مواد پر جائیں

باب ۱۷ از ۵۴صفحات ۲۱۰–۲۲۰

(۱)فوائد ریاضت

ایک تو ان کی کوشش تھی کہ دنیا کم سے کم اختیار کی جائے اور جس قدر حاجت و ضرورت ہو یا جس کے بغیر کام نہ چلے یا بقاے حیات وغیرہ کے لیے جو حصہ ضروری ہے بس اسی پر اکتفا کیا جائے۔

حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر دنیا ملتی ہے اس کا آخرت سے اسی قدر حصہ کم ہو جاتا ہے۔

(۲)دوسرے:یہ کہ دنیا کی تحصیل کےلیے عمر شریف کے اوقات عزیز کو ضائع کرنا کسی بھی حال میں مناسب نہیں۔ ان کی ہر حال میں کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت ذکر و افادہ و استفادہ میں گذرے اور عبادت و طاعت میں کسی طرح فتور واقع نہ ہو اسی لیے ایسے واقعات بھی منقول ہیں کہ وہ بقاے حیات کے لیے اگر کچھ کھاتےتھے تو اس میں کوشش کرتے تھے کہ ایسی چیزیں کھائی جائیں جن میں وقت کم صرف ہو۔

(۳)اس قسم کے مجاہدات و ریاضات سے تصرفات و کرامات پر قدرت زیادہ میسر آتی ہے۔ جو بزرگوں سے بڑے بڑے تصرفات منقول ہیں وہ در اصل انھی مجاہدات کا ثمرہ ہیں۔ خیال رہے کہ جب تک پروردگار جل و علا کو دین کا فروغ منطور رہا اس وقت تک بزرگان دین نے مرضی الٰہی کے مطابق تصرفات و کرامات کے ذریعہ دین متین کی بے پناہ خدمت کی۔ ان تصرفات کے ذریعہ بڑی بڑی باطل قوتوں کو مقہور و مغلوب کیا اور دلوں کی تسخیر کی جس کے ذریعہ فاسقوں و فاجروں کو فسق و فجور سے توبہ اور کافروں کو اسلام نصیب ہوا۔ اگر ان کے اندر ان مجاہدات کی بدولت اس قدر قوت نہ ہوتی تو اس قدر اسلام نہ پھیل پاتا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ

تحریر و تقریر اور دیگر ذرائع سے اسلام و سنیت کی اشاعت و ترویج میں کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، مگر اس کا کوئی خاص نتیجہ و ثمرہ برآمد نہیں ہو رہا ہے، معاشرہ بگڑتا جا رہا ہے۔ تمام کوششیں ہو رہی ہیں، مگر ناکامی ہی ناکامی ہے۔ دراصل عقائد و اعمال کی پابندی نفس پر بڑا بوجھ ہے اور جب تک مخالفت نفس نہ کی جائے یا نفس کو شدتیں برداشت کرنے کا عادی نہ بنایا جائے اس وقت تک مشکل ہے۔

جس شخص کی تاریخ اسلامی اور صوفیہ کی خدمتوں پر نظر ہے وہ خوب جان سکتے ہیں کہ وہ کیا خدمت کر گئے اور ہماری کوششوں کا انجام کیا ہے۔ وہ جہاں بیٹھ گئے فیض کے چشمے ابل پڑے اور ان جگہوں پر پہنچ کر اور ایسے مقامات پر بیٹھ کر خدمتیں کیں جہاں ہم جانے کے لیے تیار نہیں، صحراؤوں، جنگلوں، پہاڑوں اور دریاؤوں تک نہیں چھوڑا۔ جن علاقوں میں نام تک کا اسلام نہ تھا وہاں پہنچے، جو سرکش کافروں کے گڑھ تھے وہاں تن تنہا پہنچ کر اسلام و سنیت کا کام کیا۔ وہ اس دور میں جن پر خطر وادیوں سے گذر گئے ہم تصور بھی نہیں کر سکتے جس دور میں نہ راہیں ہموار تھیں، نہ سواریاں، نہ کھانے پینے کی سہولیات وغیرہ۔ اس کے برخلاف دور دور تک آبادیاں نہ تھیں، کھا جانے والے جنگلی جانور جگہ جگہ موجود تھے۔ راتوں کے سناٹے اور دہشتوں کے بادل ان کے قدموں کی بیڑیاں نہ بن سکے، کوئی خوف ، کوئی دشواری ان کی تیزرفتاری کے لیے رکاوٹ نہ بن سکی۔

