باب ۱۲ از ۵۷صفحات ۱۶۸–۱۸۴
حضرت شاہ عبد العزیز کی تحقیق
‘‘ولایت خلت کے علاوہ دوسری ولایتوں کا بیان شارع نے کیا ہے چاہے وہ بیان صراحت کے ساتھ ہوا ہو چاہے کنایہ اور اشارے سے،جیسے ولایت محبت ہے اس کا پتہ
یحبہم و یحبونہم اور یحب اللہ ورسولہ اور یحبہ اللہ ورسولہ سے اور ولایت رضا کا پتہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اور لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ سے پتہ چلتا ہے لیکن ولایت خلت کا پتہ کسی جگہ سے نہیں ملتا ہے۔
حضرات صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد حضرت جنید بغدادی اور مشائخ قادریہ و چشتیہ کے زمانے تک ولایت خلت کے علاوہ دوسری ولایتوں کے ذریعہ کمالات حاصل کیے جاتے تھے اور ان ولایتوں سے کمالات حاصل کرنے کے طریقے کتابوں میں مدون و مرتب اور مبوب ہوئے،حضرت مجدد سے پہلے طریقۂ نقشبندیہ کی راہ محبت و محبوبیت تھی،ذکر جہر و وجد و شوق ان کا مشغلہ تھا،حضرت عبد الخالق اس طریقہ کے بانی ہیں ان کو خضر نے ذکر خفی کی تعلیم دی حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری نے اس طریقے کی آبیاری کی اور وہ بار آور ہوا،حضرت خواجہ ناصرالدین عبید اللہ احرار کے زمانے میں علوم توحید کا امتزاج ہوا یعنی جناب شیخ اکبر کے بیان کردہ علوم اس طریقے میں بھی رائج ہو گئے اور اس امتزاج نے ایسا رنگ پیدا کیا کہ علوم توحید کا غلبہ ہو گیا۔
اب حضرت مجدد قدس سرہ کا زمانہ آیاآپ نے ان تمام علوم کو بطون البطون میں پہنچایا یعنی اس کو چھوڑا اور اپنے چاک سینہ سے محبوب تک پہنچنے کا ایسا راستہ نکالا کہ شوق ووجد ایک طرف رہ گیے اور مدار کار قلب،روح،سر،خفی،اخفیٰ اور عناصر پر ہوا یہاں تک کہ باطن سے انوار اٹھ اٹھ کر پھر باطن پر گرنے لگے تا آں کہ مقام خلت نے جلوہ دکھایا۔
محبت عاشقی ہے اور محبوبیت معشوقی اور خلت دوستی و یاری، عاشقی میں آہ و نالہ و بے تابی اور سر پھوڑنا ہے،معشوقی میں ناز و دلار اور فخر ومباہات اور خلت میں صحبت و سرگوشی اور راز ونیاز از جانبین،یہ ہے اجمال صباحت خلت اور اگر کوئی تفصیل چاہتا ہے
تو حضرات مجددیہ کی صحبت چند سال اختیار کرے اور پھر بطریق وجدان خود ملاحظہ کرے اور دیکھ لے کہ ولایت محمدی کا حسن ملاحت و لایت ابراہیمی کے جمال صباحت سے کس طرح ملا ہے اور اس کی آمیزش سے محبوبیت محمدیہ کا مقام کس درجۂ علیا کو پہنچا ہے۔’’
راہ ولایت خلت کا بیان ایک ہزار سال سے کسی نے نہیں کیا تھا یہ مقام سردار دوعالم ﷺ کے جو ہر شریف میں مکنون و مخزون تھا،اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات کو اس مقام کے ظہور کا منشأ بنایا اور آپ کے طفیل ہزارہا طالبان حق اس راہ سے مستفید ہوئے۔۔۔
عجب تر یہ ہے کہ سالہا سال حضرت مجدد قدس سرہ نے اس طریقہ اور اس راہ سے طالبان حق کی رہبری کی اور پھر حضرت سکندر فرزند و پسر حضرت کمال کیتھلی سرہند آئے اور سر حلقۂ طریقۂ محبوبیت حضرت غوث صمدانی سیدنا عبد القادر جیلانی کا مبارک خرقہ آپ کو پہنایا،اس طرح آپ از راہ خلت مقام محبوبیت کو پہنچے،پروردگار عالم اپنے خاص بندوں سے ایسے عجیب معاملات کرتا ہے،عجیب تر معاملہ یہ ہے جو اس نے اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ کیا ہے کہ ابتداے کار مقام ابراہیمی سے ہوئی جب کہ آپ نے حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھا پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لے گیے اور آپ نے یہود ونصاریٰ سے جہاد کیا اور آپ کو مقام مو سوی اور مقام عیسوی عنایت ہوا ان دونوں مقاموں کا آغاز از وقت اسراء بہ سوئے بیت المقدس ہو چکا تھا اور غزوۂ تبوک میں اس میں تضاعف وتزاید ہوا اور حجۃ الوداع میں پھر کمال ابراہیمی سے مشرف ہوئے اور اس طرح النہایۃ ہی الرجوع الیٰ البدایۃ متحقق ہوا یعنی ابتداء سیر سالک جہاں سے ہوتی ہے جب لوٹ کر پھر اسی مقام پر آجا تا ہے تو سیر کی انتہا ہو جاتی ہے۔’’(حضرت مجدد اور ان کے نا قدین،از۔ فاروقی صاحب)
سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی قدس سرہ کا بیان آپ نے پڑھا اور بار بار پڑھئے کہ شاہ صاحب نے کس قدر دقیق معرفت کو آسان کر دیا اور حضرت مجدد قدس سرہ کے تجدیدی کمالات جن کی وجہ سے آپ ہزارۂ دوم کے مجدد ہوئے کتنی وضاحت کے ساتھ بیان فرمادیا،حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے مبارک کلام میں خود ان کی بلند پایہ شخصیت جہاں جلوہ گر ہے وہیں مجدد قدس سرہ کے مخصوص کمالات اور ان کی نسبت کے خصائص بھی جلوہ گر ہیں۔
اس کمال کی گہرائی میں آپ اتریں تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ ہزارۂ دوم میں پہنچتے پہنچتے انسانی استعداد کس منزل پر آ گئی تھی رفتہ رفتہ اولیاے کا ملین کم ہوتے جا رہے تھے،بڑے اور بلند مقامات تک وصول کس قدر مشکل ہوتا جا رہا تھا،قرب خاص کی دولتوں سے محرومی بڑھتی جا رہی تھی،حضور سرور کو نین ﷺ کے مخصوص اور بلند پایہ کمالات تک وصول نہایت دشوار ہوتا جا رہا تھا،رحمت الٰہی کو اپنے بندوں کی ضعیفی و نا توانی پرترس آیالہٰذا حضرت مجدد قدس سرہ کو پیدا فرما کر حسن ملاحت کے ساتھ اجمال صباحت کے انصباغ وامتزاج نے کیا گل کھلائے کہ بہاروں پر بہار آ گئی،پھر سے معرفت و قرب خاص کا دور جام آ گیا اور دلوں کے پیمانے شراب معرفت سے چھلکنے لگے،روحانیت کا دور دورہ ہوا اور حق کی شعائیں تیز تر ہو گئیں اور پھر سے وہ سارے کمالات جلوہ دکھانے لگے جو ایک دو ابتدائی صدی تک رہ کر روپوش ہو گئے تھے۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے بڑے لطیف اور دقیق اشاروں میں اپنے مخصوص کمالات بیان فرمائے اور ملاحت وصباحت کو اور ان کے کمالات کے درمیان فرق بتایا ہے،چند اشارے میں بھی سپرد قلم کرتا ہوں:
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ملت ابراہیمی کی اتباع و
پیروی کا حکم دیا اور سرکار علیہ الصلاۃ والسلام نے درود ابراہیمی میں اپنی امت کو تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے نبی ﷺ کے لیے اسی طرح صلوات و برکات مانگیں جو حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے تھیں،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ شاید اس سے مقصود اسی دولت عظمیٰ کا حصول ہے اور یہی غرض مطلوب ہے،اب آپ سنیں کہ ملاحت وصباحت میں کیا فرق ہے؟
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں حسن ذات تعالیٰ کی مخبر ہیں صفات کی آ میزش کے بغیر لیکن حسن صفات و افعال و آثار سب کا سب حسن صباحت سے مستفاد ہے کہ کثیر البرکت ہے،حسن ملاحت حضرت اجمال کے زیادہ مناسب ہے گویا ملاحت مر کز ہے حسن(مطلق) کے لیے اور صباحت اس مر کز کا دائرہ۔۔۔
یہ بھی دھیان رہے کہ حضرت ذات میں بساطت بھی ہے اور وسعت بھی اگرچہ یہ بساطت و وسعت ہماری عقل کے ورا ہے اور یہ دونوں ایک دوسری سے ممتاز بھی تو ملاحت و صباحت بھی ایک دوسری سے ممتاز اور جدا ہو ں گی،نیز ان دونوں کے کمالات بھی ایک دوسرے سے ممتاز ہو ں گے۔
اب جبکہ حضرت مجدد قدس سرہ کا دور آیا تو حسن ملاحت اور حسن صباحت کا امتزاج ہوا اور ملت ابراہیمی کی پیروی کے حکم اور صلوات و برکات مذکورہ کی طلب سے مقصود تھا لہٰذا اب ہزار سال پورے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مجدد قدس سرہ کو سبب بنا دیا اور پھر آپ قدس سرہ کے الفاظ میں‘‘و آنچہ مقصود از آ فرینش خود می دانستم معلوم شد کہ بحصول پیوست و مسئول ہزار سالہ باجابت قرین گشت۔’’
