باب ۵۰ از ۵۴صفحات ۶۰۶–۶۱۹
فضول مباحات
فضول مباحات یا زائد از ضرورت جائز مباح چیزوں کے بارے میں فرماتے ہیں: اے فرزند! کام یہ ہے کہ فضول مباحات سے پرہیز کرنا چاہیے اور مباحات سے قدر ضرورت پر اکتفا کرنا چاہیے وہ بھی اس نیت سے کہ وظائف کی ادائگی ہو سکے مثال کے طور پر خوراک سے مقصود اداے طاعات کی قوت اور پوشاک سے مقصود ستر عورت اور گرمی و سردی کو دفع کرنا اور اسی پر باقی مباحات کو قیاس کر لو۔
اکابر نقش بندیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرارہم نے عزیمت پر عمل کیا اور جہاں تک ہو سکا رخصت سے بچے اور عزیمتوں سے ہی ہے کہ مقدار ضرورت پر اکتفا کیا جائے، اور اگر یہ دولت میسر نہ ہو تو پیر کو دائرہ مباحات سے باہر نہیں رکھنا چاہیے اور محرمات و مشتبہات تک نہیں جانا چاہیے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے کمال کرم سے اتم و اکمل طریقہ پر مباحات کے ساتھ تنعمات اور فائدے اٹھانا جائز فرما دیا ہے اور ان تنعمات کے دائرے نہایت فراخ اور کشادہ کر دیا ہے۔ ان تنعمات سے قطع نظر کون سا عیش اس کے برابر ہے کہ اس کا مولیٰ اس شخص کے کردار سے راضی اور خوش
ہو جائے اور کون سی جفا اس کے برابر ہے کہ اس کا آقا اس کی وجہ سے ناراضی میں ہو۔ اللہ کی رضا جنت میں جنت سے بہتر ہے اور اللہ کی ناراضگی دوزخ میں دوزخ سے بری۔(مکتوب:۳، دفتر:۱)
ترک دنیا
حضرت مجدد قدس سرہ کے مکتوب:۲، دفتر اول کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کو دین کے ساتھ جمع کرنا ایسا ہے جیسے دو ضدوں کو جمع کرنا اور یہ ممکن نہیں، ایک ہے تو دوسری مفقود۔ لہٰذا جو آخرت کا طالب ہو اس کے لیے ترک دنیا لازم و ضروری ہے۔ یہ ترک دو قسم کا ہے۔ ایک ترک حقیقی کہ دنیا سے مکمل علاحدگی ظاہراً بھی اپنا لی جائے، یہ اس وقت مشکل ہے، لہٰذا بضرورت۔ ترک حکمی جو دوسری قسم ہے، کو اپنا جائے۔ ترک حکمی کا مطلب یہ ہے کہ دنیوی امور میں حکم شریعت کے مطابق عمل کیا جائے اور کھانے پینے کی چیزوں اور مکانات میں شرعی حدود کی رعایت کی جائے اور ان حدود سے آگے نہ بڑھا جائے۔ جن مالوں اور جانوروں پر زکات فرض ہے وہ دی جائے۔ جب احکام شرعیہ سے آراستگی ہو جائےگی تو دنیا کے ضرر سے نجات حاصل ہو جائےگی اور آخرت کے ساتھ جمع ہو جائےگی۔ اور اگر یہ ترک حکمی بھی میسر نہ ہو تو ایسا شخص بحث سے خارج ہے، منافق کا حکم رکھتا ہے۔ صورت ایمان یعنی بظاہر ایمان والے کی زبان سے کلمہ گوئی آخرت میں فائدہ مند نہ ہوگی، اسی ظاہری ایمان کا فائدہ صرف جان اور دنیوی اموال کی حفاظت ہے۔
مال کی مذمت
مال کی مذمت اور حب مال کی برائی، آیات:
۱۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ ۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ (سورۃ النافقون: ۶۳؍۹)
ترجمہ: اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمھاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔’’
۲۔ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ وَ اللہُ عِنۡدَہٗۤ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ (سورۃ التغابن:
ترجمہ: تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔’’
۳۔ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا (سورۃ ھود: ۱۱؍۱۵)
ترجمہ: جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو۔’’
