باب ۴۷ از ۵۷صفحات ۶۴۹–۶۵۹
واقعہ
لطف کی بات یہ کہ ایک بار قیم طریقہ احمدیہ حضرت مرزا جانجاناں شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آقائے کا ئنات ﷺ کے جمال جہاں آرا سے مشرف ہوئے،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: حضور! حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان جیسا میری امت میں دیگر کون ہے؟(مثل ایشاں در امت من دیگر کیست؟) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے مکتوبات نظر مبارک سے گزرے ہیں؟ فرمایا : اگر کچھ یاد ہو تو پڑھو! بندہ نے آپ کے مکتوبات کی یہ عبارت کہ انہ تعالیٰ وراء الوراء ثم وراء الوراء پڑھی،آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے بہت پسند کی اور لطف اندوز ہوئے،فرمایا:پھر پڑھو! میں نے پھر یہ عبارت عرض کی،آپ نے پہلے سے زیادہ تعریف فرمائی،یہ حالت دیر تک رہی۔(مقامات مظہریہ ص:۵۹)
مکتوب ۲۲ جلد ۳ میں فرماتے ہیں:
‘‘حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نفس وجود میں اور توابع وجود کے تمام کمالات حیات،علم،قدرت،سمع،بصر،ارادہ،کلام اور تکوین میں اپنی ذات اقدس کے ساتھ کافی ہے اور ان کمالات کے حصول میں صفات زائدہ کا محتاج نہیں ہے،ہر چند
صفات کاملہ زائدہ بھی اس کے لیے ثابت ہیں،پس اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی ذات اقدس کے ساتھ موجود ہے نہ کہ وجود سے،اسی طرح اپنی ذات سے زندہ ہے نہ کہ حیات سے کہ اس کی صفت ہے اور اپنی ذات سے دانا ہے نہ کہ صفت علم سے اور اپنی ذات سے بینا ہے نہ کہ صفت بصر سے اور اپنی ذات سے سننے والا ہے نہ کہ صفت سمع سے اور اپنی ذات سے توانا ہے نہ کہ صفت قدرت سے اور اپنی ذات سے ارادہ کرنے والاہے نہ کہ صفت ارادہ سے اور اپنی ذات سے گویا اور کلام کرنے والا ہے نہ کہ صفت کلام سے اور اپنی ذات سے ایجاد کائنات کا مبدأ ہے نہ کہ صفت تکوین سے۔’’
اثبات صفات ضروری کیوں:
یہاں ہر کوئی سوال کر سکتا تھا کہ کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات تمام کمالات کے حصول میں کافی ہے تو پھر صفات کیوں ثابت کی جاتی ہیں،جس سے تعدد قدما کا قول لازم آتا ہے اسی لیے فلاسفہ اور معتزلہ نے ذات پر اکتفا کیا اور وجود تعدد قدما سے گریختہ رہے جس کی وجہ سے نفی صفات کے قائل ہو گیے۔
حضرت مجدد قدس سرہ جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت ذات تعالیٰ وتقدس ہر چند حصول کمالات میں کافی ہے لیکن اشیاء کی تکوین اور تخلیق میں صفات زائدہ سے چارہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غایت درجہ پاکی اور تقدس میں ہے اور انتہائی درجہ عظمت وجلال وکبریائی میں کمال غنا اس کے لیے ثابت ہے اور اس کو اشیا کے ساتھ مکمل بے مناسبتی ہے انّ اللہ غنیٌّ عن العٰلمین (بیشک اللہ سارے عالم سے بے نیاز ہے) اور حکمت کے مقتضیٰ اور عادت کے موافقت کی وجہ سے افادہ واستفاضہ میں مستفید ومستفیض کے ساتھ مناسبت سے چارہ نہیں تھا۔
صفات ہی میں جنھوں نے ایک درجہ تنزل فرماکر ظلیت پیدا کر لی ہے اور اشیا
کے ساتھ مناسبت اگر چہ کسی درجہ کر حاصل کرلی ہے اگر صفات کا توسط حائل نہ ہوتا،اشیا سے کسی شئ کا حصول متصور نہ ہوتا کیونکہ انوار حضرت ذات تعالیٰ وتقدس کے شعاعوں کے غلبات میں اشیا کو سوائے ہلاکت وفنا اور انحراف وانعدام کے کوئی نصیب نہیں ہے۔
