مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتجدیدِ الفِ ثانیشریعت کے تین اجزاء

باب ۵۴ از ۵۷صفحات ۷۳۱–۷۴۴

شریعت کے تین اجزاء

شریعت کے تین جزء ہیں (۱) علم(۲)عمل(۳)اخلاص جب تک یہ تین جز متحقق نہیں ہوں گے شریعت متحقق نہیں ہوگی،اور جب شریعت متحقق ہوگئی حق سبحانہ وتعالیٰ کی رضا حاصل ہوگئی جو کہ تمام دنیوی اور اخروی سعادتوں کے اوپر ہے۔

ورضوان من اللہ اکبر

پس شریعت جمیع سعادات دنیویہ اور اخرویہ کی ضامن ہوئی اور کوئی مطلب نہیں رہا کہ اس مطلب میں ماوراء شریعت کی ضرورت پڑے،طریقت وحقیقت کہ صوفیہ اس کے ساتھ ممتاز ہوئے ہیں دونوں شریعت کی خادم ہیں تیسرے جزء کی ےکمیل میں کہ اخلاص ہے ،ان دونوں کی تحصیل سے مقصود شریعت کی تکمیل ہے نہ کہ شریعت کے ماوراء کوئی امر دیگر۔

احوال ومواجید اور علوم ومعارف کہ صوفیہ کو اثناے راہ میں حاصل ہوتے ہیں

مقاصد سے نہیں ہیں۔

بل اوہام وخیالات تربی بہا اطفال الطریقۃ

(بلکہ اوہام وخیالات ہیں کہ جن سے طریقت کے بچوں کی پرورش ہوتی ہے) یعنی مطلوب کے مقدمات اور مبادی ومعدات ہوتے ہیں،ان تمام سے گذر کر مقام رضا پر پہنچنا چاہئے جو کہ مقامات جذبہ وسلوک کی انتہا مہے کیونکہ طریقت وحقیقت کے منازل طے کرنے سے مقصود تحصیل اخلاص کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو کہ مقام رضا کو مستلزم ہے ۔

تجلیات سہ گانہ(یعنی تجلی افعال وصفات وذات)اور مشاہدات عارفانہ سے گذار کر ہزاروں سے کسی ایک کو دولت اخلاص اور مقام رضاتک پہنچاتے ہیں۔

کوتہ اندیش لوگ احوال ومواجید کو مقاصد سے شمار کرتے ہیں اور مشاہدات وتجلیات کو مطالب سے جانتے ہیں،لامحالہ وہم وخیال کی قید میں گرفتار رہے اور شریعت کے کمالات سے محروم ہوگئے۔آخر مکتوب میں فرماتے ہیں:‘‘ہاں! مقام اخلاص کا حصول اور مرتبۂ رضا تک وصول ان احوال ومواجید کے طے کے ساتھ موقوف ہے اور ان علوم ومعارف کے ساتھ تحقق سے وابستہ تو یہ مطلوب کے معدات(وسائل وذرائع)ہوں گے اور مقصود کے مقدمات،اس معنیٰ کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کے صدقے میں اس فقیر پر کامل دس سال کے بعد اس راہ میں واضح ہوئی اور شاہد شریعت(معشوق) کما ینبغی جلوہ گر ہوا’’(مکتوب ۳۶ ج۱)

(۲)مکتوب ۸۴ میں فرماتے ہیں:‘‘ المقصود شریرت وحقیقت ایک دوسرے کا عین ہیں اور در حقیقت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اجمال اور تفصیل کا فرق ہے ،استدلال اور کشف کا ہے،غیبت اور شہادت کا ہے تعمل اور عدم تعمل کا ہے(یعنی شریعت اجمال کا نام ہے اور طریقت تفصیل کا اور غیبت کا اور تعمل کا اور حقیقت

تفصیل کا کشف کا ،شہادت اور تعمل کا نام ہے) جو احکام اور علوم بمقتضائے شریعت غرا مبین اور معلوم ہوئے ہیں حقیقت حق الیقین کے ساتھ تحقق کے بعد یہی احکام وعلوم بعینہا تفصیل سے منکشف ہوتے ہیں اور غیبت سے شہادت میں آجاتے ہیں کسب کی محنت اور عمل کا حیلہ درمیان سے اٹھ جاتا ہے

