیٰ اور اس کی صفات میں ہے کیونکہ ذات تعالیٰ بذاتہٖ موجود ہے وجود سے نہیں،وجود خواہ عین یا زائد اور اس کی صفات موجود ہیں ذات سبحانہ کی وجہ سے بغیر اس کے کہ ان میں وجود خلل انداز ہو پس اس کی ذات اور اس کی صفات ان تین سے اوپر ہوں گی جو منحصر ہیں۔
بس یہ ہو سکتا ہے کہ باری تعالیٰ کی ذات کا جب تصور کیا جائے اور اس کی صفات کو وجوہ اور اعتبارات کے ساتھ لیا جائے کیونکہ کنہ کی طرف کوئی راہ نہیں،تو ذات سبحانہ کو وجود تصوری ظل میں وجوب عارضی ہو گا جیسا کہ وہ مناسب ہے اور لائق اس کے غنا اور
بے نیازی ہے اور باری تعالیٰ کے صفات کو وجود ذہنی میں امکان عارض ہوگا جیسا کہ ان کے مناسب ہے کیونکہ صفات ذات کی محتاج ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات فی حد انفسہما مرتبۂ وجوب وامکان سے اوپر بلکہ مرتبۂ وجود سے بھی اوپر اور باعتبار وجود تصور ظلی وجوب مناسب ہے ذات تعالیٰ کے اور امکان مناسب ہے صفات کے تعالت وتقدست،پس صفات تعالت وجود خارجی کے اعتبار سے نہ واجب ہیں نہ ممکن بلکہ وجوب اور امکان کے اوپر ہیں اور وجود ذہنی کے اعتبار سے ممکن اور اس امکان سے حدوث لازم نہیں آتا ہے کیونکہ امکان صفات ان کی ذاتوں کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ ممکنات کے لیے(امکان ان کی ذاتوں کی وجہ سے یعنی ذاتیں ممکن ہیں) بلکہ صفات کے وجودات ظلیہ کی وجہ سے۔
اس معرفت کے مناسب ہے جو ارباب عقول نے کہا ہے کہ کلیت اور جزئیت ماہیت کو عارض ہوتی ہیں وجود ذہنی کی خصوصیت کے اعتبار سے،پس ماہیت وجود خارجی کی حالت میں ان دونوں سے موصوف نہیں ہوگی تو مثلا زید جو خارج میں موجود ہے تعقل سے پہلے جزئی نہیں ہے جیسا کہ وہ کلی نہیں بلکہ اس کو جزئیت عارض ہوگی وجود ذہنی ظلی کے بعد بلکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام نسبتیں،اضافتیں اور احکام واعتبارات جو کہ باری تعالیٰ پر محمول کیے جاتے ہیں جیسے الوہیت،ربوبیت،اولیت اور ازلیت ان میں سے جو صفات ثمانیہ موجودہ کے غیر ہیں وہ سب باری تعالیٰ پر صادق آتی ہیں،تصور وتعقل کے اعتبار سے ورنہ ذات من حیث ھی نہ کسی صفت سے متصف ہے اور نہ کسی نام سے موسوم اور نہ کسی حکم سے محکوم۔
پس صاحب شرع تعالیٰ نے اپنی ذات پر اسما واحکام کا اطلاق کیا ہے تناسب وتشابہ کے اعتبار سے تاکہ مخلوقات کی فہموں سے قریب ہو جائیں،اور یہ مخلوقات کے ساتھ تکلم ان کی عقلوں کی مقدار سے ہے جیسے جو زید خارج میں موجود ہے اسے جزئی
کہہ دیا جائے تشبیہ وتنظیر کے طور پر اس کے وجود ذہنی کو ملاحظہ کیے بغیر اور ان کا زید کی جزئیت کا حکم لگانا زیادہ مناسب ہوگا اور بہت مشابہ ہوگا ان کے اس حکم سے کہ وہ کلی ہے پس اس طرح وجود و وجوب کا حکم لگانا اس ذات پر جو غنی وبلندہے اولیٰ وانسب ہے امکان وامتناع کے حکم سے ورنہ اس کی بارگاہ قدس تک نہ وجوب پہنچاتا ہے نہ وجود جیسا کہ اس کی پاک بارگاہ کے لائق امکان وامتناع نہیں۔’’
آپ قدس سرہ خود اس معرفت کی اہمیت کے بارے میں یوں تاکید کرتے ہیں:‘‘اس معرفت شریفہ قدسیہ کو اچھی طرح سمجھ لو! کیونکہ دین کی بنیاد اور علم ذات وصفات کا خلاصہ ہے،اس معرفت کے ساتھ نہ عظما میں سے کسی نے کلام کیا اور نہ کبرا سے،اللہ سبحانہ نے اس بندے کو اس معرفت کے ساتھ چن لیا۔’’(مکتوب ۳ جلد ۲)
انکار صفات کی وجہ:
جن صوفیہ کرام رحمۃ اللہ علیہم سے صفات کا انکار ہوا ان سے در حقیقت کشفی خطا واقع ہوئی،مکتوب ۲۸۶ جلد اول میں فرماتے ہیں:‘‘اس طائفہ سے بعض کی مخالفتوں سے وحدت وجود کا حکم ہے اور احاطہ وقرب ذاتی کا جیسا کہ اوپر گزرچکا اور اس طرح ان کا صفات سبعہ یا ثمانیہ کا انکار کرنا ہے،خارج میں ذات عز اسمہ پر وجود زائد کے ساتھ کیونکہ علماے اہل سنت صفات کو خارج میں موجود جانتے ہیں وجود زائد کے ساتھ،وجود ذات تعالیٰ پر ان کا نکار اس راہ سے پیدا ہوا ہے کہ کہ اس وقت میں ان کا مشہود ان صفات کے آئینے میں ذات تعالیٰ وتقدس ہے اور معلوم ہے کہ آئینہ، دیکھنے والے کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتا ہے اور اس پوشیدگی کے واسطہ سے ان کے عدم وجود فی الخارج کا حکم کردیا اور گمان کر لیا کہ اگر صفات موجود ہوتیں تو مشہود ہوتیں بحیث لا شہودَ لا وجودَ اور علما نے چونکہ وجود صفات کا حکم لگایا ہے اس وجہ سے ان پر طعنے کیے ہیں بلکہ کفر وبت پرستی کا حکم لگایا ہے،اعاذنا اللہ سبحانہ عن الجرأ ۃ فی الطعن۔’’
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘اگر ان کی اس مقام سے ترقی واقع ہوتی اور ان کا شہود اس پردہ سے نکل آتا اور آئینہ داری کا حکم ختم ہو جاتا تو صفات کو جدا دیکھتے اور ان کے انکار کا حکم نہ لگاتے اور ان کا کام اکابر علما کے طعن تک نہ کھنچتا۔’’
(۶)اب ہم پھر وحدت الوجود سے پیدا ہونے والے نتائج کا ذکر کرتے ہیں،آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کے لیے احاطہ وسریان وقرب ذاتی کے قائل ہیں، اسی وحدۃ الوجود سے احاطہ وسریان اور قرب ومعیت ذاتیہ کا عقیدہ پیدا ہوا یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَّ اللہُ مِنۡ وَّ رَآئِہِمۡ مُّحِیۡطٌ اور اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ سے جو احاطہ سمجھ میں آتا ہے وہ ذاتی ہے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے سب کو محیط ہے،سریان سے مراد یہ بتا ئی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قلب مومن میں گنجائش ہونا،یہ اصل میں حدیث قدسی لا یسعنی ارض ولا سماء ولٰکن یسعنی قلب عبدی المومن سے لیا گیا ہے اور قرب نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیۡہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیۡدِ سے لیا گیا ہے معیت وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ سے لی گئی الغرض صوفیہ وجودیہ ہر ایک کے ذاتی ہونے کے قائل ہیں۔
اس طرح کی ایک دو چیزیں نہیں بلکہ سیکڑوں چیزیں ہیں جو وحدۃ الوجود سے پیدا ہوئیں اور بعد کے لوگوں نے تو اس حد پر پہنچا دیا کہ الحاد وزندقہ تک نوبت پہنچ گئی جیسا کہ آپ پڑھیں گے،یہ میں نے نمونہ کے طور پر ذکر کردیے،کچھ آگے آئیں گے،حضرت مجدد قدس سرہ پر اس توحید کا انکشاف ہوا اور اس قدر ہوا کہ آپ فرماتے ہیں:
‘‘در اندک مدت توحید وجودی منکشف گشت وغلوے دریں کشف پیدا شد علوم ومعارف ایں مقام فراواں ظاہر گشتند وکم دقیقہ از دقائق ایں مرتبہ ماندہ با شد کہ آنرا منکشف نہ گردانیدند۔’’ یعنی طریقۂ نقشبندیہ میں مشغولی کے بعد تھوڑی مدت میں
توحید وجودی منکشف ہوئی اور اس کشف میں غلو پیدا ہوا اس مقام کے علوم ومعارف کثرت سے ظاہر ہوئے اور اس مرتبہ کی با ریکیوں سے کم ہی با ریکی ہو گی جس کو منکشف نہ کیا ہو۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ پر جو کچھ اس توحید کے دقائق وحقائق منکشف ہوئے تھے وہ سب آپ کو حاصل ہوئے بلکہ اس سے بھی زیادہ،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘شیخ محی الدین ابن عربی کے دقائق ومعارف کما ینبغی ظاہر ہوئے اور تجلیِ ذاتی کہ صاحب فصوص نے اس کو بیان فرمایا ہے اور اس کے علاوہ عروج کی انتہا نہیں جانتے ہیں اور اس تجلی کی شان میں کہتے ہیں وما بعد ہٰذا الا العدم المحض اس تجلیِ ذاتی سے مشرف ہوا اور اس تجلی کے علوم ومعارف بھی تفصیل کے ساتھ معلوم ہوئے جس کو شیخ خاتم الولایۃ کے ساتھ مخصوص جانتے ہیں۔’’(مکتوب ۳۱ جلد ۱)
مکتوب ۱ جلد دوم میں آپ فرماتے ہیں:
‘‘مع ذٰلک دقائق کثیرہ دریں مسئلہ مختفی ماندہ است واسرار غامضہ دریں باب بر منصۂ ظہور نیامدہ کہ فقیر با ظہار آں توفیق یا فتہ است و بتحریر آں مبشر گشتہ۔’’ یعنی اس کے ساتھ اس مسئلہ میں بہت سے دقائق پوشیدہ رہے ہیں اور اس باب میں اسرار غامضہ میدان ظہور میں نہیں آئے کہ فقیر نے ان کے اظہار کی تو فیق پائی اور ان کے تحریر کی بشارت دیا گیا ہے۔
آپ کے مکتوبات قدسی آیات کا جس نے غائر نظر سے مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ کیسی کیسی کٹھن بحثیں اور دقیق امور آپ نے وحدۃ الوجود کے سلسلے میں بیان فرمائے اس کے اقسام اور اس کے اسباب نہایت شرح وبسط کے ساتھ آغوش تحریر میں آئے، اور جو کچھ قابل اظہار نہ تھا اسے سینے میں لے کر گئے وہ تو آپ ہی جانتے
آپ کی مجددانہ بصیرت ہمیشہ برائیوں کے چشموں پر رہتی ہے کہ یہ کہاں سے پھوٹ رہی ہیں،ہوس نفس کا شکار کہاں سے حظوظ نفسانیہ کی تحصیل کر رہا ہے،اللہ تعالیٰ کو آپ سے یہ ایک اہم کام لینا تھا اسی لیے آپ پر اس منزل سے آگے بھی ایک دوسری منزل بھی منکشف فرمادی جو شریعت کے عین مطابق تھی اور جس سے وہ تمام سوتے بند ہو رہے تھے جن کے نتیجے میں صوفیہ عام طور پر بگڑ رہے تھے۔
حضرت مجدد قدس سرہ اپنا وہ وقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جبکہ وحدۃ الوجود کے دریچے کھلے ہوئے تھے اور اس سلسلے میں آپ کہاں تک پہنچ گئے تھے پھر اللہ تعالیٰ کی عنایت بے غایت نے کیسے دستگیری فرمائی،فرماتے ہیں:
‘‘ناگاہ اللہ تعالیٰ کی عنایت بے غایت دریچۂ غیب سے عرصۂ ظہور میں آئی اور بے چونی وبے چگونی کے روپوش پردہ کو ہٹایا،علوم سابق جو کہ اتحاد اور وحدۃ الوجود کی خبر دیتے تھے زائل ہونے لگے اور احاطہ وسریان وقرب ومعیت ذاتیہ کہ اس مقام میں منکشف ہوئی تھیں پا شیدہ ہو گئیں اور کامل یقین سے معلوم ہا گیا کہ صانع عالم جل شانہ کے ساتھ ان مذکورہ نسبتوں سے کچھ ثابت نہیں ہے،حق تعالیٰ کا احاطہ وقرب علمی ہے جیسا کہ اہل حق کے نزدیک ثابت ہے شکر اللہ تعالیٰ سعیہم اور وہ سبحانہ کسی چیز کے ساتھ متحد نہیں ہے،اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہے اور عالم عالم ہے،وہ سبحانہ بے چون وبے چگونہ ہے اور عالم سراسر چونی وچگونی کے داغ سے داغدار ہے،بے چون کو عین چون نہیں کہا جا سکتا ہے،واجب تعالیٰ کو عین ممکن نہیں کہا جا سکتا ہے،قدیم ہر گز عین حادث نہیں ہو سکتا ہے،ممتنع العدم عین جائز العدم نہیں ہو سکتا ہے،انقلاب حقائق محال ہے عقلا اور شرعا ایک کا دوسرے پر حمل اصلا ورأسا ممتنع ہے۔
تعجب ہے کہ شیخ محی الدین اور ان کے متبعین ذات واجب تعالیٰ کو مجہول مطلق
کہتے ہیں اور کسی بھی حکم کے ساتھ محکوم علیہ نہیں جانتے اس کے با وجود احاطۂ زاتی وقرب معیت ذاتیہ ثابت کرتے ہیں۔وما ہو الا حکم علیٰ الذات تعالیٰ وتقدس فالصواب ما قالہ العلماء من اہل السنۃ من القرب العلمی والاحاطۃ العلمیۃ۔’’(مکتوب ۳۱ جلد ۱)
عالم وصانع عالم کا تعلق:
عالم اور اس کے صانع کے درمیان کیا تعلق ہے،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ عالم ہر چند کمالات صفاتی کے آئینے ہیں اور اسماے ظہورات کی جلوہ گری کی جگہیں لیکن مظہر عین ظاہر نہیں ہے اور نہ ظل عین اصل جیسا کہ اہل توحید وجودی کا مذہب ہے(یعنی وہ عین مانتے ہیں) یہ بحث ایک مثال سے واضح ہوتی ہے مثلا عالم صاحب فنون نے چاہا کہ اپنے گونا گوں کمالات کو میدان ظہور میں جلوہ دے اور اپنے پسندیدہ مخفی امور کو وضا حت کے محل میں لائے تو اس نے حروف اور آوازوں کو ایجاد کیا اور ان حروف واصوات کے آئینوں میں ان پوشیدہ کمالات کو ظاہر کیا،اس صورت میں نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ حروف واصوات جو کہ ان کمالات مخفیہ کے آئینے ہوتے ہیں،ان کمالات کا عین ہیں یا ان کمالات کو بالذات محیط ہیں یا بالذات ان سے قریب ہیں یا ذاتی معیت رکھتے ہیں بلکہ ان کے درمیان دال اور مدلول ہونے کی نسبت ہے،حروف واصوات ان کمالات پر دوال(دلالت کرنے والے)سے زیادہ نہیں ہیں اور وہ کمالات اپنی صرافت اطلاق(خالص بےقیدی) پر ہیں وہ نسبتیں کہ پیدا ہو گئی ہیں از روئے اوہام وخیالات ہیں حقیقت میں ان نسبتوں سے کوئی ثابت نہیں ہے۔
