باب ۴۱ از ۵۴صفحات ۴۸۷–۵۰۷
بھوک کے فائدے
حضرت امام محمدغزالی قدس سرہ نے بھوک کے دس بڑے فائدے ذکرکیے ہیں(1)دل کی صفائی،طبیعت کی تیزی اوربصیرت کا کمال،کیوں کہ سیر ہوکر کھانے سے ذہن کند اور دل اندھا ہوتا ہے نیز دماغ مین بخار نشہ کی طرح بڑھتا ہے حتیٰ کہ وہ سوچ وفکر کے مقامات کو گھیر لیتا ہے اور یوں اس کے سبب دل فکر سے مبرا ہی ہو جا تا ہے جس کی وجہ سے وہ فوری طورپر کسی چیز کا ادراک نہیں کر سکتا ہے،حضرت سلیمان دارانی قدس سرہ فرماتے ہیں"بھوک اختیار کرو یہ نفس کو ذلیل اور دل کو نرم کرتی ہےاوراسی سے آسمانی علم حاصل ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ بھوک ہے۔’’
حضرت شیخ شبلی قدس سرہ فرماتے ہیں: میں اللہ تعالیٰ کے لیےاگر ایک دن بھی بھوکا رہتا ہوں تو اپنے اندرحکمت وعبرت کا ایک دروازہ کھلا پاتاہوں۔ ’’ یہ بات مخفی نہیں کہ عبادت کا مقصد ایک ایسی فکر ہے جو معرفت خداوندی تک پہنچاتی اور حقائق دکھاتی ہے۔شکم سیری اس سے روکتی ہے جب کہ بھو ک اس کے دروازے کو کھولتی ہے۔ معرفت جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے لہٰذا مناسب ہے کہ ہمیشہ بھوک کے ذریعہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے اسی لیے حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے بیٹے جب معدہ بھرا ہوا ہوگا تو فکر سو
جائیگی،حکمت بے خبر ہوگی اور اعضاء عبادت سے بیٹھ جائیں گے۔
(2) کم کھانے سے دل نرم ہوتا ہے اوراس کی صفائی حاصل ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسے لذت دوام کے ادراک اورذکر سے متاثر ہونے کی استعداد حاصل ہوتی ہے،کئی بار زبان پر ذکر جاری ہوتا ہے اور دل بھی حاضر ہوتا ہے مگردل کو نہ تو اس سےلذت حاصل ہوتی ہےاور نہ ہی اس کا اثر ہوتا ہے کیوں کہ اس کے سامنے دل کی سختی کا حجاب ہوتا ہے اور بعض حالات میں اگر دل نرم ہوتا ہے تو اس پر ذکر کا اثر ہوتا ہے اور منا جات میں لذت حاصل ہو تی ہے جس کا واضح سبب معدے کا خالی ہو نا ہے۔
(3)کم کھانے کا تیسرافائدہ انکساری اور تواضع ہے ،اس کی وجہ سے اکڑ،غروراور وہ خوشی چلی جاتی ہےجو سرکشی اور اللہ تعالیٰ سے غفلت کا باعث ہے،بھوک سے نفس کو جس قدر انکساری حاصل ہوتی ہےوہ کسی دوسری چیز سے نہیں، بھوک کے وقت بندہ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہےاور اپنی کمزوری وذلت کو پہچان لیتا ہے کیوں کہ اس کی قوت کمزور ہوجاتی ہے اور اس کا حیلہ چلا جاتا ہے اس لیے کہ جب اسے روٹی کا ٹکڑا نہیں ملتا اور پانی کی ایک گھونٹ کے لیے ترستا ہے تو دنیا اس کی نظر میں تاریک ہو جاتی ہے،جب تک انسان اپنے نفس کی ذلت اور اس کی کمزوری کا مشاہدہ نہ کرے وہ اپنے مولیٰ کے قہر اور غلبہ کو نہیں دیکھ سکتا ،اس کی سعادت اسی بات میں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ہمیشہ ذلت اور عجز کی نگاہ سے دیکھتا رہے اور اپنے مالک کو عزت،قدرت اور قہر کی نگاہ سے دیکھے۔
لہٰذا اسے ہمیشہ بھو کا اور اپنے رب کی طرف مجبور رہنا چاہیے تاکہ اضطرار ذوق کا مشاہدہ کرے اسی لیے جب نبی اکرمﷺکے سامنے دنیا کو پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا:لا بل اجوع يوما واشبع يوما فاذاجعت صبرت وتضرعت واذا شبعت شكرت
نہیں بلکہ میں ایک دن بھو کا رہوں گا اور ایک دن شکم سیر ہوں گا پس جب میں بھوکا ہوں گا تو صبر کروں گا اور اپنے رب کے حضور گڑگڑاؤں گا اور شکم سیر ہوں گا تو شکرکروں گا(مسند امام احمد)
فقیر مجددی کہتا ہے یہاں شکم سیری سے مراد اتنا کھانا ہے جتنا آپﷺ نے امت کے لیے پسند فرمایا کرتے تھے یعنی تہائی پیٹ۔
(4)بھوک کا چوتھا فائدہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی آزمائش اور عذاب کو نہیں بھولتا اور نہ ہی ان لوگوں کو جوآزمائش میں ڈالے گئے،کیوں کہ پیٹ بھر کر کھا نے والا بھوکے آدمی کو بھول جا تا ہےاور عقلمند انسان جب کسی کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو اسے آخرت کی پریشانی یاد آجاتی ہے۔جب وہ پیاسا ہو تا ہے تومیدان قیامت میں لوگوں کی پیاس یاد آجاتی ہے اسی طرح بھوکا ہوتا ہے تو اسے اہل جہنم کی بھوک یاد آجاتی ہےکیوں کہ جب جہنمیوں کو بھوک لگےگی تو انھیں خاردار درخت کھانے کے لیے دیا جائے گا جب کہ پینے کے لیے پیپ دی جا ئے گی۔بندہ سے آخرت کی تکلیفیں اور عذاب غائب نہیں ہونا چاہیے یہی چیزیں خوف دلاتی ہیں،جو شخص ذلت،بیماری اورآزمائش سے خالی ہو وہ آخرت کے عذاب کو بھول جاتاہے اور اس کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں ہوتاہے اور نہ ہی طلب رہتی ہےلہٰذا بندے کو مصیبت میں رہنا اور اس کا مشاہدہ کرتے رہنا چاہیے، اور بھوک برداشت کے سب سے زیادہ لائق ہے کیوں کہ یاد آخرت کے علاوہ اس کے اور بھی فائدے ہیں،یہ ان اسباب میں سے ایک ہے جو مصائب وابتلاء کو انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ خاص کرتا ہے اسی طرح دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں۔