حقیقت حق الیقین تک وصول کی علامت اس مقام کے علوم ومعارف کا علوم معارف شرعیہ کے ساتھ مطابقت ہے جب تک ایک بال برابر بھی مخالفت ہے دلیل ہے حقیقت الحقائق تک نہ پہنچنے کی،مشائخ طریقت سے شریعت کے خلاف جو بھی علم وعمل میں واقع ہوا ہے سکر وقت پر مبنی ہے اور سکر وقت نہیں ہوتا ہے مگر اثنائے راہ میں’’

(۳)مکتوب ۲۷۶ جلد اول جو کہ محکمات اور متشابہات قرآنی اور علماء راسخین اور ان کے کمالات کے بیان میں ہے،پہلے محکمات ومتشابہات کو بیان کرکے آخر میں فرماتے ہیں:‘‘پس لب کتاب (مغز) متشابہات آئیں اور محکمات کتاب اس مغز کا قشر(چھلکا)متشابہات ہیں کہ رمز واشارے سے اصل کو بیان کرتی ہیں اور اس مرتبہ کے معاملہ کی حقیقت کا نشان دیتی ہیں بخلاف محکمات کے،متشابہات حقائق ہیں اور محکمات ان متشابہات کی نسبت ان حقائق کی صورتیں’’

عالم راسخ:

عالم راسخ وہ شخص ہوگا کہ لب کو قشر سے جمع کرسکے اور حقیقت کو صورت میں لائے علماء(ظواہر)قشر کو قشر کے عوض خریدتے ہیں اور محکمات پر اکتفا کرتے ہیں اور علماء راسخین علم محکمات کو حاصل کرکے تاویل متشابہات سے کامل حصہ حاصل کرتے ہیں اور صورت وحقیقت کہ محکم ومتشابہ ہے کو جمع کرتے ہیں۔

لیکن جو شخص علم محکمات اور ان محکمات کے مقتضیٰ پر عمل کیے بغیر متشابہات

کی تاویل ڈھونڈتا ہے اور صورت کو چھوڑ کر حقیقت کو تلاش کرتا ہے وہ شخص جاہل ہے کہ اپنے جہل سے بے خبر ہے اور گمراہ ہے کہ اپنی گمرہی سے بے شعور وہ نہیں جانتا ہے کہ یہ دنیا صورت اور حقیقت سے مرکب ہے جب تک یہ دنیا ہے کوئی حقیقت صورت سے جدا نہیں ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

واعبد ربک حتیٰ یا تیک الیقین ای الموت

(اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ یقین آجائے یعنی موت)جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے عبادت کو موت کے زمانے تک منتہی کیا جو کہ اس دنیا کی منتہا ہے ۔

لان ّمن مات قامت قیامتہ

(یعنی جو مرگیا اس کی قیامت آگئی) اور خروی جہان میں کہ حقائق کا ظہور ہے صورتوں کی جدائی حقیقتوں سے اس جگہ حاصل ہے پس ہر جہان کا حکم علیٰحدہ ہے ایک کو دوسرے کے ساتھ مخلوط نہیں کرے گا مگر جاہل یا زندیق کہ جس کا شرایع کو باطل کرنا ہے کیونکہ شریعت کا ہر حکم جو مبتدی پر ہے وہی حکم منتہی پر ہے،عام مومنین اور اخص خواص عارفین اس معنیی میں برابر قدم ہیں۔

متصوفان خام کی جاہلانہ باتیں:

متصوفان خام اور جاہلان بے سرانجام اس کے درپے ہیں کہ اپنی گردنوں کو شریعت کے حلقے سے باہر کرلیں اور احکام شرعیہ کو عوام کے ساتھ خاص رکھیں،خیال کرتے ہیں کہ خواص معرفت کے مکلف ہیں اور بس جس طرح نادان امراء وسلاطین عدل وانصاف کے علاوہ کا مکلف نہیں جانتے ہیں کہتے ہیں کہ شریعت بجا لانے سے مقصود معرفت کا حصول ہے اور جب معرفت میسر ہوگئی تکلیفات شرعیہ ساقط ہوگئیں اور اس آیت کریمہ:

واعبد ربک حتیٰ یا تیک الیقین ای اللہ کما قال السہل التستری

(یعنی اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے جیسا کہ حضرت سہل ابن عبداللہ تستری نے کہا ہے)اہنے دعویٰ پر دلیل بناتے ہیں یعنی عبادت کی انتہا حق تعالیٰ کی معرفت کے حصول تک ہے۔

بظاہر جس نے یقین سے مراد اللہ تعالیٰ لیا ہے اس کی مراد عبادت کی مشقت کی انتہا رہی ہوگی حق جل وعلا کی معرفت کے حصول کے زمانے تک نہ کہ نفس عبادت کہ وہ الحاد وزندقہ تک پہنچاتی ہے،اور یہ(متصوفان خام)سمجھتے ہیں کہ عارفین کی عبادت ریائی ہے(یعنی دکھاوا ہے) اس واسطے کرتے ہیں کہ مبتدی لوگ اور ان کے پیروکار ان کی اقتدا کریں نہ یہ کہ عارفین عبادت کے محتاج ہیں۔

اور اس قول کی تائید میں مشائخ سے نقل کرتے ہیں کہ کہا ہے کہ جب تک پیر منافق اور ریا کارنہیں ہوگا مرید اس سے نفع اندوز نہیں ہوسکتا ہے۔

خذلہم اللہ سبحانہ ما اجہلہم

(کیونکہ)جس قدر حاجت عارفوں کو عبادت کی ہے اس کا دسواں حصہ بھی اس احتیاج سے مبتدیوں کو نہیں ہے کیونکہ ان کے عروجات عبادات سے وابستہ ہیں اور ان کی ترقیاں احکام وشرائع بجا لانے پر ،عبادتوں کے نتائج کہ عوام کو کل(روز قیامت) متوقع ہیں عارفوں کو وہ ثمرات آج میسر ہیں تو یہ عبادت کے زیادہ حقدار ہوں گے اور شریعت کے بجا لانے کے زیادہ محتاج ہوں گے۔

شریعت کس چیز کا نام ہے:

جاننا چاہئے کہ صورت اور حقیقت کے مجموعے کا نام شریعت ہے،صورت شریعت کا ظاہر ہے اور حقیقت شریعت کا باطن پس قشر اور لب ہر دو شریعت کے اجزاء ہیں اور محکم ومتشابہ دونوں اس کے افراد،علماء ظاہر نے اس کے قشر پر اکتفا کیا

ہے اور علماء راسخین نے اس کے قشر کو لب کے ساتھ جمع کیا ہے اور صورت وحقیقت کے مجموعہ سے کامل حصہ لیا ہے تو شریعت کو اس شخص کی طرح سمجھنا چاہئے جو صورت اور حقیقت سے مرکب ہے اور ایک گروہ نے شریعت کے ساتھ گرفتاری پیدا کی ہے اور اس کی حقیقت سے انکار کردیا ہے اور اپنا پیر مقتدا کتاب‘‘ہدایہ اور بزدوی’’ کے علاوہ نہیں جانا۔

علماء کے درجات:

یہ جماعت علماء قشر ہیں اور ایک گروہ اس کی حقیقت کے ساتھ گرفتار ہوا لیکن اس حقیقت کو حقیقت شریعت نہیں جانا بلکہ شریعت کو صورت پر مقصور رکھااور قشر جانا اور لب اس کے وراء کو تصور کیااس کے باوجود شریعت کو بجا لانے سے بال برابر بھی نہیں رہے اور صورت کو ہاتھ سے نہیں دیا اور احکام شریعت کے کسی حکم کے تارک کو بطال اور ضال شمار کیا یہ ہیں خدا جل شانہ کے اولیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے موسوا تعالیٰ سے کٹ گئے ہیں۔

اور دیگر گروہ ،وہ ہے کہ(جس نے)شریعت کو صورت اور حقیقت سے مرکب جانا ہے اور قشر اور لب کے مجموعے کو یقین کیا ،صورت شریعت کا حصول اس کی حقیقت کے بغیر ان کے نزدیک اعتبار سے ساقط چیز ہے اور اس کی حقیقت کا حصول صورت کو ثابت کئے بغیر نا تمام اور ناقص بلکہ حصول صورت ثبوت حقیقت کے بغیر کو بھی اسلام سے جانا اور نجات بخش تصور کیا جیسا کہ علماء ظواہر اور عوام کا حال ہے اور حصول حقیقت کو بے ثبوت صورت منجملہ محالات تصور کیا اور اس کے قائل کو زندیق وگمراہ نام دیا۔