پھر اس کے بعد حضرت مجدد قدس سرہ کی نوک قلم سے یہ عبارت نکلی ہے ‘‘الحمد للہ الذی جعلنی صلۃ بین البحرین و مصلحا بین الفئتین۔۔۔الخ’’ علما نے اس عبارت میں دو چیزیں خاص طور سے بیان فرمائی ہیں ایک تو یہ کہ حضرت
مجدد قدس سرہ کے وجود مسعود سے دریاے شریعت اور دریاے طریقت میں ملاپ ہو گیا۔
جنھوں نے آپ کو گہرائی سے پڑھا ہے وہ جا نتے ہیں کہ طریقت و تصوف میں کہاں کہاں سے کیا کیا آگیا تھا جسے آپ نے ساری آلا ئشوں سے پاک فرما کر خالص شرعی تصوف بنا دیا گویا شریعت کے قوانین و ضوابط ہی صرف تصوف ہیں اس سے ہٹ کر کچھ نہیں۔
دوم علما و صوفیہ کے ما بین عقائد و اعمال میں ایک خاص جنگ چھڑ گئی تھی اور یہ آج تک کہا جاتا ہے کہ علما اور صوفیہ میں کبھی نہیں بنی،حضرت مجدد قدس سرہ نے دونوں کو باہم اتنا کھینچا اور ایک دوسرے سے قریب کیا کہ دونوں گو یا ایک ہی چیز ہو گئے،جو عالم ہے وہ صوفی اور جو صوفی ہے وہ عالم،یہ دونوں نکتے اپنی جگہ بجا ہیں اور عبارت مذکورہ میں دونوں کی طرف پورا پورا اشارہ ہے اور یہ بھی تجدید الف ثانی کی ز بردست عطا ہے لیکن اس مکتوب گرامی میں پہلی مرتبہ یہ عبارت جس موقع و محل پر نوک قلم سے نکلی ہے وہ اس بات کی صاف غمازی کرتی ہے کہ دو دریاؤں کو ملانے میں دریائے حسن ملاحت اور حسن صباحت کا انصباغ اور امتزاج بھی ہے فللہ الحمد۔
اب آپ کے وجود مسعود سے امت پر کمالات ممتزجہ کے دروازے کھل گیے اور کم وقت میں ایک ساتھ ان دونوں دولتوں سے حصہ حاصل ہونے لگا،فسبحان اللہ و بحمدہ۔
معاملۂ مذکورہ تو آپ کے وجود مسعود سے وابستہ ہی تھا اس کے علاوہ آپ کے سپرد ایک دوسرا بھی عظیم کا رخانہ سونپا گیا ہے اور وہ ہے کیا؟ مکتوب کی آخری سطر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کارخانۂ دیگر عظیم آپ کے ظہور مقدس سے کمالات نبوت ورسالت و اولوا لعزم وغیرہ کا ظہور ہے جو کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کے دنیا سے تشریف لے
جانے کے بعد بقول حضرت مجدد قدس سرہ تابعین اور تبع تابعین تک چلا ہے اور اس کے بعد روپوش ہو گیا ،آپ تاریخ کا بالتفصیل مطالعہ کر لیں اور صوفیہ کرام کے بیان کردہ کمالات پڑھ لیں کمالات نبوت وغیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملے گا بلکہ صرف کمالات ولایت کی جلوہ گری نظر آئے گی۔
یہ ہیں آپ کے ظہور وجود سے مقصود کا ئنات کو عطا کرنا جو الف ثانی کے ساتھ مخصوص ہیں،آپ قدس سرہ فرماتے ہیں میری پیدائش سے مقصود خلق کا ارشاد و تکمیل نہیں ہے معاملہ دیگر اور کارخانہ دیگر ہے اس ضمن میں جو بھی منا سبت رکھے گا فیض پائے گا ورنہ نہیں تکمیل و ارشاد کا معاملہ اس کا رخانہ کی نسبت مطروح فی الطریق امر کی طرح ہے،انبیاے کرام علیہم الصلوات وا لتسلیمات کی دعوت ان کے با طنی معاملات کے بنسبت یہی حکم رکھتی ہے’’
آپ دیکھ رہے ہیں کہ مخلوق کی رہبری و ہدایت حضرت مجدد قدس سرہ کے لیے ایک ضمنی چیز تھی یہ تو آپ کی قوت و طاقت کے لحاظ ہے اتنا بڑا کا م ہو گیا جو ظاہراََ تجدید کا سبب بنا ورنہ در حقیقت تجدید الف ثانی آپ قدس سرہ کے اسی قسم کے کمالات ہیں جو آپ کے ذریعہ امت کو ملے ہیں اور مل رہے ہیں۔
آج آپ کو رحلت کیے ہوئے کئی صدیاں گزر گئی ہیں اب کوئی بتائے کہ آپ کے بعد وہی کمالات جلوہ گر ہو رہے ہیں جو آپ نے دیئے ہیں یا ان صدیوں میں کوئی اور بھی ایسا آیا ہے جو تا زہ کمالات دے گیا ہو؟ اور جو کچھ صدیاں با قی رہ گئی ہیں ان میں آنے والی نسلیں دیکھ لیں گی اور معلوم ہو جائے گا کہ جس تجدید کو تجدید الف ثانی کہا جا رہا ہے وہ کچھ اور ہی ہے ،ہم نے تجدید الف ثانی کی طرف اشارے کر دیے ہیں آپ مزید تفصیل آئندہ اوراق میں پڑھیں گے نیز جو روحانی کمالات کے زیر عنوان ہم کمالات سپرد کر چکے ہیں وہ اکثر تجدید الف ثانی کے بہت بڑے عطیات ہیں۔