انھوں نے کسی کی پرواہ نہ کی، جہاں ضرورت سمجھی چل پڑے، جہاں مناسب سمجھا بیٹھ گئے اور کام شروع کر دیا۔ اگر انھوں نے مجاہدات و ریاضات کا خود کو خوگر نہ بنایا ہوتا اور مصائب و آلام برداشت کرنے کی عادت نہ ڈالی ہوتی یا ان کے ذریعہ صفاے قلب و نفس اور کرامات و تصرفات کی دولت نہ حاصل کی ہوتی تو یہ سب کچھ کیسے ہو پاتا۔ آج خوب کھا پی کر جو ہور ہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔

(۴)انھوں نے خود کو مباحات سے ایک حد تک دور رکھ کر حرام و مشتبہ امور

سے اپنے آپ کو کوسوں دور رکھا۔ چناں چہ تاریخ صوفیہ گواہ ہے کہ وہ شبہات سے کس قدر دور رہتے تھے۔ یہ سب صرف حدیث شریف سے ہی ماخوذ نہیں، یا صرف بزرگوں کی بات نہیں کہ جو مباحات میں زیادہ گرتا ہےوہ شبہات تک اور جو شبہات میں واقع ہوتا ہے وہ محرمات تک پہنچتا ہے، بلکہ آج لوگوں کا مشاہدہ اور ان کے حالات کا جائزہ بھی بیّن و واضح دلیل ہے۔

(۵)انسان ماکولات و مشروبات اور ملبوسات وغیرہ میں جب لذتوں کا شکار ہوتا ہے تو اسے دنیا کی تحصیل کی فکر ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ یہ کثیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر اسے مختلف قسم آرائشیں مکانات وغیرہ سوجھتی ہیں۔ اس طرح طلب دنیا کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر وہ اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر جائز طریقے سے دنیا میسر نہیں آتی ہے تو جائز و ناجائز کی پرواہ کو ختم کرکے ہر وقت اس چکر میں رہتا ہے جیسے بھی مل سکے ملے، تمام حیلے سازیاں کرتا ہے۔ پھر ان سب سے کیا کیا بداخلاقیاں پیدا ہوتی ہیں وہ اہل علم خوب جانتے ہیں۔ صوفیہ کرام پہلے ہی قدم میں اس کو لات مار دیتے ہیں اور صبر کی زندگی اختیار کرکے ہزاروں آفتوں سے خود کو بچا لیتے ہیں۔ اگر دنیا ذرا بھی کچھ وقعت رکھتی اور اس کے اختیار کرنے میں بھلائی ہوتی تو سب سے پہلے آقاے کائناتﷺ اختیار فرماتے، مگر آپ اس کے مخفی مضر اثرات سے کامل طور پر واقف تھے اس لیے سب کچھ قدرت ہوتے ہوئے بھی اسے پاس نہیں پھٹکنے دیا۔ آپ نے جب بالکل منہ نہیں لگایا تب آج امت کا یہ حال ہے، اگر ذرا التفات فرماتے تو نامعلوم لوگ کیا کرتے۔

(۶)حب دنیا دل کی رگوں میں کس قدر پیوست ہوتی ہے یہ تو ارباب بصیرت سے پوچھیے کہ مریدوں سے تمام مجاہدات کراکے اور توجہات عطا کرکے برسہا برس تربیت کرکے اس کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تب بھی سب سے نہیں نکل پاتی ہے اور یہ محبت ہی ہر خطا کی جڑ ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے اس کے مضر

اثرات کچھ آپ ابھی پڑھ چکے۔ اگر مشائخ نے جو مربی تھے دنیا کو اختیار کیا ہوتا اور اس قدر مجاہدات و ریاضات نہ اپنائے ہوتے تو ان کے مرید اس سے بڑھ کر اسے اپناتے۔ مرید ہی نہیں، بلکہ اہل ایمان کے دلوں کا کھچاو ان بزرگوں کی طرف ہوتا ہے اور اہل حق سب سے بڑا رہبران خدا رسیدہ ہستیوں کو آج تک مانتے ہیں اور انھیں کو مشعل راہ سمجھتے ہیں۔ اگر اس طرح ترک دنیا اور ترک راحت و چین نہ کرتے اور آرام و آسائش کو بالائے طاق نہ رکھتے تو ان کے عقیدت مند کیا کرتے اور کس طرح تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کی دولت حاصل کرتے اور کس طرح اخلاق رذیلہ و سیئہ سے چھٹکارا میسر آتا۔

