مواد پر جائیں

باب ۷ از ۵۷صفحات ۱۰۰–۱۱۵

ولادت و نسب

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی الشیخ احمد الفارقی السرہندی قدس سرہ اور ان کے بعض آبا و اجداد کے حالات میں ‘‘تذکرہ مشائخ باقویہ مجددیہ’’ میں قلم بند کر چکا ہوں۔ یہاں نہایت اختصار کے ساتھ آپ کا معمولی تعارف عرض کرتا ہوں۔

شب جمعہ ۲۴ شوال ۹۷۱ھ ۱۵۶۳ء کو شہر سرہند میں رونق افروز عالم ہوئے۔ لفظ ‘‘خاشع’’ سے آپ کی تاریخ ولادت نکلتی ہے۔ والد بزرگوار نے احمد نام رکھا۔ آپ ۳۱ واسطوں سے حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق‌رضی اللہ عنہ تک پہنچتے ہیں۔ یہ نسبت آپ کی رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی اور وہ ہمت و جرأت اور غیرت حمیت پیدا کرتی تھی کہ بیان سے باہر ہے، آگے چل کر جس کے جلو سے بہت ظاہر ہوئے حضرت مخدوم کے آپ کے علاوہ چھ بیٹے اور تھے وسط آپ ہی تھے یعنی آپ سے تین بڑے اور تین چھوٹے تھے۔

تحصیل علم:

آپ کے مبارک گھرانے میں علمی و عملی و روحانی ماحول پہلے ہمیشہ رہا ہے۔ آپ کے والد گرامی علم و عرفان کی اس منزل پر فائز تھے کہ بڑے بڑے اولیاے کرام آپ کے گھر آیا کرتے تھے خاص کر سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم ترین بزرگ حضرت شاہ کمال کیتھلی جن کے بارے میں حضرت مجدد قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت غوث اعظم کے بعد ان کے خلفا میں شاہ کمال جیسا بزرگ کوئی نظر نہیں آتا

ہے۔ حضرت شاہ کمال کی آپ پر بڑی خاص نظر تھی۔ ایک مرتبہ آپ بیمار ہوئے، آپ کی والدہ ماجدہ حضرت شاہ کمال کیتھلی صاحب کی خدمت میں لے گئیں۔

حضرت شاہ کمال نے اپنی زبان مبارک آپ کے منہ میں دے دی، آپ کافی دیر تک ان کی زبان چوستے رہے، پھر شاہ صاحب نے فرمایا کہ خاطر جمع رکھو یہ لڑکا بڑی عمر کا مالک ہوگا اور اپنے زمانے کا عالم و عامل اور عارف ہوگا، میرے تیرے جیسے اس سے بہت پیدا ہوں گے۔

آپ کی مقدس پیشانی سے آثار ہوش مندی و بزرگی عیاں تھی جب ہوش سنبھالا تعلیم کا آغاز ہو گیا، چند ماہ میں قرآن پاک حفظ فرمایا، پھر علوم متداولہ کی طرف متوجہ ہوئے، زیادہ تر علوم و فنون آپ نے اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیے اور ہر علم کو نہایت تدقیق سے پڑھا تھا بلا کاحافظہ اور ذہن رسا پایا تھا۔ پھر کچھ علوم میں مہارت تامہ کی خاطر آپ سیالکوٹ گئے جہاں بعض کتب معقولات مثل عضدی وغیرہ اپنے دور کے زبردست فاضل و محقق حضرت شاہ کمال کشمیری اور بعض کتب احادیث حضرت مولان یعقوب کشمیری سے پڑھیں۔ اول الذکر (شاہ کمال کشمیری) منطق و فلسفہ، علم کلام و اصول فقہ میں ممتاز علما سے تھے، علم و فضل، ذکاوت و ذہانت، قوت حافظہ کثرت مطالعہ میں اس وقت میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ عضدی وغیرہ آپ نے انھی سے پڑھیں۔ مشہور زمانہ فاضل علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی آپ کے تلامذہ سے ہیں۔

حضرت مولانا یعقوب ابن الحسن الصرفی کشمیری کی ۹۰۸ھ میں کشمیر میں ولادت ہوئی۔ تحصیل علم اور حصول طریقہ کے لیے سمرقند کا سفر کیا جہاں شیخ حسین خوارزمی سے طریقہ کبرویہ حاصل کیا اور ایک عرصہ تک ان کی صحبت میں رہے۔ حجاز جا کر علم حدیث حاصل کیا اور وہاں سے فقہ، حدیث اور تفسیر کی نفیس کتابیں اپنے ساتھ لائیں۔ ۱۲ ذی قعدہ ۱۰۰۳ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ (تاریخ دعوت)

یوں توآپ بہت سے علوم میں ید طولیٰ کے مالک تھے خاص کر علم حدیث میں تو کوئی جواب نہیں رکھتے تھے اور مشہور زمانہ محقق و محدث حضرت شیخ شہاب الدین احمد ابن حجر ہیتمی مکی کے شاگرد رشید تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین رحمۃ واسعۃ۔