(5)بھوک کے ذریعہ شہوتیں ٹوٹتی ہیں اور انسان نفس امارہ پر غالب آتا ہے جو کہ سب سے بڑا فائدہ ہے کیوں کہ تمام گناہوں کی بنیاد شہوتیں اور نفس امارہ کی قوت ہے جب کہ اس قوت وشہوت کی بنیاد یقینا کھانے میں ہے،لہٰذا اس کی کمی
تمام شہوت وقوت کو کمزور کردیتی ہے،اور کامل سعادت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو پالے،ایک بزرگ سے پوچھاگیا کہ آپ بڑھاپے میں نفس کی خدمت کیوں نہیں کرتے وہ تو کمزور ہوچکا ہے؟انھوں نے فرمایا: اس لیے کہ یہ جلدی اکڑنے لگتا ہےاور بہت زیادہ شرارت کرتا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ سرکش ہو کر مجھے گناہ کے کنویں میں نہ ڈال دے لہٰذا میرا اسے سختی میں مبتلا رکھنا اس سے بہتر ہے کہ یہ مجھے برائیوں پر آمادہ کرے۔’’
یہ ایک فائدہ نہیں بلکہ اسمیں فوائد کے خزانے ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ بھوک اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اور بھوک کی وجہ سے سب سے ادنیٰ چیز جو دور ہوتی ہے وہ وہ شرمگاہ اور کلام کی شہوت ہے کیوں کہ بھوکا آدمی فضول کلام کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔ اس طرح وہ زبان کی آفات سے بچا رہتا ہے جیسے غیبت،فحش کلامی،جھوٹ اور چغلی وغیرہ بھوک ان تمام باتوں سے بچاتی ہے اور جب وہ شکم سیر ہوتا ہے تو وہ دل لگی کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور یوں وہ لوگوں کی عزتوں کے پیچھے پڑ جاتاہے۔
جہاں تک شرمگاہ کی شہوت کا تعلق ہے تو اس کی برائی پوشیدہ نہیں ہے،بھوک اس کے شر کودور کردیتی ہے،جب آدمی شکم سیر ہو تووہ اپنی شرمگاہ پر کنٹرول نہیں کرسکتا ہے،اگر تقویٰ اسے بچا بھی لے تو وہ اپنی آنکھوں کو نہیں بچا سکتا اور اگر آنکھوں کو بھی بچا لے تو سوچ وفکر پر کنٹرول نہیں کر سکتا اور اسے گھٹیا قسم کے تفکرات گھیر لیتے ہیں،دل میں شہوت کے اسباب جنم لیتے ہیں جس سے اس کی مناجات میں خلل واقع ہوتا ہے اور بعض اوقات نماز کے دوران یہ بات پیش آجاتی ہے۔ہم نے یہاں زبان اور شرمگاہ کی آفت بطور مثال ذکر کی ہےورنہ تمام اعضاءکے گناہوں کاسبب وہ قوت ہے جو پیٹ بھر کھانے سے پیدا ہوتی ہے۔
(6)کم کھانے سے نیند دور ہوتی ہے اس لیے کہ جو آدمی سیر ہوکر کھاتا ہے وہ
پانی بہت پیتا ہے جس سے نیند زیادہ آتی ہے،بعض مشائخ کے پاس جب کھانا حاضر ہوتا تو وہ فرماتے"اے گروہ مریدین!زیادہ نہ کھاؤ اس لیے کہ زیادہ کھاکر پانی بھی زیادہ پیوگے پھر نیند بھی زیادہ آئے گی جس سے نقصا ن اٹھاؤگے۔’’
ستر صدیقین کا اتفاق ہے کہ پانی کی کثرت نیند کا باعث ہے اور کثرت نیند سے زندگی ضائع ہو جاتی ہے،تہجد کی نماز رہ جاتی ہے،طبیعت غبی اور دل سخت ہو جاتا ہے۔زندگی ایک بہترین جوہر اور اصل مال ہے جس سے انسان تجارت کرتا ہے جب کہ نیند موت ہے لہٰذا نیند کی کثرت عمر کو کم کردیتی ہے،پھر تہجد کی فضیلت پوشیدہ نہیں جو سونے کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے،اگر نیند کے غلبے میں تہجد پڑھتا بھی ہے تو عبادت کی حلاقت وچاشنی نہیں ملتی۔غیر شادی شدہ آدمی اگر شکم سیر ہوکر سوتا ہے تو احتلام ہوتا ہےجو کہ تہجد میں رکاوٹ ہے اس لیے کہ اسے غسل کی ضرورت ہوتی ہے اب اگر پانی ٹھنڈا ہوگا تو وہ اذیت یا حمام میں جانے کی ضرورت محسوس کرے گابلکہ بسا اوقات رات میں نہیں جا سکتا ہے، اگر وتر رات کو نہیں پڑھی تو وہ بھی جا سکتی ہے،حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احتلام ایک عذاب ہے،اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ بہت ساری عبادتوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
(7)کم کھانے سے عبادت پردوام آسان ہو جاتا ہے کیوں کہ کھانا زیادتی عبادت سے روکتا ہے،خود کھانے میں مشغولیت بھی وقت چاہتی ہے اور بعض اوقات کھانا خریدنے اور پکانے میں وقت صرف ہو جاتا ہے،پھر ہاتھوں کا دھونا اور دانتوں کا خلال بھی وقت چاہتا ہےپھر پانی وغیرہ کے لیے آنا جانا پڑتا ہےظاہر ہے جو وقت ان کامون میں صرف ہوتا ہےاگر اسے ذکر خداوندی،مناجات اوردیگر عبادات میں صرف کیا جائے تو اس کا نفع زیادہ ہوگا۔حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت علی جرجانی کو ستو پھانکتے دیکھا تو پوچھا
آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انھون نے فرمایا میرا خیال ہے کہ چبانے اورپھانکنے کے درمیان ستر تسبیحات کا وقت ہوتا ہے اسی لیے میں نے چالیس سال سے روٹی نہیں چبائی۔
زندگی کا ہر لمحہ ایک نفیس جو ہر ہے جو نہایت بیش قیمت ہےلہٰذا اس سے ایسا خزانہ حاصل کیا جائے جو آخرت میں باقی رہے،یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اپنے وقت کو ذکر الٰہی اور عبادت کے لیے وقف کردے۔زیادہ کھانے سے جو کام مشکل ہو جاتے ہین ان میں ایک طہارت اور مسجد میں ٹھہرنا ہے کیوں کہ زیادہ کھانے کی صورت میں پانی پینے اور پیشاب کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آتی ہے،اسی طرح ایسے آدمی کے لیے روزہ بھی مشکل ہوتا ہے،بھوک کی شدتیں برداشت کرنے سے روزہ آسان ہو جاتا ہے،روزہ کی وجہ سے ہمیشہ باوضو رہنےاورکھانے پینے اور اس کے اسباب میں خرچ ہونے والے اوقات کو عبادت میں صرف کرنے جیسے بے شمارفوائدحاصل ہوتے ہیں،ان کاموں کو وہی لوگ معمولی جانتے ہیں جو دینی قدر نہیں پہچانتے بلکہ دنیا کی زندگی پر راضی اورمطمئن ہیں۔