قائد کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اوپر سختی کرنا جانتا ہو اور جس امر کی قیادت کر رہا ہے اس کا سختی سے پابند ہو ورنہ قیادت نہیں کر سکتا ہے، تجربہ گواہ ہے، تاریخ بھی شاہد ہے کہ متبوع جب اعلیٰ پیمانے پر کسی چیز کو اپناتا ہے تب کہیں جاکر تابع کسی حد تک اپنا پاتا ہے۔ اگر اس قدر اعلیٰ پیمانے پر مجاہدات نہ اپناتے تو اہل عقیدت و ارادت کبھی ہمت نہ کرتے اور نہ ان کمالات تک عام طور پر پہنچ پاتے جن تک پہنچے اور نہ خودداری اور بے نیازی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرتے جو کیں، بلکہ اس کے برخلاف ہر ایک سے طمع و لالچ رکھتے اور عزت و اقتدار اور حصول مال و زر کے لیے ہر جتن کرتے، پھر تو نہ قلوب مائل ہوتے نہ دین کا اس قدر کام ہوتا۔

(۷)محبت حقیقی یا غلبہ محبت چاہتا ہے کہ محبوب کے سوا سب کچھ ترک کر دیا جائے۔ حدیث شریف میں ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ‘‘اے محبوب! میں ہوں اور تم ہو، اس کے سوا جو کچھ ہے سب میں نے تمھاری خاطر پیدا کیا’’ آقاﷺ نے عرض کی: اے اللہ! میں ہوں اور تو ہے، اس کے سوا سب کو میں نے تیری خاطر چھوڑا۔’’

دوسری روایت میں ہے، حضرت انس‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آقاﷺ چٹائی پر

لیٹے، جسم مبارک پر چٹائی کے نشانات پڑ گئے، انھوں نے عرض کی کہ بچھونے کا انتظام کر دیا جائے، فرمایا: ومالی والدنیا (مجھے دنیا سے کیا تعلق)

نیز بزرگان دین یہ جانتے ہیں کہ ہم ایک لمحے کے لیے ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوں اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے رکاوٹ اور مانع نہ ہو۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور تفصیل چاہتا ہے۔ بہر حال وہ اس محبت کی وجہ سے اور موانع و رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کبھی سب کچھ ترک کر دیتےہیں۔ کتب سوانح میں اس کی بہت مثالیں ہیں اور یہ چیز خود قرآن پاک سے ثابت ہے۔ حضرت سلیمان علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام عمدہ گھوڑوں کی دیکھ بھال میں منہمک ہوتے، غفلت کا احساس ہوا، اللہ تعالیٰ کی محبت میں سب کو مار دیا، اللہ تعالیٰ نے اسے اسراف یا اور کوئی برا فعل قرار نہیں دیا۔ چوں کہ یہ اضاعت مال محبوب حقیقی جل و علا کی محبت سے تعلق رکھتی تھی اس لیے تحسین فرمائی اور اس کے بدلے ہواؤوں کو مسخر کر دیا۔

پھر یہ بھی دھیان رہے کہ دنیا اور اس کی لذتوں کا ترک اور اس کے مقابل خود کو تکالیف اور مشقتوں کا عادی بنانا سب بزرگوں کا کام نہیں رہا۔ سہروردی بزرگوں کا مزاج اکثر اس کے خلاف رہا۔ خود غوث العالم خواجہ بہاء الدین زکریا ملتانی کی سیرت پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بالکل شاہی انداز کا رہن سہن تھا۔ اصل بات اس سلسلے میں وہی تھی جو عارف رومی قدس سرہ نے فرمائی؎

چیست دنیا از خدا غافل بدن

نے قماش ونقرہ و فرزند و زن

ریاضات و مجاہدات کے صرف یہی فائدے نہیں جو سپرد قلم ہوئے۔ اسلام و ایمان کی کامل اور اعلیٰ تصویریں اگر ہیں تو یہی صوفیہ اور امت کے نکھرے ہوئے لوگ، اگر ہیں تو یہی ارباب مجاہدات اور ہر طاقت پر اگر کسی کو امت نے برتری دی تو اسی روحانیت و تصوف کو جوارباب ریاضات کو حاصل ہوئی۔ اگر سلطنت و حکومت کو کسی نے پھٹکارا ہے تو انھی نفوس قدسیہ نے اور دین کو اس کے ظاہر و

