مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدتزکیہ نفس کا دوسراطریقہ

باب ۴۵ از ۵۴صفحات ۵۴۳–۵۵۴

تزکیہ نفس کا دوسراطریقہ

تزکیہ کا دوسرا طریقہ جذب ومحبت ہے، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرب الٰہی کی علت موجبہ جذب یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچنا ہے یہ جذب کبھی کسی امر کے توسط کے بغیر ہوتا ہے،اس کو اجتباء کہتے ہیں اور اکثر کسی امر کے واسطے سے ہوتا ہے اور یہ واسطہ بحکم استقرار(یعنی تتبع اور تلاش کے بعد یہی دو چیزیں واسطہ ثابت ہوئیں) دو چیزیں ہیں ایک عبادت اور دوسرے انسان کامل کی صحبت،جو جذب الٰہی عبادت کے توسط سے ہوتا ہے اسے ثمرہ عبادت کہتے ہیں اور جو صحبت کے توسط سے ہوتا ہے اسے تاثیر شیخ کہتے ہیں، یہ کلام علت فاعلی میں ہے اور علت قابلی استعداد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان میں ودیعت کی ہے۔

قرب الٰہی کے تین موانع ہیں (1)نفس کے رذائل (2)جنس عناصر (3)لطائف عالم امر کی غفلت، یہ بھی معلوم رہے کہ عبادت اور انسان کامل کی صحبت دونوں چیزیں جس طرح حصول قرب کے لیے علت ہیں اسی طرح موانع کو

دفع کرنے کے لیے بھی علت ہیں،اس سے معلوم ہوا کہ ناقصوں کو تحصیل کمال کےلیے دو چیزیں ضروری ہیں ایک کسب یعنی شیخ کامل ومکمل کی تجویز کے موافق عبادت وریاضات کہ موانع کو دور کریں اور نفس وعناصر کا تزکیہ اور عالم امر کے لطائف کا تصفیہ کرے جو کہ عالم خلق کے لطائف کی مصاحبت کی وجہ سے ظلمانی اور تاریک ہو گیے ہیں،اور خود کو اور اپنے خالق کو بھلا دیا ہے۔

دوم شیخ کامل ومکمل کا جذب کہ نسبت اور قرب الٰہی عطا کرتا ہے اور پستی سے بلندی کی طرف لے جاتاہے۔

اکثر سلاسل کے اولیا سلوک کو جذب پر مقدم جانتے ہیں اسی لیے وہ مرید کو اذکار اور ریاضت نفس کا حکم دیتے ہیں اور اپنے تصرف کو اس کی امداد میں لگائے رہتے ہیں تاکہ لطائف عالم امر مزکی ٰومصفی ٰہو جائیں اور پسندیدہ اخلاق مثلا توبہ،انابت،زہد،توکل،صبرورضا اور باقی مقامات عشرہ حاصل ہوجائیں اس طرح وہ قرب الٰہی کے لیے تیار ہو جائے گا اس وقت شیخ مرید کو اللہ تعالیٰ کی جانب کھینچتا ہے یعنی جذب کرتا ہے اور قرب الٰہی عطا کرتا ہے، اس سالک کو سالک مجذوب کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر آفاقی کہتے ہیں اس لیے کہ بزرگان دین عناصر ونفس اور لطائف عالم امر کے تزکیہ کا حکم اس وقت تک نہیں کرتے جب تک کہ عالم مثال میں اپنے نفس سے خارج میں ملاحظہ نہ فرمالیں،ہر لطیفہ کا ایک نور ہے جب تک وہ ظاہر نہیں ہوتا ہے اس لطیفہ کے صفائی کا حکم نہیں دیتے ہیں۔قلب کا نور زرد،روح کا سرخ،سر کا سیاہ،خفی کا سفید اور اخفیٰ کا سبز بتاتے ہیں۔

چونکہ یہ سیر بہت دوردراز ہے اور با مشقت بھی اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صوفی اثنائے سلوک میں انتقال کرجاتا ہے اورمقصود سے ناکام رہتا ہے لہٰذا حق تعالیٰ نے حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کو الہام فرمایا کہ جذب کو سلوک پر مقدم کرو،مرید کو پہلے توجہ کے ذریعہ لطائف عالم امر میں القاء ذکر کرتے ہیں یہاں تک

