مواد پر جائیں

باب ۲ از ۵۴صفحات ۳۹–۵۲

فوائد تصوف

۱۔قرآن و سنت کے مطلوبہ اوصاف:

قرآن و حدیث کے پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ ایمان و اسلام کی تکمیل کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ عقائد و اعمال صحیح ہوں اور مذہب اہل سنت کے مطابق ہوں وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ کچھ کیفیات ہیں جن کا حصول بھی تکمیل دین کے لیے ضروری ہے۔ ان اوصاف کی تفصیلی فہرست بہت طویل ہے، ہم ان میں سے صرف بعض اہم اہم ذکر کرتے ہیں آپ یہ سارے ہی اوصاف صوفیہ کرام میں کثرت سے پائیں گے ، یہ تصوف کانہایت اہم فائدہ ہے:

محبت و رغبت: (پہلا فائدہ)

قرآن فرماتا ہے:

وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ؂

اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو۔

نیز فرماتا ہے:

وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا ؂

اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔

ایک مقام پر فرماتا ہے: اے محبوب! فرما دو، اگر تمھارے باپ دادا، تمھارے بیٹے ، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں اور تمھارے اموال جنھیں تم نے حاصل کیااور تجارت کہ جس کے گھاٹے سے ڈرتے ہو، اور مکانات جنھیں تم پسند کرتے ہواللہ و

...............................

۔ سورۃ الشرح: ۹۴؍۸

۔ سورۃ المزمل: ۷۳؍۸

رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سےزیادہ محبوب ہیں تو رکے رہو یہاں تک اللہ تعالیٰ اپنا امر یعنی عذاب لے آئے۔’’

اور فرماتا ہے:

یُّحِبُّوۡنَہُمْ کَحُبِّ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؂

انھیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

نیز حدیث شریف میں ہے:

ثَلٰث ٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ

تین خصلتیں جس میں پائی گئیں اس نے اس نے ایمان کی حلاوت پالی۔

اول یہ کہ اللہ جل و علا اور اس کے رسولﷺ اپنے جمیع ماسوا سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ دوم اگر کسی آدمی سے محبت ہو تو وہ بھی اللہ ہی کے لیے ہو۔ سوم ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹنا اسے اتنا ہی ناگوار اور برا ہو جتنا کہ آگ میں ڈالا جانا۔

نیز بخاری وغیرہ نے روایت کی کہ محبوب دو عالمﷺ فرماتے ہیں:

لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ؂

تم میں کوئی مومن نہیں ہوگا اس وقت تک کہ میری محبت اسے اس کے والد ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو جائے۔

نیز حضرت عمر‌رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

لا تکون مؤمناً حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ

.....................

۔ سورۃ البقرۃ: ۲؍ ۱۶۵

۔ صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب حب رسول اللہﷺ من الایمان: ۱۵

اے عمر! تم مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک میں تمھیں تمھاری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔’’ حضرت عمر‌رضی اللہ عنہ نے عرض کی:

والذی أنزل علیک الکتاب لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي التی بین جنبی

اس کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی، آپ مجھے اس جان سے زیادہ عزیز و محبوب ہیں جو میرے پہلو میں ہے۔’’ تو محبوب کائناتﷺ نے فرمایا:

الآنَ يَا عُمَرُ تمّ إیمانک، اے عمر! اب تمھار ایمان مکمل ہوا۔

ہر ذی علم عقل مند جانتا ہے کہ جان و مال اور اولاد وغیرہ سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے ہونا کس قدر دشوار ہے۔ علما نے یہاں محبت سے محبت اختیاری مراد لی ہے جو اپنے ارادہ و عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ انسان کے دل میں دنیا و ما فیھا کی طبعی و فطری محبت ہوتی ہے، اسے نکال کر اس کی جگہ اللہ و رسولﷺ کی محبت بساناکوئی معمولی کام نہیں ہے۔ صوفیہ کرام نے اپنے حسن تدبیر سے اس کا علاج سوچا اور اللہ و رسولﷺ کی محبت اپنے ماسوا سے زیادہ ہی نہیں، بلکہ سب کی محبت ختم کرکے اس کی جگہ اللہ جل و علا اور اس کے محبوبﷺ کی ایسی محبت قائم کی کہ اس کی مثال نہیں مل سکتی ہے۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے بعد اگر عشق و محبت کی انوکھی مثالیں آپ پائیں گے تو اسی طبقے میں پائیں گے۔ یہ بہت وسیع موضوع ہے، ہم محبت کا فیضان اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ اس کی برکتوں نے انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔

فیضانِ محبت:

اس محبت کے فائدے ہم جیسے کم علم کیا بیان کر سکتے ہیں، اس محبت کے ذریعہ قرب و عرفان کے مراحل جس قدر جلد طے ہوتے ہیں کسی سے نہیں ہو تے، یہ سالک کو فرش سے عرش پر پہنچاتی ہے۔ محبت کی ایک زبردست تاثیر یہ ہوتی ہے

کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کی طرف قلب مائل و متوجہ رہتا ہے۔ جناب الٰہی سے محبت اس کی طرف متوجہ رکھتی ہےاور اس توجہ سے فیضان ہوتا ہے، محبت محبوب کا ذکر کثرت سے کراتی ہے۔ مشہور ہے: ‘‘من أحبّ شیئا أکثر ذکرہ’’ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے لیٹے اس کا ذکر کرو۔’’

حدیث شریف میں ہے، حضرت عائشہ‌رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

رسول اللہﷺ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے، یہ ہر لمحہ اور ہر گھڑی اگر کوئی ذکر کرا سکتی ہے تو وہ محبت کرا سکتی ہے۔ نیز محبت محبوب کی راہ میں ہر جفا برداشت کرنا سکھاتی ہے محبوب کی طرف سے ہر ملنے والی چیز خواہ عطا ہو یا جفا و بلاسب کو محبوب بناتی ہے۔ یہ اہل درد کا خاصہ ہے کہ وہ ہر جہاد و مجاہدہ اور ریاضت اپناتے ہیں۔ رات رات بھر نمازیں پڑھنا، نالہ و فغاں کرنا، دن دن بھر بھوکے رہنا، روزے رکھنا، فرائض و سنن حتی کہ مستحبات تک کو کلیجے سے لگائے رکھنا، اولاد مر رہی ہے تو ربِّ کائنات کا شکر کر رہے ہیں، مال آرہا ہے تو شکر جا رہا ہے تو شکر، سکھ ہے تو شکر، دکھ ہے تو شکر، ہر محفل و مجلس میں محبوب کا ذکر ہر ایک کے بارے میں خواہش جیسے ہم محبوب کو چاہتے ہیں ویسے یہ بھی چاہے ہر مومن بھائی کی بھلائی ، ہر ایک کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دینا، دوسروں کو کھلا کر خود بھوکے سو رہنا، یہ کون کر سکتا ہے؟ صرف محبت کر سکتی ہے۔

دین کی سربلندی کے لیے خود کو، اولاد کو، کنبہ و خاندان کو، مال و زر قربان کر دینااور خوش ہونا، دین کی سربلندی کے لیے دوڑے دوڑے پھرنا، رات کو رات دن کو دن نہ جاننا، بھوکے پیاسے ہر حال میں لگے رہنا، ہر ایک سے پیار کرنا، نہ کسی سے حسد، نہ بغض ، نہ کینہ، نہ کپٹ، نہ ریا، نہ سمعہ،نہ عجب، نہ جاہ و حشمت کی طلب، نہ عزت و اقتدار کی خواہش، نہ کسی عہدہ و منصب کی تمنا، نہ دنیا کی خاطر کسی سے

جھگڑنا،نہ دنیا کی خاطر اپنا وقت ضائع کرنا، نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا، نہ حیلہ سازی ، نہ داو پیچ، نہ نعروں کی خواہش، نہ دست بوسی و قدم بوسی کی تمنا، یہ سب کون دیتا ہے؟ محبت دیتی ہے۔ جب دل دنیا و ما فیہا سے بے نیاز ہو گیا اور سب سے بے تعلق ہو گیا تو اب اس حی باقی کے سوا کس لیے طلب کرےگا؟

محبت بے غرض بناتی ہے، اخلاص و للٰہیت پیدا کرتی ہے، محبت کے اطوار جدا ہیں ، اسے کسی کی پرواہ نہیں، کسی کی چاپلوسی اور نہ کسی سیٹھ سے خواہش نذر و نیاز کہ جس کی وجہ سے اس کی قصیدہ خوانی کرے، نہ کسی امیر و وزیر سے سروکار کہ ان کے درباروں میں حاضری دے۔ سچ ہے کہ اگر محبت کو سمجھا ہوتا تو ہر ایک محبت کرتا، مگر مشکل یہ ہے کہ یہ اپنے بس کی چیز نہیں۔

