باب ۴۴ از ۵۴صفحات ۵۳۲–۵۴۳
آدمیوں کے اقسام
آدمی تین طرح کے ہوتے ہیں (۱)مفید جو دوسروں کو علمی اور عملی فائدہ پہنچا سکتا ہے (۲)مستفید جو ابھی تعلیم و تربیت میں استفادہ کا محتاج ہے (۳)منفرد جو خود ضروری تعلیم وتربیت سے آراستہ ہے اور دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے اوّل دو قسم کے لوگوں کے لیے خلوت ناجائز ہے ۔تیسرے کے لیے جائز ہے ۔
خیال رہے کہ انسان کو علم ظاہر کی بھی ضرورت ہے اور باطن کی بھی امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف بے افراط کو فرض عین لکھا یعنی ہرمسلمان مرد و عورت عاقل و بالغ پر فرض ہے یہ صرف اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی ہی بات نہیں بلکہ عام علما ومحققین نے بھی اسے فرض و لازم قرار دیا ہے اب جو شخص ان علوم سے
لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے لوگ اس کے محتاج ہیں اس معاملہ میں اس شہر اور دیا رمیں فائدہ پہنچانے والا ہے نہیں لہذا ایسا شخص خلوت اختیار کر کے خود بھی ثواب سے محروم رہے گا اور دوسروں کا تو بہت بڑا خسارہ ہوگا۔اسی طرح جوابھی استفادہ کے مرحلے میں ہے اس کا بھی حال ہے خاص کر آج کے دور میں جہالت غالب ہے جو اہل علم کہلاتے ہیں اور مدارس سے عالمیت و فضیلت کے اسناد کی ڈگریاں لے کر نکل رہے ہیں ان کا بھی حال عجیب ہے ضروری عقائد و اعمال سے واقف نہیں فرائض و واجبات نہیں جانتے اور سنن و مستحبات تو بڑی چیزیں ہیں غرض کہ اس قدر انحطاط کا دور ہے کہ بیان سے باہر ہے ۔
علوم باطن کے حاملین جو تصوف و سلوک سے واقف ہیں اور منازل و مراحل سلوک طے کرا سکتے ہیں وہ بھی عنقا ہیں پھر جن کو علم ظاہر ہے بھی اور وہ لیا قت رکھتے ہیں تو اکثر غیر تربیت یافتہ اور عمل کے میدان میں بے پناہ کمزور ہیں نمازوں کی پابندی نہیں اکثر دنیا داری میں ا شتغال رکھتے ہیں اس کے باوجود دوسروں کی تعلیم و تربیت کی کوئی فکر نہیں پہلے کے علما تھے کہ ان کی مجالس میں بیٹھنے والے اور ان کی زبان سے زبان سے مسائل سن سن کر اہل علم ہوجاتے تھے ان علما کی مجالس علم و ہدایت پر ہوتی تھیں انھیں عوام اور خواص دونوں کی فکر تھی جب کہ اس دور میں صحیح تعلیم و تعلم اور تربیت کی بے پناہ ضرور ت ہے اہل باطل شہر شہر قریہ قریہ گھوم رہے ہیں حق سے پھیر رہے ہیں جہالتوں سے خوب فائدے اٹھارہے ہیں۔
عوام ہے کہ علما سے ان کی دلچسپیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں ان کے اگر کچھ روابط بھی ہیں ، مجالس علما میں آنا جانا بھی تو اپنی دنیوی مفادات کے لیے مثلا تعویذات وغیرہ کے لیے علما ہیں کہ عوام کی ضرورتوں کے بھی فائدے نہیں اٹھا پا رہے ہیں کہ اسی کے ذریعہ انھیں نصیحت کریں بلکہ ایک طرح کے خدمات انجام دینے والے ان چیزوں کو تحصیل مال و زر کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں جو یہ کام کر بھی رہے
