باب ۵۱ از ۵۴صفحات ۶۱۹–۶۲۹
مراتب حسد
۱۔ دوسرے آدمی سے نعمت کا زوال چاہے اگر پسندیدہ نعمت اس کی طرف منتقل نہیں ہوتی، یہ انتہائی درجہ کی خیانت ہے۔
۲۔ اس دوسرے آدمی سے نعمت کا زوال چاہے کیوں کہ یہ خود اس میں رغبت رکھتا ہے جیسے کسی خوب صورت مکان یا خوب صورت عورت، حکومت یا مالی حیثیت جو دوسرے کو حاصل ہے اور یہ چاہتا ہے کہ خود اسے حاصل ہو، اس کا مقصود صرف اس نعمت کا حصول ہے، دوسرے آدمی سے زوال مطلوب نہیں، وہ اس بات کو مکروہ جانتا ہے کہ وہ اس نعمت سے محروم ہے، دوسرے کا انعام یافتہ ہونا ناپسند نہیں کرتا۔
۳۔ اپنے لیے بعینہ اس نعمت کی خواہش رکھے، بلکہ اس کے مثل کی تمنا کرے اور اگر اس کا مثل حاصل کرنے سے عاجز ہو جائے تو اس شخص سے اس کا زوال چاہے تاکہ ان کے درمیان تفاوت ظاہر نہ ہو۔
۴۔ اپنے لیے اس کے مثل کی خواہش کرے اور اگر اس کو حاصل نہ کر سکے تو اس (دوسرے) سے اس کا زوال نہ چاہے۔
یہ آخری قسم کا حسد معاف کیا جاتا ہے اگر دنیا سے متعلق ہو اور اگر دین سے متعلق ہو تو مستحب ہے۔ تیسرے درجے کا حسد مذموم بھی ہے غیر مذموم بھی۔ دوسرے درجے کا حسد تیسرے درجہ سے ہلکا ہے اور پہلے درجے کا حسد محض مذموم ہے۔ دوسرے درجے کو مجازاً حسد کہا جاتا ہے، لیکن یہ قابل مذمت ہے۔
رشک اور حسد کے اسباب
رشک کا سبب اس چیز سے محبت ہے جس میں رشک کرتا ہے۔ اگر یہ دینی امر ہو تو اس کا سبب اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی محبت ہے اور اگر وہ دنیوی بات ہو تو اس کا باعث دنیا کی مباح اشیا کی محبت اور ان سے لطف اندوز ہونا ہے۔ مذموم حسد کے راستے بہت زیادہ ہیں، لیکن یہ تمام سات بابوں میں منحصر ہے۔
(۱)عداوت (۲)حصول عزت (۳)تکبر (۴)خود پسندی (۵)محبوب مقاصد کے فوت ہو جانے کا خوف (۶)حکومت کی خواہش (۷)نفس کی خباثت اور اس کا بخل۔
علاج:حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: حسد دل کی بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے اور اس کا علاج علم اور عمل ہی سے ہو سکتا ہے، اس کا علم نافع یہ ہے کہ یقین سے جان لو کہ حسد دنیا اور آخرت میں نقصان دیتا ہے اور جس سے حسد کیا جائے اس کا کوئی دینی یا دنیوی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اسے دونوں اعتبار سے فائدہ ہی ہوتا ہے۔ جب تم بصیرت کے ساتھ یہ بات جان لوگے اور تم اپنے نفس کے دشمن اور اپنے دشمن کے دوست نہیں بنوگے تو لازماً حسد سے دور ہوگے۔’’
جہاں تک دین میں حسد کے نقصان کا تعلق ہے تو اس کی صورت یہ ہے کہ تم نے حسد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کی اس نعمت کو ناپسند کیا جو اس نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کی ہے نیز اس عدل کو بھی ناپسند کیا جسے اس نے اپنی پوشیدہ حکمت کے تحت اپنے ملک میں قائم کیا ہے۔ تو تم نے برا جانا اور بے مزہ سمجھا اور یہ توحید کی آنکھ کی سیاہی اور چشم ایمان کا کوڑا ہے۔ دین میں تمھارے لیے اتنا جرم ہی کافی ہے جب کہ تم نے اس کے ساتھ مسلمان سے کینہ بھی رکھا اور اس کی خیر خواہی کو چھوڑ دیا۔ انبیاے کرامعلیہم السلام و اولیاے عظامرضی اللہ عنہم سے علاحدہ راستہ اختیار کیا کہ وہ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور تم
