باب ۳۰ از ۵۴صفحات ۳۶۱–۳۷۱
قابل رشک مالدار
ہاں وہ امیر جو مال و غنا کی وجہ سے نہ کسی دام کا ارتکاب کرے نہ ہی بداخلاقی کا شکار ہو، ارباب حقوق کے حقوق کے ساتھ ساتھ مال و زر کو ہر وقت حق کی راہوں میں خرچ کرنے پر مسلط ہو، ہر موڑ پر حق کی مدد کرتا ہو ایسا مالدار نہایت خوش نصیب ہے، ایسے کو حدیث شریف میں قابل رشک قرار دیا گیا جو مالدار بھی ہو، ہر وقت حق کا مددگار بھی ہو اور تحصیل مال کی وجہ سے کمالات سے محروم نہ رہا ہو ایسے مالدار کا کیا کہنا، مگر طول حساب سے یہ بھی نہیں بچ سکتا ہے۔ چاہے ان فقرا کے مقابل دیگر نیکیوں میں اس کے ہم پلہ اور برابر ہوں۔
تحصیل غنا میں کن امور کا لحاظ ضروری ہے
غرضیکہ ایک درجہ غنا کا یہ
ہے کہ انسان کو بقدر کفاف روزی ملے اور اس کی دنیوی حاجات پوری ہوتی رہیں ۔ رہنے کے لیے مکان، کھان پینا اور روز مرہ کے اخراجات جو سب اعتدال پر مبنی ہوں ، بقدر کفاف روزی جس سے اہل و عیال کی پرورش ہو سکے بحسن نیت بہت ثواب رکھتی ہے۔ اس قدر روزی کے لیے حلال ذرائع اختیار کرنا اور وہ اسی طریقہ پر جو قرآن شریف میں بیان ہوا:
رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ (سورۃالنور: ۲۴؍۳۷)
ترجمہ: وہ مرد جنھیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکات دینے سے۔’’
مختصر یہ کہ اس روزی کے لیے نہ ذکر الٰہی سے غفلت ہوئی اور نہ حرص اور نفس کی لالچ۔ متعدد احادیث میں اشراف نفس کے ساتھ مال حاصل کرنے کی مذمت آئی ہے جو بلا لالچ ملے وہ لے۔
تیسرے،حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ایوبعلیہ السلام غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں برسیں، وہ دامن میں جمع کرنے لگے، غیب سے آواز آئی: کیا ہم نے تمھیں غنی اور بے نیاز نہیں کیا؟ عرض کیا: ہاں، لیکن لا غنیٰ لی عن برکتک (اے اللہ تیری برکت سے کبھی بھی غنا نہیں) معلوم ہوا جب اللہ تعالیٰ دے تو منہ نہ پھیرے کوئی بھی نعمت ہو۔
چوتھے، تکاثر نہ ہو کہ یہ غفلت کا باعث ہے، ارشاد الٰہی ہے:
اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (سورۃالتکاثر: ۱۰۲؍۱،۲)
ترجمہ: تمھیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔’’
پانچویں، تفاخر نہ ہو۔ مذکورہ بالا آیات آپ پڑھ چکے کہ دنیا کی زندگی کھیل کود
زینت اور آپس میں فخر کرنا اور مال و اولاد میں کثرت حاصل کرنے کا نام ہے۔ چھٹے مال کی وجہ سے جو بداخلاقیاں پیدا ہوتی ہیں ان سے بچے جیسے تکبر، غریبوں کو حقارت سے دیکھنا، ریاکاری کے لیے خرچ کرنا، خرچ پہ یا ایسے ہی مدح اور تعظیم کا ہر جگہ خواہاں رہنا، حب دنیا جس سے دیگر تمام بیماریاں بخل وغیرہ پیدا ہوتی ہیں ۔ ساتویں، چاہیے کہ رہنے سہنے کھانے پینے وغیرہ میں اعتدال ملحوظ رہے۔
اسراف: آج مکانات کی تزئین و توسیع اور جائدادوں کی کثرت کا حال ہمارے سامنے ہے۔ مکانات کی تزئین کے بارے میں آپ پڑھ چکے، بڑے بڑے مالداروں کے حالات دیکھیں کہ ان کی تعمیرات میں کس قدر استحکام کی خاطر روپے ہوتے ہیں، پھر ان کی مختلف طرح سے تزئین، پلاسٹر، رنگائی، پتائی، پانی کے نل اورٹوٹیاں، فرش اور لائٹ وغیرہ، غسل خانوں اور بیت الخلا سے لے کررہائش کے خاص کمروں تک، پھر ماکولات میں اللہ اللہ کئی کئی قسم کے کھانے۔ ان میں قیمتی میوہ جات، پھر جس چیز کی خواہش جس وقت ہوئی خواہ وہ کتنے ہی روپے کی ہو، مہیا کی جاتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ یہ بھی اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کی تمھیں خواہش ہو۔ پھر کھانا بھی نہایت تکبرانہ انداز میں ، بربادی اور اسے پھینکنا۔
