باب ۳ از ۵۴صفحات ۵۲–۶۷
اخلاص
فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ
..............................
۔ سورۃ الاحزاب: ۳۳؍۳۵
۔ سورۃ السجدۃ: ۳۲؍۱۶
۔ سورۃ الفرقان: ۲۵؍۶۳
۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۲
ترجمہ: عبادت اخلاص کے ساتھ کرو۔
علامہ توکلی فرماتے ہیں:
اس اخلاص کو حدیث جبریل میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے، وہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں بروایت حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ مروی ہے، اس کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہﷺ نے اس کا جواب باصواب دیا۔ پھر دریافت کیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ رسول اللہﷺ نے اس کا بھی جواب باصواب دیا۔ پھر دریافت کیا کہ احسان کیا چیز ہے؟ رسول اللہﷺ نے جواب میں فرمایا:
أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
یعنی احسان یہ ہے کہ تو خدا کی عبادت اس طرح کرے گویا تو خدا کو دیکھ رہا ہےاور اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یہ سمجھے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
اس کے تحت شیخ عبد الحق محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ نے اشعۃ اللمعات میں یہ لکھا ہے:
‘‘اور جان لے کہ دین اور اس کے کمال کی بنیاد فقہ، کلام اور تصوف پر ہے۔’’
اس حدیث نے ان تینوں مقاموں کا بیان کر دیا ۔ اسلام اشارہ فقہ کی طرف ہے جو اعمال و احکام شرعیہ کے بیان کا متکفل ہےاور ایمان اشارہ اعتقادات کی طرف ہےجس سے مراد خدا کی طرف صدق توجہ ہے۔ تصوف کے تمام معانی جن کی طرف مشائخ طریقت نے اشارہ کیا ہے اسی صفی کی طرف راجع ہیں۔ فقہ و تصوف و کلام باہم لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کے بغیر ان میں سے کوئی کامل نہیں
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب سوال جبریل النبیﷺ عن الایمان و الاسلام و الاحسان: ۵۰
ہوتا؛ کیوں کہ فقہ بغیر تصوف کے اور تصوف بغیر فقہ کے صورت پذیر نہیں ہوتا ؛ اس لیے کہ حکم الٰہی فقہ کے بغیر پہچانا نہیں جاتا اور فقہ بغیر تصوف کے کامل نہیں؛ کیوں کہ عمل بغیر صدق توجہ کے تمام و کامل نہیں ہوتا اور یہ دونوں بغیر ایمان کے صحیح نہیں ہوتے جس طرح کہ روح و جسم ایک دوسرے کے بغیر وجود و کمال اختیار نہیں کرتے۔ اسی واسطے امام مالکرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص صوفی بنا اور فقیہ نہ ہوا وہ زندیق ہو گیا اور جو فقیہ بنا اور صوفی نہ ہوا وہ فاسق ہو گیا اور جو دونوں کا جامع ہوا وہ بیشک محقق بن گیا۔ کمال جامعیت یہی ہے کہ باقی سب کبروی و گمرہی ہے۔ خیال رہے کہ یہ طے ہے کہ حدیث مذکور میں احسان، ایمان اور اسلام کے علاوہ تیسری شیئ ہے۔
علماے کرام نے حدیث جبریل کے مذکورہ بالا الفاظ کی شرح میں فرمایاکہ احسان عبادت کے دو درجے میں ایک تو یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کریں گویا ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔
یعنی اگرچہ حقیقتاً ہم اسے دیکھ نہیں سکتے ، مگر وہ دیکھ رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ معنی یوں کیے جائیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت یوں کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہوسکے تو یوں عبادت کرو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔ یعنی بڑا درجہ تو یہ ہے کہ پہلا تصور کیا جائے کہ گویا ہم اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ نہ ہو سکے تو یہ خیال جمائیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
