باب ۲۲ از ۵۴صفحات ۲۶۹–۲۸۱
چند کبیرہ گناہ
چند کبیرہ گناہ (۱)اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے، عبادت اور رزق و شفا وغیرہ میں استعانت کے طور پر (۲)کاہن کی تصدیق (۳)رسول اللہﷺ، قرآن اور فرشتوں کو برا کہنا، ان کا انکار کرنا اور تمسخر کرنا ان حضرات سے اور اسی طرح ضروریات دین کا انکار کرنا (۴)نماز، زکات، روزہ اور حج چھوڑنا (۵)بلاحق جان کو قتل کرنا اور اسی سے اولاد کو قتل کرنا ہے اور انسان کا خود کو قتل کرنا یعنی خود کشی کرنا (۶)زنا (۷)لواطت (۸)نشہ آور چیز پینا (۹)چوری (۱۰)راہزنی (۱۱)غصب (۱۲)غلول یعنی مال غنیمت چرانا (۱۳)جھوٹی گواہی دینا (۱۴)جھوٹی قسم کھانا (۱۵)پاک دامن عورت پر زنا کا الزام لگانا (۱۶)مال یتیم کھانا (۱۷)ماں باپ کی نافرمانی کرنا (۱۸) رشتہ توڑنا یعنی قطع رحمی کرنا (۱۹)ناپ تول میں کمی کرنا (۲۰)سود (۲۱)جہاد میں میدان جنگ سے بھاگنا (۲۲)نبیﷺ پر افترا اور جھوٹ باندھنا (۲۳)معاملات میں فیصلوں میں رشوت لینا (۲۴)محارم سے نکاح کرنا (۲۵)مردوں اور عورتوں کے درمیان قیادت یعنی باہمی ناجائز تعلقات کرانا (۲۶)حاکم کی چغل خوری کرنا تاکہ وہ قتل کر دے یا لوٹ لے (۲۷)دار الکفر یعنی دار الحرب سے ہجرت نہ کرنا (۲۸)کفار سے دوستی اور محبت (۲۹)جوا کھیلنا (۳۰)جادو کرنا۔
صغیرہ گناہ
اور گناہ صغیرہ وہ ہے جس سے شرع نے روکا یعنی کبائر مذکورہ کے بعد یا امر مشروع کے مخالف ہو یا وہ جو دین میں مامور طریقے کو رفع اور زائل کرے۔
صبر (دوسرا مقام)
صبرکا مقامات عشرہ میں ایک زبردست مقام ہے۔ یہ اپنی عظمت اور وسعت کے لحاظ سے اتنا عظیم اور نفع رسانی کے لحاظ سے اتنا وسیع ہے کہ تاجدار
مَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَاءً خَیْراً وَ أَوْسَعَ مِنَ الصَبْر
یعنی صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ کسی کو کوئی عطا نہیں ملی۔
بقول امام غزالی قدس سرہ قرآن عظیم میں صبر کی فضیلت اور تذکرہ تقریباً ستر مقامات پر ہے ۔ اور مختلف اعتبار سے اس کی اہمیت و افادیت اور عظمت کی نشان دہی کی گئی ہے۔ چند آیات ملاحظہ ہوں:
۱۔ وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا (سورۃ السجدۃ: ۳۲؍۲۴)
اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ انھوں نے صبر کیا۔
۲۔ وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اَحْسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۷)
اور ضرور انھیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا۔
۳۔ وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ بِمَا صَبَرُوۡا (سورۃ الاعراف: ۷؍۱۳۷)
اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا۔
۴۔ اُولٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا (سورۃ القصص: ۲۸؍۵۴)
ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔
۵۔ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ (سورۃ الزمر: ۳۹؍۱۰)
صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
۶۔ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۵۷)
یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔’’
اس میں صلوات، رحمت اور ہدایت تینوں کو صبر کرنے والوں کے لیے جمع کیا گیا۔ احیاء العلوم شریف وغیرہ میں متعدد آیات و احادیث ذکر فرمائیں۔ صبر کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سید الصابرینﷺ فرماتے ہیں:
الصَّبْرُ نِصْفُ الاِیْمَان (صبر آدھا ایمان ہے) (الترغیب و الترھیب)
لغت میں صبر کا معنی ہے حبس نفس یعنی نفس کو روکنا۔ اس اعتبار سے اس کی تین قسمیں بنتی ہیں: اول نفس کو طاعات پر روکنا یعنی اپنے آپ کو طاعات کا ایسا پابند بنا لے کہ کسی حال میں نافرمانی نہ کرے، ہمیشہ اطاعت ہی کرے۔ دوم نفس کو ممنوعات سے روکنا، نفس چوں کہ خلقی اعتبار سے ہمیشہ شرع کے مخالف کی خواہش کرتا ہےاور اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ شریعت نے جن کو دیکھنا منع کیا ہے انھیں دیکھیں، جن کو سننا منع کیا ہے انھیں سنیں، جن کو کرنا منع کیا ہے انھیں کریں وغیرہ وغیرہ۔ تو نفس کو اس کی خلاف شرع خواہشات سے روکنا اور اس کی چاہتوں پر عمل نہ کرنا صبر ہے۔ سوم جسمانی وغیرہ تکالیف پر خود کو روکے رہنا۔ آپ غور کریں گے تو ہر قسم میں مشقت وغیرہ ہے۔ ہم اس تعلق سے چند ائمہ شریعت و طریقت رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے چند ارشادات ذکر کرتے ہیں:
۱۔حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں:صبر دین کے مقامات میں سے ایک مقام اور سالکین کی منزلوں میں سے ایک منزل ہے اور دین کے تمام مقامات تین امور پر مشتمل ہیں:
۱۔معارف — ۲۔احوال — ۳۔اعمال
پس معارف اصول ہیں اور ان سے احوال پیدا ہوتے ہیں اور ان احوال کا نتیجہ اعمال ہیں۔ لہٰذا معارف درختوں کی طرح، احوال ٹہنیوں کی طرح اور اعمال پھلوں کی طرح ہیں اور یہ بات سالکین بارگاہ الٰہی کی تمام منزلوں کو شامل ہے۔ پھر تفصیل سے حقیقت صبر بیان فرمائی:
۲۔اقسام صبر
صبر کی دو قسمیں ہیں: بدنی جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا۔ وہ یا تو فعل کے ذریعہ ہوتا ہے جیسے سخت اعمال اور عبادات وغیرہ کرنا یا اس کا تعلق برداشت اور تحمل سے ہوتا ہے جیسے مار پڑنا، بیماری لاحق ہونا اورتکلیف دہ زخموں کو برداشت کرنا۔ یہ صبر بعض اوقات قابل تعریف ہوتا ہے جب کہ شریعت کے موافق ہو، لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل دوسری قسم ہے۔ وہ طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے نفس کا صبر کرنا ہے۔ اب اگر اس میں پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش سے صبر ہو تو اسے عفت کہتے ہیں اور اگر بری بات سے ہو تو چوں کہ مکروہ اور ناپسندیدہ امور جن پر صبر غالب آجاتا ہے لوگوں کے نزدیک مختلف ہیں ؛ اس لیے ان کے نام بھی مختلف ہیں۔
اگر مصیبت میں ہو تو اسے صبر ہی کہا جاتا ہے، اس کے خلاف حالت کو جزع فزع کہتے ہیں یعنی خواہش کے تقاضوں کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور اگر مالداری کی برداشت میں صبر ہے تو اسے ضبط نفس اور اس کے خلاف کو بطر (اکڑ) کہتے ہیں۔ اور اگر یہ جنگ اور لڑائی میں ہو تو اسے شجاعت اور بہادری جس کا مقابل نامردی اور بزدلی (جُبن) ہے۔ اور اگر صبر کا تعلق غصہ پی جانے سے ہو تو اسے حلم اور بردباری کہتے ہیں اور اس کے مقابل کو غضبناک ہونا۔ اور زمانے کی کسی آفت پر صبر ہو تو اسے دل کی کشادگی اور وسعت قلبی اور اس کے مقابل کو کم حوصلہ ہونا، دل تنگ ہونا کہتے ہیں۔ اور اگر صبر کا تعلق کلام کوچھپانے سے ہو تو اسے کتمان سِر۔ اور اگر ضروریات زندگی سے زائد امور سے صبر کر لیا جائے یعنی صرف ضروریات پر ہی اکتفا کرے، زائد کی چاہت پر عمل نہ کرے اسے زہد کہتے ہیں، اس کی ضد حرص ہے۔ اگر تھوڑے حصے پر صبر کیا جائے تو اسے قناعت کہتے ہیں اور اس کا مقابل حرص ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے اکثر اخلاق صبر میں داخل ہیں۔