اس کے علاوہ حضرت مجدد قدس سرہ نے تفسیر واحدی و دیگر معلقات واحدی اور تفسیر بیضاوی اور دیگر مصنفات بخاری و مشکاۃ المصابیح شمائل ترمذی و جامع صغیر سیوطی و قصیدہ بردہ و غیرہ کی اجازت عالم ربانی قاضی بہلول بدخشانی سے حاصل کی تھی۔ قاضی موصوف کو کتب مذکورہ کی اجازت شیخ عبد الرحمٰن ابن فہدہ سے تھی جن کا گھرآبا و اجداد سے بیت الحدیث چلاآتا تھا۔ قاضی صاحب سے حدیث مسلسل کی بھی اجازت پائی تھی۔ خواجہ محمد ہاشم رحمۃ اللہ علیہ حضرت مجدد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ جب یہ اجازت لی تو ایسا محسوس ہوا کہ مجھے محدثین کے طبقے میں داخل کر لیا گیا۔

مختصر یہ کہ سترہ سال کی عمر میں جملہ علوم و معقول و منقول، فروع و اصول سے فراغت حاصل کی۔ علوم میں اس قدر بلند پایہ مقام حاصل تھا کہ آپ کی امامت کے سب قائل ہیں۔ علم کلام میں آپ کو بارگاہ نبویﷺ سے اجتہاد کی بشارت ملی۔

فراغت کے بعد آپ نے تدریس کا کام شروع کر دیا اور ایک مدت دراز تک علوم و فنون سے طلبہ کو فیض یاب فرمایا۔ اسی دوران تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کر دیا۔ رسالہ تہلیلیہ، رد شیعہ اسی زمانے کی تصنیف ہیں۔ اس دوران آپ سرہند سے آگرہ آئے جو اس وقت دار الحکومت اور علما و فضلا کا زبردست مرکز تھا۔ ابوالفضل و فیضی سے آپ کی صحبت و قربت بھی رہی مگر مسلک کے اختلافات کی وجہ سے تعلقات میں استواری نہ آسکی۔ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو الفضل اور اس کا برادر فیضی علوم و فنون میں بلند مقام رکھنے کے باوجود حضرت مجدد قدس سرہ کے تفوق و برتری کے قائل تھے اور شاید اس زمانے کے علما میں ان دونوں کی نظر میں علوم و فنون میں اتنا بلند

پایہ کوئی عالم نہ تھا۔ ابو الفضل و فیضی دونوں آپ کی صحبت کے حریص تھے۔

آگرہ سفر کے کیا اسباب تھے اس کا صحیح پتا نہیں چل پایا۔ ہو سکتا ہے شوق علم و صحبت علما لے گیا ہو، آگے چل کر آپ نے جو کام کیا اور جس عقل و دماغ سے کیا وہ بتاتا ہے کہ طبیعت میں تیزی و پھرتی حالات کو سمجھنا اور کام کی راہ پیدا کرنا سب کچھ آغاز ہی سے تھا، زبدۃ المقامات سے پتا چلتا ہے کہ ابو الفضل فضلا کا کافی قدر دان تھا اور اس کے یہاں فضلا کی آمد و رفت رہتی تھی خواہ تحصیل معاش کے لیے یا علم و فن کی ہنر آزمائی کے لیے۔ قلب نازک پر اس وقت کیا بیت رہی ہوگی جب اسلام اور اہل اسلام کا خون کیا جا رہا ہو۔ آپ کس طرح بےچینی کی کروٹیں لے رہے ہوں گے، غیور دل پر کیا کیا آلام کی بوچھار ہوئی ہوگی، یہ آپ کا خدا ہی جانتا ہے۔ بہر حال یہ اوصاف ایک دم وجود میں نہیں آجاتے ہیں، یہ جذبات شروع ہی سے پائے جاتے ہیں۔ ابھی آپ پڑھیں گے کہ آغاز جوانی میں ہی حضرت مجدد قدس سرہ کو کس قدر غیریت و حمیت حاصل تھی۔ بہر حال آپ کا قیام آگرہ میں طویل ہوا، والد بزرگوار کو یہ مفارقت برداشت نہ ہوئی تو آپ آگرہ اپنے لخت جگر نور نظر کو لینے کے لیے گئے۔

حضرت مخدوم قدس سرہ کی عمراس وقت کافی ہو چکی تھی اتنا لمبا سفر کر کے آگرہ اس عمر پر پہنچے تو آشنا لوگوں کو بڑا تعجب ہوا۔ ایک فاضل نے پوچھ ہی ڈالا کہ آپ نے اتنی زحمت کیوں اٹھائی تو آپ نے فرمایا: فرزند دلبند شیخ احمد سلّمہ اللہ کا شوق ملاقات۔ چوں کہ ان کو بعض ضروریات کی بنا پر میرے پاس آنا میسر نہیں ہو پایا اس لیے ہم آگئے۔ (برکات احمدیہ)