کہ قلب،روح،سرِ،خفی اور اخفیٰ اپنے اصول میں فانی اور مستہلک ہو جائیں اس سیر کو سیر انفسی کہتے ہیں، اس سیر انفسی کے ضمن میں اکثر سیر آفاقی بھی حاصل ہو جاتی ہے کیوں کہ عالم ا مر کے لطائف کی ظلمتیں اور کدورتیں بھی بر طرف ہو جاتی ہیں اور قرب بھی حاصل ہوتا ہے اس کے بعد نفس وقالب کے تزکیہ کے واسطے مرید کو ریاضت کا حکم دیتے ہیں

پس مرید کو ریاضت اور توجہات شیخ کے ذریعہ نفس وعناصر کا تزکیہ بھی حاصل ہو جاتا ہے اس سالک کو مجذوب سالک کہتے ہیں اور اس سیر کو اندراج النہایہ فی البدایہ کہتے ہیں اس لیے کہ جذب جو کہ آخر کا کام تھا ابتدا ہی میں مندرج ہو گیا اور چونکہ عالم امر کے لطائف کی فنا کے بعد ریاضت کا حکم کیا گیا اور لطائف امر کی مجاورت کی وجہ سے نفس کی صولت وشدت گم ہو گئی اور ریاضت اس پر آسان ہو گئی اور عبادات کا ثواب فنائے لطائف کے بعد زیادہ ہو گیا ان ہی اسباب کی وجہ سے یہ سیر سہل تر اور تیز تر ہو گیا اوراگر مرید اس سیر میں کمال سے پہلے مرجاتا ہے تب بھی محروم مطلق نہیں رہتا اس لیے کہ ذکر قلب اول صحبت میں ہاتھ آگیا۔

جذب کا پہلاواسطہ یعنی عبادت: آپ پڑھ چکے کہ عبادت جذب کاواسطہ ہے،عبادت کے انواع واقسام کافی تفصیل کے طالب ہیں ،عام طور پر کتابوں میں عبادت کی ترغیبات اور مسائل وغیرہ مذکور ہیں لہٰذا ہم یہاں چند امور سپردقلم کرتے ہیں بغور مطالعہ فرمائیں۔(1)اللہ تعالیٰ جل شانہ علی الاطلاق منعم حقیقی ہے جو کہ بداہت عقل سے ثابت ہے اور منعم کی تعظیم وتکریم لازم وواجب ہے لہٰذا عبادت اپنے رب کائنات اور منعم حقیقی جل وعلا کی تعظیم وتکریم اور تذلل وانکسار یعنی خود کو اس کے سامنے ذلیل سمجھنا اور شکستگی اختیار کرنے کا نام ہے۔

(2)حق سبحانہ وتعالیٰ چونکہ غایت تقدس وتنزہ میں ہے اور بندے نہایت تدنس وتلوث یعنی میلے کچیلے ۔گندے،اور آلودہ لہٰذا بندوں اور خالق جل وعلاکے

درمیان کسی طرح کی کوئی مناسبت اور تعلق نہیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کما حقہ نہیں جان سکتے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی تعظیم وتکریم کس میں ہے؟لہٰذا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بہت سے بعض الفاظ ایسے ہوں جسے لوگ تعظیم وتکریم خیال کریں اور وہ در حقیقت اس کے نزدیک قبیح اور برے ہوں،یہ تعظیم خیال کریں اور وہ توہین ہوں،یہ تکریم تصور کریں اور وہ تحقیرہوں،لہٰذا معلوم ہوا کہ تعظیم وتکریم وہ ہونی چاہیے جس کو رب تبارک وتعالیٰ نے تعظیم وتکریم قرار دیا ہے۔

