مواد پر جائیں

باب ۴۰ از ۵۴صفحات ۴۷۴–۴۸۷

مشائخ کے احسانات

معلوم ہو کہ اس محبت و الفت کا سلسلہ سرور محبو بینﷺ پر ہی ختم نہیں ہو جاتا ہے بلکہ تمام مشائخ سلسلہ خاص کر اور تمام بزرگان دین جو نزول رحمت وبرکت،دفع بلا اورکشائش روزی کا سبب اور ذریعہ ہیں سب کے احسانات ہیں اور سب ہی کسی نہ کسی سبب سے محبت کے مستحق ہیں،خاص کر مشائخ سلسلہ جو روحانی فیوضات وبرکات اور باطنی رشد وہدایت اور کمالات کے حصول کا ذریعہ ہیں خواہ اہل سلوک ان کے توسل وتوسط کو دیکھ پائیں یا نہ ،باریک بینوں کا مشاہدہ ہے کہ تمام مشائخ کی ارواح آمد فیض میں حائل ہیں سب سے ہوکر ہی فیض آتا ہے جیسا کی امام ارباب کشف وولایت حضرت مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہ نے ذکرفرمایا ہے:

ان کے یہ فیوضات صرف باطنی صفائی کا کام نہیں دیتے ہیں بلکہ جہاں تزکیہ نفس وتصفیہ قلب اور باطنی مدارج کی بلندیاں نصیب ہوتی ہیں وہیں شریعت

وسنت کی اتباع میں رسوخ،اعمال صالحہ میں استقامت، ذکر وعبادت میں کثرت،تقویٰ وطہارت،خوف وخشیت اورالفت ومحبت وغیرہ کی برکتیں پھر ان پر مرتب ہونے والی اخروی نعمتیں بے شمار ہیں اسی لیے کئی اعتبار سے ماں باپ سے بڑھ کر استاذ اور استاذ سے بڑھ کر شیخ کامل کا احسان ہو تا ہے جو محبت وگرویدگی اور ایثار وقربانی کا تقاضہ کرتا ہے،یہ زبر دست رحمت خداوندی ہے کہ شیخ کامل سے مرید کو مناسبت ہو جائے، شیخ سے محبت اور اس کی اتباع اس میں فنائیت کا سبب بنتی ہے اور یہی فنائیت وفدائیت فنا فی الرسول تک پہنچاتی ہے اور وہ فنا فی اللہ تک،جب ماتھے کی آنکھوں کے سامنے شیخ کامل ہوتا ہے تو اس سے مناسبت حسی بھی ہوتی ہے جو جلد محبت کا سبب بنتی ہے اور پھر وہی آگے چل کر وسیلہ ہو جاتی ہے،جنھوں نے اس راز کو سمجھا وہ با مراد اور کامران ہوئے اور جو محروم رہے وہ محروم رہے۔

اقسام محبت

معلوم ہو کہ محبت کی دو قسمیں ہیں(1)محبت طبعی یعنی انسان کا اپنی ذات،اولاداور ماں باپ وغیرہ سے طبیعت کی حیثیت سے محبت کرنا، یہ محبت کسی شخص کے اختیا ر سے باہر ہوتی ہےبلکہ قوت استطاعت سے بھی خارج ہوتی ہے،یہ محبت عام طور سے خواہش نفس کے تابع ہوتی ہے،اس پرمواخذہ نہیں۔(2)محبت عقلی اختیاری یعنی اس چیز کا اختیار کرنا کہ عقل جس کا رجحان چاہتی ہےاگرچہ طبیعت اس کے خلاف ہو،اس کا فرق آپ اس بات سے سمجھ سکتے ہیں کہ مریض طبیعت کے اعتبار سے دوا کو نا پسند کرتا ہے اسکے باوجود اپنے اختیار سے دوا کی طرف مائل ہوتا ہے اور اسکے تناول کا قصد کرتا ہے اپنی عقل کی چاہت کی وجہ سے کیوں کہ اسے علم یا گمان غالب ہے کہ اس کی صلاح ونفع اسی میں ہے،اسی طرح مومن جب جان لیتا ہے کہ حضوراکرمﷺاسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا اسی سے منع کرتے ہیں جس میں دین ودنیا اور اس کی آخرت وعقبیٰ کا نفع ہوتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ حضور اکرمﷺاس پر سب سے زیادہ شفیق ومہربان ہیں تو