ہیں ان کا اوسط بہت کم ہے لہذا گذارش ہے کہ جو علم و عمل کا فائدہ پہنچا کر عقائدو اعمال کی اصلاح کا کام کر سکتے ہیں وہ خدا کے واسطے خود کو معاف نہ رکھیں بلکہ زیادہ دھیان دیں اور آج کے علما و مشائخ کو بھی اس کام کی رغبت دلائیں اور عوام کو بھی ترغیب دیں ۔ہاں تربیت کرنے والوں سے عرض ہے کہ وہ ایسے پختہ اور با عمل تقوی و طہارت کے دھنی افراد تیا ر کریں جن میں اپنا اثر ڈالنے کی بھر پور صلاحیت ہو اور وہ دوسروں کا اثر جلد قبول نہ کریں ۔وہ دنیا داروں کی بلڈنگیں، آرائشیں اور راحتوں کو دیکھ کر متاثر نہ ہوں انھیں اپنی آنکھوں کانوں اور زبانوں پر بھر پور قابو ہو دل بھی مضبوط ہواور کاش ذکر و فکر اور روحانیت کے حامل ہوں تو کیا کہنا ایسے افراد بغیر تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس بہت مشکل ہے کہ تیار ہوسکیں ۔بہر حال ایسے مفید اور مستقیم حضرات کے لیے خلوت کسی طرح مناسب نہیں جو لوگ آخر ت کے خواہاں ہوں انھیں بھی چاہیے کہ لائق افراد چنیں علما اور مشائخ میں انھیں کی صحبت اختیار کریں جن سے آخرت مل سکتی ہو ، علم و عمل کی برکتیں حاصل ہوسکتی ہوں اور تصوف و روحانیت کا نور میسر آسکتا ہو۔
۲۔اختلاط کا دوسرا فائدہ نفع پہچانا اور نفع حاصل کرنا ہے مال کمانا نہیں دین وغیرہ اختلاط سے تعلق رکھتا ہے اب اگر وہ شریعت کے مطابق چلے تو میل جول میں کافی تکلیف اٹھانا پڑے گی اگر اس کے پاس مال ہو اور اس پر صبر کر کے کفایت کر سکتاہو تو اس کے لیے تنہائی افضل ہے کیوں کہ عام طور پر تجارت کے راستے شریعت کی نا فرمانی کے بغیر بندہوتے ہیں اور اگر اس کا مقصد یہ ہو کہ مال کما کر صدقہ کرے گا اور پھر حلال طریقے پر کماے اور صدقہ کرے تو یہ اس خلوت سے افضل ہے جو نفلی عباد ت کے لیے ہو ۔لیکن جب خلوت معرفت الہی کے لیے اور علوم شرعیہ کی پہچان کے سلسلے میں ہو تو کسب افضل نہیں اسی طرح جب خلوت کا مقصد اللہ کی طرف توجہ اور ذکر و فکر کے لیے علیحدگی اختیار کی جائے تاکہ
کشف و بصیرت حاصل ہو محض وہم اور خیالات فاسدہ نہ ہوں تو خلوت افضل ہے۔
جہاں تک لوگوں کو نفع پہنچانے کا تعلق ہے تو یہ نفع رسانی مال سے ہوگی یا ذکر سے تو ظاہر ہے کہ کسی اجرت کے بغیر اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کی حاجتوں کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے اور یہ اختلاط ہی سے ہو سکتا ہے جو شخص حدود شریعت کی پابندی کے ساتھ ایسا کر سکے تو یہ تنہائی اور خلوت سے افضل ہے جب کہ خلوت نوافل میں مشغولیت کے لیے ہو اور بدنی عبادت تک ہی محدو دہو اور اگر وہ ایسا شخص ہو جس کے لیے دائمی ذکر و فکر سے قلبی عمل کا دروازہ کھلتا ہو تو کوئی دوسرا عمل اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔
۳۔ تیسرا فائدہ ادب حاصل کرنا اور دوسروں کو ادب سکھانا اس سے مراد ہےکہ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں اورتکلیفوں کو نفس برداشت کرنے کے قابل ہو دل سے نفس کو یوں کچل دے کہ خواہشات مٹ جائیں اور تکالیف برداشت کی جاس کیں یہ اختلاط کے فائدوں سے ہے لیکن یہ اس کے حق میں ہے جو ابھی تک اپنے اخلاق کو مہذب نہیں کرسکا اور خواہشات حدود شرع کے تابع نہیں ہوئیں اسی لیے خانقاہوں میں صوفیا کی خدمت کرنا مستحب ہے تاکہ نفس کی سر کشی ٹوٹ جائے اور صوفیہ کرام کی برکت سے مدد حاصل ہو اگر اس سے ریاضت نفس منظور ہو تو یہ خلوت سے بہتر ہے جب تک ریاضت نفس حاصل نہ ہو۔