۳۔جو کچھ بندے کو پہنچتا ہے: بندے کو جو کچھ پہنچتا ہے وہ دو قسموں سے
خالی نہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ دوسرے خواہش کے خلاف، بلکہ بندہ اسے ناپسند اور مکروہ سمجھتا ہے اور وہ دونوں صورتوں میں صبر کا محتاج ہے۔ نیز اسے ایک یا دونوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
لہٰذا وہ کسی صورت میں بھی صبر سے بےنیاز نہیں ہو سکتا ہے۔ پہلی قسم (جو اس کی خواہش کے موافق ہو) میں صحت و سلامتی، مال، مرتبہ،خاندان کی بڑائی، اسباب کی وسعت اور پیروی کرنے والوں اور مدد گاروں کی کثرت اور تمام دنیوی لذات کا حصول ہے۔ اس حالت میں صبر کی زیادہ ضرورت ہےکیوں کہ لذات میں مبتلا ہو کر مباح چیزوں سے نفس کو نہ روکا تو اس میں اکڑ اور سرکشی پیدا ہوگی کیوں کہ انسان جب خود کو مستغنی دیکھتا ہے تو سرکشی دیکھتا ہے حتیٰ کہ بعض عارفین نے فرمایا: آزمائش پر ہر مومن صبر کرتا ہے، لیکن عافیت پر صرف صدیق ہی صبر کر سکتا ہے۔
حضرت سہیلرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عافیت پر صبر کرنا آزمائش پر صبر کرنے سے زیادہ سخت ہے۔ اور جب صحابہ کرامرضی اللہ عنہم پر دنیا کے دروازے کھل گئے تو انھوں نے فرمایا: ہم تکلیف کے فتنےمیں مبتلا ہوئے تو ہم نے صبر کیا، لیکن جب کشادگی کے فتنے میں مبتلا ہوئے تو ہم سے صبر نہ ہو سکا؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو مال و اولاد کے فتنوں سے ڈرایا۔
دوسری قسم جو کہ خواہش و طبیعت کے مطابق نہ ہو، اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ بندے کے اختیار سے اس کا کوئی تعلق ہو جیسے عبادت اور گناہ۔ دوم یہ کہ اختیار سے کوئی تعلق نہ ہو جیسےمصائب و آلام، لیکن ان کا ازالہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے جیسے موذی سے بدلہ لے کر دل کو تسلّی دینا۔ اس کی تین قسمیں ہوئیں:
(۱)وہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے، اس میں تمام افعال ہیں جن کو عبادت یا گناہ کہا جاتا ہے، اس کی تین صورتیں ہیں: پہلی صورت عبادت، بندہ عبادت پر صبر
کا بہت محتاج ہے اور یہ صبر بڑا مشکل ہے کیوں کہ نفس کو فطری طور پر عبادت سے نفرت ہے اور خود رب بننے کا خواہاں رہتا ہے۔ اسی لیے بعض عارفین نے فرمایا کہ ہر نفس میں وہ بات پوشیدہ ہے جو فرعون نے ظاہر کی، اس نے کہا: أنا ربّکم الأعلیٰ (تمھارا رب اعلیٰ ہوں)
لیکن فرعون نے اس کے لیے میدان اور قبولیت پائی اس لیے اس نے ظاہر کر دیا جب اس نے قوم کو حقیر جانا تو انھوں نے اس کی اطاعت کی۔ ہر شخص اپنے غلام، خادم، متبعین اور ان تمام لوگوں پر رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کے تحت اور مغلوب ہیں اگرچہ وہ ظاہر نہیں کرتا ، جب وہ خدمت میں کوتاہی کرتے ہیں تو ان پر اس کا غصہ اسی تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے جو اس کے اندر چھپا ہوا ہے۔ پس عبادت لوگوں پر گراں گذرتی ہے۔ بعض عبادات سستی کی وجہ سے جیسے نماز اور بعض بخل کی وجہ سے جیسے زکات اور بعض ان دونوں باتوں کے سبب ناپسند ہوتی ہیں جیسے حج و جہاد ۔ تو عبادت پر صبر کرنا سخت امور پر صبر کرنا ہے اور عابد تین حالتوں میں صبر کا محتاج ہے۔