نے شیطان اور تمام کفار کا راستہ اختیار کیا کہ وہ اہل ایمان کے لیے مصائب اور زوال نعمت کے خواہاں رہتے ہیں۔ یہ قلبی خباثتیں ہیں جو قلبی نیکیوں کو اسی طرح کھاتی ہیں جس طرح آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔ دنیا میں اس کا نقصان یہ ہے کہ حسد کی وجہ سے حاسد کو تکلیف محسوس ہوتی ہے یا وہ عذاب میں مبتلا ہوتا ہے اور ہمیشہ غم و الم کا شکار رہتا ہے کیوں کہ جو نعمت کی وجہ سے حسد کرتا ہے وہ اس کے محسود سے اللہ تعالیٰ واپس نہیں لیتا اور حسد کرنے والا جب نعمتوں سے مالا مال دیکھتا ہے تو اس سے جلتا ہے اور جب اس سے کوئی مصیبت زائل ہوتی ہے تو یہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور یوں مغموم و محروم ہوتا ہے، دل پریشان اور سینہ تنگ ہوتا ہے۔
حب جاہ و مرتبہ کی مذمت
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: جاہ کا مطلب لوگوں میں مشہور ہونا ہے اور یہ مذموم ہے، بلکہ گمنامی قابل تعریف ہے۔ یہ الگ بات کہ اللہ تعالیٰ کسی دشمن کو اپنا دین پھیلانے کے لیے مشہور کر دے اور اس میں حصول شہرت کے لیے کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس تعلق سے چند احادیث ملاحظہ ہوں:
۱۔ حضرت انسرضی اللہ عنہ راوی کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ کسی انسان کی برائی کے لیے یہی کافی ہے کہ لوگ اس کے دین یا دنیا میں اس کی طرف اشارہ کریں، مگر جس کو اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔(شعب الایمان)
۲۔ بہت سے بکھرے بال، غبار آلود، پرانے کپڑوں والے جس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دیتا ہے۔(مسلم)
۳۔ آپﷺ فرماتے ہیں: کیا تمھیں نہ بتاؤں کہ جنتی کون ہیں؟ ہر کمزور جو کمزور کر دیا گیا اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے اور دوزخی وہ ہے جو متکبر اکڑ کر چلنے والا ہو۔(بخاری)
معنیٰ: مال اور جاہ دنیا کے دو رکن ہیں۔ مال کا معنیٰ ان چیزوں کا مالک ہونا
ہے جن سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور جاہ کا مطلب دلوں کا مالک ہونا ہے جن سے اپنی تعظیم اور فرماں برداری مطلوب ہوتی ہے اور جس طرح مالدار آدمی درہموں اور دیناروں کا مالک ہوتا ہے یعنی اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ ان کے ذریعہ اپنے اغراض و مقاصد اور خواہشات کی تکمیل تک پہنچ سکے اور تمام نفسانی فوائد حاصل کر سکے۔ اسی طرح جس کو جاہ و مرتبہ حاصل ہوتا ہے وہ لوگوں کے دلوں کا مالک ہوتا ہے یعنی وہ ان میں تصرف پر قادر ہوتا ہے تاکہ ان کے دلوں کے واسطے سے ان لوگوں سے اپنے مقاصد اور اغراض حاصل کر سکے اور جس طرح آدمی مختلف قسم کے پیشوں سے مال کماتا ہے اسی طرح مختلف معاملات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اور دل اسی وقت مسخر ہوتے ہیں جب اس شخص کی معرفت اور اس پر اعتقاد ہو تو جس شخص میں کسی کمال کا اعتقاد ہو وہ اس کے لیے جھک جاتا ہے اور جس قدر قلبی اعتقاد ہوتا ہے اسی قدر وہ اس کے لیے مسخر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کے دل کا جھکاو اس آدمی کے کمال کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں یہ ضروری نہیں کہ واقعی اس میں کمال ہو، بلکہ اس کے ذہن و اعتقاد میں یہ ہو کہ وہ کمال والا ہے، بلکہ کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ وہ عدم کمال کو کمال سمجھ لیتا ہے اور اس کا اعتقاد رکھتا ہے اور اس شخص کے بارے میں کمال کا یقین رکھتا ہے کیوں کہ دل کا جھکاو دل کی ایک حالت اور کیفیت ہے اور دلوں کی حالتیں ان کے اعتقادات، علوم و تخیلات کے تابع ہوتی ہیں۔
