باب ۳ از ۵۷صفحات ۳۸–۵۱
ائمہ مجتہدین کی توہین
کرسی اجتہاد پر بیٹھتے ہی ائمہ ومجتہدین کی بادشاہ کے حضور یہ درگت ہونے لگی کہ حضرت بدایونی فرماتے ہیں:''اگر کسی بحث ومباحثہ کے درمیان ائمہ مجتہدین کی بات پیش کی جاتی تو ابوالفضل اس کے جواب میں کہتا فلاں حلوائی اور فلاں کفش دوز اور فلاں چمڑے والے کے قول سے تم مجھ پر حجت قائم کرتے ہو؟ابوالفضل کو تمام علما کا یہ انکار بہت موافق ثابت ہوا۔
صحابہ کرام پر حملے:
چونکہ ایرانیوں کی امداد واعانت سے ہمایوں کو ہندوستان کا تخت حاصل ہوا لہٰذا ایرانیوں یعنی شیعوں کے لیے ہندوستان کی فضا ہموار ہو گئی اور وہ ٹڈی دل کی طرح
تحصیل زر کے لیے اکبر کے دربار میں جمع ہونا شروع ہو گئے پھر کیا تھا وہ مبارک جماعت جس نے اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کے فیضان نظر سے تربیت پائی تھی اور شرف صحبت سے مشرف ہوئے تھے علی الاعلان ان کی توہینیں ہونے لگیں اور خصوصیت کے ساتھ وہ کتابیں پڑھی جانے لگیں جن کا تعلق صحابہ کرام کے مشاجرات سے تھا،حضرت بدایونی فرماتے ہیں: صحابہ کی شان میں سیر کی کتابیں پڑھنے میں جو الفاظ بادشاہ کی زبان سے نکلتے تھے خصوصا خلفاے ثلٰثہ،فدک،جنگ صفین کے ذکر کے وقت جو کچھ کہا جاتا تھا، کان اگر ان کے سننے سے بہرے ہوتے تو بہتر تھا میں اپنی زبان سے ان کو ادا بھی نہیں کر سکتا۔’’
اسلام ونبوت کا انکار:
پھر اسلام کا یوں جنازہ نکالا گیا کہ کہا جانے لگا"ملت اسلامی کا سارا سرمایہ حادث وبد عقلی کا مجموعہ ٹھہرایا گیا اور اس کے بنانے والے(العیاذ باللہ)عرب کے وہ چند مفلس بدو قرار دیے گیے جن میں سب کے سب مفسد اور ڈکیت تھے،اور پھر حال یہ ہوا کہ ارکان دین کے ہر رکن اور اسلامی عقائد کے ہر عقیدے کے متعلق خواہ ان کا تعلق اصل سے ہو یا فروع سے مثلا نبوت،مسئلہ کلام،دیدار الٰہی،انسان کا مکلف ہونا، عالم کی تکوین اور حشر ونشر وغیرہ کے متعلق تمسخر اور ٹھٹھے کے ساتھ طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا کیے جانے لگے،عام مخلوق کو خلق قرآن کے مسئلہ کی تبلیغ (بادشاہ)کرتا اور وحی کے محال ہونے پر اصرار وغلو سے کام لیتا اور نبوت وامامت کے مسئلے میں لوگوں کا امتحان لیتا اور جن،فرشتے اسی طرح ساری غیبی ہستیوں نیز معجزات اور کرامتوں کا کھلے لفظوں میں انکار کرتا،قرآن کے تواتر اور اس کے کلام خدا ہونے اور بدن کے فنا ہونے کے بعد ثواب وعذاب کے لیے روح کے باقی رہنے کو محال سمجھتا تھا البتہ تناسخ کے طور پر ثواب وعذاب کا قائل تھا''
پھر بات معراج کے انکار تک پہنچی پھر نوبت بہ ایں جا رسید کہ ذکر کرتے ہوئے بدن لرزتا ہے،رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،کھلے عام تاجدار کونینﷺ کی تضحیک وتذلیل ہونے لگی آپﷺ کے مقدس نام اسے برے لگنے لگے یہاں تک کہ کچھ اہل دربار کے نام اس نے بدل بھی ڈالے،حد تو یہ ہوئی کہ علماے سو نے جو اس دور میں کتابیں لکھنا شروع کیں تو بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے صرف حمد الٰہی اور بادشاہ کے القاب وخطابات ذکر کرتے،ان محروموں کو تاجدار انبیاء ﷺ کے پیارے پیارے نام لکھنے کی جرات وہمت نہ تھی۔