بندے کو جب یہ درجہ حاصل ہو جائےگا تو اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جب ہم ہر وقت آگاہ رہیں گے کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے، ہمارے ظاہر و باطن پر مطلع ہے، ہمارے ہر قول و فعل سے آگاہ ہےتو بندے سے نہ کوئی طاعت چھوٹےگی، نہ اس کی بجاآوری میں آداب و شرائط ترک ہوں گے اور نہ ہی گناہ پر جرأت ہوگی۔ اس کی
مثال یہ ہے کہ مالک دروازے پر بیٹھا ہے، اپنے نوکروں سے کام لے رہا ہے، نوکر اپنے کام میں لگے ہیں ، مالک کو نہیں دیکھتے، مگر یہ جانتے ہیں کہ مالک ہمیں دیکھ رہا ہے تو کام میں نہ کمی کریں گے اور نہ بگاڑیں گے۔ بخلاف اس کے کہ مالک موجود نہ ہو،لیکن اگر دربار شاہی میں کوئی شہنشاہ کے سامنے موجود ہو ، شہنشاہ کے چہرے پر اس کی نظر ہوتو اس کا کیا حال ہوگا، ظاہر ہے کیا یہاں حکم عدولی کی گنجائش ہوگی؟ تعمیل حکم میں تاخیر کی مجال ہوگی؟ کیا آداب دربار کی خلاف ورزی ہوگی؟ کیا کوئی اپنے کو لایعنی باتوں میں مشغول رکھےگا؟خصوصاً جب کہ شہنشاہ ایسا ہوکہ ظاہر وباطن سب اس پر منکشف ہوں، آنکھوں کی چوری سے لے کر سینے کے اندر تک مطلع ہو، اس کی دھڑکنوں کے ساتھ خطرات بھی اس سے پوشیدہ نہ ہوں، عمداً تو بہت دور ہے، کیا دل میں بغاوت، سرکشی، حکم عدولی کا وہم بھی آسکےگا؟ اور سوچو جب کہ شہنشاہ مالک حقیقی ذوالجلال و الجبروت ہواور اس کے ساتھ حسن و جمال میں بھی لا شریک ہو تو حاضر باش کا کیا حال ہوگا؏
ذوق ایں نہ شناسی بخدا تا نہ چشی (نزھۃ القاری)
معلوم رہے کہ عبادت نماز میں بندے کی یہ کیفیت ہوتی ہےتو بندہ ایک تو خالص تمام کیفیتوں کے ساتھ خدا کی عبادت کرتا ہے، نام و نمود اورریا کو بالکل دخل نہیں ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس وقت بندے کو بارگاہ الٰہی میں ایسا حضور و قرب حاصل ہوتا ہے کہ حدیث میں جو نماز کو مومن کی معراج فرمایا گیا ہے ، اس وقت اس کی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔
البہجۃ السنیۃ میں روایت نقل کی ہے کہ جب مومن نماز کے لیے کھڑ اہوتا ہے تو گویا وہ بارگاہ الٰہی میں داخل ہوتا ہے ، دروازے پر فرشتے کھڑے ہوتے ہیں ؛ کیوں کہ وہ بارگاہ نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے۔ جب بندہ خیال غیر کی گندگی اور آلائش
لے کر داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتے اسے دھتکار دیتے ہیں اور داخل نہیں ہونے دیتے ہیں اورجب وہ ہر خیال غیر سے پاک و صاف داخل ہوتا ہے تو داخل ہو جاتا ہے، نماز کا صحیح لطف اسی وقت حاصل ہوتا ہے ، بندے کو اس کے قرب کے اعتبار سے تجلیات الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور عجب استغراق و بے خودی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔
معلوم رہے کہ یہ بات صرف عبادت الٰہی ہی کی نہیں، درجہ احسان حاصل ہونے کے بعد بندے کے ہر قول و عمل کا یہی حال ہوتا ہے ۔ اس وقت وہ ہر تعلق سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اپنے مولاے کریم کے لیے ہر کام کرتا ہے اور نہایت سلیقہ مندی کے ساتھ کرتا ہے۔ ہر کام میں اسے لطف و لذت حاصل ہوتی ہے۔ ایک ذوق کارفرما ہوتا ہے اور کاکم کرکے خوش ہوتا ہے۔ قرآن میں جو ہمیں دعوت دی گئی:
‘‘مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ’’
اس وقت دین خالص اللہعزوجل کے لیے ہوتا ہے، اگر گہری نظر سےکام لیں تو معلوم ہوگا کہ ہر عمل پر اجر و ثواب مرتب ہونے کی اصل یہی احسان ہےجسے صوفیہ کرام یا علما اخلاص کہتے ہیں، اگر یہ نہیں تو ریا کو دخل ہوگا۔ اور حضرت امام غزالی قدس سرہ نے جو درجے بیان فرمائے ہیں ، عموماً وہ کسی نہ کسی درجے میں آئےگا ۔ احسان کی اعلیٰ منزل پر فائز ہونے کے بعد ہر قسم کی ریا و سمعہ سے بالا تر ہوکر عمل کا وجود ہوگا۔ صوفیہ کرامرحمہم اللہ کا مطمح نظر در اصل اسی درجہ احسان کی تحصیل ہے۔ اسی کے لیے تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب ہوتا ہے۔ جب یہ درجہ حاصل ہو جاتا ہے تو ہر نیک عمل کثرت سے صادر ہوتا ہے؛ نماز بھی، روزے بھی،
..........................