لیکن چونکہ ان کمالات اور ان حروف واصوات کے درمیان ظاہریت ومظہریت اور مدلولیت وادلیت کی منا سبت متحقق ہے یہی منا سبت بعض کے لیے بعض عوارض کے واسطہ سے ان وہمی نسبتوں کے حصول کا باعث ہوجاتی ہے اور نفس الامر ان تمام
مسئلہ زیر بحث میں بھی ادلیت ومدلولیت اور ظاہریت و مظہریت کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ہے،عالم اپنے صانع عز وجل کے وجود پر علامت ہے اور اس سبحانہ کے اسمائی وصفاتی کمالات کے ظہور کا مظہر ہے اور یہی تعلق بعض کو بعض عوارض کے سبب بعض احکام وہمیہ کا باعث ہو جاتا ہے،بعض کو مراقبات توحید کی کثرت ان احکام پر لاتی ہے کہ ان مراقبات کی صورت خیالی قوت میں نقش باندھتی ہے اور بعض کو علم توحید اور ان کی تکرار ایک قسم کا ذوق ان احکام کا بخشتی ہے اور یہ دونوں توحید کی صورتیں ضعیف ہیں اور دائرۂ علم میں داخل ہیں،حال سے کوئی کام نہیں رکھتے ہیں اور بعض دوسروں کو ان احکام کا منشأ غلبۂ محبت ہے کہ حب محبوب کے غلبہ کے واسطے سے غیر محبوب نظر محب سے اٹھ جاتا ہے اور محبوب کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ہے نہ یہ کہ نفس الامر میں غیر محبوب کچھ نہیں ہے کیونکہ یہ حس وعقل وشرع کے خلاف ہے اور کبھی یہی محبت احاطہ وقرب ذاتی کے حکم کا باعث ہوجاتی ہے،توحید کی یہ قسم پہلی دو قسموں سے اعلیٰ اور دائرۂ حال میں داخل ہے ہر چند نفس الامر کے مطابق اور شریعت کے موافق نہیں ہے۔
(۷)بعض صوفیہ کرام نے اسی وحدہ الوجود سے مظا ہر جمیلہ ونغمات مستحسنہ وغیرہ سے دل بستگی کو حسن قرار دیا اور دلیل یہ دی کہ ان مظا ہر میں حسن وجمال حضرت واجب الوجود تعالیٰ وتقدس کے کمالات سے مستعار ہے ان مظاہر میں ظاہر ہوا ہے،بعض حضرات نے اس دنیوی حسن وجمال کے ساتھ گرفتاری کو صرف حسن ہی نہیں جانا بلکہ اس کو راہ وصول تصور کر لیا،کچھ کوگوں نے تو یہاں تک جرأت کی کہ اکابر کے قول:‘‘ایاکم والمرد فانّ فیہم لوناً کلون اللہ’’ اپنے آپ کو بے ریش لڑکوں سے بچاؤ کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ کے رنگ کی طرح رنگ ہے۔ سے اپنے باطل مدعا پر سند
ہوس نفس کے شکار بعض صوفیہ خام نے اس سے نو عمر لڑکوں،لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ عشق ومحبت،انھیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کا خوب جواز تلاش کیا اور اس حرام کو پھیلانے کے لیے ان بزرگوں کا سہارا لیا یہ بلا دھیرے دھیرے اتنی عام ہوئی اور پھر محرمات کو حلال کرنے کی خوب راہ پیدا کر لی۔
آج غلط صوفیوں کو دیکھیے عام طور پر مرید عورتوں اور لڑکیوں سے پیر دبواتے ہیں، بے حجاب ملتے ہیں،ان کے سرود اور نغموں کی محفلوں میں عورتوں کے مجمعے ہوتے ہیں،قوالیوں میں حسن وعشق پر مشتمل غزلیں سنتے ہیں اور جھومتے ہیں اور جو انھیں ناجائز کہتے ہیں انھیں خشک ملا تصور کرتے ہیں۔
ہاے افسوس! آپ دیکھ رہے ہیں دین نبوی کے ساتھ کیسا کھیل کھیلا گیا اور کس طرح ان تمام چیزوں کو دیکھنا حلال کر لیا گیا،جو دینی زندگی کے لیے زہر قاتل،جن سے گرفتاری اور لگاؤ سب سے زیادہ مضر اور نقصان دہ،آج اسلام کی تباہی سب سے زیادہ جن چیزوں سے ہے انھیں کو ان خامکاروں نے عین دین تصور کر لیا،نصوص کو بالائے طاق رکھا اس کے ساتھ ساتھ زمانے کی نزاکت کو بھی نظر میں نہ رکھا۔
اب آپ اس سلسلے میں مجددی معارف کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ تجدید الف ثانی نے دنیا کو کیا کیا دیا آپ حضرت مجدد قدس سرہ کی اس تقریر کو جو حقائق ممکنات کے سلسلہ میں سپرد قلم ہوئی ذہن میں رکھیں اور پھر درج ذیل کا مطالعہ فرمائیں!