۴۔لوگوں سے مانوس ہونا اور انھیں مانوس کرنا۔ ولیموں اور دعوتوں میں حاضری کا مقصد یہی ہوتا ہے اسی طرح دیگرمقامات جہاں میل جول اور انس ہوتا ہے اس کا فوری فائدہ لذت نفسانی کا وجود اور بعض اوقات یہ حرام طریقہ پر ہوتی ہے اور بعض اوقات دینی مقاصد کا یہ اختلاط مستحب ہو تا ہے جیسے کسی شخص کے دینی حالات اور اقوال کے مشاہدہ سے انس حاصل کرنا بعض اوقات اس کا تعلق خواہشات نفسانیہ کی تکمیل ہوتی ہے لیکن دل کو آرام پہنچانا ہو تو یہ مستحب ہے کیوں
کہ عبادت میں دلچسپی کے اسباب ابھریں اور بعض اوقات تنہائی میں وحشت ہوتی ہے اور مجلسوں کے ذریعہ وہ انس حاصل کرتا ہے جو دلوں کو آرام پہنچاتا ہے اور یہ زیادہ بہتر ہے کیوں کہ عبادت میں نرمی برتنا احتیاط عبادت سے ہے ۔
(5)ثواب حاصل كرنا اور دوسروں کے لیے ثواب کا باعث بننا، جہاں تک ثواب کا تعلق ہے تو جنازوں میں حاضری ،بیماروں کی عیادت،نماز جمعہ اور یومیہ مانچوں نمازوں میں شامل ہونے سے ملتا ہے۔
(۶)اختلاط میں چونکہ ایک بڑا فائدہ تواضع اختیار کرنا ہوتا ہے اور یہ بہترین مرتبہ ہے جو خلوت سے حاصل نہیں ہوتا ہے اسی طرح کبھی اختلاط تجربات کی تحصیل کے لیے بہتر ہوتا ہے کیوں کہ تجربات میل جول ہی سے حاصل ہوتے ہیں،کیوں کہ لوگوں سے ملاقاتیں رہیں،حالات دیکھے جائیں تو تجربات بڑھتے ہیں،خیال رہے کہ دین ودنیا کی مصلحتوں کو سمجھنے کے لیے صرف عقل طبعی ہی کافی نہیں بلکہ تجربات اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے،جو شخص اچھا تجربہ کار نہ ہو اس کی گوشہ نشینی میں کوئی بھلائی نہیں،اگر بچہ خلوت اختیار کرلے تو وہ ناتجربہ کار اور جاہل رہے گا ،بلکہ اسے تحصیل علم کرنا چاہیے اس عرصہ میں ضروری تجربات حاصل ہوں گے اور اس کے لیے یہ کافی ہے،پھر حالات سننے سے باقی تجربات ہوجائیں گے،پھر اختلاط کی ضرورت نہیں رہے گی۔
سب سے اہم تجربہ یہ ہے کہ اپنے نفس،اخلاق اور باطنی صفات کا تجربہ کرتا رہے،ہر وہ شخص جو غصہ کرتا ہےیا کینہ پرور یا حاسد ہے جب وہ تنہائی میں ہوتا ہے تو اس سے خباثت ظاہر نہیں ہوتی ہے اور یہ مہلک عادت نہیں رہتی جس کا ختم کرنا ضروری ہے،اہل سلوک جو دلوں کی صفائی اور پاکی چاہتے تھے وہ اپنے نفوس کا تجربہ کرتے تھے اور جو شخص اپنے دل میں تکبر کا بو پاتا تھا تو اسے مٹانے کی کوشش کرتا حتیٰ کہ بعض بزرگ لوگوں کے سامنے پانی کا مشکیزہ اٹھاتے یا پیٹھ
پر لکڑیوں کا گٹھر اٹھاکر بازاروں میں آتے جاتےتاکہ اپنے نفس کا تجربہ کریں کیوں کہ نفس کی خرابیاں اور شیطان کی مکاریاں پوشیدہ اور مخفی ہوتی ہیں جنھیں بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں اسی لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ میں نے تیس سال کی نمازوں کو لوٹایا ہے حالانکہ میں پہلی صف میں نماز پڑھتا تھا لیکن ایک دن کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہوگئی اور دوسری صف میں کھڑا ہوگیا تو میں نے محسوس کیا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں جس سے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے اس سے مجھے اپنی ریا کاری سمجھ میں آئی۔
