باب ۲۷ از ۵۷صفحات ۳۷۳–۳۸۳
عدمیت ذات انسان
حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے جب چاہا کہ اپنے کمالات ذاتی و صفاتی اور اسمائی کو ظاہر کرے اور اشیا کی جلوہ گاہوں اور آئینوں میں جلوہ دے ہر کمال کو مراتب عدم میں اس کمال کی نقیض کہ اس کی مقابل ہے اور اضافت کی وجہ سے باقی اعدام سے ممتاز ہے۔ اس کمال کی آئینہ داری کے واسطے متعین فرمایا کیوں کہ شے کا آئینہ شے کا مقابل ہے اور اس شے کے ظہور کا سبب ہے و بضدّھا تتبیّن الأشیاء (اشیا اپنے اضداد سے ممتاز ہوتی ہیں) اور ان اعدام کو کہ ان کمالات کی آئینہ داری رکھتے ہیں جب چاہا مرتبہ حس و وہم میں ایجاد فرمایا اور استقرار و استحکام بخشا اور ان تمام کمالات کو ان میں منعکس کیا اور اس انعکاس سے ان اعدام کو اس مرتبہ میں حی و عالم و قادر و مرید و سمیع و بصیر و متکلم بنایا، لیکن محسوس ہوا ہے کہ پہلے عدم میں تصرف فرماتے ہیں بغیر اس کے کہ اس میں کسی دوسری چیز کو مخلوط بنائیں اور اس کو اسی تصرف سے ملائم و نرم بناتے ہیں ب
بعد اس کے اس جگہ ظہور کمال دکھاتے ہیں جیسے پہلے موم کو نرم و ملائم بنائیں اس کے بعد اس سے صور و اشکال پیدا کریں۔ جاننا چاہیے کہ عدم سے مراد اس جگہ عدم خارجی ہے کہ وجود خارجی کا مقابل ہے۔ پس منافی اس کی ایجاد کے کہ مرتبہ وہم میں واقع ہو نہ ہوگا اور وہمی ثبوت اس سے جنگ نہیں رکھتا ہے۔
اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ عدم کے منافی وجود ہے کہ اس کی نقیض ہے اور عدم وجود نہیں ہوتا ہے لیکن اگر عدم موجود ہو جائے تو کوئی محظور لازم نہیں آئےگا جیسا کہ وجود میں کہا ہے کہ معقولات ثانیہ سے ہے کہ خارج میں معدوم ہے اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ حقائق اشیا اعدام ہیں کہ مرتبہ وجود کے کمالات تعالت و تقدست ان میں منعکس ہوتے ہیں اور انھوں نے ایجاد خداوندی جل سلطانہ سے وہمی تحقق و ثبوت پیدا کیا ہے اور مرتبہ وہم میں استقرار و استمرار حاصل کیا ہے۔ گویا اشیاکی ذاتیں وہ اعدام ہیں اور ان کمالات کا انعکاس ان میں ان اعدام کے دست و پا کی طرح ہے اور ان کے قُوی و جوارح کی مانند۔’’
اس کے بعد چند باتیں مقصد اصلی سے کہ ولایت خاصہ سے تعلق رکھتی ہیں ذکر کی جاتی ہیں، گوش ہوش سے سماعت فرمائیں۔ ارشدك اللّٰہ تعالیٰ و ھداک سواء الطریق
حقیقت انسان:
انسان کی حقیقت اور اس کی ذات عدم ہے کہ حقیقت نفس ناطقہ ہے اور آغاز میں نفس کی تعبیر نفس امارہ سے کرتے ہیں اور انسان کا ہر فرد اس کی طرف لفظ انا سے اشارہ کرتا ہے۔ پس ذات انسان نفس امارہ ہوگی اور انسان کے باقی لطائف قُوی اور جوارح کی طرح ہوں گے اس کے لیے اور عدم چوں کہ فی حد ذاتہ شر محض ہے، بھلائی کی بو نہیں رکھتا ہے (اس لیے) نفس امارہ بھی شر محض ہوگا اور بھلائی کی بو اس میں نہ ہو