پھر ایک گاڑی کی ضرورت ہے، کئی کئی گاڑیاں وہ بھی نہایت مہنگی، نرے نرے مکانات، پلاٹوں پر پلاٹ خریدے جا رہا ہے۔ اگر ساری چیزوں میں اعتدال برت کر اللہ تعالی کی اس نعمت مال کی قدر کی ہوتی تو یہی مال حصول ثواب کا ذریعہ بن جاتا، لیکن وہ زینت و تفاخر و تکاثر کا ذریعہ ہے۔ پھر اس سے اوپر محرمات وغیرہ کا ارتکاب۔ غرضیکہ کہاں تک بیان کیا جائے۔ غنا آنے کے بعد اعتدال پر قائم رہنا اور پھر اس کو آخرت کا وسیلہ بنا لینا، حق کی تمام راہوں میں خرچ کرنا یہ دنیاداروں کے بس کی بات نہیں خواہ وہ آج کے زمانے میں کتنے ہی بظاہر دین دار کہلاتے ہوں ان کے حالات سب پر عیاں ہیں۔
دین دار
اس کے برخلاف وہ مبارک لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور محبت میں کامل ہیں اور جاں نثاری کا جذبہ رکھتے ہیں اس دور لادینی اور الحاد میں بھی ایک حد تک اپنے نبیﷺ کی سنتوں کا پاس و لحاظ کرتے ہیں خواہ مالدار ہوں یا نہ ہوں، اسراف و غلو سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ان کے پاس مال و متاع بھی ہے تو بھی اسے جائز طریقے سے حاصل کیا، جائز ہی میں خرچ کرتے ہیں اور جائداد و مکانات یا ماکولات و مشروبات اور ملبوسات وغیرہ میں حد اعتدال پر یک گونہ قائم ہیں، مگر اب ایسے لوگ کم ہیں کہ غنا ہوتے ہوئے بھی مذکورہ بالا امور میں اعتدال پر رہیں۔
چند تنبیہات:
۱۔ پھر یہ بھی دھیان رہے کہ اسراف و غلو وغیرہ ایسے امور ہیں کہ ان میں صرف اغنیا ہی مبتلا نہیں ہیں ، بعض معاملات، بلکہ اکثر میں غیر اغنیا بھی اغنیا کے قدم بہ قدم ہیں۔ دعوتوں میں بے اعتدالیاں دیکھنے میں آتی ہیں، کس قدر کھاتے ہیں اور اچھا اچھا چھانٹ کر کھاتے ہیں، روٹیاں اور بوٹیاں برباد کرتے ہیں۔ آج کے دور میں نئی نئی مصنوعات، بازار میں مصنوعی پلیٹیں، مصنوعی پیالے، مصنوعی گلاس، مصنوعی خلال، مصنوعی دسترخوان وغیرہ ان سب میں نہایت بے جا اخراجات ہوتے ہیں اور استعمال کرنے والے خواہ اغنیا ہوں خواہ غیر اغنیا ایک ایک آدمی کئی کئی استعمال کرتا ہے۔ کھانا وغیرہ ہوس میں زیادہ نکال لیں گے، پھر چھوڑ دیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ وضو وغیرہ میں بہت اسراف۔ آج کے دور میں بجائے لوٹوں اور بدنوں سے عام طور پر نلوں کی ٹوٹیوں سے وضو کرتے ہیں، کھول دیتے ہیں، پانی موٹی دھار سے بہتا رہتا ہے، وہ آرام سے ہاتھ پیر اور دانت ملتے رہتے ہیں، ایک ایک وضو کرنے والا نا معلوم کتنے کتنے لوٹے پانی بہا دیتا ہے۔ چیزیں بہت ہیں ، صرف ناظرین کی توجہ مبذول کرانے کے لیے چند چیزیں ذکر کر دیں۔ اہل علم کو توجہ
دینی چاہیے اور انگریزیت اور فیشن پرستی کے سیلاب کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
