مواد پر جائیں

باب ۸ از ۵۴صفحات ۱۱۲–۱۲۲

صوفیہ کی خصوصیات

کتاب اللمع میں متعدد خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے، ہم اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ آپ مزید انھیں پہچان سکیں اور ان کی عظمت کا پتا لگا سکیں:

۱۔ صوفیہ کرام کے تمام طبقے محدثین و فقہا کے معتقدات سے کامل اتفاق رکھتے ہیں۔ نیز ان کے علوم و فنون، مطالب و مفاہیم وغیرہ سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔

۲۔جو صوفیہ علمی اعتبار سے محدثین و فقہاکے برابر نہیں ہیں وہ قوانین حدود شریعت کے مشکل مسائل کے حل کے سلسلے میں انھی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جس پر ان کا اتفاق ہوتا ہے اسے قبول کر لیتے ہیں اور جہاں ان میں باہم اختلاف ہوتا ہے وہاں صوفیہ احسن، اولیٰ اور مکمل ترین صورت اپناتے ہیں تاکہ

انتہائی حزم و احتیاط کے ساتھ عمل ہو سکے۔ امور دین کے معاملے میں کسی قسم کی چھوٹ، تاویل۔ آسائش ڈھونڈنے اور شبہات کو راہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان سب کے علاوہ صوفیہ کے عمل کا ایک اور درجہ ہے وہ ہے مراتب بلند کی جانب بڑھنا۔ الغرض صوفیہ اخلاق جمیلہ اور عبادات و حقائق عبادت وطاعت کے جن بلند ترین احوال و منازل پر فائز ہوئے اور جن اسرار و رموز سے وہ مختص ٹھہرے وہ کسی کو نصیب نہ ہوئے۔ یہ دونوں چیزیں ان کے عمل و اعتقاد سے متعلق ہیں۔

۳۔فرائض کی ادائگی اور افعال ممنوعہ سے اجتناب کے وقت اپنے سے غیر متعلق چیزوں کو علا حدہ کر دیتے ہیں اور ہر اس تعلق کو ختم کر دیتے ہیں جو ان کے اور مطلوب و مقصود کے درمیان حائل ہو۔

۴۔ان کے آداب سے زیادہ کے مقابلے تھوڑی پر قناعت، قوت لایموت، ضروری لباس، بچھونا اور دیگر انتہائی ضروری چیزوں پر گزارہ، امیری پر فقیری کو ترجیح، کثرت کے مقابل قلت پر قناعت، شکم سیری پر بھوک کو اختیار کرنا، غرورو فخر اور علو مرتبت سے کنارہ کشی، چھوٹوں پر شفقت اور ہر ایک سے تواضع سے پیش آنا، خلق خدا کے لیے بوقت ضرورت قربانی دینے کی جرأت، دنیا حاصل کرنے والوں پر رشک نہ کرنا، اللہ سے حسن ظن، طاعت میں سبقت، تمام اچھائیوں کی طرف قدم بڑھانا، توجہ الی اللہ، فقط اللہ سے لو لگانا، آزمائشوں پر صبر اختیار کرنا، اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر اظہار رضا مندی، مسلسل مجاہدۂ نفس، مخالفت خواہشات اور نفس امارہ سے دشمنی جسے اللہ تعالیٰ نے أمّارۃ بالسوء کے نام سے پکارا۔

پوشیدہ حکمتوں پر غور و خوض، خوف الٰہی، برے خیالات اور غافل کر دینے والے ایسے افکار جنھیں بجز ذات علیم و خبیر کے کوئی نہیں جانتا، کو ذہنوں میں جگہ نہ دینا۔ گویا وہ اس حالت میں اپنے معبود حقیقی کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ ان کے دل حاضر، ارادے مجتمع، اور نیتیں سیدھی ہوتی ہیں۔ بلا شبہ اللہ جل شانہ اپنے

بندوں کی وہی عبادت قبول فرماتا ہے جو خالصۃً اسی کے لیے ہو جیسا کہ ارشاد فرمایا:

اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ( ) (ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے)

۵۔صوفیہ کے خصائل میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اولیاء اللہ کے راستوں پر چلتے ہیں، اس کے بندگان خاص کی منزلوں کو پانے کی سعی کرتے ہیں اور حقوق کی اصلیت جاننے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ روح کی مکمل توجہ، نفس کشی، اللہ کی راہ میں زندگی کو موت پر ترجیح دینے، عزت کی بجائے اللہ کے لیے ذلت قبول کرنے کا ایثار، گوہر مراد پانے کے لیے آسائش کی جگہ تنگی اور ارادہ حق کو اپنا ارادہ تصور کرنے کے ساتھ حاصل کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں مختلف اسما

قرآن کریم میں بلند و بالا اور اللہ کے مقبول بندوں کو مختلف ناموں اور اسما سے ذکر کیا گیا ہے، چند یہ ہیں: الصّٰدِقِیۡنَ (سچے) الصّٰدِقٰتِ (سچی عورتیں) الْقٰنِتِیۡنَ (ادب والے فرماں بردار) الْقٰنِتٰتِ (ادب والی فرماں بردار عورتیں) الْخٰشِعِیۡنَ (عاجزی کرنے والے) الْمُوۡقِنِیۡنَ (یقین کرنے والے) الْمُخْلَصِیۡنَ (صرف اللہ کی بندگی کرنے والے) الْمُحْسِنِیۡنَ (نیکی کرنے والے) الْخَآئِفِیْنَ (اللہ کا خوف رکھنے والے) الْرَّاجِیۡنَ (امید رکھنے والے) الوَجِلِیۡنَ (ڈرنے والے) العٰبِدِیۡنَ (عبادت کرنے والے) السَّآئِحِیۡنَ (روزہ رکھنے والے) الصّٰبِرِیۡنَ (صبر والے) الرَّاضِیْنَ (راضی رہنے والے) الْمُتَوَکِّلِیۡنَ (توکل والے) الْمُخْبِتِیۡنَ (تواضع والے) الْاَوْلِیَآءُ (اللہ کے ولی) الْمُتَّقِیۡنَ (تقویٰ والے) الْمُصْطَفَیۡنَ (منتخب چنے ہوئے) الْمُجْتَبِیْنَ (چنے ہوئے) الْاَبْرَارُ (نیکو کار) الْمُقَرَّبِیۡنَ (قرب والے) اور ایک اسم مشاہدین کا ذکر اس آیت میں یوں فرمایا:

>>>>>>>>>>>>>>>>>>

۔ سورۃ الزمر: ۳۹؍۳

: اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ( ) (یا کان لگائے اور متوجِّہ ہو) اور صوفیہ کے لیے ایک اسم الْمُطْمَئِنِّیْنَ کا ذکر یوں فرمایا: اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ( ) (سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے)

معلوم رہے کہ ان اسما میں سے اکثر قرآن کریم میں بعینہ موجود ہیں، مگر چند ایک بعینہ موجود نہیں، تاہم مختلف آیات سے یہ ثابت ضرور ہوتے ہیں جیسے الْرَّاجِیۡنَ کہ یہ اسم جوں کا توں کسی آیت میں مذکور نہیں، لیکن آیت اُولٰٓئِکَ یَرْجُوۡنَ رَحْمَتَ اللہِ ( ) (وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں) سے ثابت ہے۔ حضرت امام ابو نصر سراج قد س سرہ فرماتے ہیں کہ مندرجہ بالا اسما کے ذریعہ قرآن میں صوفیہ کا ذکر آیا ہے۔ معلوم ہو کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ اسما جن اوصاف پر دلالت کرتے ہیں وہ اوصاف جس کثرت کے ساتھ صوفیہ میں پائے جاتے ہیں اس کثرت کے ساتھ اوروں میں نہیں پائے جاتے ہیں ، وہ یقیناً ان اوصاف کے مصداق ہیں ۔ یہ بات ہر اس شخص پر روشن و عیاں ہے جس نے ان کے احوال و مقامات اور خصائل و عادات اور ریاضات و مجاہدات کو پڑھا ہے۔ یہ چیز جہاں ان کی عظمت و منقبت پر دلالت کرتی ہے وہیں عند اللہ ان کی مقبولیت کی واضح دلیل ہیں۔

یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے آقا و مولیٰ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم اجمعین کو مخلوق میں سب سے زیادہ کمالات عطا فرمائے، بلکہ سب کے کمالات آپ کے مقابل بہت تھوڑے ہیں ۔ علما فرماتے ہیں: ساری مخلوق کے علم کو آقاﷺ کے علم سے وہی نسبت ہے جو ایک قطرہ کو

.......................

۔ سورۃ ق: ۵۰؍۳۷

۔ سورۃ الرعد: ۱۳؍۲۸

۔ سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۱۸

دریا سے ہے؛ اسی لیے حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ کمالات میں بے مثال اور ہر وصف میں بے مثال ہیں۔ یہ آقاﷺ کا فیضان ہے کہ اولیاے امت میں یہ اوصاف و کمالات جس کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں اوروں میں نہیں۔ نیز آپ دیگر افراد کا مطالعہ کریں تو کسی میں ایک، کسی میں دو یا کچھ زیادہ تھوڑی بہت کثرت کے ساتھ پائیں گے، مگر اولیاے کرام و صوفیہ عظام میں ہر وصف کمال عموماً آپ کثرت کے ساتھ پائیں گے۔ یہ چیز اس بات کی واضح دلیل ہے۔

قرب و نیابت رسولﷺ میں جو مقام ان اللہ والوں کو حاصل ہے وہ اوروں کو نہیں۔ اسی طرح خوف و خشیت، توبہ و انابت، ندامت و پشیمانی وغیرہ ، آہ و بکا، انس و محبت ایثار و قربانی، رحمت و شفقت وغیرہ اوصاف و اخلاق نبویﷺ سے آراستگی جس کثرت و شدت کے ساتھ اس مبارک جماعت میں ملےگی وہ اوروں میں نہیں۔ یہ سب ان کی عظمت و شان کی دلیل ہے۔

قلوب صوفیہ: بڑی مشہور حدیث ہے، بخاری وغیرہ نے روایت کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آقاﷺ فرماتے ہیں: جس علم و ہدایت کے ساتھ میں بھیجا گیا اس کی مثال موسلادھار بارش کی ہے جو زمین پر برسی، اس کے ایک قطعہ نے جو کہ قابل زراعت تھا پانی کو اپنے اندر جذب کر لیا اور اس میں خوب گھاس پیدا ہوئی، سبزہ اگا، اس کا ایک قطعہ تالاب اور جھیل کی طرح تھا جب اس میں بارش کا یہ پانی رکا اور جمع ہوا تواللہ تعالیٰ نے مخلوق کو نفع پہنچایا، لوگوں نے وہ پانی خود بھی پیا، دوسروں کو بھی پلایا، کھیتی باڑی میں بھی کام لیا۔ اور ایک قطعہ اس زمین کا بالکل بنجر تھا، نہ اس میں سبزہ اگا اور نہ ہی پانی اس میں پڑ سکا۔

پس یہ مثال اس کی ہے جو دین میں فقیہ ہوا اور اس کو اس شے نے نفع بخشاجس

کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا۔ پس وہ خود صاحب علم ہوا تو اس نے دوسروں کو بھی علم سکھایا۔ اور بنجر قطعہ کی مثال اس شخص کی ہے جو اس سے متنبہ اور بیدار نہ ہوا اور نہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول کیاجس کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا۔

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: پس صوفیہ کرام کے قلوب حافظ ہیں (اسرار الٰہی کے) اس لیے کہ انھوں نے دنیا کی طرف رغبت بہت کم کی اور اس کے بعد جب تقویٰ کی جڑ اور بنیاد ان کے اندر استوار اور مستحکم ہو گئی تو پرہیزگاری و تقویٰ سے ان کے پاکیزہ نفوس اور پاکیزہ زہد کی بدولت ان کے دل صاف و شفاف ہوگئے اور جب انھوں نے دنیا کے علائق کو زہد کی حقیقت سے نیست و نابود کر دیا تو اس وقت ان کے بطون کے مسامات کھل گئے اور وہ گوش دل سے سننے لگے اور زہد دنیا ان کا معاون و مددگار ہوا۔’’

پھر مفسرین و محدثین و فقہا کی خدمات وغیرہ ذکر کرکے فرماتے ہیں: چوں کہ قلوب صوفیہ مناسبت قریب رکھتے تھے اس لیے انھوں نے اس علم و ہدایت کا حصہ وافر حاصل کیا اور ان کے باطن بھی جھیل اور تالاب بن گئے۔ پھر انھوں نے علم سیکھا اور اس پر عمل بھی کیا جس طرح تالاب کہ ان کا پانی پیتے بھی ہیں اور اس سے آب رسانی کا کام بھی لیا جاتا ہے (کھیتیاں سیراب کی جاتی ہیں) پس انھوں نے تقویٰ کے بنیادی احکام سے علم دراست (دانائی) اور علم وراثت دونوں کو یکجا کر دیا۔ جب اس طرح ان کے نفوس پاک اور مزکیٰ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کے آئینوں کو صیقل (معرفت سے جگمگا دیا) جب یہ آئینے مصقول ہو گئے، ان میں جلا پیدا ہو گئی اور قبول انعکاس کی بھرپور صلاحیت ان میں آگئی تو ان پر صور اشیا اپنی تمام ماہیتوں اور ہیئتوں کے ساتھ ظاہر ہو گئیں ۔ دنیا کی ہیئت و ماہیت چوں کہ

قبیح تھی؛ اس لیے وہ قپنی تمام قباحتوں کے ساتھ ان پر ظاہر ہوئی اور انھوں نے اس کی یہ قباحتیں دیکھ کر اس کو چھوڑ دیا۔ اور آخرت اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ ان کے آئینہ ہاے قلوب پر منعکس ہوئی، اس کو انھوں نے قبول کر لیا اور اس کی طلب میں مشغول ہو گئے۔ عدم قبول دنیا سے جب ان کی بے رغبتی و بے تعلقی ظاہر ہوئی تو ان کے بطون پر انواع و قسام کے علوم اپنی تمام کیفیت و کمیت کے ساتھ وارد ہو گئے۔ اس طرح علم دراست کے ساتھ ساتھ علم وراثت بھی ان کو مکمل طور پر حاصل ہو گیا۔

حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ نے بڑی تفصیل سےاس مقام پر فقہ و فقہاکی خدمات وغیرہ ذکر کی اور علوم صوفیہ کے قلوب نے جو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسے علوم کے دروازے کھولےبہت اہم نکتہ کی طرف اشارہ، بلکہ صراحت کی ہے۔ آپ تجربہ سے دیکھیں کہ صوفیہ نے اپنے قلوب و اذہان کو ہر خیال غیر سے پاک کیا اور اس کو پورے طور پر اللہ تعالیٰ کے حوالے اور ہر چیز مطہر و مزکیٰ کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے معارف و حقائق کے دروازے کھول دیے اور وہ علوم جن کا تعلق ذات و صفات وغیرہ سے تھا، ان پر عیاں کر دیے، در اصل غیرت الٰہی کا تقاضہ یہی ہے کہ جس دل میں غیر کی گندگی ہوتی ہے، وہ جلووں سے دور رہتے ہیں اور سب سے پاک و صاف ہو جاتے ہیں، ان پر تجلیات کی بارش ہوتی ہے۔

اہل بہشت کی صفت

ارشاد ربانی ہے:

وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ( )

ترجمہ: اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیےآپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔

.................................

۔ سورۃ الحجر: ۱۵؍۴۷

حضرت ابو حفص قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو قلوب اللہ تعالیٰ کی محبت سے مالوف اور اس کی محبت پر متفق اور اس کی مودت میں مجتمع اور اس کے ذکر سے مانوس ہو گئے ہیں۔ ان میں کینہ و حسد کی طرح باقی رہ سکتا ہے۔ بیشک یہ دل نفسانی وسوسوں اور کدورتوں (تاریکیوں) سے پاک و صاف ہیں، بلکہ توفیق کے نور سے سرمگیں ہیں تو پھر وہ سب آپس میں بھائی ہو گئے۔’’ حقیقت ہے کہ ایک دل کو صاف کرکے صوفیہ بڑی عظمتوں کے مالک ہو گئے۔

علم ظاہر اور علم باطن: صوفیہ کرام کو اللہ تعالیٰ علم ظاہر کے ساتھ علم باطن کی دولت عطا فرماتا ہے۔ علم باطن سے کیا مراد ہے؟ حضرت امام ابو نصر سراج قدس سرہ فرماتے ہیں: جب ہم علم باطن کا نام لیتے ہیں تو ہماری مراد ان اعمال باطنی کا علم ہوتا ہے جو قلب پر جاری ہوتے ہیں اور علم ظاہر کا مفہوم ان اعمال ظاہری کا علم ہے جو انسان کے ظاہری اعضا انجام دیتے ہیں۔ اعمال باطنی کا تعلق قلب سے ہے جیسے مقامات، احوال یعنی تصدیق، ایمان، یقین، صدق، اخلاص، معرفت، توکل، محبت، رضا ذکر، شکر، توبہ ، خشیت، تقویٰ ، مراقبہ، فکر، اعتبار، خوف، امید، صبر، قناعت، تسلیم، تفویض،قرب، شوق، وجد، حزن، ندامت، حیا، تعظیم اور ہیبت۔’’

خلاصہ یہ کہ علماے ظاہر کو نظر و استدلال سے علم ہوتا ہے، وہ علم ظاہر ہے اور ارباب معرفت کو کشف و شہود اور الہام کے ذریعہ یہ علم باطن ہے، کشف و الہام کے ذریعہ کس کس کا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کو ہم قدرے تفصیل سے اپنی کتاب ‘‘کشف و الہام’’ میں بیان کر چکے ہیں۔

یہ بھی دھیان رہے کہ علم باطن قرآن و حدیث اور سلف صالحین کے اجماع سے ثابت ہے، اس کا انکار یا تو جاہل کرےگا یا معاند۔ آج ایسے بھی لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو علم باطن کے منکر ہیں۔ ہم اس کے ثبوت اور پر کچھ تفصیل پر علاحدہ تحریر

میں کلام کر چکے ہیں۔ توفیق الٰہی ہوئی تو ایک رسالہ علم باطن کے ثبوت میں تحریر ہوگا۔ صوفیہ کرام کا بڑا احسان ہے کہ انھوں نے تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کے ذریعہ علوم باطنہ کا بیش بہا خزانہ امت کو عطا کر دیا اور وہ حقائق توحید اور صفات وغیرہ بیان کر دیے کہ جس سے خداوند قدوس اور اس کے مقرب بندوں کی عظمتیں رفعتیں معلوم ہوئیں اور ان کے مراتب کا پتا چلا۔ ہمیں چوں کہ اس کتاب میں تصوف کے ضروری مسائل بیان کرنا ہے تاک کم علم انسان اصل تصوف کو جان لے اور اصول تصوف سے آگاہی حاصل کر لے؛ اس لیے ہم نے قیل قال اور طویل بحثوں سے اعراض کیا۔

چار پیر چودہ خانوادے

تصوف میں چار پیر اور چودہ خانوادے بہت مشہور ہیں۔ دھیان رہے کہ اکثر سلاسل تصوف امام الاولیا حضرت علی مرتضیٰ‌رضی اللہ عنہ سے منسوب ہیں۔ اس کی وجہ ہم حضرت مجدد قدس سرہ کے حوالے سے دوسری تحریر میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں خاص کر‘‘سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف’’ میں صوفیہ کرام کا کہنا ہے کہ خرقہ تصوف حضرت علی‌رضی اللہ عنہ سے مندرجہ ذیل چار حضرات کو ملا ہے:

(۱)حضرت امام حسن مجتبیٰ (۲)حضرت امام حسین (۳)حضرت کمیل ابن زیاد (۴)حضرت امام حسن بصری‌رضی اللہ عنہم۔ یہ چاروں حضرات چہار پیر کہلائے اور چودہ خانوادوں سے مراد یہ ہیں:

۱۔ خانوادۂ زیدیاں

حضرت امام حسن بصری کے مرید و خلیفہ حضرت عبد الواحد ابن زید(م۱۷۷ھ۷۹۳ء) جب آپ مسند ارشاد پر متمکن ہوئے تو ابناے عبد اللہ ابن عوف میں سے پانچ شخص ان کے مرید ہوئے انھوں نے حسب و نسب اور وطنی نسبت کو ترک کیا اور زیدیاں کہلائے۔ خانوادۂ زیدیاں سے وابستہ صوفی ہمیشہ بیابان میں رہتے ہیں۔ شہر اور آبادی میں نہیں جاتے، کسی سے فتوح ملے تو وہ

بھی قبول نہیں کرتے، تین یا چار روز کے بعد میوہ یا گھاس کھاکر افطار کرتے ہیں، کسی جان دار کو نہیں مارتے، حضرت عبد الواحد ابن زید کو حضرت حسن بصری اور حضرت کمیل ابن زیاد سے خرقۂ خلافت ملا تھا، آخری وقت آن پہنچا تو انھوں نے حضرت حسن بصری کی طرف سے ملا خرقۂ خلافت حضرت فضیل ابن عیاض (۱۰۵۔۱۸۷ھ ۷۲۳۔۸۱۲ء) کو اور حضرت کمیل ابن زیاد کا خرقۂ خلافت شیخ ابو یعقوب السوسی کو عطا کیا۔ ان دونوں سے مزید دو خانوادے جاری ہوئے۔

۲۔خانوادۂ عیاضیاں

حضرت فضیل ابن عیاض سے منسوب عیاضیاں کہلاتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں،نکاح نہیں کرتے ہیں گھریلو زندگی سے آزاد ہیں، نیا لباس نہیں پہنتے ہیں ، بلکہ چتھڑے اٹھا کر خرقہ پر پیوند کرتے ہیں، بے طلب جو میسر آئے خرچ کرتے ہیں، مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، مخلوق سے کنارہ کشی اور برہنہ پا سفر کرنا ان کا شیوہ ہے۔