حضرت مجدد قدس سرہ کی تجدید جہاں اس حیثیت سے ممتاز ہے کہ آپ ہزارۂ دوم کے مجدد تھے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور آگے کریں گے بھی،اور تجدیدی خدمات جو ہزارۂ دوم میں آپ کی مقدس ذات سے وجود میں آئی ہیں اور جن کمالات کا ظہور ہوا ہے اور اوائل کی نسبتوں کو جلوہ دیا ہے کوئی بھی غور کرے کہ آج ان عطیات کا تعلق صدی سے نہیں ہے بلکہ یہ فیوضات و برکات اور علوم و معارف اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک اس ہزارۂ دوم میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور مسعود نہیں ہو تا ہے۔
آپ کی تصریحات موجود ہیں کہ آپ کے علوم و معارف حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے سامنے پیش ہوں گے،جس نے بھی آپ کو پڑھا ہے وہ جانتا ہے کہ جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس میں ذرا بھی مبا لغہ نہیں ہے،جو لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہیں وہ در اصل عدم علم کی وجہ سے یا پھر تعصب وعناد کی وجہ سے،مگر اس سے آپ کے کمالات پر کوئی پردہ پڑنے والا نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آپ کی عظمت و رفعت پر کوئی آنچ آنے والی ہے۔
آپ کی تجدید کی یہ بھی امتیازی شان ہے کہ دین کے تمام اہم شعبوں عقائد و اعمال اور ظاہری و باطنی کمالات پر حاوی ہے،جب کہ اس سے پہلے کی تجدیدیں زیادہ تر کسی ایک شعبے سے تعلق رکھتی تھیں،نیز آپ کی تجدید کا یہ بھی خصوصی نشان ہے کہ آپ کو بالاتفاق سبھی مجدد مانتے ہیں اور وصف مجددیت ہی کے ساتھ آپ عالم میں مشہور ہوئے حتیٰ کہ بہت سے لوگ آپ کو مجدد الف ثانی ہی کے نام سے پہچانتے ہیں وہ آپ کا اصلی نام تک نہیں جانتے ہیں،یہ سب کچھ منجانب اللہ ہوا۔
پہلے کے مجددین کی تجدید آج نرے خواص تک کو نہیں معلوم ہو سکی اور نہ سب کی اتفاقی چیز ہو سکی،کسی نے کسی کو مجدد مانا تو کسی نے کسی کو۔
یہ بھی آپ کی خصوصیات سے ہے کہ آپ کی تجدید الہامی تھی اور آپ اس کے اظہار پر ما مور تھے،حضرت خواجہ محمد ہا شم کشمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقام پر بڑی لطیف بات تحریر فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کو کئی مرتبہ تجدید الف ثانی کا الہام ہوا اور اس کے اظہار کا حکم ملا پھر آپ نے اس کا اظہار فرمایا،حضرت خواجہ ہاشم کے دل میں خیال آیا کہ اگر علماے وقت سے بڑے علما بھی آپ کی تجدید الف کو تسلیم کر لیتے تو بڑی تا ئید ہوتی،اسی خیال کے ساتھ ایک دن حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت با برکت میں حاضر ہو ئے،حضرت مجدد قدس سرہ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی نے کہ علوم عقلیہ و نقلیہ اور بلند تصانیف میں ان جیسا اس وقت ہندوستان میں نظر نہیں آتا ہے،میرے پاس خط بھیجا ہے اور تبسم کرتے ہو ئے فرمایا،ان تعریفی کلمات سے ایک یہ تھا‘‘مجدد الالف الثانی۔’’
خواجہ محمد ہا شم قدس سرہ فرماتے ہیں کہ پو شیدہ نہ رہے کہ ان مولانا مذکور(عبد الحکیم صاحب سیالکوٹی)نے ایک رات واقعہ میں حضرت مجدد قدس سرہ کو دیکھا تھا کہ آپ مولانا پر آیت‘‘قل اللہ ثم ذرہم’’پڑھ رہے ہیں،اس واقعہ کو دیکھنے کے بعد حضرت مولانا صاحب حضرت مجدد قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے،تعلیم پائی اور مخلصان حقیقی سے ہو گئے،پس ظا ہری ملا قات سے پہلے مولانا کہتے تھے کہ حضرت مجدد کا اویسی ہوں،حضرت خواجہ فرماتے ہیں کہ اس مرتبہ یعنی تجدید الف والا اگر ان خصائص سے نوازا جائے تو تعجب خیز کو ئی بات نہیں۔(دیکھیے برکات احمدیہ ص:۱۷۵،۱۷۶)
