باب ۲۰ از ۵۴صفحات ۲۴۵–۲۵۶
احادیث کریمہ
۱۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: التائب حبيب الله و التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (سنن ابن ماجہ)
توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔’’
۲۔ آقاﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ مومن بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو شخص کسی ناموافق ہلاکت خیز جگہ پر اترے، اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا اور مشروب ہے، وہ نیچے سر رکھتے ہی گہری نیند سو جاتا ہے۔ پس جب بیدار ہوتا ہے تو اس کی سواری جا چکی ہوتی ہے، وہ اسے تلاش کرتا ہے حتیّٰ کہ اسے سخت گرمی اور پیاس کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہے وہ کہتا ہے کہ میں اپنی اس جگہ کی طرف کوٹ جاتا ہوں جہاں میں تھا وہاں سو جاتا ہوں حتیّٰ کہ مر جاؤں، وہ اپنے بازو پر سر رکھتا ہے کہ مر جائے پھر وہ بیدار ہوتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری موجود ہے۔ اس سواری کے ملنے پر بندہ جس قدر خوش ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا
ہے یعنی پسند کرتا ہے۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ خوشی میں شکر ادا کرتے ہوئے وہ یہ الفاظ کہتا ہے ‘‘میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے۔ (بخاری و مسلم بحوالہ احیاء العلوم)
۳۔ إنہ لیغان علیٰ قلبی حتیّٰ أستغفر اللہ فی الیوم و اللیلۃ سبعین مرّۃ (صحیح مسلم، جلد دوم)
بیشک میرے دل پر کچھ پردہ آجاتاہے یہاں تک کہ میں ایک دن رات میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتا ہوں۔’’
خیال رہے آیات و احادیث بہت ہیں، ہم نے چند تبرّکاً ذکر کر دیں۔
توبہ کا وجوب
امام حجۃ الاسلام قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘جان لو آیات و احادیث سے توبہ کا وجوب واضح ہوتا ہے اور یہ اس شخص کے لیے نور بصیرت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جس کی بصیرت کھلی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ اس کے سینے کو کھول دیا ہو حتیّٰ کہ وہ اس جہالت کی اندھیریوں میں اس نور کے ساتھ چلنے پر قادر ہو جائے جو اس کے آگے آگے ہے اور قدم قدم پر قائد کی ضرورت باقی نہ رہے۔
اسی باب کی تیسری فصل میں فرماتے ہیں: ‘‘توبہ کے فوری واجب ہونے میں کسی کو شک نہیں کیوں کہ اس بات کی پہچان حاصل کرنا کہ گناہ ہلاکت میں ڈالتے ہیں، نفس ایمان سے ہے اور وہ فوری طور پر واجب ہے۔ چوتھی فصل میں دلائل سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہر شخص پر ہر حال میں واجب ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ بعض آیات و احادیث مذکورہ بالا ذکر کرکے فرماتے ہیں: پس گناہوں سے توبہ واجب اور ہر شخص کے حق میں فرض عین ہے، کسی بشر کے بارے میں متصور نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے بے نیاز ہو۔ پس
انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات اور خاتم الانبیا اور ان کے سردارﷺ نے فرمایا: بیشک میرے دل پر کچھ پردہ آجاتاہے یہاں تک کہ میں ایک دن رات میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتا ہوں۔’’