پہلی حالت عبادت سے پہلے کی ہے اور یہ نیت کو صحیح رکھنا اور اخلاص اختیار کرنا کہ ریا کے شائبوں اور آفات کے دواعی سے صبر کرنا اور اخلاص و وفا کا عزم کرنا ہے۔ جو شخص نیت اور اخلاص کی حقیقت نیز ریا کی آفتوں اور نفس کے مکر و فریب اور شرارتوں سے آگاہ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس پر صبر کس قدر مشکل ہے۔ اسی پر آقاﷺ نے انما الاعمال بالنیات و إنما لکل امرئ مانویٰ (بلا شبہہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اس نے نیت کی) اسی پر تنبیہ فرمائی ہے۔ نیز:
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ (سورۃ البینۃ: ۹۸؍۵)
ترجمہ: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ
میں بھی اسی پر زور دیا گیا ۔ اور آیت کریمہ:
اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (سورۃ ھود: ۱۱؍۱۱)
ترجمہ: مگر جنھوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے۔’’
میں صبر کو عمل پر اسی لیے مقدم کیا گیا۔
دوسری حالت عمل کی ہےکہ وہ عمل کے دوران حق تعالیٰ سے غافل نہ ہو اور اس کے آداب و سنن بجا لانے میں سستی سے کام نہ لے اور عمل کے آخر تک شرطِ ادب پر قائم رہے اور جو امور عمل میں خلل ڈالتے ہیں ان سے صبر اختیار کرے۔ ارشاد ربّانی:
وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیۡنَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۵۸،۵۹)
ترجمہ: کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا، وہ جنہوں نے صبر کیا۔’’
میں شاید یہی بات مراد ہے
تیسری حالت عمل سے فراغت کے بعد کی ہےکیوں کہ اب اس بات کی ضرورت ہے کہ افشا کرنے اور ریاکاری کے لیے ظاہر کرنے سے صبر کرے نیز اس عمل کو خود پسندی کی نظر سے دیکھنے اور ہر اس بات سے صبر کرے جو اس کے عمل کو باطل کر دیتی ہے اور اثر کو مٹا دیتی ہے، ارشاد خداوندی ہے:
وَ لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمَالَکُمْ (سورۃ محمد: ۴۷؍۳۳)
ترجمہ: اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔’’
اور ارشاد ہے:
لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی (سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۶۴)
ترجمہ: اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر۔’’
(۲)دوسری قسم وہ افعال جن کا آنا اختیار میں نہ ہو، لیکن ان کا ازالہ اختیار میں
ہو جیسے کسی شخص کو کسی فعل یا عمل کے ذریعہ اذیت دی جائے اور اسے مالی یا جانی نقصان پہنچایا جائے تو بعض اوقات اس پر صبر کرنا اور بدلہ نہ لینا واجب ہوتا ہے اور بعض اوقات صرف فضیلت کا باعث ہوتا ہے۔ صحابہ کرامرضی اللہ عنہم نے فرمایا: ہم کسی مومن کا ایمان۔ ایمان شمار نہیں کرتے تھے جب تک وہ اذیت پر صبر نہ کرتا تھا۔
(۳)تیسری وہ اعمال جن کی ابتدا اور انتہا کچھ بھی اختیار میں نہیں جیسے مصائب مثلاً رشتوں کا فوت ہونا، مالوں کا ہلاک ہونا، بیماری کی وجہ سے صحت کا زائل ہو جانا، بینائی کا چلا جانا، اعضا کا خراب ہونا اور اس طرح کی تمام آزمائشوں پر صبر کرنا اعلیٰ درجہ کا صبر ہے۔
حضرت ابن عباسرضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قرآن پاک میں صبر کی تین صورتیں مذکور ہیں:
۱۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد فرائض کی ادائگی پر صبر کرنا اور اس کے لیے تین سو درجات ہیں۔
۲۔حرام چیزوں سے صبر کرنا، اس کے لیے چھ سو درجات ہیں۔