نفس کی شرارت اور نادانی سے (یہ بات ہے) کہ جو کمالات اس میں منعکس ہو کر بطریق ظلیت ظاہر ہوئے (ان کو) خود سے جانتا ہے اور ان کا قیام کہ ان کی اصل کے ساتھ ثابت ہے اپنی ذات سے منسوب کرتا ہے اور ان کمالات کی وجہ سے خود کو کامل اور خیر جانتا ہے اور اس وجہ سے سرداری کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے خدا جل سلطانہ کے ساتھ کمالات میں اپنے کو شریک بناتا ہے اور حو ل و قوت کو اپنے سے تصور کرتا ہے اور خود کو متصرف سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب اس کے تابع ہوں اور خود کسی کے تابع نہ ہو اور خود کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے اور دوسروں کو اپنی وجہ سے محبوب رکھتا ہے نہ ان کی وجہ سے (دوسروں سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ وہ اس کے کام آتے ہیں) اور ان فاسد خیالات کی وجہ سے اپنے مولیٰ جل سلطانہ سے عداوت ذاتی پیدا کرتا ہے اور اس عز و جل کے نازل کیے ہوئے احکام کا معتقد نہیں ہوتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی چاہتا ہے اور اپنی خواہشات کی پوجا کرتا ہے۔ حدیث قدسی میں آیا ہے ‘‘عادِ نفسك فانھا انقصبت بمعاداتی’’ (اپنے نفس کو دشمن رکھ کیوں کہ وہ میری دشمنی پر اتارو ہے) اور حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے کمال رافت و رحمت سے انبیا علیہم الصلوات وا لتسلیمات کو مبعوث فرمایا کہ رحمت عالم ہیں تاکہ (خلق کو) حق کی دعوت دیں اور اس دشمن کا کارخانہ برباد کریں اور اس کی رہنمائی خالق و مولیٰ کی طرف کریں اور اس جہل و خبائث سے باہر لائیں اور اس کے نقص و شرارت پر اطلاع دیں جو کوئی ازلی معادت رکھتا تھا (اس نے) ان بزرگوں کی دعوت کو قبول کیا اور اپنے جہل و خباثت سے باز رکھا اور نازل شدہ احکام کا مطیع ہوا۔(م:۶۰، ج:۳)
انسان کی فنا و بقا:
مکتوب ۶۲، جلد سوم میں فرماتے ہیں ‘‘انسان کی حقیقت اور ذات نفس ناطقہ کہ
انسان جس کی طرف لفظ انا سے اشارہ کرتا ہے اور نفس ناطقہ کی حقیقت عدم ہے کہ وجود اور صفات وجودیہ کے پرتو کی وجہ سے خود کو موجود توہم کر لیا ہے اور مستقل حی و عالم و قادر جان لیا اور ان صفات کمال حیات و علم وغیرہ کو خود سے تصور کر لیا اور اپنے ساتھ قائم جان لیا اور اسی توہم سے خود کو کامل اور خیر یقین کر لیا اور اپنے ذاتی شرارت نقص کو کہ عدم سے ناشی ہے کہ شر محض ہے بھلا دیا اور جب عنایت خداوندی جل سلطانہ اس کو پہنچتی ہے اور جہل مرکب سے اور اس کی تصدیق کاذب سے اس کو چھٹکارا دیتی ہے تو وہ جانتا ہے کہ یہ کمالات دیگر جگہ سے ہیں اور یہ صفات کاملہ نہ اس سے ہیں اور نہ اس کے ساتھ قائم ہیں اور جانتا ہے کہ اس کی حقیقت اور ذات عدم ہے کہ شر محض