وہ لوگ فکر سے عاری ہیں جو صفات کو ثابت نہیں کرتے ہیں اور اشیا کے ایجاد کو ذات بحت جل سلطانہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں’’ اسی مکتوب مبارک میں اس موضوع سے متعلق نہایت فاضلانہ بحثیں ہیں مگر نہایت دقیق ہونے کی وجہ سے میں نے بس انھیں پر اکتفا کیا ہے۔
صفات کے دو اعتبار:
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘صفات واجب جل سلطانہا کہ موجود ہیں اور اس کی ذات کے ساتھ قیام رکھتی ہیں تعالیٰ وتقدس دو اعتبار رکھتی ہیں، اول اپنی ذات کی حد میں(یعنی ذات واجب کے ساتھ قیام سے قطع نطر کرتے ہوئے) ثابت ہیں،دوم یہ کہ ذات واجب تعالیٰ وتقدس کے ساتھ قیام رکھتی ہیں ،باعتبار اول عالم کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور مبادی تعینات ہیں اور اعتبار دوم کے لحاظ سے عالم سے مستغنی ہیں اور عالم وعالم والوں کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی ہیں۔
نیز نظر کشفی میں با عتبار اول ذات تعالیٰ وتقدس سے جدا دکھائی دیتی ہیں اور ذات تعالیٰ وتقدس کا اثبات ان کے وراء دیکھا جاتا ہے اور اعتبار دوم کے اعتبار سے ایسی نہیں ہیں اور انفکاک سوچا نہیں جا سکتا ہے۔
نیز باعتبار اول ذات تعالیٰ وتقدس کا حجاب ہیں اور باعتبار دوم حجاب ہو نا مرفوع ہے جیسے سفیدی جو کپڑے کے ساتھ قائم ہوتے ہوئے کپڑے کا حجاب نہیں ہے بس اتنا ہو سکتا ہے کہ سفیدی بہر دو اعتبار حصول نفسی وحصول قیامی ذات جامہ کا حجاب
نہیں ہے ہر چند محسوس وہی سفیدی ہے لیکن حجابیت مرفوع ہے،بخلاف صفات واجبی تعالت وتقدست کہ اول اعتبار سے حاجب ہیں اور ثانی اعتبار سے غیر حاجب۔’’
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں اعتباروں کے درمیان فرق تھوڑا خیال نہ کر لینا یہ فقیر جذب قوی اور سرعت سیر کے باوجود ان دونوں اعتباروں کے درمیان مسافت کو تقریباً پندرہ سالوں میں طے کر پایا۔
بڑے مزے کی بات یہ کہ صفات کے سلسلے میں ان دو اعتباروں کو علماے متاخرین کی عرض کے سلسلے میں ایک تحقیق سے استدلال فرمایا،تفصیل یہ ہے کہ علماے متقدمین کا عرض کے سلسلے میں یہ مسلک تھا کہ عرض اپنی ذات کی حد میں کوئی حصول نہیں یعنی ذات معروض کے ساتھ قیام ہی عرض کا فی نفسہ حصول ہے ایسا نہیں ہے کہ ان کا حصول نفسی کچھ اور ہو اور معروض کے ساتھ قیام کا حصول کچھ اور۔
اس کے بر خلاف متاخرین میں بعض علما نے یہ تحقیق فرمائی کہ عرض کا حصول نفسی ایک الگ شے ہے اور حصول قیامی ایک الگ شئ کیونکہ عرض کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ انہ وجد فقام تو وجود قیام کا غیر ہوگا۔
حضرت مجدد قدس سرہ نے ان متاخرین کی رائے کو درست قرار دیا ،آپ فرماتے ہیں کہ متاخرین کی یہ تحقیق ایک بے کس کے لیے عروج کا زینہ بن گئی اور ایک حاجت مند کی معرفت کے واسطے وسیلہ بن گئی۔
سبحان اللہ!حضرت مجدد قدس سرہ کا عرفان تو آپ دیکھیں، صفات کے سلسلے میں آپ کا مشاہدہ تھا ان دونوں اعتباروں پر اور ان کے درمیان کتنی مسافت ہے یہ بھی آپ سن چکے کہ جذب قوی اور سیر کی تیز رفتاری کے با وجود پندرہ سال میں یہ راہ طے ہو پائی مگر کسی عالم یا عارف نے یہ معرفت بیان نہیں فرمائی تھی اور نئی چیز ماننے سے قلب کو ایک گونہ اضطراب رہتا ہے مگر یہاں متاخرین کی اس تحقیق نے قلب کو