فائدہ:فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ اب خانقاہی نظام قریب قریب ختم ہوگیا ہے اگرچہ نام کی خانقاہیں باقی ہیں اور خانقاہوں کے نام پر مشائخ زمانہ کے یہاں عمارتیں بھی تعمیر ہورہی ہیں، اب عام طور پر نہ سلوک وتسلیک ہے اور نہ ہی ذکروفکر کے ذریعہ منازل ومراحل طے کرانا اس لیے معروف خلوتیں بھی ختم ہوگئیں،مذکورہ بالا ارکان اربعہ کی قدرے تفصیل سے آج کے ذاکرین کو بھی درس ملتا ہے کہ وہ ان کی روشنی میں اپنا نظام زندگی مقررکرسکتے ہیں،نیز جو لوگ بھی دیندار بننا چاہیں اور آج کے مصروفیت کے دور میں اختلاط کے باوجود خود کو سنبھالنا چاہیں اور میل جول کے باوجوداپنے اوقات شب وروز دین کے ساتھ گذارنا چاہیں تو وہ اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں اور اختلاط کے پورے پورے فائدے اٹھا سکتے ہیں،نیز آج بھی جو لوگ ذکروفکر سے شغف رکھتے ہیں اور حسن اتفاق سے انھیں شیخ کامل یا اس دور میں کچھ روحانیت کا حامل شیخ ناقص ہی مل جائے تو وہ استفادہ کی منزل میں مذکورہ خلوت اختیارکرکے خلوت کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں،خلوت بایں معنیٰ کہ صرف شیخ اور اس کے بتائے ہوئےاشغال واوراد سے تعلق رکھیں اور جو خلوت کا صحیح طریقہ ہے اس پر عامل رہیں تو یہ خلوت روحانی ترقی کے لیے کافی مفید ہو سکتی ہے۔
نقش بندی بزرگوں کا طریقہ خلوت
یہ بھی یاد رہے کہ نقشبندی بزرگوں نے اس معروف خلوت کے بجائے خلوت درانجمن اختیار کی یعنی باطن کو حق کے ساتھ رکھے اورظاہر میں خلق کے ساتھ رہے،باطن ہمیشہ ذکرحق میں مشغول رہے، حضرت سیدنا شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ خلوت میں شہرت ہے اور شہرت میں کمزور آدمی نفس کو سنبھال نہیں سکتا ہے،نفس کی چالیں بہت باریک ہوتی ہیں،نیز انھوں نےخود کو پوشیدہ رکھنے کی بڑی لائق تدبیریں اختیار کیں وہ جنگلوں اور بیابانوں میں نہیں گیے بلکہ قوم میں رہ کر ایسے نیک اور فلاح عام کے طریقے اختیار کیے جن کی وجہ سے لوگ ان کی درویشی وفقیری اور ولایت وبزرگی سے آگاہ نہیں ہوپاتے تھے مثلا بچوں اور طلبا کی تعلیم وتدریس۔
حضرت خواجہ محمد درویش رحمۃ اللہ علیہ کی شہرت کا سبب بیان کرتے ہوئے ان کے فرزند وجانشین حضرت خواجہ امکنگی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ایک روز آپ کے روبرو ایک درویش نے شیخ نورالدین خوانی قدس سرہ کے کمالات کا ذکر کیا ،حضرت والا نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا: اے فرزند! شیخ بہت بزرگ معلوم ہوتے ہیں ان حدود سے گذر ہوگا تو ملاقات کروں گا ،اتفاق سے شیخ مذکور چند روزکے بعد امکنہ تشریف لائے،آپ نے خبر سنی فرمایا کہ آج دہی اور ملائی زیادہ تیار کروکل انشاء اللہ ہم