ہندؤں کو رسوخ حاصل ہو چکا تھا،ان کی خوب قدر دانی ہو رہی تھی ،علماے سو اور بادشاہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے ان کی جرات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ حضرت بدایونی فرماتے ہیں:''چند ہندو اور ہندو مزاج مسلمان یہ بد نصیب سرور کونینﷺ کی نبوت پر صراحتا اعتراضات کرتے تھے،انھیں کوئی روک نہ سکتا تھا،کفر وضلالت کی تاریک گھٹاؤں کا یہ منظر بھی دیکھنے کے لائق ہے کہ انھیں ایام میں عیسائیوں کو بھی دسترس حاصل ہو گئی اور دل کی خباثت کے اظہار کا خوب خوب موقع ملا ان ملعونوں نے تمام وہ کلمات جو دجال ملعون کے لیے روایتوں میں آئے تھے نعوذباللہ محبوب کونینﷺ کی شان ارفع واعلیٰ میں استعمال کرنا شروع کردیے۔
ہاے افسوس! کیا کبھی آسمان نے ایسا ملعون منظر دیکھا ہوگا؟کبھی ذہن نے رحمت عالم ﷺ کی ایسی گستاخیاں سنی ہوں گی؟ مگر کس کی ہمت تھی کہ للکارتا،ڈنپٹتا۔ اپنی اپنی جانیں لیے لیے پھر رہے تھے۔
جن پر سب کچھ دارو مدار تھا جب ان کا یہ حال تھا تو عبادات کا ذکر ہی کیا ہے نماز روزہ سبھی کچھ روانہ ہو گیا اور ابوالفضل کے شاگرد نے ان عبادت کا مذاق اڑاتے ہوئے چند رسالے تک لکھ ڈالے،ڈاڑھی منڈ گئی الغرض جو کچھ غریب اسلام کے ساتھ کیا
جاسکتا تھا وہ کیا گیا،اسلام کو ختم کرکے،نبوت ورسالت اور وحی کو ختم کرکے اب جس نئے دین کی بنیاد ڈالی گئی مختصر حال اس کا بھی سن لیجیے۔
دین الٰہی:
پہلے تو اکبر کو اس طرح کے خواب دکھائے گئے کہ آپ کی ذات وہ ہے جس سے ہندو مسلم اتحاد ہوگا،اسلام کی مدت ہزار سال تک تھی اب نئے دین کی ضرورت ہے،اس سلسلے میں اتنے اتنے گہرے داؤ کھیلے گئے اور ان سازشوں سے کام لیا گیا کہ پڑھو تو حیرت ہوتی ہے کہ ہندوستان کے قدیم دانش وروں کے نام سے (اس زمانے میں) بر ہمن ہندی اشعار نقل کر کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے جنکا مضمون یہ ہوتا کہ جہاں کو فتح کرنے والا ایک باد شاہ ہندوستان میں پیدا ہوگا جو برہمنوں کی بڑی عزت کرے گا اور گائےکی حفاظت کرے گا اور عالم کی نگرانی انصاف کے ساتھ کرے گا۔
اس قسم کی چیزیں صرف پنڈتوں برہمنوں نے نہیں گڑھیں نرے ملا بھی نا معلوم کہاں کہاں سے ڈھونڈ کر لا رہے تھے ،پھر آخر بات یہاں تک پہنچی حضرت بدایونی لکھتے ہیں:''تمام مذاہب میں عقلمند موجود ہیں اور پائے جاتے ہیں ایسے ہی ریاضت ومجاہدہ اور کشف وکرامت والے بھی دنیا کے تمام مذاہب میں پائے جاتے ہیں اور حق تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے پھر ایک ہی دین وملت میں حق کو کیوں منحصر خیال کیا جاتا ہے اور وہ بھی ایسے دین میں جو نو مولود ہے اس پر ابھی ہزار سال بھی نہیں گذرے آخر ایسے دین میں حق کو منحصر کرنا کیوں ضروری ہے؟یقینا ایک مذہب کو صحیح خیال کرنا اور دوسرے کو غلط ٹھہرانا یہ ترجیح بلا مرجح ہے'' اور پھر یہ کہا گیا:
نماز روزہ اور وہ ساری چیزیں جن کا نبوت سے تعلق ہے ان کا نام تقلیدات رکھا گیا یعنی سب بدعقلی کی باتیں ٹھہرائی گئیں اور مذہب کی بنیاد عقل پر رکھی گئی نہ کہ