۴۔ کَلَّاۤ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی (سورۃ العلق: ۹۶؍۶،۷)
ترجمہ: ہاں ہاں بے شک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔’’
احادیث:
۱۔ مال اور بڑائی کی محبت دل میں منافقت پیدا کرتی ہے جیسے پانی سبزی اگاتا ہے۔
۲۔ دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں وہ اس قدر نقصان نہیں کرتے جتنا نقصان مسلمان آدمی کے دین میں جاہ و مرتبہ اور مال کی محبت سے ہوتا ہے۔
۳۔ زیادہ مال والے ہلاک ہوئے، مگر جس نے اپنا مال اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح کر دیا اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ (کنز العمال، المعجم الکبیر، مسند امام احمد)
۴۔ تمھارے بعد عنقریب قوم آئےگی جو دنیا کے مزے مزے کے اور رنگ برنگے کھانے کھائیں گے، عمدہ اور تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوں گے، خوب صورت عورتوں سے نکاح کریں گے اور رنگ برنگ عمدہ کپڑے پہنیں گے، ان کے پیٹ تھوڑی چیز سے سیراب نہیں ہوں گے اور ان کے نفس زیادہ پر بھی صبر نہیں کریں گے۔ وہ دنیا پر اس طرح سے جھک جائیں گے کہ صبح شام وہی مد نظر
ہوگی۔ وہ اسی کو اپنا رب اور معبود سمجھیں گے، اسی کی بات مانیں گے اور خواہشات کی پیروی کریں گے۔ جو آدمی ایسے زمانے کو پائے وہ تمھارے اولاد ہو یا اولاد کی اولاد سے اسے حضرت محمد ابن عبد اللہﷺ کی طرف سے قسم ہے کہ ایسے لوگوں کو سلام نہ کرے، نہ ان کے مریضوں کی عیادت کرے، نہ ان کے جنازوں کے پیچھے جائے اور نہ ان کے بڑوں کی عزت کرے جس نے ایسا کیا اس نے اسلام کو گرانے میں مدد کی۔ (المعجم الکبیر)
معلوم ہو کہ مال کو قرآن پاک میں خیر سے تعبیر کیا گیا، ارشاد ہے:
اِنۡ تَرَکَ خَیۡرًا (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۸۰)
ترجمہ: اگر کچھ مال چھوڑے۔’’
وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحْمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ (سورۃ الکہف: ۱۸؍۸۲)
ترجمہ: اور اپنا خزانہ نکالیں آپ کے رب کی رحمت سے۔’’
وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلۡ لَّکُمْ اَنْہٰرًا (سورۃ نوح: ۷۱؍۱۲)
ترجمہ: اور مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گااور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔’’
اس سے پہلے آپ مذمت پڑھ چکے، یہ دونوں باتیں مال میں کیوں اور کیسے جمع ہوئیں، اس کو احیاء العلوم شریف میں تفصیل سے بیان فرمایا، ہم اسی سے اخذ کرکے کچھ فوائد اور نقصانات بیان کرتے ہیں جس سے کافی حد تک آپ کو مال کے استعمال کا صحیح طریقہ اور آخرت کے لیے بہترین معاون ہونا معلوم ہو جائےگا۔
مال کے فوائد
مال کے فوائد دو طرح کے ہیں: (۱)دنیوی فوائد (۲)دینی فوائد۔ دنیوی فوائد کے ذکر کی حاجت نہیں کیوں کہ مشہور ہیں اور مخلوق کی تمام اقسا میں مشترک ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ اس کی طلب میں ہلاک نہ ہوتے۔ رہے
دینی فوائد تو وہ تین قسم کے ہیں:
۱۔ اپنے آپ پر یا عبادت پر خرچ کرے یا عبادت پر مدد حاصل کرنے کے لیے خرچ کرے۔ عبادت پر خرچ جیسے حج کے لیے، جہاد کے لیے خرچ کرنا ہے کیوں کہ یہ کام بغیر مال کے نہیں ہوتے اور یہ دونوں کام تمام عبادات کی اصل ہیں ۔ فقیر آدمی ان کی فضیلت سے محروم رہتا ہے اور جو کام عبادت پر قوت دیتا ہے وہ کھانا، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریات زندگی ہیں کیوں کہ حاجتیں جب حاصل نہیں ہوتی ہیں تو دل ان کی تدبیر میں مصروف ہوتا ہے اور دین کے لیے فارغ نہیں ہو پاتا ہے اور جس چیز کے بغیر عبادت تک نہ پہنچ سکے وہ بھی عبادت ہوتی ہے۔ لہٰذا ضرورت کے مطابق مال لینا دینی فوائد سے ہے اور ضرورت سے زائد لینا فوائد میں داخل نہیں اور عیاشی اس میں داخل نہیں کیوں کہ وہ محض دنیوی حصہ ہے۔
۲۔ وہ مال جو لوگوں پر صرف کیا جائے اس کی چار قسمیں ہیں: (۱) صدقہ دینا (۲)مروت کے طور پر دینا (۳)عزت کی حفاظت کے لیے دینا (۴)خدمت کے لیے اجرت دینا۔ صدقہ کا ثواب پوشیدہ نہیں ہے۔ مروت سے ہماری مراد یہ ہے کہ مالدار اور معزز لوگوں کی مہمان نوازی پر خرچ کیاجائے یا تحفہ یا مدد کی جائے، اس کو صدقہ نہیں کہتے، بلکہ صدقہ وہ ہوتا ہے جو ضرورت مند لوگوں کو دیا جائے، لیکن یہ دینی فوائد میں سے ہے کیوں کہ اس طرح انسان کو دوست اور بھائی مل جاتے ہیں نیز اس طرح صفت سخاوت حاصل ہوتی ہے کیوں کہ صفت سخاوت سے اس وقت موصوف ہوتا ہے جب لوگوں کے ساتھ احسان اور مروت کا سلوک کرتا ہے۔ اس عمل کا بھی ثواب بہت بڑا ہے۔ تحائف، مہمان نوازی اور محتاجی و فقر کے بغیر کھانا کھلانے کے سلسلے میں بے شمار احادیث آئی ہیں۔ عزت بچانے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اس لیے مال خرچ کرے تاکہ شعرا اور بے وقوف لوگ اس کے خلاف برا کلام استعمال نہ کریں۔ اس طرح وہ ان کی زبانیں بند کرتا اور ان کے شر کو دور کرتا
ہے۔ اس کا فائدہ اگرچہ دنیا میں فوری حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کا دینی فائدہ بھی ہے۔
حدیث میں ہے: جس مال کے ذریعہ آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہے۔ یہ خرچ دینی کیوں نہیں ہوگا، جب کہ اس کے زریعہ غیبت کرنے والے کو غیبت اور دشمن اور حاسد کو اس کے ذریعہ حسد اور دشمنی کے شر سے روکا جاتا ہے۔
جہاں تک خدمت کا تعلق ہے تو آدمی اپنے اسباب کی تیاری میں جن کاموں کا محتاج ہوتا ہے وہ بہت زیادہ ہیں۔ اگر وہ خود ہی تمام کرنے لگے تو پریشانی ہوگی اور آخرت کی راہ چلنا دشوار ہوگا اور ذکر و فکر جو سالکین کے بلند مقامات ہیں ان کی بجا آوری نہ ہو سکےگی۔
۳۔ کسی خاص آدمی پر مال خرچ کرے، لیکن اس سے عام لوگوں کو فائدہ حاصل ہو جیسے مساجد، پل، سرائے اور بیماروں کے لیے اسپتال وغیرہ بنوانا (یا آج کے زمانے میں مدارس عربیہ) پانی کی سبیلیں لگانا اور اس کے علاوہ اچھے مقاصد کے لیے زمین وقف کرنا، یہ دائمی خیرات ہے جس کا فائدہ مرنے کے بعد بھی حاصل ہوتاہے اور مدتوں نیک لوگ اس فوت شدہ کے لیے دعا کرتے ہیں اور دعاؤں کی برکات اسے حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا بہتری ہو سکتی ہے۔ یہ دین کے اعتبار سے مالی فائدے ہیں، اس کے علاوہ دنیوی فوائد بھی ہیں مثلاً وہ مانگنے کی ذلت اور فقر کی حقارت سے محفوط رہتاہے۔
مال کی آفتیں
مال کی آفتیں دینی بھی ہیں اور دنیوی بھی۔ دینی نقصانات تین قسم کے ہیں:
۱۔ مال گناہ کی طرف لے جاتا ہے کیوں کہ خواہشات کا تقاضا ہمیشہ جاری رہتا ہے اورمال سے عجز بعض اوقات آدمی اور گناہ کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور قادر