پس گناہوں کا تعلق اللہ تعالیٰ و سبحانہ کے حق سے ہو اور بندوں کے مظالم و حقوق سے متعلق نہ ہو جیسے زنا اور شراب خوری، گانوں باجوں کا سننا، غیر محرم کی طرف دیکھنا، بغیر وضو مصحف شریف (قرآن) چھونا اور کسی بدعت کا اعتقاد۔ پس اس قسم کے گناہوں سے توبہ ندامت، استغفار اور حسرت و افسوس اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت کرنے سے ہے، اور اگر فرائض سے کوئی فرض (جیسے نماز) چھوڑی ہے تو توبہ میں اس کی ادائگی ضروی ہے۔ اور اگر گناہوں کا تعلق بندوں کے مظالم سے ہو تو ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ مظالم ان کے واپس کیے جائیں (مثلاً روپے لے لیے ہیں تو واپس کرے، زمین ہڑپ لی ہے تو لوٹائے وغیرہ وغیرہ) اور ان سے معاف کرائے، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے لیے دعا کرے اور وہ شخص جس کا مال یا عزت لی ہے مر گیا ہو تو اس کے لیے استغفار کرے اور احسان کرے اور مال اس کی اولاد اور وارثوں کو واپس کرے اور اگر وارث نامعلوم ہو تو بقدر مال اور جرم فقرا و مساکین پر صاحب مال اور اس شخص کی نیت سے جس کو بغیر حق ایذا دی ہے صدقہ کرے۔
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم نے فرمایا: میں نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا اور وہ سچے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس بندے نے کوئی گناہ کیا، پس وضو کیا اور نماز پڑھی اور اپنے گناہ سے اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہی، اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بخش دے کیوں کہ اللہ جل و علا فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللہَ یَجِدِ اللہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا (سورۃ
ترجمہ: اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔’’
اور حضورﷺ نے دوسری حدیث میں فرمایا: جس نے گناہ کیا پھر اس پر نادم ہوا تو وہ ندامت اس کا کفارہ ہے اور خبر میں ہے کہ مرد نے جب کہا کہ اے اللہ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ پھر گناہ کیا، پھر توبہ کیا اور پھرگناہ کیا تو چوتھی بار میں کبائر سے لکھ دیا جائےگا۔
اور حدیث نبوی میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: وہ لوگ ہلاک ہوئے جو کہتے ہیں، عنقریب ہم توبہ کر لیں گے۔
حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے! کو وصیت کی : اے میرے بیٹے توبہ کو کل پر مت ٹالنا کیوں کہ موت تمھارے پاس اچانک آتی ہے۔
حضرت مجاہدرضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے توبہ نہ کی جب صبح کی اور جب شام کی تو وہ ظالموں سے ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مبارکرضی اللہ عنہ نے فرمایا: حرام کے ایک پیسے کو جس کا ہے اسے واپس دے دینا ان سو پیسوں سے افضل ہے جنھیں صدقہ دیا جائے۔
کہا گیا کہ چاندی کا ایک دانق (سکہ) واپس کر دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھ سو مقبول حج سے افضل ہے۔ (مکتوب؍۶۶، دفتر دوم)
گناہ کے مختلف اقسام اور ان سے توبہ کی مختلف صورتیں: حضرت مجدد قدس سرہ کے کلام مبارک سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی مختلف صورتوں کو مختصراً آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ دو قسم کے ہیں۔ ایک حقوق اللہ دوم حقوق العباد۔ اول کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق ترک فرض سے ہے دوم وہ جو ایسا نہ ہو۔ اگر گناہ کا تعلق ترک فرض سے ہے تو صرف توبہ و استغفار یا ندامت کافی نہیں، بلکہ
ضروری ہے کہ اس فرض کو ادا کرے مثلاً نمازیں قضا ہوئی ہیں تو ان سے صرف توبہ کر لینا کافی نہیں، بلکہ فوت شدہ نمازیں پڑھے اور پھر وقت پر ادا نہ کرنے کے جرم کی معافی مانگے۔
