مواد پر جائیں

باب ۵۴ از ۵۴صفحات ۶۵۰–۶۵۴

علامتیں

خیال رہے کہ تکبر انسان کی عادتوں میں بھی ہوتا ہےجیسے چہرہ پھلانا، ترچھی نظروں سے دیکھنا، سر کو ایک طرف جھکانا اور چوکڑی مار کر تکیہ لگا کر بیٹھنا۔ اسی طرح گفتگو میں بھی تکبر ہوتا ہے حتیّٰ کہ اس کی آواز اور بیان میں بھی ایک قسم کے فن کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے اور حرکات و سکنات سے بھی تکبر جھلکتا ہے۔ اسی طرح احوال و اموال اور افعال کی تبدیلی میں بھی تکبر کا اظہار ہوتا ہے۔ بعض متکبرین میں یہ تمام باتیں جمع ہوتی ہیں اور کچھ میں بعض باتیں ہوتی ہیں جب کہ بعض امور میں وہ تواضع کا اظہار کرتے ہیں مثلاً بعض لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ لوگ ان کے لیے یا ان کے سامنے کھڑے ہوں۔

حضرت علی مرتضیٰ‌رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ ایسے آدمی کو دیکھے جو بیٹھا ہے اور اس کے سامنے کچھ لوگ کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ تکبر کی علامتیں بہت ہیں، چند یہ ہیں:

۱۔جب تک اس کے پیچھے چلنے والا نہ ہو تو وہ چلتا نہیں۔

۲۔متکبر آدمی دوسروں کی ملاقات کے لیے نہیں جاتا اگرچہ اس کی ملاقات سے دوسروں کو برکت حاصل ہوتی ہے۔

حضرت انس‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مدینہ طیبہ کی لونڈیوں میں کوئی لونڈی بھی سرکار دو عالم ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اور جہاں چاہتی لے جاتی یعنی آپ اس کی ضرورت پوری فرماتے۔

۳۔ متکبر انسان بیمار کے پاس بیٹھنے سے بھاگتا ہے اور یہ بھی تکبر ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر‌رضی اللہ عنہما اپنے کھانے سے کسی کوڑھی اور سفید داغ والے، بلکہ کسی بھی مریض کو روکتے نہیں تھے، بلکہ اسے اپنے دستر خوان پر بٹھاتے۔

۴۔ متکبر آدمی اپنے گھر میں اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا، بلکہ یہ تواضع کے خلاف ہے۔ منقول ہے حضرت عمر بن عبد العزیز‌رضی اللہ عنہ کے یہاں کوئی مہمان آیا، آپ لکھ رہے تھے، قریب تھا کہ چراغ بجھ جاتا، مہمان نے عرض کیا: میں اٹھ کر ٹھیک کر دیتا ہوں تو آپ نے فرمایا: مہمان سے خدمت لینا اچھی بات نہیں، اس نے کہا: غلام کو جگا دیں، فرمایا: وہ ابھی ابھی سویا ہے۔ چناں چہ آپ خود اٹھے اور کپی لے کر چراغ کو تیل سے بھر دیا، مہمان نے کہا: امیر المومنین آپ نے خود ذاتی طور پر یہ کام کیا، فرمایا: میں جب اس کام کے لیے اٹھا تو بھی عمر تھا اور جب واپس آیا تو بھی عمر تھا، میرے مقام میں کوئی کمی نہیں آئی، بہتر وہ ہے جو تواضع کرے۔

۵۔ متکبر انسان اپنے ہاتھ سے کوئی چیز اٹھا کر گھر نہیں لے جاتا اور یہ تواضع کرنے والوں کے طریقے کے خلاف ہے۔ نبی اکرمﷺ خود اپنے ہاتھ سے سامان لے جاتے۔ حضرت علی کرّم اللہ وجہہ الکریم فرماتے: ایسا کرنے سے کمال میں کوئی کمی نہیں آتی۔ حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح‌رضی اللہ عنہ جب لشکر کے امیر تھے۔ پانی کا گھڑا خود حمام میں لے جاتے اور غسل فرماتے۔

حضرت ثابت ابن ابو مالک فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کو

دیکھا وہ بازار سے لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے لا رہے تھے اور ان دنوں آپ مروان کی طرف سے خلیفہ تھے، آپ فرما رہے تھے، امید کو راستہ دو۔ حضرت اصبغ‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گویا میں عمر فاروق‌رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے بائیں ہاتھ میں گوشت لٹک رہا تھا اور دائیں ہاتھ میں درّہ تھا، اس حالت میں آپ بازار میں گھوم رہے تھے حتیّٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے۔

بعض بزرگوں نے فرمایا کہ حضرت علی‌رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ایک درہم کا گوشت خریدا اور اسے اپنی چادر میں اٹھا لیا، کسی نے عرض کیا: امیر المومنین میں اٹھا لے جاتا ہوں، فرمایا: نہیں، عیال دار آدمی کو خود ہی اٹھانا مناسب ہے۔

متواضعانہ سیرت

روایات میں ہے کہ نبی اکرمﷺ اونٹ کو چارہ دیتے، اسے خود باندھتے، گھر میں جھاڑو دیتے، بکری کا دودھ دوہتے، جوتا گانٹھتے، کپڑے میں پیوند لگاتے، اپنے خادم کے ساتھ کھانا کھاتے، اگر وہ تھک جاتا تو اس کی جگہ آٹا پیستے، بازار سے سودا خریدتے اور ہاتھ میں لٹکانے یا کپڑے کے کسی کونے میں باندھنے سے حیا نہ فرماتے، گھر کی طرف لوٹتے تو ہر مالدار اور غریب، نیز چھوٹے بڑے سے مصافحہ کرتے، آپ کے سامنے جو بھی نمازی آتا اسے سلام کرتے، وہ چھاٹا ہوتا یا بڑا، کالا ہوتا یا سرخ، آزاد ہوتا یا غلام، آپ کے لیے گھر کا الگ اور باہر کا الگ لباس نہ تھا، دعوت قبول فرماتے اور دعوت دینے والا کیسا ہی ہوتا، آپ جھجھک نہ فرماتے، جس کھانے کی دعوت دی جاتی اسے حقیر نہ جانتے اگرچہ ردی قسم کی کھجور ہی ہوتی، صبح کا کھانا شام کے لیے اور شام کا صبح کے لیے نہ رکھتے، ہلکی پھلکی غذا استعمال فرماتے۔

طبیعت میں نرمی تھی، ملنسار اور عمدہ سلوک فرمانے والے تھے، کشادہ رو تھے، تبسم فرماتے تھے، ہنستے نہیں تھے، غمگین رہتے، لیکن ترش رو نہ ہوتے، شدت فرماتے، لیکن زیادہ سختی نہ ہوتی، تواضع فرماتے، لیکن ذلت و رسوائی سے

پاک ہوتی، سخاوت فرماتے، لیکن اس میں اسراف نہ ہوتا، رشتہ دار اور مسلمان پہ مہربان تھے، دل میں نرمی تھی، ہمیشہ گردن جھکا کر رکھتے، اس قدر شکم سیر نہ ہوتے کہ ڈکار آنے لگے، اپنے دست مبارک کو طمع کی طرف نہ بڑھاتے۔

حضرت ابو سلمہ‌رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ نے یہ سب کچھ سنا، حضرت عائشہ‌رضی اللہ عنہا سے انھوں نے تصدیق کی تو انھوں نے فرمایا کہ ابو سعید نے کسی بات میں خطا نہ کی۔ البتہ کچھ باتیں چھوڑ دیں کیوں کہ انھوں نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ نبی کریمﷺ نے کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کسی سے شکوہ کیا اور آپ کو خوش حالی اور مالداری کی نسبت فاقہ زیادہ پسند تھا اور بعض اوقات بھوک سے تمام رات گذار دیتے اور پھر دن کو روزہ رکھ لیتے حالاں کہ آپ اپنے رب سے سوال کرتے کہ وہ زمین کے خزانے اور پھل اور زمین کے مشرق و مغرب کا وسیع عیش آپ کو عطا فرمادے تو عطا فرما دیتا۔ بعض اوقات آپ کی بھوک دیکھ کر ترس کھاتے ہوئے روتی اور اپنا ہاتھ آپ کے پیٹ پر پھیر کر کہتی میری جان آپ پر قربان ہو، اگر آپ دنیا سے اتنا ہی لےلیں جتنا آپ کے لیے ضروری ہے اور اس سے بھوک کا ازالہ ہو جائے تو کیا حرج ہے؟ آپ فرماتے: اے عائشہ! میرے بھائیوں نے جو اولو العزم رسول تھے اس سے بھی زیادہ مشکل اور سخت باتوں پر صبر کیا۔ وہ اپنی اسی حالت پر رہے اور پھر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اچھا ٹھکانہ اور بہترین ثواب عطا فرمایا، مجھے حیا آتی ہے کہ اگر میں خوش حالی کی زندگی گذاروں تو کہیں ان سے پیچھے نہ رہ جاؤں۔ چند دن صبر کرنا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ آخرت میں میرا حصہ کم ہو جائے اور مجھے اپنے بھائیوں اور احباب سے ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں۔ حضرت ام المومنین‌رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم، اس کے بعد ایک ہفتہ بھی نہ ہوا کہ آپ کا وصال ہو گیا۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضور انورﷺ کے جو حالات ذکر

کیے گئے وہ تواضع کرنے والوں کے تمام اخلاق کے جامع ہیں۔’’

علاج: معلوم ہو کہ حضرت امام غزالی قدس سرہ نے تکبر کا علاج بڑی تفصیل سے احیاء العلوم، جلد سوم میں لکھا ہے، لہٰذا وہاں سے معلوم کریں۔ آپ نے اس کے لیے دو مقام ذکر فرمائے۔ ایک یہ کہ دل میں موجود اس کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور دوسرا مقام یہ کہ ان اسباب کو ختم کیا جائے جو دوسرے پر تکبر کا باعث بنتے ہیں۔ پہلا مقام علمی و عملی طور پر ہوتا ہے اور جب تک دونوں باتیں جمع نہ ہوں اس وقت تک شفا حاصل نہیں ہوتی۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی پہچانے اور اپنے رب کو بھی جب وہ خود کو پہچانےگا تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کے حال کے لائق تواضع اور ذلت و خواری ہے اور رب کی معرفت سے پتا چلےگا کہ عظمت و کبریائی اسی ذات اقدس کے شایان شان ہے۔

وما توفیقی إلا باللہ العظیم