حضرت ابو سلیمان قدس سرہ نے شکم سیری کی چھ آفتوں کی طرف اشارہ کیا ہے(1)مناجات خداوندی کی چاشنی سے محرومی(2)حکمت کی حفاظت کا مشکل ہونا(3)مخلوق پر شفقت سے محرومی کیوں کہ جب وہ پیٹ بھر کر کھاتاہے تو خیال کرتا ہےکہ سب نے ہی پیٹ بھر کرکھایا ہے (4)عبادت ایک بوجھ بن جاتی ہے (5)خواہشات زیادہ ہوتی ہیں (6)اور لوگ مساجد کا چکر لگاتے ہیں اور یہ پیٹ بھر کر کھا نے والے گندی جگہوں کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں۔
(8)کم کھانے سے بدن کی قیمت برقرار رہتی ہے،بیماریاں دوررہتی ہیں چونکہ بیماریوں کاسبب زیادہ کھاناہے نیز اس کی وجہ سےمعدے اور رگوں میں فضول اخلاط جمع رہتے ہیں پھر بیماری عبادت سے روکتی اور دل کو پریشان کرتی ہے نیز وہ ذکر وفکر
کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے،اس کی وجہ سے زندگی تلخ ہوجاتی ہے،بیماری کی وجہ سے انسان فاسد خون نکلوانے، دوائی اور ڈاکٹر کا محتاج ہو تا ہے اور یہ تمام چیزیں روپیہ مانگتی ہیں اور اس سلسلہ میں انسان تھکاوٹ کے ساتھ طرح طرح کےگناہوں اور خواہشات کا شکار ہوتاہے جب کہ بھوک میں یہ ساری باتیں اوجھل ہوتی جاتی ہیں۔
(9)کم کھانے کی وجہ سے مشقت کم اٹھانا پڑتی ہےکیوں کہ کم کھانے والے کو تھوڑا مال بھی کفایت کرتا ہے،اس کے بر خلاف زیادہ کھانے والے کو اس کا پیٹ پکڑے رہتا ہے اور روز گردن پکڑ کر کہتا ہے کہ آج کیا کھاؤگے؟لہٰذا مختلف مقامات پر جانے کا محتاج ہوتاہے،اس طرح وہ حرام کاموں میں پڑ کر نافرمانی کرتا ہے،لالچ بڑھتا ہے۔حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: لوگوں کی ہلاکت کا باعث دنیا کاحرص ہے اور دنیوی حرص کا باعث پیٹ اور شرمگاہ ہے،شرمگاہ کی شہوت کا باعث پیٹ کی خواہش ہے جب کہ کم کھا نے سے یہ ساری چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔’’
(10)کم کھا نے سے بچا ہوا کھا نا غریبوں،یتیموں اور مساکین کو دیا جا سکتا ہے جس سے صدقہ کا ثواب پائے گا۔
خیا ل رہے کہ متقدمین سے بڑے بڑے ہوشربا مجا ہدات منقول ہیں۔ آج کے بوالہوس نادان اور عیش وعشرت کے دلدادہ ان کے مجا ہدات پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں،جن بزرگوں نے خدا ورسول جل وعلا وﷺکی محبت میں اور دائمی ذکر کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا اور سب سے کٹ کر اللہ ہی کے ہو رہے ایسے نفوس قدسیہ پر جو جاہلانہ تنقید کریں ہماری نظر میں وہ اس لائق نہیں کہ ان کی با توں پر دھیان دیا جائے بلکہ آج کے دور جہالت میں شیطان بہت وسوسے پیدا کردیتا ہے اس لیے ہم چند امور ذکر کرتے ہیں انھیں ذہن میں رکھیں گے تو امید ہے کہ ان
خاصان خدا کے بارے میں کم از کم خوش عقیدہ لوگ تو محفوظ رہیں گے۔
چند اہم فائدے
(1)قرب خداوندی کی اصل علت جذب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کا اپنی طرف کھینچنا یہ اگر بلا واسطہ ہو تو اجتبا ء کہتے ہیں اور بالواسطہ ہو تو انابت کہتے ہیں۔سارے انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات اسی راہ اجتباء سے واصل ہوتے ہیں اس راہ سے واصل ہونے والے مراد ومحبوب ہوتے ہیں۔انبیائے کرام علیہم السلام کے جملہ کمالات نبوت ورسالت اور تمام کمالات ولایت وہبی ہوتے ہیں کسب وعمل کو ان میں کوئی دخل نہیں ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ نے اپنے مکتوبات قدسی آیات میں اسے تفصیلا بیان فرمایا ہے کہ ان کے مجاہدات وریاضات تحصیل کمال کے لیے نہیں بلکہ انعامات الٰہیہ کے شکر کے لیے ہو تے ہیں۔
(2)انبیائے کرام علیہم السلام کے امتیوں کو انہیں کے کمالات سے بطور تبعیت وراثت حصہ ملتا ہے جو جس قدر صلاحیت واستعداد کا مالک ہوتا ہے بقدر ظرف اتباع کے اعتبار سے کمالات ولایت ونبوت سے فیض پاتاہے۔ ان اولیائے کرام میں کچھ مراد ہوتے ہیں اور کچھ مریدین،مرادوں کے معاملات مریدین سے جدا ہوتے ہیں،حضرت قطب الحقیقۃ حضور مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں: جان لو اس راہ کے سالک حضرات دو حال سے خالی نہیں ہیں مرید ہیں یا مراد اگر مراد ہیں تو خوشخبری ہے ان کے لیے کہ انہیں انجذاب محبت کے راستے کشان کشاں لے جا تے ہیں اور مطلب اعلیٰ تک پہنچادیں گے اور جو بھی ادب ان کو درکار ہوگا بواسطہ یا بلاواسطہ ان کو سکھادیں گے اگر ان سے کوئی لغزش سرزد ہو گی تو جلدی آگاہ فرما دیں گے اور ان سے مواخذہ نہ کریں گے،اگر پیرظاہر کی حاجت ہوگی تو بغیر ان کی کوشش ومحنت کےاس دولت کی رہنمائی کر دیں گے خلاصہ یہ کہ عنایت ازلی جل سلطانہ ان بزرگواروں کے حال کی کفیل ہوتی ہے سبب اور بلا سبب ان کے