حضرت مجددقدس سرہ فرماتےہیں کہ حق تعالیٰ کی تعظیم و تکریم وتوقیر جو کہ اس مقدس بارگاہ سے حاصل ہےہماری بہ نسبت وہی شریعت حقہ ہے علیٰ مصدرہا الصلوٰۃ والسلام والتحیۃ اگر تعظیم قلبی ہے تو بھی شریعت حقہ میں بیان کردی گئی ہےاور لسانی ثناء تویہ بھی بیان ہے اور اعضاء کے اعمال وافعال کو بھی صاحب شریعت نے تفصیل سے بیان فرمادیا ہے پس اس تعالیٰ کاشکر شریعت کی بجا آوری میں منحصر ہو گیا بہ اعتبار قلب وقالب اور بحسب اعتقادوعمل اور اس تعالیٰ کی عبادت وتعظیم جو بھی ما ورائے شریعت ہو وہ اعتماد کے لائق نہیں بلکہ بہت سی دفعہ ہو سکتا ہےکہ اس کی عبادت وتعظیم کے خلاف ہو اس لیے کہ وہمی نیکی درحقیقت برائی ہےپس شریعت پر عمل عقلا بھی واجب ہوا اور اس منعم تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی بغیر بجاآوری شریعت مشکل ومتعذر ہے ۔

شریعت کے دو جز ہیں(1)اعتقادی(2)عملی، اعتقادی اصول دین سے ہے جب کہ عملی فروع دین سے ہے جس کو اعتقاد حاصل نہ ہو وہ اہل نجات سے نہیں اور عذاب آخرت سے چھٹکارا اس کے حق میں متصورنہیں اور جس کو عمل حاصل نہ ہو اس کے لیے نجات کا احتمال ہے کہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سپرد ہے اگر چاہے تو معاف کردے اور چاہے تو بقدر گناہ عذاب دے۔

(3)مذہب اہل سنت کے مطابق اعتقاد رکھنے کے بعد اعمال صالحہ کی

بجاآوری بے حدضروری ہے،قرآن مجید میں جا بجا ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ذکر کیا اور ان دونوں پر ابدی وسرمدی نعمتوں کی بنیاد رکھی،اعمال صالحہ کی کثرت پر حسب استعداد وہ ملتا ہے جس کو ہر ایک سوچ نہیں سکتا ۔

حدیث شریف میں پانچ امور کو اسلام کے ارکان قراردیا گیا ، اول :الوہیت ورسالت کی گواہی یعنی ایمان واعتقاد ۔دوم نماز۔سوم زکوٰۃ،چہارم صوم رمضان پنجم حج ، ان اعمال میں سب سے بہترین عبادت نماز ہے۔

نماز: حضرت مجددقدس سرہ فرماتے ہیں: نماز حسن لذاتہ ہے اس کے بر خلاف باقی عبادات کا حسن ذاتی نہیں،طہارت کاملہ کے بعدبغیر سستی نماز ادا کرنا چاہیے اور قرات،رکوع،سجود،قومہ وجلسہ اور تمام ارکان کو نہایت احتیاط کے ساتھ بوجہ کمال ادا کرنا چاہیے اور رکوع وسجود،قومہ وجلسہ میں سکون وطمانیت لازم ہے سستی نہیں آنی چاہیے،نماز کو اول وقت میں ادا کرنا چاہیے اور سستی وتجاہل کی وجہ سے تاخیر کرنا جائز نہ سمجھیں،مقبول بندہ وہ ہے کہ محض مولیٰ جل وعلا کے حکم سےہی اس کا حکم بجا لائے،حکم کی بجا آوری میں تاخیر کرنا سرکشی وبے ادبی ہے۔

نماز تہجد بھی گویا اس راہ کی ضروریات سے ہے کوشش کریں کہ بے ضرورت ترک نہ ہو اگر آغاز میں تہجد مشکل ہو اور اس وقت میں بیداری میسر نہ ہو تو خدمت کرنے والوں کی ایک جماعت اس کے لیے مقرر کر دیں کہ اس وقت خواہ نا خواہ بیدار کردیں اور سوتا نہ چھوڑیں پندرہ روز کے بعد بیداری کی عادت ہو جائےگی،جو شخص آخر شب میں بیدار ہونا چاہے اسے چاہیے کہ آغاز شب میں بعد نماز عشا سو جائے اور بے فائدہ امور میں مشغول نہ ہو اور استغفار وتوبہ،الحاح وزاری اور گناہوں،خطاؤں کو یاد کرنا اور نقائص وعیوب میں غور کرنا اور عذاب اخروی اور الم دائمی کا ڈر اس وقت میں غنیمت جانیں اور حق تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں اور سوبار یہ کلمہ استغفار قلبی توجہ کے ساتھ زبان پر لائیں‘‘استغفرالله الذي لا اله الا هو

