مواد پر جائیں

باب ۶ از ۵۷صفحات ۸۸–۱۰۰

عوام کی حالت

اب ذرا عوام کے کچھ رسوم وبدعات سن لیجیے جو انھوں نے اپنے پڑوسیوں سے متاثر ہو کر اپنا لیے تھے۔ بات در اصل یہ ہے کہ اسلامی احکام ومسائل کی وضع نفس کی مخالفت پر ہوئی ہے،تجربہ شاہد ہے جو امور خواہش نفس کے مطابق ہوتے ہیں،جن میں حظ نفس کا پورا سامان ہوتا ہے انھیں پھیلانے اور ان کی ترویج واشاعت کی حاجت نہیں ہوتی ہے ،شیطان کی امداد واعانت اور نفس کی شرارت ہی ان کے لیے کا فی ہوتی ہے۔

عام طور پر سنتیں جو ختم ہوئیں اور یہودیت ونصرانیت وغیرہ جو گھر گھر میں

داخل ہو ئی یا ہو رہی ہے اس کی خاص وجہ یہی ہے پھر جب انسان ایسے لوگوں کے قرب وجوار میں رہتا ہے جو اسلام کے خلاف افعال واعمال کے مرتکب ہوتے ہیں تو بہت جلد متاثر ہو جا تا ہے اور رفتہ رفتہ انھیں کے ماحول میں ڈھلنے لگتا ہے۔

اچھائیوں سے دوسروں کو متاثر کرکے انھیں اچھا بنانا ہر کس وناکس کا کام نہیں،ایمانی شمع جب اپنی آب وتاب کے ساتھ قلب میں روشن ہوتی ہے،قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے،اپنے جیسا بنانے کا شوق وذوق غالب ہوتا ہے تو ایسا انسان اپنے اچھے اثرات دوسروں پر قائم کرتا ہے ورنہ دوسروں کے قبول کرنے لگتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے برہمنوں نے بڑی عیاری اور ہوشیاری سے اکبر کو اپنے قریب کرکے اپنے باطل مذہب کے رسوم وعادات سے اسلامی ہندوستان کو غیر اسلامی یعنی پرانا ہندوستان بنانا چاہا تھا،ہندو مذہب کی قربت نے نہ صرف اکبر کو بلکہ عوام کو بھی بہت متاثر کیا ،اس طرح نری (بہت سی) ہندوانہ رسمیں مسلم عوام میں داخل ہو گئیں۔

ہر حساس آدمی جانتا ہے کہ آج بھی بعض گاؤ ں،بستیاں،قصبے بلکہ شہروں میں بہت سارے ہندو مذہب کے رسوم وعادات مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں اور ہولی،دیوالی اور رام لیلا کے موقع پر جو کچھ دیکھنے میں آتا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ ہے۔

مجدد بڑا بالغ نظر ہوتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ چنگاری کو شعلہ بننے سے پہلے ہی دفن کردیا جائے،کسی کافر قوم کے جس قدر رسوم وعادات اپنائے جا ئیں گے اس کے کفر سے اتنی ہی قربت ہو تی جائے گی،دل کے اندر ادنیٰ سا لگاؤ بھی کفر وشرک کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے کفر وشرک کی تردید میں غایت شدت سے جو کام لیا

ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ پڑوسی قوم کے برے رسوم وعادات سے اگر سختی سے نفرت نہ دلائی جائے تو در اصل یہ اسلام کی عظمت کو نکا لنا ہے،اور اسلامی احکام کو ختم کرنا ہے،جو خطرات قرب وجوار کے برے لو گوں سے ہوتے ہیں وہ دور کے لوگوں سے نہیں ہوتے ہیں۔

آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن رہے ہیں کہ عوام تو عوام ہیں خواص تک غیر مسلموں کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں اور انھیں کی بولی بولتے ہیں،بڑے بڑے نیتاؤں اور لیڈروں کے قتل کے وقت ان کی لاشوں کے پاس قرآن پاک پڑھتے ہیں،ہندو مسلم اتحاد کے نعرے لگاتے ہیں،ان کے تیوہاروں کے موقعوں پر گھر گھر جا کر انھیں مبارک بادیاں پیش کی جاتی ہیں،ان کی آمد پر ان کے استقبال کے لیے بڑے بڑے سامان مہیا کیے جاتے ہیں،کیا کچھ نہیں ہوتا ہے مگر کسی میں ہمت جو انھیں للکارے اور کلمۂ حق زبان سے نکالے،ستم تو یہ کہ اس اتحاد وقربت کو صوفیہ کا طریقہ کہا جاتا ہے۔

