باب ۷ از ۵۴صفحات ۱۰۲–۱۱۲
تدوین تصوف
مطالعہ تصوف میں ہے: جس طرح افلاطون کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ فلسفہ کو آسمان سے زمین پر لے آئے اسی طرح شیخ ذوالنون مصری
کے احوال و مقامات کی ترتیب سے متعلق مصر میں سب سے پہلے لب کشائی کی، بغداد میں سب سے پہلے شیخ ابو حمزہ بغدادی نے صفا، ذکر، محبت، عشق اور انس کے بارے میں گفتگو کی، سب سے پہلے بغداد میں شیخ سرّی سقطی نے (۲۵۳ھ ۸۶۷ء) توحید، حقائق اور اشارات پر زبان کھولی، فنا و بقا کے سلسلے میں سب سے پہلے شیخ ابو سعید الخراز نے کلام کیا، تصوف کی تدوین سب سے ہلے شیخ جنید بغدادی نے کی اور سب سے پہلے اسے شیخ ابوبکر شبلی نے منبر پربیان کیا، فنا اور وحدۃ الوجود کا اظہار سب سے پہلے بایزید بسطامی کی زبان سے ہوا، تصوف کی پہلی کتاب شیخ حارث محاسبی (۲۴۳ھ ۸۵۸ء) نے ‘‘الرعایۃ فی الاخلاق و الزھد’’ کے نام سے لکھی۔ اگرچہ اس سے پہلے زہد پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، فارسی زبان میں سب سے پہلی مستند تصنیف کشف المحجوب لکھی گئی جو شیخ علی ہجویری کی تصنیف ہے، فارسی میں سب سے پہلے صوفیانہ شاعری شیخ ابو سعید ابی الخیر نے کی، سب سے پہلے صوفیانہ تفسیر شیخ سہل بن عبد اللہ تستری نے لکھی جس کا نام ‘‘تفسیر القرآن العظیم’’ ہے (پھر چند سطر بعد) بغداد کے گرد و نواح میں براثہ کے مقام پر سب سے پہلے شیخ ابو شعیب البراثی (قریباً 197ھ 812ء) نے خس کی جھونپڑی بنائی اور اس میں عبادت کے لیے خلوت نشین ہو گئے۔ ایک امیر لڑکی جس کا نام جوہرہ (170ھ 791ء) تھا کو شیخ کا یہ طرز زندگی پسند آیا، اس نے شیخ سے کہا کہ میں آپ سے شادی کرکے آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ چنانچہ اس نے تمام مال و اسباب سے علاحدگی اختیار کرکے شیخ سے شادی کی اور شوہر کے ساتھ گوشہ نشین ہو گئی۔
صوفیہ کے لیے سب سے پہلی خانقاہ رملہ و شام میں تعمیر ہوئی۔ ایک عیسائی امیر نے جو شکار کرنے جا رہا تھا، راستے میں دو درویشوں کو دیکھا، دونوں محبت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے اور زمین پر بیٹھ گئے، دونوں نے اپنا کھانا سامنے رکھا اور مل بانٹ کر کھایا۔ جب رخصت ہونے لگے تو امیر ان کی الفت و محبت سے بے
حد متاثر ہوا، اس نے ایک درویش کو بلاکر پوچھا کہ یہ کون تھا، اس نے جواب دیا میں اسے نہیں جانتا۔ امیر نے پوچھا کہ یہ تمہارا کیا لگتا ہےدرویش نے کہا: کچھ نہیں، امیر نے پوچھا: اس کا وطن کہاں ہے، درویش نے جواب دیا: میں نہیں جانتا ہوں۔ امیر نے پوچھا: تو اس میں محبت کے کیا معنی؟ درویش نے کہا کہ یہ ہمارا طریقہ رہا ہے۔ امیر نے پوچھا: کیا تمھارے پاس کوئی جگہ ہے جہاں تم ایک دوسرے سے ملتے ہو؟ درویش نے کہا: نہیں۔ امیر نے کہا: میں تمھارے لیے ایک مکان بناوں گا جہاں تم ایک دوسرے سے مل سکو۔ چنانچہ اس نے اسی مقام پر ایک خانقاہ تعمیر کی۔ اس طرح یہ عالم اسلام میں پہلی خانقاہ تھی جو تعمیر ہوئی۔ یہ دوسری صدی ہجری کا واقعہ ہے۔
تصوف و صوفی کا ماخذ اشتقاق
تصوف اور صوفی کے ماخذ میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی لمبی فہرست ہے اور اس کے بیان سے کوئی معتد بہ فائدہ بھی نہیں۔ تصوف سے کیا مراد ہے اسے آپ پڑھ چکے ہیں۔ چند ائمہ کے اقوال نقل کیے دیتے ہیں جن سے لغوی مناسبت یا وجہ تسمیہ معلوم ہو جائے:
حضرت امام قشیری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ سید عالمﷺ ایک بار نکل کر آئے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا، فرمایا: دنیا کی صفائی جاتی رہی (ذھب صفوۃ الدنیا) اور کدورت باقی رہ گئی۔ لہٰذا اب ہر مسلمان کے لیے موت ایک تحفہ ہے۔ یہ نام صوفیہ کے گروہ پر غالب آگیا۔ چناں چہ ایک آدمی کے لیے کہا جاتا ہے ‘‘رجل صوفی’’ اور جماعت کے لیے ‘‘صوفیہ’’ اور اس شخص کو جو اپنے آپ کو جماعت کے ساتھ ملانا چاہتا ہےاسے متصوف کہا جاتا ہے (صوفی نہیں کہا جاتا) جماعت کے لیے متصوفہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
عربی زبان کی رو سے اس نام کی اصل نہ قیاس سے ملتی ہے نہ اشتقاق سے واضح تو یہی ہے کہ یہ نام لقب کی طرح ہے۔ اب رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ لفظ صو
صوف سے اور تصوف سے نکلا ہے؛ کیوں کہ عربی میں جب کوئی صوف کا لباس پہنے تو اس کے لیے تَصَوَّفَ کا لفظ بولتے ہیں جس طرح قمیص پہننے کے لیے تَقَمَّصَ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ تو اس کے اشتقاق کی ایک وجہ ہو سکتی ہے، مگر ان لوگوں کا مخصوص لباس صوف نہ تھا۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو رسالہ قشیریہ۔
عوارف المعارف میں حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصریرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ستر ایسے اصحاب بدر کو دیکھا ہے جو صوف کا لباس پہنے ہوئے جنگ بدر میں شریک تھے۔ حضرت ابو ہریرہ و حضرت فضالہ ابن عبیدرضی اللہ عنہما اس طرح تعریف کرتے ہیں کہ بھوک کی شدت سے جب یہ حضرات غش کھاکر زمین پر گر جاتے تو بدّو لوگ انھیں دیوانہ کہتے تھے، ان تمام لوگوں کا لباس صوف (اون) کا تھا۔ پھر (چند سطر بعد) فرماتے ہیں: ان حضرات نے دنیا کی زینت ترک کرکے یہ صوف کا لباس اختیار کر لیا تھا اور انھوں نے سدّ رمق (بہت تھوڑی خوراک جس سے جان باقی رہے) کھانے اور ستر عورت کے چھپانے پر قناعت کر لی تھی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آخرت کے معاملات میں مستغرق تھے ۔ وہ اپنے مولیٰ اور آقا اور آخرت کے کاموں میں اس قدر اور اس طرح مشغول رہتے کہ انھیں لذت و راحت کی طرف متوجہ ہونی کی فرصت ہی نہیں تھی۔
اگر اعتبار اشتقاق دیکھا جائے تو یہی لفظ موزوں اور مناسب ہے کہ جب کوئی پشمین (صوف) کا لباس پہنتا تو عرب کہتے تَصَوَّفَ (یعنی صوف پہنا) ایک اور وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ارباب زہد و تقویٰ کو صوفی سے منسوب کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کو ان کے صوف سے منسوب اور متصوف کیا گیا تو وہ اس امر کا بھی مظہر بن گیا کہ دنیا ان کے پاس بہت کم ہے اور نفسانی خواہشات کی طرف ان کو بہت کم رغبت ہے کہ نفس ہی نفیس اور اعلیٰ پہننے پر راغب کرتا ہے اور حرص دلاتا ہے یہاں تک کہ جب کوئی فرد ان کی صحبت میں داخل ہوتا ہے اور
ان کے طریقے کو اختیار کرتا ہے تو وہ بھی ان ہی کی طرح اپنے نفس کو تھوڑے پر قانع کر لیتا ہے کہ لباس کی طرح ان کا کھانا پینا بھی اسی ڈھنگ اور طریقے کا ہونا چاہیے۔ یہی سمجھ کر وہ مرید تو ان کے طریقے میں داخل ہوتا ہے۔ مرید ابتدا ہی میں اس بات کو سمجھ لیتا ہے اور اگر کوئی دوسرا نام رکھا جاتا تو مبتدی کو اصل صفت سمجھنے میں دشواری ہوتی۔