تو اس صورت میں آپ کے امر ومعاملہ کی جانب اپنی عقل کے تقاضے کے اعتبارسے آپﷺکے غیر کے امر پر راجح اور غالب ہو جاتا ہے۔

ایمان کے درجات میں یہ پہلا درجہ ہے۔ رہا کمال ایمان تو وہ یہ ہے کہ انسان کی طبیعت آپﷺکی محبت میں اس کی عقل کے تابع ہو جائے،یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ‘‘لايؤمن احدكم حتيٰ اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين’’ تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اسے اس کی اولاد،باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں یہاں علما نے قید لگائی کہ مراد یہ ہے کہ مومن کامل نہیں ہوگا یہ حب طبعی کے اعتبار سے ہےورنہ اگرمحبت سے عقلی اختیاری مراد لی جائے تو محققین فرماتے ہیں کہ پھر یہاں کامل کی قید نہیں لگے گی بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ وہ حقیقی مومن ہی نہیں ہوگا۔

علامات محبت

(1)حضوراکرم ﷺکو اپنی ذات پر اختیار کرنااور آپ کی مخالفت ہر آپ کی موافقت کو اختیار کرنااورآپ کی اقتدا کرنا اور آپ کی سنت پر عمل کرنا،آپ کے اقوال وافعال کی پیروی اور اوامر ونواہی کو بجا لانا،سختی و آسانی،خوشی اور غم میں آپ کے آداب اختیار کیے رہنا جو شخص جمیع صفات کے ساتھ موصوف ہو وہ کامل المحبۃ ہے اور جو بعض سے موصوف اور بعض سے نہ ہو وہ ناقص المحبت ہے لیکن محب وہ بھی کہلائے گاجیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص کو شراب کے سلسلے میں چار پانچ بار حد لگائی گئی جس پربعض صحابہ نے لعنت کی تو آپﷺنے فرمایا لعنت نہ کرو وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔

علما فرماتے ہیں: اس حدیث میں گناہگار مومن کے لیے عظیم خوشخبری اور بشارت ہے اور اہل سنت کے لیے معتزلہ وخوارج کے خلاف واضح اور روشن دلیل ہے جنھوں نے کہہ دیا کہ مرتکب کبیرہ کافر یا ایمان سے خارج ہے جو ہمیشہ دوزخ

میں رہے گا۔

(2)دوسری علامت یہ کہ آپﷺکا کثرت سے ذکر کرے کیوں کہ مشہور ہے‘‘من احب شیئا اکثر ذکرہ’’جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اکثر اس کا ذکر کرتا ہے،روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا پیر سن پڑ گیا ،آپ سے کہا گیاکہ اسے بلائیے جس سے آپ کو سب سے زیادہ محبت ہوتو یہ صحیح ہو جائیگا،آپ نے زور سے پکارا ‘‘یا محمداہ’’ گویا آپ نے استغاثہ میں اظہار محبت کا قصد کیا، آپ کا پیر فی الفور صحیح ہوگیا۔

(3)تیسری علامت یہ کہ آپﷺکی ملاقات کا بہت شوق ہو کیوں کہ ہرمحب اپنے محبوب کی لقا پسند کرتا ہے۔

(4)جب آپ کا ذکر پاک ہو تو آپ کی توقیر وتعظیم اور خشوع و خضوع کا اظہار کرے،نام مبارک سن کر تواضع وانکسار کرے۔

(5)ان سے محبت کرے جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی اور ان سے جو آپ سے نسبت رکھتے ہیں جیسے اہل بیت اور مہاجرین و انصار صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم اور ان سے عداوت رکھے جو ان حضرات سے دشمنی رکھیں اور ان سے بغض رکھےجوان بزرگوں سے بغض رکھے کیوں کہ یہ اصول ہے کہ جو جس سے محبت رکھتا ہے وہ ان سے بھی محبت رکھتا ہے جن سے ان کا محبوب محبت رکھتا ہے۔