۔ سورۃ البینۃ: ۹۸؍۵
صدقات و خیرات بھی، تسبیح و تہلیل بھی، ذکر و درود بھی۔
۱۔ بروز قیامت اللہ تعالیٰ فرمائےگا:
أین المتحابّون بجلالی الیوم أظلّھم فی ظلی یوم لا ظل إلاّ ظلّی
یعنی میری عظمت کے سبب باہم محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج کے دن میں ان کو اپنے سایے میں لے لوں گاجس دن کہ کوئی سایہ نہیں، مگر میرا سایہ۔ (مسلم)
۲۔ رسول اکرمﷺفرماتے ہیں: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کو ذلیل کرے اور جو اپنے بھائی کی حاجت میں کوشش کرےگا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرےگااور جو کسی مسلم سے غم دور کرے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے غموں سے دور کرےگا ، جو کسی مسلم کی پردہ پوشی کرےگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائےگا۔ (بخاری و مسلم)
۴۔ جس کے پاس اس کے کسی مسلم بھائی کی غیبت کی گئی اور وہ اس کی مدد پر قادر ہے اس نے اس کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت میں مدد کرےگااور قدرت ہوتے ہوئے مدد نہیں کی تو اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرےگا اور دنیا و آخرت میں بدلہ لےگا۔ (شرح السنۃ)
۵۔ إن اللہ رفیقٌ یحبّ الرفق (الحدیث)
بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، مہربانی پسند کرتا ہےاور نرمی پر وہ دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا ہے۔ (مسلم)
۶۔ آپﷺ فرماتے ہیں: إن من أحبّکم إلیّ أحسنکم أخلاقاً
تم میں سب سے زیادہ محبوب مجھ کو وہ ہے جس کے اخلاق بہتر ہوں (بخاری)
.....................................
۔ صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب فی فضل الحبّ فی اللہ
۔ صحیح البخاری، کتاب اصحاب النبیﷺ، باب مناقب عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ: ۳۷۵۹
۷۔ آپﷺ فرماتے ہیں:کچھ لوگ بکری کا مردار بچہ چھوٹے چھوٹے کان والا (یعنی نہایت حقیر لے کر آپ کے سامنے گذرے، فرمایا: تم میں کون چاہےگا کہ اسے ایک درہم کے بدلے خرید لے، لوگوں نے عرض کی کہ ہم مفت میں لینا پسند نہیں کریں گے، فرمایا:
فواللہ للدنیا أھون علی اللہ من ھٰذا
خدا کی قسم دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے۔ (مسلم)
۸۔ فرمایا: حجبت النار بالشھوات و حجبت الجنۃ بالمکارہ
دوزخ شہوات و خواہشات نفس میں چھپا دی گئی ہے اور جنت مکارہ (تکلیف دہ امور) میں۔ (بخاری و مسلم)
مرقات میں فرمایا کہ مکارہ میں عبادات میں محنت و مشقت اور طاعات پر مواظبت اور خود کو شہوات سے روکنا داخل ہے۔
۹۔ آپﷺ نے فرمایا: قد أفلح من أسلم و رُزق کفافاً و قنعہ اللہ بنا آتاہ
بیشک کامیاب ہے وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اسے کفاف (یعنی اتنا رزق جو بھوک یا سوال روک دے) دیا گیا اور جو اسے دیا اس پر قناعت دی۔ (مسلم)
۱۰۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! تفرّغ لعبادتی أملأ صدرک غنیً و أسدّ فقرک (الحدیث)
تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی روک دوں گااور اگر تو ایسا نہیں کرےگا تو میں تیرا ہاتھ شغل سے بھر دوں گا اور