خیال رہے کہ جاہ سے متاثر لوگ مدح اور تعریف میں حد سے بڑھتے ہیں کیوں کہ عادت ہے کہ جو شخص کسی کمال کا اعتقاد رکھتا ہے وہ اس کے فکر سے خاموش نہیں رہتا، لہٰذا اس کی تعریف کرتا ہے۔ اسی طرح اس جاہ کے نتیجے میں خدمت اور مدد لی جاتی ہے کیوں کہ معتقد اپنے اعتقاد کے مطابق اس کی اطاعت میں بخل سے کام نہیں لیتا ہے تو جس طرح ایک غلام اپنے مالک کے اغراض و مقاصد کے لیے
اس کے سامنے مسخر ہوتا ہے اسی طرح یہ بھی جاہ و مرتبہ کا نتیجہ، ایثار، تعظیم، سلام میں ابتدا، محافل میں آگے کرنا، بلکہ تمام مقاصد میں مقدم کرتا ہے۔
غرضیکہ کسی کے کمال کا اعتقاد یہ ثمرات لاتا ہے کمال خواہ علمی ہو یا عبادت، حسن اخلاق، حسب و نسب، ولایت، ظاہری حسن، بدنی قوت یا ہر وہ کمال کی بات جسے لوگ کمال سمجھتے ہیں۔ تو اول اس شخص کا جاہ و مرتبہ قائم ہو جاتا ہے کیوں کہ مذکورہ بالا اوصاف دلوں میں اس کے مقام کی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں، لہٰذا اس کے جاہ و مرتبہ کے قائم ہونے کا سبب ہیں۔
شہرت کی طلب
شہرت و عزت کی طلب کے لیے آج اہل دنیا جو جو کرتے ہیں وہ ہر عقل مند جانتا ہے؛ چندہ دیتے ہیں، غریبوں کی امدا کرتے ہیں، رفاہ عام کے کام کرتے ہیں، لوگوں کو مقرر کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعریف کریں، اخبارات و رسائل کو استعمال کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مگر اکثر اہل دین بھی اس میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں؛ کوئی تعلیم و تدریس کے ذریعہ، کوئی تصنیف و تالیف کے ذریعہ، کوئی اپنے نعرے لگوا کر، پرزور استقبال کروا کر، دینی مجلسوں میں ناظموں کے ذریعہ اپنے خطبات پڑھوا کر تقویٰ و شہرت اور برتری طلب کر رہا ہے۔ بہت ایسے ہیں جو اپنے فضائل اہل عقیدت میں بذات خود بیان کرتے ہیں اور ایسے طریقے پر کہ لوگ سمجھیں بس سب سے اعلیٰ و افضل یہی ہیں۔ اس معاملے میں غلو اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ ذرا بھی خیال نہیں کرتے کہ یہ نفس کی کتنی گہری چالیں ہیں، نفس امارہ ان کو کہاں لے جا رہا ہے۔
مشہور علما کی باہم لڑائیاں اور مشائخ کی حلقہ بندیاں زیادہ تر اسی کا نتیجہ ہیں۔ ہر پیر کے خصوصی مرید اس کام کے لیے مختلف قسم کی جد و جہد میں مبتلا ہیں، اگر کسی نے دست بوسی نہ کی تو ناراض، شایان شان استقبال نہ ہوا تو ناراض، اگر دینی و دنیوی جذبات رکھتے ہیں ان کو تفصیل سے نہ بیان کیا تو ناراض۔ بات در اصل یہ ہے کہ آج
کے دور میں تزکیہ نفس کا کام تو بالکل ختم ہو گیا،بلکہ اس کے برخلاف نفس طاقت ور کرنے کی چیزیں ہر وقت اختیار کی جا رہی ہیں، بلکہ نفس کی شرارتیں پورے طور پر ظہور میں آگئی ہیں۔ اب وہ کتابیں کہاں پڑھتے ہیں جن میں نفس کی شرارتیں اور باریک چالیں بیان کی گئی ہیں، عمل تو بہت دور کی بات ہے۔
اسباب: شہرت و عزت وغیرہ کے لیےاپنی مدح وتعریف کے اسباب یہ ہیں:
۱۔ سب سے قوی سبب یہ ہے کہ تعریف کے باعث نفس سمجھتا ہے کہ مجھے کمال حاصل ہے۔ جب نفس کو کمال شعور حاصل ہوتا ہے تو اسے آرام ملتا ہے، لذت حاصل ہوتی ہے اور تعریف سے کمال کا شعور ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ جن اوصاف کے ذریعہ تعریف ہوتی ہے وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو ظاہر و واضح ہوں، ایسے اوصاف کے ذریعہ لذت کم حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے وہ اوصاف جن کے بارے میں شک ہو۔ جب ایسے اوصاف کے ذریعہ تعریف ہوتی ہے تو لذت زیادہ حاصل ہوتی ہے جیسے کمال علم یا کمال تقویٰ یا حسن مطلق پر تعریف کی جائے کیوں کہ انسان کو بعض اوقات اپنے کمال حسن، کمال علم اور کمال تقویٰ میں شک ہوتا ہے اور اس بات کا شوق ہوتا ہے کہ شک زائل ہو جائے اور یقین ہو جائے کہ ان امور میں اس کا کوئی مثل نہیں، اس سےنفس کو لذت زیادہ حاصل ہوتی ہے۔
۲۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ مدح سرائی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تعریف کرنے والے کا دل ممدوح کی ملکیت بن چکا ہے اور یہ اس کا مرید، معتقد اور اس کی مشیت کے تحت مسخر ہے جب کہ دلوں کا مالک ہونا پسندیدہ اور محبوب اور اس کے حصول کا شعور لذیذ ہوتا ہے۔ اسی لیے تعریف کرنے والا اگر طاقت ور ہو اور اس کے قابو میں آنے سے نفع حاصل ہو جیسے اغنیا کو امرا و وزرا اور سلاطین تو لذت اور بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس میں دلوں کی تسخیر ہے۔ اور اگر تعریف کرنے والا کمزور اور
بے اعتبار ہو، کوئی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو لذت کم ہوتی ہے کیوں کہ اس قسم کے بے قدر انسان کے دل کا مالک بھی بن جائے تو یہ ایک حقیر چیز پر قادر ہونا ہے۔ یہ تعریف ممدوح میں قدرت کے ناقص ہونے پر دلالت کرتی ہے اور اسی سبب سے مذمت ناپسند ہوتی ہے، دل رنجیدہ ہوتا ہے اور اگر اکابر میں سے کوئی برائی بیان کرے تو رنج زیادہ ہوتا ہے۔
۳۔ تعریف اس بات کا سبب بنتی ہے کہ سننے والوں کے دل بھی معتقد ہو جائیں خاص کر جب کہ تعریف کرنے والا ایسا ہو جس کی طرف لوگوں کی توجہ ہوتی ہے اور اس کی تعریف قابل اعتبار ہو۔ یہ سب اس تعریف کے ساتھ خاص ہے جو مجمع میں ہو، مجمع جس قدر زیادہ ہوگا اسی قدر لذت زیادہ ہوگی۔
۴۔ تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ ممدوح بارعب شخص ہے اور تعریف کرنے والا تعریف میں مجبور ہے خواہ رغبت ہو یا جبراً انسان کو اپنا دبدبہ اور رعب بھی اچھا لگتا ہے اور تعریف سے لذت حاصل ہوتی ہے۔(ماخوذ از احیاء العلوم)
حب جاہ کا علاج
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: جس کے دل پر جاہ کی محبت غالب آجائے اس کا مقصد صرف مخلوق کی رعایت کرنا رہ جاتا ہے، لوگوں کے لیے دوستی اور ان کے لیے نمائش کرنا رہ جاتا ہے، وہ افعال و اقوال میں اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کا بڑا مقا م ہو اور یہی بات منافقت کا بیج اور فساد کی جڑ ہے اور یہ عبادات میں سستی اور دکھاوے اور ممنوع کاموں کے ارتکاب کا باعث بنتی ہے کیوں کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتا ہے؛ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے شرف و مال کی محبت اور ان کی وجہ سے دین چلے جانے کو نقصان پہنچانے والے دو بھیڑیوں کے مشابہ قرار دیا ہے اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے نفاق ایسے اگتا ہے جیسے پانی سے سبزی اگتی ہےکیوں کہ منافقت ظاہر و باطن کے درمیان فرق کا نام ہے قول سے ہو یا فعل سے اور جو شخص لوگوں