(6)ان سے بغض رکھے جو آپﷺکے مبغوض تھے اور ان سے دشمنی رکھے جو آپ کے دشمن تھے،ان سے بھی دور رہے جو آپ کی سنتوں کی مخالفت کریں اور آپ کے دین میں بدعتیں ایجاد کریں۔

(7)کامل محبت کی علامتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ زھدوفقر اختیارکرے اور غنائے قلب کے ساتھ فقر کو صفت بنائے۔

(محبت کی یہ چند علامتیں‘المعتقد المنتقد’سے بیان کی گئی ہیں)

خیال رہے کہ جیسے آپ کی محبت واجب ہےویسے ہی آپ کی تعظیم وتوقیر بھی واجب ہے جیسا کی علماے کرام نے شفا شریف وغیرہ میں تفصیلا بیان کیا ہے۔آج کے دور میں بے ادبی وگستاخی عام ہےجس کی وجہ سے لوگ روحانی برکتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

محبت کے چندفائدے

حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ مکتوب21 دفتر اول میں فرماتے ہیں: اس گروہ سےمحبت کرنے والا اس گروہ کے ساتھ ہے۔ ایک بزرگ نے فرمایا یا اللہ مجھ کو اس قوم سے بنادے یا اس قوم کے دیکھنے والوں میں کردے کیوں کہ میں کسی دوسری قوم سے تعلق کی طاقت نہیں رکھتا،حق سبحانہ وتعالیٰ اس عالی مرتبہ گروہ کے ساتھ کامل محبت عنایت فرماکر ان کے فیوض و برکات سے کامل حصہ عطا فرمائے اور ان کے پوشیدہ اسرار ومعانی سے سیراب وشاداب کرے،محبت کا تعلق ہی ہے جو کہ محبت کرنے والے کو ہمیشہ محبوب کے ساتھ رکھتا ہے،اس کی صفات کاملہ کے ساتھ متصف کرتا ہے اور طالب کو مطلوب کے رنگ میں رنگ دیتا ہے،اور عشق كاجوش ہی ہے جو سالک کو بشریت کے وجود سے ہلکاکر دیتا،انانیت اور سر کشی کے تنگ کوچہ سے رہائی دیتا اور اس کو اپنے آپ سے بے خود کرتا ہے اور از خود رفتہ کو اس مقدس بارگاہ میں جگہ دیتا ہے اور قرب کی منزلوں تک پہنچا تا ہے،بیشک پہلے (ازل)سے یہی ہوتا آیا ہے ،محبت ہی ہے جو کہ وجود کا سبب بنی ہےاور جس نے سلسلہ ایجاد کو حرکت دی ہے،محبت ہی ظہور اظہار کا باعث بنی ہے اور پوشیدہ خزانے کو میدان ظہور میں لائی ہے،اول چیز جس نے یقین کو قبول کیاوہ محبت ہی ہے جو سرور کائنات ﷺ کی حقیقت ہے،اس محبت ہی سے حضور نبی اکرمﷺرب العٰلمین کے حبیب بنےہیں اور تمام کائنات حب کے تقاضے اورمحبت کے جوش سے وجود وظہور میں آئی ہے۔

فوائد

محبت کی دو قسمیں:

۱۔ حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں: محبت کی دو قسمیں ہیں:(1)ایک وہ جس کا تعلق ذات محب سے ہوتا ہے(2)اورایک وہ جس کا تعلق غیرذات سے ہوتا ہے،پہلی قسم کا نام محبت ذاتیہ ہے یہ اقسام محبت میں سب سے اعلیٰ اوربرتر ہے کیوں کہ ہر انسان جس قدر اپنی ذات کو چاہتا ہےاس قدر کسی کو نہیں چاہتا ہےنیز محبت کی یہ قسم سب سے زیادہ مستحکم اور مضبوط ہے کہ کسی عا رض کی وجہ سےزائل نہیں ہوتی نیز اس محبت کا تعلق جس سے ہو تا ہے وہ خالص محبوب ہوتا ہےایسا محبیت کا شائبہ نہیں رکھتا ہے۔اور دوسری قسم کی محبت عارضی اور زوال پذیر ہے،اس کا متعلق اگر چہ ایک جہت سے محبوب ہےلیکن متعدد وجوہ کے اعتبار سےمحبیت رکھتا ہے،رسول کونین محبوب اعظمﷺکا حسن وجمال حضرت ذات تعالیٰ کی طرف منسوب ہےاس لیے لا محالہ قسم اول کی محبت جو کہ ذات جل شانہ سے متعلق ہےوہی حضور اقدسﷺسے متعلق ہوگی اور ذات سبحانہ کی طرح اس تعلق محبت کی وجہ سےآپﷺبھی خالص محبوب ہونگے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ دوسروں کو یہ دولت میسر نہیں ہےاور حسن ذات سے کم حصہ رکھتے ہیں لہٰذا ان لوگوں سے دوسری قسم کی محبت متعلق ہوگی اور ایک جہت سے ان کو محبوب بنائے گی۔

محبوب مطلق آپ ﷺہی ہیں کہ ذات محب کی طرح ہمیشہ محبوب ہیں،محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کو جو ذات الٰہی سبحانہ کے ساتھ غلبہ محبت ہے اور جس محبت کی وجہ سے اہل محبت کے رئیس وسردار ہوئے اسی قدر زیادتی محبت اللہ تعالیٰ کو حضرت سید البشرﷺکےساتھ ہےیہ

فقیر(مجدد)ان دونوں محبتو ں کےدرميان جس قدر غواصی کرتا ہے کہ قوت وضعف کے اعتبار سے فرق پیداکرے اور وہ محبت کہ خالق جل وعلا کو ہے محبت مخلوق سے شدیدتر پائےمگر کوئی فرق نہیں پاتا ہے گویا ان دونوں محبتوں کومیزان عدالت میں برابربرابرتولا ہے اور بال برابر کمی زیادتی تجویز نہیں کرتا ہے۔(ماخوذ مکتوب 100دفتر سوم)

2۔آپ قدس سرہ فرماتے ہیں: محبت ذاتیہ کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ جس کی وجہ سے اپنی ذات کومحبوب رکھتا ہے اس کے تین اعتبار ہیں (1)محبوبیت (2)محبیت (2)محبت۔

محبو بیت ذاتیہ کے کمالات کا ظہورخاتم الرسل علیہ وعلیٰ اٰلہ الصلوات والتسلیمات کے لیے مسلم ہیں زیادہ سے زیادہ یہ کہ جانب محبوبیت میں دو کمال ہیں(1)فعلی یعنی تاثیر(2)انفعالی یعنی تاثر(اثر قبول کرنا) فعل اصل ہے اورانفعال اس کے تابع ہے لیکن انفعال فعل کی علت غائیہ ہوتاہے اگرچہ وجود میں متاخر ہوتا ہے مگر تصورمیں متقدم اور کمالات محبیت کا ظہور حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کا حصہ ہے اور تیسرا اعتبار کہ نفس محبت ہے اولا اس مقام میں حضرت ابو البشر آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام مشہود ہوئے ثانیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلاۃ والسلام اور ثالثا حضرت نوح علیہ السلام بھی اسی اعتبار میں نظر آئے۔

حضرت ذات تعالیٰ وتقدس جس طرح اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اسی طرح کمالات اسمائی و صفاتی سے بھی محبت کرتا ہے اور اس محبت اسماء وصفات وغیرہ کا ظہور حضرت ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام میں زیا دہ تام ہے اور محبوبیت اسمائی وصفاتی اور افعالی کا ظہور دیگر انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام میں متحقق وثابت ہے،اسما وصفات کی محبت کے ظہور کی طرح اسما ،صفات اور افعال کے ظلال کی

محبوبیت کا ظہور ان کےاصول کے واسطے سے ان اولیاے کرام کا حصہ ہے جو مراد ومحبوب ہوتے ہیں اور ان ظلال کی محبیت کا ظہوران اولیائے کرام کا نصیب ہے جو مرید ومحب ہوتے ہیں۔