۲۔ یہ بھی خیال رہے کہ ہم نے مومنین کی جو تین قسمیں ذکر کی ہیں اور فقرا کو ہر قسم میں اغنیا پر ترجیح دی ہے، یہ اس وقت ہے جب کہ ہر قسم میں امرا اور فقرا کو اعمال اور قرب میں برابر فرض کیا جائے، لیکن اس صورت میں بھی اغنیا اگر اپنی رقومات کو بجائے دنیا کے دین کے لیے استعمال کریں اور دیگر اعمال صالحہ میں بھی فقرا کے مساوی ہوں تو وہ اس خصوصیت میں فقرا پر فضیلت لے جا سکتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث سے ترشح، بلکہ واضح ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ یہ مقام بڑی تفصیل کا طالب ہے، اصل فلاح و کامرانی اور فضیلت کا مدار قرب خداوندی پر ہے، قرب خداوندی جس قدر جس کو حاصل ہے وہ اتنا ہی افضل ہے، اس سے جس پر زیادتی قرب رکھتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بعض اعمال میں فقرا اغنیا پر اور بعض امور میں اغنیا پر فوقیت رکھیں جیسے مال کے ذریعہ حق اور اہل حق کی نصرت و مدد، غریبوں کی دلجوئی، یتیموں کی پرورش، بیواؤں کی امداد، مساجد و مدارس کی تعمیرات وغیرہ اگر حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ ہوں۔ غرضیکہ قطعی یہ فیصلہ کہ کون کس سے افضل ہے، ہر جگہ مشکل ہے۔ بعض اغنیا اور امرا و سلاطین ایسے بھی ہوئے ہیں کہ حکمراں ہو کر، تاج و تخت کے مالک ہو کر بھی اپنے ہاتھوں کی کمائی سے گذر اوقات کر کے فقیرانہ زندگی بسر کر دی، ملکی انتظامات کی ذمہ داریاں رکھتے ہوئے بھی قرب خداوندی کی تحصیل کرتے رہے اور ہر طرح سے نصرت دین اور حمایت مسلمین کا کام انجام دیتے رہے، مگر ایسے اغنیا کا وجود گویا نادر ہے۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ دنیا آنے پر دنیا کے اثرات بد سے متاثر ہو ہی جاتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے۔
۳۔ یہ بھی دھیان میں رکھنے کی چیز ہےکہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں
اغنیا کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے خواہ آپ انبیاعلیہم السلام کو لے لیں یا صحابہ کرام و اولیاے عظام کو، ارباب غنا بہت ہی کم بالکل ہی نادر ملیں گے۔
۴۔ یہ بھی دھیان رہے کہ غنا اور مالداری کبھی جہاں فروغ دین کا سبب بنتی ہےاور قوم ملت کی ترقی کا باعث جس سے صاحب غنا ثواب حاصل کرتا ہے اسی طرح یہ غنا اور مالداری کبھی باطل اور اہل باطل کی اعانت و امداد کا بھی سبب بنتی ہے۔ اگر غنی ارباب حق سے ہے تو حق اور اہل حق کی مدد کرتا ہے اور اہل حق سے نہیں تو وہ باطل اور اہل باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کی امداد و اعانت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اہل سنت اہل حق کے سوا ہر باطل فرقے سے منسلک ارباب غنا کا یہی حال ہے۔ یہ مالداری اور غنا قیامت کے دن بہت مہنگا پڑےگا، بلکہ ارباب غنا ایسے ہوتے ہیں جو سب سے الگ، آزاد خیال، ان کا مذہب و مسلک ہی سب سے بےزاری یا سب کو حق پر حتیّٰ کہ اہل کفر و شرک کو بھی صحیح مانتے ہیں۔ یہ کفر و کافروں اور ان کے عبادت خانوں کی بھی امداد و اعانت ہے، کوئی گریز نہیں کرتے ہیں۔ ارباب غنا کی طرف سے ظلم و زیادتی بھی بہت عام ہے اور گستاخی و بے ادبی بھی۔ یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ارباب غنا کا اوسط جو فرق باطلہ میں ہے وہ اہل حق میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے یوں ہی فقر اور فقرا کی فضیلت بیان نہیں کی اور دنیا اور اہل دنیا کی مذمت بے سبب نہیں فرمائی۔
