باب ۵۶ از ۵۷صفحات ۷۶۶–۷۷۷
سیر و سلوک
سرہ کی دقت نظر اور علو فطرت اور بصیرت کی پرواز اور روحانی عروج وارتقاء کہ یہ سب بین دلیلیں ہیں،آپ نے سب کی حدیں بتادیں ورنہ یہ مکشوفات نا معلوم کیا کیا گل کھلاتے،دنیائے کشف میں اغلاط کا پھیلا ہوا طویل سلسلہ انھیں اسباب کی وجہ سے وجود میں آیا اور مرید انھیں پر محل تعمیر کرتے چلے گئے۔
تصوف کی اصطلاحات میں سے آپ کا یہ کارنامہ بھی علمی اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اثناے سلوک میں پیش آنے والے بعض منازل و مراحل اور کیفیات و واردات کی جن الفاظ سے تعبیرات کی گئی تھیں وہ الفاظ اپنے مرادات سے مساعدت نہ رکھتے تھے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی تبحر علمی اور مشاہدہ و مکاشفہ کی بلندی پر بین دلیل چند مثالیں آپ پڑھیں۔
سیر و سلوک:
سیر آفاقی و انفسی کے سلسلے میں حضرت مجدد قدس سرہ کی مجددانہ بصیرت دیکھنے سے قبل آپ سیر وسلوک کے معنی و مفہوم سمجھ لیں جو مشائخ نے بیان فرمائے ہیں، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
علم میں حرکت کا نام سیر وسلوک ہے جو کہ مقولہ کیف سے ہے (یعنی سیر میں علمی انتقال ہے) حرکت اَینیْ (انتقال مکان) کی یہ جگہ گنجائش نہیں رکھتی ہے۔
سیر الی اللہ:
پس سیر الی اللہ حرکت علمیہ کا نام ہے کہ علم اسفل سے علم اعلیٰ کی طرف جاتی ہے اور اس اعلیٰ سے دوسرے اعلیٰ کی جانب یہاں تک کہ تمام ممکنات کو طے اور سارے ممکنات کے زوال کے بعد علم واجب تک جا کر ختم ہو جاتی ہے، اسی حالت کی تعبیر فنا سے کی جاتی ہے۔
سیر فی اللہ:
سیر فی اللہ اس حرکت علمیہ کا نام ہے جو مراتب وجوب اسما و صفات اور شیونات و اعتبارات اور تقدیسات و تنزیہات میں ہوتا ہے یہاں تک کہ اس مرتبہ پر جا کر ختم ہوتی ہے جس کی تعبیر نہ کسی عبارت سے ہو سکتی ہے اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اسم سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور نہ کنایہ سے بیان کیا جاتا ہے، نہ اس کو کوئی عالم جانتا ہے اور نہ مدرک ادراک کر سکتا ہے، اس سیر کی تعبیر بقا سے کی جاتی ہے۔
سیر عن اللہ باللہ:
سیر عن اللہ باللہ کہ یہ سیر تیسری سیر ہے، بھی اس حرکت علمیہ سے عبارت ہے جو علم اعلیٰ سے علم اسفل کی طرف ہوتی ہے اور اس اسفل سے دوسرے اسفل کی طرف یہاں تک کہ سالک لوٹ آتا ہے الٹے پیر ممکنات کی طرف اور تمام مراتب وجوب کے علوم سےنزول کرتا ہے و ھو العارف الذی نسی اللہ باللہ و رجع عن اللہ مع اللہ و ھو الواجب الفاقد و ھو الواصل المھجور و ھو القریب البعید
سیر در اشیا:
اور چوتھی سیر کہ سیر در اشیا ہے علوم اشیا کے حصول کا نام ہے۔ شیئاً شیئاً بعد زوال علوم الاشیاء کلھا فی السیر الاول۔ (مکتوب: ۱۴۴، ج:۱)
سیر آفاقی:
سیر و سلوک کے معنی جان لینے کے بعد اب آپ جان لیں کہ مشائخ نے سیر آفاقی و انفسی کس چیز کا نام قرار دیا ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘نیت کو صحیح کر لینے اور آرزو سے چھٹکارا حاصل کر لینے کے بعد سالک جب ذکر الٰہی میں مشغول ہوتا ہے اور ریاضات شاقہ و مجاہدات شدیدہ اپناتا ہے اور تزکیہ حاصل کرتا ہے اور اس کے رذیل اوصاف اخلاق حسنہ سے بدل جاتے ہیں اور توبہ و انابت اس کو میسر ہوتا ہے دنیا کی محبت اس کے دل سے نکل جاتی ہے اور صبر و رضا و توکل حاصل ہوتا ہے اور ان حاصل شدہ معانی کو بتدریج و ترتیب عالم مثال میں مشاہدہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو بشری تیرگیوں اور ان کی رذیل صفات سے پاک اور مصفیّٰ دیکھتا ہے تو اسی وقت اس کی سیر آفاقی ضرور پوری جائے گی۔’’
پھر چند سطر بعد وجہ تسمیہ یوں بیان فرماتے ہیں: ‘‘چوں کہ سالک ساعت بساعت اپنے احوال و اطوار کو عالم مثال میں مشاہدہ کرتا ہے (جو عالم مثال میں منجملہ آفاق سے ہے) اور ایک ہیئت سے دوسری ہیئت کی طرف اسی عالم میں اپنا انتقال دیکھتا ہے گویا آفاق میں سیر رکھتا ہے ہر چند یہ سیر در حقیقت نفس سالک میں اور اس کے اخلاق و اوصاف میں حرکت کیفی ہے لیکن چوں کہ دوربینی کی وجہ سے مطمح نظر آفاق ہے نہ کہ انفس ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیر بھی آفاق کے ساتھ منسوب ہوتی ہے جو سیر آفاق سے منسوب ہے اس کی تمامی کو سیر الی اللہ کی تمامیت قرار دیا ہے اور فنا کو اسی سیر سے وابستہ رکھا اور سلوک کی تعبیر اسی سیر سے کی اور اس کے بعد جو سیر واقع ہوتی ہے اس کا نام سیر انفسی رکھا ہے اور اس کو سیر فی اللہ بھی کہتے ہیں اور بقا باللہ بھی اسی جگہ ثابت کرتے ہیں اور اسی مقام میں سلوک کے بعد جذبہ کا حصول جانتے ہیں۔
چوں کہ سالک کے لطائف سیر اول میں تزکیہ پا چکے ہیں (صفائی حاصل کر چکے ہیں) اور بشریت کی کدورتوں سے چھٹکارا پا چکے ہیں (اس لیے یہ صلاحیت پیدا کر لی ہے اس بات کے اسم جامع کی جو کہ اس کا رب ہے کے ظلال و عکوس ان لطائف کے آئینوں میں ظاہر ہوں اور یہ لطائف اس اسم جامع کے جزئیات کی
تجلیات و ظہورات کے مقدور ہوں، اس سیر کو سیر انفسی اسی واسطے نام دیتے ہیں کہ انفس ظلال و عکوس اسی کے آئینے ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ سالک کی سیر نفس میں جیسا کہ سیر آفاقی میں گذرا کہ آئینہ داری کے اعتبار سے اس کو سیر آفاق کہا ہے نہ یہ کہ سیر آفاق میں ہے اسی سیر میں در حقیقت ظلال اسما کی سیر ہے انفس کے آئینوں میں اسی لیے اس سیر کو سیر معشوق در عاشق کہا ہے۔ مشائخ نے اس سیر کو سیر فی اللہ بھی کہا ہے، حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس سیر کو سیر فی اللہ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ مشائخ نے کہا ہے کہ سالک اس سیر میں متخلق باخلاق اللہ ہو جاتا ہے اور خُلق (عادت) سے دوسرے خلق کی طرف انتقال کرتا ہے کیوں کہ مظہر کو ظاہر کے بعض اوصاف سے حصہ ہوتا ہے و لو فی الجملۃ پس گویا سیر اللہ تعالیٰ کے اسما میں یہ متحقق ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ سیر آفاقی و انفسی کو اچھے انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا اور ان کی وجوہ تسمیہ جس طرح بیان کی جا سکتی تھیں وہ حضرت مجدد قدس سرہ نے بیان کیں اور ان کو کافی حد تک اس منزل پر لانے کی کوشش کی جس سے کچھ مراد صحیح متعین ہو سکے، آپ فرماتے ہیں: ‘‘نیست نہایت تحقیق ایں مقام و تصحیح ایں کلام۔’’ (اس مقام کی تحقیق اور اس کلام کی تصحیح کی کوئی انتہا ہی نہیں)
اب سنیے، ،مشائخ کرام اس سیر میں کیا کیا اوصاف و کمالات تصور کرتے ہیں۔ حضرت مجدد قد س سرہ فرماتے ہیں ‘‘یہ حضرات سیر انفسی کو بے تکلف سیر فی اللہ کہتے ہیں اور بے روک ٹوک اس کو بقا باللہ کا نام دیتے ہیں اور وصول و اتصال کا مقام سمجھتے ہیں، آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس فقیر پر یہ اطلاقات بہت گراں ہیں (اس لیے) لامحالہ اس کی تصحیح اور توجیہ میں حیلہ اور تکلف کیا جاتا ہے کہ اس حیلہ سے ایک حصہ مشائخ کے کلام سے ماخوذ ہے اور ایک ٹکڑا افاضہ و الہام کی راہ
سے آیا ہے (وہ حیلہ اور تکلف یہ ہے کہ) سیر آفاقی میں گویا رذائل سے تخلیہ (غیر حق سے ترک تعلق) حاصل ہو گیا تھا اور اس سیر انفسی میں اخلاق حمیدہ سے تجلیہ (روشن کرنا اور حق سے ملنا) ہے کیوں کہ مقام فنا کے مناسب تخلیہ ہے اور بقا کے مناسب تجلیہ۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ مشائخ نے اس سیر انفسی کی انتہا نہیں جانی ہے اور اس کے عدم انقطاع کا حکم لگایا ہے اگرچہ دائمی عمر مل جائے اور کہا ہے کہ محبوب کے اوصاف و شمائل کی انتہا نہیں ہے پس ہمیشہ سالک متخلق کے آئینے میں اللہ تعالیٰ کی صفات سے کسی صفت کی تجلی ہوگی اور اس کے کمالات سے کسی کمال کا ظہور ہوگا تو انقطاع کہاں؟ اور انتہا کس طرح جائز قرار دی جائےگی، کہا ہے۔
ذرّہ گر بس نیک و بس بد بودگرچہ عمر تگ زند در خور بود
اور اس فنا و بقا سے کہ اس سیر آفاقی اور سیر انفسی سے حاصل ہوئی اسم ولایت کا اطلاق کرتے ہیں اور کمال کی انتہا اس جگہ تک جانتے ہیں اگر اس کے بعد سیر واقع ہوگی تو ان کے نزدیک سیر رجوعی ہوگی جس کی تعبیر سیر فی الاشیاء باللہ کہا ہے نزول سے تعلق رکھتی ہے اور ان (اخیر کی) دو سیروں کو تکمیل و ارشاد کے واسطے قرار دیا ہے جس طرح ان سیروں کو ولایت و کمال و ارشاد کے واسطے۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے کہ ستر ہزار پردے کہ خبر میں آیا ہے کہ انّ للہ سبعین الف حجاب من نور و ظلمۃ بیشک اللہ تعالیٰ کے ستر ہزار پردے نور اور ظلمت کے ہیں۔
سیر آفاق میں پھاڑے یعنی طے کیے گئے جاتے ہیں کیوں کہ سات لطائف سے ہر لطیفے میں دس دس ہزار پردوں کا خرق ہوتا ہے اور جب وہ سیر تمام ہوتی ہے، سارے پردے اٹھ جاتے ہیں اور سالک سیر فی اللہ سے متحقق ہو جاتا ہے اور مقام