مطمئن کر دیا کہ صفات عرضی سہی مگر عرض کا حصول نفسی اور ہے اور قیاسی اور ہے۔
صرف اسی مسئلے پر یہ عالمانہ استدلال نہیں بلکہ فرماتے ہیں: علم کلام اور فلسفہ کی بہت سی تحقیقات نے اس سیر وسلوک میں مدد کی ہے اور معارف الٰہی جل شانہ کا واسطہ ہوئی ہیں،یہ آپ قدس سرہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ نئے نئے معارف وحقائق پر آیات واحادیث سے اس طرح استدلال کر جاتے ہیں کہ قاری حیران رہ جا تا ہے بڑے بڑے نامداروں کے حاشیۂ ذہن میں جو معنیٰ نہیں آپاتے ہیں آپ کتنی خوبی اور وضاحت کے ساتھ ان پر استدلال کر جاتے ہیں،اور تحقیقات وتدقیقات کلامیہ و فلسفیہ سے تو جو آپ نے فائدہ اٹھایا ہے شاید ہی کوئی اٹھا سکا ہو اور جس طرح آپ نے انھیں استعمال کیا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے،سچ کہا کہنے والے نے کہ آپ کو متقدمین میں ہونا چاہیے تھا، اس زمانے میں آپ کے معارف وحقائق کے قدر داں کہاں ہیں؟
(۵)آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘جاننا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات مقدس سے موجود ہے اور اشیا اس کی ایجاد سے موجود ہیں وہ تبارک وتعالیٰ یگانہ(منفرد) ہےذات میں بھی اور صفات میں بھی اور افعال میں بھی کسی بھی امر میں در حقیقت کو ئی شخص اس کے ساتھ شرکت نہیں رکھتا ہے خواہ وجود ہو یا اس کا غیر،مشارکت اسمی اور مناسبت لفظی بحث سے خارج ہے،اللہ تعالیٰ کے صفات وافعال اس سبحانہ کی ذات کی طرح بے چون(بے مثل)اور بے چگون(بے کیف)ہیں ممکنات کے صفات وافعال کچھ مناسبت نہیں رکھتے ہیں۔’’
مثال کے طور پر صفت علم اس سبحانہ کی صفت قدیم ہے اور بسیط حقیقی ہے کہ ہر گز تعدد وتکثر نے اس تک راہ نہیں پائی ہے اگر چہ یہ تعدد وتکثر تعدد تعلقات کے اعتبار سے ہو کیونکہ اس جگہ ایک انکشاف بسیط ہے کہ ازل و ابد کی معلومات اس انکشاف سے منکشف ہوتی ہیں،تمام چیزوں کو ان کے کلیہ اور جزئیہ احوال متناسبہ اوقات
مخصوصہ کے ساتھ ہر ایک کو آن واحد بسیط میں جانا ہے،اسی آن میں زید کو موجود بھی جانا ہے اور معدوم بھی اور جنین(بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اسے جنین کہتے ہیں)جانا ہے اور صبی،جوان جانا ہے اور بوڑھا،زندہ جانا ہے اور مردہ،قائم جانا ہے اور قاعد،مستند(ٹیک لگانے والا) جانا ہے اور مضطجع(پہلو کے بل سونے والا)خنداں جانا ہے اور گریاں،متلذذ (مزہ پانے والا) جانا ہے اور متالم(درد پانے والا)با عزت جانا ہے اور ذلیل،برزخ میں بھی جانا ہے اور میدان قیامت میں بھی،جنت میں بھی جانا ہے اور تلذذات میں بھی۔
تو تعدد تعلق بھی اس محل میں مفقود ہو گا کیونکہ تعدد تعلقات آنات تعدد طالب اور زمانوں کا تکثر چاہتا ہے،اس جگہ نہیں مگر آن واحد بسیط ازل سے ابد تک جس میں بالکل ہی تعدد نہیں کیونکہ اس پر زمانہ جاری نہیں ہوتا ہے اور نہ تقدم نہ تا خر،تو اللہ تعالیٰ کے علم میں اگر معلومات کے ساتھ تعلق ہم ثابت کریں ایک تعلق ہوگا جو کہ تمام معلومات کے ساتھ متعلق ہوا ہے اور وہ تعلق بھی مجہول الکیفیت ہے اور صفت علم کی مانند ہے بے چون اور بے چگون ہے’’