محبت سے اخلاق کے چشمے پھوٹتے ہیں، محبت سے کمال ایمان و عمل کے گل کھلتے ہیں، محبت سے دشمنوں کو دوست، بدخواہوں کو بہا خواہ بنایا جاتا ہے۔ محبت کا خاص فیضان یہ ہوتا ہے کہ محبوب کی عظمتوں، رفعتوں اور بلندیوں کا سراغ ملتا ہے۔محبت باادب بناتی ہے، محبت کی وجہ سے کائنات کے ذرے ذرے میں محبوب کے جلوے، اس کا اثر و اقتدار، اس کی حکمت و مصلحت، اس کی عظیم قدرتوں کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ محبت مشکل کام آسان بناتی ہے۔ صوفیہ کرام کے اس احسان کا ہماری نوک قلم کیسے شکریہ ادا کر سکتی ہے کہ ایک محبت کے ذریعہ گویا دوات کونین بخش دی، ابدی زندگی میں بہار آگئی، پُرخطر وادیاں آسانی سے طے ہو گئیں، دشوار اور کٹھن منزلیں سہل ہو گئیں، ہزاروں غموں سے بچا لیا۔ یہ محبت کی کرم فرمائیاں محبت کے فیضان سے بیان ہو گئیں۔ آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جو کچھ کہا گیا ذرا بھی مبالغہ نہیں ہے۔ در اصل تصوف کو منکرین نے سمجھنے کی کوشش نہ کی ورنہ ایسی لازوال دولت کا کبھی بھی انکار نہ کرتےاور ان شکستہ دلوں کو ٹھیس نہ پہنچاتے۔

تقویٰ و پرہیزگاری:

ارشاد ربّانی ہے:

الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ؂

یعنی اولیاء اللہ وہ ہیں جو مومن اور متقی ہوں۔

سورۂ انفال میں ہے:

اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوۡنَ ؂

یعنی اس کے اولیا صرف متقی و پرہیزگار ہیں۔

حضرت قاضی بیضاوی‌رحمۃ اللہ علیہ تقویٰ کے تین مدارج بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ متقی جس لفظ سے بنا ہے اس کے معنی ہیں انتہائی پرہیزگار اور شریعت میں متقی وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے بچائےجو آخرت میں نقصان دہ ہیں اور تقویٰ کے تین درجے ہیں:

اول شرک سے براءت حاصل کرکے خود کو دائمی عذاب سے بچانا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان:

‘‘اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی’’؂

میں یہی تقویٰ مراد ہے۔ دوم ہر اس ترک و فعل سے پرہیز کرنا جو گناہ کا سبب ہےحتّیٰ کہ ایک قوم کے نزدیک گناہ صغیرہ سے بھی پرہیز متقی ہونے کے لیے ضروری ہے۔ عام طور پر شریعت میں تقویٰ کے یہی معنی مراد ہوتے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ‘‘وَلَوْ اَنَّ اَہۡلَ الْقُرٰۤی اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا’’ ؂

..................

۔ سورۃ یونس: ۱۰؍۶۳

۔ سورۃ الانفال: ۸؍۳۴

۔ سورۃ الفتح: ۴۸؍۲۶

۔ سورۃ الاعراف:۷؍۹۶

میں تقویٰ سے یہی معنی مراد ہیں۔ تیسرے یہ کہ ان تمام چیزوں سے دور رہے جو اس کے باطن کو حق سے غافل کریں اور پورے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے، تقواے حقیقی یہی ہے اور قرآن پاک کے ارشاد ‘‘اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ’’ ؂

میں یہی مراد ہے۔

کمال تقویٰ مرتبۂ ولایت میں ہے:

حضرت قاضی ثناءاللہ پانی پتی جنھیں علوم اسلامیہ و فنون عقلیہ میں وقت کے امام حضرت شیخ عبد العزیز جیسا محدث و ولی، بیہقیِ وقت کہے جو خودبھی بہت بڑے ولی اور اسرار و رموز کے رازداں ہیں، ارشاد الطالبین کے مقام دوم میں فرماتے ہیں:

طریقت طلب کرنا اور کمالات باطنی کی تحصیل کے لیے کوشش اور جد و جہد کرنا واجب ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ ؂

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

یعنی اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف چیزوں سے پرہیز کرومکمل پرہیز کرنا یعنی ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف۔ عقائد اور کمال تقویٰ کے ساتھ اخلاق سے کوئی چیز نہ ہو اور امر وجوب کے واسطے ہوتا ہے اور کمال تقویٰ بغیر ولایت متصور نہیں ہو سکتا ہےجیسا کہ ذکر ہوا۔ رذائل نفس؛ حقد و حسد، کبر، ریا و سمعہ، عجب اور احسان جتانا وغیرہ کہ جن کی حرمت کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے جب تک زائل نہیں ہوں گے کمال تقویٰ کس طرح متصور ہو گا، ان کا زوال فناے نفس اور ترک معاصی سے متعلق ہے کہ تقویٰ اسی کا نام ہے

..............................