نہ ہونا بھی بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مال گناہوں کی ایک قسم کی طاقت ہے جو گناہوں کے شوق کو حرکت دیتا ہے اور فسق و فجور میں مبتلا کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی خواہش پر عمل پیرا ہوتا ہے تو ہلاک ہوتا ہے اور اگر صبر کرتا ہے تو شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ طاقت و قوت کے باوجود صبر مشکل ہے اور فراخی کی حالت میں جو آزمائش ہوتی ہے وہ تنگی کی حالت کی آزمائش سے زیادہ بڑی ہوتی ہے۔
۲۔ مال مباح کاموں میں عیش و عشرت تک پہنچاتا ہے اور یہ سب سے پہلا درجہ ہے تو مالدار آدمی سے ایسا کب ہو سکتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھائے، سخت کھردرے کپڑے پہنے اور لذیذ کھانے چھوڑ دے جیسا کہ حضرت سلیمانعلیہ السلام نے اپنی سلطنت میں ایسا کیا تھا۔ ایسا آدمی تو دنیا کی نعمتوں سے نفع اٹھاتا ہے اور اس کا نفس اس بات کا عادی ہو جاتا ہے۔ یوں اس کو عیاشی سے الفت ہوتی ہے اور وہ اس کا ایسا محبوب بن جاتی ہے جس سے وہ صبر نہیں کر سکتا ہے۔ اس طرح ایک سے دوسری عیاشی تک جاتا ہے اور جب اس سے انس پکا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات وہ حلال کمائی سے اس تک نہیں پہنچ پاتا تو شبہات میں پڑتا ہے اور ریاکاری، منافقت، جھوٹ اور تمام بری عادات میں غور و خوض کرتا ہے تاکہ اس کا دنیوی معاملہ منظم ہو اور عیاشی کے لیے آسانی ہو کیوں کہ جس کا مال زیادہ ہوگا لوگوں کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔
اگر آدمی پہلی آفت سے بچ بھی جائے تو بھی تو اس (لوگوں کی طرف حاجت) سے نہیں بچ سکتا اور جب مخلوق کی طرف حاجت ہو تو دوستی اور دشمنی بھی پیدا ہوتی ہے اور اس سے حسد، کینہ، ریا، تکبر، جھوٹ، چغلی، غیبت اور ایسے تمام گناہ پیدا ہوتے ہیں جو دل اور زبان کے ساتھ خاص ہیں اور پھر یہ تمام اعضا کی طرف متعدی ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ مال کی نحوست اور اس کی حفاظت اور اصلاح کی حاجت کے
۳۔ یہ وہ آفت ہے جس سے کوئی بھی نہیں بچتا، وہ یہ کہ مال کی اصلاح اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتی ہے اور جو کام بندے کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر دے وہ نقصان کا باعث ہے۔
حضرت عیسیٰعلیہ السلام نے فرمایا: مال میں تین آفتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حرام طریقے سے حاصل کرے، عرض کیا گیا: اگر حلال طریقے سے حاصل کرے تو؟ فرمایا: اسے ناحق استعمال کرتا ہے، پوچھا: اگر صحیح مقام پر خرچ کرے تو؟ فرمایا: اس کی اصلاح اسے اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے۔’’
یہ لاعلاج مرض ہے کیوں کہ عبادت کی اصل و مغز اور راز اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے جلال میں تفکر ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ دل فارغ ہو جب کہ مال اور ساز و سامان والا صبح شام کسی نہ کسی سے الجھاو میں رہتا ہے یا اس سے حساب کتاب ہوگا۔ اسی طرح شرکا کے ساتھ پانی اور زمین کی حدود کا جھگڑا رہتا ہے۔ خراج کے سلسلے میں حکومتی کارندوں سے اور تعمیر میں کوتاہی کے سلسلے میں مزدوروں سے اختلاف نیز کاشت کاروں سے خیانت اور چوری کے حوالے سے جھگڑا رہتا ہے۔ تاجر کو اپنے شریک کی طرف سے خیانت کی فکر رہتی ہے نیز یہ کہ وہ نفع زیادہ لیتا ہے اور کام میں کوتاہی کرتا ہے۔ علاوہ اس کے مال کو ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح جانوروں کا مالک بھی اسی قسم کے مسائل سے دوچارہوتا ہے، بلکہ مال کی کوئی بھی صورت ہو یہی پریشانی رہتی ہے۔ ہاں دفینوں میں مشغولیت کم ہوتی ہے اگرچہ یہاں بھی دل کا تردد باقی رہتا ہے کہ کہاں خرچ کرے، اس کی حفاظت کیسے کرے، اس پر لوگ مطلع نہ ہو جائیں۔