الحي القيوم واتوب اليه سبحانه’’ دیگر نماز(عصر) کے بعد بھی اس کلمہ کو سوبار پڑھیں اور طہارت وبلاطہارت اس کلمہ کا ورد ترک نہ کریں،حدیث شریف میں ہے‘‘طوبيٰ لمن وجد في صحيفته استغفار كثير’’۔

اور نماز چاشت بھی ادا کر لی جائے تو دولت عظیم ہے کوشش کریں کہ دائمی طور پر کم از کم دو رکعت چاشت کی ادا کریں،چاشت کی بھی نماز تہجد کی طرح بارہ رکعتیں ہیں وقت وحال کے مطابق جو کچھ ادا ہو جائے غنیمت ہے(مکتوب 17 جلدسوم)

حضرت مجدد قدس سرہ دفتر اول مکتوب 260 میں عالم امرپر عالم خلق کی فضیلت بیان کرتے ہوئے دوسری وجہ میں فرماتے ہیں"جو عمل کہ فرض ،واجب اور سنت ہے اس کی ادائیگی قالب سے تعلق رکھتی ہے جو کہ عالم خلق سے ہے اور وہ جو عالم امر کا نصیب ہے وہ اعمال نافلہ سے ہے پس جو قرب ان اعمال کی ادائیگی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے اعمال کے اندازے سےہوگا پس لامحالہ جو قرب کہ ادائے فرائض کا ثمرہ ہے عالم خلق کا نصیب ہو گا اور جو قرب کہ ادائے نوافل کا پھل ہے عالم امر کا نصیب ہوگا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نفل کا فرض کے مقابل میں کوئی شمار نہیں کاش کہ وہ نسبت ہوتی جو قطرے کو دریاےمحیط سے ہوتی ہے بلکہ نفل کو سنت کے مقابل بھی یہی نسبت ہے اگرچہ فرض اور سنت کے درمیان بھی قطرہ اور دریا کی نسبت ہے پس ان دونوں قربوں کے درمیان یہاں سے تفاوت کا اندازہ کرنا چاہیے اور عالم خلق کا عالم امر پر زیادتی اس تفاوت سے جاننا چاہیے

اکثر مخلوقات چونکہ اس علم سے کوئی حصہ نہیں رکھتی اس لیے فرائض کو خراب وبرباد کرکے نوافل کو رواج دینے کی کوشش کرتے ہیں صوفیہ خام ذکر وفکر کو اہم مقاصد اور ضروریات سے جان کر فرائض وسنن کی بجاآوری میں سستیاں کرتے ہیں اور اربعینات(چلے) اور ریاضتیں اختیارکرکے جمعہ

وجماعت کو چھوڑتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ ایک فرض کو جماعت سے ادا کرنا ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے ہاں ! ذکر وفکر آداب شرعیہ کی رعایت کے ساتھ بہتر اوراہم ترہے اور علمائے بےسر انجام بھی نوافل کو رواج دینے میں کوشش کرتے ہیں اور فرائض کو برباد وابتر کرتے ہیں مثلا نمازعاشورا کہ حضرت سید عالم ﷺسے بطریق صحت متصل نہیں اسے جماعت اور کامل حمیت کے ساتھ پڑھتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ فقہی روایات جماعت نافلہ کی کراہت بتاتی ہیں،اور ادائے فرائض میں سستی اختیار کرتے ہیں۔

بہت کم لوگ فرض کو وقت مستحب میں ادا کرتے ہیں بلکہ اصل وقت سے بھی تجاوز کرتے ہیں اور جماعت کی بھی پابندی نہیں کرتے ہیں ایک شخص یا دو شخص کی جماعت پر قناعت کر لیتے ہیں بلکہ بہت سے ایسے ہیں جو تنہا ہی پڑھ لیتے ہیں جب اسلام کے مقتداوپیشوا حضرات یہ معاملہ کریں گے تو عوام کے بارے میں کیا کہیں اس عمل کی بدبختی سے اسلام میں ضعف وکمزوری پیدا ہے اور اس کردار کی ظلمت وتاریکی کی وجہ سے ہوائے نفس وبدعت ہویداہے۔

