باب ۱۹ از ۵۴صفحات ۲۳۲–۲۴۵
عیوب پہچاننے کے طریقے
عیوب کی معرفت کے چار طریقے ہیں: (۱)ایسا مرشد ہو جو نفس کے عیوب کو دیکھ سکتا ہو اور پوشیدہ آفات کو معلوم کر سکتا ہو تو مرید کو چاہیے کہ ایسے مرشد کی ہدایت کے مطابق مجاہدہ کرے کیوں کہ مرشد
کے ساتھ مرید کی اور استاذ کے ساتھ شاگرد کی یہی حالت ہوتی ہے اور استاذا ور مرشد اسے اس کے ذاتی عیوب کی پہچان کراتے ہیں اور اس کے علاج کا طریقہ بھی بتاتے ہیں، لیکن اس زمانے میں یہ صورت نادر الوجود ہے۔’’
آپ دیکھ رہے ہیں حضرت امام قدس سرہ اپنے زمانے کے حالات کے اعتبار سے فرما رہے ہیں کہ یہ صورت نادر الوجود ہے، آپ کا زمانہ آج سے تقریباً آٹھ سو سال قبل کا زمانہ ہے۔ جب اس وقت کا یہ حال تھا تو آج کے اس دور انحطاط کے بارے میں کیا کہا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج علما و مشائخ اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیں اور تربیت و ارشاد کے اصول و ضوابط سے باقاعدہ آگاہی حاصل کرکےتربیت کا کام کریں تو بھی اصلاح و ارشاد کا بہت بڑا کام ہو سکتا ہے۔ آج بھی مشاہدہ ہے کہ جو لوگ ہوش مندی کے ساتھ یہ کام لگن کے ساتھ کر رہے ہیں اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ خاص کر علما چاہیں تو مدارس کے ذریعہ اور مشائخ بیعت کے ذریعہ بہت بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔
(۲)کوئی سچا دوست تلاش کرے جو صاحب بصیرت اور دین دار ہو اسے اپنے نفس کا نگراں بنائے تاکہ وہ اس کے احوال و افعال کو دیکھتا رہے تو جو کچھ اس کے اخلاق و افعال سے ناپسند کرے نیز ظاہری و باطنی عیب دیکھے اسے اس سے آگاہ کرے۔ دانا لوگ اور اکابر ائمہ دین اسی طرح کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت امام قدس سرہ اس سلسلے میں حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ کی روش ذکر کرکے فرماتے ہیں۔ جب اس قدر بلند مرتبہ شخصیت اور عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ اپنے نفس کو اس قدر تہمت لگاتے تھے تو جس شخص کی عقل زیادہ اور منصب بلند ہو وہ خود پسندی کم کرےگا اور اپنے آپ پر تہمت زیادہ باندھےگا، لیکن یہ صورت بھی ناپید ہو گئی کیوں کہ بہت کم دوست ایسے ہیں جو مداہنت چھوڑ دیں اور عیب بتائیں یا حسد کو نہیں چھوڑتے اور ضروری بات سے زیادہ نہیں بتاتے۔
دوستوں میں حسد کرنے والے یا غرض مند لوگ ہوتے ہیں، وہ اس بات کو بھی عیب جانتے ہیں جو عیب نہیں یا خا موشی اختیار کرتے ہیں اور یوں تمھیں اپنے عیبوں کا پتہ نہیں چلتا ؛ اسی لیے حضرت داؤد طائیرحمۃ اللہ علیہ نے لوگوں سے علاحدگی اختیار کر لی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ مل جل کر کیوں نہیں رہتے؟ تو انھوں نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کو کیا کروں جو مجھ سے میرے عیب چھپاتے ہیں۔’’ دین دار لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ دوسرے لوگوں کے بتانے سے وہ اپنے عیبوں پر مطلع ہوں، لیکن اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہم اس شخص کو ناپسند کرتے ہیں جو ہماری خیر خواہی کرتے ہوئے ہمیں ہمارے عیبوں پر مطلع کرے اور یہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