3۔مقام محبت ذاتیہ کے اوپر مقام حب ہےجو کہ مذکورہ تینوں اعتبارات کا جامع اور اجمال ہے ،مقام رضا مقام محبت وحب کے اوپر ہے اس لیے کہ یہ مرتبہ مرتبہ محبت کےاوپر ہےکیوں کہ محبت میں اجمالا وتفصیلا نسبت موجود ہےاور مقام رضا میں نسبت محذوف ہےجو کہ ذات تعالیٰ کے مناسب ہے اور مقام رضا کے اوپر کسی کے لیے قدم نہیں مگر حضور ﷺکے لیے ہو سکتا ہے،اس ارشاد میں جو آپﷺ نے فرمایا: لي مع الله وقت لا يسعني فيه ملك مقرب ولا نبي مرسل

میرے اور الله کے درمیان ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جس مین نہ مقرب فرشتے کی گنجائش ہے اور نہ نبی مرسل کی۔’’

اس حدیث قدسی میں اسی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے: اے رسول!میں ہوں اور تم ہو اور تمہارے سوا جو کچھ ہے سب کو تیری خاطر چھوڑ دیا۔

محمدرسول اللہﷺکو آج کے دن کیا جان پائیں گے اورآپ کی عظمت وبزرگی کو اس دنیا میں کیا سمجھ پائیں گے اس لیے کہ یہاں حق باطل کے ساتھ مخلوط ہے قیامت کے دن آپ کی بزرگی معلوم ہوگی کہ پیغمبروں کے امام وپیشوا ہوں گے اور حضرت آدم اور ان کے ماسوا آپ کے جھنڈے کے نیچے ہونگے صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین(ماخوذ از مکتوب 7دفترسوم)

ارکان مجاہدات

۱۔تقلیل طعام

ائمہ طریقت اور مجتہدین صوفیہ نے نہایت بالغ نظری سے

قرآن وسنت کی روشنی میں تزکیہ نفس وتصفیہ قلب کےطریقے مقرر کیےاور تفصیل سے بتا دیا کہ نفس امارہ جیسی سرکش چیز کو کیسے رام کیا جا سکتا ہے؟ صوفیہ کے مقرر کردہ اصولوں میں ایک کم کھانا بھی ہے،نفس کی امارگی کس طرح بڑھتی ہے اور اسکے طغیان وسرکشی میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے اس کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پر سنت کی روشنی میں قابو پایا جائے،آج مشاہدہ ہے کہ ماکولات ومشروبات لذتوں اوروسعتوں کا شکار ہوکر لوگ فسق وفجور میں کہاں تک پہنچ گیے ، کس قدر برائیوں میں مبتلا ہوگئےہیں اور اخلاقی طور پر کتنے بگڑ گیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کس قدر مالی پریشانیوں میں مبتلا ہو گیے ہیں۔

یہ ہر حساس جانتا ہے کہ کھانے میں کس قدر بے اعتدالیاں پیدا ہو گئی ہیں ایک مقدار میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ جب تک اوپر تک معدہ بھر نہیں جا تا کھا نا بند نہیں کرتے،دوسرے بھوک کا احساس نہ ہوتے بھی اگر دعوتیں ہیں تو زبردستی کھانا کھاتے ہیں جس سے معدہ خراب ہوجاتا ہے،اس قدر کھانا کہ جس سے معدہ خراب ہو جائےعلما نے ناجائز لکھا ہے،تیسرے خواہشات پر کوئی قابو نہیں جو چاہتے ہیں جس وقت چاہتے ہیں کھاتے ہیں،چوتھے ایک ساتھ کئی کئی قسم کے کھاتے ہیں،پانچویں کھانے میں حلال کا لحاظ اٹھتا جارہا ہے مشتبہ تو مشتبہ حرام سے بھی اجتناب نہیں کرتے،دعوتوں کا شوق اس قدر غالب ہے کہ بہت سے بغیر دعوت کے ہی چلے جاتے ہیں،آج کل عام شادیوں اور ولیموں کی دعوتیں نہایت پر تکلف کھا نوں پر مشتمل ہو تی ہیں جو اکثر فخر وریا اور نام ونمود یا مجبوری پر مبنی ہوتی ہیں، ان میں کھانے والے بڑی بے اعتدالیوں سے کھاتے ہیں،سالن اور روٹیاں برباد کرتے ہیں ،اکثردعوتوں میں محرمات ہوتے ہیں اور اب تو اس معاملے میں اس قدر زیادتی ہوتی جا رہی ہے کہ الامان والحفیظ۔