باطن کے ساتھ زندہ رکھا ہے تو انھی بزرگوں نے، اخلاق نبوی کی اگر کامل پاسداری کی ہے تو انھی اللہ والوں نے۔ یہ پروردگار جل و علا کی رحمت کہیے یا آقاے کائناتﷺ کا فیضان اگر یہ امت کے جیالے نہ ہوتے تو نامعلوم اسلام کی تصویر اقوام کے سامنے ہوتی۔

تنبیہات:

۱۔یہاں یہ دھیان رہے کہ ایک وہ مقاصد ہیں جو اصل مطلوب کار ہیں اور ایک وہ ہیں جو ذرائع ہیں اور مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنائے جاتے ہیں۔ مجاہدہ جسمانی جس کا ذکر چل رہا ہے یہ مقاصد سے نہیں ہے، بلکہ مجاہدہ نفسانیہ یا حقیقیہ کے لیے ذریعہ و وسیلہ ہے۔ مجاہدہ حقیقیہ مامورات کو بجا لانا اور منہیات سے اجتناب کرنا ہے، ذریعہ اسی قدر اپنا یا جاتا ہے اور جب ہی اپنایا جاتا ہے جب تک کہ وہ مقاصد کی تحصیل کے لیے معین و مددگار یا مفید ہو۔ چوں کہ مجاہدہ جسمانیہ مجاہدہ حقیقیہ کے لیے مددگارو مفید ہے اس لیے بزرگوں نے اپنایا اور کثرت سے اپنایا جس کے کچھ فائدے آپ نے پڑھے۔

۲۔خیال رہے بزرگوں نے خاص کر متقدمین اسلاف نے بڑے بڑے مجاہدے اور ریاضتیں کیں اور ترک و تجرید کی بڑی اعلیٰ مثالیں چھوڑیں۔ ہفتوں ہفتوں بھوکے رہتے جب کھاتے تو معمولی غذائیں کھاتے اور اس میں بھی اتنا احتیاط کہ نہایت وجہ حلال سے کھانا ہوتا۔ پھرپکاتے وقت یہ لحاظ رہتا کہ کھانا پکنے تک پکانے والا ذکر الٰہی میں مشغول رہے اور کھاتے وقت بھی ذکر سے غفلت نہ برتے۔ اسی طرح ان دعوتوں سے پرہیز کرتے جو نام و نمود پر مبنی ہوتیں یا کمائی مشتبہ ہوتی۔ ان مجاہدات کی وجہ سے ان کے قلوب اس قدر صاف ہوتے تھے کہ معمولی ظلمت بھی ان کی چشم باطن سے پوشیدہ نہ رہ پاتی۔ ان سب کے باوجود وہ اپنے اندر اس قدر قوت و طات رکھتے تھے کہ احکام شرعیہ کی بجا آوری، تعلیم و تعلم، دعوت و تبلیغ اور

روز مرہ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا تھا۔ جن بزرگوں پر جذب و مستی کا غلبہ رہا یا اولیاے عزلت جن کا تعلق انتظام عالم سے رہا انھیں مستثنیٰ کرکے آپ سب کو دیکھیں کہ اصلاح عقائد و اعمال میں جو کوششیں، محنتیں اور قربانیاں ان بزرگوں نے دیں اور جس قدر کافروں کو انھوں نے کلمہ پڑھایا اور فاسقوں کو راہ راست پر لائے آج جو پیٹ بھر کر کھا رہے ہیں، خوب کما رہے ہیں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کر پا رہے ہیں اور اس کا تو غیروں تک نے اعتراف کیا ہے کہ جب اسلام بادشاہوں کی سیاست اور آپسی خوں ریزیوں کی نذر ہوا اور اس کی نبض ڈوبنے لگی ایسے موقعوں پر صرف صوفیہ تھے جنھوں نے اسلام کو قوت پہنچائی اور اس میں نئی روح پھونک دی۔

وہ کج فہم جو آج صوفیہ کے مجاہدات کو لے کر الزام لگاتے ہیں کہ ان مجاہدات کی وجہ سے دعوت کا کام نہیں ہو سکتا ہے اور انسان بہت سے حقوق کی ادائگی سے عاجز ہو جاتا ہے سراسر غلط اور لغو ہے۔ ان بزرگوں سے زیادہ اہل حقوق کے حقوق کس نے ادا کیے۔ ان کی کتب ان اعمال و افعال پر گواہ اور شاہد عدل ہیں کہ جن حقوق کی ادائگی کا دوسروں کو خیال بھی نہیں آتا ہے انھوں نے احسن طریقے پر انھیں ادا کیا۔ سیر و سوانح کی کتب میں عمل و اداے حقوق کی ایسی ایسی مثالیں صوفیہ کے یہاں ملیں گی جو دوسروں کے یہاں بالکل ناپید ہیں۔