۵۔ پھر یہ بھی دھیان رہے کہ دنیا کی طرف میلان طبعی ہے اور نفس امّارہ کی خاص خصلت ہے۔ لہٰذا عام طور پر انسان اس میں مبتلا ہے اور اس کا طالب ہے اور اس کی تحصیل کے لیے ہر کوشش، ہر محنت، ہر فریب کرنے کے لیے تیار ہے۔ تو ہمیں غنا یا ارباب غنا کی فضیلت بیان کرنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ اغنیا اور غیر اغنیا کو اس کے مخفی اثرات بد اور گندہ خصلتوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، فقرا کو تسلیوں کی ضرورت ہے اور یہ بتانا کہ یہ تمھارے حق میں کس قدر رحمت
ہےتاکہ وہ اس مصیبت پر صبر کرکے اجر حاصل کرسکیں۔ ارباب غنا کی صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے کہ وہ کس راہ پر چلیں کہ غنا ان پر بوجھ نہ بنے اور قبر و حشر رسوائی یا عذاب و عقاب کا سبب نہ ہو، بلکہ اس کے ذریعہ ابدی راحتیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں بھی سمجھایا جائے کہ یہ تم پر نعمت الٰہیہ ہے، اس کو صحیح استعمال کرو تاکہ یہ دونوں جہان میں رحمت ونعمت ہی رہے، زحمت نہ بنے، اغنیا اگر راہ راست پر رہیں تو خود ان کا اور قوم وملت کا بہت بھلا ہو۔
حقیقت فقر اور اس کی پانچ حالتیں: حضرت امام حجۃ الاسلامرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فقر کا مطلب اس چیز کا نہ ہونا ہے جس کی حاجت ہو، لیکن جس کی حاجت نہ ہو اس کا نہ ہونا فقر نہیں کہلاتا اور اگر وہ چیز جس کی حاجت ہے موجود بھی ہو اور انسان کے بس میں بھی ہو تو وہ فقیر نہیں کہلاتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی موجود ہے وہ فقیر ہے کیوں کہ اسے دوسرے وقت موجود ہونے کی حاجت ہے۔ پس اگر ایسا کوئی وجود موجود ہو جو کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو تو وہ مطلق غنی ہے اور ایسا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے متصور نہیں ہو سکتا ہے۔ پس ایک ہی غنی موجود ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ سب اس کے محتاج ہیں کہ وہ ان کو دائمی وجود میں مدد دے۔ اسی حصر کی طرف اس قول قرآن میں ارشاد ہے:
وَ اللہُ الْغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الْفُقَرَآءُ (سورۃ محمد: ۴۷؍۳۸)
ترجمہ: اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج۔’’
فقر مطلق کے معنی وہی ہیں جو مذکور ہوئے، ہم خصوصی فقر یعنی مال کے اعتبار سے محتاجی کا ذکر کرتے ہیں ورنہ حاجات کے اعتبار سے بندے کے فقر کی انتہا نہیں ہےکیوں کہ حاجات بے شمار ہیں، ان میں بعض حاجتیں وہ ہیں جن تک رسائی مال کے ذریعہ ہوتی ہے، اس وقت اسی کا بیان مطلوب ہے۔ معلوم ہو کہ جس آدمی کے پاس مال نہ ہو اسے اسی مال کی نسبت سے فقیر کہتے ہیں جو اس کے پاس نہیں
ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ اس کا محتاج ہو۔ پھر فقر کے وقت پانچ حالتوں کا تصور ہوتا ہے:
پہلی حالت: یہ سب سے بلند ہے یعنی جب اس کے پاس مال آئے تو اسے ناپسند کرے اور اس سے اذیت محسوس کرے، قبول کرنے سے بھاگےاس کے شر اور میں مشغولیت سے بچے،یہ زہد ہے ہے اور ایسے شخص کو زاہد کہتے ہیں۔
دوسری حالت: مال میں ایسی رغبت نہ ہو کہ اس کے ملنے پر خوش ہو اور نہ اس طرح ناپسند کرتا ہو کہ اس سے اذیت حاصل ہو یا اگر حاصل ہو تو چھوڑدے، ایسے حالت والے کو راضی کہتے ہیں۔
تیسری حالت: مال کے نہ ہونے مقابل میں اس کا پایا جانااسے پسند ہو کیوں کہ وہ اس میں رغبت رکھتا ہے، لیکن اس کی محبت اس حد تک نہیں کہ اس کی طلب میں سرگرمی دکھائے، بلکہ اگر آسانی سے بلا محنت مل جائے تو خوش ہوتا ہے اور اگر تحصیل مال میں محنت کرنا پڑے تو اس میں مشغول نہیں ہوتا، ایسے شخص کو قانع یعنی صبر کرنے والا کہتے ہیں کیوں کہ اس نے موجود پر قناعت کی۔
چوتھی حالت: عاجزی کی وجہ سے مال کی طلب چھوڑدے، لیکن وہ اس میں ایسی رغبت رکھتا ہے کہ اگر اس کی طلب تک راستہ ملے اگرچہ تھکاوٹ کے ساتھ ہو تو وہ اسے طلب کرے یا اس کی طلب میں مشغول ہو تو ایسی حالت والے کو حریص کہتے ہیں۔
پانچویں حالت: اس کے پاس جو مال نہیں ہے وہ اس کی طرف مجبور ہو جیسے بھوکا شخص جس کے پاس روٹی نہ ہو اور برہنہ جس کے پاس کپڑا نہ ہو ایسے شخص کو مضطر (مجبور) کہتے ہیں چاہے مال کی رغبت ضعیف ہو یا قوی۔ یہ حالت رغبت سے بہت کم جدا ہوتی ہے۔
خیال رہے ان پانچ حالتوں میں سب سے اعلیٰ زہد ہے اور اگر اضطرار کے ساتھ
زہد بھی ہو اور اس کا تصور ہو سکے تو یہ زہد کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ ان پانچ سے بھی اوپر ایک حالت ہے جو زہد سے بھی اعلیٰ ہے یعنی انسان کے پاس مال کا ہونا نہ ہونا برابر ہو، اگر مال مل جائے تو وہ خوش نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے اذیت پہنچتی ہے اور اگر مال نہ ملے تو بھی یہی صورت حال ہوتی ہے، بلکہ اس کی حالت حضرت عائشہرضی اللہ عنہا کی حالت کی طرح ہوتی ہے۔
ان کے پاس ایک لاکھ درہم بطور عطیہ آئے تو آپ نے لے لیے اور اسی دن تقسیم کر دیے، خادمہ نے عرض کیا: اگر آج کے دن درہموں سے ایک درہم کا گوشت لے لیتیں تو اس سے روزہ افطار کر لیتے، آپ نے فرمایا: اگر تم پہلے یاد دلاتیں تو میں ایسا ہی کرتی۔’’
جس شخص کی یہ حالت ہو اگر تمام دنیا اس کے قبضے اور خزانے میں ہو تو بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، ایسا شخص سب کچھ اللہ کے خزانے میں جانتا ہے، اپنے قبضے میں نہیں، ایسی حالت والے کو مستغنی کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں کہ وہ مال کے ہونے نہ ہونے دونوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔ (ماخوذ)
حضرت امام کا یہ کلام ان لوگوں کو باربار پڑھنا چاہیے جو ان اولیاے کرام کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر جاتے ہیں جن کے پاس بظاہر مال بہت تھا۔ ان بزرگوں کی اگر ایسے لوگ سیرت پڑھتے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ وہ اسی حالت پر تھے جسے حضرت امام زہد سے بھی اعلیٰ قرار دے رہے ہیں۔
حضرت زکریا ملتانی