نقل پر،جب بادشاہ سے کوئی شرعی مسئلہ پوچھتا تو وہ یہ کہتا: اس کو ملاؤں سے پوچھو البتہ ایسی چیز جس کا تعلق عقل وحکمت سے ہو وہ مجھ سے دریافت کرو۔
پھر ہر مذہب کے ٹھیکیداروں کا ایک جتھا اکٹھا کیا گیا اور ایک ایسے دین کے لیے سوچا گیا جو سب کے لیے مساوی حیثیت رکھتا ہو ،ایک ایسے چشمے کو جاری کرنے کا ارادہ کیا گیا جس میں سب گندے نالے اکٹھے ہوتے ہوں،ہندو بھی عیسائی بھی بلکہ تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اسلام برائے نام تھا سب کچھ یہی تھا سب مذہب والوں کی ٹولیاں ادھر ادھر سے آتی تھیں اور اپنی اپنی باتیں پیش کرتیں اور جو پسند آتا اس میں سے لیا جاتا اسلام پر یہ مظالم وستم ڈھائے جا رہے تھے کہ ایک طرف ابوالفضل کو یہ حکم دیا گیا کہ انجیل کا ترجمہ ان پادریوں سے پوچھ پوچھ کر کریں یہ اس وقت ہوا جب فرنگی پادریوں نے انجیل پیش کی۔
اسی طرح ولایت گجرات کے شہر نوساری سے آتش پرست بھی آئے انھوں نے زردشت کے دین کی حقیقت ثابت کی یہ لوگ آگ کی تعظیم کو بڑی عبادت خیال کرتے تھے انھوں نے بادشاہ کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی اور کیا ،بادشاہوں کے رسم ورواج سے واقف کیا،اکبر نے ان کے مذہب سے بھی اثر قبول کیاکہ''شیخ ابوالفضل کی نگرانی میں یہ حکم دیا گیا کہ ہمیشہ رات دن شاہی محل میں آگ روشن رکھنے کا انتظام کیا جائے۔’’
اب دن رات یہی مشغلہ تھا ہر دین ومذہب والے ہندوستان کو تاکنے لگے کہ شایداکبر ہم سے متاثر ہو جائے تو ہمارا دین اپنا لے اس طرح بادشاہت کے زور پر پورے ہندوستان میں دین پھیل جائے گا،ہر جگہ سے لوگ آرہے تھے اور اپنے اپنے مذاہب پیش کرتے،بادشاہ کا دماغ اتنا خراب ہوگیا کہ بدایونی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:''اسلام کی ضد اور اس کے توڑ پر ہر وہ حکم جو کسی دوسرے مذہب کا ہوتا اس کو
بادشاہ نص قاطع اور قطعی دلیل سے خیال کرتے تھے بخلاف اسلامی ملت کے کہ اس کی ساری باتیں مہمل اور نا معقول،نوپیدا،عرب کے مفلسوں کی گڑھی ہوئی چیزیں خیال کی جاتیں۔
مسلمانوں کے سوا جس شخص کی جو بات پسند آجاتی تھی اس کا انتخاب کر لیا جاتا تھا اور جو باتیں ناپسندیدہ اور بادشاہ کی خواہش کے خلاف ہوتیں ان سے احتراز وپرہیز کو ضروری خیال کرتے تھے ،پانچ چھ سال کے بعد اسلام کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا اور بات بالکل الٹ گئی'' پھر اکبر کا حال کیا ہو ا اور جنون کی کس منزل پر پہنچا،بدایونی لکھتے ہیں: جس کسی کو اپنے اعتقاد کے موافق نہ پاتے تھے وہ بادشاہ کے نزدیک کشتنی اور پھٹکارا ہوا شمار ہوتا تھا اور اس کا نام فقیہ رکھ دیا جاتا تھا۔
داستان بہت طویل ہے کہاں تک کیا کیا بیان کیا جائے،اکبر نے اسلام سے ہاتھ دھوکر مختلف مذاہب سے جو کچھ اپنے شب وروز کے لیے چنا تھا مختصر طور پر اسے بھی سن لیجیے!جو دین الٰہی اختیار کیا گیا تھا اس میں مجوسیوں اور انگریزوں کے دین کے عناصر بھی تھے لیکن ہندوؤں کی طرف میلان کا عالم یہ تھا۔ بادشاہ کو بچپن ہی سے ہندوستان کی مختلف قوموں مثلا برہمنوں سے،بھاٹوں سے اور ازیں قبیل دوسری ہندو جماعتوں سے کافی ربط اور ان کی طرف فطری میلان تھا،ہندوستان کے بڑے رجواڑوں کی لڑکیاں جنھیں بادشاہ اپنے تصرف میں لے چکا تھا ان عورتوں کو بھی بادشاہ کے مزاج میں کافی دخل ہو گیا تھا۔