چھٹی خاص بات یہ کہ ان آداب کا بھی لحاظ نہیں کرتے جو علما وفقہا نے قرآن

وحدیث کی روشنی میں بیان فرمائے ہیں مثلا اکثربغیر ہاتھ دھوئے کھاتے ہیں،کھانے کے آغاز میں اکثر بسم اللہ نہیں پڑھتے،سنت کے مطابق بیٹھ کر نہیں کھاتے،اکثر میز اور کرسی پربلکہ اب توزیادہ تر کھڑے کھڑے کھاتے ہیں،اسی طرح کی بے اعتدالیاں اور خلاف سنت کام مشروبات میں بھی اپنا رکھے ہیں،جو چیز چاہی جب چاہی خواہ وہ کسی کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہو پی لیتے ہیں،پھر ہروقت منہ میں کہیں پان مسالہ،کہیں تمباکو تو کہیں سگریٹ رہتی ہے،بزرگان دین نے اپنی باطنی کیفیتوں کےتحفظ اورروحانی ترقی کے لیے کئی طرح سے احتیاط برتی ایک توغذا کی مقدار میں سنت کا پورا پورا لحاظ کرتے اتنی ہی مقدار میں کھاتے جتنی سنت نے اجازت دی ہے۔

حدیث شریف میں ہے:ایک تہائی پیٹ میں کھانا ،ایک تہائی میں پانی اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے چھوڑدو۔’’

دوسرے کئی کئی کھانے ایک ساتھ نہ کھائے کیوں کہ یہ بھی سنت کے خلاف ہے(حضرت خواجہ سید نورمحمد بدایونی قدس سرہ تو سالن اور سرکہ بھی ایک ساتھ جمع نہ کرتے اور اسے بھی دو سالن کا اجتماع تصور کرتے)تیسرے کھانے کے سامان نہایت حلال ذریعہ سے مہیا کرے لکڑی اور سامان خورد ونوش میں اس قدر احتیاط سے کام لے کہ اس سے اوپر متصور نہ ہو،چوتھے کھانا پکانےمیں اس قدر احتیاط کہ حضرت خواجہ باقی باللہ دہلوی قدس سرہ کے یہاں سخت پابندی تھی کہ کھانا بنانے والا جب تک کھانا بنائے باوضو رہے اور ذکر حق سے غافل نہ ہو،پانچویں کھانے میں سنت کا پورا لحاظ برتا جاتا،چھٹے با وضو کھانا کھاتے،ساتویں کافروں اور فاسقوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز کھانے سے پرہیز کرتےخاص کر ان تیوہاروں سے منسوب چیزیں جیسے دیوالی کی مٹھائی وغیرہ سے پر ہیز کرتے۔

ان احتیاطوں کی وجہ سے ان کے قلوب تکدر،گندگی اور باطنی ظلمتوں سے

محفوظ رہتے اسی لیے وہ دعوت عام کو بھی قبول نہ کرتے اگر کسی معاملہ میں ان سے ذرہ برابر بے احتیاطی ہو جاتی تو اس کا اثر ان کے باطن پر محسوس ہو جاتا،عام بازاری کھانوں سے بھی وہ پرہیز کرتے کیوں کہ اس سے باطن میں ظلمت پیدا ہوتی ہے اور نسبت کمزور پڑتی ہے ،ہم فقر کے بیان میں قدرے تفصیل سے عرض کر چکےکہ سید عالم صلی ا للہ علیہ وسلم نے کبھی بھی زیادہ پیٹ بھر کر کھانا کسی کے لیے پسند نہیں فرمایا اور نہ آپ نےکبھی کھایا،تقلیل طعام خود رسول اللہﷺکا پسندیدہ عمل ہے،صوفیہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زیادہ کھانے کے نقصانات سے اچھی طرح واقف تھے وہ اپنے صفائے قلب کی بنیاد پر معمولی بے اعتدالیوں کی ظلمتوں کا بھی ادراک کر لیتے تھے حضرت مجدد قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ زیادہ کھانے کی ظلمتیں تہجد کے وقت محسوس ہوتی ہیں۔