کام کی کفایت کریں گے‘‘والله يجتبي اليه من يشاء’’اللہ تعالیٰ چن ليتا ہے اپنی طرف جسے چاہتا ہے۔اور اگر مرید ہیں تو ان کا کام کامل و مکمل پیر کے وسیلے کے بغیر دشوار ہے۔’’(مکتوب 292 دفتر اول)
آپ نے اس سے سمجھ لیا ہوگا کہ مرادوں کو زیادہ ریاضات ومجاہدات کی ضرورت نہیں ہوتی۔
(3)اس کے با وجود انبیائے کرام علیہم السلام کی دنیوی زندگیاں مجاہدات سے بھری پڑی ہیں،ہم اپنے آقاومولیٰ مرادوں ومحبوبوں کے سردارعلیہ الصلاۃ والسلام کو لیتے ہیں،آپ علیہ السلام کی حیات طیبہ کو کسی بھی پہلو سے لیں مجاہدات ہی مجاہدات نظر آئیں گے،ذکر الٰہی میں یہ حال کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:کان رسول اللہﷺیذکر اللہ فی کل احیانہ
یعنی حضورﷺتمام اوقات ذکر الٰہی کرتے،ہر حال میں وضو بے وضو،جنابت اور غیر جنابت سب میں ذکر الٰہی کرتے۔’’
آپ ابتدا میں پڑھ چکے ہیں کہ ارشاد خداوندی ہے:
جب تم نماز ادا کرلو تو ذکر الٰہی کرو کھڑے،بیٹھےاورلیٹے۔’’
حضورﷺکا خلق ہی قران تھا،عبادت دیکھیے تو اللہ اکبر! اسقدر کہ پیر سوج جاتے ورم آجاتا ،صحابہ عرض کرتے: آپ معصوم ہیں اس قدر مشقت کیونکر اٹھا تے ہیں؟ آپ علیہ السلام فرماتے: افلا اکون عبدا شکورا’’ کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گذار بندہ نہ بنوں،یعنی میں اپنے درجات یاترقیات کے لیے نہیں بلکہ اس خالق ومالک جل وعلا نےجو مجھے اتنا نوازاہے اس کے بے شمار احسانات کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کرتا ہوں۔شب بیداری کا یہ عالم کہ آپ اکثر آدھی رات کے بعد اٹھ پڑتے اورکچھ مخصوص قرانی تلاوت فرماتے اور طلوع فجر تک نماز تہجد اتنی لمبی قرات سے پڑھتےکہ بیان سے باہر ہے،آخرحیات نبوی میں جب آپ کا جسم اقدس
بوجھل ہوگیا تو بیٹھ کر پڑھتے،قرات کرتے پھر کھڑے ہو جاتے اور تیس چالیس آیات حالت قیام میں پڑھتے پھر رکوع وسجود فرماتے،سفر کے آغاز میں نماز پرھتے اور جس منزل پر قیام کرتے نماز پرھتے،سواری پر بیٹھے بیٹھے اشارے سے نوافل پڑھتے،امت کو طرح طرح سے ترغیب دیتے۔
بھوک کا مجاہدہ ان روایتوں سے سمجھ سکتے ہیں جو فقر کے بیان میں مذکور ہیں،کبھی کبھی تو پیٹ پر کئی کئی پتھر باند ھتے،روزوں کا حال یہ کہ رمضا ن کے علاوہ کبھی اس قدر رکھتے کہ کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم گمان کرتے کہ شاید اب چھوڑیں گے نہیں،صحابہ کرام نے کثرت سے روزے رکھنے کی اجازت چاہی تو صوم داؤد کی اجازت دی یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار اور خود یہ حال کہ صوم وصال رکھتے ہیں،صحابہ کرام نے رکھنا چاہا توفرمایا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہو میں اپنے رب کے پاس رات گذارتا ہوں وہ مجھے کھلا تا اور پلاتا ہے۔
اس سے آپ کے بھوک کے مجاہدہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،دین کی اشاعت اور تبلیغ وترویج کی مشقتیں جو آپ نے جھیلیں وہ آپ ہی کا حصہ تھیں،اسلامی نظام کے قیام کے لیے جہاد مع الکفار میں جو جد وجہد اور محنت ومشقت برداشت کی ہیں وہ کسی دوسرے کے بس کی بات نہ تھیں،یہ چند اشارے ہیں جن سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہر پہلو سے آپ کی حیات طیبہ مجاہدات وریاضات سے مالامال ہے خیال رہے کہ ان مجاہدات وریاجات کا مقصد معبود برحق کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا اور اسے راضی رکھنا تھا۔
انبیائے کرام کے ریاضات ومجاہدات کے بارے میں حامل ولایت محمدی شیخ احمدسرہندی مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے مجاہدات وریاضات اور خود ہر دائرہ مباحات کو تنگ کر لینے کا مقصد اصلی ظہور خوارق کی تحصیل جو کہ ان پر واجب اور ان کی نبوت کی شرط
تھی،درجات قرب الٰہی تک وصول اورپہنچنا(مقصد) نہیں کیوں کہ انبیاء علیہم السلام مجتبیٰ اور برگزیدہ ہیں کی جذب محبت کے ذریعہ ان کو کشاں کشاں لے جاتے ہیں اور ان کی مشقت کے بغیردرجات قرب تک پہنچا دیتے ہیں،وہ تو انابت وارادت ہے کہ درجات قرب الٰہی تک وصول کے لیے اس میں ریاضات ومجاہدات کی ضرورت ہے جو کہ مریدوں کا راستہ ہے جب کہ اجتباء مرادوں کا۔ مرید لوگ محنت ومشقت کے ساتھ اپنے پیروں کے ذریعہ چل کے جا تے ہیں اور مرادوں کو ناز وتنعم کے ساتھ لے جاتے ہیں اور ان کی مشقت کے بغیر درجات قرب تک پہنچا دیتے ہیں۔
جان لینا چاہیے کہ مجاہدات وریاضات راہ انابت کی شرط ہیں اور راہ اجتباء میں مجاہدات شرط نہیں مگر پھر بھی نفع بخش اور سود مند ہیں،مثال کے طور پر وہ شخص کہ جسے کشاں کشاں لے جاتے ہیں اور وہ شخص اس کشش کے ساتھ اپنی محنت ومشقت کو کام میں لاتا ہے تو جلد تر مطلب تک پہنچتا ہے اوردور تک جاتا ہے،اور جو اس محنت وکوشش کو کام میں نہیں رکھتا ہو سکتا ہے کہ کبھی تنہا کشش وجذب الٰہی جو قوی تر ہو زیادہ کام کردے پس سعی ومشقت وتردد راہ اجتباء میں کمال شرط وصول بھی نہیں جیسا کہ نفس وصول کی شرط نہیں ہے ہاں نفع کا احتمال رکھتی ہے۔