ایک برہمن جو کالپی کا تھا جس کا نام برہمہ داس تھا اور جس کو پہلے کبھی رائے یعنی ملک الشعرا کے خطاب سے سرفراز کیا گیا تھا اور بعد کو وہی بیر بر(بہادر ) کے نام سے مشہور ہوا بادشاہ کے مزاج میں اس قدر اسے دخل ہو گیا تھا کہ گویا دو تن یک جان ہیں،اس کی سفارش سے ایک برہمن بہت بڑا فلسفی جس کا نام دیوی تھا بادشاہ کے قرب
سے معزز ہوا بتدریج اس برہمن کا اکبر پر اس قدر اثر ہوا کہ رات کو بھی جب بادشاہ خوابگاہ میں چلا جاتا تھا دیوی برہمن سے ملنے کے لیے بے چین رہتا تھا،حضرت بدایونی فرماتے ہیں:''ایک زمانے تک دیوی برہمن جو مہا بھارت کی کتھا کہنے والا تھا اس کو چارپائی پر اوپر کھینچ لیا جاتا تھا جو اس قصر کے پاس تھا جو بادشاہ نے اپنی خوابگاہ میں بنایا تھا اور اس سے ہندوستانی قصے اور اس کے اسرار نیز بتوں کے،آفتاب کے پوجنے کے طریقے،ستاروں کی تعظیم کے آداب،کافروں کے جو بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں مثلا برہما،مہادیو،بشن،کشن،مہاماتی وغیرہ کے احترام کی صورتیں سنتا اور پھر ان کی جانب مائل ہوتا اور ان کو قبول کرتا''ایک کوتھم نامی برہمن بھی بادشاہ سے بہت زیادہ ہل مل گیا تھا ان سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ تر دین اکبری میں انھیں لوگوں کے عقائد واعمال ورسوم وطریقوں کو جگہ ملی۔
شرک:
اسلام تو رفتہ رفتہ روانہ ہو ہی چکا تھا بلکہ اس غریب سے زیادہ اب اس اکبر کے یہاں کون مقہور ومبغوض تھا ،اب اسلام کے بعد شب وروز کے مشغلے کے لیے کچھ چا ہئے تھا لہٰذا جس دین کے اکبر بانی ہوئے اس میں عبادت یہ تھی۔ آفتاب کی عبادت دن میں چار وقت یعنی صبح وشام دوپہر،آدھی رات میں لازمی طور پر کرتے تھے اور ایک ہزار ایک آفتاب کے ہندی ناموں کو اپنا وظیفہ بنایا تھا ٹھیک دوپہر کو آفتاب کی طرف متوجہ ہو کر حضور قلب کے ساتھ ان ناموں کو پڑھا کرتے تھے اور اپنے دونوں کانوں کو پکڑ کر بادشاہ ایک چرخ کھاتااور کانوں کے لو پر مکے لگا تا اور اسی قسم کی دوسری حرکات بہت سی بادشاہ سے صادر ہوتی تھیں،وہ قشقہ بھی لگاتے تھے اور آدھی رات کو ایک دفعہ پھر طلوع آفتاب کے وقت دوسری دفعہ روزانہ نوبت ونقارہ بھی مقرر تھا اور یہ قاعدہ مقرر تھا کہ جب آفتاب کا ذکر کیا جائے(العیاذ باللہ)اس وقت‘‘جلت قدرتہ’’کہا
جائے اور ایک بے چارہ آفتاب ہی کیا اسی طرح آگ ۔پانی،درخت اور تمام مظاہر فطرت حتیٰ کہ گائے اور گائے کے گوبر تک کو پوجتا تھا اور قشقہ جنیو سے اپنے بدن کو آراستہ کرتا اور آفتاب کو مسخر کرنے کی دعا جنکی تعلیم ہندؤں نے دی تھی ورد کے طور پر آدھی رات اور طلوع کے وقت پڑھا کرتا تھا۔