اور نقص خالص ہے اور یہ دید (دیکھنا) اگر اللہ تعالیٰ کے کرم سے غالب آتی ہے اور مکمل طور پر کمالات کو ان کمالات کے مالک کو سپرد کر دیتا ہے اور اس امانت کو پورے طور پر اس کے اہل کو ادا کر دیتا ہے، خود کو عدم محض پایا اور بھلائی کی بو اپنے اندر نہیں دیکھی، اس وقت نہ اس کا کوئی نام رہتا ہے اور نہ کوئی نشان نہ عین رہتا ہے اور نہ کوئی اثر کیوں کہ عدم لاشیئ محض ہے مراتب سے کسی مرتبہ میں ثبوت نہیں رکھتا ہے اور اگر بالفرض مراتب سے کسی مرتبہ میں اس کو ثبوت متحقق ہو تو اس سے تمام کمالات مسلوب نہیں ہوں گے کیوں کہ ثبوت عین کمال ہے بلکہ اصل کمالات۔ اس تحقیق سے لازم آیا کہ اس فنا کہ اتم و اکمل ہے کے حصول میں فانی کا وجودی زوال کچھ بھی درکار نہیں ہے کیوں کہ اس کا وجود ہرگز نہیں رہا ہے تاکہ زوال متصور ہو (بلکہ) عدم تھا کہ توہم وجود سے خود کو قائم رکھا اور جب یہ توہم زائل ہو گیا اور زوال شہودی سے متصف ہو گیا تو عدم صرف رہ گیا کہ ہالک اور لاشیئ ہے۔ پس زوال شہودی سے چارہ نہیں اور زوال وجودی کچھ بھی نہیں ہوگا واللّٰہ سبحانہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
مکتوب ۴۶ میں فرماتے ہیں ‘‘فناے اتم اس وقت متحقق ہوتی ہے کہ فانی سے
عین و اثر کا زوال حاصل ہو جائے اور اس کا کوئی نام و نشان نہ رہے۔
سوال: ممکنات کی حقیقت جب اعدام ہوں گی کہ اضافت سے امتیاز پاکر اسما و صفات واجبی جل سلطانہ کے آئینے ہو گئے ہیں جیسا کہ مکتوبات میں اس معنی کی ہم نے تحقیق کی ہے تو لازم آئےگا کہ اس فنا کے حصول کی تقدیر پر عدم کا کوئی نام و نشان کا کہ اس کی حقیقت ہے ممکن میں باقی نہ رہے اور اس میں وجود خالص کے سوا کچھ بھی نہ رہے کیوں کہ دو نقیضوں سے ایک کا زوال دوسری نقیض کے حصول کو مستلزم ہے تاکہ ارتفاع نقیضین لازم نہ آئے اور صوفیہ کے نزدیک وجود عین واجب تعالیٰ ہے یا اس سبحانہ کی اخص صفات سے اور ہر تقدیر پر قلب حقیقت لازم ہے اور وہ الحاد و زندقہ کو مستلزم ہے۔
جواب: یہ عدم کی نقیض وہ وجود نہیں ہے جو واجب تعالیٰ کا عین یا اس سبحانہ کی اخص صفات ذاتیہ سے ہے بلکہ عدم کی نقیض اسی وجود کے ظلال سے ایک ظل ہے اور اس کے عکوس سے ایک عکس ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر وجود جس کے مقابل عدم پڑے امکان کے مظان (گمان کی جگہیں) سے ہے اور عدم کہ اس کی نقیض ہے کے رفع کی احتیاج رکھتا ہے صفات واجبی جل شانہ اگرچہ دائرہ امکان سے خارج ہیں لیکن چوں کہ ذات واجبی تعالیٰ کی احتیاج رکھتی ہیں اور اعدام متقابلہ ہر ایک کے لیے ثابت ہیں (اس لیے صفات) امکان کی آمیزش سے خارج نہیں ہیں اور ہمیشہ ذات واجب تعالیٰ کی احتیاج ان کے دامن گیر ہے اگرچہ قدیم ہیں اور ذات واجب تعالیٰ سے جدا نہیں
........................