۳۔مصیبت پر پہلے صدمہ کے وقت صبر کرنا، اس کے نو سو درجات ہیں۔
صبر کی دوا اور اس پر مدد
جس ذات نے بیماری اتاری اس نے علاج بھی اتارا اور شفا کا وعدہ بھی کیا۔ اگرچہ صبر کا حاصل کرنا بہت مشکل ہے، لیکن علم و عمل کے معجون سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ علم و عمل دو ایسی چیزیں ہیں جن سے تمام قلبی بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے، لیکن ہر بیماری کا جداگانہ علم اور عمل ہے اور جس طرح صبر کی مختلف اقسام ہیں اسی طرح اس کے راستے میں رکاوٹ بننے والی علتیں بھی مختلف ہیں اور جب بیماریاں مختلف ہوں تو علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔
یہ ایک طویل بحث ہے، چند مثالو ں کے ذریعہ اس کی پہچان کراتے ہیں مثلاً
ایک شخص جماع کی شہوت سے صبر کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور اس پر شہوت غالب ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کو قابو میں نہیں رکھ سکتا یا شرمگاہ پر کنٹرول کر لیتا ہے، مگر آنکھیں اس کے قابو میں نہیں ہیں یا آنکھیں بھی قابو میں ہیں، لیکن دل اور نفس پر کنٹرول نہیں ہے کیوں کہ وہ اس سے مسلسل شہوت کے تقاضوں کا ذکر کرتا ہے اور ذکر و فکر اور اعمال صالحہ سے اس کی توجہ ہٹا دیتا ہے تو جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ صبر باعث دینی اور باعث شہوت کے درمیان کشتی کا نام ہے۔ ہم ان میں سے جس کی جیت چاہتے ہیں اسے مضبوط کریں۔ لہٰذا لازم ہے کہ باعث دینی کو مضبوط کریں اور باعث شہوت کو کمزور، اور کمزور کرنے کے تین طریقے ہیں:
شہوت کو کمزور کرنے والے طریقے:
(۱)ہم اس کی قوت کے مادہ کو دیکھیں اور وہ ایسی غذا ہےجو شہوت کو حرکت دیتی ہے یعنی غذا کی اچھائی یا زیادتی شہوت کا سبب ہے تو ضروری ہے کہ روزے کے ذریعہ شہوت کو ختم کیا جائے اور افطاری کے وقت بھی تھوڑا اور معمولی کھانا کھایا جائے، گوشت اور ان کھانوں سے پرہیز کیا جائے جو شہوت کو ابھارتے ہیں۔
(۲)فی الحال اسباب کو ختم کرنا۔ جب آدمی شہوت کے مقامات کو دیکھتا ہے تو شہوت برانگیختہ ہوتی ہے؛ کیوں کہ نظر دل کو اور دل شہوت کو حرکت دیتا ہے اور یہ فائدہ گوشہ نشینی اختیار کرنے اور ان صورتوں سے نظر بچانے اور ان سے مکمل علاحدگی اختیار کرنے سے حاصل ہوتا ہے جو شہوت پیدا کرتی ہے۔
نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
النظرۃ سَھْمٌ مسمومٌ من سِھام إبلیس (مجمع الزوائد)
نظر شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے۔’’
اور یہ وہ تیر ہے جسے شیطان مردود پھینکتا ہے تو آدمی جب ان صورتوں کی جانب سے ہٹ جائےگا تو اسے یہ تیر نہیں لگےگا۔
۳۔جس بات کی خواہش ہے اس کی جنس سے مباح چیز کے ذریعہ نفس کو تسلی دے اور یہ نکاح کے ذریعہ ہو سکتا ہے کیوں کہ طبیعت جس چیز کی خواہش رکھتی ہے اس کی جنس سے مباح موجود ہوتی ہے جو ممنوعات سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ عام لوگوں کے حق میں یہ علاج زیادہ نفع بخش ہے۔
باعث دینی کی تقویت کے طریقے