آفتاب کے بارے میں اس کا اعتقاد یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ کہتا کہ آفتاب نیر اعظم ہے اور سارے عالم کو وہ داد ودہش کرتا ہے بادشاہوں کا مربی وسرپرست سورج ہی ہے،اور سلاطین کو اس کو رواج دینے والے ہیں،ستاروں اور کواکب کی پوجا کا تو یہ عالم تھا ''بادشاہ اپنے لباس کا رنگ سات ستاروں کے رنگ کے مطابق رکھتے تھے ،چونکہ ہر دن کسی سیارہ کے ساتھ منسوب ہے اس لیے ہر دن کے لباس کا رنگ جدا گانہ مطابق رنگ سیارہ ہوتا۔ ہندؤں نے خنزیر کے بارے میں یہ باور کرادیا کہ سور ان دس مظاہر سے ہے جن میں خدا نے حلول کیا ہے،العیاذ باللہ،بعد موت کے لیے یہ سامان ذہن میں فراہم کیا گیا کہ تناسخ کے عقیدے میں پختگی پیدا ہو گئی تھی،جب بنگال کا گورنر خان اعظم دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا کہ تناسخ کے حق ہونے پر ہم نے قطعی دلائل پائے ہیں،شیخ ابوالفضل تمہاری تسلی خاطر کریں گے۔
اس مسئلہ میں بادشاہ کی خوش اعتقادی کا عالم یہ ہو گیا تھا کہ برہمنوں کے مشورے سے بادشاہ صرف سر کے بیچ کے بال منڈوایا کرتے تھے اور چاروں طرف کناروں کے بال چھوڑ دیے جاتے تھے عقیدہ یہ تھا کہ چونکہ بادشاہ کی روح کامل ہو چکی ہے اور کامل ومکمل لوگوں کی روح کھوپری(تالو)سے نکلا کرتی ہے جو دس سوراخوں(یعنی بدن کے)میں سے دسواں سوراخ ہے ،جس وقت کاملوں کی روح کھوپڑی سے نکلتی ہے اس وقت ایک کڑاکے کی آواز پیدا ہوتی ہے اور یہ آواز روح کی سعادت اور نیکی کی دلیل ہوتی ہے اور یہ کہ مردہ کو گناہوں سے نجات ہو گئی (شاید کہ جلنے کے وقت آخر میں جو
مردوں کی کھوپڑی پھٹتی ہے اور اس وقت ایک سخت آواز قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے برہمنوں نے اس کو نجات کی دلیل بنا لیا ہو گا)
بہر حال اس آواز کو یہ لوگ اس کی دلیل بھی قرار دیتے تھے کہ اچھے آدمی کی روح کسی صاحب شوکت با اقتدار مطلق العنان بادشاہ کے بدن میں جنم لیتی ہے۔ اس طرح اکبر کو مطمئن کردیا گیا تھا کہ دنیا بھی تمہاری کامیاب ہے اور مرنے کے بعد بھی اقتدار تمہارے باپ کی جاگیر ہے تم دوسرے جنم میں بھی ایک عظیم بادشاہ کی شکل میں ظاہر ہو گے،کچھ برہمنوں نے تو یہاں تک باور کرادیا تھا کہ اکبری(الف ثانی)سے چونکہ بجائے قمر کے زحل کا عمل دخل شروع ہو گیا ہے اس لیے عمر کی کمی جو دورہ قمر کا نتیجہ تھی اب نہ ہوگی اور دورہ زحل کے بارے میں یہ خیالی پلاؤ پکایا گیا تھا کہ اطوار وادوار کا مجدد اور عمروں کے طول کا مورث ہے،اس طرح بادشاہ کو یقین دلادیا گیاکہ فی الحال تو دنیا سے روانگی کے کوئی آثار نہیں اور یہاں سے جانے کے بعد تو پھر سلطنت مل ہی جائے گی اور بادشاہ کی روح کسی ایسے بادشاہ کے بدن میں حلول کرے گی جو بادشاہ جیسا ہو،ان باتوں نے تناسخ کے عقیدے کو اکبر کے ذہن میں نہایت راسخ کردیا تھا۔
حضرت بدایونی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مہا بھارت کے ترجمہ میں بے ساختہ ایک قصہ کے ذکر میں میرے قلم سے یہ مصرعہ نکل گیا تھا؎
ہر عمل اجری و ہر کردہ جزای دارد
بادشاہ نے جس وقت سنا بگڑ گیا کہ میرے اس مصرعہ کو بادشاہ نے منکر نکیر کے سوال،حشر ونشر،حساب ومیزان وغیرہ کی طرف خیال کیا اور ان ہی پر اس مصرعہ کو محمول کیا اور اس کو اپنے اس تناسخ کے عقیدے کے مخالف قرار دیا جس کے سوا وہ کسی چیز کا قائل نہ تھا۔
الغرض مختلف ادیان ومذاہب باطلہ کو سامنے رکھ کر عقائد واعمال کے سلسلے میں