‘‘پس ثابت ہو گیا کہ ممکنات کے اصول وذوات عدمات ہیں اور ان کے صفات نقائص ورذائل ان عدمات کے مقتضیات ہیں کہ قادر مختار جل سلطانہ کی ایجاد سے وجود میں آئے ہیں،اور ان ممکنات میں صفات کاملہ کمالات حضرت وجود کے ظلال سے مستعار ہیں کہ بطریق انعکاس ظہور پاکر قادر مختار جل جلالہ کی ایجاد سے یہ بھی موجود ہو
اشیا کے حسن وقبح کا مصداق یہ ہے کہ جو آخرت کی طرف رخ رکھتی ہے اور آخرت کے لیے وسیلہ اور ذریعہ ہے وہ حسن ہے اگر چہ بظاہر بھلی نہ لگے اور جس کا رخ دنیا کی طرف ہے اور دنیا کے واسطے ذریعہ و وسیلہ ہے وہ قبیح ہے اگر چہ بظاہر حسَن معلوم ہو اور شیریں وتازہ ظاہر ہو جیسے دنیا کی مزخرفات۔
یہی وجہ ہے کہ شریعت مصطفویہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام میں بے ریش لڑکوں،اجنبی عورتوں اور گھٹیا مزخرفات کی خواہش ومیل کی طرف نظر کرنا منع فرمایا گیا کیونکہ یہ حسن وتازگی عدم مقتضیات سے ہے جو کہ ہر شر وفساد کا محل ہے اگر اس حسن وجمال کا منشأ کمالات وجودیہ ہوتے تو منع نہیں فرماتے مگر اس وجہ کہ ظل کی طرف توجہ کرنا قبیح ہے اور یہ منع منع استحسانی ہوتا نہ کہ وجوبی منع سابق کے بر خلاف۔
تو جو حسن دنیوی مظاہر جمیلہ میں ظاہر وروشن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حسن کے ظلال سے نہیں بلکہ عدم کے لوازم سے ہے کہ حسن کی مجاورت اور قرب کی وجہ سے ظاہر میں حسن پیدا کر لیا ہے اور در حقیقت قبیح وناقص ہے جیسے زہر کو شکر کے غلاف میں لپیٹ لیں اور نجاست پر سونے کا پانی چڑھا لیں۔
یہاں پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ خوبصورت منکوحہ عورتوں اور باندیوں سے نفعات و تمتعات کی تحصیل جائز ہے جب ان کی پوزیشن مذکورہ بالا ہےتو یہ تمتعات کیوں جائز ہیں؟
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ تمتعات کا جواز مذکورہ عورتوں سے تحصیل اولاد اور بقاء نسل کی وجہ سے ہے کیونکہ اسی سے نظام عالم کی بقا ہے۔
بعض اکابر کے مذکورہ بالا قول سے جو خامکاروں نے استدلال کیا تھا اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:‘‘ایاکم و المرد فان فیہم لونا کلون اللہ’’ میں کلمہ‘‘کلون
اللہ’’ نے ان کو اشتباہ میں ڈال دیا اور انھوں نے یہ نہیں جانا کہ یہ قول ان کے مطلب کے منافی ہے اور اس درویش کی معرفت کا مؤید کیونکہ کلمۂ تحذیر(ایاکم والمرد)لاکر ان کی جانب توجہ سے منع کیا اور غلطی کا منشأ بیان کیا کہ ان کا حسن حق کے حسن کے مشابہ ہے نہ کہ حق کا حسن ہے(یعنی ان میں جو حسن ہے وہ بعینہٖ حق کا حسن و جمال نہیں ہے بلکہ اس کے مشابہ ہے)تاکہ غلطی میں نہ پڑیں۔
سرور کونین ﷺ نے فرمایا:‘‘ماالدنیا والاٰ خرۃ الا ضرتان ان رضیت احدٰ ہما سخطت الاخریٰ’’ یعنی دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی سوتن ہیں اگر ان میں ایک خوش ہے تو دوسری ناراض، اس حدیث پاک میں تصریح ہے کہ دنیوی اور اخروی حسن و جمال کے درمیان مخالفت و مباینت ہے اور ثابت ہے کہ دنیوہ حسن غیر پسندیدہ اور اخروی حسن پسندیدہ ہے،پس دنیوی حسن کو شر لازم ہوگی اور حسن اخروی کو خیر تو لا محالہ اول کا منشأ عدم ہوگا اور دوم کا وجود۔
ہاں! بعض اشیاء ہیں کہ ان کا ایک رخ دنیا کی طرف اور دوسرا آخرت کی جانب ہے یہ اشیا اول وجہ کے اعتبار سے قبیح ہیں اور دوسری وجہ کے اعتبار سے حسن،ان دونوں وجہوں کے درمیان اور ان میں سے ہر ایک کے حسن و قبح کے درمیان امتیاز علم شریعت کے سپرد ہے،الل تعالیٰ فرماتا ہے:
‘‘وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا’’ یعنی رسول تمہیں جو حکم دیں تو اسے لے لو اور جس سے روکیں تو اس سے رک جاؤ۔
خبر میں آیا ہے کہ جب سے دنیا پیدا کی ہے حق تعالیٰ نے اس پر نظر نہیں کی ہے اور وہ حق تعالیٰ کی مبغوض ہے،یہ سب کچھ اس کا قبح و شرارت و فساد ہے جو عدم کے مقتضیات سے ہے کہ ہر شر و فساد کا محل ہے۔ دنیوی حسن و جمال اور اس کی چاشنی و تازگی راہ میں افتادہ چیز کی مانند ہے (یعنی کالعدم ہے) اور منظور نظر نہیں ہے، جمال
آخرت ہے کہ لائق نظر ہے و مرضی حق ہے (پھر کچھ دعائیں مانگ کر) دو سطر بعد فرماتے ہیں:
اور چوں کہ شیخ اجل شیخ محی الدین ابن العربی نے ان کے شرارت و نقص و فساد کی حقیقت پر نظر نہیں ڈالی ہے اس لیے حقائق ممکنات کو حق تعالیٰ کی علمی صورتیں قرار دے دیا کہ ان صورتوں نے حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کہ خارج میں اس کے علاوہ موجود نہیں جانتے ہیں کے آئینے میں انعکاس پیدا کر کے نمود خارجی کر لیا ہے اور ان علمی صورتوں کو شیون و صفات واجبی کی صورتوں کے علاوہ نہیں جانا ہے، لامحالہ وحدت الوجود کا حکم لگایا اور وجود ممکنات کو عین وجود واجب کہہ دیا ہے تعالیٰ و تقدس۔
اور شر و نقص کو نسبتی قرار دے کر شرارت مطلق و نقص محض کی نفی کی ہے یہی وجہ ہے اس جگہ سے ہے کہ کسی چیز میں کوئی قبح بالذات نہیں جانتے ہیں حتیّٰ کہ کفر و ضلالت کو ایمان و ہدایت کی بنسبت برا جانتے ہیں خود ان کی ذات کے لحاظ سے برا نہیں جانتے کہ ان کو عین خیر و صلاح سمجھتے ہیں اور ان کے اپنے ارباب کی طرف نسبت کرتے ہوئے ان کے لیے درستگی و استقامت کا حکم کرتے ہیں اور آیت کریمہ:
مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ اِلَّا ہُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ
کو اپنے اس دعوے پر بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔
یہ وہ احمدی حقائق و معارف ہیں جن کے بارے میں خود حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: اے فرزند! یہ علوم و معارف کہ اہل اللہ میں سے کسی نے ان سے گفتگو نہیں فرمائی، نہ صراحتاً نہ اشارتاً، اشرف معارف سے ہیں اور اکمل علوم سے ہیں کہ ہزار سال بعد میدان ظہور میں آئے ہیں، اور حقیقت واجب تعالیٰ و تقدس و حقائق ممکنات جس طرح لائق ممکن ہیں، بیان فرمائے ہیں۔ نہ کتاب و سنت سے مخالفت رکھتے ہیں، نہ اہل حق کے اقوال سے مباینت۔
ہو سکتا ہے کہ یہ دعائے نبوی ﷺ گویا تعلیم و امت کے واسطے فرمائی گئی ہے: ‘‘اللھم ارنا حقائق الاشیاء کما ھی’’ اس سے یہی حقائق مراد ہیں کہ ان علوم کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں، اور مقام عبدیت کے مناسب ہیں، اور نقص و ذل و انکسار پر کہ حال بندگی کے مناسب ہیں، دلالت رکھتے ہیں۔
آپ نے صوفیہ کرام کے تھوڑے اقوال و مکشوفات پڑھے، اسی سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ بزرگوں سے کشفی غلطیاں زیادہ تر اسی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں کہ ان پر اصل ظل کے ساتھ مشتبہ ہو گئی، اور وہ ظلال کو اصول تصور کر بیٹھے،وہ معذور تھے لیکن ان کے معارف سے مقلدین پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور کیسے کیسے بد عملی و ضلالت کے دہانے پھوٹے یہ معمولی علم والا بھی جانتا ہے، پھر ان چیزوں نے عام امت میں نظریہ کی شکل اختیار کر لی اور نہایت اعتماد کی نظر سے دیکھا گیا اور اس پر اطمینان قلب و سکون کی بنیاد رکھی گئی، کیوں