(۳)اپنے دشمنوں کی زبان سے اپنے عیبوں کی پہچان حاصل کرے کیوں کہ وہ تو عیبوں کی تلاش میں ہی رہتے ہیں اور عام طور پر انسان اس دشمن سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو اس کے عیب تلاش کرتا ہے جب کہ دوست خوشامد کا راستہ اپناتا ہے اور اس کی تعریف و توصیف میں رہتا ہے۔ لہٰذا اس پر عیب مخفی رہتے ہیں، لیکن انسان فطرتاً دشمن کو جھوٹا قرار دیتا ہے اور اس کی بات کو حسد پر محمول کرتا ہے جب کہ صاحب بصیرت شخص دشمنوں کی بات سےضروری فائدہ اٹھاتا ہے کیوں کہ برائیاں لازماً اس کی زبان پر آتی ہیں۔
(۴)لوگوں میں مل جل کر رہے اور دوسروں میں جو ناپسندیدہ بات دیکھے اپنے نفس میں بھی اسے خیال کرے اور اس کی طرف اسے منسوب کرے کیوں کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہے۔ لہٰذا ان کے عیبوں کو اپنے عیب سمجھے اور یہ بات جان لے کہ طبیعتیں خواہش کی اتباع میں ایک دوسرے کے قریب ہیں تو جو بات ایک میں دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتی یا تو اس سے زیادہ ہوگی یا کچھ نہ کچھ ہوگی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم شریف جلد سوم۔
روحانیت و تصوف کے مختلف ادوار
روحانیت و تصوف کے مختلف ادوار کا اجمالی بیان: حضرت شاہ محمد مظہر مجددی مہاجر مدنی قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘جان لو انسان کی پیدائش کا مقصد خالق جل جلالہ و عم نوالہ کی معرفت ، قرب و اخلاص کے اعلیٰ مراتب تک پہنچنا اور شہود و احسان کے کے آخری مراتب سے فائز ہونا ہے۔ حضرات انبیا علیٰ نبینا و علیہم الصلوات و التسلیمات کی بعثت اسی کے واسطے ہوئی ہے۔ پس صحابہ کبار و اہل بیت اطہار رسول خداﷺ کے شرف صحبت پانے کی وجہ سے مقامات عرفان تک پہنچے اور اسما و صفات کی تجلیات سے گذر کر تجلیات ذاتیہ سے کامیاب اور فائز ہوئے اور سرکارﷺ کی صحبت مقدسہ کی برکت سے تصفیہ قلب و تزکیہ نفس اور تہذیب اخلاق ان کے نقد حال تھا اور اعمال و احوال میں حضور سید المرسلینﷺ کی کمال اتباع رکھتے تھے، لیکن نفلی عبادات کی کثرت اور مالوفات (لذیذ ماکولات و مشروبات و ملبوسات) کا ترک اور ریاضت شدیدہ و اعمال شاقہ کو اختیار کرنا ان اکابر سے مروی نہیں ہے، مگر بطریق نادر اور درجات قرب خدا کی اس بلندی کے باوجود خوارق عادات کے کچھ بھی محل صدور نہ بنے کیوں کہ خوارق عادات کی کثرت بلندی درجات کا تقاضا نہیں، دیگر وجوہ سے ظہور میں آتے ہیں، ان کے حالات و مقامات کی تعبیر صرف سکینہ و طمانیت و مبرد یقین کے سوا سے نہیں کی جاسکتی ہے کہ کمالات کے لطائف و بلندی سے دست ادراک کوتاہ ہے۔ استغراق و بےخودی اور فنا و بقا و دیگر مقامات جو کہ صوفیہ کی کتابوں میں مذکور ہیں ان پیشواؤں سےمشہور نہیں ہیں اور تابعین نے درجات عالیہ کو انھیں صحابہ کبار کے فیض صحبت سے پایا اور تبع تابعین نے اس بلند مرتبہ کو تابعین کی برکت صحبت سے ڈھونڈا۔
یہاں تک کہ زمانہ نبوت بعید ہو گیا اور لوگ مختلف ہو گئے۔ بدعت ظاہر ہوئی تو لوگوں میں اہل سنت و جماعت اتباع سنت اور اجتناب از بدعت میں منفرد ہوئے، لیکن جو ان میں اکابر صوفیہ تھے انھوں نے مقامات عالیہ توبہ و انابت،زہد ،