خلاصہ یہ کہ کمالات صوری ومعنوی ان بزرگواروں کے نزدیک کمالات شرعیہ میں منحصر ہیں اور علوم ومعارف الٰہیہ عقائد کلامیہ پر محصور، کہ اہل سنت کی رائے

ثبوت سے پیوستہ ہیں،ہزاروں شہود ومشاہدہ کو ایک مسئلہ بے چونی اور بے چگونگی حق جل وعلا کہ مسائل کلامیہ سے ہے کے برابر نہیں جانتے ہیں اور احوال ومواجید اور تجلیات اور ظہورات کو کہ احکام شرعیہ سے کسی حکم کے خلاف ظاہر ہوں نیم جو کے عوض نہیں خریدتے ہیں اور اس ظہور کو استدراج کے گمان کی جگہوں سے شمار کرتے ہیں:

اولٰئک الذین ہداہم اللہ فبہداہم اقتدہ

یہی لوگ علمائے راسخین ہیں کہ معاملہ کی حقیقت پر ان کو اطلاع بخشی ہے اور آداب شریعت کی رعایت کی برکت سے ان کو حقیقت شریعت رک پہنچایا ہے۔

اس کے برخلاف دوسرے گروہ کے کہ ہرچند متوجہ حقیقت ہیں اور حقیقت سے گرفتاری رکھتے ہیں اور احکام شرعیہ کے بجا لانے میں سر مو تجاوز نہیں کرتے ہیں ناچار اس حقیقت کے ظلال سے کسے ظل کے ساتھ تعلق رکھا ہےاور اس حقیقت کے حقیقت معاملہ تک وصول نہیں پایا ہےلامحالہ ان کی ولایت ظلی آئی اور ان کا قرب صفاتی بخلاف علماءراسخین کی ولایت کی اصل ہے اور اصل تک راہ وصول پائی ہے اور ظلال کے پردوں سے مکل طور پر گذرگئے ان کی ولایت لا محالہ ولایت انبیاء ہوگی علیہم السلوات والتسلیمات۔(مکتوب۲۷۶ج۱)

سبحان اللہ! یہ مکتوب شریف حقائق ومعارف کا گنجینہ ہے ،آہ بار بار پڑھیں اور دیکھیں کہ شریعت اور اس کے حاملین کی کی کیسی جامع اور اصل تصویر ہے اور ان کے تعلق سے کتنے لطیف اشارے ہیں،سچ یہ ہےکہ یہ سرف تجدید الف ثانی کا حصہ ہیں۔

شریعت کی اہمیت وافادیت،اس کی جامعیت اور اس سے مستفیض ہونے والوں کے حصے سبھی کچھ آپ نے ان اقتباسات سے سمجھ لیا،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘ان صوفیہ خام اور ملحدان بے سرانجام کے ہاتھوں شریعت مطہرہ کی جو درگت

ہورہی تھی آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں عقائد واعمال کی بنیادیں کس قدر کمزور ہورہی تھیں اس کا اندازہ بخوبی ہوگیا ہوگا،جبکہ سارے کمالت بلکہ نجات وفلاح سب اسی پر موقوف ہے’’ یہی وجہ ہے کہ حضرت مجدد قدس سرہ نے جگہ جگہ مکمل شریعت پر عملکا زور دیا ہے اور احکام شرعیہ کو بے اعتبار کرنے والوں کے لیے کوئی راہ فرار نہیں چھوڑی ہے،ہم چند مفید باتیں سپرد قلم کرکے اس سلسلۂ گفتگو کو ختم کرتے ہیں۔

عالم امر وخلق کے کمالات کا فرق:

مکتوب۲۶۰ جو سیر وسلوک میں ہے ایک مقام پر فرماتے ہیں:‘‘ اےفرزند! سابقہ معارف سے معلوم ہوا کہ جو کمالات عالم امر سے تعلق رکھتے ہیں مقدمات اور زینے ہیں ان کمالات کے لیے جو عالم خلقق سے متعلق ہیں اور کمالات اولیٰ ظلیت سے خالی نہیں ہیں اور مخصوص ہیں مقامات ولایت کے ساتھ ،اور کمالات ثانیہ شائبۂ ظلیت سے کہ اس دنیوی جہان کے ظہورات کے مناسب ہیں باہر آچکے ہیں اور مقامات نبوت سے کامل حصہ پایا ہے پس طریقت وحقیقت کہ ولایت سے وابستہ ہیں خادم ہوں گی شریعت کی جو کہ مرتبۂ نبوت سے ناشی ہے اور ولایت زینہ ہوگی عروج نبوت کے لیے’’

انبیاء کرام کی ابتداء سیر:

انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات نے عالم امر سے سیر شروع فرمائی ہے اور حقیقت سے شریعت میں آئے بس اتنا ہوسکتا ہے کہ اولیائے کاملین کے لیے کہ ان کی سیر انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی سیر کے موافق پڑی ہے آغاز میں صورت شریعت ہے اور وسط میں صورت وحقیقت، کہ ولایت سے تعلق رکھتی ہیں عالم امر کے مناسب ہیں اور آخر میں حقیقت شریعت ہے کہ نبوت کا ثمرہ ہے تو ثابت ہوگیا کہ طریقت وحقیقت کا حصول حقیقت شریعت کے حصول کے لیے مقدمہ (پیش خیمہ

ہے) ہے پس ابتداء اولیاء کاملین کی اور ابتداء انبیاء مرسل کی حقیقت ہوئی اور دونوں کی انتہا شریعت تو اس شخص کے قول کے کوئی معنیٰ نہیں جس نے یہ کہا:

بدایۃ الاولیاء نہایۃ الانبیاء

(اولیاء کی ابتداء انبیاء کی انتہا ہے) اور بدایت اولیاء اور نہایت انبیاء شریعت مرادی ہے۔

ہاں! وہ بےچارہ جو حقیقت کار سے آگاہی نہیں رکھتا تھا لامحالہ اس شطح(خلاف ظاہر بات)سے کلام کرے گا،یہ معارف ہر چند کسی نے نہیں کہے ہیں بلکہ اکثر نے اس کے بر عکس کہا ہے اور ادراک سے بعید جانا ہےلیکن انصاف پسند کہ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی بزرگی کی جانب کو ملاحظہ کرتا ہے اور عظمت شریعت اس پر غالب ہوگی ہوسکتا ہے کہ ان اسرار غامضہ کو قبول فرمائے اور اس قبول کو اپنے زیادتیٔ ایمان کا حصہ بنائے۔

دعوت انبیاء کرام علیہم السلام:

اےفرزند! سنوکہ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات نے دعوت کو عام خلق پر محصور رکھا ہے۔

بنی الاسلام علیٰ خمس

اور چونکہ قلب کو عالم خلق سے مناسبت زیادہ تھی اس کی تصدیق کی بھی دعوت فرمائی اور قلب کے ماوراء کوئی بھی بات نہیں فرمائی اور اس کو مطروح فی الطریق کی طرح کردیااور مقاصد سے شمار نہیں کیا ،یقینا جنت کیی نعمتیں،دقزخ کے آلام،دیدار الٰہی اور محرومی کی بے دولتی سب عالم خلق سے وابستہ ہے اور جو عالم امر کا نصیب ہے وہ اعمال کاملہ سے ہے۔

پس وہ قرب کو کہ ان اعمال کی ادائیگی کا ثمرہ ہے بہ اندازۂ اعمال ہوگا پس لا محالہ

جو قرب اداء فرائض کا ثمرہ ہے عالم خلق کا نصیب ہوگا اور جو قرب ادائے نوافل کی نتیجہ ہے عالم امر کا نصیب،اور کوئی شک نہیں کہ نفل کو فرض کے اندازہ پر کوئی شمار نہیں ہے کاش کہ قطرہ کا درجہ رکھتا دریاے محیط کی نسبت بلکہ نفل کو سنت کے اندازہ پر بھی یہی نسبت ہے اگر چہ سنت اور فرض کے درمیان بھی قطرہ اور دریا کی نسبت ہے،پس دونوں قربوں کے درمیان تفاوت اس جگہ سے قیاس کرنا چاہئے،اور عالم خلق کی فضیلت عالم امر پر اس تفاوت سے جاننا چاہئے،اکثر خلائق چونکہ اس معنیٰ سے حصہ نہیں رکھتے ہیں(اس لیے)فرائض کو برباد کرکے نوافل کی ترویج میں کوشش کرتے ہیں۔