معلوم ہو کہ اہل اجتباء کے لیے ریاضات ومجاہدات کا فائدہ آپ نے حضرت مجددقدس سرہ کے کلام سے پڑھا ان کے علاوہ بھی حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اس کے بہت سارے منافع وفوائد ہیں ایک تو جہاد اکبر(نفس کے ساتھ جہاد)دوم دنیا کی آلودگیوں سے نفس کی طہارت ونظافت سوم اخروی مؤاخذہ و محاسبہ کی کمی چہارم اخروی درجات کی بلندی۔
حضرت مجددقدس سرہ یہ بھی فرماتے ہیں: ضروری مباحات پر اکتفا واقتصار کا نام ریاضت ومجاہدہ ہے۔’’ آپ قدس سرہ کے نزدیک حوائج ضروریہ دنیا میں داخل نہیں اور جو ضروری حوائج سے فضول وزائد ہے وہ دنیا میں داخل ہے ،یہ بھی فرماتے
ہیں کہ جس قدر دنیا میں محنت ہے اسی کے اعتبار سے آخرت میں کئی گنا زیادہ راحت ومسرت ہے۔مذکورہ بالا فوائدکے علاوہ انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے یہ فائدے بھی ہیں۔فرماتے ہیں : واضح ہو گیا کہ مباحات ضروریہ پر اقتصار واکتفا کرلینے کے مجاہدات وریاضات گو کہ راہ اجتباء میں وصول کے کیے شرط نہیں لیکن وہ اپنی ذات میں محبوب ومستحسن ہیں بلکہ مذکورہ فوائد کی طرف نظر کرتے ہوئے لازم وضروری ہیں۔(مکتوب 86/دفترسوم)
اس کلام بلاغت نظام سے تو آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ اہل انابت مریدوں کے لیے تومجاہدات وصل الی اللہ کا لازمی شرط ہیں جب کہ اہل اجتباء مریدوں کے لیے گو کہ شرط وصول نہیں بلکہ جو فوائد ومنافع ریاضتوں سے متعلق ہیں ان کے اعتبار سے وہ محمود ومستحسن ہی نہیں بلکہ لازم وضروری بھی ہیں۔
صوفیائے کرام پر تنقید کرنے والے سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کریں کہ وہ کیسی باتیں اور کس مقدس جماعت کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ ان بزرگوں نے اپنے مولیٰ عز وجل کو راضی کرنے کے لیے جو مجاہدات کئے وہ کتنی دینی سوجھ بوجھ پر مبنی تھے؟پھر ایسا نہیں کہ انھوں نے اپنے سے گڑھ لیے بلکہ ان کے سامنے ان کے پیارے آقاومولیٰﷺاور ان کے اصحاب با صفا کی زندگیاں تھیں،ان کے مجاہدات کے نمونے تھے اور وہ اپنے اندر اس کی طاقت بھی پاتے تھے۔ان ہی مجاہدات کی وجہ سے وہ دین کا اتنا بڑا کام کر لے گیے کہ آج نرے لوگ بھی مل کر نہیں کر پا رہے ہیں،انھیں مجاہدات وریاضت اور تقویٰ وطہارت وغیرہ اوصاف عالیہ کی بدولت ان کی زندگیاں اس قدر پر کشش ہو گئی تھیں کہ دل کھنچے جاتے تھے،لوگ ان کے یہاں حقیقی معنیٰ میں اسلامی رنگ،اسلامی ذوق اور اسلام کی صحیح تصویر پاتے تھے جس سے لوگ اس قدر متاثر ہوتے کہ کفارومشرکین ایمان لاتے اور فساق وفجار ان کے ہاتھوں پر توبہ کرتے،جنھوں نے بہ نظر انصاف تاریخ کے اوراق پڑھے
ہیں ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہے۔
یہ بھی دھیان رہے کہ خلافت راشدہ جب ملوکیت میں تبدیل ہوئی اور دنیا کے مال ومتاع اورجاہ ومنصب کی طرف جو رجحان بڑھا اور اس کے نتیجے میں جو باہمی تحاسد وتباغض اور کشمکش شروع ہوئی پھر فریب اور ظلم کے دروازے کھلنا شروع ہوئے اور اپنی عزت نفس کی خاطر اہل علم میں جو مجادلے اور مباحثے وجود میں آئے ان ادوار کی اسلامی تاریخ پڑھیں اور پھر صوفیہ کے احوال پر نظر ڈالیں تو یقین ہو تا ہےکہ ان بزرگوں نے جس طرح دنیا سے منہ پھیرا،جاہ ومنصب کو لات ماری اور عبادت وریاضت کو اپنا شعار بنایا یہ اسلام کی اصل خدمت اور اسلام کو اس کے ظاہری وباطنی خد وخال کے ساتھ باقی رکھنے کاسب سے زیادہ مناسب طریقہ تھا۔
جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل وشعور کی نعمت بخشی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ قائد ورہنما جب تک خود پر سختی نہیں کرتا اور ان اعمال و اخلاق کوکثرت سے نہیں اپناتاہے جنھیں وہ اپنے متبعین میں پیدا کرنا چاہتا ہےتو وہ قیادت کا صحیح کا م نہیں کرسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا طلبی کے بھیانک دور میں صوفیاے کرام نے جس اندازسے دنیا کو ترک کیاوہ عین صواب اور بالغ نظری پر مبنی تھا۔
(4)یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ نیکیاں نیکیوں کی طرف لے جا تی ہیں،جب مرشد کامل کے ظاہر وباطن کا عکس وپرتو مرید کے ظاہر وباطن پر پڑتا ہے تو ظاہر بھی احکام کا پابند بن جاتا ہے اور باطن بھی صاف وشفاف ہوتا چلا جاتاہے پھر تو مجاہدات وریاضات کے فائدے نظر میں کثرت سے آنے لگتے ہیں اوروہ جس مقصداصلی کی تحصیل میں ہوتے ہیں ان پر ان کے اسرارورموز کھلنے لگتے ہیں اور پھر وہ رفتہ رفتہ پورے طور پر خدا کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں،ہر خواہش ان کے دل سے دور ہو جاتی ہےاور انھیں دنیا کے کاموں سے وحشت ہونے لگتی ہے،وہ ہر اس چیز سے کنارہ کشی کشی اختیار کرتے چلے جاتے ہیں جو ان کے ذکر وفکر اور