حضرت خواجہ بزرگ نقشبند قدس سرہ اکثر اوقات کھانا پکاتے اور دستر خوان کی خدمت خود کیا کرتےتھے اور درویشوں کو بالخصوص وقوف وحضور کا حکم دیتے تاکیداً،اگرچہ دستر خوان پر بڑا اجتماع ہوتا مگر جب ان میں کوئی غفلت سے لقمہ اٹھاتا تو آپ براہ شفقت آگاہ فرماتے اور لقمہ کھا نے نہ دیتے اگر کھانا غصہ اور کراہت سے پکا ہوتا تو آپ اسے نہ کھاتے اور درویشوں میں سے بھی کسی کو کھانے نہ دیتے،ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت خواجہ، غدیوت میں تشریف فرما تھے کہ ایک درویش نے آپ کی خدمت میں کھا نا پیش کیا،آپ نے فرمایا: ہمیں یہ کھانا نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ غصہ کی حالت میں پکا یا گیا ہے،آٹا چھاننے،خمیر کرنے اور پکانے کے وقت کسی میں غصہ آیا ہے،

اگر کوئی شخص غصے یا کراہت کی حالت میں دیگ میں مارتا تو آپ اس کھانے کو نہیں کھاتے اور فرماتے کہ جو کام غضب وغفلت یا کراہت ودشواری میں کیا جائے اس میں خیر وبرکت نہیں کیوں کہ اس میں نفس وشیطان کا دخل ہو جا

تا ہے،اس سے اچھا نتیجہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے،اعمال صالحہ اور افعال حسنہ کے صدور کی بنا حلال طعام پر ہے اور جو وقوف و آگاہی سے کھایا جائے تمام اوقات بالخصوص نماز میں حضور اسی سے حاصل ہوتا ہے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے احتیاط کا حال یہ تھا کی آپ کے پاس جو بھی ہدیہ آتا اگرچہ بحکم حدیث‘‘نحن لا نرد الہدیۃ’’(ہم ہدیہ رد نہیں کرتے) اسے رد نہ کرتے مگر اسے بجنسہ اپنے مصارف میں نہ لا تے بلکہ کسی پاک مد سے قرض حسنہ لے کر اس کے عوض اس ہدیہ کو اسے دے دیتے۔کیوں کہ بحکم فقہا وہ حلت میں ایک اور درجہ پیدا کر دیتا آپ نہایت تاکید فرمایا کرتے تھے کہ کھا نا پکانے والا باوضو بلکہ صاحب حضور وصفا ہو اور پکا تے وقت دنیوی بات زبان پر نہ لائے،آپ فرمایا کرتے کہ جو لقمہ بغیر حضور واحتیاط کے کھا یا جائے اس سے ایک دھواں پیدا ہوتا ہے جو فیض کے راستوں کو بند کردیتا ہے اور ارواح طیبہ جو فیض کا وسیلہ ہیں ایسے قلب کے مقابل نہیں ہوتیں۔آپ اپنے مریدوں کو اس(مذکورہ)احتیاط کی تر غیب دیتےتھے،جو لوگ اس احتیاط میں تساہلی سے کام لیتے آپ اپنی نسبت کی نزاکت و صفائی کی وجہ سے اس کا نقصان ان کے حالات میں معائنہ فرما لیتے۔