علماے حق چونکہ موقع بموقع کبھی کبھار تردید کرتے ہیں یا کم از کم اس اتحاد و وداد محبت کے گانے نہیں گا پاتے ہیں اس لیے وہ جھگڑالو، نفرت دلانے والے اور فتنہ کھڑا کرنے والے کہلاتے ہیں۔

آہ! آج اسلام پر کیسا وقت آپڑا ہے،گلشن اسلام کو کس طرح پامال کیا جارہا ہے،دین مصطفوی کے ساتھ کیسا کھلواڑ ہو رہا ہے کاش پھر رحمت حق جوش میں آئے پھر کوئی مجدد فاروقی جلوہ گر ہو جائے،پھر کوئی اس ضعف وناتوانی کے دور میں اسلام کے بازؤں کو مضبوط کردے،پھر سے اسلام کا پرچم لہرادے،کفر واہل کفر کو نیست ونابود کردے،آہ دل کے پھپھولے پھوٹ گئے تاب زخم کی تاب نہ لاکر پیچ وتاب کھاتا ہوا میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا،سنیے اب عوام کی داستان سنیے!

اسلام کی زبوں حالی اور غربت:

سیدزید صاحب کو ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:

‘‘جانتے ہیں کہ گزشتہ زمانے(اکبر کا دور) میں اہل اسلام کے سر پر کیا کیا گزری ہے؟ااسلام کی بدحالی کمال غربت(قلت وندرت) کے باوجود اگلے زمانوں(اکبر سے پہلے) میں اس سے زیادہ نہ تھی کہ مسلمان اپنے دین پر رہیں اور کافر اپنی عادت پر آیت کریمہ: لکم دینکم ولی دین(تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور ہمارے لیے ہمارا دین یعنی ہر ایک اپنے دین پر قائم رہے) اس معنیٰ کا بیان ہے اور زمانۂ ماضی(اکبر کا دور) میں کافر بطور غلبہ احکام کفر کو دارالاسلام میں جاری کرتے تھے اور مسلمان احکام اسلام جاری کرنے سے عاجز تھے اور اگر کرتے تو قتل کو پہنچتے تھے

وا ویلاہ وا مصیبتاہ وا حزناہ (ہاے رے بربادی، ہاے رے مصیبت، ہاے رے غم)

محمد رسول اللہ ﷺ کہ رب العالمین کے محبوب ہیں ان کی تصدیق کرنے والے ذلیل وخوار اور ان کے منکر عزت اور اعتبار کے ساتھ ہوں ،مسلمان زخمی دلوں کے ساتھ اسلام کی تعزیت میں تھے اور معاند مذاق اور استہزاء کرکے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے تھے ،آفتاب ہدایت گمرہی کے پردہ میں چھپ گیا تھا اور حق کا نور باطل کے پردوں کے ایک گوشہ میں اور معزول’’(مکتوب ۴۷ جلد۱)

ذرا انصاف کی عینک لگا کر اکبر کے حاشیہ بردار اور نمک خوار اسے پڑھیں اور دیکھیں کہ اہل اسلام کو کس قدر مقہور اور مغلوب کیا گیا،احکام اسلام پر کس قدر پابندیاں عائد کی گئیں،جو بلائیں کبھی کسی دارالکفر میں نہ آئی ہو ں گی وہ ہندوستان دارالاسلام میں اسلام کا نام لینے والوں کے ہاتھوں آئیں،مسلمان مجبور تھے خاموش تھے مگر پھر ان

کے زخموں پر ان کے سامنے اسلام کا مذاق اڑا کر نمک پاشی ہوتی تھی اس سے زیادہ برا وقت اور کیا ہو سکتا ہے؟ حضرت مجدد قدس سرہ کو سب سے زیادہ جو چیز کھاتی تھی وہ یہ کہ:

‘‘محمد رسول اللہﷺ کہ محبوب رب العٰلمیں است مصدقان او ذلیل وخوار بودند ومنکران او بہ عزت واعتبار’’ ایک عاشق ودیوانے کو کیسے گوارہ ہو سکتا ہے کہ اس کے محبوب کے ماننے والے ذلیل وخوار ہوں،سارا چین تو اسی نے چھین لیا، جو خدا کا محبوب ہو،سب کے رب کا محبوب ہو اس کے ماننے والے،چاہنے والے ذلیل وخوار اور مخالف با عزت اور لائق اعتبار اسی لیے تو حضرت مجدد قدس سرہ وا ویلاہ وا مصیبتاہ، وا حسرتاہ،وا حزناہ کہہ کر دل کے زخم لو گوں کو دکھاتے پھر رہے ہیں،شاید کوئی رحم کھائے،کسی کو ترس آئے۔

مکتوب ۶۵ میں فرماتے ہیں:‘‘غربت اسلام تا بحدے رسیدہ است کہ کفار برملا طعن اسلام وذم مسلماناں می نمایند ہ اجراء احکام کفر ومداحی اہل آن در کوچہ وبازار می کنند ومسلماناں از اجراء احکام اسلام ممنوع اند ودر اتیان شرائع مذموم ومطعون’’۔

کافروں کی جرأت وجسارت کس حد تک پہنچ گئی تھی،مسلمانوں سے کس قدر انتقام لیا جا رہا تھا ،احکام کفری کی ترویج واشاعت اور کافروں کی تعریفیں صرف اکبر کے ہی دربار میں نہیں بلکہ کوچہ وبازار میں ہو رہی تھیں،مسلمانوں کے ساتھ اتنی رواداری بھی نہ تھی کہ وہ اپنا اسلام کلیجے سے لگائے رکھتے،اپنے اسلام کو پھیلاتے رہتے اس پر بھی پا بندی تھی ،اشاعت اسلام بڑی چیز ہے عمل بھی مذموم ومطعون کرتا تھا۔

حکومت کی پشت پناہی،گمراہ ملاؤں کی امداد واعانت سے کفر اور کافروں کو جو فروغ دیا جا رہا تھا وہ آخر کہاں تک اثر نہ کرتا نتیجہ آخر کار وہی نکلا جو ہمیشہ نکلتا ہے:

‘‘احکام کثیرۂ اہل کفر کہ در اہل اسلام شیوع پیدا کردہ اند’’(مکتوب ۶۵ ج۱)

ہندؤں کے قرب سے یہی مل سکتا تھا کہ اسلام کی رسمیں اٹھیں (ختم ہو گئیں) کفری رسوم وعادات نے رواج پایا،اہل اسلام ہو کر مراسم کفر بجا لاتے تھے ،ذرا ان رسموں کا حال بھی تھوڑا سن لیجیے جو اہل اسلام میں شیوع پیدا کر چکی تھیں،حضرت مجدد قدس سرہ نے جلد ثالث کے اکتالیسویں مکتوب میں بڑی تفصیل سے ان رسموں کو بیان فرمایا ہے۔

بتوں سے استمداد:

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں:‘‘واستمداد از اصنام وطاغوت در دفع امراض واسقام کہ در جہلہ اہل اسلام شائع گشتہ است عین شرک وضلال است’’

یعنی بتوں اور شیطان سے مدد طلب کرنا جاہل مسلمانوں میں عام ہو گیا ہے بیماریاں اور امراض دفع کرنے کے لیے ایسا کرنا عین شرک اور گمرہی ہے۔

اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے بے جان پتھروں سے استمداد وغیرہ ایسے امور ہیں جو حماقت وبے وقوفی کی اعلیٰ مثالیں ہیں مسلمانوں کو ان کے نبی ﷺ نے جس خدا کی پرستش سکھائی تھی اس کی شان غنی عن العٰلمین ہے،آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس توحید میں کس قدر شرک کی آمیزش ہو گئی تھی کہ ایسے پاک اور مبرۃ عن النقائص خدا کو چھوڑ کر ، اس کی طاقت کے مظاہر انبیاے کرام واولیاے عظام کو چھوڑ کر اصنام وطواغیت کو پکارا جاتا تھا،کفر اور اہل کفر سے قربت اور ا سلام اور اہل اسلام سے تنزل کس قدر بڑھ گیا تھا۔