آپ کے والد بزرگوار آپ کو اپنی جان عزیز سے بھی زیادہ چاہتے تھے اور دلی تمنا رہتی تھی کہ ہمارا فرزند ہماری صحبت میں رہے۔ حضرت مخدوم آپ سے علوم دینیہ کے دقائق اور یقینی اسرار بیان فرمایا کرتے تھے۔ (برکات احمدیہ)

حضرت مجدد قدس سرہ کے علاوہ حضرت مخدوم کے چھ بیٹے تھے۔ آپ سے تین بڑے اور تین چھوٹے۔ تمام فرزندوں میں آپ سے جو لگاو اور محبت حضرت مخدوم کو تھا وہ کسی سے نہ تھا۔ حضرت مخدوم خود صاحب نسبت اور اہل کشف سے تھے، بڑے بڑے بزرگوں کے پروردہ آپ کی باطنی نظر نے بھی اندازہ لگا لیا تھا کہ میرا یہ فرزند کیا ہونے والا ہے نیز آپ کی ولادت با سعادت کے موقع پر اور اس کے بعد کے بزرگوں کی بشارتیں اور خود آپ کی صلاحیت و استعداد وغیرہ یہ وہ امور تھے جن کی وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ میرا فرزند آگے چل کر وہ کام کرےگا جو بمشکل ہی کوئی کر پا یا ہوگا۔ بہر حال حضرت مخدوم قدس سرہ آپ کو لے کر سرہند کے لیے روانہ ہو گئے۔

دہلی اور سرہند کے درمیان شہر تھانیسر سے گزر ہوا تو وہاں کے شیخ سلطان جو کہ اپنے وقت کے کافی بڑے رئیس و مالدار اور عالم و فاضل نیز بادشاہ کے مقرب تھے اور شہر کے حاکم تھے، بڑے احترام سے پیش آئے اور آپ کو اپنے یہاں مہمان رکھا۔ ایک غیبی اشارہ کی وجہ سے یا حضرت مجدد قدس سرہ کے فضائل و کمالات دیکھ کر خواہش مند ہوئے کہ اپنی بیٹی کا رشتہ حضرت مجدد قدس سرہ سے کر دیں۔ حضرت مخدوم قدس سرہ سے پیش کش کی، آپ نے منظور فرما لیا اور وہیں آپ کا نکاح ہو گیا، پھر وہاں سے حضرت مخدوم اپنے فرزند و بہو کو لے کر سرہند پہنچے۔ پھر جب تک حضرت مخدوم قدس سرہ باحیات رہے آپ سرہند میں ہی مقیم رہے۔ آپ نے حضرت مخدوم قدس سرہ کی خدمت و صحبت کو لازم کر لیا اور حضرت مخدوم کے ظاہری و باطنی فیضان سے مالا مال ہوتے رہے۔ حضرت مخدوم کے فیض سے جہاں آپ کو علوم دینیہ کے دقائق میں درجۂ امامت حاصل تھا وہیں آپ کو باطنی اسرار و حقائق میں بلند مقام میسر آیا۔ آپ خود فرماتے ہیں : اس درویش کو نسبت فردیت اپنے پدر بزرگوار سے حاصل ہوئی اور پدر بزرگوار نے اس کو ایک شیخ جو کہ جذبۂ قوی رکھتے تھے

(یعنی حضرت شاہ کمال قدس سرہ) اور کرامات میں مشہور تھے، سے حاصل کیا تھا نیز اس درویش کو عبادت نافلہ خاص کر صلوٰۃ نافلہ کی توفیق میں مدد پدربزرگوار سے ہے اور پدر بزرگوار کو یہ سعادت اپنے شیخ (عبد القدوس گنگوہی قدس سرہ) سے حاصل ہوئی تھی جو کہ سلسلہ چشتیہ میں تھے۔(برکات احمدیہ)

اس کے علاوہ خود بچپن میں آپ نے حضرت شاہ کمال قدس سرہ انظار خاصہ حاصل فرما لی تھیں اور آپ کے حافظہ میں ان کا پورا تصور مود تھا۔ حضرت شاہ کمال قدس سرہ کی یہ خصوصی اور جداگانہ عطائیں کہ جب حضرت مجدد قدس سرہ کا شہرہ علم و فضل چاروں طرف پھیل رہا تھا اس وقت شاہ سکندر وہ خصوصی جبہ لے کر حاضر خدمت ہوئے تھے جس کے بارے میں شاہ کمال نے واقعات میں مکرر تاکید فرمائی تھی۔ حضرت شاہ سکندر اس جان سے زیادہ عزیز چیز کو کسی حال میں جدا نہیں کرنا چاہتے تھے، جدا کرنا تو بڑی بات ہے گھر سے نکالنا بھاری تھا جب حضرت مجدد قدس سرہ نے اس جبہ کو زیب تن فرمایا اس وقت قادری بزرگوں کی کیسی نوازشات تھیں پھر دیگر بزرگوں نے بھی کس قدر آپ کو چاہا اور نوازا اس کی تفصیل برکات احمدیہ وغیرہ میں آپ پڑھ سکتے ہیں۔