آپ کے عظیم کمالات سے یہ بھی ہے کہ آپ کا ظاہری و باطنی فیضان اس قدر عام ہوا کہ کو ئی ملک اور صوبہ نہیں بچا جہاں فیض نہ پہنچا،نیز بڑے بڑے فقہاء و محدثین،مفسرین،متکلمین اور بڑے بڑے منطقی اور فلسفی آپ کے کمالات سے بہرہ ور
ہو ئے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں بالواسطہ یا بلا واسطہ داخل ہو ئے۔
با ت کافی طویل ہو گئی چونکہ تجدید کے سلسلے میں قیا س آرائیاں اور کو تا ہیاں بہت ہو گئی ہیں اس لیے تفصیل سے گفتگو کرنا پڑی ہمیں امید ہے کہ ہر ناظر منصف تجدید کو سمجھ سکتا ہے اور تجدید مائۃ و تجدید الف کا فرق محسوس کر سکتا ہے اب ہم چند اہم گو شوں پر تجدید الف ثانی کی خدمات کا جائزہ لیں گے اور تاریخ کی روشنی میں آپ قدس سرہ کی اہم تجدیدی کار ناموں کو سپرد قلم کریں گے جس سے جہاں آپ کے تجدیدی کار نامے سامنے آئیں گے وہیں لوگوں کو کام کی راہیں بھی معلوم ہونگی اور پتہ چل جائےگا کہ جب پرور دگار کام لینا چاہتا ہے تو ایک سے بھی وہ لے لیتا ہے جو ہزاروں مل کر نہیں کر پاتے ہیں۔
سنت وبدعت:
آپ پہلے پڑھ چکے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے سارے کمالات کی تجدید کی بنا عقائد اہل سنت وجماعت اور سنت پر عمل پر رکھی ،عقائد حقہ پر جو جماعتیں حملہ آور تھیں ان میں علماء سو پیش پیش تھے دوسرے فلاسفہ تیسرے صوفیہ خام،عقائد کے سلسلے میں انھوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے اسے آپ پڑھ چکے،علماء کی ذہنی اور فکری تعمیر میں ان کے اساتذہ اور کتابوں کے مطالعہ کو بہت دخل ہوتا ہے،علماء سو کی فتنہ وفساد کی دبی ہوئئ چنگاریوں کو سب سے زیادہ ہوا دینے والا فلسفہ تھا ۔
فلسفہ چونکہ ایک عرصۂ دراز سے چلا آرہا ہے اپنے اپنے دور میں علماء حق نے اس کی قباحتیں بیان کیں لیکن عقلیت اور بحث وتدقیق کی ظاہری جاذبیت اس کے اندر ایسی تھی کہ کہ علماء اسلام میں بجائے نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جانے کے یہ مقبول ہی ہوتا چلا گیا ،بعد میں فلسفہ کی اشاعت وترویج میں اسلامیوں نے جو کوششیں کیں وہ کسی نے نہیں کیں،اور اس کو ایک ایسا دقیق فن بنادیا کہ اور اسلامیات میں ایسا داخل
کردیا کہ گویا اس سے ہٹ کر علم کا تصور ایک ناقص تصور ہو گیا اور مولوی،علام اور فاضل کی دنیا میں وہی وقعت کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا جو اس میں خاص دسترس کا مالک ہوتا،اکبر کے دور میں یہ نقطۂ عروج کو پہنچ گیا تھا اور علماء کا شغف انتہائی درجہ بڑھ گیا تھا جیسا کہ آپ تفصیل سے پڑھ چکے، مگر چونکہ اس کی قباحتیں اتنی عام تھیں کہ عوام وخواص عموما اس کے اثرات سے اس قدر متاثرنہ ہوئےتھے کہ اس کے خلافِ اسلام نظریات کو قبول کر لیتے،ہاں! جن کے دلوں میں کجی تھی انھوں نے اسلامی عقائد پر سے ترجیح دی،ایسے علماء کو بھی عوام بہت جلد پہچان لیتی ہے ایسے علما کا اثر بلا واسطہ عوام پر کم ہوتا ہے،مخصوص لوگوں پر زیادہ ہوتا ہے۔
خاص کر اس دور میں بظاہر مسلمانوں کی حکومت تھی اس لیع علمی منصبوں پر انھیں لوگوں کے قبضے تھے اور حکمراں طبقہ کو گمراہ کرکے بادشاہ وقت کو راستے سے ہٹا کر جس راہ پر دالا وہ البتہ عوام پر موثر ہوا،اور پھر اسلام اور اہل اسلام کی آبرو ریزی اور کفر واہل کفر کی عزت وتوقیر میں کافی ممد ومعاون ثابت ہوا،الغرض مجددانہ بسیرت اتنی تیز ہوتی ہے کہ بال بال کی خبر رکھتی ہے،حضرت مجدد قدس سرہ نے ہر پہلو سے مقابلہ کیا اور بیک وقت علماء،عوام ،اہل حکومت اور مضر علوم سب کی طرف اصلاح کا منظم قدم اٹھایا جس کو ہم تفصیل سے بیان کرچکے۔