عبادت وریاضت میں مخل ہوتی ہے،اب مرشد جس قدر قوی التوجہ اور انوار وتجلیات کا حامل ہو گا اسی قدر صفاے قلب کا کام زیادہ ہو گا،پھر مرشد کے مرشد حضورﷺکی ایک ہی توجہ پورے صفائے قلب کا کام تمام کردیتی تھی لہٰذا صحابہ میں طلب اس قدر موجزن ہوتی کہ کوئی تبتل وانقطاع اختیار کرتے کوئی ہمیشہ روزے رکھتے تو کوئی رات رات بھر عبادت کرنے کی خواہش کرتے،آقا ئے کریمﷺکی شان ہی الگ تھی آپ کی اجازت شریعت کا قانون بنتی،ظاہر ہے ہر امتی اس کا اہل نہ تھا لہٰذا یہ آپ کی رحمت تھی کہ آپ نے عام امت کو نہایت آسانی میں رکھاوہ جو بھی عمل خیر کریں گے وہ ان کا اپنا فعل ہوگا جس کے فائدے انھیں نصیب ہونگے لیکن وہ شریعت کا قانون نہیں ہو سکتا تھا۔
پھر یہ بھی دھیان رہےکہ ان بزرگوں نے جو دستور مجاہدات اپنائے ان کا فائدہ اصلاح و ارشاد میں اس قدر کام آیا کہ ان کے مریدوں نے اپنے مشائخ کےاوصاف واخلاق نہایت خوبی کے ساتھ اپنے اندر پیداکیے،امراء وسلاطین اور علمائے ظاہر کی جانب اس قدر لوگوں کا رجحان یا عقیدت نہ تھی جو ان بزرگوں کے ساتھ تھی،لہٰذا اپنے عقائد واعمال میں ان بزرگوں سے سبق لیتے رہے اور بدعت وضلالت سے خود کو محفوظ رکھتے رہے۔
پھریہ بھی دھیان رہے کہ حضوراقدسﷺکے جو گوناگوں اوصاف وکمالات بھی ان کے ظہور کی تاب کسی ایک قوم یا قرن کے لوگوں میں نہ تھا،آپ کے کچھ کمالات جسدی تھے جو جسد مبارک سے تعلق رکھتے تھے جن کا ظہور زیادہ تر صحابہ میں ہوا اسی لیے جہاد باکفار کے لیے میدان میں اتر پڑے اورچند برسوں میں اسلام کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا،بعد کی امت میں آپ کے اس کمال کا ظہور ہوا جن کا تعلق روح،قلب اور نفس وغیرہ سے تھا،ان متقدمین صوفیہ کے دور میں ہی صحابہ کی برکتوں سے اس قدر اسلام پھیل چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد اس قدر غالب ہو گئی
تھی کہ اب ہر مسلمان کو جہاد مع الکفار کی ضرورت نہیں رہی تھی،حکومت اسلامیہ باضابطہ منظم ہو چکی تھی،بڑی تعداد میں فوج تیار ہو چکی تھی اور ہر پہلو پر خدمت کرنے والوں کی بڑی بڑی جماعتیں تیار ہو چکی تھیں،اہل علم کے مختلف گروہ مجتہدین،مفسرین،محدثین اور متکلمین وغیرہ الگ الگ محاذوں پرکام سنبھالے ہوئے تھے،حکومت کچھ نہ کچھ اپنے فرائض انجام دے رہی تھی ایسے حالات میں دین کا جو پہلو کام کرنے کے لیے تشنہ تھا وہ وہی تھاکہ بندوں کے ظاہر وباطن کی تعمیر انھیں خطوط پر کی جائے جن پر صحابہ کی ہوئی تھی،یہ وہ عظیم کام تھا جو ان بزرگوں نےسب کچھ ترک کرکے کیا خلوت وجلوت میں اتباع سنت،خوف وخشیت،تقویٰ وطہارت،توبہ وانابت،خوف ورجا،عشق ومحبت،ایثار وسخاوت،رحمت وشفقت، اخلاص وللٰہیت، زہد و قناعت، صبروتوکل اور رضا بالقضا وغیرہ اوصاف عالیہ کی جو کثرت صوفیہ اور ان کے ہم صحبت بزرگوں اور اہل ارادت میں ملے گی وہ نہ حکام وامراء میں تھی اور نہ عام علمائے ظاہر میں۔
(5)رسول اور نبی کی تعداد میں روایات مختلف ہیں مشہور ہے کہ رسول تین سو تیرہ اور انبیا کم وابیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں۔
نبی اور رسول کی تعریف: میں مختلف اقوال ہیں مشہور تحقیقی قول یہ ہے کہ رسول وہ انسان ہے جس کی طرف وحی شریعت کی گئی ہو اور وہ مامور بالتبلیغ ہو جب کہ نبی عام ہے مامور بالتبلیغ ہو یا نہ ہو المعتقدالمنتقد اور اس کے حاشیہ امام احمد رضا میں اسے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے،جو رسول ہو گا وہ نبی بھی ہوگا اور ہر نبی رسول نہیں ہو سکتاہے ایک وقت میں کئی کئی نبی ہوئے ہیں،ہمارا مطلب اس سے یہ ہے کہ جب ہر نبی پر تبلیغ واجب نہیں تو ہرصوفی وولی پر تبلیغ کیسے ضروری ہو جائیگی جب کہ ایک شہر میں کئی کئی علما اور اسلام وسنیت کے داعی اور مبلغ موجود ہوں۔
یہ ہمارے نبیﷺکا فیضان نبوت تھا کہ علم وعرفان کے ایسے چشمے بہے کہ
اسلام کی ایک صدی پوری ہوتے ہوتے ایک سے ایک بڑے مجتہد،مفسر،محدث اور علما کثرت سے تیار ہوگیے حکومت اسلامیہ کے ذریعہ جو کام ہو رہا تھا یہ الگ تھا ہر طرف اسلام وسنت کے داعی پھیل گیے تھے،ایسے حالات میں ان بے چارے صوفیہ پر الزام لگانا کہ وہ کثرت مجاہدات کی وجہ سے کمزور ہوگیے،ترک وتجرید کا راستہ اختیار کرکےسب سے علیٰحدگی اختیارت کرلی جس سے دعوت وتبلیغ کے کام میں فرق پڑا یہ سب تاریخ سے جہالت اور احکام شرع سے نا واقفی کا نتیجہ ہے،پہلی بات تو یہ کہ صوفیہ میں ایسے بہت کم ہوئے جنھوں نے اپنے آپ کو رشدوہدایت کے کام سے دور رکھاہو وہ اپنے اندر مجاہدات کی قوت رکھتے تھے اور اس قدر ریاضت شاقہ کے باوجود احکام شرع کی ادائگی میں ان سے کبھی فتور واقع نہ ہوتا بلکہ انھوں نے اپنے رب تعالیٰ کی محبت میں سب سے پاک کرکے اس کے مکمل حوالے کردیا وہ چاہتے تھے کہ ہمارا کوئی لمحہ یاد الٰہی سے غافل نہ ہو،وہ ہر اس چیز سے دوری اختیار کر لیتے تھے جو ان کے اس کام میں رکاوٹ بنتی تھی،قرآن وسنت کی روشنی میں کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ انھوں نے ایسے اقدامات کیے ہوں جو خلاف شرع ہیں۔