چونکہ تمام اشیا کے تمام کلی وجزئی حالات مناسب اور غیر منا سب کا ایک آن واحد میں خدا کا جان لینا سب کی فہم سے بالا تھا اس لیے آپ نے اس کو عقل وادراک سے قریب کرنے کے لیے نہایت بہترین مثال دی جسے علم نحو کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے،یہ آپ کا کمال ہے کہ نہایت دقیق اور پیچیدہ باتوں کو بڑی خوبی کے ساتھ عقول واذہان کے پیمانوں میں اتار دیتے ہیں۔
آپ قدس سرہ فرماتے ہیں اس صورت کے استبعاد کو ہم ایک مثال سے زائل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جائز ہے کہ ایک شخص ایک وقت میں کلمہ کو اس کے اقسام متبائنہ اور احوال متغایرہ اور اعتبارات متضادہ کے ساتھ جانے پس اسی وقت کلمہ کو اسم
بھی جانے اور فعل بھی اور حرف بھی،ثلاثی بھی جانے اور رباعی بھی،معرب بھی جانے اور مبنی بھی،متمکن بھی جانے اور غیر متمکن بھی،منصرف بھی جانے اور غیر منصرف بھی،معرفہ جانے اور نکرہ بھی،ماضی بھی جانے اور مستقبل بھی،امر بھی جانے اور نہی بھی، بلکہ جائز ہے کہ وہ شخص کہے کہ تمام اعتبارات واقسام کو کلمہ کے آئینے میں ایک وقت میں تفصیل سے دیکھتے ہیں،جب علم ممکن بلکہ دیدۂ ممکن(ممکن کے دیکھنے میں)ضدوں کا جمع تصور کیا جا سکتا ہے تو علم واجب میں وللہ المثل الاعلیٰ کیوں مستبعد ہوگا؟
جاننا چاہیے کہ اس جگہ ہر چند ضدین کا جمع ہے لیکن ان کے درمیان ضدیت مفقود ہے کیونکہ ہر چند زید کو اسی ایک آن میں موجود اور معدوم جانا ہے لیکن اسی آن میں جاناہے کہ اس کے وجود کا وقت مثلا سنہ ہجری کے ہزار سال کے بعد ہے اور اس کے عدم سابق(پیدائش سے پہلے)کا وقت اس سال معین سے پہلے ہے اور اس کے عدم لاحق(بعد موت)کا وقت گیارہ سو سال بعد ہے پس کوئی تضاد نہیں،حقیقت میں زمانہ متغیر ہے اور اسی قیاس پر تمام احوال ہیں فافہم۔
اس تحقیق سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا علم اگر چہ جزئیات متغیرہ سے تعلق پکڑتا ہے مگر تغیر کی آمیزش اس میں راہ نہیں پاتی ہے اور اس صفت میں حدوث کے گمان کی جگہ پیدا نہیں ہوتی ہے جیسا کہ فلاسفہ نے گمان کیا ہے،کیونکہ تغیر اس تقدیر پر متصور ہوگا کہ ایک کو دوسرے کے بعد جانا ہو اور جب سب کو آن واحد میں جانتا ہے تو تغیر وحدوث کی گنجائش نہیں ہوگی،تو اس کے لیے تعلقات متعددہ ثابت کرنے کی کوئی حاجت نہ ہوگی تاکہ تغیر وحداث ان تعلقات کی طرف راجع نہ ہو کہ صفت علم کہ طرف جیسا کہ فلاسفہ کے شبہ کو دفع کرنے کے لیے بعض متکلمین نے کیا۔
ہاں! معلومات کی جانب میں اگر تعدد تعلقات ثابت کریں تو گنجائش رکھتا ہے
اور اسی طرح ایک کلام بسیط ہے کہ ازل سے ابد تک اسی کلام سے گویا ہے(یعنی ناطق ومتکلم ہے)اگر امر ہے تو اسی جگہ سے پیدا ہے،اگر نہی ہے تو بھی اسی جگہ سے،اگر اخبار ہے تو بھی اسی جگہ سے ماخوذ ہے،اور اگر استعلام(یعنی استفہام) ہے تو بھی اسی جگہ سے،اگر تمنی ہے تو اسی جگہ سے مستفاد ہے اور اگر ترجی ہے تو بھی اسی جگہ سے،تمام نازل شدہ کتا بیں اور بھیجے ہوئے صحیفے اسی کلام بسیط کا ایک ورق ہیں،اگر تورات ہے تو اسی جگہ سے تحریر ونوشت میں آئی ہے اور اگر انجیل ہے تو اس نے بھی اسی جگہ سے صورت لفظی حاصل کی ہے،اگر زبور ہے تو بھی اسی جگہ سے مسطور ہوئی ہے اور اگر قرآن مجید ہے تو اس نے بھی اسی جگہ سے تنزل فرمایا ہے؎