جو معجون تیار کیا گیا تھا وہ یہی تھا اور اس کا نام توحید الٰہی/دین الٰہی قرارد یا گیا اب جب یہ معجون مرکب تیار ہو گیا تو پھر پیری مریدی کا سلسلہ چالو ہو گیا اور باضابطہ اس دین الٰہی میں داخل کرنے کی اسکیم چلائی گئی،شجرہ بھی تیار کر لیا گیا داخل کرتے وقت یہ کلمہ پڑھا جاتالا الٰہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ اس سلسلہ میں لوگوں کو خود ان کی مرضی پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ علی الاعلان اس کلمہ کی تبلیغ ہوتی اور اس دین میں داخل ہونے کے لیے اصرار کیا جاتا اور عام رعایا پر یہ دین باطل تھوپنے کی پوری کوشش کی جاتی،جو لوگ باضابطہ اس دین میں داخل ہوتے انھیں مذکورہ کلمہ کے علاوہ ایک عہد نامہ کا اقرار کرنا پرتا،عہد نامہ یہ تھا:
من کہ فلاں ابن فلاں باشم بہ طوع ورغبت وشوق قلبی ازیں اسلام مجازی وتقلیدی کہ از پدراں دیدہ وشنیدہ بودم ابراء وتبراء نمودم ودر دین الٰہی اکبر شاہی در آمدم ومراتب چہارگانہ اخلاص کہ ترک مال وترک جان وناموس ودین باشد قبول کردم۔
ترجمہ:میں کہ فلاں ابن فلاں ہوں اپنی خواہش ورغبت اور دلی شوق کے ساتھ دین اسلام مجازی اور تقلیدی جو باپ داداؤں سے سنا اور دیکھا تھا علیٰحدگی اور جدائی اختیار کرتا ہوں اور اس دین کے اخلاص کے چاروں مرتبوں یعنی ترک مال،ترک جان،ترک ناموس وعزت اور ترک دین کو قبول کرتا ہوں۔
جو لوگ اس دین اکبری میں داخل ہوتے تھے انھیں چیلہ کہا جاتا تھا اور خود یہ لوگ اپنے آپ کو الٰہیان کہتے تھے ان کا دستور یہ ٹھہرایا گیا کہ اپنے خطوط کے سرناموں میں اللہ اکبر لکھا کریں،جب اس پیر اکبر کے مرید آپس میں ملتے تو بجائے سلام کے ایک اللہ اکبر کہتا اس کے جواب میں دوسرا جل جلالہ کہتا۔
جو شجرہ عطا کیا جاتا اس کی شکل یہ تھی کہ بادشاہ کی ایک شبیہ(تصویر)مریدوں کو دی جاتی تھی اس تصویر کو اخلاص کی علامت،پختگی اور دولت اقبال کا مقدمہ خیال کیا
جاتا تھا،ایک مرصع جواہر نگار غلاف میں اس کو رکھ کر یہ لوگ اپنی اپنی دستاروں پر لگاتے تھے ،علاوہ ان معبودوں کے جنھیں پیر پوجتا تھا مریدوں کے لیے خود بادشاہ کی عبادت بھی دین جدید کے اہم ارکان میں شمار ہوتی تھے،اس عبادت کا طریقہ یہ تھا ،بدایونی فرماتے ہیں:
ہر صبح میں اس وقت جب بادشاہ جھروکہ میں آفتاب کی پوجا کرتا تھا ان مریدوں کی جب تک بادشاہ کے مبارک چہرہ پر نظر نہ پڑتی تھی نہ تو یہ دتون کرتے تھے ،اور کھانا پانی اس وقت تک ان پر حرام تھا (رات ہی کے وقت سے)ہر شب میں حاجت وضرورت والے خواہ ہندو ہوں یا مسلمان عورتوں مردوں میں سے اچھے بیمار سبھی طرح کے لوگوں کو اس جگہ آنے کی عام اجازت تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ ایک بڑا ہنگامہ ایک بڑا میلہ روز لگ جاتا تھا ،بادشاہ جوں ہی آفتاب کے ایک ہزار ایک نام کے وظیفہ سے فارغ ہوکر پردہ سے باہر آتا سب کے سب ایک دفعہ سجدے میں گرجاتے''
الغرض بادشاہ تو ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر اس چیز کا پجاری بن گیا تھا جس میں نفع وضرر کا پہلو کچھ بھی نمایاں ہوتا اور بادشاہ کے مرید علاوہ ان معبودوں کے خود اپنے پیر کو بھی پوجتے تھے اس سجدہ کا نام ''زمین بوسی''رکھا گیا تھا۔