یہ بھی دھیان رہے کہ جب سارے انبیائے کرام تبلیغ کے مامور نہیں ہوتے ہیں پھر بھی انھیں مبعوث کیا جاتا ہے اور کمالات ولایت ونبوت سے سرفراز کیا جاتاہے،معلوم ہو کہ احکام شرع کی دعوت وتبلیغ کے علاوہ بھی بہت کام ہیں جو قرب بندہ سے متعلق ہوتےہیں ،یہ کام کیا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہمارے سامنے بزرگوں کی کوئی ایسی تحریر نہیں جس سے ہم سمجھ لیں کہ ان کی بعثت فلاں فلاں کام کے لیے ہوتی ہے،ظاہر ہے کہ ایسی عظیم ہستیوں کا وجود بےفائدہ تو نہیں ہو سکتا ہے۔
فقیر مجددی کی نظر میں ان نفوس قدسیہ کے وجود سے ایک بڑا کام تو یہ ہو سکتا ہے کہ نفوس امارہ کا تزکیہ ان سے متعلق رہتاہے،جب اولیاے کرام اپنی باطنی
توجہات سے نفوس وقلوب کا تزکیہ وتصفیہ کرتے ہیں تو ان بزرگواروں کی توجہات سے یہ کام بطوراحسن انجام پاتاہوگا۔
دوم نرے وہ امور ہیں جن کا تعلق انتظام عالم سے ہوتا ہے ان مقربین بارگاہ سے ایسے امور بھی متعلق ہو سکتے ہیں جیسے اولیائے کرام میں ایک وہ ہوتے ہیں جن سے ارشاد واصلاح کا کام ہوتا ہے انھیں اولیائے عشرت کہا جاتا ہے اور ایک وہ جن کا تعلق انتظام عالم سے متعلق ہوتا ہے جو اکثر مخفی رہتے ہیں،انھیں اولیائے عزلت کہا جاتاہے ۔بہت ساری احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے وجود سے بلائیں دفع ہوتی ہیں ،بارشیں ہوتی ہیں اور اہل حق کو فتح ونصرت نصیب ہوتی ہے،ان بزرگوں کی توجہات سے عذاب دفع ہو جاتے ہیں ،گناہوں کی مغفرت ہوتی ہے،بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور لوگوں کی مشکلیں حل ہو تی ہیں،ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو عالم کے وجود وبقاکاسبب بنتے ہیں اولیائے کرام کے بہت سارے اقسام ہیں اور ان کی جدا جدا خدمات ہیں اور علیٰحدہ علیٰحدہ منصب ہیں ان میں بہت سے امور احادیث کریمہ سے ثابت ہیں اور ارباب کشف اولیا کے تو اسی قدر مشاہدات ہیں ،سارے اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ ایسے بندے دنیا میں ہوتے ہیں،اب ایسے نفوس قدسیہ کی شہادتوں کو مسترد کردینا اور ان کے اجماع کو ٹھکرادینا کوئی بڑا معاند ہی کر سکتاہے،حیرت تو یہ کہ تنقید پر قلم چلانے والے جب علم احادیث کے انکار پر آتے ہیں تو ابن تیمیہ جیسے بدنام کاسہارا اور نام لے کر احادیث ضعاف تو کجا احادیث صحیحہ کا انکار کر بیٹھتے ہیں کیوں کہ وہ احادیث بزرگوں اور صوفیوں کے معمولات میں ملتی ہیں یاتصوف کے کسی حصے کا ان سے ثبوت ہوتاہے،اور دوسری طرف جن واقعات سے بزرگوں پر اعتراضات کا موقع ملتا تھا یا تنقید کی جا سکتی تھی وہاں روایت ودرایت کے سارے وصول بالائے طاق رکھ کر بے جا تنقید کرتے چلے گیے۔
خورد ونوش کے دیوانوں سے کوئی پوچھے کہ وہ دین کی کیا کیا خدمتیں کرتے ہیں؟ کس قدر تبلیغ کرتے ہیں؟ کیا عبادت کرتے ہیں؟ کتنے لمحات ذکر الٰہی میں بسر کرتے ہیں؟کس قدر قوم ان سے جڑی ہوئی ہے؟ خود ان کے اندر کتنا تشرع ہے،ان کے سینے کس قدر کینوں سے پاک ہیں،کس قدر رذائل نفس کے وہ اسیر ہیں؟ پروردگار عالم ہدایت دے ،اٰمین۔
یہ ہمیشہ دھیان میں رہے کہ بزرگوں کا ترک طعام مجاہدہ کا رکن نہیں کہ آدمی کھانا چھوڑ دے،بلکہ تقلیل طعام ہے یعنی کم کھانا اس کی بھی ایک مقدار ہے،پھر یہ ارکان مقاصد میں سے نہیں ہیں،تزکیہ نفس جس کا قرآن مجید حکم دیتا ہے اور اس پر فلاح کو مرکب کرنےکا ایک طریقہ ہے اگر مجاہدہ کے بغیر تزکیہ حاصل ہو جائے جس کا ذکر آگے آئے گا تو مجاہدہ کی ضرورت نہیں،ہاں ہر معاملہ میں سنت کا التزام ہر حال میں ضروری ہے۔
یہ بھی دھیان میں رہے کہ بعض بزرگوں نے بعض اشیاء کو ترک کیا اور ان کے کھانے سے پرہیز کیا ،آج بھی بعض اعمال واحزاب میں ترک جمالی وجلالی کرنا پڑتا ہے،معترضین نےاس پر لا طائل بحثیں شروع کر دیں اور اس کا رشتہ تحریم مااحل اللہ سے جوڑ دیا یعنی اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانا اور پھر اس پر حضورﷺکے واقعہ شہد اور قرآن کی ہدایت کے ذریعہ اس کی قباحت وشناعت کے ذریعہ مخالفین کا اعتراض کرنا عجب مضحکہ خیز ہے،کہاں تحریم مااحل اللہ اور کہاں بطور علاج یہ ترک،تمام لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ آئے دن اطبا اور ڈاکٹر مریضوں کو ان کے مرض کے اعتبار سے چیزیں منع کرتے رہتے ہیں ،نری چیزیں ہیں جو مزاج کے خلاف ہوتی ہیں اور کھانے پر بیماری کا سبب بنتی ہیں تو کیا یہ سب تحریم ما احل اللہ ہے؟
(6)حضرت مجددقدس سرہ کا ارشاد: حضرت مجدد قدس سرہ نے کھانے
کے مجاہدے کے تعلق سے جو ارشاد فرمایا ہے اسے ضرور ذہن میں رکھیں سوال وجواب کا خلاصہ حاضر ہے۔
سوال: سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اتباع سنت کا التزام ہے اور طریقے کا مدار ہی اتباع سنت پر ہے حالانکہ سرور کونینﷺنے عجیب وغریب ریاضتیں کیں اور سخت بھوک برداشت کیے جیسے طول قیام لیل اور شب بیداری اس حد تک کہ پیروں پر ورم آجاتا،صوم وصال،جہاد باکفار،شدت کی گرمیوں میں برائے ترویج دین دور دراز کے سفر جب کہ طریقہ نقشبندیہ میں ریاضتوں سے منع کرتے ہیں بلکہ چونکہ ریاضتوں سے صورتوں کے کشوف کا ظہور ہوتا ہے اس لیے مضر اور نقصان دہ خیال کرتے ہیں،یہ عجیب بات ہے جب ریاضت ومجاہدے سنت ہیں تو سنت میں احتمال ضرر کیسے ہو سکتا ہے؟