علما نے قضاے عمری کی ادائگی کے مختلف طریقے تحریر فرمائے ہیں۔ ہاں جن گناہوں کا تعلق ترک فرض سے نہ ہو وہاں توبہ و ندامت اپنے شرائط کے ساتھ کافی ہے۔ دوسرے گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے ان کا معاملہ بہت سخت ہے، ہم اس کی مزید وضاحت اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی صحیح معرفت کے لیے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کے ایک تفصیلی فتوے کے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں جو فتاویٰ رضویہ شریف جلد دہم میں درج ہے۔
حق العبد
آپرضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ حق العباد بھی کسی طرح معاف ہو سکتا ہے بغیر اس کے معاف کیے جس کا حق ہے اورحق العباد کس قدر ہیں؟ آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: حق العبد ہر وہ مطالبہ مالی ہے کہ شرعاً اس کے ذمے کسی کے لیے ثابت ہو اور ہر وہ نقصان و آزار جو بے اجازت شرعیہ کسی قول، فعل، ترک سے کسی کے دین، آبرو، جان، جسم، مال یا صرف قلب کو پہنچایا جائے۔ تو یہ دو قسمیں ہوئیں۔ اول کو دیون ثانی کو مظالم اور دونوں کو تبعات اور کبھی دیون بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں قسموں میں نسبت عموم خصوص من وجہ ہے یعنی کہیں تو دین پایا جاتا ہے، مظلمہ نہیں جیسے خریدی چیز کی قیمت، مزدور کی اجرت، عورت کا مہر وغیرہا۔ دیون کہ عقود جائزہ شرعیہ سے اس کے ذمہ لازم ہوئے اور اس کی ادائگی میں کمی و تاخیر ناروا برتی۔ یہ حق العبد ہے تو اس کی اس کی گردن پر ہے، مگر کوئی ظلم نہیں۔ اور کہیں مظلمہ پایا جاتا ہےدَین نہیں جیسے کسی کو مارا، گالی دی، برا کہا، غیبت کی کہ اس کی خبر اس کو پہنچی۔ یہ سب حقوق العبد و ظلم ہیں، مگر کوئی دَین واجب الادا نہیں۔ اور دَین اور مظلمہ دونوں ہوتے ہیں جیسے کسی کا مال چرایا، چھینا، لوٹا، رشوت، سود،
جوئے میں لیا۔ یہ سب دیون بھی ہیں اور ظلم بھی۔ قسم اول میں تمام صُور عقود و مطالبہ مالیہ داخل۔
دوسری قسم میں قول و فعل و ترک کو دین آبرو، جان ، جسم، مال، قلب میں ضرب دینے سے اٹھارہ انواع حاصل، ہر نوع صدہا صورتوں کو شامل ، تو کیوں کر گنا سکتے ہیں کہ حقوق العباد کس قدر ہیں۔ ہاں ان کا ضابطہ کلیہ بتایا گیا ہے کہ ان دو قسموں سے جو امر جہاں پایا جائے اسے حق العبد جانے۔ پھر حق کسی قسم کا ہو جب تک صاحب حق معاف نہ کردے معاف نہیں ہوتا۔ حقوق اللہ میں تو ظاہرکہ اس کے سوا دوسرا معاف کرنے والا کون:
وَمَنۡ یَّغْفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللہُ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۳۵)
ترجمہ: اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے۔’’
الحمد للہ معافی کریم، غنی، قدیر، رؤف رحیم کے ہاتھ ہے والکریم لا یأتی منہ إلا الکرم (کریم سے کرم ہی آتا ہے) اور حقوق العباد میں ملک ریان عز و علا نے اپنے دار العدل کا یہی ضابطہ رکھا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوگا (پھر چند سطر بعد) اس کریم و رحیم جل و علا کی رحمت کہ ہمارے حقوق کا اختیار ہمارے ہاتھ رکھا ہے، بے ہمارے بخشے معاف ہو جانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی ستم رسیدہ یہ نہ کہے کہ اے مالک میرے میں اپنی داد کو نہ پہنچا ۔
حدیث میں ہے، حضور پرنور سید المرسلینﷺ فرماتے ہیں: (ترجمہ) یعنی دفتر تین ہیں، ایک دفتر سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ بخشےگا اور ایک دفتر کی اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں اور ایک دفتر سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑےگا۔ وہ دفتر جس میں اصلاً معافی کی جگہ نہیں وہ تو کفر ہےکہ کسی طرح نہ بخشا جائےگا۔ اور وہ دفتر جس کی اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں وہ بندے کا گناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملے میں کہ کسی دن کا روزہ ترک کیا یا کوئی نماز چھوڑی اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے معاف کر دے اور
درگذر فرمائے اور وہ دفتر جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑےگا وہ بندوں کا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہونا ہے۔ (امام احمد، حاکم)
یہاں تک کہ حضور اقدسﷺ فرماتے ہیں: (ترجمہ) بیشک روز قیامت تمھیں اہل حقوق کو ان کے حقوق ادا کرنے ہوں گے یہاں تک کہ منڈی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائےگا کہ اسے سینگ مارے۔ (امام احمد، مسلم، بخاری، ترمذی)
ایک روایت میں فرمایا: یہاں تک کہ چیونٹی سے چیونٹی کا عوض لیا جائےگا۔
پھر وہاں روپے اشرفیاں تو ہیں نہیں کہ معاوضہ حق میں دی جائیں۔ طریقہ ادا یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں صاحب حق کو دی جائیں گی، اگر ادا ہو گیا غنیمت ورنہ اس کے اس پر رکھے جائیں گے یہاں تک کہ ترازوے عدل میں وزن پورا ہو۔ احادیث کثیرہ اس مضمون میں وارد۔
نہایت اختصار کے ساتھ یہ چند باتیں عرض کر دیں۔ آج کل اکثر لوگ دونوں ہی طرح کے حقوق یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہیوں کے شکار ہیں۔ بہت سے، بلکہ زیادہ تر ایسے ہیں جو بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں۔ عام طور پر فرائض و واجبات و سنن کو بھی بجا لاتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ قلبی امراض میں مبتلا اور جس کی وجہ سے غیبتیں کرتے ہیں، چغلیاں کھاتے ہیں، دل آزاریاں کرتے ہیں اور دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں، بلا اجازت دوسروں کی چیزیں کھا لیتے ہیں، استعمال کرتے ہیں اور کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ بعض خود کو بڑا دیندار سمجھتے ہیں، خود تو عمل میں استقامت نہیں رکھتے عوام میں دیندار بنتے ہیں، دین کی دعوت و تبلیغ اور امر معروف و نہی منکر میں مواخذہ و احتساب حد سے تجاوز کرتے ہیں، دوسروں کو ذلیل کرتے ہیں، مال کی حرص میں مختلف بہانوں سے لوگوں سے روپے وصولتے ہیں، اپنی جمانے کے لیے دوسرے علما وغیرہ کی غیبتیں وغیرہ
کرتے ہیں اور گناہ کرکے بھی گناہ نہیں سمجھتے ہیں، عجب دور ہے، یہ اہل علم کا حال ہے، عوام کہاں پہنچ گئی جنھیں کلمہ طیبہ تک صحیح یاد نہیں، فرائض و واجبات کی کچھ پرواہ، عقائد کی کوئی خبر نہیں، ان کا کیا شکوہ، کس سے کیا جائے۔
مشائخ اور پیروں سے التماس ہےکہ وہ بیعت کو حصول مال کا نہیں، بلکہ اصلاح و ارشاد کا ذریعہ بنائیں اور بیعت و ارادت کے ذریعہ لوگوں کو قریب کر کے انھیں یوں ہی بیگانہ نہ چھوڑ دیں، بلکہ ان کی عقیدتوں سے پورا دینی فائدہ اٹھائیں، محبت سے انھیں فرائض و واجبات و سنن وغیرہ کا رفتہ رفتہ پابند بنائیں اور حقوق اللہ کی ادائگی اور ان کے ترک پر جو وعیدیں اور سزائیں وارد ہوئی ہیں وہ بتائیں اور حقوق العباد کی اہمیت ، ان کے اتلاف کا وبال دنیا و آخرت سمجھائیں، قرآنی آیات و احادیث اور اقوال و افعال سلف سے انھیں خوف دلائیں، توبہ کی اہمیت و فضیلت اور اس کی طرف جلدی اور اس کا وجوب و فرضیت بتائیں تاکہ لوگ توبہ کریں۔
طریقت کی رغبت، ذکر کی فضیلت، اللہ تعالیٰ کے قرب کی اہمیت و عظمت انھیں سمجھائیں تاکہ رغبت و طلب پیدا ہو اور انھیں بتائیں کہ نور الٰہی سینوں میں جب ہی آسکتا ہے جب کہ شریعت نے جس کے کرنے کا حکم دیا ہے انھیں بجا لائیں اور جن سے منع فرمایا ہےانھیں چھوڑ دیں کیوں کہ جن امور کو کرنا ہے انھیں چھوڑنا اور جنھیں چھوڑنا ہے انھیں کرنا دونوں ہی ظلمت و تاریکی لاتے ہیں، ان سے قلب سخت اور سیاہ ہوتا ہے، اگر اخلاص کے ساتھ کوشش ہوگی تو رنگ لائےگی اور رفتہ رفتہ گناہ چھوٹ جائیں گے۔ سارے گناہ ایک ساتھ وہی چھوڑ سکتا ہے جس کو خاص توفیق الٰہی مل جائے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو گناہ چھوڑنے لگتا ہے وہ رفتہ رفتہ چھوڑتا ہی چلا جاتا ہے، شرط یہ ہے کہ اچھا مربّی مل جائے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اصلاح اعمال کا کام کرتے ہیں اور حکمت و موعظت حسنہ کے اصول پر کاربند ہیں ان کے ذریعہ اکثر لوگوں کو توبہ نصیب ہوتی
ہے۔ مومن کی فطرت میں دین کی طرف میلان ہے، اسی کا فائدہ اٹھا کر نرے گمراہ فرقےایمان لوٹ رہے ہیں اور اصلاح اعمال کا بہانہ بنا کر بھولے بھالے مسلمانوں کا یمان لوٹ رہے ہیں۔ یہ بھی دھیان رہے کہ آج کے دور میں تلقین ذکر کے لیے یہ انتظار نہ دیکھے کہ وہ شخص جمیع صغائر و کبائر سے توبہ کر لے، بلکہ فرائض و واجبات و غیرہ کا پابند ہو جائے اور موٹے موٹے حرام کاموں سے بچ جائے تو تلقین ذکر کر سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ذکر کی برکتیں بہت جلد نیک بنا دیتی ہیں۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ کے چند ارشادات:
۱۔ جن سے توبہ کرنی ہے وہ صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہیں، توبہ گناہ کو چھوڑنے کا نام ہے اور کسی چیز کو اس وقت چھوڑا جا سکتا ہے جب اس کی معرفت حاصل ہو اور جب توبہ واجب ہے تو جس عمل کے ذریعہ اس تک رسائی ہوتی ہے وہ بھی واجب ہوگا۔ لہذا گناہ کی پہچان ضروری ہے اور گناہ ہر اس کام کو کہتے ہیں جو اللہ تعالی کے حکم کے خلاف ہو چاہے وہ مخالفت، عمل چھوڑنے کی صورت میں ہو یا کرنے کے اعتبار سے۔
۲۔ بندوں کے اخلاق و اوصاف بہت زیادہ ہیں، لیکن سب کا مرکز اور چشمہ چار صفات ہیں: صفات ربوبیت، شیطانی صفت، بہیمی صفات اور سبعی (درندوں کی) صفات۔ کیوں کہ انسان کا خمیر مختلف اشیا کی آمیزش سے تیار کیا گیا ہے تو اس معجون میں سے ہر چیز ایک اثر کا تقاضا کرتی ہے جیسے سکنجبین میں شکر، سرکہ اور زعفران کا الگ الگ اثر ہوتا ہے۔ صفت ربوبیت کا تقاضا تکبر، فخر، جبر، مدح و ثنا، عزت اور مال داری، ہمیشہ رہنے کی چاہت، تمام لوگوں پر بلندی کی خواہش۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں تم سب کا بلند ترین رب ہوں۔ اس سے کبیرہ گناہ پھوٹتے ہیں جن سے لوگ غافل ہیں، وہ ان کو گناہ نہیں سمجھتے، یہ بہت بڑے ہلاکت خیز امور ہیں جو تمام گناہوں کی اصل جیسے ہیں۔
صفت دوم جسے شیطانی کہتے ہیں اس سے حسد، سرکشی، بہانہ بازی، مکر و فریب اور فساد نیز برائی کا حکم دینا ہے، اس میں کھوٹاپن، منافقت نیز بدعات اور گمرہی کی طرف دعوت دینا ہے۔ تیسری صفت بہیمیہ یعنی جانوروں والی صفت ہے جس سے حرص، پیٹ اور شرم گاہ کی خواہشات کو پورا کرنا ہے، اسی سے زنا، لواطت، چوری، یتیموں کا مال کھانا اور خواہشات کے لیے مال و متاع جمع کرنا ہے۔ چوتھی صفت صفت سبعیہ ہے، اس سے غصہ، کینہ، لوگوں کو مارنا، پیٹنا، قتل کرنا اور لوگوں کے مال ضائع کرنا ہے اور اس سے کئی گناہ پیدا ہوتے ہیں۔ فطرت میں یہ صفات تدریجاً آتی ہیں۔ سب سے پہلے جانوروں والی صفت غالب آتی ہے۔ اس کے بعد درندوں والی آتی ہے۔ پھر جب دونوں جمع ہو جاتی ہیں تو دھوکہ بازی کے لیے عقل کو استعمال کرتی ہیں۔ نیز مکر و فریب، حیلے بہانے کی ترغیب دیتی ہیں، یہ شیطانی صفت ہے، اس کے بعد صفت ربوبیت غالب آتی ہے۔
۳۔گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں: صغیرہ، کبیرہ۔ بعض کا کہنا ہے کہ گناہ میں کوئی تقسیم نہیں، بلکہ احکام خداوندی کی جو بھی مخالفت ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔ یہ قول ضعیف ہے۔ خیال رہے کہ کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی تعریف میں علما کے مختلف اقوال ہیں نیز تعداد میں بھی اختلاف ہے۔ بعض کا کہنا ہے کبیرہ اور صغیرہ دونوں اضافی لفظ ہیں کیوں کہ ہر گناہ اپنے سے کمتر کے مقابلے میں کبیرہ ہے اور اپنے سے اوپر والے کے اعتبار سے صغیرہ ہے۔ کسی عورت کے ساتھ لیٹنا اس کی طرف دیکھنے کے مقابلے میں کبیرہ گناہ ہے، لیکن زنا کے مقابلے میں صغیرہ۔ کسی مسلمان کا ہاتھ کاٹنا اسے مارنے کی بہ نسبت گناہ کبیرہ ہے، لیکن اسے قتل کرنے کی نسبت صغیرہ ہے۔
حضرت امام فرماتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ جن گناہوں پر جہنم میں جانے کی وعید آئی ہے ان کو کبیرہ کہا جائے۔ مطلب یہ ہوگا کہ عذاب کی بڑائی کے اعتبار
سے انھیں کبیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی اصطلاح بنائی جا سکتی ہے کہ جن گناہوں پر سزا مقرر ہے (جیسے چوری، زنا وغیرہ) وہ کبیرہ گناہ ہیں۔ یہ بھی اصطلاح بنائی جا سکتی ہے کہ کتاب اللہ میں جن گناہوں کو واضح طور منع کیا گیا ہے وہ کبیرہ ہیں یعنی قرآن پاک میں ان گناہوں کے ذکر کی تخصیص ان کے بڑے ہونے کی دلیل ہے، پھر بھی ان کا کبیرہ و عظیم ہونا لامحالہ اضافی ہوگا؛ کیوں کہ قرآن پاک میں جو کچھ بھی مذکور ہے اس میں درجات کا فرق ہے۔
۴۔کبیرہ گناہ کتنے ہیں: کبیرہ گناہوں کی تعداد کے سلسلے میں صحابہ کرامرضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہے: چار، سات، گیارہ، ستر۔ حضرت ابو طالب مکی قدس سرہ بھی ستر کے قائل ہیں۔
مراتب: کبیرہ گناہوں کے تین مراتب ہیں:
(الف)وہ گناہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی معرفت میں رکاوٹ ہو، یہ کفر ہے، اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اس سے نیچے وہ تمام بدعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال سے متعلق ہیں اور ان میں بعض بعض کے مقابل زیادہ سخت اور جس قدر ان سے لاعلمی میں فرق ہے اسی قدر ان میں بھی فرق ہے۔ اسی طرح جس قدر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے افعال، شریعتوں اور اوامر و نواہی سے تعلق ہے اسی مناسبت سےان بدعات کے درمیان فرق ہوگا اور ان کے مراتب بے شمار ہیں۔
(ب)انسانی جانیں ہیں کہ کسی نفس کا قتل یقیناً کبیرہ گناہ ہے اگرچہ کفر سے درجہ میں کم ہیں۔ پھر اس کبیرہ گناہ سے اعضا کا کاٹنا متصل ہوتا ہے اور ہر وہ کام جو ہلاکت تک پہنچائے حتیّٰ کہ مارنا بھی اس میں شامل ہے۔ ان میں بھی بعض بعض سے بڑے ہیں اور اس درجے میں زنا اور غیر فطری عمل (لواطت) بھی آتی ہے۔
(ج)مال ہیں کیوں کہ لوگوں کی ان سے گذر اوقات ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کے
حصول کی لوگوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی ہے کہ جیسے چاہیں حاصل کریں، غنڈہ گردی، چوری یا اور کسی ناجائز طریقے سے مثلاً خیانت یا جھوٹ کے ذریعہ سے لینا، سود، غصب وغیرہ۔