قناعت، توکل، وغیرہ کی تحصیل کے لیے مجاہدات شاقہ کیے اور ہر مقام میں کمال تمکین اور انتہائی رسوخ حاصل کیا اور طریقہ کی بنیاد کم کھانے کم سونے کم بولنے اور مخلوق سے کم ملنے جلنے ، نفس کشی در دوام عبادت و دوام ذکر پر رکھی، ریاضات کثیرہ اختیار کیے۔ بعض کا ہزار رکعت نماز اور بعض پانچ سو رکعت وظیفہ تھی، کوئی روزانہ دو کلام اللہ ختم کرتا، کوئی ایک ختم کرتا تو کوئی چالیس سال نہیں سویا، کسی نے ستر سال تک زمین پر پشت نہیں رکھی، کسی نے دور دراز سے احرام باندھ کر ستر حج اور کسی نے پچاس حج ننگے سر و ننگے پیر بے توشہ اور بغیر سواری کے کیے اور کسی نے صوم وصال دس دن کے، تو کسی نے چالیس دن کے اختیار کیے اور وطن چھوڑے، جنگل اور پہاڑ میں درختوں کے پتے اور گھاسوں کی جڑیں اور پڑے پرانے کپڑے پیوند لگاکر بنائے، ایک ہی ٹوپی پچاس سال تک سر پر اور تیس سال تک ایک ہی گدڑی بغل میں رکھی۔
غلبہ حالات اور اس کمال کی چاہت کی وجہ سے جو ان کو عطا ہوا تھا کٹھن مجاہدات ان پر آسان ہو گئے تھے۔ پس حق تعالیٰ نے ان سب مجاہدات کی برکت سے ان اکابر کو اپنے قرب سے ممتاز فرما کر جہاں کا پیشوا بنا دیا اور معرفت و توحید کے اسرار سے امتیاز بخشا اور عالم کا مقتدا بنا دیا۔ کثرت میں وحدت اور رفع اثنینیت (دوئی کا اٹھ جانا) اس کا وصف حال ہوا۔ جذبات محبت کی وجہ سے شوق کی چیخ اور نعرہ ذوق ہوش افزا ان سرمستان بادۂ توحید کو ہوا اور غیبی امور کا انکشاف اور اکوان (مخلوقات) میں تصرف اور خرق عادات مثلاً آسمان پر اڑنا اور طے ارض (تھوڑے وقت میں دور دراز علاقے میں پہنچ جانا) اور پانی پر چلنا اور انقلاب حقائق (مثلاً مٹی کو سونا بنا دینا) اور دور و نزدیک کی خلائق کی فریاد رسی وغیرہ ان قدرت الٰہی کے مظاہر کا شہرہ فرما ہواَ’’
جب بھی دنیا نبوت کے عہد مبارک سے جس قدر دور ہوتی چلی گئی، حقانیت
روپوش ہوئی اور ہمتیں پست ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے امت پر فضل و کرم فرمایا اور ان کی ترقی کے اسباب مہیا فرمائے اور اپنے فیض کو آسان سے آسان تر کر دیا اور اپنے خاص بندوں پر جدید طریقے القا و الہام کیے مثلاً حضرت خواجہ سید محمد بہاء الدین نقش بند بخاری قدس سرہ۔
مشائخ کے دو طریقے
شیخ یا پیر کئی قسم کے ہوتے ہیں: (۱)سالک محض (۲)مجذوب محض (۳)مجذوب سالک (۴)سالک مجذوب۔ پہلی دو قسم کے انسان پیری کے لائق نہیں اس لیے کہ اول ابھی راہ میں ہے، منزل تک نہیں پہنچا ہے اور دوم طریق تربیت سے ناواقف، بلکہ ضروری ہے کہ مجذوب سالک ہو یا سالک مجذوب اول اولیٰ ہے۔
معلوم رہے کہ منازل طے کرانے میں متقدمین مشائخ کا عمل اکثر یہ رہا کہ وہ سلوک کو جذب پر مقدم کرتے تھے اور حضرت خواجہ نقش بند قدس سرہ کے الحاح و زاری پر اللہ تعالیٰ نے انھیں جو طریقہ الہام فرمایا اس میں سلوک پر جذب کا تقدم ہے۔ حضرت علامہ توکلیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دوسرے طریقوں میں سلوک کو جذب پر مقدم کرتے ہیں یعنی پیر کامل اپنے مرید کو پہلے ریاضات (اربعین و گرسنگی وغیرہ) کا حکم دیتا ہے اور ان ریاضتوں سے مرید کے عناصر و نفس کو مصفّی کرتا ہے، جب مرید اپنے نفس و عناصر کی طہارت اپنے سے باہر عالم مثال میں دیکھتا ہے مثلاً ستارہ یا ہلال یا ماہ ناقص یا بدر کامل یا آفتاب تو اس وقت شیخ اس مرید کو فنا و تصفیہ نفس و عناصر کی بشارت دیتا ہے اسے سلوک کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر آفاقی کہتے ہیں کیوں کہ طالب اپنے سے خارج عالم مثال میں جو منجملہ آفاق ہے اپنے احوال و انوار دیکھتا ہے اس کے بعد شیخ محض اپنی توجہ سے مرید کے لطائف عالم امر کے تزکیہ میں مشغول ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ فنا و بقا حاصل کرتے ہیں اسے جذب کہتے ہیں اور اس سیر کو سیر انفسی کہتے ہیں کیوں کہ اس سیر میں طالب جو کچھ