اس کے علاوہ اس نام سے منسوب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے وہ یہ کہ جب ان کو صوفی کے نام سے پکارا جاتا ہے تو روحانی حیثیت سے یہ ایک عظیم دعویٰ ہے اور جب یہ بتایا جاتا ہے کہ چوں کہ یہ صوف کا لباس پہنتے ہیں اس لیے ان کو صوفی کہا جاتا ہے تو یہ معنی دعوے سے بالکل دور ہیں اس میں کسی قسم کی دعویٰ نہیں ہے اور جو چیز دعویٰ سے دور ہے وہی ان کے حال کے زیادہ مناسب ہےصوفیہ کا پشمین لباس پہننا ان کی ظاہری حالت کو ظاہر کرتا ہےان کے کسی حال یا مقام کا تعلق ان کے باطن سے ہے۔ پس اس صورت میں ظاہر کے ساتھ حکم کرنا زیادہ مناسب ہے، بلکہ اس نام سے تواضع کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
صوفی نام کی ایک توجیہ یا وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ شکستگی، تواضع، انکسار، فروتنی اور گمنامی کو اپنا شعار بنا لیا ہے تو وہ ایسے ہی ہو گئے جیسے پھٹے پرانے چتھڑے جن کو پھینک دیتے ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں اور ان کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے۔ اس صوفہ (چتھڑوں) کی نسبت سے انھیں صوفی کہا جاتا ہے۔
لباس سے منسوب کرنے کی وجہ
حضرت ابو نصر سراج قدس سرہ سے کسی نے سوال کیا کہ محدثین کو علم حدیث اور فقہا کو علم فقہ (اسی طرح مفسرین کو علم تفسیر اور متکلمین کو علم کلام) سے منسوب کیا، مگر صوفیہ کو کسی مخصوص صفت، حال یا علم سے منسوب نہ کیا جب کہ زاہدوں کو زہد توکل کرنے والوں کو توکل اور صبر
کرنے والوں کو صبر سے منسوب کیا؟ آپ نے جواب دیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ معدن علم اور طرح طرح کے احوال محمودہ سے متصف ہوتے ہیں، منازل ترقی طے کرتے رہتے ہیں، ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہوتے ہوئےاپنے رب کی قربتوں سے شادکام ہوتے ہیں اور ہر لحظہ اپنے رب سے بہت قریب ہونے کے مشتاق رہتے ہیں۔ اب ایسی حالت میں ان کو کسی ایک علم یا حال سے منسوب کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ لہٰذا میں نے ان کو ان کے ظاہری لباس ہی سے منسوب کیا(یعنی اون کا لباس پہننے والے) کیوں کہ اون کا لباس پہننا انبیا علیہم السلاماور اولیا و اصفیا کا شعار رہا ہےجیسا کہ بیشتر روایات اس کی مؤیّد ہیں۔ اگر میں نے ان کو ان کے ظاہری لباس کی مناسبت سے ہی ایک نام سے یاد کیا ہے تو فقط اس لیے کہ یہی لفظ صوفی ہی ان کے تمام علوم، اعمال اور اخلاق حمیدہ کا پتا دیتا ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰعلیہ السلام کے ساتھیوں کا ذکر کیا تو انھیں ان کے ظاہری لباس کی مناسبت سے حواری کے نام سے پکارا جیسا کہ ارشاد ہے:
اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوۡنَ ( ) (جب حواریوں نے کہا)
حضرت عیسیٰعلیہ السلام کے ساتھیوں کو اس لیے حواریوں کے نام سے پکارا گیا کہ وہ سفید لباس پہنتے تھے۔ اللہ نے انھیں ان کے لباس سے منسوب کرکے پکارا ان کے اعمال، احوال اور علوم و اخلاق سے نہیں۔
صوفی کی تعریف
صوفی کی تعریف میں بھی تصوف کی طرح متعدد اقوال ہیں جو سب صوفی کی باطنی عظمتوں اور خصلتوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ حضرت ابو نصر سراج قدس سرہ کے حوالے سے چند یہ ہیں:
۱۔صوفیہ وہ ہیں جو اپنی عقلوں اور قلوب کو مصائب و آلام کے باوجود ثابت
....................