دو طریقے ہیں۔ اول یہ کہ اسے مجاہدہ کے فوائد اور اس کے دینی و دنیوی ثمرات کی لالچ دینا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان روایات میں غور و فکر کرے جو صبر کی فضیلت اور دنیا و آخرت میں اس کے انجام کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ مصیبت میں صبر کا ثواب فوت شدہ چیز پر صبر سے زیادہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسے آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کرکے خواہش کے باعث کو پچھاڑنے کا عادی بنائے یہاں تک کہ وہ اس میں کامیابی کی حلاوت پائے اور وہ اس پر دلیر ہو جائے اور پچھاڑنے کی طاقت زیادہ ہو کیوں کہ سخت اعمال کا عادی ہونے اور ان کی مہارت ان قویٰ کو مضبوط کرتی ہے جن سے یہ اعمال صادر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بوجھ اٹھانے والوں ، کاشت کاری کرنے والوں اور لڑنے والوں کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ سخت کام کرنے والوں کو درزیوں، عطر بیچنے والوں اور فقہا و صالحین کے مقابلے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔
خیال رہے صبر کی تمام اقسام میں علاج کا یہی طریقہ ہے اور سب سے زیادہ سخت باطن کو نفس کی باتوں سےروکنا ہے اور یہ بات اس شخص پر گراں ہوتی ہے جو اس کے لیے فارغ رہتا ہے مثلاً وہ ظاہری طور پر خواہشات کا قلع قمع کر دیتا ہے اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ مراقبہ اور ذکر و فکر کے لیے بیٹھ جاتا ہے تو وسوسے اسے ایک جانب سے دوسری جانب کھینچتے ہیں اور اس کا علاج یہی ہے کہ تمام ظاہری و باطنی تعلقات کو توڑ دے، اہل و اولاد ، مال، جاہ و مرتبہ، دوست احباب
سب سے بھاگے اور ایک گوشے میں معمولی غذا پر قناعت کرے۔
یہ سب کچھ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ اس کا مقصد صرف یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی حاصل کر لے۔ یہ جذبہ پیدا ہونے کے بعد ضروری ہے کہ وہ فکر کے میدان میں آجائے اور زمین و آسمان کی سلطنت میں باطنی سیر کرے، عجائبات قدرت پر غور کرے اور معرفت خداوندی کے تمام دروازوں تک جائے۔ یہ مشغولیت اسے وسوسوں سے دور کر دےگی۔ اور اگر یہ باطنی سیر حاصل نہ ہو تو نجات کا راستہ صرف یہ ہے کہ وہ مسلسل اوراد و وظائف یعنی قرآن پاک کی قراءت و تلاوت، اذکار اور نمازوں میں مشغول رہے، اس کے ساتھ ساتھ اسے دل کی حاضری کی بھی ضرورت ہوگی کیوں کہ باطنی فکر ہی دل کو مشغول کرتی ہے ظاہری وظائف نہیں۔
ان کاموں کے بعد اس کے پاس تھوڑا سا وقت بچےگا کیوں کہ تمام اوقات میں کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا رہتا ہے جو ذکر و فکر کے لیے رکاوٹ بنتا ہے مثلاً بیماری، خوف، انسانی ایذا اور ملاقات کرنے والے احباب کی نافرمانی وغیرہ؛ کیوں کہ اسے ضرور ایسے لوگ ملتے رہتے ہیں جو گناہوں کے بعض اسباب میں اس کی مدد کرتے ہیں۔ یہ بھی مشغولیت کی ایک قسم ہے۔
فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ آج کل اس طرح کی مشغولیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ اخبارات و رسائل اور ٹیلی ویژن، آج کی مصنوعات اور بورڈوں ڈبوں وغیرہ جن میں قلب کو منتشر کرنے والے مضامین ۔ ان خبروں کے ساتھ ساتھ نہایت عریاں اور فحش تصاویر ہوتی ہیں جن سے خواہشات نفسانی نہایت درجہ برانگیختہ رہتی ہیں۔ نیز بعض خبریں غم و الم کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ہر حاسہ ذہن پر ان چیزوں کے مطالعہ کے اثرات عیاں ہیں۔ اس سے زیادہ موبائل وغیرہ پر مسلسل احباب وغیرہ سے باتیں بھی قلب کو اللہ تعالیٰ کے ذکر و یاد سے غافل کرتی ہیں اور دوام ذکر یا ذکر کا