(استنارت و ترقی و وصول بہ اصل و فنا) دیکھتا ہے، اپنے اندر دیکھتا ہے بنابر توجیہ حضرت مجددرضی اللہ عنہ اس سیر کو سیر انفسی اس واسطے کہتے ہیں کہ انفس، اسما و صفات باری تعالیٰ کے ظلال و عکوس کے آئینے ہو جاتے ہیں نہ یہ کہ سالک کی سیر نفس میں ہوتی ہے۔ یہاں حقیقت میں ظلال اسما کی سیر ہے، انفس کے آئینوں میں طریقہ نقش بندیہ میں جذب کو سلوک پر مقدم کرتے ہیں اور ابتدا لطائف عالم امر سے کرتے ہیں، سلوک جذب کے ضمن میں اور سیر آفاقی سیر انفسی کے ضمن میں طے ہو جاتی ہے۔
تخلیہ اور تحلیہ
تخلیہ کے معنی لغت میں خالی کرنا ہے اور صوفیہ کے یہاں سالک کا خود کو اخلاق رذیلہ سے پاک کرنے اور غیر اللہ سے تعلق منقطع کر لینے کا نام تخلیہ ہے۔ تحلیہ کے معنی ہیں آراستہ کرنا اور اصطلاح صوفیہ میں یہ ہے کہ سالک اپنے کو اخلاق حمیدہ اور تعلق مع اللہ سے آراستہ کرے جس کا طریقہ یہ ہے کہ طاعات و عبادات اور اذکار و اشغال میں مشغول ہو۔ خیال رہے کہ تخلیہ ہی کو تجلیہ کہتے ہیں۔
صوفیہ کے یہاں تخلیہ و تجلیہ دونوں ہی ضروری ہیں، ان کا طریقہ و مطلب قریب قریب وہی ہے جو ابھی ہم علامہ توکلی کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ حضرت خواجہ نقش بند قدس سرہ کا طریقہ قریب تر اور آسان تر ہے جیسا کہ مختصر بیان سے آپ نے سمجھانقش بندی تفصیلی سلوک طے نہیں کراتے ہیں۔ سلوک کے مقامات عشرہ کو تفصیل کے ساتھ طے کرانے میں بہت وقت درکار ہے نیز اس کے لیے جن مجاہدات و ریاضات کی ضرورت ہے آج کے دور میں عام طور پر ان سے ہمتیں ہی پست ہیں اور اس قدر استعدادیں بھی نہیں۔ پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اثناے سلوک میں موت بھی آجائے اور وہ قرب سے محروم دنیا سے چلا جائے اس لیے نقش بندی بزرگ سلوک کی تفصیل میں جانے کے بجائے اسے
اجمالی طور پر جذب کے ضمن میں طے کر لیتے ہیں؛ اسی لیے حضرت خواجہ نقش بند قدس سرہ نے فرمایا کہ ہمارے طریقے میں محرومی نہیں۔ بعض لوگوں نے سمجھ لیا کہ نقش بندیوں کے یہاں تحلیہ مقدم ہے اور تحلیہ کے بعد تخلیہ کراتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے، نقش بندیوں کے یہاں تحلیہ و تخلیہ ایک ساتھ ہوتا ہے۔
سلوک اور جذب
حضرت علامہ سید احمد مجددیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ‘‘سلوک ‘بضمتین’ راہ رفتن، نیک روی اختیار کردن، یعنی لغت میں سلوک راستہ چلنے اور نیک روی اختیار کرنے کا نام ہے۔ استدلالی طریقے کے بجائے سیر کشفی عیانی کے طریق پر خدا تک پہنچنا سلوک کہلاتا ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں سیر عاشق بجانب معشوق، انتقال حسّی و معنوی، جہاد بالنفس اور سیر الی اللہ بھی سلوک ہی کو کہتے ہیں۔
۱۔یہ وہ علم ہے جس کا طالب دل ہے نہ کہ زبان، یہ وہ راستہ کہ جس پر دل چلتا ہے نہ کہ پاوں۔
۲۔اسی علم کے مقامات کا نام شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت ہے۔
۳۔یہ علم نادر الوجود ہے، اس کے فاضل کو سالک، صوفی، فقیر، عارف اور انسان کامل کہتے ہیں۔
۴۔اس علم سے مقصود تزکیہ نفس، مکارم اخلاق اور تکمیل اخلاص ہے۔
۵۔امام الطریقہ حضرت خواجہ نقش بند بخاری قدس سرہ سے پوچھا گیا کہ سلوک سے کیا مقصود ہے؟ آپ نے فرمایا: تاکہ اجمالی معرفت تفصیلی اوراستدلالی معرفت کشفی ہو جائے۔’’