صوفیہ خام کا اہتمام ذکروفکر:

صوفیہ خام نے ذکر وفکر سخت ترین ضروریات سے جانتے ہوئے فرائض وسنن کی بجا آوری میں سستیاں کرتے ہیں اور اربعینات(چلے) اور ریاضات کو اختیار کرتے ہوئے جمعہ اور جماعت چھوڑتے ہیں،نہیں جانتے ہیں کہ ایک فرض کو جماعت سےادا کرنا ان کے ہزار چلوں سے بہتر ہے۔۔۔۔

ہاں! آداب شرعیہ کی رعایت کے ساتھ ذکر وفکر بہتر اور اہم ہے،علماء بے سر انجام بھی نوافل کی ترویج میں کوشش کرتے ہیں اور فرائض خراب اور ابتر بتاتے ہیں مثال کے طور پر نماز عاشوراء جو کہ حضرت پیغمبرﷺ سے صحت کو نہیں پہنچی ہے جماعت اور جمعیت تمام کے ساتھ گذارتے ہیں ،حالانکہ جانتے ہیں کہ فقہی روایات جماعت نافلہ کی کراہت کی ناطق ہیں،اور فرض کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں،کم ہے کہ فرض کو وقت مستحب میں ادا کریں بلکہ اصل وقت سے بھی تجاوز کرتے ہیں اور جماعت میں اہتمام نہیں رکھتے ہیں ایک شخص یا دو شخص کے ساتھ جماعت میں قناعت کر لیتے ہیں بلکہ بہت سی دفعہ تنہائی میں کفایت کر لیتے ہیں۔

جب اسلام کے پیشوا یہ معاملہ کرتے ہیں تو عوام کا کیا کہیں اس عمل کی نحوست سے اسلام میں ضعف پیدا ہے اور اس کی ظلمت سے ہوا وبدعت ہے؎

اندکے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم

کہ آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است

جمعہ وجماعت اور فرائض وسنن سے لا پرواہی اور نوافل ومستحباتمیں اہتمام کی داستان جو آپ مجدد قدس سرہ کی زبانی سن رہے ہیں وہی ٹھیک آج بھی ہے،آج بھی نرے ارباب تقویٰ وطہارت کہلانے والے ایک دو افراد کے ساتھ جماعت کرلیتے ہیں،گھروں میں پڑھ لیتے ہیں،وقت معہود پر جو جماعت ہوتی ہے عام طور پر ان پیشواؤ ں سے اس کا ترک ہوتا رہتا ہے،مسجدوں میں بہت جبرا وقہرا یہ سوچ کر کہ لوگ کیا کہیں گے چلے جاتے ہیں جبکہ نمازوں کو با جماعت مسجدوں میں بہ اہتمام ادا کرنے سے جو قوت اسلام اور اہل اسلام کو ملتی ہے وہ کسی ہوش مند اور حساس سے پوشیدہ نہیں۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس مرد حق آگاہ کو کیسا حساس قلب ملا تھا ہر پہلو پر کیسی وسیع نظر پائی تھی ،سستیاں کہاں سے داخل ہوتی ہیں،کن کن معاملات میں سستی وکاہلی سے اسلام کا کیا نقصان ہوتا ہے سارا درد لفظ لفظ سے ظاہر ہے،کاش!لوگوں کو شعور ہوتا اور قدر کرتے تو اسلام کے اس دیوانے کو سر کا تاج بناتے۔

(۹)مکتوب ۴۱ جلد اول میں فرماتے ہیں:‘‘محمدرسول اللہﷺرب العالمین کے محبوب ہیں جو چیز خوب (اچھی)اورمرگوب ہے وہ محبوب ومطلوب کے واسطے ہے،لہٰذا حق سبحانہ وتعالیٰ اپنے کلام مجید میں فرماتا ہے:

انک لعلیٰ خلق عظیم

اور نیز فرماتا ہے:

انک لمن المرسلین علیٰ صراط مستقیم

نیز تعالیٰ وتقدس نے فرمایا:

ان ہٰذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولاتتبعواالسبل

آپ ﷺ کے مسلک کو صراط مستقیم کہا اور اس کے ماسوا کو داخل سبل قرار دے کر اس کی پیروی سے منع فرمایا۔

اور اس سرور ﷺنے اظہار شکر ،اطلاع خلق اور ان کی ہدایت کے لیے فرمایا:

خیر الہدی ہدی محمد

(بہترین سیرت سیرت محمد ہے)

آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:

ادبنی ربی فاحسن تادیبی

(میرے رب نے مجھے ادب سکھایا تو بہترین ادب سکھایا)

اور باطن ظاہر کو تمام کرنے والا اور کمال تک پہنچانے والا ہے سر مو ایک دوسرے سے مخالفت نہیں رکھتا ہے مثلا جھوٹ زبان سے نہ بولنا شریعت ہے اور دل سے خطرہ کی نفی کرنا طریقت وحقیقت ہے اگر یہ نفی تکلف وتعمل سے ہے(یعنی رنج کے ساتھ اور خواہش کے خلاف ہے )تو طریقت ہے اور اگر بے تکلف میسر ہے تو حقیقت،تو در حقیقت باطن کہ در حقیقت طریقت وحقیقت ہے ظاہر کو تمام اور مکمل کرنے والا ہوا جو کہ شریعت ہے۔

پس طریقت وحقیقت کی راہوں کے سالکین کو اگر درمیان راہ میں ایسے امور ظاہر ہوں جو بظاہر شریعت سے مخالفت رکھتے ہوں تو سکر وقت اور غلبۂ حال پر مبنی ہیں اگر اس مقام سے گذاریں اور صحو میں لائیں تو وہ مخالفت پورے طور پر ختم ہو

ہوجائے گی اور وہ مخالف علوم بتمام ہباء منثورا ہوجائیں گے’’

پھر آپ نے چند مسائل مبنی بر سکر ذکر فرمائے،تفصیل کے لیے مکتوب مذکور کا مطالعہ کریں۔

سبحان اللہ کیا پیارا انداز ہے اور کتنا زبردست استدلال ہے اس بات پر کہ سب سے بہتر رسول اکرمﷺ کا طریقہ ہے اور سارے علوم سے بہتر آپﷺ کا عطا کیا ہوا علم ہے۔

(۱۰)اس مکتوب میں چند مسائل صوفیہ ذکر کرکے اور علماء کو ان پر ترجیح دے کر فرماتے ہیں:‘‘معارف باطن کی موافقت ظاہری شریعت کے علوم سے بتمام وکمال اس حد تک کہ ادنیٰ سی بھی مخالفت کی گنجائش نہ رہے مقام صدیقیت میں ہے جو کہ مقام ولایت سے بالا تر ہے اور مقام صدیقیت کے فوق میں مقام نبوت ہے جو علوم نبی اکرم ﷺ کو بطریق وحی آئے ہیں صدیق کو بطریق الہام منکشف ہوئے ہیں،ان دونوں علموں کے درمیان وحی اور الہام کے علاوہ فرق نہیں ہے تو مخالفت کی کیا گنجائش ہوگی؟

اور مقام صدیقیت سے نیچے جو بھی مقام ہوگا ایک قسم کا سکر متحقق ہے،مکمل صھو مقام صدیقیت میں ہے اور دوسرا فرق ان دونوں علموں کے درمیان یہ ہے کہ وحی میں قطعیت ہے اور الہام میں ظن کیونکہ وحی فرشتہ کے واسطہ سے ہوتی ہے اور فرشتے معصوم ہیں ان میں خطا کا احتمال نہیں ہے اور الہام اگرچہ بلند محل رکھتا ہے اور وہ قلب ہے اور قلب عالم امر سے ہے لیکن قلب کا عقل ونفس کے ساتھ ایک قسم کا تعلق متحقق ہے اور نفس ہر چند تزکیہ سے مطمئنہ ہو گیا ہے لیکن (یہاں شعر نقل ہونا ہے)نفس ہر چند مطمئنہ ہوجائے ہرگز اپنی صفات سے نہیں پھرتا ہے، تو خطا

کے لیے اس محل میں گنجائش ہوگی’’