فضائل نماز

پھر چندسطر بعد فرماتے ہیں کہ فرائض سارے کے سارے اگرچہ قرب اصلی بخشتے ہیں لیکن ان میں سب سے افضل واکمل نماز ہے،الصلوٰۃ معراج المومن" نماز مومن کی معراج ہے،سنا ہوگا اور بندہ سب سے زیادہ قریب نماز میں ہوتا ہے(نیز سنا ہوگا) اور حضور اکرم ﷺکے لیے وقت خاص تھا جس کی تعبیر "لی مع اللہ وقت "سے فرمائی۔فقیر کے نزدیک نماز ہے کہ برائیوں سے روکتی ہے اور نماز ہے کہ فحشا اورمنکر(بےحیائیوں اور بری باتوں سے)سے روکتی ہے اور نماز ہے کہ حضور ﷺنے اپنی راحت کو اس میں ڈھونڈا اور فرمایا:"ارحنی یا بلال"(اےبلال!مجھے راحت دو) اور نماز ہے کہ دین کا ستون بنی ہے اور نماز ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔

مکتوب 261جو مکتوب مذکور سے متصل خاص نماز کے فضائل وکمالات مخصوصہ کے بیان پر مشتمل ہے اس میں مندرجہ ذیل فضائل بیان فرمائے خلاصہ ملاحظہ ہو:

(1)اسلام کے پانچ ارکان ہیں اور رکن دوم نماز ہے(2)نماز ساری عبادتوں کی جامع ہےوہ اگرچہ ایک جز ہے لیکن جامعیت کی وجہ سے کل کا حکم رکھتی ہے(3) قرب بخشنے والے سارے اعمال میں سب سے اعلیٰ اور برترنماز ہے(4)سرورعالم ﷺکو معراج کی شب جنت میں دیدار الٰہی کی جو دولت میسر ہوئی تھی دنیا میں آنے کے بعد اس جہان کے مناسب وہ دولت آپ کو نماز میں میسر ہوتی اسی لیے فرمایا کہ نماز مومن کی معراج ہے اس لیے کہ آپ کے کامل اتباع کرنے والوں کو اس دولت سے اس دنیا میں حظ وافر ونصیب کامل حاصل ہے اگرچہ دیدار نہیں کیوں کہ یہ دنیا اس کی متحمل نہیں اگر نماز پڑھنے کا حکم نہ ہوتا تو مقصود ومطلوب کے چہرے سے نقاب کون اٹھاتا اور طالب کو مطلوب تک راستہ کون دکھاتا۔

(5)نماز غمگساروں کے لیے لذت بخش اور بیماران عشق کے لیے راحت بخش ہے،ارحنی یا بلال اور قرۃ عینی فی الصلاۃ میں اسی طرف اشارہ ہے(6)اذواق ومواجید،علوم ومعارف،احوال ومقامات،انواروالوان،تمکینات وتلوینات،تجلیات با کیف وبے کیف اور ظہورات متلونہ(گوناگوں)وغیرمتلونہ جو کچھ ان سے نماز سے باہر میں میسر ہوتے ہیں اور حقیقت نماز سے آگاہی نہ ہونے سے ظاہر ہوتے ہیں ان کا ،منشا ظلال وامثال ہیں بلکہ وہم وخیال سے ناشی ہیں جو نمازی کہ حقیقت صلاۃ سے آگاہ ہے ادائے نماز میں گویا وہ اس دنیا سے باہر ہو جاتا ہے اور آخرت کے جہان میں داخل ہو جاتا ہے اس لیے لا محالہ ادائے نماز کے وقت میں اس دولت سے جو آخرت کے ساتھ مخصوص ہےنصیب حاصل ہوتا ہے اور بے شائبہ ظلیت سے اصل حصہ ہاتھ آتا ہے کیوں کہ یہ دنیا کمالات ظلی پر منحصر ہے،جو