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۰۲

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۰۲

اور اس کی تفسیر صلاح جسد سے کی جاتی ہے جو کہ صلاح قلب کا ثمرہ ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہوا اور صوفیہ اس کو فناے قلب کہتے ہیں۔ ولایت فناے نفس کا نام ہے۔

صوفیہ کرام نے کہا ہے کہ وہ راستہ جسے طے کرنے کے ہم درپے ہیں سات قدم ہے، یعنی عالم امر کے پانچوں لطائف؛ قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ اور فناے نفس اور لطیفہ قالبیہ کا تصفیہ کہ جس کا نام صلاح جسد ہے۔ تقویٰ کثرت نوافل سے تعلق نہیں رکھتا ہے۔ تقویٰ واجبات کو بجا لانے اور ممنوعات سے پرہیز کرنے کا نام ہے۔ فرائض و واجبات کی ادائگی بغیر اخلاص کے کچھاعتبار نہیں رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؂

اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔

اور منہیات سے پرہیز فناے نفس کے بغیر متصور نہیں ہے؛ لہٰذا کمالات ولایت حاصل کرنا فرائض سے ہوا، لیکن چوں کہ حصول ولایت وہبی چیز ہے ، بندے کی قدرت میں نہیں اور تکلیف بقدر طاقت ہوتی ہے؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ؂

جس قدر استطاعت رکھتے ہو اس قدر ناپسندیدہ امور سے بچو۔’’ تو اس کا حکم کیا جائےگا ، اس کی تحصیل میں کوشش اور جد و جہد واجب ہے۔

دیگر یہ کہ جیسا کہ ولایت کے مراتب غیر متناہی ہیں جیسا کہ حضرت

>>>>>>>>>>>>>>>>

۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۲

۔ سورۃ التغابن: ۶۴؍۱۶

سعدی‌رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے؎

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں

بمیرد تشنہ مستسقی و دریا ہمچنیں باقی

اسی طرح تقویٰ بھی غیر متناہی مراتب رکھتا ہے، متقیوں و عالموں کے سردارﷺ نے فرمایا:

أنا أعلمکم و أتقاکم باللہ (میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے بڑا متقی ہوں)

جس طرح انسان مراتب قرب قرب الٰہی میں ترقی کرتا ہے خوف و خشیت اس پر غالب ہوتی ہےاور بڑا متقی ہوتا ہے۔

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ ؂

تم میں سب سے زیادہ مکرم اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہے۔

تو جب تقویٰ کی کوئی حد نہیں؛ لہٰذا مقامات قرب میں ترقی کی سعی و کوشش اور دائمی طور پر تقویٰ کی تحصیل واجب ہوگی اور علم باطن کی زیادتی کی طلب فرائض سے ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا ؂ یعنی اے محبوب! کہو کہ اے رب! میرا علم زیادہ کر۔

اور مراتب قرب سے قناعت حرام ہےکامل پر، جیسا کہ ناقص پرحرام ہے۔ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ فرماتے ہیں ؎

در راہ خدا جملہ ادب باید بود

تا جان باقی است در طلب باید بود

دریا دریا اگر بکامت ریزند

کم باید کرد و خشک لب باید بود

.................