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
۔ صحیح مسلم، کتاب الزھد و الرقائق
۔ صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات: ۶۴۸۷
۔ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فی الکفاف و القناعۃ
تیرا فقر نہیں روکوں گا۔ (احمد و ابن ماجہ)
نیز فرمایا: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو کسی کافر کو پانی پینے کو نہ ملتا۔ (حمد، ترمذی، ابن ماجہ)
نیز فرمایا: جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایااور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو ضرر پہنچایاتو باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر اختیار کرو۔ (احمد و بیہقی)
۱۱۔ آپﷺ فرماتے ہیں: میرے رب نے مجھ پر پیش کیا کہ وہ بطحاے مکہ کو میرے لیے سونا بنا دے ، میں نے عرض کی: نہیں، میرے رب! میں چاہتا ہوں کہ ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری بارگاہ میں زاری اور تیرا ذکر کروں گا اور کھاؤں گا تو تیری حمد اور شکر کروں گا۔ (احمد و ترمذی)
نیز آپﷺ فرماتے ہیں: دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہواوراس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں اور اس کو وہ جمع کرےگا جسے عقل نہ ہو۔ (احمد و بیہقی)
۱۲۔ آپﷺ فرماتے ہیں: میری امت سے ستر ہزار بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے ۔ وہ وہ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں، نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)
۱۳۔ آپﷺ فرماتے ہیں: والذی نفس محمد بیدہ لو تعلمون ما أعلم لبکیتم کثیراً و لضحکتم قلیلاً
خدا کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو تم روتے زیادہ اور ہنستے کم۔ (بخاری)
.................................
۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان و النذر، باب کیف کانت یمین النبیﷺ: ۶۶۳۷
نیز آپﷺ فرماتے ہیں: میں نے دوزخ کے مثل نہیں دیکھا کہ اس سے بھاگنے والا سویا ہو اور نہ جنت کے مثل جس کا طلب کرنے والا سویا ہو۔ یعنی دوزخ کے حصول و شدت کو، اسی طرح جنت کے بہجت و سرور کو جاننے کے بعد آدمی غفلت کرے اور سوئے تو تعجب ہے۔
نیز آپﷺ فرماتے ہیں: میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ۔ آسمان چیخا یا چرچرایا اور اسے حق کہ چیخے۔ خدا کی قسم! آسمان میں چار انگل بھی جگہ نہیں، مگر فرشتہ اپنی پیشانی ٹیکے ہوئے سجدہ ریز ہے۔ خدا کی قسم! جو میں جانتا ہوں تم جانتے تو ہنستےکم، روتے زیادہ اور بستروں پر تم عورتوں سے لذتیں حاصل نہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے کاش! میں درخت ہوتاجو کاٹ دیا جاتا۔ (احمد، ترمذی و ابن ماجہ)
حضرت عائشہرضی اللہ عنہا نے آیت کریمہ:
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ
ترجمہ: اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں۔’’
کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ سے پوچھا: کیا وہ وہی ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ فرمایا: اے صدیق کی بیٹی! نہیں ہیں، لیکن وہ وہ ہیں جو روزے رکھتے ہیں ، نمازیں پڑھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں ، اس کے باوجود ڈرتے ہیں کہ کہیں قبول نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خیرات میں تیزی کرتے ہیں۔