شیخ کی ملاقات کے لیے جائیں گے،دوسرے دن جب ملاقات کے لیے ان کے یہاں پہنچے تو شیخ مذکور اس وقت ٹوپی اور کرتہ پہنے ہوئے بہ تکلف بیٹھے ہوئے تھے ،آپ کو دیکھ کر اٹھے اور سخت معانقہ کیا اور بڑی دیر تک بغل گیر رہے پھر اپنی دستار وجبہ منگا کر پہنا اور باادب دوزانو مراقب ہو کر بیٹھ گئے،آپ ان کے مراقبے تک بیٹھے رہے پھر جانے کی اجازت چاہی،شیخ مذکور نے چند قدم چل کر آپ کو رخصت کیا اس کے بعد شیخ مذکور مراقب رہے اور لوگوں سے پوچھا کہ ان بزرگ کے پاس طالبان طریقت کی بڑی آمدورفت ہوگی ؟لوگوں نے
کہاکہ یہ تو کوئی شیخ نہیں ہیں بلکہ ایک ملا ہیں اور قرآن کی تعلیم دینے میں مصروف رہتے ہیں،یہ سن کر شیخ نورالدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہاں کے لوگ عجیب نابینا اور مردہ دل لوگ ہیں ایسے درویش کامل ومکمل سے فائدہ وفیض حاصل نہیں کرتے۔ (ماخوذاز حضرات القدس جلداول)
خود کوچھپانے کا یہ طریقہ تدریس وتعلیم صرف آپ ہی کا نہیں رہا بلکہ اکثر بزرگوں کا یہی عمل رہا،خود حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ اور ان کے بعد ان کے نسبی وروحانی فرزندوں کا بھی یہی شغل رہا وہ اپنی خانقاہوں میں علوم ظاہر اور باطن دونوں کی تعلیم وتربیت دیتے تھے اور نہایت اہم اہم کتب درسیہ اور کتب تصوف اہل سلوک کو پڑھاتے تھے،سیرت واخلاق نبوی علی ٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کا درس ومطالعہ لازم کرتے اور تحریر وتقریر اور اپنے افعال واعمال اور کردار کے ذریعہ بھی سنن سکھاتے اور عمل کی ترغیب دیتے،خلاف سنت کام ہرگز برداشت نہ کرتے اس طرح تعمیر ظاہر وباطن اور علوم دینیہ کی نشرواشاعت اور اتباع سنت کا کام کرتے اور تاکید فرماتے کہ درس حدیث سے نسبت پختہ ہوتی ہے۔
طالبان خدا کی تعلیم وتربیت
چناں چہ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ نے اپنے مکتوبات میں جابجا اس کی تاکید وتنبیہ فرمائی ہے وہ آنے والے طالبان خدا كو كسي درسگاہ میں بھیجنے کے بجائے خود درس دیتے اور ان کی استعداد کے مطابق علوم ظاہر میں بھی حد کمال تک پہنچاتے ساتھ میں پہلے بزرگوں کی معتبر کتب تصوف کا درس دیتے اور اپنے لطائف وحقائق سے بھی آراستہ کرتے اور مختلف فیہ مسائل نہایت دقیق تحقیق سے سمجھاتے اور قلب وذہن میں اتارتے، صوفیہ کرام کے اقوال کی بہترین توجیہ کرتے اور شطحیات صوفیہ کے اسباب بیان کرکے ان کے صحیح محامل بتاتے اور جہاں انھیں علمی یا کشفی طور پر اختلاف ہوتا تو ان بزرگوں کے حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے اختلافات اور اپنی تحقیقات وشہودات سے بھی افادہ کرتے۔
سبحان اللہ ! ان کی تحریریں دیکھنے سے نصیحت حاصل ہو تی ہے وہ اپنے اعلیٰ کشف وشہود کی بنیاد پر ان بزرگوں کے مراتب سے واقف ہوتے تھے اور ان سے اختلاف کی صورت میں بھی ان کے باطنی مراتب سے آگاہ کرتے تاکہ ان کے خلاف تحقیق اقوال کی وجہ سے ان کی باطنی عظمت سامع کے ذہن سے نہ نکلنے پائے اور سننے والے کے دل میں ان کی بلندی شان برقرار رہے اور وہ ان کا ادب ملحوظ رکھے،اس معاملے میں ذرہ برابر نفس کو دخل نہ ہوتا،نفس کی باریک چالوں سے ہمیشہ ہوشیار رہتے ،صوفیہ کے معاملے میں انھوں نے آج کے علما کی طرح یہ نہیں دیکھا کہ کون ہمارا رشتہ دار ہے یا باپ ہے یاسلسلے کا ہے بلکہ ان تمام رشتوں سے بالاتر ہوکر ہر ایک کا قرب وفضل دیکھا ۔