جواب:کس نے کہہ دیا کہ طریقہ نقشبندیہ میں ریاضتیں ممنوع ہیں اور کہاں سے سن لیا کہ نقشبندی ریاضتوں کو نقصان دہ خیال کرتے ہیں اس طریقہ کے مجاہدات وریاضات یہ ہیں(1)محافطت سنت کا دوام(2) متابعت سنت کا التزام علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام (3)ستر احوال یعنی احوال چھپانے میں سعی وکوشش کرنا(4)کھانے اور لباس میں توسط اور حد اعتدال کی رعایت کرنا یہ سب امور دشوار وکٹھن مجاہدے اور ریاضتیں ہیں،زیادہ سے زیادہ یہ کہ عوام کالانعام ان امور کوریاضت نہیں شمار کرتے اور نہ ہی مجاہدات سمجھتے ہیں،بلکہ بھوکا رہنے اور بھوک کی زیادتی وکثرت ان کے نزدیک بڑی قدر والی چیز ہے اس لیے کہ بہائم صفتوں کے نزدیک کھانا سب سے اہم چیز اور سب سے بڑا مقصدہے تو لا محالہ اس کاترک ہی ریاضت شاقہ اور مجاہدہ شدیدہ ہوگا،اس کے بر خلاف محافظت سنت کا دوام اور متابعت سنت علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام کا التزام اور اس جیسی دیگر چیزوں کا عوام کی نظر میں کوئی قدر نہیں اور نہ ہی کوئی شمار کہ ان کے ترک کو منکرات یا برائیوں سے
جان کر ریاضات میں سے شمار کریں،پس اس طریقہ کے اکابر پر لازم ہے کہ ستر احوال میں کوشش کریں اور اس ریاضت کو ترک کریں جو عوام کی نظر میں بڑی قدر والی ہے،قبول خلق کا سبب ہے، شہرت کو مستلزم ہے جو(شہرت)کہ آفت کو متضمن اور شرارت کا ثمرہ دیتی ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی برائی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی دین ودنیا میں انگلیوں سے اشارہ کیا جائے۔’’
مگر اللہ تعالیٰ جسے محفوظ رکھے،فقیر(حضرت مجددقدس سرہ) کے نزدیک ماکولات(کھانوں) میں حد اعتدال کی رعایت بہ مقابل بہت زیادہ بھو کا رہنے کے زیادہ آسان ہے اور بہت سہولت رکھتا ہے اور فقیر پاتا ہے کہ توسط حال کی رعایت کثرت جوع کی ریاضت سے زیادہ ہے ،حضرت والد بزرگوار قدس سرہ فرماتے تھے کہ علم سلوک میں میں نے رسالہ دیکھا ہے کہ جس میں لکھا تھا کہ ماکولات میں اعتدال کی رعایت رکھنا اور میانہ روی پر نگاہ رکھنامطلوب تک وصول میں کافی ہے،اس مراعات کے ساتھ ذکروفکر کی کچھ حاجت نہیں ،حق یہ ہے کہ مطعومات وملبوسات میں توسط حال اور میا نہ روی بہت اچھی چیز ہے۔
نہ چنداں خور کز دہانت بر آید
نہ چنداں کی از ضعف جانت بر آید
یعنی اتنا نہ کھاو کہ منہ سے نکلنے لگے اور نہ اتنا کم کہ کمزوری کی وجہ سے جان نکل جائے۔ ہمارے حضورﷺکو اللہ تعالیٰ نے چالیس مردوں کی طاقت عطافرمائی تھی کہ اس طاقت کی وجہ سے کٹھن اور دشوار بھوکوں کو برداشت کر لیتے تھے،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی حضرت خیر البشرﷺکی صحبت کی برکت کی وجہ سے اس بوجھ کو برداشت کر لے گیے اور ان کے اعمال وافعال میں کسی طرح کا خلل وفتور واقع نہ ہوا،بھوک کے باوجود اعداء اور دشمنان دین کے ساتھ جنگ کی طاقت وقدرت اس نہج پررکھتے تھے کہ سیرشکم اور پیٹ بھرے لوگ دسویں حصے کو
بھی نہیں پہنچیں گے،یہی وجہ ہے کہ اہل صبر سے بیس لوگ دو سو کافروں پر غالب آگیےاور سو اشخاص نے ہزار لوگوں پر غلبہ حاصل کیا جب کہ صحابہ کے علاوہ دوسرے بھوک جھیلنے والے لوگ جنگ تو جنگ قریب ہے کہ آداب وسنن کی بجا آوری میں عاجز رہ جائیں بلکہ بہت ممکن ہے کہ ادائے فرض کی ذمہ داریاں بتکلف پوری کر سکیں،بلا طاقت اس معاملہ میں صحابہ کرام کی تقلید کرنا فرائض وسنن کی ادائیگی میں خود کو عاجز کرنا ہے۔
منقول ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرمﷺکی تقلید کی اور صوم وصال رکھنے لگے اور ضعف وناتوانی کی وجہ سے بے اختیار زمین پرگرپڑے،حضورﷺنے بطریق اعتراض فرمایا:تم میں ہماری مثل کون ہے؟ میں اپنے رب کے پاس رات گذارتاہوں اور وہیں سے کھاتاپیتا ہوں۔’’پس بے طاقت تقلید کرنا اچھا نہیں جانا۔
نیز صحابہ خیرالانامﷺکی برکت صحبت کی وجہ سے کثرت جوع کے پوشیدہ اثرات بد سے محفوظ ومامون تھے جب کہ دوسروں کو یہ امان میسر نہیں ہے،اس کا بیان یہ ہے کہ بھوک کی کثرت ضرور صفابخش ہے کسی گروہ کو صفائے قلب بخشتی ہے اور کسی دوسرے گروہ کو صفائے نفس،صفائے قلب ہدایت افزا اور نور بخش ہے اور صفائے نفس ضلالت نما اور ظلمت افزا،یونان کے فلسفیوں اور ہندوستان کے جوگیوں اور برہمنوں کو بھوک نے صفائے نفس بخش کر گمرہی اور خسارہ کی رہنمائی کی،بے خرد افلاطون نے اپنے صفائے نفس پر بھروسہ اور اعتماد کیا انجام کار کشفی اور خیالی صورتوں کو اپنا مقتدا اور پیشوا بنا کر عجب اور خودبینی کا شکار ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کہ اس وقت میں مبعوث تھے کی اطاعت اختیار نہ کی اور کہا:
نحن قوم مهديون لا حاجة بنا اليٰ من يهدينا۔(ہم ہدایت یافتہ قوم ہیں