ان آیات و احادیث میں جن کیفیات و احوال کو قرآن و حدیث نے طلب کیا
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
۔ سورۃ المؤمنون: ۲۳؍۶۰
ہے وہ آپ کے سامنے ہیں، ہم نے نمونے کے طور پر چند ذکر کر دیں۔ ان کے علاوہ بہت آیات و احادیث ہیں جن میں بہت سے اوصاف اور کیفیات کو مومن کی شان قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ اوصاف اور کیفیات ہیں جن کا تعلق نہ ایمان سے ہے نہ اعمال سے۔
صوفیہ کرام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا طریقہ الہام فرمایا جس کے ذریعہ وہ ان کیفیات کی حفاظت ہوئی اور دوسروں میں یہ کیفیات منتقل ہوئیں۔
رسول کونینﷺ اللہ تعالیٰ کے محبوب اعظم تھے۔ اس محبوبیت عظمیٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات و احسانات تھے۔ انھی میں سے ایک یہ کہ آپ کو دین اکمل عطا فرمایا۔ جو جامعیت آپ کو ملی وہ کسی کو نہ ملی۔ نیز امت کو کمالات اس کے نبی کے توسط سے حاصل ہوتے ہیں۔ امت کا نبی جس قدر جامع کمالات ہوگا اسی قدر امت فیض یاب ہوگی اور بلند مدارج حاصل کرےگی۔ اس دین میں جامعیت بھی ہے اور یسر و سہولت بھی۔ یہ سب محبوبیت کا اثر ہے۔
نبی کریمﷺ کی عطائیں: (دوسرا فائدہ)
سرکار دو عالمﷺ کی رگ رگ میں امت کی ہمدردی اور شفقت و محبت بھری ہوئی تھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ چاہتے تھےکہ ہماری امت پر کم سے کم اعمال فرض و واجب ہوں؛ کیوں کہ آپ امت کی کمزوری جانتے تھے۔ لوگ احکام کے تارک ہوں گے، منہیات کا ارتکاب کریں گے جس سے وہ گنہ گار ہوں گے۔ نیز آپ چاہتے تھے کہ امت پر وسعت ہو، کم سے کم چیزیں حرام ہوں۔ محرمات کی طرف نفس کا میلان زیادہ ہوتا ہے، امت کے مبتلا ہونے کا خوف زیادہ تھا۔ نیز آپ چاہتے تھے کہ ہماری امت کو عمل کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہاتھ آئیں تاکہ بلند درجات حاصل کرلے۔
یہ جو کچھ عرض ہوا سب کی مثالیں احادیث کریمہ میں موجود ہیں۔ آپ
اگر مجھے امت پر شفقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انھیں حکم دیتا کہ عشا کی نماز تہائی رات گذرنے پر پڑھیں۔ نیز ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔
نیز آپﷺ فرماتے ہیں:
خبردار! ہر دو اذانوں (اذان و اقامت) کے درمیان نماز ہے، تین بار فرمایا۔ پھر فرمایا:جو چاہے۔
اسی انداز گفتگو سے آپﷺ نے اپنی خواہش و طلب کا اظہار بھی فرما دیا کہ امت جہاں تک ہو عشا سے قبل اپنی ضروریات سے فارغ ہو لے اور عشا کے بعد کوئی دنیا کا کام یا بات نہ کرنا پڑے کہ خاتمہ ذکر و عبادت پر ہو۔ نیز وضو و نماز سے گناہ معاف ہو گئے، اب اگرسو جاتا ہے تو گناہوں سے پاک و صاف سوتا ہے، امید ہے کہ باوضو سوئےگا۔ اس حالت میں اگر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، پاک و صاف جائےگا۔ نیز موت بھی ایمان و اسلام پر آئےگی جیسا کہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ باوضو سونے سے مرتبۂ شہادت ملتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