الغرض آپ نے اپنے والد بزرگوار سے علوم و فنون اور قادری و چشتی انوار و برکات کا ایک وافر حصہ حاصل فرمایا۔ مدینہ طیبہ کی زیارت اور حج بیت اللہ کا شوق آپ کو رہ رہ کر تڑپاتا تھا مگر چوں کہ والد بزرگوار قدس سرہ سن رسیدہ بزرگ تھے بظاہر ان کی رحلت قریب تھی اس لیے حضرت مجدد قدس سرہ شوق زیارت کے باوجود سرہند سے نہ نکلے۔ ۱۰۰۷ھ میں حضرت مخدوم قدس سرہ کا وصال ہو گیا۔

تحصیل کمالات، حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ سے بیعت:

حضرت مخدوم کے وصال کے بعد آپ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے

(۱۰۰۸ھ) روانہ ہوئے، دہلی پہنچے، مولانا حسن کشمیری سے ملاقات ہو گئی، آپ نے یہ سفر کافی خاموشی سے کیا تھا۔ حضرت کشمیری سے آپ کے پرانے تعلقات تھے، انھوں نے حضرت سیدنا خواجہ محمد باقی قدس سرہ کا ذکر خیر کیا اور ملاقات کی رغبت دلائی۔ حضرت مجدد قدس سرہ کے والد بزرگوار قدس سرہ اگرچہ قادری و چشتی بزرگوں کے فیض یافتہ تھے مگر نقشبندی بزرگوں سے ملاقات کا اشتیاق بہت تھا اور تلاشی کے باوجود کسی کامل نقشبندی بزرگ سے ملاقات نہ ہو سکی تھی اس وقت سلسلہ نقشبندیہ ہندوستان میں بہت کم معروف تھا لیکن حضرت مخدوم قدس سرہ کتنے قریب سے واقف تھے کہ انھوں نے یہاں تک فرمایا تھا : ‘‘مرکز ایں دائرہ و شاہ راہ ایں بادیہ بہ دست طائفہ نقشبندیہ افتادہ است۔’’

حضرت مولانا کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جب بتایا تو حضرت مجدد قدس سرہ کو ملاقات کا شوق ہوا۔ آپ حاضر خدمت ہوئے۔ حضرت خواجہ قدس سرہ بڑی مہربانی سے پیش آئے۔ آپ کا قصد و ارادہ معلوم فرمایا۔ جب آپ نے بتایا کہ زیارت حرمین شریفین کے عزم سے نکلا ہوں، حضرت خواجہ قدس سرہ نے رغبت ظاہر فرمائی کہ ایک ہفتہ یا مہینہ بھر فقرا کی صحبت میں رہو۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کا یہ طریقہ نہ تھا، لوگ نا معلوم کتنے چکر لگاتے تھے تب کہیں باریاب ہو پاتے تھے کسی کو بھی آپ روکتے نہ تھے اتنے دنوں کی میزبانی تو بڑی بات ہے مگر حضرت خواجہ قدس سرہ ان کے خالق و مالک جل و علا نے وہ روحانی و باطنی چشم باطن عطا فرمائی تھی کہ ایک ہی نظر میں آپ نے سب کچھ پڑھ لیا تھا کہ آنے ولا ہمارے فیض سے آگے کیا بنےگا۔

آپ نے حضرت خواجہ قدس سرہ کے حکم کے مطابق ہفتہ بھر قیام کا ارادہ کر لیا ابھی دو روز بھی نہ گزرے تھے کہ دل میں نسبت نقشبندیہ کی تحصیل کی رغبت موجیں مارنے لگی۔ آپ نے رغبت کا اظہار فرمایا تو حضرت خواجہ قدس سرہ نے استخارہ

کیے بغیر آپ کو تنہائی میں لے جا کر بیعت کیا اور ذکر خفی کی ابتدا کی، فوراً قلب ذاکر ہو گیا، حلاوت و چاشنی پیدا ہوئی اور پھر روز بروز ترقیات و عروجات کے ایسے دروازے کھلے کہ بیان میں نہیں آسکتی ہیں۔ آپ اگر ان عروجات کی تفصیل پڑھنا چاہیں تو ابتدائی مکتوبات پڑھیں جو حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں لکھے گئے ہیں۔ آپ کو معلوم ہو جائےگا کہ جس سرعت و تیزی سے آپ نے سلوک طے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے جو کچھ حالات پیش آتےآپ بالتفصیل حضرت خواجہ سے عرض کرتے جب سرہند آگئے تو مکتوبات کے ذریعہ معروضات پیش کرتے رہے آپ تین مرتبہ دہلی اپنے مرشد عالی وقار کی خدمت میں حاضر ہوئے؛ پہلی مرتبہ حضرت خواجہ کے ارشاد کے بموجب ہفتہ بھر قیام کے لیے مہمان بن کر ٹھہرے مگر پھر مرید بن گئے اور نوازشات مرشد دیکھ کر تقریباً ڈھائی ماہ قیام فرمایا، اس پہلے سفر میں ہی آپ کو حضرت خواجہ قدس سرہ نے تمام و کمال نسبت نقشبندیہ کے حصول کی بشارت دی آپ واپس سرہند آگئے اور اپنے گھر کے قریب ایک مسجد بنام ‘‘مردان خدا’’ ۱۰۰۸ھ میں تعمیر فرمائی۔