۔ 1یعنی ہر صفت کے مقابل عدم ہے مثلا! علم اس کا مقابل عدم علم ہے جس کی تعبیر جہل سے ہوتی ہے اسی طرح قدرت جس کے مقابل عدم قدرت ہے جسے عجز کہا جاتا ہے اس طرح سمع جس کا مقابل عدم بصر سمع ہے جسےصم اور بہرہ پن کہتے ہیں، بصر کا مقابل عدم یعنی عمی (اندھا پن) ہے وغیرہ۔
(لیکن) نفس احتیاج دلیل امکان ہے اگر غیر کی احتیاج ہے تو کامل نقص و امکان ہے اور دائرہ امکان میں داخل ہے اور اگر غیر کی احتیاج نہیں ہے تو بوئے امکان ہے اگرچہ دائرہ امکان میں داخل نہ ہو چناں چہ صفات واجبی تعالیٰ کہ ان کا کمال ذات کے کمال سے کمتر ہے تعالیٰ و تقدس۔ پس وجوب مطلق (کامل) خاص ذات تعالیٰ و تقدس کے لیے متحقق ہوگا کہ نقص کے گمان اور قصور کے شائبہ سے منزہ اور مبرّا ہے اور صفات واجبی تعالیٰ ہر چند دائرہ وجوب میں قدم رکھتی ہیں لیکن چوں کہ ذات کی محتاج ہیں (اس لیے) ان کا وجوب ذات تعالیٰ کے وجوب سے کمتر ہوگا جس طرح ان کا وجود ذات تعالیٰ کے وجود سے کمتر ہے کیوں کہ صفات کے وجود کی عدم کی تقاصت رکھتا ہے کہ عدم علم و عدم قدرت ہے۔
مثلاً ذات تعالیٰ و تقدس کے مقابل کوئی عدم نہیں ہے اور کوئی نقیض متصور نہیں اگر وجود واجب تعالیٰ کے لیے اعدام سے کوئی نقیض ہوگا تو محتاج ہوگا اس نقیض کے رفع کا اور احتیاج نقص کی علامتوں سے ہے جو کہ حال امکان سے مناسب ہے تعالیٰ اللہ عن ذالک علواً کبیراً۔
پوشیدہ نہ رہے کہ صفات واجبی جل شانہ میں لفظ امکان کے اطلاق سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ حدوث کا وہم ڈالتا ہے اور اللہ کی صفات قدیم ہیں اگرچہ صفات واجبی خود اپنی ذات سے واجب نہیں ہیں لیکن ذات واجب جل شانہ کی طرف نظر کرتے ہوئے واجب ہیں کہ ذات سے جدا نہیں ہیں اور اس معنی کا حاصل اگرچہ امکان تک کھینچتا ہے لیکن حدوث کے توہم سے خالی ہے اور وجود واجب تعالیٰ کے لیے نقیض کا حاصل نہ ہونا کہ عدم ہے کشفی ہے اور شہودی (لہٰذا وجود واجب کی نقیض نہ ہونا نہ بدیہی ہے نہ نظری اور استدلال کا محتاج نہیں) اگرچہ بصورت استدلال دکھایا جائے (یہ ایسا ہی ہے) جیسے کسی بدیہی پر تنبیہ استدلال کی صورت میں کریں۔
ہم اصل بات پر آتے ہیں اور سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ فنا کی تقدیر پر ممکن سے عدم زائل ہونے کے بعد وجود کے سوا کوئی دوسری چیز اس میں باقی نہیں رہتی ہے اور تحقق و ثبوت کے سوا کچھ اس کا نصیب نہ ہوگا کیوں کہ عدم عین (ذات) اور اثر (صفت) کے ساتھ اس سے منتفی ہو چکا ہے لیکن یہ وہ وجود و ثبوت ہے کہ ممکن کے لیے مرتبہ وہم و حس میں ثابت ہوا ہے اور آثار کو اس پر مترتب کیااور زوال عدم کے بعد مرتبہ حضرت وجوب تعالیٰ و تقدس کے کمالات کا آئینہ بنا اور عدم زائل کی طرح ممکن کی ذات اور حقیقت ہوا (یعنی جس طرح پہلے عدم ممکن کی حقیقت تھا اس کے زوال کے بعد یہ وجود ممکن