واللہ کلام حق کہ علی الحق یکیست وبس
پس در نزول مختلف آثار آمدہ
صفت تکوین:
اسی طرح ایک فعل ہے کہ مصنوعات اولین و آخرین اسی ایک فعل سے وجود میں آئی،آیت کریمہ: وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ اسی سے رمز ہے،اگر احیا ہے اور اماتت ہے تو اسی فعل سے مربوط ہے،اسی طرح اگر ایجاد ہے اور اعدام ہے تو اسی فعل سے ناشی ہے،تو فعل حق سبحانہ وتعالیٰ میں بھی تعدد تعلقات ثابت نہ ہوا بلکہ ایک ہی تعلق سے اولین وآخرین مخلوقات اپنے وجود کے اوقات مخصوصہ میں وجود میں آئی ہیں۔
یہ تعلق اللہ تعالیٰ کے فعل کی طرح بے مثل وبے کیف ہے کیونکہ چون(مثل) کو بے چون کی طرف کوئی راہ نہیں ہے لا یتحمل عطایا الملک الا مطایاہ، اشعری نے فعل حق جل سنطانہ کی حقیقت پر اطلاع نہیں پائی تکوین کو حادث کہہ دیا اور اس کے افعال کو حادث جانا۔
خیال رہے کہ تکوین کے سلسلے میں آپ نے مکتوب ۳جلد دوم میں بڑی وضاحت کے ساتھ گفتگو فرمائی ہے،چونکہ یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور بڑے بڑے ذی علم حضرات سے بھی اس مسئلہ میں چوک ہو گئی ہے،بہت سارے صوفیہ بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے اس لیے ہم اس کی وہ تفصیل آپ کے حوالے کرتے ہیں،ملاحظہ فرمائیں!حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:
‘‘تکوین صفات حقیقیہ میں سے ہے جیسا کہ علماے ماتریدیہ شکر اللہ تعالیٰ سعیہم کا مذہب ہے نہ کہ صفات اضافیہ سے جیسا کی اشعریوں نے گمان کیا ،اس صفت میں چونکہ دیگر صفات کی طرف نظر کرتے ہوئے رنگ اضافت غالب ہے اسی لیے صفات اضافیہ سے گمان کر لیا،ایسا نہیں ہے بلکہ وہ صفت صفات حقیقیہ سے ہے اور رنگ اضافت اس کے ساتھ ممتزج اور مخلوط ہو گیا ہے،اور یہ صفت تکوین جو ساری صفات سے نیچے اور پایاں تر ہے صفات عالیہ کا رنگ رکھتی ہے مثلا علم وحیات سے نصیب رکھتی ہے اور قدرت واردت سے بھی حصہ رکھتی ہے،اس صفت تکوین کے جزئیات ہیں کہ در حقیقت اس کے ظلال ہیں جیسے تخلیق وترزیق واحیا واماتت وانعام وایلام اور یہ جزئیات داخل افعال ہیں کہ فی الحقیقت اس صفت کے ظلال ہیں اور صفات حقیقیہ کے دائرہ سے خارج ہیں۔
اس فعل کے دو رخ ہیں ایک فاعل کی طرف اور دوسرا مفعول کی طرف یہ دونوں وجہ(رخ)نظر کشفی میں ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہیں،وجہِ اولیٰ عالی اور بلند ہے اور وجہِ دوم سافل اور پست نیز وجہِ اولیٰ نظر میں اصلی کی طرح دکھائی دیتی ہے اور وجہ دوم اس اصل کے ظل کے طرح،نیز وجہ اولیٰ وجوب سے رنگ رکھتی ہے اور وجہ ثانیہ امکان سے یہ وجۂ ثانیہ انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے علاوہ دیگر لوگوں مثلاً اولیاے کرام وباقی مخلوقات کے مبادیٔ تعینات ہیں اور یہ فعل حق دونوں جہتوں کے
اعتبار سے وجوب کا ایک رنگ رکھتا ہے اور ایک امکان سے،اسی لیے لا محالہ ممکن ہوگا کیونکہ واجب وممکن سے مرکب ممکن ہوتا ہے۔