یہی وہ مبارک مسجد ہے جو آج بھی اہل دل کے لیے قبلہ توجہ ہے، رشد و ہدایت کا یہی وہ مرکز تھا جہاں بیٹھ کر ارشاد و ہدایت کا وہ کام کیا گیا جس کی مثال نہیں۔ لاکھوں کروڑوں بندگان خدا نے یہاں صبح و شام دربانی کرکے دولت وصل و عرفان حاصل کی، فیض و عرفان کے وہ چشمے پھوٹے جنھوں نے پورے عالم کو اپنی آغوش میں لے لیا، ہر امیر و غریب کا مسکن و مأویٰ یہی مبارک مسجد بنی۔ آج بھی اہل باطن جس کے انوار پر محو حیرت بنے رہتے ہیں اس ڈھائی ماہ کی صحبت میں حضرت مجدد قدس سرہ نے کیا پایا اور حضرت خواجہ قدس سرہ اس حال میں کیا استقبال ملاحظہ فرمایا اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جس کو حضرت خواجہ قدس سرہ نے انھی ایام میں ایک مخلص کو

تحریر فرمایا، فرماتے ہیں ‘‘شیخ احمد نام مردے است در سرہند کثیر العلم و قوی العمل روزے چند فقیر با او نشست۔

‘‘سرہند میں بہت علم اور قوی عمل واہے ایک شخص رہتے ہیں ان کا نام شیخ احمد ہے، کچھ دن فقیر ان کے ساتھ رہا، ان کے اوضاع و اطوار سے بہت کچھ عجائبات ظاہر ہو رہے ہیں،میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ ایسا روشن چراغ ہوں گے جس سے دنیا روشن ہو جائےگی ان کے کمالات کو دیکھ کر اللہ کے فضل سے مجھ کو اس کا یقین ہے، آپ کے برادران اور اقربا بھی نیک اور علما کی جماعت میں سے ہیں، ان میں سے بعض افراد سے میری ملاقات ہوئی ہے، میری نظر میں وہ سب جواہر عالیہ ہیں، عمدہ صلاحیت کے مالک ہیں، شیخ مذکور کی اولاد جو ابھی کم عمر بچے ہیں، اسرار الٰہی ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ کہ وہ مثل شجرۃ طیبۃ کے ہیں، اللہ ان کی اچھی پرورش فرمائے، عیال کی کثرت اور فقر و بے معاشی کی وجہ سے اس جماعت کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر چالیس میں سے ایک کی کوئی مقدار اس گھرانے کے واسطے مقرر کر دیں کہ ہر سال پہنچ جایا کرے اور یہ کاتب اس کی تقسیم مقرر کر دے تو بہتر اور مورث خیر کثیر سے یہ مقدار چاہے کتنی ہی کم ہو خیرات میں رکن عظیم رہے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے در کے فقرا ہیں، عجیب و غریب دل رکھتے ہیں، زیادہ گستاخی’’

حضرت مولانا زید کی کتاب (حضرت مجدد اوران کے ناقدین) سے رقعہ نمبر ۶۵ کی عبارت کا ترجمہ میں نے سپرد قلم کر دیا، اصل عبارت کتاب مذکور میں موجود ہے۔ موصوف نے اس کے علاوہ بھی حضرت خواجہ قدس سرہ کے متعدد رقعات نقل کیے ہیں، یہ رقعات حضرت خواجہ قدس سرہ کے کسی مخلص نے جمع فرمائے ہیں۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے ان رقعات میں جو کچھ حضرت مجدد قدس سرہ کے تعلق سے فرمایا ہے آپ پڑھیں گے تو معلوم ہوجائےگا کہ حضرت خواجہ قدس سرہ

کیا اعتقاد رکھتے تھے اور حضرت مجدد کی اہمیت کیا تھی جو بلندیاں حضرت خواجہ قدس سرہ کو حضرت مجدد قدس سرہ کی ذات میں نظر آرہی تھیں ان کا جس گہرائی سے آپ نے اعتراف کیا ہے وہ کم کسی مرشد نے مرید کے حق میں کیا ہوگا، رقعات کی تفصیل آپ ‘‘حضرت مجدد اور ان کے ناقدین’’ میں پڑھیں۔