کی حقیقت ہو گیا اور یہ ثبوت زوال عدم سے پہلے عدم کی صفات سے رہا ہے کہ اس کو مرتبہ حس و وہم میں ثابت کیا ہے اور اب وہی ثبوت زوال عدم کے بعد اس کا قائم مقام ہو کر ذات ممکن (میں) آیا اور صفات کو خود سے منسوب رکھا اور عدم کا کارخانہ اس سے قائم رہا اور یہ کارخانہ کہ عدم کی نیابت میں رہا ہے اس حد تک قائم ہے کہ اس ثبوت کی نقیض قائم ہے اور امکان کی بقا ہے اور جب معاملہ نقیض ثبوت سے بالا جاتا ہے اور وجود کا تقابل نہیں رہتا ہے بلکہ عدم کو اس کے تقابل کی مجال نہیں رہتی ہے اور امکان کی بالکل گنجائش نہ ہو اس وقت میں کاروبار دوسرا ہے اور دمساز و غمگسار دیگر ہے۔
اَوْ اَدْنیٰ کا راز:
(دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ) اَوْ اَدْنٰی کا راز اس جگہ تلاش کرنا چاہیے جس جگہ تک امکان کی آمیزش اور عدم کی گنجائش ہے اگرچہ بطریق نقیض ہو قَابَ قَوْسَیۡنِ میں داخل ہے اور جب امکان اور عدم نے بالکلیہ اپنا سامان باندھ لیا اور کوچ کا نقارہ بجا دیا اَوْ اَدْنٰی کے کمالات در پیش ہیں، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس وقت میں ممکن ذات واجب ہو جاتا ہے بلکہ اس کا قیام ذات بحت (محض) کے ساتھ ثابت ہو جاتا ہے اور جو
قیام ظلال ذات تعالیٰ کے کسی ظل کے رہا تھا زائل ہو جاتا ہے؏
کسے کہ در خدا گم شد خدانیست
ذات واجب کے ساتھ قیام عارف کے معنی:
ذات واجب الوجود تعالیٰ کے ساتھ اس عارف کا قیام ایسا ہے جیسے اس تعالیٰ کی صفات کا قیام اس ذات سبحانہ کے ساتھ بلکہ اس کا قیام ایسے مرتبہ کے ساتھ ہے کہ اس جگہ صفات سے کچھ بھی ملحوظ نہیں ہے ہرچند صفات کو ذات سے جدائی نہیں ہے لیکن صفات کا قیام ازلی اور ابدی ہے اور قدم رکھتا ہے اور عارف کا قیام ازلی نہیں ہے اور حدوث کے داغ سے داغ دار ہے لیکن صفات کے لیے نقیضین ہیں کہ اعدام ہوں گی مثال کے طور پر عدم علم اور عدم قدرت اور اس عارف کا معاملہ اعدام کی نقاضت (نقیض ہونے سے) بالا ہو گیا ہے جیسا کہ تحقیق پایا، پوشیدہ نہ رہے کہ معاملہ جب عدم کی نقاضت سے بالا چلا گیا تو وجوب متحقق ہو گا اور ممکن واجب ہو جائےگا (حالاں کہ واجب ہونا) محال ہے۔ اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے:
قیام صفات اور قیام عارف کا فرق:
واجب اس وقت ہوگا کہ وجود خارجی پیدا کرے اور ممکن کا مرتبہ وہم اور حس کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ہے وجوب وجود کہاں سے متصور ہوگا اس بیان سے قیام عارف اور قیام صفات کے درمیان دوسرا فرق پیدا ہوا کہ قیام صفات وجود خارجی کے اعتبار سے ہے اور قیام عارف وجود وہمی کے اعتبار سے اگرچہ ثبات و قرار رکھتا ہے اور مبدأ آثار ہے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ انا کی بقا عارف کی بقاے عدم تک ہے جو کہ اس کی حقیقت
.....................