۔ سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۳

۔ سورۃ طٰہٰ: ۲۰؍۱۱۴

حضرت خواجہ قدس سرہ فرماتے ہیں؎

ہر جا کہ ترشح تو بینم

دار العطشیم و تشنہ کامیم

ہر حالت میں کثرت ذکر:

قرآن و حدیث میں جس تاکید اور زیادتی کے ساتھ کثرت ذکر کا حکم دیا گیا ہےاور اس کی اہمیت و افادیت ، اور اس پر نتائج کے ترتب اور ذاکرین کے رفع درجات کو بیان کیا گیا ہےاگر اکثر کو جمع کر لیا جائےتو مستقل کتاب ہو جائےگی، چند سماعت فرمائیں۔ ارشاد ربّانی ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اذْکُرُوا اللہَ ذِکْرًا کَثِیۡرًا ؂

ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو۔

نیز فرماتا ہے:

وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا ؂

ترجمہ: اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو ر ہو۔

نیز فرماتا ہے:

الَّذِیۡنَ یَذْکُرُوۡنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمْ ؂

ترجمہ: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے۔

ایمان کا ترقی پانا اور توکل:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوۡبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُہٗ

زَادَتْہُمْ اِیۡمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوۡنَ ؂

.........................

۔ سورۃ الاحزاب: ۳۳؍۴۱

۔ سورۃ المزمل: ۷۳؍۸

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۹۱

۔ سورۃ الانفال: ۸؍۲

ترجمہ: ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسا کریں۔

وَاذْکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّدُوۡنَ الْجَہۡرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ؂

ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اورشام۔

خوف و خشیت:

اِنَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنْ خَشْیَۃِ رَبِّہِمۡ مُّشْفِقُوۡنَ● وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ یُؤْمِنُوۡنَ● وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِرَبِّہِمْ لَا یُشْرِکُوۡنَ● وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوۡنَ● اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ وَ ہُمْ لَہَا سٰبِقُوۡنَ ؂

ترجمہ: بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں۔ اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں کرتے۔ اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔ یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انھیں پہنچے۔

تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمْ وَ قُلُوۡبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللہِ؂

۔ سورۃ الانفال: ۸؍۲

۔ سورۃ الاعراف: ۷؍۲۰۵

۔ سورۃ المؤمنون: ۲۳؍۵۷۔۶۱

۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۲۳

ترجمہ: اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں۔

تضرع و زاری:

وہ دعوت دینا ہےکہ تم اپنے پروردگار کو کثرت سے یاد کرو۔ کہیں فرماتا ہے:

فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ ؂

ترجمہ: تم میرا ذکر کرو میں تمھارا ذکر کروں گا۔

کہیں فرماتا ہے:

اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؂

ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑاکر اور پوشیدہ طور پر بلاؤ۔

تفکر و تدبر

قرآن ہمیں مراقبہ و تفکر کی دعوت دیتا ہے:

اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ● الَّذِیۡنَ یَذْکُرُوۡنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ؂

ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے۔ جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔’’

..............................

۔سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۵۲

۔ سورۃ الاعراف: ۷؍۵۵

۔ سورۃ آل عمران: ۳؍۱۹۰،۱۹۱

ایک ایک کلمے پر آپ غور کریں، آیت بتا رہی ہے کہ زمین و آسمان اور گردش لیل و نہار میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں موجود ہیں جو اس کی عظیم جلیل اور قاہر و باہر ریاست اور شوکت و عظمت پر دلالت کرتی ہیں، مگر یہ نشانیاں صرف ان اہل عقل و خرد اور علم و معرفت والوں کو نظر آتی ہیں جو ہر حال میں اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں۔ قرآن ہم سے کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں ذکر بھی طلب کر رہا ہے اور تفکر بھی اور یہ بھی بتا رہا ہے کہ ایسے بندوں پر ان چیزوں کے راز کھلتے ہیں جن میں وہ تفکر کرتے ہیں۔ بعض روایتوں میں ہے:

تفکّرُ ساعۃ أفضل من ستین ساعۃ (ایک گھڑی کی فکر ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے)

قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں جس سے مقصوداللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَہٗ ؂

ترجمہ: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔

مذکورہ بالا آیت میں حکم دیا جا رہا ہےکہ اپنے آپ کو صرف ان لوگوں کی صحبت میں رکھو ، ان کے علاوہ کسی کے ساتھ نہ رہو یہ وہ لوگ ہیں جو اخلاص و للٰہیت کے ساتھ صبح و شام یعنی ہر وقت اپنے رب کو بلاتے ہیں۔

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

۔ سورۃ الکہف: ۱۸؍۲۸

اِنَّ الْمُسْلِمِیۡنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیۡنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیۡنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیۡنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیۡنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیۡنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَ الذَّاکِرِیۡنَ اللہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللہُ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیۡمًا ؂

ترجمہ: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرماں بردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی پر نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔

تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنۡفِقُوۡنَ ؂

ترجمہ: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں۔

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ؂

ترجمہ: اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