غرضیکہ دنیوی افکار کی وادیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے اور جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو وہ ان تمام باتوں سے محفوظ ہے۔ یہ دنیوی آفتیں ہیں۔ ان کے علاوہ
بھی دنیاداروں کو پریشانی، غم، خوف، حاسدوں کے حسد کو دور کرنے کی مشقت، مال کی حفاظت اور کمائی کے سلسلے میں سخت خطرات ہیں۔ لہٰذا مال کا تریاق (علاج) یہ ہے کہ اس سے گذر اوقات لینے کے بعد باقی اچھے کاموں پر خرچ کر دے کیوں کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زہر اور آفت ہے۔
غصہ: عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ غصہ کیا ہے۔ اکثر اہل علم اس کے نقصانات بھی جانتے ہیں۔ اس میں بھی ابتلاے عام ہے۔ ہم غصے کے تعلق سے چند امور سپرد قلم کرتے ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے احیاء العلوم دیکھیے۔
غصہ پینے کی فضیلت:
۱۔ خداوند قدوس جل و علا فرماتا ہے:
وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۳۴)
ترجمہ: اور غصہ پینے والے۔’’
یہ بات تعریف کے مقام میں فرمائی ہے۔
احادیث:
۱۔ جو شخص اپنے غصے کو روکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو روکتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرماتا ہے اور جو اپنی زبان کو روکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے۔ (مجمع الزوائد)
۲۔ جس نے غصہ پی لیا حالاں کہ اگر وہ غصہ نکالنا چاہتا تو نکال لیتا بروز قیامت اللہ تعالیٰ اس کا دل رضا سے بھر دے گا۔(ایضاً)
۳۔ کسی بندے نے اجر کے اعتبار سے اس گھونٹ سے بڑا گھونٹ نہیں پیا جو غصہ کا گھونٹ پیا جائے رضاے الٰہی کے لیے۔(سنن ابن ماجہ)
۴۔ بیشک جہنم کا ایک دروازہ ہے جس سے وہی شخص داخل ہوگا جو اپنے غصے کو
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ نکالتا ہے۔
۵۔ جو شخص غصہ نکالنے کی طاقت کے باوجود اسے پی جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے بلا کر اختیار دےگا کہ جس حور کو چاہے لے لے۔(مسند امام احمد)
اسباب: حضرت یحیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عیسیٰعلیہ السلام سے پوچھا کہ کون سی چیز زیادہ سخت ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کا غضب، پوچھا: کون سا کام اس غضب کے قریب کرتا ہے؟ فرمایا: غصہ، پوچھا: غصہ کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے، فرمایا: تکبر، فخر، خود ساختہ عزت اور جھوٹی حمیت، خود پسندی۔ مزاح، غیر سنجیدگی، عار دلانا، بات کاٹنا، مخالفت کرنا، دھوکہ دینا، زائد مال اور جاہ و مرتبے کی شدید حرص غصہ دلانے والے اسباب ہیں۔ یہ سب گھٹیا اور رذیل عادتیں ہیں جو شرعاً مذموم ہیں اور جب تک یہ اسباب موجود ہوں گے غصے سے بچنا نا ممکن ہے۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ اسباب غضب کو زائل کیا جائے۔ ان اسباب کو کیسے دور کیا جائے، دیکھیے احیاء العلوم، جلد سوم۔