اس سلسلہ میں تاج العارفین کا صوفیانہ اغواء بھی شریک تھا یہ مولانا زکریا اجودھنی کےصاحبزادے تھے اور ‘‘نزہۃ الارواح’’ جو تصوف کی مشہور کتاب ہے اس پر شرح بھی لکھی تھی آپ ہی نے بادشاہ کو‘‘عین واجب’’ الاقل (کم سے کم) ‘‘عکس واجب’’ قرار دے دیا آگے یہ ہواکہ بادشاہ کے لیے سجدہ تو جائز قرار دیا اور اس کا نام زمین بوسی رکھا اور بادشاہ کے ادب کا خیال فرض ٹھہرایا گیا اور بادشاہ کو مقاصد ومرادوں کا کعبہ اور اس کے چہرے کو قبلۂ حاجات مقرر کیا گیا اور بعض کمزور روایتوں اور ہندوستان کے بعض صوفیوں کے طرز عمل سے اس دعوے کو ثابت کیا جاتا تھا۔
یہ تحریریں صاف بتا رہی ہیں کہ جو کچھ بادشاہ اغوا واضلال کا سامان تیار کرتا تھا اس کے چاپلوس چیلے اور دنیا کے کتے اس کے جواز واثبات کے لیے دلائل کے انبار لگانے کی کوشش کرتے تھے،یہ ایک منظم کام تھا اور یہ کام ہر بھیس میں ہورہا تھا خواہ علما ہوں یا صوفیا۔
ایک عالم صاحب کی حالت حضرت بدایونی لکھتے ہیں کہ وہ جب دربار میں داخل ہوا تو گردن ٹیڑھی کرکے کورنش بجالایا اور دیر تک ہاتھ باندھے اور آنکھیں بند کیے کھڑا رہا دیر کے بعد جب اسے بیٹھنے کا حکم ملا تو فورا سجدے میں چلا گیا اور اونٹ کی طرح بیٹھ گیا۔’’
دین الٰہی اکبر شاہی کی عبادت وعقائد کا یہ مختصر بیان تھا اس کے بعد اب اعمال کی باری آئی تو اس میں بھی تغیر ضروری تھا لہٰذا یہ کیا گیا کہ سود وجوئے وغیرہ کو حلال کیا گیا اور شراب کی حلت کا فتویٰ دیا گیا اس کے لیے با قا عدہ انتظام کیا گیا، جوئے کے لیے ایک گھر بنوایا گیا اور شراب خانہ قائم کیا گیا ،شراب نوشی میں غلو کی حد ملاحظہ فرمائیے کہ حضرت بدایونی فرماتے ہیں:نوروز کی مجلسوں میں اکثر علما وصلحا بلکہ قاضی ومفتی تک شراب نوشی کے میدان میں اتارے جاتے تھے فیضی کی گستاخیاں اس حد تک پہنچ گئی تھیں کہ ملک الشعرا فرمایا کرتے کہ یہ پیالہ میں فقہا کے اندھے پن کے نام سے پیتا ہوں۔
دین الٰہی میں ڈاڑھی منڈانے کو بھی خاص اہمیت دی گئی سب سے پہلے راجاؤں کی لڑکیوں نے اکبر کو ابھارا اس کے بعد علماے سو نے اس کے جواز پر دلائل کے ڈھیر اکٹھے کر دیے اور اس مبارک سنت کے بارے میں ایسی نا زیبا اور فحش باتیں بکی گئیں کہ الامان و الحفیظ۔
غسل جنابت کی فرضیت ساقط کر دی گئی اور حکم دیا گیا کہ پہلے آدمی غسل کرے
پھر ہمبستری کرے،اسی طرح نکاح وازدواج سے متعلق نئے قوانین گڑھے گئے، پردہ کو ختم کردیا گیا ،متعہ کے جواز کا فتویٰ دیا گیا اور ختنہ کے سلسلے میں یہ قانون بنایا گیا کہ بارہ سال کی عمر سے پہلے ختنہ نہ ہو اور بعد میں لڑکے کی مرضی ہے۔
یہ سب برہمنوں ہندووں کو خوش کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا ، میت کے سلسلہ میں یہ حکم نافذ کیا گیا کہ خام غلہ اور پکی اینٹیں اس کی گردن میں باندھ کر مردہ کو پانی میں ڈال دیا جائے اگر پانی نہ ہو تو آگ میں جلا دیا جائے یا چینیوں کی طرح کسی درخت میں باندھ دیا جائے بادشاہ کا ایک قاضی مرید سلطان خواجہ جب مرا ہے تو اکبر نے یہ بھی حرکت کی ہے کی اس کی قبر میں کھڑکی بنوادی سورج کے مقابل تاکہ اس کی شعائیں اس پر ٹکرا کر گناہوں سے پاک کرتی رہیں،مردہ کی ٹانگیں ٹھیک سمت قبلہ کی جانب کی جاتیں بلکہ اکبر جب سوتا تب بھی ٹانگیں قبلہ کی طرف کر لیتا۔