خلق کی رہنمائی عام طور پر دوقسم کے کوگوں کے ہاتھ میں رہی ایک علماء اور دوم صوفیہ،علماء کا ربط وضبط عوام سے کم رہتا ہے اور نہ علماء کافی صدیوں سے اس نظر اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں جس نظر اعتبار سے صوفیہ کو دیکھا جاتا ہے،ان کے ظاہری تقدس کو دیکھ کر عموما آدمی ان کو باطنی طور پر با عظمت تصور کرتا ہے لہۃذا ان سے ڈرتا بھی ہے اور اور ان کے عقائد واعمال کو راہ مستقیم بھی تصور کرلیتا ہے،پھر ان سے بیعت وارادت کا ایسا معنوی تعلق ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی سر مو مخالفت صرف اخروی
ہی نہیں بلکہ دنیوی خسارے کا سبب بھی سمجھتا ہے اسی لیے ان کی ہر بات کو من وعن قبول کرتا ہے۔
جو صوفیہ کرام واقعی دانائے راہ ہیں اور خدا رسیدہ ہیں،قیادت کے جوہر کے حامل ہیں ان کے ساتھ اس طرح کی خوش عقیدگی تو صرف اچھی ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے ، لیکن سب سے بڑا دھوکہ ان صوفیہ خام سے عوام وخواص کو ہوا جو حق وباطل اور اچھے وبرے میں تمیز نہ کر سکنے کی وجہ سے اور خود روشن ضمیری سے عاری ہونے کی وجہ سے ان خام صوفیوں کو پہچان نہ سکے،یہ ان کے نام سے موسوم تھے ان کےلباس میں تھے اور ان کی باتیں کرتے تھے اس لیے لوگوں نے ان کو بھی وہی درجہ دے دیا جو پختہ اور خدا رسیدہ بزرگوں کا تھا۔
ایسے صوفیہ سے چونکہ دینی نقصانات اس وقت بھی زیادہ تھے اور آج بھی زیادہ ہیں،ایسے لوگوں سے دو طرح کے نقصانات ہوئےاعتقادی بھی اور عملی بھی،اعتقادیات کو آپ قدرے تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اب اعمال میں بھی ان خامکاروں کی مختصر حال پڑھ لیجئے اور دیکھ لیجئے کہ فرائض وواجبات اور سنن کی ادائیگی میں اس قوم کا کیا حال تھا اور طریق مصطفیٰ ﷺ کے خلاف کس طرح بدعات ورسوم کی پابندیاں اس قوم کی سرشت میں داخل ہوگئی تھیں،جب ان رہنماؤں نے یہ روش اختیار کر رکھی تھی تو عوام سے کیا شکایت وہ تو وہی کرتے جو ان کے ہادی بتاتے،چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
(۱)باید دانست اکثر خلائق چوں ازیں معنٰی نصیب ندارند فرائض را خراب ساختہ در ترویج نوافل می کوشند،صوفیہ خام ذکر وفکر را از اہم مہمام دانستہ دراتیان فرائض وسنن مساہلات می نمایند وار بعینات وریاضات را اختیار نمودہ ترک جمعہ وجماعات می کنند۔(مکتوب ۲۶۰ ج۱)
ترجمہ:یہ تو جمعہ وجماعت کی بات ہے پوری شریعت کا حال ان کام صوفیہ کی نظر میں کیا تھا اسے آپ بالتفصیل پڑھ چکے جب شریعت کا یہ ہے تو جزئی اعمال کیا بحث ان لوگوں کی نظر میں جو اہمیت ووقعت اپنے پیروں کے اعمال کی تھی وہ شریعت کی نہ تھی۔
مکتوب ۲۶۶ میں فرماتے ہیں:
(۲)صوفیان خام ایں وقت عمل پیران خود بہانہ ساختہ سرود ورقص را دین وملت خود گرفتہ اند وطاعت وعبادت ساختہ اولٰئک الذین اتخذوا دینہم لہوا ولعبا
ترجمہ:اس وقت کے صوفیۂ خام نے اپنے پیروں کے عمل کو بہانہ بنا کر گانے اور ناچ کو اپنا دین اور مذہب بنا لیا اور طاعت وعبادت بنا لیا یہی لوگ ہیں جنھوں نے دین کو کھیل کود بنالیا۔
اس زمانے کے صوفیہ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ احوال ومواجید رکھتے تھے ،آج تو صرف نام ہے،شریعت کو بالائے طاق رکھ کر بلکہ اپنے پیروں کے سارے حدود وقیود کو ختم کرکے قوالیون کو دین ومذہب بنا لیا جب کہ آج کا ہر ذی شعور جانتا ہے کہ کہاں آج کا لہو ولعب کی یہ محفلیں جن میں عورتیں بھی جمع مرد بھی قوال بھی بے شرع فساق وفجار بے نمازی،شراب خور،اشعار بھی حمد ونعت سے ہٹ کر حسینوں کے حسن وعشق پر مبنی پڑھے جاتے ہیں ،اس طرح خود اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل کرتے ہیں اور سند بزرگوں کے سماع سے لاتے ہیں،علماء حق اگر گرفت کرتے ہیں تو وہ ان کی زبان می۹ں خشک ملا ہیں اگر یہ بزرگ ٹوکیں تو بہترین بہانہ یہ کہ علماء اور صوفیہ میں کبھی نہیں بنی۔