۔ سورۃ المائدۃ: ۵؍۱۱۲
قدم رکھتے ہیں اور نفس کے ہر شغل شرانگیز کو مرشد کامل کی اتباع سے سرد کرتے ہیں (حضرت عبد الواحد ابن زید)
۲۔جسے طلب تھکا نہ سکے اور سلب بے قرار نہ کرےوہ صوفی ہےاور صوفیہ ان لوگوں کا طائفہ ہےجنھوں نے ہر شی پر اللہ ہی کو غالب جانا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انھیں ہر چیز پر غلبہ عطا کیا (حضرت ذوالنون)
۳۔صوفی وہ ہے جو اسباب سے بے نیاز ہو کر اللہ کے یہاں قریب ترین مقام پر فائز اور اللہ کی جانب سے ہر مقام کوجاننے کی نعمت سے بہرہ ور ہوتا ہے (حضرت محمد ابن یحییٰ)
۴۔صوفی صفا سے مشتق ہےاور صفا سے مراد اللہ کے لیے ہمہ وقت بشرط وفاداری قیام می رہنا ہے (ابو الحسن تناد)
بعض کے نزدیک صوفی وہ ہے جسے دو عادتوں یا حالتوں کا سامنا ہو تووہ ان میں سے اعلیٰ ترین پر پابند ہو۔ بعض کا کہنا ہے کوئی شخص صفاے باطن کے حصول کے بعد ہی صوفی ہوتا ہے۔ حضرت ابو نصر فرماتے ہیں کہ صوفی کی تعریف یہی ہے کہ معرفت الٰہی سے بہرہ ور، اپنے رب کے احکامات پر ثابت قدمی سے عمل پیرا، کسی چیز کو یقین کی حد تک پہچان لینے کے بعد تسلیم کرنے والے اور اپنے مقصود کے حصول میں خود کو گم کر دینے والے کو صوفی کہتے ہیںرضی اللہ عنہم۔
صوفی در اصل مقرّب کا نام ہے
معلوم ہو کہ صوفی کی وجہ تسمیہ کچھ بھی رہی ہو، آغاز میں ہو سکتا ہے ان بزرگوں نے مصالح کی بنیاد پر عام طور پر صوف کا لباس پہنا ہواس لیے صوفی کہلائے، مگر صوف کا ان کے یہاں صوفی ہونے کے لیے لازم و ضروری نہیں رہا۔ ہر دور میں صوفیہ کرام کثیر تعداد میں رہے، مگر وہ اکثر صوف نہیں پہنتے تھے۔ حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ہم جو
بلند احوال اور عظیم حالات صوفیہ کی طرف منسوب کریں گے وہ مقرّبین کے احوال ہوں گے کہ در اصل صوفی کا دوسرا نام مقرّب ہے۔ قرآن کریم میں صوفی کا لفط کہیں نہیں آیا ہے، اسے چھوڑ کر مقرّب کا لفط استعمال کیا گیا ہے۔ بہت سے مقرّبین حضرات بدّو عرب، ترکستان اور ماوراء النھر میں اس وقت موجود ہیں اور وہ صوفیہ کے نام سے مشہور نہیں ہیں؛ کیوں کہ وہ رسمی صوف کا لباس نہیں پہنتے۔ پس یہ خیال رکھنا چاہیے کہ صوفیہ سے ہماری مراد حضرات مقرّبین ہیں۔ اس صورت میں مشائخ صوفیہ وہ حضرات ہیں جن کے اسماے گرامی طبقات صوفیہ یا اور دوسری اس قسم کی تمام کتابوں میں موجود ہیں کہ جو مقرّبین بارگاہ الٰہی کی روش پر گامزن تھے۔ پس ان کے علوم مقرّبین کے علوم و احوال ہیں۔
منجملہ ابرار جو کوئی بھی مقرّبین کے مقام بلند سے آگاہ ہو اس کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بھی مقرّب یا صوفی بن گیا۔ اس کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ مقرّبین کے مقام تصرف و ملک سے آگاہ ہو کہ وہ خود بھی صاحب حال بن جائے۔ مقصد یہ ہے کہ صوفی بننے کے لیے مقرّبین کے احوال سے صرف آگاہی کافی نہیں، بلکہ یہ شرط ہے کہ مقرّبین جیسا صاحب احوال بھی بن جائے تب وہ صوفی کہے جانے کا مستحق ہے۔