چنانچہ ایک روز ایک صاحب حال وکشف درویش آپ کی خدمت میں آیا،اس نے عرض کیا کہ میں اپنے کا م میں بستگی اور باطن میں کدورت پاتاہوں،مجھے معلوم نہیں کہ مجھ سے کیا تقصیر سرزد ہوئی ہے،آپ نے متوجہ ہوکر فرمایا کہ لقمہ میں بے احتیاطی ہو گئی ہے،اس نے عرض کیا کہ لقمہ تو وہی ہے جو میں ہرروز کھایاکرتا ہوں،آپ نے فرمایا کہ جا کر خوب دریافت کرو ہمیں تو بجز اس کے کچھ نظر نہیں آتا لقمہ کے کسی جز میں ضرور فتور آیا ہوگا،جب اس درویش نے اچھی طرح تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جن لکڑیوں سے کھانا پکایا جاتا تھا اس میں سے دوتین

لکڑیاں ایسی شامل کر دی گئی تھیں جس میں احتیاط سے کام نہ لیا گیا تھا۔

اسی طرح حضرت خواجہ سید نور محمد بدایونی قدس سرہ لقمہ میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے،اپنے ہاتھ سے کئی دن کا کھانا پکا لیاکرتے تھے اور بھوک کی شدت کے وقت اسی میں سے کھا لیا کرتے،فرماتے تھے کہ تین سال سے طبیعت کا تعلق کیفیت غذا سے نہیں رہا ضرورت کے وقت جو مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں،کمال اتباع سنت کے سبب آپ دو سالن کے اجتماع کو بدعت سمجھ کرایک صاحبزادے کو گھی اور دوسرے کوشکر دیا کرتے تھے،امیروں کے گھر کا کھانا کبھی نہ کھاتے کیوں کہ یہ اکثر شبہ کی ظلمت سے خالی نہیں ہوتا،ایک دفعہ کسی دنیادار کے گھر سے کھانا آیا تو آہ نے فرمایاکہ اس میں ظلمت معلوم ہوتی ہےاور براہ نوازش اپنے خلیفہ مرزامظہر جان جاناں سے فرمایا تم بھی اس کھانے میں غور کرو ،مرزا ممدوح نے متوجہ ہوکر عرض کیا کہ کھانا وجہ حلال سے ہے مگر ریا کی نیت کے سبب اس میں کچھ ظلمت پیداہوگئی ہے۔

نواب مکرم خاں جو حضرت خواجہ نقشبند کی اولاد سے تھے اور حضرت عروۃ الوثقیٰ کے مرید تھے ان کے کھانے میں بہت تکلفات ہوا کرتے تھے اور حداسراف تک پہنچ جایا کرتے تھے مگر حضرت خواجہ سیدنورمحمد بدایونی قدس سرہ باوجود احتیاط اور کمال تقویٰ کےان کا کھانا کبھی کبھی بطور تبرک کھا لیاکرتے اور فرماتے کہ ان کے کھا نے کی برکتوں سے اس قدر نور با طنی زیا دہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے کھایا نہیں دورکعت نمازپڑھی ہے۔اپنے پیر کی محبت کے غلبہ اور انوار نسبت کے ظہور کے سبب سے نواب موصوف کی تمام چیزیں نور ہو گئی تھیں۔

اگر آپ(خواجہ سید نورمحمد بدایونی) دنیا داروں کے گھر سے کوئی کتاب بطور عاریت منگواتے تو تین دن تک اس کا مطالعہ نہ کرتے اور فرماتے تھے کہ ان کی صحبت کی ظلمت مثل غلاف کے اس پر لیٹی رہتی ہے،پھر جب آپ کی صحبت

مبارک کی برکت کی وجہ سے وہ ظلمت دور ہو جاتی تو مطالعہ فرماتے،اسی طرح آپ کے مرید وخلیفہ وجانشین حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید دہلوی قدس سرہ بھی امیروں کے گھر کا کھانا نہیں کھاتے اور فرماتے تھے کہ ان لوگوں کے کھانے کی ظلمت باطنی نسبت کو مکدر کر دیتی ہے اسی وجہ سے کہا گیا ہے‘‘شر الطعام طعام الاغنیا’’(سب سے برا کھانا امیروں کا کھانا ہے) بلکہ غریبوں کی ضیافت قبول کرنے میں بھی تامل کیا کرتے تھے بدیں خیال کہ لوگ بوجہ بے سروسامانی سودی قرضہ لے کر ضیافت کرتے ہیں۔(تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)۔