۳۔مذکورہ بالا تحریر سے آپ نے سمجھ لیا کہ مجاہدہ در اصل مخالفت نفس کا نام ہے یعنی نفس کی چاہتوں اور اقتضاءات کو روکنا۔ نفس کے تقاضے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو بالیقین مذموم و ناپسندیدہ ہیں یعنی خلاف شرع تقاضے، ان امور میں ہر حال میں مخالفت نفس ضروری ہے۔ دوم وہ جو بالیقین محمود اور پسندیدہ ہیں، جیسے مامورات شرع، ان میں موافقت ضروری ہے۔ اور سوم وہ ہیں جو بالیقین نہ محمود ہیں نہ مذموم، بلکہ دونوں کا احتمال رکھتے ہیں جیسے مباحات وغیرہ ۔ یہ ایسے

امور ہیں جو حسن نیت سے حسن اور بری نیت سے قبیح ہو جاتے ہیں۔ ان میں سالک کو چاہیے کہ حسن نیت کا خیال رکھے اور بطریق قلت انھیں اختیار کرے تاکہ ان میں بھی مخالفت نفس ہو۔ اس مخالفت کو علما نے مستحب لکھا ہے، لیکن ایسا مستحب کہ مخالفت واجبہ کا کامل حصول اسی مخالفت مستحبہ پر ہے۔

خیال رہے کہ ان معاملات میں بہتر یہ ہے کہ ایسے شیخ کامل سے رجوع کیا جائے جو تربیت پر گہری نظر رکھتا ہو تاکہ ہر انسان کے موافق مجاہدہ مقرر کر سکے۔ لوگوں کے کام اور طبیعتیں جدا جدا ہوتی ہیں، تقاضے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ زمانے کے حالات کے اعتبار سے استعدادیں مختلف ہوتی رہتی ہیں، ہمتوں میں بھی بہت تفاوت ہوتا رہتا ہے خاص کر اس زمانے میں جو عیش و عشرت اور راحت و آسائش کا دور ہے کہ اکثر لوگ مجاہدات و ریاضات سے جی چراتے ہیں۔ ایسے دور میں تزکیہ نفس کا وہ دوسرا طریقہ جس کا بیان آگے آئےگا سب سے کامیاب ہے۔ مرشد کو چاہیے کہ اس دور میں رفتہ رفتہ مجاہدات کا عادی بنائے اور مزید اپنی طرف سے کوئی کٹھن مجاہدات مقرر کرنے کے بجائے جملہ معاملات میں اتباع سنت کرائےاور اخلاق نبویﷺ کا پابند بنائے۔ جملہ کمالات کی تحصیل کے لیے حضور سرور کونینﷺ کے اخلاق و سیرت کی اتباع ہی کافی ہے۔

۴۔منافع دو قسم کے ہیں: ایک حقوق جن سے بدن کا قوام اور حیات کی بقا ہے، دوسرے حظوظ جو زائد امور ہیں۔ مجاہدہ و ریاضت میں حظوظ کا ترک یا تقلیل کرائی جاتی ہے، حقوق کو ضائع نہیں کیا جاتا ہے۔ احادیث کریمہ سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کرام نے عہد کیا کہ ہمیشہ روزہ رکھیں گے، بعض نے عہد کیا کہ ہمیشہ رات بھر قیام و عبادت کریں گے، بعض نے شادی نہ کرنے کا عہد کیا، آقاﷺ نے سب کو منع فرمایا اور فرمایا کہ سب سے بڑا متقی و پرہیزگار میں ہوں، سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور علم میں رکھتا ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے

فرمایا : تمھارے نفس (جان) کا تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمھاری آنکھ کا تم پر حق ہے آتوا کل ذی حق حقہ (ہر حقدار کو اس کا حق دو)۔ لہٰذا حقوق کو کبھی ضائع نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ اس قدر ترک اکل و شرب وغیرہ اپنایا جا سکتا ہے کہ اس قدر نقاہت اور کمزوری آجائےجس سے احکام شرعیہ کی بجاآوری میں خلل پڑے۔ ہر صحیح صوفی کے یہاں شریعت اصل کار ہے۔