مذکورہ بالا رقعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ کسی صاحب ثروت انسان کو لکھا گیا ہے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کی اس پہلی اور مختصر صحبت میں حضرت خواجہ قدس سرہ نے کیا دیکھا تھا یہ بالکل عیاں ہے۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کی روشن ضمیری اور بلندی نظر معرفت میں کمال کون نہیں جانتا ہے، آپ کی زندگی جس نے پڑھی ہے وہ جانتا ہے کہ اپنے محبوب حقیقی کو پانے کے لیے حضرت خواجہ نے کیا کیا مصائب جھیلے اور کیسے کیسے مجاہدات کیے اور پھر پروردگار جل و علا نے قرب و عرفان میں جو بلند درجہ عطا فرمایا تھا اور کتنی احتیاط سے آپ نے حیات مبارکہ کے لمحات بسر فرمائے، حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو کچھ حضرت مجدد قدس سرہ کے بارے میں فرمایا ہے، اسے پڑھ کر لوگوں کو بڑا تعجب ہوتا ہے اور بعض لوگ طرح طرح کی تاویلات کرنے لگتے ہیں، پتا نہیں حضرت خواجہ قدس سرہ کا اپنے اس چہیتے مرید کے بارے میں یہ اعتراف اور اظہار حقیقت کیوں ناگوار گزرتا ہے۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کے یہ ارشادات محض تواضع و انکساری پر محمول کرنا میری نظر میں حضرت خواجہ قدس سرہ کی دوراندیشی سے منکر ہونا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت خواجہ قدس سرہ نے اتنے عرصے میں حضرت مجدد قدس سرہ کی صلاحیت و استعداد اور جو کام ان کے سپرد ہونے والا تھا، جن بلندیوں پر پہنچنے والے تھے یہ سب کچھ بالیقین مشاہدہ فرما لیا تھا جب بھی کوئی بلند خیال انسان وجود میں آتا ہے دور اور حالات کے لحاظ سے وہ نمایاں کام کرتا ہے، بلند ماخذ ہوتا ہے

جہاں سے وہ بولتا ہے وہاں تک اخص الخواص کے علاوہ کسی کی رسائی ہوتی نہیں ہے تو لوگ عام طور پر اس کے بارے میں بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے ہیں، طرح طرح سے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

حضرت خواجہ قدس سرہ کی باتیں چوں کہ اپنے مرید رشید کے حق میں ایک سند کی حیثیت رکھتی تھیں لہٰذا آپ نے تمام مخلصین اور دنیا کے انسانوں کو پہلے ہی سے آگاہ فرما دیا اور وہ حقائق ظاہر فرما دیے۔ اگر حضرت خواجہ قدس سرہ کی ان ہدایات اور اظہار کمالات کا صحیح طریقے سے اعتراف کر لیا جاتا تو بعد میں حضرت مجدد کی بلند قامت شخصیت اور ان کے اظہار کمالات کو تعجب کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا۔ پہلی صحبت میں حضرت خواجہ قدس سرہ نے جو کچھ محسوس فرمایا وہ وہ آپ کی بلندی نظر کی کھلی دلیل ہے اور پوری زندگی کی طرف اشارہ ہے۔

حضرت خواجہ قدس سرہ کے متوسلین میں بڑے بڑے باکمال اور قرب کے حامل افراد تھے خاص کر شیخ تاج سنبھلی جیسے بزرگ جن کی عظمتوں کے ڈنکے دیار عرب میں ایسے بجے کہ حضرت شاہ ولی اللہ جیسے انسان کو اعتراف کرنا پڑا کہ دنیاے عرب میں اتنا مقبول کوئی نہیں ہوا۔ اس کے باوجود حضرت خواجہ قدس سرہ نے کسی کے بارے میں آخر اس طرح کا اظہار خیال کیوں نہیں فرمایا اور نہ اس کی تعظیم و توقیر کی جو حضرت مجدد قدس سرہ کی کی اور نہ کسی کے حوالے اپنے مریدین فرمائے نہ اپنے فرزندوں پر کسی سے توجہ ڈلوائی اگر مجددی حضرات نے اس قسم کے کمالات کتابوں میں تحریر کر دیے تو بعض لوگوں کے جگر پھٹنے لگے اور اس کو وہ حضرت خواجہ قدس سرہ کی توہین سمجھنے لگے، فہم کی کوتاہی سے ایسے ہی نتائج برآمد ہوتے ہیں اگر غور سے دیکھا جائے تو یہی چیز حضرت خواجہ قدس سرہ کی بڑی بالغ نظری کی دلیل ہے اور حضرت قدس سرہ کے بارے میں اس طرح کے خیالات کا اظہار فرماکر آپ نے

حضرت مجدد قدس سرہ کو آغاز ہی سے ایک مسلم الثبوت شخصیت اور ہر ایک کے لیے سند بنانے کی جو کوشش فرمائی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

حضرت خواجہ قدس سرہ کے بیانات پر اعتماد کرتے ہوئے اگر آغاز ہی سے لوگ حضرت مجدد قدس سرہ کو واقعی حیثیت دے دیتے تو اس زمانے میں اور بعد میں نرے لوگ محرومی کا شکار نہ ہوتے اور حضرت مجدد قدس سرہ کی معیت میں دین و سنت کی وہ نمایاں خدمت انجام دےکرقرب حق کی بلند منزلوں پر فائز ہوتے۔ اب چند بیانات آپ سماعت فرمالیں جن سے حضرت مجدد قدس سرہ کے جہاں سارے خد و خال آپ کے سامنے آجائیں گے وہیں حضرت خواجہ قدس سرہ کی دوربینی کا بھی پتا چل جائےگا۔