فائدہ: معلوم رہے کہ مذکورہ بالا امور میں جن کی وجہ سے غصہ آتا ہے، جب یہ امور ختم ہو جائیں گے تو غلط غصہ ہی نہیں آئےگا اور اگر اسباب ختم نہ ہوں اور غصہ آئے تو حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ صبر و استقامت کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ وہ برے طریقے سے عمل پر مجبور نہ ہو جائے۔ جب غصے میں جوش پیدا ہوجاتا ہے اس کا علاج علم اور عمل سے ہوتا ہے۔ علم کے تعلق سے چھ باتیں ہیں:
چھ باتیں:
(۱)ان روایتوں میں غور کرے جو غصہ پی جانے، معاف کرنے اور بردباری کے بارے میں آئی ہیں۔
(۲)خود کو غضب الٰہی سے بایں طور ڈرائے مثلاً کہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر زیادہ
طاقت رکھتا ہے جس قدر میں اس پر رکھتا ہوں، اگر میں غصہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ مجھ پر غضب فرمائےگا اور اس وقت معافی کی ضرورت ہوگی۔
(۳)اگر نفس آخرت کا خوف نہ رکھتا ہو تو اسے غصہ کے دنیوی انجام سے ڈرائے کہ اس سے عداوت اور انتقام کا سامنا کرنا پڑےگا، دشمن مقابل ہو جائےگا، مقاصد ختم کرنے کی کوشش کرےگا اور مصائب کا سامنا کرنا پڑےگا۔ خیال رہے کہ اس کا اخروی اعمال سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس پر ثواب ہے۔ ہاں اگر یہ نیت کرے کہ اس کی وجہ سے دنیا میں علم و عمل کے لیے فراغت نہیں رہےگی اور آخرت کے لیے مدد میسر نہیں آئےگی تو غصہ ترک کرنے پر ثواب ملے گا۔
(۴)غصہ کے وقت جو اس کی اپنی شکل بگڑتی ہے اس میں غور کرے یعنی یاد کرے کہ حالت غضب میں فلاں کی شکل کیسے بن گئی تھی، بلکہ غصے کی ذاتی خرابی میں غور کرے کہ غصہ والا باولے کتے یا حملہ آور جانور کی طرح ہو جاتا ہے اور جو شخص بردبار، ہدایت یافتہ اور غصہ کا تارک ہوتا ہے وہ انبیاے کرامعلیہم السلام اور اولیاے عظام علیہم الرحمۃ و الرضوان کے مشابہ ہوتا ہےیہ اس کی پسند کہ وہ کتوں اورگھٹیا انسانوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے یا اولیاے کرام اور انبیاے کرام علیہم السلام کی عادتوں سے۔
(۵)ان سب کے بارے میں غور کرے جو انتقام کی دعوت اور غضب پی جانے سے روکتا ہے۔ یہ طے ہے کہ اس کا کوئی سبب ضرور ہوگا مثلاً شیطان اسے یہ کہتا ہے کہ اگر تم نےانتقام اور بدلہ نہ لیا تو دوسرا شخص اسے تمھارے عجز اور ذلت نفس پر محمول کرےگا اور تو لوگوں کی نظروں میں حقیر و ذلیل ہوگا۔ ایسی صورت میں نفس سے کہے کہ تعجب ہے کہ اس وقت تمھیں بردباری اچھی نہیں لگتی اور تم قیامت کے دن ذلیل و رسوا ہونے سے نفرت نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔
(۶)غصہ والے کے ذہن میں رہنا چاہیے کہ اس کا غصہ اس وجہ سے ہے کہ اس
کا کام اس کے رہنے ارادے کے مطابق نہیں ہوا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مراد کے مطابق ہوا تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میری مراد اللہ تعالیٰ کی مراد سے زیادہ بہتر ہے اور قریب ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو۔
عمل:سے مراد یہ ہے کہ وہ جو دعا وغیرہ پڑھے۔ حدیث شریف ہے کہ غصے کے وقت اَعُوۡذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ پڑھنا چاہیےنیز اس کے علاوہ بھی دعائیں آئی ہیں۔ اگر اس طرح غصہ نہ جائے تو کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اس طرح اس زمین سے قریب ہو جائے جس سے اسے پیدا کیا گیا اور نفس کی ذلت پہچان لے۔