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: سالک وہ ہے جو قرب حق کے راستوں اور طریقت کی منزلوں کو مجاہدات و ریاضات اور اتباع سنت و شریعت کے ذریعہ طے کرکے مقصود تک پہنچے۔ سالکین کو کبھی وصول الی اللہ پہلے حاصل ہو جاتا ہے۔ پھر شوق عبادت اور ذوق ریاضت اس کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس کو طریق جذب
کہتے ہیں اور کبھی مجاہدہ و ریاضت کا شوق پہلے پیدا ہو جاتا ہے اور وصول الی اللہ بعد میں میسر ہوتا ہے، اس کو طریق سلوک کہتے ہیں۔ صوفیہ کے نزدیک آیت قرآنیہ :
اَللہُ یَجْتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ (سورۃ الشوریٰ: ۴۲؍۱۳)
ترجمہ: اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے۔’’
میں اجتہاد سے مراد جذب ہے اور اھتداء سے مراد سلوک ہےنیز سلوک پر جذب کی تقدیم بھی ثابت ہوئی؛ اسی لیے مشائخ نقش بندیہ جذب کو سلوک پر مقدم رکھتے ہیں اور مجذوب سالک کہلاتے ہیں۔ اسی طرح آیت کریمہ:
وَ اجْتَبَیۡنٰہُمْ وَ ہَدَیۡنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ (سورۃ الانعام: ۶؍۸۷)
ترجمہ: اور ہم نے انھیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔’’
میں اول کا حاصل جذب ہے اور ثانی کا حاصل سلوک ہے۔
جذ ب کا معنی ہے کشش یعنی اللہ تعالیٰ کا بندے کو اپنی طرف کھینچ لینا۔ مجذوب وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے ایسا جذب طاری ہو جائے کہ بلا کسب و مجاہدہ محض اللہ کے فضل سے اس کے باطنی مقامات طے ہو جائیں اور واصل باللہ ہو جائے، لیکن بقاء بعد الفناء، صحو بعد المحو اور جمع الجمع کے مرتبے تک نہ پہنچ سکے۔
اقسام جذب
جذب کی دو قسمیں ہیں: (۱)جذب صوری اور (۲)جذب حقیقی۔ وہ جذب جو سیر فی اللہ سے قبل ابتداے سلوک میں تصفیہ لطائف سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور صرف تسہیل منازل سلوک کے لیے عطا کیا جاتا ہے اس کو جذب صوری کہتے ہیں، اس کو جذب ہدایت یا جذب اولیٰ بھی کہا جاتا ہے۔ جذب حقیقی وہ جذب جو سیر فی اللہ کے دوران انتہاے سلوک میں حاصل ہوتا ہے، اس کو جذب حقیقی
کہتے ہیں، اس کو جذب نہایت یا جذب ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ جذب حقیقی بلا امتیاز تمام سلاسل طریقت میں موجود ہے، لیکن جذب صوری طریقہ نقش بندیہ کا خاصہ اور یہ نعمت حضرت خواجہ بزرگ شاہ نقش بند بخاریرحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مخلصین کو بطور خیرات و صدقہ جاریہ عطا فرمائی ہے۔ (البینات، جلد اول)
خیال رہے کہ سلسلہ نقش بندیہ کے اکابر نے حصول جذب صوری کا ایک مخصوص طریقہ وضع کیا ہے۔ وہ تکرار اسم ذات و نفی و اثبات، حبس دم اور رعایت و قوف عددی ہے جب کہ دوسرے سلاسل میں اس جذب ابتدائی کے حصول کا کوئی معین طریقہ اور مخصوص ضابطہ نہیں۔ البتہ اگر علی سبیل الاتفاق ان کو یہ جذب حاصل ہو جائے تو کوئی امر مانع بھی نہیں۔
تصوف
اور
اس کے فوائد
(دوم)
تالیف
بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقش بندی دام ظلہ
ناشر
فروغ تصوف فاؤنڈیشن، الجامعۃ الاحمدیہ، قنوج
سلوک کے مقامات عشرہ
توبہ، خوف، زہد، قناعت، ورع، صبر، شکر، توکل، تسلیم، رضا۔
توبہ (پہلا مقام)