نیز آقاﷺ کا طرز یہ تھا کہ اکثر وتر کی نماز تہجد کے ساتھ پڑھتے۔ حضرت مجدد قدس سرہ نے اس میں خاص حکمت بیان فرمائی ہے کہ بندہ اس طرح نماز کے انتظار میں سوئےگا اور اسے رات بھر کا ثواب ملےگا۔ اسی طرح آپ پسند فرماتے تھے کہ آدمی کثرت سے مسواک کرےتاکہ منہ صاف رہے۔ یہ انسان کی صحت کے لیے ، دانتوں کے لیے اور عبادت کے لیے بے حد مفید ہے۔ نیز ہر نماز کے وقت مسواک کے ساتھ تازہ وضو سے نماز میں بڑی کیفیتیں پیدا ہوتی ہیں۔
اسی طرح آپ پسند فرماتے تھے کہ مغرب کے سوا ہر فرض نماز سے قبل کچھ نماز پڑھ لی جائے۔ نیز فرمایا: جس نے کامل وضو کیا اور دو رکعت نماز اس طرح
پڑھی کہ ادھر ادھر کے خیالات نہیں لایا تو اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ نیز گھر سے وضو کرکے نکلنے پر ہر ہر قدم پر نیکیاں ملتی ہیں، درجے بلند ہوتے ہیں اور برائیاں مٹتی ہیں۔ نیز مسجد میں جس قدر پہلے پہنچ جائے اس قدر زیادہ ثواب ملتا ہے، نماز کے انتظار میں جب تک بیٹھا رہے نماز کا ثواب ملتا ہے۔
آپﷺ فرماتے ہیں: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جس کی وجہ سے امت پر وہ چیز حرام ہو جائے جو حرام نہ تھی۔
نیز آپﷺ فرماتے ہیں: جو فجر کی نماز پڑھ کر اشراق تک ذکر الٰہی میں مشغول رہا۔ پھر دو یا چار رکعت اشراق پڑھی تو اسے اولاد اسمٰعیل سے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب ملےگا۔ اور نماز عصر پڑھ کر مغرب تک ذکر میں مشغول رہنے کا ثواب بھی چار غلام آزاد کرنے کا آیا ہے۔
حدیث میں ہے، آقاﷺ کو بھی کبھی نماز میں سہو واقع ہوتا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ آپ کی امت کو آپ کی اقتدا حاصل ہو جائے۔ اگر آپ سہو کا حکم قول سے ارشاد فرما دیتےتو قول کی اتباع حاصل ہوتی، فعل کی اقتدا نہ ہوتی۔
اسی طرح آپ غور کریں کہ وہ چیزیں جن کا تعلق لذت نفس سے یا جنھیں دنیوی امور کہہ سکتے ہیں ہمارے مشفق و شفیق آقاﷺ حسن نیت کی دولت دے کر ان سب امور کو دین بنا دیا اور اجر و ثواب کمانے کا موقع عطا فرمایا۔ لاکھوں کروڑوں نیکیاں تو صرف حسن نیت سے ہی مل جاتی ہیں۔ امت کو سواے حسن نیت کے کچھ نہیں کرنا پڑتا ہے۔ یہ اور اس طرح کی بہت چیزیں ہیں جن کی تفصیل طول چاہتی ہے کہ جن کو آپﷺ نے فرض و واجب بھی نہیں ہونے دیا جب کہ بعض آپ پر فرض تھیں جیسے نماز تہجد جو کہ برکتوں رحمتوں اور ثواب کا خزانہ ہے، امت پر فرض نہیں ہونے دی۔ اس طرح آپﷺ نے امت کو تحصیل
کمالات کا زبر دست موقع عطا فرما دیا۔
ترمذی میں ہے: جس نے اوّابین کی چھ رکعت پڑھیں اسے بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔
صوفیہ کرام نے یہ نہیں دیکھا کہ کیا فرض ہے کیا واجب۔ انھوں نے اپنے محبوبﷺ کی مرضیات کو دیکھا اور جس طرح سختی سے فرائض و واجبات پر عمل کیا اسی طرح سنن و مستحبات پر ۔
خلاصہ یہ کہ ہم اگر گہرائی سے جائزہ لیں تو ہم سرور کونینﷺ کے جملہ اقوال، افعال اور احوال کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