الغرض دین اکبری کی بنیاد سراسر اسلام وسنت کے خلاف رکھی گئی اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسلام وسنت کے خلاف قانون بنائے جاتے خواہ وہ کتنے ہی گھناؤنے کیوں نہ ہوتے،ہر مسئلہ میں اسلام کی تضحیک وتذلیل مقصود تھی یہ اسی اسلام دشمنی کا نتیجہ تھا کہ کتے اور سور کو پاک ٹھہرایا گیا ،فیضی کا جنون دیکھیے کہ کتوں کو ساتھ رکھتا اور ان کے ساتھ کھانا کھاتا،بعض شعرا تو کتوں کی زبانیں تک اپنے منھ میں رکھ لیتے۔
آہ صد آہ!جب سے دین محمدیﷺ اس دنیا میں جلوہ گر ہوا کبھی کسی دور میں اس پر وہ ظلم وستم نہ ڈھائے گئے ہوں گے اور نہ اس طرح عداوت ودشمنی سے کام لیا گیا ہوگا ،ادیان باطلہ کے حاملین کفار کو بھی کبھی ایسی جرأتیں اور ہمتیں نہ ہوئی تھیں جو اس اکفر نے کی تھیں،میں نے تو بہت اجمال کے ساتھ مختصر نقشہ کھینچا ہے حضرت ملا عبدالقادر بدایونی کی منتخب التواریخ پڑھیے کلیجہ منھ کو آتا ہے ،جنھوں نے سن کر نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھ کر سب کچھ لکھا ہے میں نے ہلکا خاکہ ''تذکرہ مجدد الف ثانی''
سے نقل کردیا آپ قدرے تفصیل مذکورہ کتاب میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
غرضیکہ ہر طرح سے حملے کیے گئے جب دین الٰہی وضع وتدوین کے اس حصہ میں آگیا تو پنڈتوں کے اثر ورسوخ کا یہ منظر بھی ملاحظہ فرمالیجیے،ایک دن مجمع عام کے سامنے تقریر کرتے ہوئے اکبر کہتا ہے:''اب ہندی زبان کی کتابیں جو ہندوستان کے مرتاض (پسندیدہ) وعابد دانشمندوں کی تصنیفات ہیں یہ سب صحیح اور بالکل یقینی علوم پر حاوی ہیں اس گروہ(ہندؤں)کے اعتقادات وعبادات کا سارا دارومدار انھیں کتا بوں پر ہے میں کیوں نہیں ان کتا بوں کے ترجمے ہندی زبان سے فارسی زبان میں اپنے نام سے کراؤں کہ یہ ایسی کتا بیں ہوں گی جو فارسی میں مکرر مضمون والی نہ ہوں گی بلکہ تازہ معلومات ہوں گی اور ان سے دنیوی ودینی سعادت فتح وشوکت وحشمت بے زوال کے نتائج حاصل ہوں گے اور کثرت مال واولاد کا یہ ذریعہ ہوں گی۔
ادھر حکم ہوا دفتر قائم ہو گیا علما مقرر ہو گئے جنھوں نے تیزی سے یہ کام شروع کردیا ادھر جن سے اسلام باقی رہ سکتا تھا ان کے بارے میں یہ فرمان جاری ہوا ‘‘عربی پڑھنا عربی جاننا عیب قرار دیا گیا اور فقہ وتفسیر وحدیث کے پڑھنے والے مردود ومطعون ٹھہرائے گئے اسی سال یہ فرمان جاری ہوا کہ ہر قوم عربی علوم کو چھوڑ کر صرف علوم نادرہ وغریبہ یعنی نجوم،حساب،طب اور فلسفہ پڑھا کریں پھر حشر یہ ہوا کہ مدرسے اور مسجدیں سب ویران ہیں اکثر اہل علم جلاوطن ہو گئے ان کی اولاد ناقابل جو اس ملک میں رہ گئی ہے پاجی گیری میں نام پیدا کر رہی ہے''پھر معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہو گیا بلکہ اس کے آگے بھی بہت کچھ ہوا ہے کہاں تک بیان کیا جائے۔