کے دلوں میں مقام و مرتبہ چاہتا ہے وہ منافقت پر مجبور ہو جاتا ہے نیز وہ بتکلف اچھی خصلتیں ظاہر کرتا ہے حالاں کہ وہ ان سے خالی ہوتا ہے اور یہ منافقت ہے۔ پس جاہ کی محبت ایک مہلک مرض ہے۔ لہٰذا اس کا علاج اور دل سے اس کا ازالہ واجب ہے کیوں کہ حب مال کی وجہ سے یہ بھی ایک فطری اور طبعی امر ہے اور اس کا علاج علم اور عمل دونوں سے مرکب ہے۔
علمی علاج
علمی طریقہ یہ ہے کہ وہ سبب معلوم کرے جس کی وجہ سے وہ جاہ و مرتبہ کی چاہت رکھتا ہے اور لوگوں کے جسموں اور دلوں پر مکمل قابو چاہتا ہے، اسے سوچنا چاہیے کہ وہ جس چیز کا طالب ہے اگر وہ حاصل بھی ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ موت تک رہےگی۔ یہ ان اعمال صالحہ سے نہیں ہے جو باقی رہتے ہیں، اگر مشرق سے مغرب تک تمام روے زمین کے تمام لوگ تجھے سجدہ بھی کریں تو پچاس سال گذرتے گذرتے وہ نہ سجدہ کرنے والوں میں رہیں گے نہ یہ اور تمھارا مال بھی ایسے انھی لوگوں کی طرح ہوگا جو مر چکے ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے دین کو نہ چھوڑا جائے جو ابدی زندگی ہے، کبھی ختم نہیں ہوگی اور جو شخص کمال حقیقی اور کمال وہمی کو سمجھ جاتا ہے اس کی نگاہ میں جاہ و مرتبہ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ ہاں جاہ ومرتبہ کی حقارت انھی کو حاصل ہوتی ہے جن کی نگاہ میں آخرت بسی ہوتی ہے۔
عملی علاج
عملی علاج یہ ہے کہ ایسا کام کرے جس پر ملامت کی جاتی ہے اور اس طرح مخلوق کے دلوں سے اس کا مقام گر جائےگا، پھر اس کی نگاہوں میں بھی اس کی وقعت نہیں رہےگی، اس طرح قبولیت کی لذت اس سے جدا ہو جائےگی اور وہ گمنامی اور مخلوق کی طرف سے روکے جانے سے مانوس ہوگا۔ اب وہ صرف خالق کی قبولیت پر قناعت کرےگا۔ ملامتی فرقہ کا یہی مذہب ہے، وہ ایسے کام کرتے ہیں جس سے لوگوں کی نگاہوں سے گر جائیں اور جاہ کی آفت سے محفوظ ہو جائیں ، لیکن جو شخص مقتدا و پیشوا ہو اس کے لیے یہ صورت جائز نہیں کیوں کہ اس سے دلوں
میں دین کی بے وقعتی پیدا ہوگی اور جو پیشوا نہ ہو اسے بھی ممنوع و ناجائز کام کرنا جائز نہیں۔ ہاں ایسے کام کر سکتا ہے جو جائز ہوں اور ان سے لوگوں کے دلوں میں قدر نہ رہے۔ حضرت امام قدس سرہ نے اس کی کئی مثالیں لکھی ہیں اور ایک سب سے مضبوط طریقہ یہ بیان کیا ہے کہ لوگوں سے علاحدگی اختیار کر کے ایسی جگہ چلا جائے جہاں اسے کوئی نہ جانتا ہو۔
ریاکاری: ریا رویت (دیکھنا) اور سمعہ سماع (سننا) سے ماخوذ ہے۔ ریاکاری کی تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ذریعہ بندوں کا ارادہ کیا جائے۔ جن اعمال میں ریاکاری اور دکھاوا ہوتا ہے حضرت امام قدس سرہ نے انھیں پانچ اقسام میں تقسیم کیا ہے:
ریاکاری کے پانچ اقسام:
۱۔ دین کے سلسلے میں بدن کی نمائش کرنا یعنی اپنے بدن پر کمزوری اور زردی ظاہر کرنا تاکہ لوگوں کو وہم ہو کہ اسے دین کا بہت درد ہے، بہت غمگین رہتا ہے، اس پر آخرت کا خوف غالب ہے، کمزوری سے پتا چلے یہ بہت کم کھانا کھاتا ہے، زردی اس بات پر دلالت کرے کہ یہ شب بیدار ہے، محنتی ہے، بال وغیرہ بکھرے ہوں یہ تاثر دینے کے لیے کہ خدمت دین میں انہماک کی وجہ سے بال وغیرہ سدھارنے کا وقت نہیں ملتا ہے۔