آج ہم بڑے بڑے علماومشائخ کو دیکھتے ہیں کہ انھوں نے مذکورہ رشتوں کے اعتبار سے جسے اپنا سمجھا اس کی تعریف میں حد سے زیادہ مبالغہ سے کام لیا اور جسے اپنا نہیں سمجھا اس کی تمام عظمتوں کے باوجود بوقت ضرورت سرسری طور پر ذکر کردیا یہ آج کی نہیں بلکہ کافی پہلے کی روش ہے جو آج نقطہ آخر کو پہنچ گئی ہے اس سے کوئی معمولی خسارہ نہیں ہوا بلکہ اس کے نتائج آج سامنے ہیں ان کے متبعین میں بھی یہی روش پروان چڑھی ،دوسروں کو شکایتوں کے موقعے ملے اور وہ دور ہوتے چلے گئے،اس سے ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ آج ایک حلقہ والا دوسرے ھلقہ کے علم وفضل کے استفادہ سے محروم ہوگیا ۔
اب تو لوگوں نے بزرگوں کو بھی بانٹ لیا ہے کہ وہ فلاں کے ہیں اور وہ فلاں کے ہیں،آج کے علما کے اختلافات کا بھی یہی نتیجہ نکل رہا ہے کہ ایک کے معتقدین دوسرے کی کسی خوبی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں استفادہ علمی تو بڑی چیز ہے۔
علم ظاہر کا اہتمام
حضرت مجدد قدس سرہ علوم وفنون میں درجہ اجتہاد پر فائز
تھے ،علم کلام کے سلسلے میں تو حضور ﷺنے انھیں مجتہد فرمایا تھا،آپ نے اپنے فرزندوں کو بھی علوم وفنون میں حد کمال تک پہنچایا،حضرت علامہ بدرالدین سرہندی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرزنداکبر کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ حضرت مخدوم زادہ علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع تھے اور اکثر علوم حضرت مجدد ہی سے حاصل کیے تھے،عربی علوم میں کچھ مولانا طاہرلاہوری اور علوم حکمت میں کچھ مولانا معصوم کابلی سے حاصل کیےتھے اور اٹھارہ سال کی عمر میں تمام علوم ظاہری سے فارغ ہوچکے تھے بلکہ تمام علوم متداولہ بہت متانت اور گہرائی سے پڑھانے لگے تھے،اس حقیر نے مطول مع حاشیہ میر اور شرح عقائد مع حاشیہ خیالی ،تحریراقلیدس اور شرح مطالع مع حاشیہ میر حضرت مجددقدس سرہ اور مخدوم زادوں کی خدمت میں پڑھیں اور حضرت مخدوم زادہ کے انتقال (1025ھ) کے بعد شرح مواقف، تفسیر بیضاوی اور حاشیہ عضدی حضرت مجدد سے پڑھی ہیں،وہ مخدوم زادہ تشریح میں بہت دور تک جاتے تھے اور مختلف مطالب بیان کرتے تھے اور اپنی سلیم اور نکتہ رس طبیعت سے بڑی باریکیاں پیدا کرتے تھے اور کبھی کتابوں پر حاشیہ بھی تحریر فرماتے تھے۔