حضرت مولانا بدر الدین قدس سرہ فرماتے ہیں: آپ اپنے وطن (سرہند) سے تین مرتبہ حضرت خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے؛ پہلی مرتبہ حضرت خواجہ نے دولت کامل و تکمیل نیز مدارج قرب و نہایت کی ترقیوں کے حصول کی خوش خبری دی جیسا کہ اوپر مذکور ہے، دوسری مرتبہ حضرت خواجہ نے آپ کو طالبان حق کے ارشاد و افادہ کی اجازت دی اور خلافت کی خلعت عنایت فرمائی اور اپنے منتخب اصحاب کی ایک جماعت آپ کے ہمراہ کردی اور ان کی تربیت آپ کے حوالہ کردی، تیسری مرتبہ جب آپ حضرت خواجہ کی خدمت میں پہنچے اور حضرت نے آپ کی آمد کی خبر سنی تو پاپیادہ آپ کا استقبال کے لیے قلعہ فیروزی سے جو حضرت کا مسکن مبارک تھا کابلی دروازہ تک پہنچے اور بہت اعزاز و اکرام کے ساتھ آپ کو ہمراہ لے گئے۔

صاحب حضرات القدس نے بوقت انعقاد مجلس کا حال بیان کیا اور وہ نہایت ادق سوال کیا جو حضرت خواجہ قدس سرہ نے حضرت مجدد قدس سرہ سے کیا اور حضرت مجدد قدس سرہ نہایت مبنی بر حقیقت اس کا جواب عرض کیا۔ حضرت خواجہ قدس س

سرہ کا سوال اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ علم اور کشف و مشاہدہ اور عروج و ارتقا کی اس بلندی پر فائز تھے جس تک عام اولیاء اللہ کی رسائی نہیں تھی۔

محشی نے تینوں مرتبہ حاضری کی یہ تفصیل بیان کی ہے کہ پہلی مرتبہ ربیع الآخر ۱۰۰۸ھ میں، دوسری مرتبہ رمضان سے ذی قعدہ ۱۰۰۹ھ میں اور تیسری مرتبہ ۱۰۱۲ھ میں حضرت خواجہ رحمہ اللہ کی وفات سے چند ماہ قبل، پھر جب واپسی ہوئی تو لاہور میں حضرت خواجہ کی وفات کی خبر سنی تو واپس دہلی گئے وہاں اکثر حضرات نے آپ کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی لیکن بعض کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا۔ (دیکھیں حضرات القدس کا یہی دوسرا دفتر، حضرت سوم)

پھر مولانا بدر الدین‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: غرض کہ اس تیسری مرتبہ حضرت خواجہ نے آپ کا احترام و اکرام حد سے زیادہ کیا۔ چناں چہ جب حضرت خواجہ اپنی جگہ سے اٹھتے تو الٹے پاوں جاتے کہ کہیں آپ کی طرف پشت نہ ہو جائے اور راستہ چلنے میں بھی حضرت خواجہ یہی معمول رکھتے بلکہ طالبین اور حاضرین کو بھی حکم تھا کہ آپ کی موجودگی میں میری تعظیم ہرگز نہ کرنا اور انھوں نے اپنے تمام مریدوں کو آپ کے حوالہ کر دیا بلکہ اپنے صاحب زادوں کو جو ابھی شیر خوار تھے طلب فرما کر آپ کی توجہ کے لیے پیش کردیا جیسا کہ ان دونوں صاحب زادوں کے متعلق دفتر اول میں عرض کیا جا چکا ہے۔ حضرت خواجہ کے بعض اصحاب حضور میں نہیں تھے تو ان کی غائبانہ تربیت کے لیے آپ سے خواہش کی گئی، پھر حضرت خواجہ‌رحمۃ اللہ علیہ کا رشاد ہوا کہ ہماری پیری مریدی کا مقصد صرف آپ کا ظہور تھا اس لیے اب ہم نے مشیخت ترک کردی ہے۔’’

حضرت سوم میں درجہ ۴ کے تحت حضرت خواجہ قدس سرہ کے بیان کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں قطب المحققین خواجہ محمد باقی قدس سرہ فرماتے کہ حضرت مولانا خواجگی امکنگی قدس سرہ نے ہم کو حکم دیا کہ ہندوستان جاؤ، وہاں یہ سلسلہ

تمھاری وجہ سے فروغ پائےگا۔ میں نے خود کو اس خدمت کا اہل نہ پاکر عذر کیا تو حضرت نے استخارہ کرنے کا حکم دیا، میں نے استخارہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایک طوطا ایک شاخ پر بیٹھا ہے، میں نے دل میں خیال کیا کہ اگر یہ طوطا اس شاخ سے اڑ کر میرے ہاتھ پر بیٹھتا ہے تو مجھے اس سفر میں کامیابی ہوگی۔ بس یہ خیال کیا ہی تھا کہ وہ طوطا اڑ کر میرے ہاتھ پر بیٹھ گیا اور میں نے اس کی چونچ اپنے منہ میں لے لی اور اپنا لعاب اسے چٹا دیا تو وہ بولنے لگا۔ دوسری بار پھر میں نے اس کی چونچ اپنے منہ میں لے لی تو اس نے میرے منہ میں شکر ڈال دی۔