۳۔خانوادۂ ادھمیاں

حضرت ابراہیم بن ادھم‌رضی اللہ عنہ کو حضرت خضر‌علیہ السلام اور امام محمد باقر (۵۷۔۱۱۴ھ۶۷۶۔۷۳۲ء) سے نسبت ارادت تھی جو صوفیہ اپنا نام و نسب اور وطن ترک کرکے حضرت ابراہیم بن ادھم‌رضی اللہ عنہ سے وابستہ ہیں وہ ادھمیاں کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں۔ مجرد زندگی گزارنا، ذکر جلی کثرت سے کرنا، اہل دنیا سے کنارہ کشی کرناان کا طریقہ ہے، بے طلب دست غیب سے جو مل جائے اسی پر گزارہ کر لیتے ہیں، ہمیشہ مجاہدہ و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔

۴۔خانوادۂ ھبیریاں

حضرت ھبیرہ بصری (۱۶۷۔۲۸۷؍۲۸۹ھ) سے منسوب ہیں۔ حضرت ھبیرہ بصری شیخ حذیفہ مرعشی‌رضی اللہ عنہ (۲۰۲ھ) کے مرید و خلیفہ تھے۔ ھبیریاں ہمیشہ باوضو رہتے ہیں، شہر اور بستی میں قیام نہیں کرتے، تجرّد کی زندگی گزارتے ہیں، پاسبانی دل کا خاص خیال رکھتے ہیں، کسی سے فتوح قبول نہیں کرتے، تین چار دن بعد میوہ یا جنگلی گھاس سے افطار کرتے ہیں۔

۵۔خانوادۂ چشتیاں

چشتیاں حضرت خواجہ علو دینوری‌رضی اللہ عنہ (۲۹۸ھ ۹۱۰ء)سے وابستہ ہیں۔ خواجہ موصوف حضرت ھبیرہ‌رضی اللہ عنہ کے مرید تھے۔ خواجہ علو دینوری کے مرید خواجہ ابو اسحاق چشتی (۳۲۹ھ ۹۴۰ء) ہیں جو شام کے رہنے والے تھے۔ جب آپ خواجہ علو دینوری کی خدمت میں آئے تو خواجہ نے پوچھا: کہاں سے آئے ہو؟ خواجہ ابو اسحاق نے جواب دیا: شام سے’’ خواجہ علو دینوری نے یہ سن کر کہا: آج سے تم چشتی کہلاؤگے’’ چناں چہ خواجہ علو دینوری نے انھیں اجازت نامہ دے کر چشت (خراسان) روانہ کی۔

خواجہ ابو اسحاق جب چشت پہنچے تو وہاں کے ایک رئیس خواجہ احمد چشتی (۲۶۰۔۳۵۵ھ ۸۷۲۔۹۶۵ء) ان کے مرید ہو گئے۔ خواجہ ابو اسحاق سے انھوں نے خرقہ خلافت حاصل کیا اور اپنے بعد اپنے فرزند خواجہ محمد چشتی (۳۳۱۔۴۱۱ھ ۹۴۲۔۱۰۲۰ء) کو خلافت عطا کی ۔ خواجہ محمد چشتی سے یہ خلافت ان کے خواہر زادہ خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی (۳۷۴۔۴۵۹ھ ۹۸۴۔۱۰۶۶ء) اور ان سے ان کے فرزند خواجہ قطب الدین مودود چشتی (۴۳۰۔۵۳۷ھ ۱۰۳۸۔۱۱۳۲ء) کو پہنچی۔ یہ پنج خواجگان چشت کہلاتے ہیں۔ بر صغیر میں اس خانوادے کے بڑے بزرگوں کو خوجگان چشت کہا جاتا ہے۔ یہ خانوادہ حضرت خواجہ غریب نواز (۵۳۶۔۶۳۳ھ ۱۱۴۱۔۱۲۳۶ء) کے توسط سے بر صغیر میں پہنچا۔ چشتی حضرات شہر و آبادی میں قیام کرکے مخلوق الٰہی کو دعوت دیتے ہیں، فقر و فاقہ کی زندگی بسر کرنا اور فقرا و مساکین سے محبت رکھنا ان کا شیوہ ہے، سماع کو پسند کرتے ہیں اور پیروں کا عرس مناتے ہیں۔