ایک دن ایک بہت بڑا عالم شیراز سے ہندوستان آیاوہ معقولات میں اپنی نظیر نہ رکھتا تھا اس سے آپ نے علوم عقلیہ کے دقائق میں سے چند مشکلات کا ذکر کیا وہ بہت متاثر ہوا اور آپ کی بڑی تعریف کی اور کہا کہ مجھے یہ گمان نہ تھا کہ ہندوستان میں کوئی عالم ایسا ہے جو علوم عقلیہ کے ادراک کی اس قدرصلاحیت رکھتا ہو اور پھر اس کی لاجواب بحثوں میں اس قدر ندرت اور مہارت رکھتا ہو لیکن جب میں نے اس جوان کو دیکھا تو مجھے یقین آیا کہ اس ملک میں ایسے فضلا موجود ہیں۔ اس قسم کی کثیر شہادتیں فقیرمجددی کی کتاب‘‘تذکرہ مشائخ مجددیہ’’ میں ملیں گی،غرضیکہ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صلاح وفلاح کا راستہ اختیار کریں اور ظاہروباطن کی تکمیل کرنا
چاہیں تو ایسے بہت طریقے ہیں کہ نفس کی بہت سی آفتوں سے بچ کر خلق میں رہ کر خود کو اور دوسروں کو نفع پہنچا سکتے ہیں شرط وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ خود کو اتنا پختہ کرلے کہ دنیا اور دنیا والوں کی کسی برائی سے متاثر نہ ہو بلکہ اپنا نیک اثر لوگوں پر چھوڑے۔
مداومت کے ساتھ علوم دینیہ کی تعلیم وتدریس بہترین شغل ہے اور اس کے ذریعہ نہایت باصلاحیت ،صالح داعی ومبلغ اور علما ومشائخ تیار کیے جا سکتے ہیں جس کے ذریعہ اسلام وسنیت کی ترویج واشاعت اور بقا وتحفظ کا بڑا کام کیا جا سکتا ہے،یہ تجربہ گواہ ہے کہ علوم وفنون کے حاملین اگر تقویٰ وپر ہیزگاری سے آراستہ ہو کر ارشاد وہدایت کا کام کریں تو خود ان کا بھی بھلا ہوگا ،سنیت کا بھی اور قوم کا بھی ،بغیر علم کے آج کے دور میں مشیخت کوئی خاص اثر اور اعتماد پیدا نہیں کرپائی ہے کیوں کہ روحانیت ہے نہیں جو کشش کا باعث ہو۔
اہل سلوک کے لیے خلوت کی وہ نوع بھی بہت مفید ہے جسے حدیث شریف میں اس امت کی رہبانیت قراردیا گیا ہے یعنی جلوس فی المساجد،حدیث شریف میں حکم دیا گیا ہے کہ ہم جماعت سے پہلے مسجدوں میں جائیں اور نمازوں سے فراغت کے بعد بھی ٹھہرے رہیں نیز نماز فجر سے اشراق تک ،عصر سے مغرب تک ذکر وفکر کے ساتھ بیٹھنا، یہ سب نبی کریم ﷺکی پسندیدہ سنتیں ہیں اس طرح آدمی ان فتنوں سے بھی بچ سکتا ہے جو سڑکوں پر نکلنے اور راہوں پر چلنے سے پیدا ہوتے ہیں،آنکھ کان کی حفاظت اور ذکروفکر میں یکسوئی حاصل کرنے کا نہایت کامیاب طریقہ ہے استفادہ کرنے والے اس کے ذریعہ ظاہروباطن کا استفادہ کرسکتے ہیں اور افادہ یعنی فائدہ پہنچانے والے فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ایسی خلوتیں بھی ضروری ہیں جن کے ذریعہ گناہوں سے بچا جائے جس میں آنکھ ،کان اور دل کی حفاظت ہو قصدا کسی غیر کا خیال دل میں نہ لائے
اگرآجائے تو ذکر میں مشغول ہوکر یا ان طریقوں پر عمل کرکے جو بزرگوں نے ارشاد فرمائے ہیں خیالات دفع کرے۔
اختلاط میں اگرچہ بہت فائدے ہیں جیسا کہ آپ نے پڑھا مگر نقصانات بھی ہیں ، ہرآدمی خود کو گناہوں سے نہیں بچا سکتا ہے،اختلاط میں تقلیل کلام بھی مشکل ہے اکثر فضول باتیں ہوجاتی ہیں،یہ بڑے لوگوں کے معاملات ہیں کہ اختلاط میں بھی خود کو پورے طور پرگناہوں سےمحفوظ رکھ کر اختلاط کے صرف فائدے اٹھاتے ہیں،جو لوگ اس منزل کے نہیں ہوتے ہیں اور وہ خلوت بھی نہیں اختیار کرتے ان کا قلب انوار سے خالی ہوجاتا ہے،خلوت میں جب تک دل خدا کے ساتھ رہے بیٹھیں اور جب انتشار وخطرات کا ہجوم اور غلبہ ہونے لگے تو نیک لوگوں میں بیٹھ کر نیک باتیں کریں اس سے خطرات دفع ہوں گے۔