مثال کے طور پر حضرت غوث العالم خواجہ بہاء الدین زکریا ملتانی سر حلقہ مشائخ سہروردیہ کا حال پڑھیں تو شاہانہ ٹھاٹھ ملیں گے، مگر حال یہ تھا کہ سید کمال الدین شیرازی بہت متمول تاجر تھے، جواہرات تجارت کرتے تھے اور آپ کے مرید تھے، ایک دن بہت سا زر و جواہرات لے کر عدن سے جہاز میں سوار ہوئے، کچھ دور پہنچ کر جہاز گرداب میں پھنس گیا، انھوں نے پکارا ‘‘یا
شیخ مدد کیجیے’’ سب نے حضرت زکریا قدس سرہ کو دیکھا کہ سامنے سے آرہے ہیں، طوفان تھم گیا اور آپ غائب ہو گئے، سورت پہنچ کر جہاز کے تمام سوداگروں نےشیخ فخر الدین گیلانی کے ہاتھ سات لاکھ اشرفیاں بطور نذرانہ روانہ کیں، گیلانی صاحب نے کبھی آپ کو دیکھا نہ تھا، مگر سامنے پہنچتے ہی پہچان لیا کیوں کہ طوفان کے وقت آپ ہی کو کشتی میں آتے دیکھا تھا، مخدوم صاحب نے نذرانہ قبول کرکے ان کے سامنے ہی اسی وقت سب کا سب راہ خدا میں لٹا دیا، گیلانی صاحب بذات خود کافی بڑے تاجر تھے، حضرت کی یہ سخاوت و کرامت دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ سارا زر و جواہر لٹا کر آپ کے مرید ہو گئے اور مرتبہ کمال کو پہنچے۔
سہروردیوں کے یہاں کمال
حالات سے پتا چلتا ہے کہ ان سہروردی بزرگوں کے یہاں معیار متشرع زندگی تھی، وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہر معاملے میں نبی کونینﷺ کی کمال اتباع کی جائے، ترک اسباب دنیا یا ترک دنیا یا ترک دولت ان کے یہاں ضروری نہ تھا، ان کا خیال تھا کہ تمام لذائذ و نفائس اور دنیوی اسباب ہوتے ہوئے یاد خدا اور اتباع سنت سے غفلت نہ برتی جائے، ان کےدل صرف اللہ جل و علا اور اس کے رسولﷺ کی محبت سے لبریز تھے، کسی غیر کی گنجائش نہ تھی، یہ دنیا کو بھی دین کے لیے استعمال کرتے تھے، بظاہر تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دنیا ان کے یہاں ہوتی تھی، مگر کبھی ان کی طرف التفات و توجہ نہ تھی، وہ اس کی محبت، اس کی آلائشوں سے بالکل پاک تھے۔ سچ یہ ہے کہ انھوں نے ہمیں اس کے استعمال کا صحیح طریقہ بتایا۔
مدرسہ یا یونیورسٹی
حضرت غوث العالم قدس سرہ ہیں کہ آپ نے ملتان شریف میں عظیم الشان رفیع المنزلت مدرسہ بنایا، خانقاہ بنائی، وسیع و عریض لنگر خانہ تعمیر فرمایا، پرشکوہ مجلس خانہ اور خوب صورت اور عالی شان محل سرائیں اور مساجد تعمیر فرمائیں۔ آپ کا مدرسہ اتنا بڑا تھا کہ اس وقت وہ ملتان کی سب سے بڑی
یونیورسٹی تھا۔ جملہ علوم منقولات کی تعلیم ہوتی تھی۔ بڑے بڑے محقق یکتائے زمانہ مدرس و معلم تھے۔ تفسیر و حدیث اور فقہ کی اعلیٰ تعلیم ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ادب و انشا، منطق و فلسفہ اور ریاضی و ہیئت تک کی تعلیم دی جاتی تھی۔ آپ خود اس کے صدر المدرسین تھے۔ نہ صرف ہندوستان، بلکہ بلاد ایشیا، عراق، شام اور حجاز تک کے طلبہ زیر تعلیم تھے اور طلبہ کی اس قدر کثرت تھی کہ ہندوستان میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کئی ہزار طلبہ کو نہ صرف آپ کے لنگر خانے سے کھانا ملتا ، بلکہ تعلیم سے متعلقہ جملہ امور کی بھیک آپ کے ہی در سے ملتی تھی۔ اس زمانے کی اس ملتان یونیورسٹی سے بڑے بڑے نامور علما و فضلا پیدا ہوئے۔ ایک اکیلے کے دم پر اتنا بڑا جامعہ و ادارہ چلانا آپ ہی کے سر تھا۔ اس کی نہ کوئی کمیٹی تھی نہ وصولیابی کرنے والے اور چندہ لانے افراد تھے۔