معاملہ ظلال سے خارج ہے وہ آخرت کے ساتھ مخصوص ہے،تو جب عالم آخرت میں داخل ہوگیا تو لامحالہ معراج ہوگئی اور وہ مومنین کے حق میں نماز ہے،یہ دولت اپنے رسول اعظم ﷺکی تبعیت میں اسی امت کے ساتھ مخصوص ہے کیوں کہ آپ ﷺ شب معراج میں دنیا سے آخرت چلے گیے اور جنت میں داخل ہو گیے پھر دیدار الٰہی کی دولت سے مشرف اور سعادت مند ہوئے۔

اولیائے کرام کی ایک جماعت چونکہ حقیقت نماز اور اس کے کمالات مخصوصہ سے مطلع نہ ہوسکی اس لیے انھوں نے اپنے امراض کا علاج دیگر امور سے ڈھونڈا اور اپنی مرادوں کا حصول دوسری اشیا سے مربوط کیا بلکہ ایک جماعت نے تو دور ازکار سمجھ کر اس کی بنیاد غیروغیریت پر رکھی اور روزے کو نماز سے افضل قراردیا ان کا کہنا ہے کہ روزوں میں کھانا پینا چھوڑنا ہے جو صفت صمدیت کے ساتھ متحقق ہونا ہے جب کہ نماز میں غیروغیریت میں آنا ہے اور عابدومعبودجاننا ہے جیسا کہ ابن العربی قدس سرہ نے صراحت کی یہ بھی توحید وجودی پر ہے۔

اسی طرح ایک جم غفیر جو کہ حقیقت نماز سے آگاہ نہ تھا اس نے اپنے اضطراب کی تسکین سماع ونغمہ اور وجدوتواجد میں ڈھونڈی اور اپنے مطلوب کونغمہ کے پردوں میں مطالعہ کیا اس لیے لامحالہ رقص ورقاصی کو اپنی عادت بنالیا جب کہ سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حرام میں شفا نہیں رکھی ہاں‘‘الغریق یتعلق بکل حشیش’’ڈوبنے والاہر تنکے کا سہارا لیتا ہے اور‘‘حب الشی یعمی ویصم’’شی کی محبت اندھا اور بہرا کردیتی ہے ۔اگر ان پر نماز کے تھوڑے بہت کمالات ہی منکشف ہوئے ہوتے تو ہرگز سماع ونغمہ میں مشغول نہ ہوتے اور وجدوتواجد کو یاد نہ کرتے۔ اے برادر! نماز ونغمہ کے درمیان جتنا فرق ہے اتنا ہی کمالات نماز کہ جن کا منشا نماز ہے اور ان کمالات کے درمیان ہے کہ جن کا منشا نغمہ ہے۔(ماخوز از مکتوب 261)

نماز کی صورت وحقیقت

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جس طرح

عقائد کی درستگی ضروری ہے اسی طرح اعمال صالحہ کی بجا آوری ضروری ہے اور جامع ترین عبادات اور مقرب ترین طاعات نماز کی اداہے،فرماتے ہیں نماز دین کا ستون ہے تو جس نے نماز قائم کی اس نے دین قائم کیا اور جس نے اسے چھوڑا اس نے دین کو ڈھادیا،اور جس شخص کو ادائے نماز پر مواظبت اور پابندی کی توفیق ملتی ہے اسے فحش اور برائی سے باز رکھتے ہیں آیت کریمہ:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۴۵)

ترجمہ: بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے۔

اسی معنی کی تائید کرتی ہے اور جو نماز ایسی نہ ہو وہ صورت نماز ہے حقیقت نہیں رکھتی لیکن جب تک حقیقت حاصل نہ ہو صورت کو ہاتھ سے جانے نہ دیں‘‘مالایدرک کلہ لایترک کلہ’’ جو چیز پورہ پائی نہیں جا سکتی توری چھوڑی بھی نہیں جائیگی اکرم الاکرمین اگر صورت کو حقیقت کے ساتھ اعتبار کرے تو بعید نہیں۔

پس تم پر لازم ہے کہ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرو ،جماعتوں اور خشوع وخضوع کے ساتھ اس لیے کہ نجات وفلاح کا سبب ہے ارشاد خداوندی ہے:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ (سورۃ المومنون: ۲۳؍۱،۲)