۲۔ لباس اور ہیئت کے ذریعہ دکھاوا کرنا مثلاً بال بکھرے ہوئے ہوں، مونچھیں کتری یا منڈی، چلتے وقت گردن جھکی رکھے، حرکت میں ڈھیلاپن، پیشانی پر سجدے کے نشان پاقی رہتا ہو، موٹے کپڑے پہننا، اونی جبہ پہننا اور اسے پنڈلی تک لٹکانا، میلے کچیلے اور پھٹے کپڑے رکھنا۔ مقصد ان سے یہ ہو کہ لوگ جانیں کہ یہ بڑا متبع سنت ہے۔ اسی طرح پیوند لگے کپڑے پہننا، سجادہ پر نماز یعنی صوفیہ کی طرح نیلے یا دیگر رنگوں کے کپڑے پہننا حالاں کہ باطن میں تصوف سے بالکل خالی
ہے۔ یوں ہی عمامہ پر چادر اوڑھنا، آنکھوں پر پردہ ڈالنا تاکہ معلوم ہو کہ نگاہوں کی بہت حفاظت کرتا ہے۔ لبا میں ریاکاری واولوں کے کئ طبقات ہیں۔
۳۔ گفتگو کے ذریعہ ریاکاری اورنا م و نمود کرنا، اہل دین کی نمائش وعظ و نصیحت، حکمت بھری گفتگو، اخبار و آثار کو یاد کرنا تاکہ روز مرہ کی گفتگو میں استعمال کرے اور لوگوں کو ان کی علمی جلالت و عظمت اور احوال سلف کی طرف توجہ معلوم ہو۔ ایسے لوگ لوگوں کے سامنے ذکر کے ساتھ ہونٹوں کو ہلاتے ہیں، مخلوق کے سامنے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، برائیوں پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہیں اور لوگوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، گفتگو میں نرمی اختیار کرتے ہیں، تلاوت قرآن کے وقت آواز میں رقت پیدا کرتے ہیں تاکہ لوگ جانیں کہ انھیں بہت خوف و غم ہے۔
فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ آج اس طرح کی ریاکاری بہت عام ہے خاص کر ان تنظیموں اور تحریکوں میں جن کا مطمح نظر ہی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کے دلوں میں جگہ بنانا ہے۔ اکثر تبلیغ کرنے والے انپڑھ اور جاہل ہیں جو نفس کی شرارتوں سے بالکل واقف نہیں نہ ان کی کوئی صحیح تربیت ہے، ان کی ساری تگ و دو ساری دنیا کو اپنی چنگل میں لینا ہے۔ اہل باطل تو تسبیح وغیرہ کے ذریعہ یہ کام کرتے ہی ہیں، اہل حق کو پھانسنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ بڑی بڑی بلڈنگوں کے مالک کروڑپتی ہیں، لیکن اپنے مرکزوں میں ٹاٹ پر بیٹھنا چٹائی پر سونا وغیرہ کچھ اس مقصد باطل کے لیے ہے، اہل حق بھی ان ریاکاریوں سے خالی نہیں۔ بس ان سے اتنا فائدہ ہے کہ بہت سے لوگ اہل باطل کی شرارتوں سے محفوظ ہیں۔
۴۔ عمل کے ذریعہ ریاکاری اور دکھاوا کرنا جیسے دیر تک قیام اور رکوع و سجود وغیرہ کرنا۔ اسی طرح روزے، حج، جہاد اور کھانا کھلانے کے ذریعہ ریاکاری وغیرہ کرنا، بوقت ملاقات آنکھیں نیچی رکھنا، سر جھکائے رکھنا، وقار سے کلام کرنا، لوگوں
کے سامنے خشوع و خضوع اختیار کرنا۔ اسی طرح لوگوں کے سامنے نوافل اور اذکار و اشغال تاکہ لوگ عبادت گذار اور عابد و زاہد سمجھیں۔
۵۔ احباب اور ملاقات کرنے والوں کے ذریعہ دکھاوا اور نمائش کرنا کہ دکھائے ہمارے پاس تو فلاں فلاں سیٹھ آتے ہیں، فلاں فلاں علما و مشائخ تشریف لاتے ہیں۔ خیال رہے آج کے اکثر پیر مالدار مریدوں کے ذریعہ بھی یہ نمائش کرتے ہیں کہ ہم سے لوگ برکت حاصل کرتے ہیں، لوگوں کو اس طرح باور کرائے کہ ہمارا بڑا مقام ہے۔