ملکہ دل ہونے سے مانع ہوتی ہیں ۔ جو ذاکر انسان ہیں ہم انھیں دیکھتے ہیں کہ وہ اثناے گفتگو میں بے پناہ منہمک ہو جاتے ہیں اور پھر اس سے دل پر پیدا ہونے والے اثرات بہت دیر تک قلب کو مشغول رکھتے ہیں۔
ضروری ہے کہ ایسے رسائل و جرائد وغیرہ سے مکمل پرہیز کیا جائے جو انتشار ذہنی و قلبی کا سبب ہوتے ہیں اور موبائل فون وغیرہ پر بقدر ضرورت اس انداز پر گفتگو کی جائے کہ دل یادِ الٰہی سے خالی نہ ہو۔ نیز بہتر کوشش کی جائے، ایسے لوگوں کو موبائل وغیرہ پر نیکیوںکی رغبت دلائی جائے۔ اب تو لوگ موبائل وغیرہ میں ایسی تصویریں محفوظ کر لیتے ہیں جنھیں وہ بار بار دیکھتے رہتے ہیں جو ہر وقت ہیجان نفس کا سبب بنتا ہے۔
آج کی دنیا میں ذکر کو دل میں بٹھانے والے کم اور غافل کرنے والے امور بہت زیادہ ہیں۔ روحانیت و طریقت سے آراستہ کرنا نہایت مشکل کام ہو گیا ہے۔ صاحب تصرف شیخ کامل کی ضرورت ہے جو تربیت پر نہایت گہری نظر رکھتا ہو اور ان تمام امور سے قلب کو آراستہ کرنے کا ہنر رکھتا ہو، اور وقت پر تنبیہ بھی کرنا جانتا ہو، غرضیکہ نہایت حکیمانہ علاج کی ضرورت ہے۔
اسی طرح یہ بھی دھیان رہے کہ آج کل مباح امور تو مباح، مشتبہ اور حرام میں انہماک بھی بہت بڑھتا جا رہا ہے۔ ماکولات و مشروبات اور ملبوسات میں وسعتیں اور ان میں اشتغال، ہر وقت لذیذ کھانوں وغیرہ کی چاہت، عمدہ لباسوں کی طلب ، عمدہ مکانوں کی تعمیر اور ان کی سجاوٹ وغیرہ خواہشات کے شکار آج کل بڑے بڑے متقی کہلانے والے، ذکر کرنے والے اور مشائخ اور علما بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ان امور کے لیے کثرت مال کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ اسے مختلف حیلوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حرام و مشتبہ مالوں سے بھی پرہیز نہیں کرتے ہیں۔ ہر ایک کے یہاں دعوت عام میں لذیذ کھانے وغیرہ کھاتے پیتے
ہیں اور حرص نے کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔
یہ ہم دنیادار کہلانے والوں کی بات نہیں کر رہے ہیں، بلکہ دین دار کہلانے والوں کی داستان سنا رہے ہیں۔ شہرت و عزت اور جاہ و منصب کی ہر وقت خواہشیں ان کے علاوہ ہیں۔ ان ساری چیزوں نے دلوں کو اپنی طرف اس قدر راغب کر لیا ہے، بلکہ دلوں میں یہ چیزیں اس قدر پیوست ہو گئی ہیں کہ اذکار و اشغال اور مجاہدات و ریاضات میں دل لگنا تو کجا نماز وغیرہ میں دل نہیں لگتا ہے، روزہ کی معمولی تکلیف کو پہاڑ سمجھنے لگے ہیں، زکات و صدقات کی ادائگی دنڈ (تاوان) تصور کرنے لگے، کسی کا مصرعہ ہے۔؏
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ تمام متعلقات منقطع کرنے کے بعد اکثر اوقات صحیح سالم بچتے ہیں بشرطیکہ اس دوران کوئی عارضہ پیش نہ آئے، ان اوقات میں دل صاف ہوتا ہے اور غور و فکر آسان ہو جاتا ہے جس کی بنیاد پر زمین و آسمان میں پائے جانے والےاسرار خداوندی منکشف ہوتے ہیں اور جب کہ دل دنیوی تعلقات میں مشغول ہو تو ایک طویل عرصے میں بھی اس کا سواں حصہ بھی منکشف نہیں ہوتا اور جس قدر انکشاف ہوتا ہے اور احوال و اعمال میں اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم حاصل ہوتا ہے وہ شکار کی طرح ہوتا ہے اور اس کی مثال رزق جیسی ہے۔ بعض اوقات تھوڑی کوشش سے بڑا شکار مل جاتا ہے اور کبھی طویل جد و جہد کے بعد معمولی حصہ ملتا ہے، اس میں کشش خداوندی پر اعتماد ہوتا ہے ہے۔ بندے کے بس میں صرف خود کو اس لطف و کرم کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