کہ یہ ان کی طرف منسوب تھے، جن کی خدا رسید گی پر اعتماد و ایقان حاصل تھا اور گویا کہ دھیرے دھیرے اجماع سا ہو گیا تھا، ایسے عالم میں جیسے مجدد کی ضرورت تھی حضرت مجدد قدس سرہ خود فرماتے ہیں: ‘‘اے فرزند! یہ وہ وقت ہے کہ پہلی امتوں میں اولو العزم پیغمبر مبعوث ہوتا تھا اور شریعت جدیدہ کو زندہ کرتا تھا، اس امت میں کہ خیر الامم ہے، اور ان کے پیغمبر خاتم الرسل ﷺ نے علماء کو انبیا کا مرتبہ دیا، اور وجود علما ء کے ذریعہ وجود انبیاء سے کفایت فرئی ہے، لہٰذا ہر صدی پر اس امت کے علماء سے کسی مجدد کا تعین ہوتا ہے کہ احیائے شریعت فرمائے، خاص کر ایک ہزار سال گزرنے پر کہ امم سابقہ میں پیغمبر اولوالعزم کی بعثت کا وقت ہے، اور ہر پیغمبر پر اس وقت میں اکتفا نہیں کیا ہے، اس دور میں وہ وقت ہے کہ عالم عارف تام المعرفت درکار ہے کہ امم سابقہ کے پیغمبر اولوالعزم کا قائم مقام ہو۔
فیض روح القدس او باز مدد فرماید
دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا می کرد’’
ترجمہ: روح القدس کا فیض اگر اس کی مدد فرمائے تو دوسرے لوگ بھی وہی کرنے لگیں جو مسیحا نے کیا۔’’
آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ تجدید الف ثانی صرف اکبری الحاد و زندقہ کو ختم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مطمح نظر ان علوم و معارف کو ظہور میں لانا ہے، جن سے ظاہر شرع ساکت و خاموش ہے، مگر عین شریعت کے مطابق ہوں تاکہ ان مکشوفات کی حقیقت بھی کھل جائے جو ا س ہزار سال میں متعدد بزرگوں سے جمع ہوتے ہوئے ایک مکمل فن سا ہو گئے اور جن کی اہمیت اس لیے اور بڑھ گئی تھی کہ یہ مکشوفات تھے، اور عام احکام شریعت سے ممتاز تھے۔ ایسے عالم میں ایسے ہی مجدد کی ضرورت تھی جو سب راہوں سے گزرا ہو، سب کو جانتا ہو، اور ایک غیر نبی بشر جہاں تک پہنچ سکتا ہے، وہاں تک پہنچا ہو۔حضرت مجدد قدس سرہ کے علوم و معارف جہاں ایک طرف شریعت مطہرہ سے متصادم مکشوفات کی قلعی کھولتے ہیں، وہیں دوسری طرف عظمت انبیاء و رسل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ان مقدس بزرگوں کے علوم کا ماخذ و منشأ کون سی منزل ہے،جزاہ اللہ عنا خیر الجزاء۔
حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ نے جو مسئلہ وحدۃ الوجود کو علمی رنگ دے دیا اور تفصیل و تبویب فرمائی اور اس سے جو نتائج پیدا ہوئے وہ اتنے ہی نہیں ہیں جو آپ سن چکے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت ہیں اور ان میں بہت سے ایسے امور ہیں جو بعد کے کم علم صوفیہ کے لیے ضلالت وگمرہی کا سبب بن گئے
معارف وحقائق کو جس شرح وبسط کے ساتھ شیخ نے بیان کیا ان سے پہلے کسی نے اس طرح بیان نہیں کیا تھا اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ کا اختلاف شیخ کے ساتھ بہت ہے ، آپ اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
چہ تواں کرددریں عرصہ شیخ است قدس سرہ کہ گاہے باوے جنگ است وگاہے صلح ،اوست کہ سخن معرفت وعرفان را بنیاد نہادہ است وشرح وبسط دادہ، واوست کہ از توحید واتحاد بہ تفصیل سخن گفتہ است ومنشاء تعدد وتکثر بیان فرمودہ است،واوست کہ وجود را بالکل با حق دادہ است جل وعلا،وعالم را موہوم ومتخیل ساختہ، واوست کہ تنزلات مروجود را ثابت گردانیدہ است واحکام ہر مرتبہ را جدا کردہ ،واوست کہ عالم را عین حق دانستہ است جل شانہ وہمہ اوست گفتہ وبا وجود آں مرتبہ تنزیہ حق سبحانہ وراء وراء عام یافتہ است واش دیدہ ودانش ہمہ اورا سبحانہ منزہ ومبرا دانستہ (مکتوبات امام ربانی ،ج 3 مکتوب 79)۔
ترجمہ: کیا کیا جائے کہ اس میدان میں شیخ قدس سرہ کے ساتھ کبھی جنگ ہے تو کبھی صلح،اس لیے کہ وہی ہیں جنھوں نے معرفت وعرفان کی بات کی بنیاد رکھی ہے اور شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا ہے ،وہی ہیں جنھوں نے توحید واتحاد کے بارے میں تفصیلی گفتگو فرمائی اور تودد وتکثر کا منشا بیان فرمایا ہے، انھوں ہی نے وجود کو پورے طور پر حق جل وعلا کو دیا ہے اور عالم کو موہوم ومتخیل گردانا ہے، انھوں ہی نے وجود کے لیے تنزلات ثابت کیے ہیں اور ہر مرتبہ کے احکام کو جدا کیا ہے،انھوں ہی نے عالم کو عین حق جانا اور ہمہ اوست کا نعرہ دیا اور حق جل شانہ کو با وجود مرتبہ تنزیہ حق سبحانہ کو ماوراء عام سے وراء پایا اور حق سبحانہ وتعالیٰ کو سب کی دیدہ ودانش سے مبرا ومنزہ جانا ہے۔
اس کے بعد آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: شیخ سے پہلے کے جو مشائخ ہیں انھوں نے اس باب میں اگر کوئی بات کہی ہے تواشارہ ورموز سے کہی ہے اور اس کی شرح وتفصیل کے درپے نہیں ہوئے اور اس گروہ صوفیہ کے جو لوگ شیخ کے بعد آئے ہیں اکثر نے شہخ ہی کی تقلید اختیار کی ہے اور ان ہی کی اصآطلاح کے مطابق بات
کہی ہے ، ہم پس ماندوں نے بھی ان بزرگوں سے فیض حاصل کیا اور ان کے علوم ومعارف سے فیض حاصل کیے ہیں ۔ جزاہ اللہ سبحانہ عنا خیر الجزاء۔
بات بس اتنی ہے کہ بحکم شریعت خطا کے محل اور صواب کے محل کی جگہیں ایک دوسرے کے ساتھ مخلوط ہیں اور انسان احکام میں کبھی خطا کرتا ہے اور کبھی درستگی کو پہنچتا ہے اس لیے لا محالہ اہل حق کے سواد اعظم کی موافقت کو مصداق صواب بنایا اور ان کی مخالفت کو خطا کی دلیل جاننا چاہیئے، کہنے والا کوئی ہو ، بات کچھ بھی ہو مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :علیکم بالسواد الاعظم" تم پر بڑے گروہ کی پیروی لازم ہے ،نیز ثابت ہے کہ فن کی تکمیل فکروں کے باہم ملنے اور نظروں کے اختلاف سے ہوتی ہے،سیبویہ کو ہرچند کہا جا سکتا ہے کہ احکام علم نحو کے بانی ہیں لیکن متاخرین کے تلاحق افکار اور ان کی نظروں کے اختلاف نے جو کمال تنقیح پیدا کی ہے وہ چیزے دیگر ہے۔دوسری زیب وزینت ایسی پائی کہ کہا جا سکتا ہے کہ نوع دیگر ہوگیا اور علیٰحدہ احکام پائے ہیں۔(م 79 ج3)
حضرت مجدد قدس سرہ نے اس بیان میں حضرت شیخ کے مخصوص نظریات اور شیخ سے کثرت اختلاف کی وجہ بیان فرمادی ،نیز یہ بھی بتا دیا کہ سواد اعظم کی پیروی ہرحال میں احتیاط پر مبنی ہے کیونکہ حق کے ساتھ باطل کااختلاط قدم قدم پر ہے اس لیے ان کی موافقت میں سلامتی ہے(سبحان اللہ کیا پیارا کلام ہے)
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ حق اور باطل کے معاملہ میں معیار کوئی ایک شخصیت ہو سکتی ہے اور نہ محض اس کے بھاری بھرکم ہونے سے اس کے قول کو اہمیت دی جائے گی بلکہ میزان اعتدال وصواب پر جو صحیح اترے گا اسے حق اور جو نہیں اترے گا اسے برملا باطل کہا جائے گا ۔
ان سب کے با وجود کلام میں جو ادب ملحوظ ہے اوراس اختلاف کے با وجود
حضرت شیخ کی قدروں کا جو لحاظ ہے وہ کسی ناظر سے مخفی نہیں ، نیز نہایت بہترین مثال سے بتا دیا کہ ہماری تحقیقات اور حق وصواب پر مبنی مکاشفات اگرچہ شیخ کے مکشوفات کے خلاف ہیں مگر ان پر چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں یہ بھی ایک فن کی تکمیل ہے اور حضرت شیخ کو بہرحال حق تقدم حاصل ہے، اس تواضع وانکساری کا کیا کہنا۔