۱۔ ایک وہ جن کا تعلق عقائد و ایمانیات سے ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں کے لیے کیا کیا چیزیں واجب ہیں، کیا کیا جائز ہیں اور کیا کیا ممتنع اور نا ممکن ہیں۔ اسی طرح دیگر وحی و رسالت، ملائکہ، قیامت، حشر و نشر، جنت و دوزخ، قضا و قدر، بعث بعد الموت وغیرہ۔
۲۔ دین کا وہ حصہ جس کا تعلق اعضاے ظاہری کے عمل سے ہے۔ اس کی متعدد قسمیں ہیں، عبادات جیسے: نماز و روزہ، حج و زکات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سے ہے معاملات جیسے: احکام بیع و شرا اور نکاح و طلاق وغیرہ، اور معاشرت جو اہل و عیال، اعزہ و اقربا، احباب اور پڑوسیوں کے ساتھ رہن سہن اور برتاو سے ہے۔
۳۔ روحانی و قلبی کیفیات اور تزکیۂ نفس یعنی اخلاق رذیلہ سے طہارت اور اخلاق حسنہ سے آراستگی۔ سید عالمﷺ کی مکمل حیات طیبہ کا جب ہم گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر آپ کے اندر اور آپ کے فیضان سے آپ کے اصحاب میں اخلاص و احتساب، صبر و توکل، زہد و استغنا،ایثار و سخاوت، ادب و حیا، خشوع و خضوع، انابت و تضرع، دعا کے وقت دل شکستگی، دنیا پر آخرت کی ترجیح، رضاے الٰہی اور دیدار کا شوق اور اسی طرح کی دیگر کیفیات ملتی ہیں۔ اسی طرح ان
کے مقابل ممنوعات ہیں جیسے: عقائد کفریہ و شرکیہ وغیرہ۔ اور افعال ممنوعہ جیسے: زنا، چوری، رشوت وغیرہ۔ اور اخلاق ممنوعہ جیسے: بے صبری، ناشکری، تکبر وغیرہ۔ قسم اول کو مامورات اور قسم دوم کو منہیات کہتے ہیں اور سب حکم خدا وندی ہیں۔
ان تمام آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایمان و اعتقاد اورعمل میں کس قدر گہرائی ہوتی ہے۔ فرائض تو فرائض، واجبات تو واجبات، سنن تو سنن مستحبات تک کو ترک نہ کرے، ہمیشہ پاک رہے، جان و دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ اور اس کے مقبول بندوں کو چاہے، ہر چیز سے زیادہ محبت کرے حتّی کہ اپنی جان اور اولاد سے بھی زیادہ، ہر کام صرف اسی کی رضا کے لیے کرے، بندوں سے عداوت و محبت صرف اسی کی رضا کی خاطر ہو، خوف و خشیت وغیرہ سے سینہ لبریز ہو، تلاوت کے وقت رونگٹے کھڑے ہو جائیں، خوف سے لرز جائے، ایمان و یقین میں اضافہ ہو، کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اس کا ذکر کرے، ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ تضرع و زاری کے ساتھ دعا، عمل کرتے بھی ڈرتا رہے، کائنات کی وسعتوں میں تفکر و تدبر کرےتاکہ خالق کائنات جل و علا کی پوشیدہ عظمتیں اور اسرار و حکم ظاہر ہوں، نفوس کا تزکیہ کرے، قلوب کا تصفیہ ہو، تقویٰ و پرہیز گاری ہر حال میں لازم رہے، عبادات کی ادائگی کے وقت نہایت کامل حضور ہو۔
ہم اگر ان اخلاق و اوصاف کا تفصیلی تذکرہ کریں جو قرآن و سنت ہم سے طلب کرتے ہیں تو بات بہت طویل ہو جائےگی۔ مقصد یہ ہےکہ نبی پاکﷺ مکارم اخلاق کی تتمیم و تکمیل کے لیے جلوہ گر ہوئے، آپ کی اعلیٰ ذات میں اعلیٰ مثالیں موجود ہیں، آپ سراپا خُلق تھے، آپ مرضیات الٰہی کا مکمل نمونہ تھے۔ آپ کے فیض صحبت سے وہ اخلاق و عادات اور کیفیات و اوصاف صحابۂ کرام میں منتقل ہوئے جو آپ کے بعد آپ کی سیرت کا مکمل نمونہ تھے۔