پھر یہ بھی دھیان رہے کہ بزرگوں نے ریاضات و مجاہدات میں جو ترک لذات کیا ہے وہ بطور علاج ہے جیسے کوئی مریض بطور پرہیز کوئی قوی غذا چھوڑ دیتا ہے کہ مضر ہوگی اس کو عبادت یا قرب الٰہی نہیں سمجھتا ہے۔ لہٰذا اسے کسی طرح سے بھی بدعت یا خلاف شرع نہیں کہا جا سکتا ہے۔ حدیث شریف میں اس کو بھی اسراف کہا گیا ہے کہ جس چیز کی مرضی ہو وہ آپ کھائیں۔ ہر وقت ہر خواہش کو پوراکرنا اپنے اندر معمولی مشقتیں نہیں رکھتا ہے۔ ترک لذات سے ان بزرگوں کا خاص مقصد یہ تھا کہ لذتوں کے شکار ہونے سے نفس کی قوت بہیمیہ کا غلبہ ہوتا ہے، طاعات و عبادات میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نفس گناہوں کا تقاضا کرتا ہے۔ پھر غلبہ محبت میں اکثر ان لوگوں کو ان امور کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا ہے۔

۵۔یہ دھیان رہے کہ مجاہدہ وہی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو اور شریعت نے جس کا حکم دیا ہے۔ مجاہدہ تو غیر مسلموں نے بھی بہت کیا ہے، راہبوں اور جوگیوں کے مجاہدات پڑھیے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۶۹)

ترجمہ: اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھادیں گے۔’’

اس میں صراحت ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے ہوں گے ان کی بدولت وہ رب کے راستوں کی ہدایت پائیں گے۔ رسول کونینﷺ کی سیرت طیبہ سراسر

مجاہدات پر مبنی ہے۔ فاقہ کشی، بھوک، ترک لذات، ترک دنیا، اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مشقتیں جھیلنا، مخالفین اور نادانوں کی طرف سے اذیتیں، جہاد بالکفار اور شب بیداریاں غرضیکہ خلوت و جلوت جو کچھ تھی سب مجاہدہ سے بھری ہوئی تھی۔ بعد کے اولیاے کرام نے اس سلسلے میں جو کچھ اپنایا آپ غور سے پڑھیں تو اس کی مثال آپ کو سیرت نبوی یا صحابہ میں ضرور مل جائےگی۔ پھر اس میں وہ حکمتیں اور فوائد بھی مضمر ہیں جو بعض مذکور ہوئے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ولی یا بزرگ وہی ہو سکتا ہے جس میں وہ کٹھن مجاہدات یا ریاضتیں پائی جائیں۔ قرآن شریف نے ولایت و بزرگی کی بنیاد تقویٰ پر رکھی ہے اور یہی معیار ہے۔ صوفیت یا ولایت نہ رنگیلے کپڑوں پر ہے نہ کٹھن مجاہدات پر نہ یکسر لذتوں کے ترک پر وغیرہ وغیرہ۔

اصل مخالفت نفس کا نام ہی مجاہدہ ہے اور شریعت تمام کی تمام مخالفت نفس پر مبنی ہے۔ پھر ارکان مجاہدہ مثلاً تقلیل طعام وغیرہ گو مباح ہیں، مگر ان چیزوں میں انہماک یا کثرت ہی گناہوں تک لے جاتی ہے؛ اس لیے صوفیہ نے ان امور کی تقلیل کو مجاہدہ میں داخل کیا ہے؛ کیوں کہ طاعات کی کما حقہ بجاآوری اور معاصی سے کامل اجتناب ان کے بغیر متصور نہیں ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ان کے بھی وہی خصائل ہوں گے جو مجاہدہ حقیقیہ کے ہیں۔

اخلاق: تصوف کا خاص مقصد تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب ہے۔ ریاضات و مجاہدات کے کے ذریعہ جب نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہےتو نفس امارہ کی امّارگی اور سرکشی زائل ہو جاتی ہےاور شرارت و نقص کا مبدأ اب خیر و کمال کا مبدأ ہو جاتا ہے۔ تزکیہ ٔ نفس سے تمام رذائل سے اچھی طرح سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے اخلاق بد اخلاق حسنہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہر موڑ پر نیک اور عمدہ اخلاق کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ تزکیۂ نفس کے بغیر یہ بہت مشکل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ فضل خداوندی سے کوئی جوان مرد اندرونی برے تقاضوں کے

باوجود اعضا و جوارح کو اعمال صالحہ پر محصور رکھے، مگر تصوف، تزکیہ کے ذریعہ شرو فساد کی جڑ ہی اکھاڑ پھینک دیتا ہے۔