نیز یہ فعل چونکہ باعتبار جہت فوقانی، قدم کی طرف رخ رکھتا ہے اور باعتبار جہت تحتانی، حدوث میں قدم رکھتا ہے اسی لیے لا محالہ حادث ہوگا کیونکہ حادث وقدیم سے مرکب حادث ہے۔’’
کچھ لوگوں نے فعل حق جل وعلا کو قدیم کہہ دیا تھا اور کچھ نے حادث،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ وہ جماعت جو فعل حق کو قدیم کہتی ہے جہت اولیٰ کے اعتبار سے ہے اور دوسری جماعت نے کہ حادث جانا ہے اس کے سامنے دوسری جہت ہے،پہلی جماعت کی نظر بلند اور دوم کی پست ہے ہر چند دونوں فریق حق سے دو جانبوں میں رہے ہیں،اور حق متوسط وہ ہے جس سے اس فقیر نے امتیاز پایا ہے ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء’’
پھر فرماتے ہیں کہ فعل میں وجہ ثانی خلق خاص سے عبارت ہے کہ مثلا زید سے تعلق پکڑا ہے اور یہ خلق زید گویا جزئی ہے مطلق خلق کے جزئیات سے اور یہ خلق خاص کہ زید سے تعلق رکھتا ہے،بھی جزئیات رکھتا ہے خلق ذات زید اور خلق صفات زید اور خلق افعال زید کے رنگ میں اور یہ خلق زید کے جزئیات ظلال کے رنگ میں ہیں اس خلق زید کے لیے جو کلی کی طرح ہے اور خلق فعل زید کا بھی ظل ہے اور مظہر اور وہ کسب زید ہے کہ جس نے فعل سے تعلق کیا ہے،اس کسب کو زید اپنے باپ کے گھر سے نہیں لایا ہے بلکہ اس کا کسب پر تو ہے خلق حق جل وعلا کا۔
پس ان معارف سے معلوم ہوا کہ فعل تکوین کا ظل اور فعل کا وجہ دوم وجہ اول کا ظل ہے جیسا کہ تحقیق ہو چکا اور وجہ دوم کے بھی ظل ہیں کہ مثلا خلق زید ہے اور خلق زید کا بھی ظل ہے کہ خلق فعل زید ہوگا اور اس ظل کا بھی ظل ہے کہ کسب زید ہوگا۔
صوفیہ کی تجلی فعلی:
اثناء سلوک میں بعض دفعہ ایک کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ سالک دیکھتا ہے کہ گویا بندوں سے جتنے بھی مختلف قسم کے افعال صادر ہو رہے ہیں ان سب کا فاعل ایک اللہ تعالیٰ ہے اس کا نام صوفیۂ کرام کے نزدیک تجلی فعل حق ہے حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظر یہ نہیں مانتی ہے بلکہ صوفیہ سے اس معاملہ میں چوک ہوئی ہے،چوک کی وجہ آپ علوم مذکورہ بالا بیان کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
‘‘جب یہ علوم تم نے جان لیے تو جانو! کہ وقت سلوک میں سالکین کی نظر میں مثلا جب کسب زید کی نسبت زید سے منتفی ہو جاتی ہے اور زید کی جانب اس کی اضافت اٹھ جاتی ہے تو لا محالہ اس فعل کا فاعل حق کو جانتے ہیں تعالیٰ وتقدس بلکہ خلائق کے افعال کثیرہ متباینہ کو ایک فاعل کا فعل پاتے ہیں اور اس معنیٰ کے ظہور کو تجلیِ افعال سمجھتے ہیں،انصاف کرنا چاہیے کہ یہ تجلی،تجلی فعل حق سبحانہ ہے یا اس فعل کے ظلال سے ایک ظل کی تجلی ہے کہ چند مرتبہ تنزل کرکے ظلیت کا نام پایا ہے۔
تجلیِ فعل پر دیگر تجلیات کو بھی قیاس کرنا چاہیے کہ ظلال میں سے ایک ظل کے ساتھ اکتفا کرکے اصل اصل سمجھ لیا ہے اور جوز(اخروٹ)ومویز(انگور سے بڑا ایک پھل ہوتا ہے جس کو سوکھا کیا جاتا ہے) کے ساتھ آرام پایا ہے۔’’مراد یہ ہے کہ حقیر شے پر اکتفا کر بیٹھے ہیں۔
جاننا چاہیے کہ وجوب وجود چونکہ نسبت واضافت ہے تو نا چار مرتبۂ فعل پایا جائے گا اور چونکہ یہ نسبت عالم سے مناسبت نہیں رکھتی ہے بلکہ صانع عالم کے ساتھ مخصوص ہے تعالیٰ وتقدس تو فعل کی پہلی وجہ کہ اوپر مذکور ہوئی ہے کے مناسب ہوگی۔