پھر فسادات شروع ہوئے، اعتقادات و یقین میں ضعف آنے لگا، دنیا کا رنگ چڑھنے لگا، دلوں کی مذکور کیفیتیں ختم ہونے لگیں۔ چوں کہ دین الٰہی کو تمام تر ظاہری و باطنی رعنائیوں کے ساتھ باقی اور زندہ رہنا تھا؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ کسی جماعت کو قرآن پاک اور اس سےمتعلق جملہ علوم کی نشر و اشاعت اور تدوین و ترتیب کی طرف متوجہ کر دیا۔ یہ طبقہ مفسرین کے نام سے جانا گیا۔ کسی کو احادیث اور اس سے متعلق علوم کی ترتیب و تدوین اور حفاظت و بقا کے لیے متوجہ کر دیا۔ یہ طبقہ محدثین کے نام سے مشہور و معروف ہوا۔
جیسے جیسے اسلامی فتوحات نے دائرہ وسیع کیا نت نئے مسائل سامنے آنے لگے، نئی نئی تہذیبوں ثقافتوں کا سامنا ہوا، ایجادات و اختراعات کا طویل دور شروع ہوا، کثرت سے حادثات و واقعات جدیدہ سامنے آنے لگے۔ اب سخت ضرورت تھی کہ کتاب و سنت کی ہی روشنی میں ان کا جائز و ناجائز، صحیح و غلط، حلال و حرام ہونا بیان کیا جائے۔ اس کے لیے بڑے علم کی ضرورت تھی؛ لہٰذا پروردگار نے استنباط و اجتہاد، بلکہ اور علوم اسلامیہ، نیز حالات حاضرہ سے باخبر اور ماہر علوم جماعت پیدا کر دی جنھوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اصول، پھر اصول سے فروع اخذ کیے اور لاکھوں نادر و نایاب مسائل کا ذخیرہ امت کو دے دیا۔ نیز آئندہ پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کی راہ بھی ہموار کر دی جس نے فقہ و اصول فقہ کی صورت میں ایک زبردست مدوّن علم عطا فرما دیا۔ یہ فقہا و مجتہدین کے نام سے جانے پہچانے گئے۔
ٹھیک اسی طرح ایک جماعت کو کھڑا کر دیاکہ وہ اعمال ظاہرہ پر نہایت سختی کے ساتھ کاربند رہتے ہوئےان تمام کیفیات کا تحفظ کرے جو مذکور ہوئیں اور عبادات و اخلاق میں اعلیٰ مثالیں قائم کرے۔ نیز نفوس کا تزکیہ اور قلوب کا تصفیہ کرے، نور باطن کی حفاظت کرے، امراض قلب اور مکائد نفس کا ازالہ کرے اور
امت کو انھی اعمال و اخلاق اور ظاہری و باطنی کیفیات سے آراستہ رکھے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ طلب کرتے ہیں۔ یہ جماعت صوفیہ کے نام سے جانی گئی۔ اس نے بھی اوروں کی طرح باضابطہ مفصّل اصول و فروع مقرر کیے اور دین کو ظاہر و باطن کے عملی شکل مین محفوظ رکھنے کے لیے باضابطہ علم مرتب کیا جو تصوف کے نام سے جانا گیا۔
جب ہم بنظر غائر تصوف اور صوفیہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ تصوف کے بغیر شریعت پر کامل طور پر عمل ناممکن ہے۔ تصوف قلب اور قالب یا ظاہر و باطن کو ان اوصاف کا پابند بناتا ہے جو جو قرآن و سنت ہم سے طلب کرتے ہیں۔ تصوف کے ذریعہ ذکر و عبادت اور بندگی و طاعت میں وہ کثرت حاصل ہوتی ہےجو خداعزوجل و رسولﷺ کو مطلوب و محبوب تھے۔ تصوف کے ذریعہ اخلاق و اعمال کی اعلیٰ مثالیں وجود میں آتی ہیں اور قلب و نفس اور قالب ان تمام اعمال و اخلاق اور رذیل اوصاف سے محفوظ ہو جاتے ہیں جو ہم کو خدا اور بندوں سے دور کرتے ہیں۔ تصوف کے ذریعہ ہمیں وہ کیفیات حاصل ہوتی ہیں جن کا مطالعہ ہم عام طور پر صحابۂ کرام کی حیات طیبہ میں کرتے ہیں مثلاً اخلاص و احتساب، صبر و شکر، قناعت و توکل، جود و سخاوت، ہمت و شجاعت، قربانی و ایثار، زہد و استغنا، ادب و حیا، خشوع و خضوع، تضرع و تذلل، توبہ و انابت اور دعا وغیرہ میں التجا و انکسار، خوف و خشیت، گریہ و زاری، دنیا پر آخرت کی ترجیح، عشق و محبت وغیرہ۔