وصل کو پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہے ارباب ولایت کے سیر و سلوک کا حاصل اور ان کے ارشاد و تکمیل کا نسخہ جامعہ۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں اس باب میں جو کچھ محض خداوندی جل سلطانہ کے فضل و کرم اس فقیر پر ظاہر ہوا اور جس سے تسلیک فرمائی بطور اظہار نعمت اور شکر عطیت کے طور پر لکھتا ہے۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کہ بے چون اور بے چگون ہے جس طرح آفاق سے ورا ہے انفس سے بھی ورا ہے تو سیر آفاقی کو سیر الی اللہ اور سیر انفسی کو سیر فی اللہ نام دینے کے کوئی معنی نہیں بلکہ دونوں سیریں؛ آفاقی و انفسی سیر الی اللہ میں داخل ہیں اور سیر فی اللہ وہ سیر ہے جو بمراحل آفاق و انفس سے دور ہے اور ان کے وراء ورا ہے۔ عجب معاملہ ہے سیر فی اللہ کہ سیر انفسی کو قرار دیا ہے اور اس سیر کو بے نہایت کہا ہے اور دائمی عمر سے اس کا قطع جائز نہیں قرار دیا ہے جیسا کہ گذرا اور جب انفس آفاق کی طرح دائرہ امکان میں داخل ہے تو اس تقدیر پر دائرہ امکان کا تعلق ممکن نہ ہوگا۔ پس لامحالہ محرومی دائمی ہوگی اور خسران سرمدی ہوگا اور نہ فنا متحقق ہوگی کبھی بھی اور نہ اس وقت بقا کا تصور ہو سکتا ہے تو وصل و اتصال کیسا اور قرب و کمال کیسا؟
سبحان اللہ! جب یہ بزرگ لوگ پانی چھوڑ کر سراب (وہ ریت جو دور سے پانی دکھائی دے) پر اکتفا کریں اور الی اللہ کو فی اللہ معلوم کریں اور امکان کو وجوب تصور کریں۔ اور چون کو بے چون سے تعبیر کریں تو چھوٹوں اور کم ہمتوں کا کیا گلہ (شکایت) اور کیا اظہار شکایت؟ کیا آفت آپڑی، اور کس اعتبار سے انفس کو حق کہا ہے جل وعلا کہ اس کی سیر کو حد نہایت جانا۔
اسما و صفات واجبی جل سلطانہ کا ظہور سالک کے آئینے میں کہ اسے سیر انفسی قرار دیا ہے وہ ظہور ظلال اسما وصفات واجبی کہ ظہور ظل کا ظہور ہے (یعنی ظہور کا
ظہور ہے) نہ کہ عین اسما و صفات کا ظہور۔
اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ نے تقریباً دو صفحہ پر مشتمل نہایت بلیغ انداز میں مشائخ کے ان متفقہ فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانے کو بڑے درد و کرب کے مانند بیان کیا ہے اور اپنی طرف سے یہ معذرت پیش کی ہے ‘‘میں کیا کروں اور کس طرح اس بے ادبی کو علم و تمیز کے باوجود بارگاہ الٰہی میں جائز رکھوں اور اللہ تعالیٰ کے ملک میں اس کے غیر کو شریک کروں، ہر چند ان اکابر قدس اللہ تعالیٰ اسراہم کے حقوق اپنے ذمے لازم رکھتا ہوں کہ مختلف قسم کی تربیت سے ان کا پروردہ ہوں لیکن حقوق حضرت واجب الوجود جل سلطانہ ان سب کے حقوق کے اوپر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تربیت دوسروں کی تربیت سے اوپر ہے، اس اللہ تعالیٰ کا حسن تربیت سے اس درد سے نجات پائی ہے۔