ان خامکاروں کا عمل اور ان کے مجر اثرات اگر خود ان تک محدود رہتے تو اتنا افسوس نہ ہوتا ،افسوس صد افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہابی اور دیوبندی ان جاہلوں کے
عمل کو سند بنا کر مذہب حق سے عوام کو برگشتہ کر رہے ہیں۔
اولیاے کرام رحمۃ اللہ علیہم جن کی بزرگی اور ولایت عالم میں مشہور،تقویٰ وطہارت اور خوف وکشیت جن کا شہرہ اافاق ان کو کبھی سند نہیں بناتے،ہاں! جن بعض بزرگوں سے غلبۂ حال وسکر میں یا استغراقی کیفیتوں میں بسا اوقات نماز کی پابندی نہیں دیکھی گئی ان کی یہ باتیں ان نادانوں کو یاد ہیں،جبکہ انھیں کبھی مسجد نبوی میں تو کبھی حرم کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ،ان کا ترک لذات یاد نہیں،اپنے محبوب حقیقی جل وعلا کی یاد میں زمین وجائداد کا ترک یاد نہیں،ان کے عظیم مجاہدات یاد نہیں کیونکہ ان میں نفس کو تکلیف ہے ۔
دنیا کی ساری عیش وعشرت موجود مال بٹورنے کے لیے رہبری مریدی پھر بھی صوفی ہیں جو جتنا بڑا بد عمل وہ آج کے دور کا اتنا ہی بڑا صوفی ہے، اس زمانے کے ان خام صوفیوں کا یہ اجمالی حال دیدۂ عبرت سے پڑھنے کے لائق ہے۔
(۳)اکثر جہلا صوفی نما ایں زمانہ حکم علماء سو دارند فساد اینہا نیز فساد متعدی است۔
ترجمہ: اس زمانے اکثر جاہل صوفی نما علمائے سو کا حکم رکھتے ہیں ان کا فساد بھی متعدی فساد ہے۔(یعنی اس کے مضر اثرات خود ان تک محدود نہیں بلکہ عوام بھی لپیٹ میں ہے)
(۴)حضرت مجدد قدس سرہ کے زمانے میں ایک بڑے صاحب حال صوفی تھے مکتوب ۲۹ سے پتہ چلتا ہے کہ موصوف کے بعض خلفاء ومرید انھیں سجدہ کیا کرتے تھے حضرت مجدد قدس سرہ انھیں تاکید فرماتے ہیں کہ یہ لوگ زمین بوسی پر قناعت نہیں کرتے ہیں اس فعل کی شناعت اظہر من الشمس ہے ان کو منع کریں اور منع میں سختی کریں اس قسم کے افعال سے اجتناب سب کو مطلوب ہےخاص کر وہ شخص جس
نے اپنے آپ کو خلق کی رہنمائئ کے لیے مقرر کیا ہوا ہے اس کے لیے اس قسم کے افعل سے پر ہیز اشد ضروریات سے ہے کہ مقلدین ان کے اعمال کی پیروی کریں گے اور بلا میں پڑیں گے(مکتوب ۲۹ ج ۱)
معلوم ہوا کہ رہبروں کو اپنے اعمال وافعال کی اور بھی زیادہ نوک پلک درست رکھنے کی ضرورت ہے،دراصل رہنمائی اور چیز ہے اور ہوس نفس کے لیے کچھ کرنا اور چیز،پیری مریدی سے سب سے زیادہ شغف اس لیے ہے کہ عزت واقتدار،مال ودولت،تن پروری جو آج اس سے حاصل ہے وہ کسی سے نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ پہلے کے مرید اپنے پیروں سے ڈرتے تھے اور آج کے پیر مریدوں سے کہ کہیں یہ برگشتہ نہ ہوجائیں ورنہ ہماری ساری منفعتیں خاک میں مل جائیں گی۔
ابمریدوں کو جورے رکھنے کے لیے ااج کے جو صوفیہ ہیں ان کے پاس نہ علم ہے نہ روحانیت نہ اعمال حسنہ اس لیے ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور مریدوں کو علم لدنی کا وہ سبق سکھاتے ہیں جو کبھی کسی کے حاشیۂ خیال میں بجی نہیں آیا ،نرے تو سراسر کفر بکتے ہیں اور جو علماء پیری مریدی کرتے ہیں ان کا خاندانی وقار اور آباء واجداد کی وراثت عموما انھیں چمکائے ہوئے ہے،تسوف وروحانیت تو جانتے ہی نہیں جو کچھ شریعت کا علم رکھتے ہیں وہ بھی نا معلوم کس ڈر سے مریدوں پر استعمال نہیں کرتے ، نہ انھیں نماز کے لیے کہیں نہ روزہ کے لیے نہ فسق وفجور سے توبہ کے لیے ،وہاں بھی اکچر ایسے ہی ہیں کہ یہ راضی بنے رہیں،ان میں آج عام عادت یہ ہوگئی ہے کہ جہاں کہیں ان کے مریدوں کے علاقے میں دوسرا پیر گھس گیا یا کسی کے کثرت سے مرید ہونے لگے تو فورا حسد وبغض کی آگ بھڑ کنے لگتی ہے پھر توہین وتنقیص پر اتر آتے ہیں اور اپنی آتش قلبی بجھانے کے لیے شرعی حیلے تلاش کرتے ہیں،غیبتوں اور چغلیوں کے عام دروازے کھل جاتے ہیں،عجب حال ہے سچ کہا ہے ڈاکٹر اقبال نے؎