حدیث شریف میں ہے: بیشک غصہ ایک شعلہ ہے جو دل میں بھڑکتا ہے، کیا تم اس کی رگیں پھولنے اور آنکھوں کی سرخی کو نہیں دیکھتے تو جب تم میں کوئی اس میں سے کوئی بات پائے تو اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو سو جائے۔(شعب الایمان)
ان کے علاوہ بھی اکثر حدیث میں مزید علاج بتائے گئے ہیں مثلاً ٹھندے پانی سے وضو یا غسل کرنا اسی طرح خاموش ہو جانا۔
تنبیہ:معلوم رہے کہ غصہ کے جہاں بے شمار نقصانات ہیں وہیں ایک زبردست نقصان یہ ہے کہ جو آدمی بات بات پر غصہ کرتا ہے، لوگ اس سے بھاگنے لگتے ہیں۔ ارشاد و اصلاح اور دعوت و تبلیغ کے کاموں میں بہت بڑی رکاوٹ بنتا ہے، قرآن شریف میں ہے:
وَلَوْ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الْقَلْبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِکَ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۵۹)
ترجمہ: اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمھاری گرد سے پریشان ہوجاتے۔’’
قبلہ عالم خواجہ احمد سعید مہاجر مدنی قدس سرہ فرماتے ہیں: جب میں والد
بزرگوار کے وصال کے بعد سجاہ نشین ہوا اور ارشاد و ہدایت کی ذمہ داریاں عائد ہوئیں تو فکر ہوئی کہ ہمارے مزاج میں غصہ زیادہ ہے اور یہ اس کام کے منافی ہے تو فرماتے ہیں، دعا مانگی، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے غصہ سرد پڑ گیا۔ ہر پیر و عالم کو چاہیے کہ غصہ و گرمی سے ہرگز ہرگز کام نہ لے۔
حسد:حسد کینے کااور کینہ غصہ کا نتیجہ ہے۔ حسد کی بہت سی مذموم فروعات ہیں جو شمار سے باہر ہیں اور خاص حسد کی مذمت میں بہت سی روایات آئی ہیں:
۱۔ حضورﷺ فرماتے ہیں: الحسد يأكل الحسنات كما تأكل النار الحطب
حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔(سنن ابن ماجہ)
۲۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ رکھو اور ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو (یا جڑیں نہ کاٹو) اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔(بخاری وغیرہ)
۳۔ حضورﷺ نے فرمایا: عنقریب میری امت تک پہلی امتوں کی بیماری پہنچےگی، صحابہ کرامرضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا بیماری ہے؟ فرمایا: اکڑ، تکبر، کثرت مال کی خواہش، ایک دوسرے سے دوری اور حسد حتیّٰ کہ سرکشی ہو جائے اور فتنہ پیدا ہوگا۔(المستدرک للحاکم)
حسد ہمیشہ نعمت پر ہوتا ہے جب تم کسی کی نعمت دیکھو تو تمھاری دو حالتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس نعمت کو ناپسند کرو، اس کے زوال کو پسند کرو، اس حالت کو حسد کہتے ہیں۔ گویا حسد نعمت کو ناپسند کرنا اور انعام یافتہ سے نعمت کا زوال چاہنا ہے۔ دوسری حالت یہ کہ تم اس کا زوال پسند نہ کرو اور اس کے باوجود، دوام کو مکروہ نہ جانو، لیکن تمھارا دل چاہتا ہو کہ تمھیں بھی اس قسم کی نعمت ملے اسے رشک اور منافست کہتے ہیں۔ بعض اوقات حسد کو منافست اور منافست کو حسد کہا جاتا ہے۔
پہلی حالت ہر حال میں حرام ہے۔ البتہ کسی کافر یا بدکار کو کوئی نعمت ملے تو چوں کہ وہ اسے فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرتا ہے اور لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے، لہٰذا اسے ناپسند کرے اور اس کے زوال کی تمنا کرنے میں کوئی حرج نہیں، منافست حرام نہیں، بلکہ واجب یا مستحب یا مباح ہے۔