طلب حوائج:

پھر اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ انھیں تراشیدہ پتھروں سے حاجات طلب کی جانے لگیں،بلکہ ہر پتھر سے حل مشکلات اور قضاے حاجات مطلوب ہونے لگا، خواہ تراشیدہ ہوں یا ناتراشیدہ‘‘طلب حوائج از سنگہا تراشیدہ و نا تراشیدہ نفس کفر وانکار از واجب الوجود

تعالیٰ وتقدس’’ اس عمومی بلا میں چونکہ باہم مرد وعورت سبھی شامل تھے مگر یہ بلا عورتوں میں اکثر تھی:

‘‘اکثر زناں بواسطۂ کمال جہل کہ دارند بایں استمداد ممنوع مبتلا اند وطلب دفع بلیہ ازیں اسماء بے مسمیٰ می نمایند و اداے مراسم شرک واہل شرک گرفتار اند’’

اکثر عورتیں کمال جہل کی وجہ سے جو کہ رکھتی ہیں اس ممنوع استمداد میں مبتلا ہیں اور بلاؤں کا دفع ان وہمی خدا ؤں یعنی جن کے صرف نام ہیں مسمّٰی وذات کوئی نہیں سے چاہتے ہیں اور شرک اور اہل شرک کے مراسم ادا کرنے میں گرفتار ہیں۔

کیا آج ایسا نہیں ہو رہا ہے،نرے لوگ مندروں میں جاتے ہیں،ہاتھ جوڑتے ہیں،پنڈتوں اور سادھوؤں سے اپنے امراض واسقام اور مصائب وبلایا کے دفع میں استمداد کرتے ہیں اور وہ ان کو ایسی چیزیں بتاتے ہیں جو سراسر کفر وشرک ہوتی ہیں،نرے پڑھے لکھے ایسے ہیں جو حصول زر کے لیے سفلی عمل اور شعبدے عمل میں لاتے ہیں اور ان میں وہ چیزیں پڑھتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہوتی ہیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یوں تو ہر بلا اسلام کے ماننے والوں میں عام تھی‘‘مگر علی الخصوص این معنیٰ از نیک وبد ایشاں دروقت عروض مرض جدری کہ در زبان ہندیہ بہ ستیلہ معروف است مشہود و محسوس است،کم زنی باشد کہ از دقائق ایں شرک خالی بود وبرسمی از رسوم آں اقدام ننماید’’ یعنی خاص کر یہ چیز ان کے نیک وبد سے مرض چیچک عارض ہونے کے وقت کہ ہندی زبان میں ستیلہ کے نام سے معروف ہے مشاہدہ کی جاتی ہے اور محسوس ہوتی ہے،کوئی عورت ہوگی کہ اس شرک کی باریکیوں سے خالی ہو اور اس کی رسموں کی رسم پر اقدام نہ کرے۔

تعظیم ایام ہنود:

بہت سے مسلمان ہندوؤں کے خاص دنوں یعنی تیوہاروں تک کی تعظیم کرتے

تھے اور صرف تعظیم ہی پر اکتفا نہ تھا بلکہ ان کی معروف ومشہور رسوم تک بجا لاتے تھے،خاص کر ہولی اور دیوالی میں ان عوام کالانعام کا حال تو ایسا تھا کہ دیکھ کر شرم آتی تھی‘‘وتعظیم نمودن ایام معظمہ ہنود را وبجا آوردن دراں ایام رسوم متعارفہ جہود را نیز مستلزم شرک ومستوجب کفر است چناں چہ در ایام دوالی کفار جہلہ اہل اسلام علیٰ الخصوص زنان ایشاں رسوم اہل کفر را بجا می آرند’’

یعنی ہندؤں کے قابل تعظیم دنوں کی تعظیم کرنا اور ان دنوں میں ان کافروں کی معروف رسموں کو بجا لانا بھی مستلزم شرک اور مستوجب کفر ہے،چنانچہ دیوالی کے دنوں میں اہل اسلام کے نادان وجاہل خاص کر ان کی عورتیں اہل کفر کی رسمیں بجا لاتی ہیں۔

کیا آج بھی ان ہندوؤں کی محبت ودوستی میں ایسا نہیں ہو رہا ہے،آج بھی نری جگہوں پر چراغاں کرتے ہیں،ان دنوں کو عظمت اور وقار کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں،ان کو مبارکبادیاں دیتے ہیں،اپنے گھروں کو لیپتے پوتتے ہیں،ایک دوسرے کے یہاں ہدایا وتحائف بھیجتے ہیں،ہولی کے موقع پر رنگ کھیلتے ہیں،ہاے افسوس! یہ آج ہی نہیں اس دور میں بھی تھا :

‘‘وعید خود می سازند وہدایائے شبیہ بہ ہدایائے اہل کفر بخانہائے دختراں وخواہراں در رنگ اہل شرک می فرستند وظرفہاے خودرا در رنگ کفار دراں موسم رنگ می کنند و بہ برنج سرخ آنہا را پر کردہ می فرستند وآں موسم را اعتبار واعتنا می دہند’’

ترجمہ: اور اپنی عید مناتے ہیں(یعنی روز عید کی طرح مسرت وشادمانی کا اظہار کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں)اور اہل کفر کے تحفوں کے مشابہ تحفے بیٹیوں اور بہنوں کے گھر اہل شرک کی طرح بھیجتے ہیں،اور اپنے برتنوں کو کافروں کی طرح اس موسم میں رنگتے ہیں اور سرخ چاول (زردہ)بھر کر بھیجتے ہیں اور اس موسم کو اعتنااور اعتبار دیتے

ہیں۔

یہ تھے جاہل اور نادان عوام مسلمین کے حالات اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہندوانہ رسوم وعادات کس قدر اہل اسلام میں گھر کر چکی تھیں اور کفر اور اہل کفر سے کس قدر قربت پیدا ہو چکی تھی ،ذہنوں میں اس کی خوبیاں بٹھائی جاتی تھیں، پڑوسیوں کا بھی حق ہو تا ہے،ہمارے کام ان سے نکلتے ہیں،ہم کاروبار کرتے ہیں،ہندوستان میں پھر کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑتا ہے یہ سب کچھ کہہ کر کیا آج ان سے بہت روابط وتعلقات نہیں رکھے جاتے ہیں اور ان کے تیوہاروں میں شرکت نہیں ہوتی ہے؟ اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے اٰمین!

مشائخ کی نذر:

ایک رسم اور بھی تھی وہ یہ کہ حیوانات کو مشائخ کی نذر کرتے تھے اور جن کی کرتے ان کی قبروں پر لے جاکر ذبح کرتے پھر اس میں کافی مبالغہ کیا گیا کہ اس کو ذبائح جن کی طرح شمار کرتے تھے،حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی ممنوع شرعی ہے اور دائرۂ شرک میں داخل ہے۔‘‘ازیں عمل نیز اجتناب باید نمود کہ شائبۂ شرک دارد’’

آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگ جناتوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں،اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کسی پر کوئی اثر ہےتو کہتے ہیں کہ اس نے خواب میں کہا ہے کہ مجھے جانور کی بھینٹ چاہیے یا خود اگر اس شخص پر اجنہ جانور طلب کرتے ہیں،کبھی مرغا کبھی بکرا ۔

حضرت مجدد قدس سرہ اسی لیے منع فرمارہے ہیں کیونکہ اس سے ممانعت آئی ہے،آپ قدس سرہ نذر مشائخ کے عدم جواز کے قائل نہیں ہیں اسی لیے فرماتے ہیں:‘‘وجوہ نذر بسیار اند چہ درکار است کہ نذر ذبح حیوانے کنند وارتکاب ذبح آں نمایند،وبذبائح جن ملحق سازند وتشبیہ بعبدۃ جن پیدا کنند’’ یعنی نذر کے طریقے بہت

ہیں کیا ضروری ہے کہ ذبح حیوان کی نذر کریں اور اس ذبح کا ارتکاب کریں اور جن کے ذبیحوں سے لاحق کریں اور جنات کے پجاریوں سے مناسبت پیدا کریں۔

حضرت مجدد قدس سرہ کی بالغ نظری خوب پہچانتی تھی کہ پڑوسی قوم کی وجہ سے کیا کیا مصیبتیں اسلام اور اہل اسلام پر آئیں،کہاں سے ان کے سوتے پھوٹے اور کس طرح چنگاریاں شعلہ بنی ہیں،وہ اسلام وکفر کو کسی بھی مرحلہ میں یکجا نہیں دیکھ سکتے تھے ،دودھ کا دودھ اور پانی کو پانی رکھنے کے قائل تھے،ان تمام راہوں سے وہ لوگوں کو دور رکھنا چاہتے تھے جس سے عوام دھوکہ کھائیں،وہ خالص اسلام کی عظیم شاہراہ پر چلنے اور چلانے کے عادی تھے،کسی طرح کسی ڈھیل کے قائل نہ تھے کہ عوام اس کے حدود کو پار کرکے کفر کی حدوں میں داخل ہوتی،اس لیے ہمیشہ ان تمام چیزوں سے شدت کے ساتھ منع فرماتے رہے جو قرآن وسنت میں مروی نہ تھیں اور نہ ان سے کسی سنت کا دفع لازم آتا تھا ،مگر جاہلوں کے بہکنے اور بھٹکنے کا ذریعہ بن سکتی تھیں،یہ چیز آپ کو جگہ جگہ نظر آئے گی۔

اسی لیے آپ فرماتے ہیں:‘‘کہ اسی قسم سے ہے عورتوں کا روزہ کہ پیروں اور بی بیوں کی نیت سے رکھتی ہیں اور زیادہ تر ان کے نام اپنے پاس سے تراش لیے ہیں،اپنے روزوں میں ان کے نام کی نیت کرتی ہیں اور ہر روزہ کے افطار کے واسطے ایک خاص قسم کا کھانا مخصوص طرز سے مقرر کرتی ہیں(مثلا چاول نمکین کسی کے لیے، میٹھے کسی کے لیے وغیرہ وغیرہ) اور روزوں کے واسطے دنوں کی بھی تعظیم کرتی ہیں(یعنی کچھ دن مقرر کر رکھے ہیں جن میں ان روزوں کو رکھا جاتا ہے اور ان دنوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے)اور اپنے مطالب ومقاصد کو ان روزوں کے ساتھ وابستہ کرتی ہیں اور ان روزوں کے وسیلہ سے ان پیروں سے اپنی حاجتیں چاہتی ہیں اور اپنی حاجتوں کا پورا ہونا ان سے جانتی ہیں یہ شرک در عبادت ہے اور غیر کی عبادت کو وسیلہ بنا کر اپنی حاجات ان غیروں

سے چاہنا ہے اس فعل کی قباحت اچھی طرح جان لینا چاہیے’’

آپ نے یہ جو کچھ عورتوں کا حال بیان کیا یہ صرف اسی زمانے کا نہیں تھا بلکہ آج اس سے زیادہ ہے،کہیں دس بی بیوں کی کہانیا ں پڑھی جاتی ہیں،کہیں کسی کی کہیں کسی کی اور ان کی نیاز میں جو حدود وقیود ہیں وہ بھی دیکھنے کے لائق ہوتی ہیں۔

الغرض اس ایک ہزار سال میں صوفیہ کی طرف سے تصوف میں کیا کیا جمع ہو گیا تھا اور روافض کا فتنہ اگرچہ بہت پرانا تھا اور ہر دور میں علماے حق نے اس کا مقابلہ بھی کیا،ان کے باطل عقائد کی تردید میں بھی علم کلام میں اہم مسائل کو داخل بھی کیا،خطبات جمعہ وعیدین میں خلفاے راشدین کی حقانیت وترتیب افضلیت کو بیان بھی کیا مگر تاریخ شاہد ہے کہ اکبر کے اس دور میں جس قدر ہندوستان میں خاص کر اس فتنے نے سر اٹھایا اور اہل سنت کے عوام وخواص پر اس کے کتنے برے اثرات مرتب ہو رہے تھے(اس وقت میں اس فتنہ کے خلاف کسی طاقت کے خوف کے بغیر جس دلیری کے ساتھ حضرت مجدد قدس سرہ نے آواز اٹھائی اور عوام وخواص کو اپنی جد وجہد کے ذریعہ محفوظ رکھا یہ آپ کا بہت بڑا تجدیدی کارنامہ تھا)اور کس قدر تیزی سے یہ وبا عام ہو رہی تھی،ایسے حالات میں کتنے بڑے مرد مجاہد کی ضرورت تھی،کیسے اعلیٰ اوصاف بلند نظر صاحب تجلیات وانوار،تمام منازل ومراحل سے واقف کار انسان کی ضرورت تھی آپ اچھی طرح محسوس کر سکتے ہیں۔

پھر منطق وفلسفہ کا وبال بھی اگر چہ فتنۂ رفض کی طرح پرانا تھا اور باضابطہ جس نے اس سلسلہ میں تجدیدی کام کیا تھا وہ امام محمد غزالی قدس سرہ کی مقدس ذات تھی،آپ کی خدمات واصلاحات آج بھی اس سلسلے میں اہل علم کے سامنے ہیں،جتنی تفصیل سے آپ نے اس کی خبر لی تھی آپ سے پہلے کوئی نہیں لے سکا تھا مگر اس کے باوجود بھی کچھ ہی عرصہ کے بعد خود مسلمان کہلانے والے ایسے ایسے فلاسفہ ومناطقہ وپیدا ہو گئے

جنھوں نے اسے دوبارہ زندہ کردیا۔

فلسفہ کی ظاہری کشش نے مسلم علما کو اس کی طرف مائل رکھا اور رفتہ رفتہ حضرت امام غزالی قدس سرہ کی تعلیمات وتنبیہات کو بھلا سا دیا گیا ،ہماری تاریخ گواہ ہے کہ بعد میں خود مسلمانوں میں اس فن کے بڑے بڑے ماہر علما پیدا ہوئے بلکہ منطق وفلسفہ کی جو کتابیں ہمارے سامنے ہیں وہ زیادہ تر بعد ہی کے علما کی ہیں اور آخر کار یہ علم علما کے لیے سرمایۂ افتخار بنتا چلا گیا،آج اس دور جہالت تک میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو توجہ اور اہتمام اس کے پڑھنے اور پڑھانے کی طرف ہے وہ دوسرے فنون کی طرف نہیں۔

اکبر کے دور میں اس فن نے بہت کچھ عروج حاصل کر لیا تھا پھر رفتہ رفتہ یہ دلوں میں ایسا گھس گیا تھا کہ اس نے نبوت جیسے اصول دین کو مذبذب بنا دیا اور عجب بحثیں شروع ہو گئی تھیں،مختصر یہ کہ حالات آپ کے سامنے ہیں،ایسے ہوش ربا حالات میں کیسے مرد مجاہد کی ضرورت تھی؟ ظاہری وباطنی رموز شناسی کے لیے کیسے مرد حق آگاہ کے لیے دنیا ترس رہی تھی؟

پروردگار عالم نے اپنا ویسا ہی جامع صفات بندہ عطا فرمایا جس کا دماغ اعلیٰ، علم اعلیٰ،تقویٰ اعلیٰ،ظاہر وباطن اعلیٰ جو ہر باطل کے لیے تن تنہا ہو کر بھی ایک بڑی جماعت پر بھاری،جو اپنے محبوب حق ﷺ کے جلوؤں کا امین اور وارث کامل،اللہ کی زمین پر اس کی حجت اور ہدایت وارشاد کا نشان جس کو دنیا امام ربانی مجدد ومنور الف ثانی کہا کرتی ہے،جس کے رعب وجلال کے آگے بڑے بڑے سلاطین کی گردنیں خم،جو مومنوں کے لیے صدیقی جمال،کافروں بد عقیدوں اور گمراہوں کے لیے فاروقی جلال،جس کی شہرت خدمت نے پورے عالم کو گھیر لیاتھا اسی مقدس انسان کا مختصر تعارف آپ آنے والے اوراق میں پڑھیں اور پھر اس کی کار کردگی دیکھیں؎

چہ خوش رسمے بنا کردند بخاک وخون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی الشیخ احمد الفاروقی السرہندی قدس سرہ