ارباب باطن کے درجے
معلوم رہے کہ مراتب کے لحاظ سے ارباب باطن کے تین درجے ہیں: (۱) صوفی (۲) متصوف (۳) مستصوف۔
(۱)صوفی کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں، خلاصہ یہ کہ جو اپنے نفس سے فانی ہو کر باقی باللہ ہوا ہو اور طبائع سے خلاصی پا کر حقیقت سے متصل ہوا ہو۔
(۲)متصوف وہ ہے جو صوفی کے درجے تک پہنچنے کے لیے مجاہدہ کرتا ہے (یہ صوفی سے کمتر درجے میں ہے)
(۳)مستصوف وہ ہے جو صرف طلب جاہ کی خاطر صوفی کی مشابہت اختیار کرتا
ہو، حقیقت میں وہ نہ صوفی ہوتا ہے اور نہ متصوف۔ (مطالعہ بحوالہ مرأۃ الأسرار)
معلوم رہے کہ اگر کوئی شخص طلب جاہ وغیرہ کی خاطر صوفیہ سے تشبہ اختیار کرے، بلکہ ان کو اچھا سمجھ کر نیک نیتی کی وجہ سے تشبہ اختیار کرے تو وہ بھی بہت اچھا ہے اور بحکم حدیث المرأ مع من أحبّ (آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے) اگرچہ ایسا شخص اس مرتبہ پر فائز نہیں، لیکن اس گروہ سے محبت کی وجہ سےانھیں کے ساتھ حشر کی امید ہے اور ان کی مشابہت ضرور اس میں برکتیں پیدا کرےگی۔ تشبّہ کا ایک خاص فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی آدمی ان اوصاف و خصائل سے رفتہ رفتہ آراستہ ہو جاتا ہے جو اس کے محبوب کے اندر ہوتے ہیں ۔ بہر حال صدق نیت کے ساتھ تشبّہ بھی بے پناہ مفید ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے عوارف شریف)
فرقہ ملامتیہ
معلوم رہے کہ تیسری صدی کے نصف دوم میں نیشاپور میں ایک اور گروہ وجود میں آیا ہےجسے ملامتیہ کہا جاتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: بعض صوفیہ کا ارشاد ہے کہ ملامتی وہ ہے جو اپنے خیر کو ظاہر نہ کرے اور اپنے شر کو بھی نہ چھپائے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ چوں کہ ملامتی کے رگ و پے اخلاص سے لذت یاب ہوتے ہیں اور وہ سراپا صدق بن جاتا ہے؛ اس لیے وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے احوال و اعمال سے کسی کو خبر ہو۔ ملامتی لوگ اپنے احوال و اعمال کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی میں ان کو لطف آتا ہے۔ اپنے احوال کو چھپانے میں وہ اس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ اگر ان کے احوال و اعمال کسی پر ظاہر ہو جائیں تو وہ اس طرح پریشان اور متوحش ہو جاتے ہیں جیسے ایک گنہ گار اپنی معصیت کے انکشاف سے حیران و پریشان ہوتا ہے۔ حضرت صاحب عوارف قدس سرہ فرماتے ہیں:
ہم نے عراق میں خود ان لوگون کو دیکھا ہےجن کا تعلق فرقہ ملامتیہ سے ہے،