ان مقامات کے حصول کے بغیر مقام ولایت تک پہنچنا متصور نہیں، یہ مقامات طے ہونا چاہیےخواہ بطریق اجمال چناں چہ سلسلہ نقش بندیہ مجددیہ قدس اللہ اسرارھا میں نسبت اجمالی وجذبی ہے یا تفصیل کے ساتھ طے ہوں جیسا کہ دیگر سلاسل میں کہ ان میں سیر تفصیلی و سلوکی ہے۔ توبہ کے تعلق سے اگر قرآنی آیات جمع کی جائیں تو سینکڑوں تک پہنچ جائیں گی۔ اسی طرح توبہ کی اہمیت اور اس کے وجوب و فضیلت پر احادیث کریمہ جمع کی جائیں تو مضمون بہت طویل ہو جائےگا۔ ائمہ دین جیسے امام شیخ ابو طالب مکی نے قوت القلوب اور حجۃ الاسلام امام محمد غزالی نے احیاء العلوم اور امام ابو القاسم قشیری و غیرہم قدس اللہ تعالیٰ اسرارھم العالیہ نے بڑی تفصیل سےتوبہ اور اس کے متعلقات پر بحث کی ہے۔ احیاءالعلوم میں تواس درجہ بیان ہے کہ شاید اس سے زائد کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم چند آیات و کچھ احادیث اور بعض بزرگوں کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم سارے ہی مقامات کو اختصار کے ساتھ بیان کریں گے اس لیے کہ اب عام طور پر ان بزرگوں کی کتب کے تراجم بھی اردو وغیرہ زبان میں پائے جاتے ہیں، مگر پھر ان سے استفادہ کما حقہ ہر خاص و عام کی بات نہیں۔ یہ مختصر تحریر امید ہے کہ کثرت سے لوگوں تک خاص کر متعلقین و منتسبین اور معتقدین تک پہنچ سکتی ہے اور ان میں جو اہل علم ہیں وہ اس کا دوسروں کو درس دے سکتے ہیں۔
آیات قرآنیہ:
۱۔ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ (سورۃ النور:
ترجمہ: اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
۲۔ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ (سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۲۲)
ترجمہ: بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
۳۔ وَلَیۡسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّی تُبْتُ الۡئٰنَ (سورۃ النساء: ۴؍۱۸)
ترجمہ: اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی۔
۴۔ اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ (سورۃ النساء: ۴؍۱۷)
ترجمہ: وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں۔
۵۔ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ (سورۃ التحریم: ۶۶؍۸)
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آ گے کو نصیحت ہوجائے قریب ہے کہ تمہارا رب تمھاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمھیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں۔’’
حضرت امام ابو طالب مکی قدس سرہ پانچویں آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: ‘‘لفظ نَصوح فَعُوْل کے وزن پر مبالغہ کے لیے ہے اور اسے نون کے ضمہ کے ساتھ نُصوح بھی پڑھا گیا ہے۔ اس وقت یہ مقصد ہوگا کہ توبہ خالص اللہ کے لیے ہو۔
یہ بھی کہا گیا ہے یہ لفظ نصاح سے مشتق ہے جس کے معنی دھاگے کے ہیں یعنی یہ توبہ بالکل خالی ہو نہ اس کا کسی چیز سے تعلق ہو اور نہ کوئی دوسری چیز اس سے متعلق ہو اور وہ اس طرح کہ نیکی پر استقامت ہو اور گناہ اور نافرمانی کے لیے توبہ کے ذریعہ حیلے بہانے نہ کرے اور نہ یہ سوچے کہ قدرت ہونے پر دوبارہ گناہ کر لوں گا ،بلکہ گناہ کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ دو جس طرح کہ اس نے گناہ کا ارتکاب خالص اپنے نفس کی پیروی میں کیا جو اس کے دل و دماغ پر غالب آگیا تھا۔
۶۔ وَذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ (سورۃ الانعام: ۶؍۱۲۰)
ترجمہ: اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ۔