اس کے بعد آپ نے یہ کلیہ بیان فرمایا: ‘‘اللہ تعالیٰ بے چون اور بے چگونی ہے اور جو چون اور چندی کے داغ سے داغدار ہے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے دور ہے۔ پس آفاق کے آئینوں اور انفس کے مظاہر میں اللہ تعالیٰ کی گنجائش نہیں ہوگی۔ جو کچھ آفاق و انفس میں ظاہر ہوگا وہ مظاہر کی طرح چند اور چون ہوگا۔ پس آفاق و انفس سے گذرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کو آفاق وانفس کے ماورا تلاش کرنا چاہیے اور اسی طرح دائرہ امکان میں کیا آفاق کیا انفس جس اس اللہ تعالیٰ کی ذات کی گنجائش نہیں ہے اس کے اسما و صفات کی بھی گنجائش نہیں ہے اور جو کچھ اس جگہ ظاہر ہوتا ہے اسما وصفات کے ظلال و عکوس اور ان کی یہ شبح و مثال ہیں بلکہ اسما و صفات کی ظلیت اور ان کی مثالیت بھی آفاق و انفس سے باہر ہے۔ اس جگہ سے تعبیہ (آراستہ کرنا اور پنہاں کرنا) سے پیش نہیں اور انتقاش قدرت سے زیادہ نہیں، ظہور کس کا اور تجلی کہاں؟ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح بے
چون و بے چگونہ ہے اور بے شبہہ وہ بے نمونہ ہے۔جب تک آفاق و انفس سے باہر نہیں جائےگا اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کی ظلیت کو نہیں پائےگا فکیف الوصول الی الاسماء و الصفات تعالت و تقدست
حضرت مجدد قدس سرہ پھر سیر آفاقی و انفسی کےبارے یوں رقم طراز ہیں: ‘‘سیر و سلوک اور جذب و تصفیہ سے مقصود گھٹیا اخلاق اور رذیل اوصاف سے نفس کو پاک کرنا ہے کہ ان تمام برائیوں کی سردار نفس اور نفس کی مرادات و خواہشات کے ساتھ گرفتاری ہے۔ پس سیر انفسی سے چارہ نہیں اور صفات ذمیمہ سے صفات حمیدہ تک گذر نہیں اور سیر آفاقی مقصود سے خارج ہے اور اس سے کوئی معتد بہ غرض متعلق نہیں ہے کیوں کہ آفاق سے گرفتاری انفس کی گرفتاری کی وجہ سے ہے کیوں کہ جو شخص بھی کسی چیز سے محبت کرتا ہے وہ اپنی ذات سے محبت کی وجہ سے ہے، اگر فرزند و مال سے محبت ہے تو اپنے فائدے اور انتفاع کی وجہ سے ہے۔
اور جب سیر انفسی میں محبت حق جل و علا کے غلبہ کی وجہ سے اپنی محبت زائل ہو گئی تو اس کے ضمن میں فرزند و مال کی بھی محبت زائل ہو گئی تو سیر انفسی ضروری ہوئی اور سیر آفاقی طفیل میں اس کے ضمن میں میسر ہو گئی۔ اسی سے انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی سیر انفسی کے ساتھ مقصود تھی اور آفاق طفیل میں منقطع ہو گئی، ہاں سیر آفاقی بھی اچھی ہے اگر اس کو طے کرنے کی فرصت دیں اور توقفات کے خلل انداز ہوئے بغیر اس کو انجام تک پہنچا دیں اور اگر اس کو طے کرنے کی فرصت نہ دیں اور توقفات میں مبتلا کر دیں تو قریب ہے کہ سیر آفاقی کو بے فائدہ شمار کیا جائے اور حصول مطلوب کے موانع سے گنا جائے۔ سیر انفسی جس قدر بھی طے کی جائے غنیمت ہے، بدی سے نیکی کی طرف جانا ہے، بڑی نعمت ہے کہ اس سیر کو انجام تک پہنچائیں اور انفس کے دائرے سے باہرآرام دیں۔’’
اس کے بعد سیر آفاقی کی عدم ضرورت پر یوں روشنی ڈالتے ہیں: ‘‘کیا ضروری ہے کہ کوئی شخص انفس کی تلونیات (رنگ برنگیوں) کو آفاق کے آئینے میں مشاہدہ کرے اور اپنے تغیرات کو آفاق میں معائنہ کرے۔ چناں چہ اپنی صفات قلب کو مثلاً مثال کے آئینے میں معلوم کرے اور خاص اس صفا کو نور سرخ کی صورت میں دیکھے کیوں اپنا وجدان کار نہ فر مائے اور اپنی فراست کے حوالے اس صفا کو نہ کرے۔
مَثل مشہور ہے کہ بارہ سالہ کو ڈاکٹر کو حاجت ہے اور کیوں نہ اپنے وجدان صحیح سے اپنے احوال کی تلونیات دریافت کرے اور اپنی صحت و بیماری کو دانائی سے معلوم کرے، ہاں سیر آفاقی علوم و معارف اور تجلیات و ظہورات بہت رکھتی ہے لیکن وہ سب ظلال کی طرف راجع ہیں اور شبہ و مثال سے تسلی ، اور جب سیر انفسی ظلال سے تعلق رکھےگی جیسا کہ رسائل و مکتوبات میں اس کی تحقیق کی ہے تو چاہیے کہ سیر آفاقی ظلِ طل سے متعلق ہو کیوں کہ آفاق انفس کے لیے ظل اور آئینہ ہے ظہور کے لیے۔’’
پھر ایک مثال کے ذریعہ تنبیہ فرماتے ہیں: ‘‘جاننا چاہیے کہ انفس کے احوال کو آفاق کے آئینے میں مشاہدہ کرتے ہیں اور صفا و تجلیہ کو اس جگہ سے معلوم کرتے ہیں (یہ مشاہدہ کرنا) اس شخص کی طرح ہے کہ خواب میں یا واقعہ میں عالم مثال میں کوئی شخص خود کو بادشاہ دیکھے اور یا خود اس جگہ کا قطب وقت مشاہدہ کرے در حقیقت نہ بادشاہ ہے اور نہ قطب، بادشاد اور قطب وہ ہے کہ خارج میں ان دونوں منصبوں سے مشرف ہے، بس یہ ہو سکتا ہے کہ اس خواب اور اس واقعہ سے بادشاہت کی استعداد اور دیکھنے والے کی قطبیت کی صلاحیت معلوم ہوتی ہے۔ جان کھپانا پڑےگی تاکہ معاملہ قوت (صلاحیت) سے فعل (وجود) میں آئے اور گوش سے آغوش تک
مانحن فیہ میں بھی تزکیہ و تجلیہ سیر انفسی سے وابستہ ہے اور جو کچھ سیر آفاقی میں دیکھا ہے وہ تزکیہ و تجلیہ کی استعداد و قابلیت ہے تو جب تک خارج میں سیر انفسی کے ذریعہ اپنے آپ کو پاک و صاف نہ دیکھے اور وجدان سے اپنے آپ کو مصفیّٰ نہ پائے در حقیقت فنا سے بے نصیب ہے اور مقامات عشرہ کے ساتھ اتصاف سے بے بہرہ ہے اور اطوار سبعہ سے سواے پوست کے کچھ ہاتھ نہیں لایا۔ پس لامحالہ سیر انفسی سیر الی اللہ ہوئی اور سیر الی اللہ کی تمامیت سیر انفسی کی تمامیت سے ہے اور سیر انفسی کے بعد بمراحل سیر فی اللہ کا تصور کیا جا سکتا ہے۔’’
اوپر کی تقریر کا خلاصہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ پس باندازۂ تحقیق سیر انفسی کے معنی اور سیر آفاقی کے معنی درست ہو گئے کیوں کہ در حقیقت سیر انفس میں ہے اور سیر آفاق میں بھی ہےاس لیے کہ تعلقات انفس کی قطع بتدریج سیر انفس میں ہے اور قطع تعلقات آفاق کہ سیر انفسی کے ضمن میں صورت پاتا ہے، سیر آفاق میں ہے اس کے برخلاف دوسروں کے طور پر سیر آفاقی و سیر انفسی تکلف کی محتاج ہے۔
اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ سالک کے آئینے میں سیر انفسی میں جو مشائخ نے اسما وصفات واجبی جل سلطانہ کا ظہورِ ظہور قرار دیا ہے وہ در اصل ان اسما وصفات کا ظہور نہیں اور تخلیہ و تجلیہ ہے بلکہ ظلال اسما وصفات کا ظہورِ ظہور ہے جس سے تخلیہ کی تحصیل ہوتی ہے اور تزکیہ و تصفیہ کو آسان کرتا ہے، پھر آپ نے اسے تفصیل سے بیان فرمایا۔