لیکن عراق میں یہ لوگ اس نام سے مشہور و معروف نہیں ہیں۔ اہل عراق بھی اس نام کو اپنی گفتگو اور بول چال میں بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ ملامتیوں کے سلسلے میں ایک روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ایک ملامتی سے درخواست کی کہ وہ ان کی محفل سماع میں شریک ہو، لیکن اس نے انکار کر دیا، اس سے جب عدم شرکت کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ اگر میں محفل سماع میں شریک ہوں گا تو مجھے وجد آئےگا اور اس طرح لوگوں کو میرے حال کی خبر ہو جائےگی اور میں نہیں چاہتا کہ لوگ میرے حال سے واقف ہوں۔
ملامتی کے اخفاے حال کی وجہ
ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اسے اخلاص اور صدق کی تحقیق ہو جائے۔ دوم یہ کہ غیرت کی وجہ سے وہ چاہتے ہیں کہ ان کا حال غیر سے پوشیدہ رہے؛ اس لیےکہ کوئی بھی اپنے محبوب کے ساتھ خلوت نشین ہوتا ہے تو اس کو برا معلوم ہوتا ہے ہے کہ غیر اس سے آگاہ ہو۔ جب کہ صدق محبت کی منزل پر تو اسے یہ بھی برا لگتا ہےکہ کسی کو یہ بھی معلوم ہو کہ وہ اپنے محبوب کو چاہتا ہے (ہر چند کہ محبت کا یہ اعلیٰ مقام ہے) لیکن بطریق صوفیہ یہ بھی ایک نقص ہے اور اس کوبھی ایک علت قرار دیا گیا ہے۔ بہر حال ملامتی کا درجہ متصوف سے تو بلند ہے، لیکن صوفی سے کم ہے۔
ملامتی اصول کے اعتبار سے ذکر چار قسم پر ہے: (۱)ذکر زبان (۲)ذکر قلب (۳)ذکر خفی، ذکر باللہ (۴) ذکر روحی۔ جب ذکر کی نوعیت درست ہو جاتی ہے تو ذکرسر و ذکر قلب اور ذکر زبان کی ضرورت نہیں رہتی ہے، اس وقت زبان و قلب و سر خاموش ہو جاتے ہیں ، اسی کا نام ذکر مشاہدہ ہےاور جب ذکر سرکی تکمیل ہو جاتی ہے تو اس وقت زبان، دل اور قلب ذکر سے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس ذکر کو یہ لوگ ذکر ہیبت کہتے ہیں اور جب ذکر قلب درست ہو جاتا ہے تو زبان ذکر نہیں کرتی، اس ذکر کو ذکر احسانات و نعمت کہتے ہیں ۔ اور جب ذکر میں قلب سست
ہو جاتا ہے تو زبان مصروف ذکر ہو جاتی ہے، یہ ذکر عادت ہے۔
فرقۂ قلندریہ
صوفی کہلانے والوں میں ایک فرقہ قلندریہ کے نام سے ہے جو اندلس کے ایک قلندر یوسف سے منسوب ہے۔ حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ کے بیان کے مطابق قلندریہ سے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جن کے دلوں پر خوش دلی اور طبیعت کے نشہ نے قبضہ کر لیا ہے (جن کے دلوں پر خوش دلی چھائی رہتی ہے) یہاں تک کہ ان کی عادتیں بگڑ گئی ہیں ، اس نشے نے انھیں تباہ و برباد کر دیا ہے، آدا ب مجلس سے بیگانہ بن گئے، لوگوں سے ملنے جلنے کے اطوار و آداب کی ان کو پرواہ نہیں، ہمہ وقت ترنگ میں رہتے ہیں، خوش دلی کے میدان میں پھرنے کی وجہ سےنماز روزہ سے غافل ہوتے ہیں ، بس کچھ فرائض ادا کرتے ہیں۔ ان کو مأکولات و مشروبات کے استعمال کی بھی کچھ پرواہ نہیں جنھیں شریعت نے جائز قرار دیا ہے، اس جواز شرعی اور رخصت سے بہت ہی کم فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے عوارف شریف۔