یقینا کامیاب ہوئے وہ اہل ایمان جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں۔

کام وہ ہے کہ خطرہ کے باوجود کیا جائے، دشمن کے غلبہ کے وقت جو سپاہی اگر تھوڑی بھی آمد ورفت سرکار کے کاموں میں رکھتے ہیں تو وہ بہت اعتبار رکھتی ہے،جوان لوگوں کی صلاح اس سبب سے اعتبار رکھتی ہے کہ باوجود غلبہ شہوت نفسانی خود کو صلاح میں لائیں ،اصحاب کہف کو یہ ساری بزرگیاں اس لیے ملیں کہ

انھوں نے دین مخالف بادشاہ کی وجہ سے ہجرت کی، حدیث شریف میں ہے کہ فتنہ وآشوب ایسی عبادت ہے جیسے میری طرف ہجرت،تو جو چیز منافی عبادت ہے درحقیقت وہی عین باعث ہے۔(ماخوذ از مکتوب 58دفتر اول)

نیز آپ قدس سرہ فرماتے ہیں عبادات میں لذت پانا اور ان کی ادائیگی میں تکلیف کا اٹھ جانا حق تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے خاص کر ادائے نماز میں،کہ جو منتہی طالب خدا کے غیر کو میسر نہیں خاص کر ادائے فرائض نماز کیوں کہ آغاز نہایت میں نماز نفل کی ادا سے لذت بخشتے ہیں اور نہایت نہایت میں یہ نسبت فرائض سے وابستہ ہو جاتی ہے اور ادائے نوافل میں خود کو بیکار جانتے ہیں اس کے نزدیک صرف ادائے فرائض ہے،معلوم ہو کہ ادائے نماز کے وقت جو مزہ اور لذت حاصل ہوتی ہے نفس کا اس میں بالکل بھی حصہ نہیں ہوتا ہے عین اس لذت میں وہ نالہ وفغاں میں ہوتا ہے،سبحان اللہ! کیا مرتبہ ہے نیز معلوم ہو کہ دنیا میں ادائے نماز کا مرتبہ ایسے ہے جیسے آخرت میں دیدار الٰہی، دنیا میں قرب کی انتہا نماز میں ہے اور آخرت میں انتہائے قرب بوقت دیدار ہے نیزتمام عبادتیں نماز کے لیے وسائل ہیں اور نماز مقاصد سے ہے۔(ماخوذ از مکتوب 137دفتراول)

حقیقت کعبہ کے معارف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں "دنیوی عروجات وظہورات کی انتہا حقائق کونی کی انتہا تک ہے،حقائق الٰہی جل شانہ سے نصیب اور حصہ آخرت کے ساتھ مخصوص ہے مگر نماز جو کہ مومن کی معراج ہے اور اس معراج میں بندہ دنیا سے آخرت تک جاتا ہے تو جو حصہ آخرت میں میسر ہوگا وہ اس معراج میں میسر آتا ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ نماز میں اس دولت کے حصول کے لیے سب سے عمدہ چیز نمازی کی توجہ جہت کعبہ کی طرف ہے،جو کعبہ کہ حقائق الٰہی کے ظہورات کا محل ہے(تعالت وتقدست)دنیا میں جو کچھ عجوبہ ہے بظاہر دنیا سے ہے اور در حقیقت آخرت سے ہے،کعبہ کے توسط سے نماز بھی یہ نسبت پیدا

کرتی ہے اور صورت وحقیقت کے ساتھ دنیا وآخرت کی جامع ہوگئی ہے، اور تحقیق کے ساتھ معلوم ہوگیا کہ جو حالت کہ ادائے نماز میں میسر ہوتی ہے وہ ان تمام حالتوں پر فوقیت رکھتی ہے جو خارج نماز حاصل ہوتی ہیں کیوں کہ خارج نماز حالات دائرہ ظلی سے نہیں نکلتی ہیں اگرچہ بلندی پیدا کرلیں اور یہ حالات اصل سے نصیبہ رکھتی ہیں جس قدر فرق ظل اور اس کے درمیان ہے اسی قدر ان (خارج نماز)حالات اور اس (داخل نماز)حالت میں جاننا چاہیے۔