الٰہی اب ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
حضرت مجدد قدس سرہ کا اپنے اور اپنے خلفاء ومریدین ومعتقدین کے بارے میں جو حال تھا وہ سب پر عیاں ہے ،آپ کی نڈر طبیعت کبھی کسی کے جاہ ومنصب سے متاثر نہ ہوئی بے دریغ ایک غریب سے لے کر امیر ،رعایا سے لے کر سلاطین ،مریدوں سے لے کر پیروں اور طلبہ سے لے کر اساتذہ سب کو ایک ہی نہج سے امر معروف اور نہی منکر فرمایا اور رات دن ساری توجہ اسی بات پر مبذول رہی کہ ساری بد عتوں کو ختم کرکے سنت کی شاہراہ سب کو عطا کردی جائے،کون نہیں جانتا ہے کہ قولا وعملا جو کچھ آپ نے اس سلسلے میں کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
خود یہ نظام تھانیسری کافی مقبول پیر تھے کثرت سے مریدین تھے،خلفاء بھی تھے،موصوف کے ذہن میں یہ بات آئی کہ نماز عشاء کو آدھی رات تک موخر کرکے پڑھا جائے تاکہ حضور وجمعیت حاصل ہو اور قیام لیل کی دولت سے مالا مال ہو سکیں،آپ قدس سرہ انھیں رعایت سنت کی اہمیت بتاتے ہوئے فرماتے ہیں:
پس نماز عشاء کو رات کے نصف اخیر میں گذارنا اور اس تاخیر کو تاکید قیام لیل کا وسیلہ بنانا بہت براہے کیونکہ حنفیہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک نماز عشاء کی ادائیگی اس وقت میں مکروہ ہے ،بظاہر اس کراہت سے کراہت تحریم مراد ہے کیونکہ نماز عشاء کی ادا کو آدھی رات تک مباح رکھا ہے ۔۔۔ اس طرف کے نصف(یعنی نصف اول کے بعد کو )مکروہ لکھا ہے پس جو مکرتوہ مباح کے مقابل ہے مکروہ تحریمی ہے ،اور شافعیوں کے نزدیک اس وقت میں نماز عشاء ادا کرنا جائز نہیں تو بواسطہ قیام لیل اور حصول ذوق وجمعیت کے لیے اس وقت میں اس امر قبیح کا مرتکب ہونا بہت برا ہے ’’
پھر آپ اس گرض کی تحصیل کے لیے انھیں یہ تدبیر بتاتے ہیں کہ اس غرض
کے واسطے ادائے وتر کی تاخیر کافی ہے اور وہ تاخیر مستحب ہے وتر بھی اچھے وقت میں ادا ہوگا اور قیام لیل اور وقت سحر کی بیداری کی غرض بھی میسر آئے گی۔
حضرت مجدد قدس سرہ کے اسی مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موصوف کا آب مستعمل بھی لوگ پیتے تھے چنانچہ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘نیز آب مستعمل (وضو وگسل میں بغرض ازالۂ حدث یا بہ نیت قربت استعمال کیا ہوا پانی) کہ حدث زائل کیا گیا ہو یابہ نیت قربت اس کا استعمال کیا ہو وضو میں جائز قرار نہ دیں کہ لوگ اس پانی کو پئیں کہ وہ پانی امام اعظم کے نزدیک نجس مغلظ اور فقہا نے اس پانی پینے کو منع کیا ہے اور اس کے پینے کو مکروہ کہا ہے،ہاں! آپ نے وضو کا بچا ہوا پانی پینے کو شفا کہا ہے اگر عقیدت سے کوئی طلب کرے تو اسی پانی سے دیں’’
حضرت مجدد قدس سرہ کا خود کا عمل آپ دیکھیں دہلی میں بعض متوسلین نے واقعہ میں دیکھا کہ کہ حضرت مجدد قدس سرہ ماء مستعمل پئیں ورنہ عظیم ضرر لاحق ہوگا حضرت مجدد قدس سرہ سے وہ لوگ بضد ہوئے آپ قدس سرہ نے سختےی سے منع کیا مگر وہ نہ مانے۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیا چھٹکارے کی صورت پیدا ہوئی کہ(اعضاء کو)تین مرتبہ دھونے کے بعد قربت کی نیت نہ کریں تو چوتھی مرتبہ میں پانی مستعمل نہ ہوگا،اس حیلہ سے تجویز کرتے ہوئے چوتھی بار کا دھویا ہوا پانی بغیر نیت قربت ان کو پینے کو دیا ’’
آپ دیکھ رہے ہیں احتیاط کا عالم، کاش لوگ نصیحت حاصل کرتے ! در اصل پیراور مرید کے درمیان باہمی عقیدت کے روابط اتنے نازک ہوتے ہیں کہ مریدوں کو سنبھالے رکھنا اور خود اپنے معاملے میں انصاف کرنا ہر کس وناکس کا کام نہیں ہے۔