اس واقعہ کی تعبیر میں نے اس طرح کی کہ طوطا چوں کہ ہندوستان کا ایک پرندہ ہے اس لیے ہندوستان کا ایک بزرگ مجھ سے تعلق کرےگا جو معارف و حقائق بیان کرےگا اور مجھے بھی اس سے فائدہ پہنچےگا۔ میں نے یہ واقعہ اور اس کی تعبیر حضرت (امکنگی) کو سنائی تو انھوں نے فرمایا کہ اس واقعے کی یہی تعبیر ہے جو آپ کے دل میں آئی ہے اور ایک عرصے سے ہمارے بزرگ اس بزرگ کے انتظار میں ہیں، جلدی کرو اور اس بزرگ کو پکڑو، معلوم ہوا کہ وہ بزرگ تمھارے دامن سے پرواز حاصل کرےگا۔

حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ نے حضرت مجدد سے خطاب کرکے فرمایا کہ پھر میرے نزدیک یہ واقعہ اور یہ تعبیر آپ ہی کے متعلق ہے۔ چناں چہ حضرت خواجہ کی تعبیر کے مطابق ہی حقیقت رونما ہوئی۔ حضرت خواجہ قدس سرہ نے تربیت و تعلیم مریدین کی جب آپ کے حوالے فرمائی تو حضرت سید محمد نعمان قدس سرہ کو بھی فر مایا اس وقت کا قصہ آپ حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ کی زبانی سماعت فرمائیں جو پیر صاحب کے مرید بھی ہیں اور داماد بھی۔ حضرت سید صاحب کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس فقیر نعمان سے بھی فرمایا کہ ان کی (میاں شیخ احمد) خدمت کو اپنی سعادت جان کر لازم کر لو چوں کہ وہ میرے پیر بھائی تھے اس لیے نفس میں

خودداری کی وجہ سے میں نے عرض کیا کہ میری توجہ کا قبلہ آپ کی درگاہ ہے۔ ہر چند وہ بزرگ ہیں آپ نے از روے غضب فرمایا کہ میاں شیخ احمد وہ آفتاب ہیں کہ ہم جیسے ہزاروں ستارے ان کے ضمن میں گم ہیں اور اولیاے متقدمین کے کامل ترین لوگوں میں خال خال ان کے مثل ہوئے ہوں گے۔’’

حضرت خواجہ محمد ہاشم قدس سرہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ آپ سے اپنے مریدوں کا حال دریافت فرماتے تھے جو آپ کے پاس رہتے تھے اور حضرت مجدد ان کے متعلق اپنے کشف کی رو سے جواب تحریر فرماتے تھے۔ ایک مخلص مرید نے حضرت خواجہ سے نظر خاص کی التجا کی، آپ نے فرمایا: جب وہ (حضرت مجدد) سرہند سے آئیں گے ان سے کہوں گا کہ وہ توجہ خاص کر کے تھوڑی مدت میں مقامات عالیہ تک تم کو پہنچا دیں اور حضرت خواجہ ارباب معرفت و تحقیق کے درجات مقامات اور دقائق علوم آپ سے استفسار فرمایا کرتے تھے اور آپ کے جوابات سے خورسند ہوتے تھے۔ (حضرت مجدد اور ان کے ناقدین)

اس کے علاوہ بھی نرے واقعات ہیں جن سے آپ کو حضرت مجدد قدس سرہ کی عظمت و رفعت کا پورا پورا اندازہ ہو جائےگا اور حضرت خواجہ قدس سرہ کی روشن ضمیری اور دور بینی کا اچھی طرح احساس ہو جائےگا۔ یہ درجات مختلف بشارتوں اور دیگر عظمتوں پر مشتمل ہیں۔ خوف طوالت سے میں نے ترک کر دیے۔ مقصود کتاب کی ضخامت نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ کے لیے حضرت خواجہ قدس سرہ کی شخصیت سے بڑھ کر اور کیا سند ہو سکتی ہے۔ جب ایک مرشد صاحب احتیاط اور بلند مقامات اور مشاہدات کا حامل کسی مرید کو اس طرح نوازے تو اس کی عظمتوں کو نہایت شرح صدر کے ساتھ تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔

حضرت خواجہ قدس سرہ کی عظمت و رفعت اور فضل و کمال کے قائل سبھی اس

دور کے بڑے بڑے علما تھے۔ آپ کی عظمت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی‌رحمۃ اللہ علیہ جیسا صاحب فضل و کمال انسان بھی قادریہ نسبت کے حصول کے باوجود بھی استفاضہ کی خاطر مرید ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر حضرت خواجہ قدس سرہ کی عنایات کو بد گروہ لوگ نظر میں رکھتے جنھوں نے بد خواہوں کے دھوکے میں آکر مخالفتیں کی ہیں تو وہ کبھی دھوکہ نہ کھاتے۔