باب ۱۳ از ۵۴صفحات ۱۶۴–۱۷۵
اہم تنبیہات
مگر مرید یا غیر مرید کو محض انھی بشارتوں پر تکیہ اور بھروسا نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ فضل و رحمت ہے جس کو بھی نصیب ہو جائے۔ قانون جدا چیز ہے، شریعت کا مزاج جدا ہے، اطاعت پر ثواب، معاصی پر عقاب جگہ جگہ بیان کیا
گیا ہے۔ شریعت نے ترغیب و ترہیب، تبشیر و تنذیر دونوں سے کام لیا ہے اور ترغیب کی بنیاد بھی اعمال پر رکھی ہے کہ یہ عمل کروگے تو یہ ثواب ہے، یہ کروگے تو یہ عفت کی بشارتیں نہیں دی ہیں کہ تم کچھ بھی نہ کرو اور تمھیں سب کچھ مل جائےگا، بلکہ آپﷺ نے تو فرمایا ہے کہ سب سے بڑا احمق وہ ہے جو کھیت میں بوئے تو کچھ نہیں اور امید لگائے کہ اس میں فصل اگےگی اور میں کاٹوں گا۔ آقاﷺ جن کو شفاعت کبریٰ حاصل ہے۔ آپ کے صدقے آپ کی امت کو بھی منصب شفاعت ہے، مگرپھر بھی اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں ہمیشہ ڈراتے، اولاد و ذریت کے سامنے یا اہل ایمان و عقیدت کے سامنے کبھی وہ باتیں نہ کرتے جس سے لوگ عمل سے بے پرواہ ہوں، بلکہ صریح احادیث میں آیا ہے کہ بعض بشارتیں آپ لوگوں کو محض اسی وجہ سے سنانے سے منع فرماتے کہ لوگ کچھ کا کچھ مطلب سمجھ لیں گے اور عمل سے بے نیاز ہو جائیں گے۔
سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا یا سب کو ایک ہی معیار کا تصور کرنا کسی عقل مند کا کام نہیں۔ ترغیب یا اس طرح کے فضائل اور بشارتیں ان کے مناسب ہیں جو ظاہر و باطن میں صالح اور ہر وقت خوف خدا سے لرزاں و ترساں اور سب کچھ عمل کرکے ہمیشہ اپنے آپ کو سب سے بڑا گنہ گار تصور کرتے ہیں اور غلبہ دید قصور کی وجہ سے مایوسی کی منزل کی طرف گامزن ہوں۔ بد عملوں، خطاکاروں اور معاصی پر جری لوگوں کے لیے ترغیب کی بجائے انھیں وعیدات کی ضرورت ہے، خوش خبریوں کی نہیں۔ امام غزالی قدس سرہ کا قول ہے کہ جس بستی میں بشارتیں اور خوش خبریاں سنانے والا عالم ہو وہاں شیطان کو جانے کی ضرورت نہیں۔’’ بہت دور اندیشی کی بات فرمائی۔ آج واعظوں، مقرروں اور کم عقل رہبروں نے اہل معاصی کو خوش خبریاں سنا سنا کر اپنے کرتوتوں پر مطمئن کر دیا ہے۔
بعض پیر ایسے ہیں جو صرف اپنے مریدوں کی زیادتیِ عقیدت اور حلقہ ارادت کی
وسعت کی خاطر اپنے مشائخ سے مروی نامعلوم کہاں کہاں کی کون کون سی روایتیں بیان کرتے رہتے ہیں اور اپنی بداعمالیوں کو ان کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقررین و واعظین اپنی تقریریں جمانے کے لیے نہایت غیر معتبر قصے اور روایتیں بیان کر جاتے ہیں، ذرا بھی تامل نہیں کرتے ہیں کہ جو ہم تک روایت پہنچی وہ اصول روایت کے مطابق صحیح ہے کہ نہیں؟ پھر صحت کی صورت میں ضرورت ہے کہ ان اشخاص پر نظر رکھیں جن کے سامنے بیان کر رہے ہیں کہ ان حال کے موافق ترغیب ہے یا ترہیب۔ آج جہاں ہر طرف فساد کے طوفان اٹھ رہے ہیں وہیں دعوت و تبلیغ کے اصول سے ناوافقیت یا اپنے حظوظ نفسانیہ کی خاطر وہ کردار اپنایا جا رہا ہے کہ الامان الحفیظ۔
امام اہل سنت قدس سرہ کے مبارک کلام میں آپ نے انقطاع کی صورتیں پڑھیں۔ آج کے دور میں اس چیز پر نظر رکھنا حد درجہ ضروری ہے۔ آج کے مشائخ، پیر اور سجادہ نشینان حضرات پیری مریدی چمکانے کے لیےکسی چیز کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں اور لوگ دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں بہت سے وہ بے چارے ہیں جنھیں قرب و عرفان کی طلب ہے اور ان کی تحصیل کے لیے وہ بیعت کرتے ہیں، بعض ایسے ہیں جو بزرگوں کی نسبت و تعلق دینی و اخروی اور دنیوی فوائد کی خاطر بیعت کرتے ہیں، لیکن آپ نے پڑھا کہ پہلا مقصد جب حاصل ہوگا جب کہ اتصال کے شرائط کے ساتھ ساتھ ایصال کے شرائط بھی پائے جائیں۔ ہر مرید کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیعت سے قبل اچھی طرح دیکھ لے کہ مقصد بیعت اس سے حاصل ہو سکتا ہے یا نہیں اور مقصد دوم کے لیے ضروری ہے کہ کم سے کم شیخ اتصال تو ہو۔ آج غائر نظر سے دیکھیں تو بہت کم پیران شرائط پر پورے اترتے نظر آئیں گے۔
آپ پڑھ چکے کہ فلاح ظاہر و باطن کے لیے مرشد کی ضرورت ہے اور مرشد کے لیے کیا کیا لازم ہے اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے: ‘‘فلاح انسان کے لیے
بیشک مرشد خاص کی حاجت ہے اور وہ بھی شیخ ایصال کی، شیخ اتصال اس کے لیے کافی نہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی بیعت ارادت و بیعت تبرک یہاں بس نہیں، اس راہ میں وہ شدید باریکیاں، سخت تاریکیاں ہیں کہ جب تک کامل مکمل اس راہ کے جملہ نشیب و فراز سے آگاہ و ماہر حل نہ کر لے حل نہ ہوں گی۔ نہ کتب سلوک کا مطالعہ کام دےگا کہ یہ دقائق تقویٰ کی طرح محدود و معدود نہیں جن کا ضبط کتاب کر سکے، الطرق إلی اللہ بعدد انفاس خلائق اللہ تک راستے اتنے جتنی تمام مخلوقات کی سانسیں۔
حضور سیدنا غوث اعظم فرماتے: إن اللہ لا یتجلّیٰ لعبد فی صفتین ولا فی صفۃ لعبدین’’ (اللہ عز و جل نہ ایک بندے پر دو صفتوں پر تجلّی فرمائے اور نہ ایک صفت سے دو بندوں پر) اور ہر راہ کی دشواریاں، باریکیاں اور گھاٹیاں جدا ہیں جن کو نہ یہ خود سمجھ سکےگا نہ نہ کتاب بتائےگی اور وہ پرانا دشمن مکار پر فن ابلیس لعین ہر وقت ساتھ ہے، اگر بتانے والا، آنکھیں کھولنے والا ساتھ نہ ہو تو خدا جانے کس کھوہ میں گرائے، کس گھاٹی میں ہلاک کرے۔ ممکن کہ سلوک درکنار، معاذ اللہ ایمان تک ہاتھ سے جائے جیسا کہ بارہا واقع ہو چکا ہے۔
حضور سیدنا غوث اعظمرضی اللہ عنہ کا ابلیس کے مکر کو رد فرمانا اور اس کا کہنا کہ اے عبد القادر! تمھیں تمھارے علم نے بچا لیا، ورنہ اسی دھوکے سے میں نے ستر اہل طریق ہلاک کیے ہیں۔ معروف و مشہور اور کتب ائمہ مثل ‘‘بہجۃ الاسرار شریف’’ وغیرہ میں مروی و مسطور۔
پھر کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں: غالب یہی ہے کہ بے پیر اس راہ چلنے والا ان آفتوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اور گرگ شیطان اسے بے راعی کی بھیڑیا کر نوالہ کر لیتا ہے، اگرچہ ممکن ہے کہ لاکھوں میں ایک ایسا ہو جسے جذب ربّانی کفایت و کفالت کرے اوربے توسط پیر اسے مکائد نفس و شیطان سے بچا کر نکال لے جائے، مرشد
عام مرشد خاص کا کام دےگا۔ خود حضور اقدسﷺ اس کے مرشد خاص ہوں گے کہ بے توسط نبی کوئی وصول ممکن نہیں، مگر یہ ہےتو نہایت نادر ہی اور نادر کے لیے حکم نہیں ہوتا۔
اگر کسی بھی پیر سے کسی بھی سلسلے میں بیعت کر چکا ہے اور کچھ حاصل نہیں ہے تو اپنے پیر اور اس کے اوپر والے پیروں میں غور کرے کہ کوئی کہیں سے انقطاع تو نہیں یا پیر میں شرائط سے کوئی مفقود تو نہیں ہے یا اگر شرائط اتصال موجود ہیں تو اتصال حاصل اور اگر اسے طریقت و روحانیت کی طلب ہے اور شیخ صرف اتصال کی حیثیت رکھتا ہے، ایصال کی منزل پر نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کوئی شیخ ایصال طلب کرے اور تلاش کرے۔ میں نے تلاش کا طریقہ آداب طریقت وغیرہ میں لکھ دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس میں کسی خاص مشرب یا سلسلے کی ضرورت نہیں۔ چاروں مشہور سلاسل یا ان کے علاوہ کسی بھی سلسلے میں شیخ ایصال ملے تو انسان کو اس سے اکتساب فیض کر لینا چاہیے۔
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے شریعت کے دائرے میں نہایت تفصیل اور بڑی جامعیت کے ساتھ اس مسئلے کو بیان فرما دیا جیساکہ اس کے ضروری حصے آپ نے پڑھے۔ سلسلہ قادریہ یا سرکار غوثیت مآبرضی اللہ عنہ سے خاص عقیدت و تعلق ہوتے ہوئے بھی انھوں نے کسی خاص مشرب یا سلسلے کی قید نہیں لگائی، مقصود عرفان الٰہی ہے، کہیں سے بھی میسر آئے اور شرائط کا وجود یا فقدان کسی بھی سلسلے کےپیر و شیخ میں ہو سکتا ہے۔
آج کل بعض متعصب پیر یا مرید لوگوں کو اپنے فائدوں کی خاطر اپنے آپ سے جوڑے رکھنے کے لیے عجیب عجیب خلاف شرع اور خلاف اصول طریقت باتیں کرتے ہیں، تعصب و عناد نے انھیں اندھا کر دیا ہے، وہ خود بھی مجروح ہیں اور دوسروں کو بھی مجروح رکھنا چاہتے ہیں۔
جملہ سلاسل جن میں شرائط بیعت پائے جاتے ہیں سب موصل الی اللہ، سب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی مستقل راہیں ہیں، سب میں فیضان ہے، ہر ایک سے ہزاروں، بلکہ لاکھوں لوگ دولت وصل و عرفان حاصل کر چکے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر ایک سلسلہ قرب و عرفان کے فیضان میں مستقل ہے اور بندے کے لیے جو کمالات ممکن ہیں وہ ان میں سے کسی سے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ قرب و عرفان کی دولت موجبہ نہ سلسلہ ہے نہ کوئی خاص شخص، اس کا واسطہ شیخ کامل مکمل ہے، کسی بھی سلسلے کا ہو۔ بعض بزرگوں نے اپنے ذوق یا محبت کی وجہ سےکچھ جمع فرما دیے جن کو سند بنا کر لوگ فتنے اٹھاتے رہتے ہیں۔ محققین اولیاء اللہ نے نہ کبھی ایسی باتیں کہیں اور نہ کبھی کہیں سے اکتساب فیض سے روکا، بلکہ ان کی غایت درجہ بے نفسی یہ رہی کہ کسی کو بلند استعداد دیکھا اور خود کو اس کی حسب استعداد منزل تک پہنچانا مشکل سمجھا تو حکم دے کر دوسروں کے پاس بھیج دیا۔
آج مادیت کے غلبہ نے عام طور خانقاہوں اور مشائخ کو روحانیت سے محروم کر دیا ہے۔ بعض عقائد و اعمال میں بگاڑ و فساد کی وجہ سے محروم ہو گئے ہیں، صرف چند خانقاہی رسوم باقی رہ گئے، وہی مریدوں کی تسلی کا سبب بنے ہوئے ہیں جب کہ اس سے کچھ حاصل نہیں۔ عوام تو عوام خواص شرائط پر غور نہیں کرتے، نہ پرکھتے ہیں، نہ کسوٹی کے اصول پر جانچتے ہیں۔ کوئی کسی خانوادے کی شہرت دیکھتا ہے، کوئی آبا و اجداد کا کہیں سے منسلک ہونا دیکھتا ہے، کوئی کچھ دیکھتا ہے، کوئی کسی کی بے جا تعریف کے چکر میں آجاتا ہے۔
معلوم رہے کہ پروردگار جل و علا نے دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لہٰذا دین کو اس کے ظاہر و باطن کے ساتھ محفوظ رہنا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے جس سے چاہے ظاہر کی یا جس سے چاہے باطن کی یا دونوں کی حفاظت کا کام لے لے، اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایک خاندان سے ہی کام لے، بلکہ تجربہ و مشاہدہ یہ
ہے نیز اولیاء اللہ کی صراحت بھی موجود ہے کہ یہ دولت ہمیشہ ایک جگہ نہیں رہتی ہے، اس کے خیمے اکھڑتے رہے ہیں اور نئی نئی جگہوں پر لگتے رہتے ہیں۔
معلوم ہو کہ سلسلہ خداوند قدوس تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے ، ان میں کسی کو کسی پر فضل کلی حاصل نہیں، ہماری معلومات کے مطابق جو ان میں تفاوت یا فضل ہے اس کے متعدد وجوہ ہیں مثلاً (۱)سلسلہ کا قریب تر ہونا یا اذکار و اشغال کے اعتبار سے سہل تر اور آسان تر ہونایا انوار نسبت کی کیفیت کا مختلف ہونا یا کسی خاص شخص کے اپنے کمالات وغیرہ کا انکشاف اور اس کی ان کمالات کے ظہور میں توجہات کا شامل رہنا یا کسی کا کسی قوم یا زمانے کے لحاظ سے مناسب اور طبیعتوں اور مزاجوں کے موافق ہونا یا کسی خاص عظیم تر کی طرف نسبت ہونا وغیرہ۔ یہ ان وجوہ کے اعتبار سے بعض بعض پر جزئی فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر ان وجوہ میں بھی دیکھا جائےگا کہ کون کس وجہ سے افضل ہے اور اس وجہ کو اصل فضل میں کتنا دخل ہے۔ بعض بزرگوں نے اپنے ذوق یا عشق و عقیدت کی بنیاد پر کسی کو بحر کسی کو نہر کہہ دیا، یہ ان کا ادب ہے یا خاص عقیدت، ہمیں اس سے بحث نہیں، ہم بھی ادباً اس پر کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتے، مگر ان متعصبین اور حقیقت سے ناواقف لوگوں سے ضرور شکایت ہے کہ وہ اس طرح کی چیزوں کو جو کسی ایک زبان سے نکلی ہیں حجت بنا کر سب کی توہین کرتے ہیں اور اکتساب فیض سے روکتے ہیں۔ پھر یہ بھی دھیان رہے کہ محض کسی سلسلے سے بیعت کافی نہیں، بلکہ انسان اصل تصوف کا مکلف ہے خواہ کسی بھی سلسلے سے حاصل ہو۔
اصلاح باطن: (بارہواں فائدہ)
ارشاد ربّانی ہے:
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ (سورۃ یونس: ۱۰؍۶۳)
ترجمہ: سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔’’
آیت کریمہ کے الفاظ مبارکہ میں ولایت کا مدار دو چیزوں پر رکھا گیا: ایمان اور تقویٰ اور ان دونوں کے بے شمار مدارج ہیں، جس کو جس درجے کا تقویٰ حاصل ہوگا وہ اسی درجہ کا مومن ہوگا۔ سب سے ادنیٰ درجہ کا ایمان و تقویٰ ہر مومن کو حاصل ہے۔ اس درجے کی ولایت عامہ کہلاتی ہے اور اعلیٰ درجہ کا ایمان و تقویٰ جن کو حاصل ہوگا ان کی ولایت کو ولایت خاصہ کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ جس طرح قرآن نے ہمیں نماز روزے وغیرہ کی جگہ جگہ حکم دیا ہے اسی طرح ایمان و تقویٰ کا بھی حکم دیا ہے تو جیسے وہ فرض ہیں ویسے یہ بھی فرض اور ایمان و تقویٰ کا حصول اصلاح باطن پر موقوف۔ لہٰذا اصلاح باطن بھی فرض ہوئی۔ آپ قرآنی آیات غور سے پڑھیں، اکثر جگہوں پر ایمان کا محل قلب کو قرار دیا ہے، فرماتا ہے:
اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْاِیۡمَانَ (سورۃ المجادلۃ: ۵۸؍۲۲)
ترجمہ: یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا۔’’
ہر ذی علم جانتا ہے کہ ایمان نام ہی در اصل تصدیق قلب کا ہے۔ اسی طرح مسلم کی حدیث ہے، سرکار دو عالمﷺ فرماتے ہیں: التقویٰ ھٰھنا و أشار إلی الصدر (یعنی تقویٰ اس جگہ ہے اور سینے کی طرف اشارہ کیا)
خیال رہے کہ یہ ہم پہلے بیان کر چکے کہ شریعت کے کچھ احکام ظاہرہ ہیں جن کا تعلق قالب یا ظاہر بدن سے ہے اور کچھ اعمال باطنہ جن کا تعلق باطن یعنی قلب سے ہے اور دونوں قسموں میں کچھ مامورات ہیں اور کچھ منہیات، بلکہ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ اصل مقصود تصفیہ قلب و تزکیہ نفس ہے اور اعمال ظاہرہ باطن کی اصلاح و ترقی کے لیے ہیں۔
ظہور علوم و معارف: (تیرہواں فائدہ)
پروردگار جل و علا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، اسے طرح طرح کی قوتوں اور حواس سے نوازا۔ آج علوم ظاہر خواہ دینی ہوں یا دنیوی کس قدر وسیع پیمانے پر وجود میں آچکے ہیں۔ اگر آپ کو انسانی صلاحیتوں کا اندازہ کرنا ہے تو ائمہ مجتہدین و محدثین و مفسرین اور متکلمین اور دیگر فنون عقلیہ کے ماہرین و موجدین کو دیکھ لیجیے کہ علوم و فنون کو کس چوٹی پر پہنچا دیا۔ جس خالق جل و علا نے وہ قویٰ و حواس بخشے جن کے ذریعہ یہ علوم نقطہ ٔ آخر تک پہنچ گئے وہی رب تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایسے قویٰ و حواس بخشتا ہے جن کے ذریعہ وہ علوم منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتے ہیں جن تک اہل ظاہر کی رسائی نہیں۔ ہم نے ایک الگ تحریر میں اس مضمون کو قدرے تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ نیز کتاب ‘‘کشف و الہام’’ میں اس علم کا ذریعہ اور اس کے متعلقات کچھ تفصیل سے بیان کر دیے ہیں جو اہل اللہ کو تو ریاضت نفس اور تصفیہ قلب کی بدولت حاصل ہوتے ہیں اور جن کو وہ علم باطن کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ علوم کی اشرف ترین اور افضل ترین قسم ہے جس سے یہ مقربین الٰہی ممتاز اور مخصوص ہوتے ہیں اور اس قدر وسیع و عریض ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ علوم اولیاے کرام کی ہلکی سی جھلک کتاب مذکور میں آپ پڑھیں گے، اندازہ کر لیں گے کہ یہ وہ علوم ہیں جو بحر نا پیدا کنار سے تعلق رکھتے ہیں اور علوم مقصودہ میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
یہاں اتنا خیال رہے کہ خیالی صورتوں میں تصرف کرنے سے ان ظاہری و باطنی حواس و قویٰ کا احساس جو علم ظاہر کی طرف منسوب ہے اس کا تعلق روح نفسانی ہے یعنی روح نفسانی کی مدد و قوت کے ذریعہ یہ حواس و قویٰ اشیا کا حس و ادراک کرتے ہیں اور روح نفسانی اور تمام قوتوں خاص کر حواس خمسہ باطنہ جو مناطقہ نے بیان کیے ہیں کا محل دماغ ہے اور جملہ قویٰ و حواس جن سے علم ظاہر متعلق ہے سب انسان کے لیے موجود بالفعل ہیں۔ اس کے برخلاف جس کو ہم علم باطن کہتے ہیں
بعض صوفیہ کا کہنا ہے یہ اپنے قویٰ و حواس کے ساتھ انسان میں موجود بالقوہ ہے، یہ تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کے بغیر موجود بالفعل نہیں ہو سکتا ہے۔ نیز علوم ظاہر میں احساس کا واسطہ نفس ناطقہ کو کہا گیا ہے اور ان علوم باطن کے احساس کا واسطہ نفس ناطقہ کے علاوہ روح نفسانی کے مانند ایک روح ہے، اسی روح کی مدد و قوت کے ذریعہ یہ حواس ادراک کرتے ہیں۔ علوم باطن اور اس سے متعلق جملہ قویٰ و حواس کا محل قلب ہے۔ جب تصفیہ قلب کی دولت حاصل ہوتی ہے اس وقت یہ قویٰ و حواس کھل جاتے ہیں اور علوم باطن کی استعداد حاصل ہو جاتی ہے۔
چناں چہ حضرت حجۃ الاسلام امام محمد غزالی قدس سرہ کیمیاے سعادت میں فرماتے ہیں: دل کے اندر سے ایک روزن (روشن دان) ملکوت آسمان کی طرف کشادہ ہوتا ہے جیسا کہ بیرون دل سے پانچ دروازے عالم محسوسات کی طرف کھلتے ہیں۔ جب وہ روزن کھل گیا تو علوم باطن کی استعداد موجود بالفعل ہو گئی، عالم باطنی کا ادراک خوب خوب ہونے لگے گا۔ بہر حال یہ تصوف کی خاص کرم فرمائی ہے کہ اس کے ذریعہ انمول اور انوکھے علوم جلوہ گر ہوئے۔’’
حقیقت نفس: نفس کے معانی اور مخالفت نفس کے آسان چند طریقے ہم ‘‘سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف’’ میں بیان کر چکے۔ یہاں چند امور دیگر ذکر کرتے ہیں۔
حضرت داتا لاہوری کا ارشاد: حضرت داتا لاہوری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ نفس کے لغوی معنیٰ وجود شے اور حقیقت و ذات کے ہیں۔ پھر کچھ معانی بیان کرکے فرماتے ہیں: ارباب طریقت کا اس پر اتفاق ہے کہ در حقیقت تمام شر اور برائی کا سرچشمہ ہے جو بڑا امام اور قائد ہے، لیکن ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ نفس وہ شے ہے جو قالب میں بطور امانت رکھا گیا ہے جیسے روح۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ یہ قالب ہی کی ایک صفت ہے جس طرح حیات و زندگانی اس کی صفت ہے بایں
ہمہ اس میں سب متفق ہیں کہ کمینہ خصلتیں اور برے افعال اسی سے ظاہر ہوتے ہیں۔’’
حضرت قشیری کا ارشاد
حضرت امام ابو القاسم قشیری قدس سرہ فرماتے ہیں: لغت میں نفس الشئ سے مراد شے کا وجود ہوتا ہے اور صوفیہ کے یہاں مطلق نفس کہنے سے وجود مراد نہیں لیا جاتا اور نہ ہی وہ ڈھانچہ مراد لیا جاتا ہے جو نفس کا موضوع ہے۔ نفس سے ان کی مراد بندے کے اوصاف ہیں جن میں خامی پائی جاتی ہے اور وہ اخلاق و افعال مراد لیے جاتے ہیں جو مذموم ہیں۔ بندے کے افعال جن میں کوئی علت پائی جائے دو قسم کے ہیں: (۱)وہ اوصاف جن کو اپنے اختیار سے حاصل کیا جائے جیسے معصیت اور احکام شرع کی مخالفت (۲)اخلاق مذمومہ۔ یہ قسم اپنی ذات میں مذموم ہوتی ہے، اگر بندہ کوشش کرے اور ان سے جنگ کرے تو متواتر عادت بنا لینے اور معاہدہ کے ذریعہ اخلاق مذمومہ سے نجات پا لیتا ہے۔ نفس کے احکام میں سے پہلی قسم وہ ہے جس کو قطعی طور پر حرام قرار دے کر منع کیا گیا ہے یا تنزیہی طور پر ان سے احتراز کرنے کو کہا گیا ہے، دوسری قسم میں ردی اور مذموم اخلاق ہیں۔
مختصر طور پر یہی اس کی تعریف ہے ، اس کے بعد اس کی تفصیل آتی ہے۔ چناں چہ کبر، غضب، کینہ، حسد، سوء خلق اور عدم تحمل وغیرہ اخلاق مذمومہ ہیں۔ احکام نفس میں سے سخت اور مشکل ترین یہ ہے کہ ان میں سے کسی خلق کو اچھا سمجھے یا قابل قدر خیال کرے۔ اس قسم کے خیال کو شرک خفی میں شمار کیا گیا ہے۔ (پھر دو سطر بعد)
ممکن ہے کہ نفس ایک لطیف چیز ہو جسے اس جسم کے ڈھانچے کے اندر رکھ دیا گیا ہے، یہی مذموم افعال کا محل ہے جس طرح روح اس قالب کے اندر ایک لطیف شے ہے جو اخلاق محمودہ کا محل ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے پر غالب آتے
رہتے ہیں اور سب کو ملا کر انسان نام رکھ دیا گیا ہے۔ خیال رہے قریب قریب اسی طرح کا کلام کشف المحجوب میں ہے۔