۔1یعنی جو خدا میں گم ہو جائے وہ خدا نہیں ہے۔
ہے اور جب عدم زائل ہو گیا تو انا کا کوئی مورد نہیں رہا کہ اس پر اطلاق کیا جائے زوال عدم کے بعد ثبوت کے معاملات اگرچہ طویل الذیل (لمبے دامن والے) ہیں اور ثبوت ہر چند ذات ممکن ہو گیا لیکن کلمہ انا کا مورد ہے گویا لفظ انا کی وضع حقیقت عدمیہ کے لیے ہوتی ہے کہ حقیقت ثبوتیہ سے نفرت رکھتا ہے ہاں جزو اعظم ممکن میں عدم ہے اور ممکن عدم کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور ممکن کا کارخانہ عدم کی وجہ سے کشادہ ہو گیا جو احتیاج ممکن میں ہےعدم سے آئی ہے اور جو حدوث کہ امکان کے دامنگیر ہے وہ بھی عدم سے ہویدا ہوا اگر ممکن میں کثرت ہے تو عدم کی راہ سے ہے اور اگر امتیاز ہے تو بھی اسی کی راہ سے ہے وجود ممکن کے حق میں عاریت ہے اور وہ تخیل و توہم سے ہے اگرچہ ثبات و قرار رکھتا ہے۔
جان لیں کہ صفات جو کہ ذات واجبی جل سلطانہ کے ساتھ قیام رکھتی ہیں ذات عز شانہ بتمامہ ان صفات سے ہر ایک کے رنگ میں ظہور فرمائی ہے ایسا نہیں ہے کہ ذات سے کوئی چیز کسی صفت سے متصف ہو جاتی ہے اور کوئی دوسری چیز دوسری صفت سے متصف ہو کیوں کہ اس بارگاہ میں تبعض و تجزی (بعض ہونا اور جز ہونا) نہیں ہے بسیط حقیقی ہے ہرحکم کہ اس جگہ ثابت کریں باعتبار کلیت ہے چناں چہ کہا ہے ذات اللہ تعالیٰ کلہ علم و کلہ ارادۃ و کلہ قدرۃ
اور وہ قیام بھی کہ عارف کو ذات واجبی جل سلطانہ کے ساتھ اسما و صفات کے ملاحظہ کے بغیر پیدا ہوتا ہے اسی قبیل سے ہے کہ کلیت کے ساتھ اس عارف کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے آئینوں کے برعکس اس کے تعین سے اپنی آئینہ داری دکھاتا ہے فھم من فھم
قیامت می کنی سعدی بدیں شیریں سخن گفتن
مسلم نیست طوطی را در ایامت شکر خائی
یہ ظہور کا طور کہ آئینہ برنگ صورت ظاہر ہوتا ہے اگر عارف کو فناے اتم کے بعد اس ظہور کے ساتھ بقا پیدا ہو تو اس کے تعینات میں کامل تر ہوگا کہ بخشا ہوا وجود حقانی ہے کہ ولادت ثانی سے اس کو پتا ہوا ہے اور یہ تعین حدوث و امکان کے باوجود چوں کہ مرتبہ جمع سے پیدا ہے (اس لیے) دوسرے تعینات پر زیادتی اور فضل رکھےگا کہ (وہ دیگر تعینات) اس مرتبہ سے ناشی نہیں اس زیادتی اور فضل کی طرح جو کہ قرآنی کلمات و حروف کو دیگر کلمات و حروف پر ہے ہر چند دونوں حدوث و امکان سے داغ دار ہیں مگر وہ احمق ہوگا کہ ظاہر بینی سے اس تعین کو ان دیگر تعینات کے برابر دیکھے اور ان حروف و کلمات قرآنی کو ان دیگر حروف و کلمات کے مساوی جانے اور اس جگہ سے عارف کی فضیلت جانو اور اس کی بزرگی کو دوسروں پر ایسے قیاس کرو جیسے کلام خدا عز و جل کی بزرگی دوسرے کلام پر ہے ؎
ہر کس افسانہ بخواند افسانہ است
و آنکہ دیدش نقد خود مردانہ است
جب عارف کا حال یہ ہے اور جب اس کو فناے اتم حاصل ہو جاتی ہے اور ذات خداوندی جل جلالہ برنگ کلیت جلوہ فرماتی ہے تو انبیاے کرام پھر سید الانبیا علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کا کیا عالم ہوگا! حقیقت یہ ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کا لباس بشریت دیکھ کر اسی طرح ہر نبی کو لباس بشری میں دیکھ کر کافروں نے دھوکہ کھایا۔
تعجب تو اس بات پر کہ سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ و سلم جن کے کمالات اظہر من الشمس ہیں ان کو بھی اس لباس میں دیکھ کر کفار تو دھوکہ کھائے ہی بہت سے کلمہ گو بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے خاص کر اس زمانے میں وہابیوں کو زبردست مغالطہ ہوا اور قرآن و حدیث کی بعض نصوص سے فریب کھا کر حق سے کوسوں دور جا پڑے۔ حضرت مجدد قدس سرہ کا ذرا یہ بیان ایسے لوگ چشم عبرت سے
پڑھیں، ہم آپ کے بعینہ الفاظ نقل کرتے ہیں، مذکورہ بالا بیان کے بعد فرماتے ہیں: