باب ۲۷ از ۵۴صفحات ۳۳۰–۳۴۰
برے خاتمے کے اسباب
برے خاتمے کے کچھ اسباب ہیں جو موت سے پہلے ہوتے ہیں؛ جیسے بدعت، منافقت اور تمام بری صفات۔ اسی لیے صحابہ کرامرضی اللہ عنہم منافقت سے بہت زیادہ ڈرتے تھے حتیّٰ کہ حضرت حسن بصریرضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر مجھے علم ہو کہ میں منافقت سے پاک رہوں گا تو یہ بات مجھے ان تمام
چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ انھوں نے منافقت سے وہ منافقت مراد نہیں لی جو اصل ایمان کے خلاف ہے، بلکہ وہ منافقت مراد ہے جو ایمان کے ساتھ جمع ہوتی ہے تو وہ منافق بھی ہوتا ہے اور مسلمان بھی، اس کی بہت علامتیں حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق (عملی منافق) ہوتا ہے اگرچہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور اپنے کو مسلمان سمجھے اور اگر اس میں ایک خصلت ہو تو اس میں منافت کا ایک شعبہ پایا جاتا ہے حتیّٰ کہ اسے چھوڑ دے؛ جو بات کرتے وقت جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے، اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔
صحابہ کرامرضی اللہ عنہم سے منافقت کی مختلف تفسیریں منقول ہیں، صدیقین کے علاوہ لوگوں میں ان میں سے کوئی نہ کوئی علامت ضرور پائی جاتی ہے۔
حضرت حسنرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ظاہر و باطن کا اختلاف، زبان اور دل کا اختلاف، دخول و خروج کا اختلاف بھی منافقت سے ہے اور کون ان سے خالی ہے، بلکہ یہ کام لوگوں کے درمیان بطور عادت محبوب بن گئے ہیں اور ان کو مکمل طور پر کوئی بھی برا نہیں جانتا ہے، بلکہ یہ کام زمانۂ نبوت کے قریب ہی جاری ہو گئے تھے، تو ہمارے زمانے کے بارے میں کیا گمان ہوگا حتیّٰ کہ حضرت حذیفہرضی اللہ عنہ نے فرمایا: زمانۂ نبوت میں کوئی شخص ایک بات کہنے سے منافق ہو جاتا تھا، لیکن آج میں وہی بات گیارہ مرتبہ سنتا ہوں۔ (مسند امام احمد بن حنبل)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے کہ تم بعض اعمال کو جانتے ہو جو تمھاری نگاہ میں بال سے زیادہ باریک ہیں، لیکن ہم رسول اکرمﷺ کے عہد میں ان
باتوں کو گناہ کبیرہ میں سے سمجھتے تھے۔
منافقت کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ تم لوگوں سے اس بات کو ناپسند کرو جس کا خود ارتکاب کرتے ہو اور تم ظلم میں سے کوئی چیز پسند کرو اور حق میں سے کسی بات کو ناپسند کرو۔ یہ بھی کہا گیا کہ جب کسی آدمی کی تعریف اس بات پر کی جائے جو اس میں نہیں ہے تو وہ اس پر خوش ہو، نفاق اس سے ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی کہ ہم ان امرا کے پاس جاتے ہیں تو ان باتوں کی تصدیق کرتے ہیں اور جب ہم وہاں سے نکلتے ہیں تو ان کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زمانۂ نبوی میں ہم ان باتوں کو منافقت خیال کرتے تھے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو حجاج ابن یوسف کے خلاف باتیں کرتے ہوئے سنا تو پوچھا: بتاؤ، کیا حجاج کی موجودگی میں بھی تم ایسی گفتگو کرتے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، فرمایا: ہم عہد رسالت میں ایسی باتوں کو منافقت سمجھتے تھے۔
اس سے بھی زیادہ سخت بات یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت حذیفہرضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ کر ان کا انتظار کر رہے تھے اور وہ آپ کے بارے میں کچھ باتیں بھی کرتے تھے۔ جب آپ تشریف لائے تو آپ سے حیا کرتے ہوئے وہ لوگ خاموش ہو گئے، آپ نے فرمایا اپنی گفتگو جاری رکھو، لیکن وہ خاموش رہے، آپ نے فرمایا: اس قسم کے عمل کو ہم عہد رسالت میں منافقت شمار کرتے تھے۔’’
حضرت امام قدس سرہ نے اس تعلق سے انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات و صحابہ و اولیاے عظامرضی اللہ عنہم کے متعدد واقعات بھی سپرد قلم فرمائے ہیں۔ واقعات کا اثر دلوں پر بہت پڑتا ہے اور بزرگوں کی روش اور ان کی قربانیاں نیز مجاہدات و ریاضات وغیرہ بہت سے امور پر روشنی پڑتی ہے۔
صوفیہ کرام نے جو فقر و زہد کی زندگی اختیار کی آج کے معاندین ان پر اپنی جہالت و نادنی کی وجہ سے بہت کچھ تنقید و تبصرہ مختلف تحریروں میں کرتے ہیں، خود علما میں اس بارے میں بہت کچھ بحثیں ہیں کہ فقر افضل ہے یا تمنا۔ ہم مختصر تحریر میں ان سارے امور کو بالتفصیل بیان نہیں کر سکتے۔ البتہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اور ہدایت میں کافی حد تک نتائج و ثمرات تک پہنچ سکتے ہیں۔ فقر و تمنا کے تعلق سے بحث کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے اقسام، فوائد اور نقصانات بھی نظر میں رکھے جائیں۔ اولیاے کرام و صوفیہ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور ان کی سیرتیں جب ہم پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ان کی روش یکساں نہیں رہی۔ بعض بلکہ اکثر نے فقر کو تمنا پر ترجیح دی اور ترک و تجرید کی زندگی گذاری اور اس معاملے میں بہت اعلیٰ مثالیں چھوڑیں، بعض نے تمنا بھی اختیار کیا۔ ایسی بھی مثالیں ملتی ہیں کہ ولایت و بزرگی رکھنے کے باوجود انھوں نے سلطنت و حکومت کی باگ ڈور بھی سنبھالی۔ در اصل یہ مقام بڑی تفصیل کا طالب ہے اور إنما الأعمال بالنیات (اعمال کا دار و مدار نیتوں کے اعتبار سے ہوتا ہے) ان بزرگوں نے جو بھی اختیار کیا اس میں ان کی نیتیں محمود تھیں اور پھر ان کو نبھایا بھی خوب اور دنیا کو دین کے لیے استعمال کیا۔
آج کے دور جہالت میں بعض فرقوں نے قرآن و حدیث کی اس قدر رٹ لگائی ہے کہ جو چیز بھی ہو اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے مانگو نیز قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے علما کی کوئی حاجت نہیں، ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایک گہری سازش ہے جس کے ذریعہ وہ سلف صالحین سے امت کا رشتہ توڑنا چاہتے ہیں، قرآن و حدیث کے حقائق کو اپنے مزعومات کے تابع کرنا چاہتے ہیں، ہر مزاج و ماحول
اور مختلف کم علموں اور ناسمجھوں کی تحریروں کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن و حدیث سے بھی فقر و زہد وغیرہ امور بیان کرتے ہیں تاکہ آپ دیکھ لیں کہ ان بزرگوں نے جو کچھ بھی اختیار کیا وہ اپنے نبی کریم رؤف و رحیمﷺ کی اتباع اپنے مولیٰ جل و علا کی رضا کے لیے اختیار کیا۔
ہم فقر و غنا کے تعلق سے چند امور بیان کرتے ہیں جن سے فقر کی اہمیت و عظمت اور غنا پر ترجیح نیز غنا کے فائدے اور اس کے نقصانات سمجھے جا سکتے ہیں۔ اول ہمار سامنے ہمارے آقا و مولیٰﷺ کی سیرت طیبہ ہے کہ آپ کی بیک وقت نو بیویاں ہوتے ہوئے بھی غنا کے بجائے فقر کو اختیار کیا۔ آپ کی حیات طیبہ اور ارشادات سے بخوبی اندازہ لگا لیں کہ آپ نے فقر و زہد کو دنیوی حیات کے ہر شعبے میں اختیار کیا اور اس کی ترغیب دی۔ یہ احادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ آپ چاہتے تو سونے کے پہاڑ آپ کے ساتھ چلتے ، بطحاے مکہ کو سونا بنا دیا جاتا ، اور تو اور پوری کائنات کی وجہ تخلیق آپ ہیں، آپ ہی خاطر سب کچھ ہے، آپ چاہتے تو سب سے بڑے غنی آپ ہوتے، مگر پھر بھی فقر کو غنا پر اختیار کرنا آپ کی پسند و رغبت پر واضح دلیل ہے، آپ سے بڑھ کر فقر و غناکے فائدے اور نقصانات کون جان سکتا تھا۔
اگر فقر میں سلامتی اور عافیت نہ ہوتی اور غنا میں خطرات اور ہلاکت کے زیادہ امکانات نہ ہوتے تو آپ امت کو بھی غنا کی زیادہ ترغیب دیتے اور خود بھی اسی کو اختیار کرتے جب کہ غنا کے نقصانات و خطرات سے آپﷺ بآسانی بچ سکتے تھے اور سب سے زیادہ آپ اسے دین کے لیے استعمال کر سکتے تھے، اس کے ذریعہ خدمت خلق بھی زبردست ہو سکتی تھی، مگر یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ احادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ دنیا اور آخرت کا ایسا تعلق ہے کہ جس قدر دنیا زیادہ ملتی ہے اسی قدر آخرت سے حصہ کم ہو جاتا ہے، لیکن بہت سے کے بعض اکابر اس منزل پر
فائز ہو جاتے ہیں کہ مولاے کائنات جل و علا ان کی دنیا کو آخرت بنا دیتا ہے کہ دنیا کے استعمال سے ان کی آخرت سے کچھ کم نہیں ہوتا ہے، بلکہ اور ترقی ہوتی ہے۔
حضرت امام ربّانی، مجدد الف ثانی سیدنا شیخ احمد فاروقی قدس سرہ انھی اکابر،چنیدہ اور پاکیزہ نفوس سے ہیں جن کی دنیا کو آخرت بنا دیا گیا، آپ نے خود اس کو بیان کیا اور آپ کے خلف و جانشین حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ نے اپنے ایک مکتوب میں اسے تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ جب رسول کونینﷺ کے غلاموں کو یہ شرف حاصل ہے تو خود حضورﷺ کا کیا حال ہوگا۔ اگر آپ دنیا اور غنا کو اختیار فرماتے ہیں تو آپ کے کمالات سے کچھ کم نہ ہوگا، مگر پھر بھی اپنے لیے اور اپنے عقیدت مندوں، محبوں کے لیے غنا پر فقر کو ترجیح دی اور اسی کو اختیار کیا۔
اس سلسلے میں خود آپﷺ کی سیرت طیبہ اور پھر زبان مبارک سے فقر اور فقرا کے خصائل اور دنیا اور دنیاداروں کی مذمت کو پڑھ لیا جائے تو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ آقاﷺ کی پسند فقر ہے اور اکثر صوفیہ کرام نے آپﷺ کی اتباع میں ہی فقر کو اختیار کیا۔ وہ اپنے نبیﷺ کے فیض سے ایسا دل بینا اور بصارت و بصیرت رکھتے تھے کہ فقر کے فوائد اور غنا کے مخفی اثرات اور اس کے نتائج و ثمرات سےبہت واقف تھے، وہ خوب جانتے تھے کہ دنیوی اشتغال انسان کو کن اخروی کمالات سے محروم کرتا ہے،دائمی ذکر اور خداے پاک کی طرف رغبت سے محروم رکھتا ہے اور عبادت میں مخل ہوتا ہے۔
غنا آنے کے بعد مال کا اس کے صحیح راستوں میں خرچ کرنا، اسے دین کے لیے استعمال کرنا اور اس کی بلاؤوں سے بچے رہنا ہر کس و ناکس کی بات نہیں۔ غنا کے حصول پر بہر حال روش بدل جاتی ہے اور رفتہ رفتہ انسان اس قدر اس جال میں پھنستا چلا جاتا ہے کہ پھر آخری سانس تک نکل نہیں پاتا ہے۔ مال اور غنا انسان کو
عام طور پر متکبر بناتے ہیں، اسراف کے شکار بناتے ہیں، بخیل بناتے ہیں، ارباب حقوق کے حقوق کی ادائگی سے محروم کرتے ہیں۔ طلب مال انسان کو ہر وقت مال کی طرف متوجہ رکھتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ وہ اس قدر عاشق اور دیوانہ ہو جاتا ہے کہ حرام خوریوں اور حرام کاریوں تک پہنچ جاتا ہے اور تحصیل مال کے لیے جائزو ناجائز سبھی راستوں کو اختیار کرنے لگتا ہے۔ مال کا حرص کبھی ان کا پیٹ نہیں بھرنے دیتا ہے۔
آقاﷺ کی ایک دعا:
۱۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:
أللھم اجْعَلْ رِزْقَ آلِ محمدٍ قُوْتاً و فی روایۃ کفافاً
اے اللہ محمد کے گھر والوں کی رزق بقدر ضرورت مقرر فرما، اور ایک روایت میں ہے کہ بقدر کفایت۔ (بخاری و مسلم)
یہاں آل محمد سے مراد حضورﷺ کے خاص امتی ہیں جو قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ لہٰذا حضورﷺ کی دعا ان کے حق میں قبول ہوئی۔ یہ بھی دھیان رہے کہ کفاف بنا ہے کف سے یعنی روکنا، اس سے مراد وہ مال ہے جو انسان کو سوال کرنے سے بچائے، بھیک سے روک لے یعنی بقدر ضرورت۔ مالی ضرورت ہر شخص کی مختلف ہے۔ لہٰذا کفاف بھی ہر شخص کا علاحدہ۔ اس فرمان عالی میں امت کو تعلیم ہے کہ بقدر ضرورت مال پر قناعت کریں۔ زیادہ کی ہوس میں ذلیل و خوار نہ ہوں۔ (مرأت المناجیح بحوالہ اشعۃ اللمعات)
۲۔ حیات طیبہ
حضرت عبد اللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہﷺ ایک چٹائی پر سوئے۔ پھر اس حال میں اٹھے کہ چٹائی نے آپ کے جسم اطہر میں اثر کیا ہوا تھا، حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے عرض کیا: آپ ہمیں اجازت دیں ہم آپ کے لیے بستر بچھا دیا کریں اور سب انتظام کر دیا کریں، فرمایا:
مالی و للدنیا مجھے دنیا سے کیا تعلق، میں اور دنیا نہیں ہیں مگر اس سوار کی طرح جو ایک درخت کے نیچے سایہ لے، پھر چلا جائے اور درخت کو چھوڑ جائے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
۳۔ حضرت ابو امامہرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مجھ پر میرے رب نے پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی زمین کو سونا بنا دے تو میں نے عرض کیا: یارب! نہیں، لیکن میں ایک دن سیر ہوا کروں اور ایک دن بھوکا رہوں تو جب بھوکا رہوں تو تیری طرف عاجزی کروں اور تیرا ذکر کروں اور جب سیر ہوں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔ (احمد و ترمذی)
اس حدیث پاک سے کچھ باتیں معلوم ہوئیں: (۱)حضورﷺ کو اللہ تعالیٰ کس قدر چاہتا ہے کہ آپ کے لیے مکہ کے پہاڑوں پتھروں اور کنکروں کو سونا بنا دے تاکہ آپ نہایت عیش و راحت کے ساتھ حیات مبارکہ بسر کریں۔ (۲)یہ سونا صرف آپ ہی کے لیے ہو، کسی دوسرے کا اس پر قبضہ نہ ہو۔ (۳)آپ کی خواہش یہ نہ ہوئی، بلکہ یہ ہوئی کہ بھوکا بھی رہوں اور کھاؤں بھی ۔ مطلب یہ کہ اگر سونا بنا دیا جاتا تو صرف بندہ شاکر بنوں گا، مگر مسکینیت میں شکر اور صبر دونوں نعمتیں میسر ہوں گی۔ (۴)یہ بھی واضح ہو کہ حضورﷺ کا فقر اختیاری تھا، اضطراری نہ تھا یعنی آپﷺ نے اپنے اختیار اور مرضی سے فقیرانہ حیات اختیار فرمائی۔ یہ حیات مجبوراً نہ تھی، یہ مجبوری کیسے ہوتی جب کہ آپ کا رب و پردگار جل و علا فرماتا ہے:
وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی (سورۃ الضحیٰ: ۹۳؍۸)
ترجمہ: اور تمھیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا۔’’
پس آپ کے رب نے فقیر پایا تو غنی کر دیا۔ سبحان اللہ، خدا جسے غنی کرے اس کی غنا کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ حضورﷺ صرف غنی ہی نہیں، بلکہ دوسروں کو غنی بناتے ہیں، ارشاد ربّانی ہے:
وَمَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ (سورۃ التوبہ: ۹؍۷۴)
ترجمہ: اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔’’
جس کی یہ شان ہو اس کا فقر اضطراری کیسے ہو سکتا ہے۔ کیسے محروم ہیں وہ لوگ جو ان آیات و احادیث کے ہوتے ہوئے آپ کے فقر کو اضطراری کہتے ہیں۔ (۵)یہ معلوم ہوا کہ فقر تضرع و زاری کی طرف لے جاتا ہے، بندہ خدا کو یاد کرتا ہے، اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتا ہے، روتا ہے، عرض حاجت کرتا ہے۔ اس طرح کمال بندگی کا اظہار کرتا ہے۔
۴۔ حضرت عائشہرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کی آل مسلسل دو دن جو کی روٹی سے سیر نہ ہوتے حتیّٰ کہ رسول اللہﷺ کا وصال ہو گیا۔ (بخاری و مسلم)
اس حدیث کی شرح میں علما فرماتے ہیں کہ ایک دن روٹی اور ایک دن صرف کھجوریں، پانی یا فاقہ ہوتا تھا۔ اس سے تا قیامت فقرا کی تسلی مقصود تھی کہ اپنے محبوب و مطلوبﷺ کے اس عمل سے فقر و فاقہ کے مصائب پر صبر، لیکن خوشی ہوگی اور صحیح راہ نظر میں رہےگی دنیاداروں کے محلوں اور ان کی تجارتوں کو دیکھ کر دل للچائیں گے نہیں، بلکہ عبرت حاصل کریں گے۔
۵۔ حضرت سعید مقبری، حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہما سے راوی کہ حضرت ابو ہریرہ ایک قوم پر گذرے جن کے سامنے بھنی بکری تھی، انھوں نے آپ کو بلایاتو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبیﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اس حال میں کہ جو کی روٹی سے سیر نہ ہوئے۔ (بخاری)
کمال محبت کی کرم فرمائیوں سے یہ بھی ہے کہ اپنے محبوب کی کامل اتباع کی جائے، یہ حدیث یہی بتا رہی ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ فتح خیبر میں کچھ باغات میسر آئے تھے آقاﷺ ہر بیوی کو ایک ایک سال کی کھجوریں عنایت فرما دیتے تھے
نیز دنیوی حیات مبارکہ کے آخری ادوار میں دولت کے ظاہری اسباب کے تحت بھی بارش ہو گئی تھی، لیکن سب فقرا و مساکین کو تقسیم فرما دیتے تھے۔ یہ سب بتا رہا ہے کہ آپ کا فقر اختیاری تھا۔ یہاں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ آپ پر تو آپ کے رحیم مولیٰ جل و علا نے پہاڑوں وغیرہ کو سونا بنانے کی پیش کش کی، آپ نے یہ بھی فرمایا:
لو شِئتُ لسارتْ معیْ الجبال (اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلا کریں)
پھر ظاہراً بھی اسباب دولت مندی بن گئے ، ان سب کے باوجود جب آپ کے غلاموں کو یہ تصرف حاصل ہوتا ہے کہ بزور تصرف مٹی کو سونا بنا دیں تو آپ کو کتنا بڑا اختیار ہوگا، مگر اس سب کے ہوتے ہوئے فقر کو اختیار کرنا فقر اختیاری کی واضح اور بیّن دلیل ہے۔
۶۔ حضرت انسرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی جو پرانی ہونے کی وجہ سے بو دے رہی تھی لے کر آئے اور نبیﷺ نے اپنی زرہ مدینے میں ایک یہودی کے پاس رہن (گروی) رکھ دی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جو لیے اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ آل محمد کے پاس نہ ایک صاع گندم، نہ ایک صاع دانہ نے شام کی حالاں کہ آپ کی نو بیویاں تھیں۔ (بخاری)
۷۔ حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ سے مروی کہ انھوں نے فرمایا: میں اللہ کے رسولﷺ پر داخل ہوا تو آپ چٹائی پر جو کھجور کے پتوں سے بنائی گئی تھی لیٹے ہوئے تھے۔ آپ اور چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہ تھا اور وہ پتے آپ کی کروٹ میں اثر کر گئے تھے (یعنی چٹائی کے نشانات پہلو میں پڑ گئے تھے)چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگاتے جس کا بھراو کھجور کی چھال کا تھا، میں نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ
اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت پر وسعت فرما دے کیوں کہ روم اور فارس پر بڑی وسعت دی گئی ہے جب کہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے، آپﷺ نے فرمایا: اے ابن خطاب! تم اس خیال میں ہو! یہ وہ قوم ہے جن کے لیے دنیوی زندگی میں ان کی نعمتیں دے دی گئیں۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کیا تم اس سے راضی نہیں کہ دنیا ان کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے۔ (بخاری و مسلم)
حدیث واضح ہے، کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ معلوم ہوا کہ مومنوں کی خاص یا اصلی زندگی آخرت ہے اور مومن کو آخرت کے لیے ذخیرہ کرنا چاہیے۔ کفار و مشرکین بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، ان میں بھی بہت سے بھلے کام کرنے والے ہیں، لیکن ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، انھیں سب کچھ دنیا میں ہی دے دیا گیا۔