اسی طرح آپ نے پڑھا کہ مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ سیر آفاقی میں ستر ہزار نور و ظلمت کے پردوں کو اٹھایا جاتا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مشاہدہ
اس کے خلاف ہے کیوں کہ ظلمانی پردوں کا اٹھنا جمیع مراتب امکان کو طے کرنے سے وابستہ ہے اور ان مراتب کا طے کرنا سیر آفاقی و انفسی سے میسر ہوتا ہے اور نورانی پردوں کا اٹھنا سیر اسما و صفات سے وابستہ ہے یہاں تک کہ سالک کی نظر میں نہ اسم باقی رہے نہ صفت نہ شان نہ اعتبار، اس وقت سارے نورانی پردوں کا اٹھنا میسر آجاتا ہے اور سالک وصل عریانی سے مشرف ہوتا ہے تو سیر آفاقی میں معلوم نہیں کہ ظلمانی آدھے پردے بھی اٹھتے ہوں گے یا نہیں نورانی پردوں کا اس جگہ اٹھنا کیسے متصور ہو سکتا ہے۔ پھر ان اشتباہات کی علت بیان فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے اپنے طریقے کی خوبی بیان فرمائی کہ وہ سب سے قریب تر راستہ ہے جو کہ جذب و سلوک کا جامع ہے اور تخلیہ و تجلیہ اس جگہ باہم جمع ہیں اور تصفیہ و تزکیہ ایک دوسرے سے مقرون (ملی ہوئی)، سیر انفس سیر آفاق کو متضمن ہے، عین تصفیہ میں تزکیہ ہے اور عین تجلیہ تخلیہ ہے، اس کے علاوہ دیگر خوبیاں بیان فرمائیں۔
یہ چند اقتباسات ہیں حقائق معارف سے لبریز مکتوب کے آپ تفصیل مکتوب ۴۲ میں پڑھیے۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی مجددانہ بصیرت کے جلوے قدم قدم پر نظر آئیں گے، آپ کی بالغ نظری علو مرتبت، کشف کی بلندی، روحانیت کا عروج و ارتقا لفظ لفظ سے پھوٹا پڑتا ہے۔ مشائخ کے کشف و مشاہدہ کی طویل داستانوں کا راز آپ یہاں سے سمجھ سکتے ہیں، سیر آفاقی کیا کیا گل کھلاتی ہے مگر بالغ نظر انسان حقیقت کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس طرح کے معارف و حقائق سے مکتوبات قدسی آیات کی تینوں جلدیں مالا مال ہیں جس نے کچھ بھی پڑھا ہے وہ آپ کی تجدید کا جلوہ جانتا ہے ورنہ خالی اکبر کو جاننے سے آپ کی خدمتوں کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔
اس سب کے باوجود ادب و احترام جس قدر ملحوظ وہ عبرت کے لائق ہے،
معذرتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، مشائخ کی شان کا جس قدر لحاظ ہے وہ اس مکتوب کے سطر سطر سے عیاں ہے، مشائخ کے ساتھ اختلافات کی بنیاد یہاں علم و استدلال پر نہیں، آپ فرماتے ہیں: ‘‘مشائخ رحمہم اللہ سبحانہ کے ساتھ علما کا اختلاف اختلافی امور میں جیسے مسئلہ توحید وغیرہ نظر و استدلال کی راہ سے ہے اور اس فقیر کا اختلاف ان کے ساتھ ان امور میں کشف و شہود کی راہ سے، علما ان امور کی قباحت کے قائل ہیں اور یہ فقیر عبور کی شرط کے ساتھ ان کے حسن کا قائل ہے۔’’ حضرت مجدد قدس سرہ کا یہ اصول ہر جگہ ملحوظ رکھنے کا قابل ہے۔