باب ۱۱ از ۵۴صفحات ۱۴۴–۱۵۵
شیخ اتصال
جن کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پرنور سید المرسلینﷺ تک متصل ہو جائے، اس کے لیے چار شرطیں ہیں:
(۱) شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح حضور اقدسﷺتک پہنچا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ سے اتصال ناممکن۔ بعض لوگ بلا بیعت بزعم وراثت اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی، مگر خلافت نہ ملی تھی، بلا اذن مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا سلسلہ ہی وہ کہ قطع کر دیا گیا، اس میں فیض نہ رکھا گیا، لوگ براہ ہوس اس میں اذن و خلافت دیتے چلے آتے ہیں، یا سلسلہ فی نفسہ صحیح تھا، مگر بیچ میں کوئی شخص واقع ہوا جو بوجہ انتفاے بعض شرائط قابل بیعت نہ تھا اس سے شاخ چلی وہ بیچ میں سے منقطع ہے۔ ان صورتوں میں اس بیعت سے ہرگز اتصال نہ ہوگا۔ بیل سے دودھ یا بانجھ سے بچہ مانگنے کی مت جدا ہے۔
(۲)شیخ سنّی صحیح العقیدہ ہو، بد مذہب نہ ہو۔ (۳)عالم ہو، علم فقہ اس کی اپنی ضرورت کے قابل کافی و لازم کہ عقائد اہل سنت سے پورا واقف، کفر و اسلام اور ضلالت و ہدایت کے فرق کا خوب عارف۔ صدہا کلمات و حرکات ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے اور جاہل براہ جہالت ان میں پڑ جاتے ہیں۔ اول تو باخبر ہی نہیں ہوتے
کہ ان سے قول یا فعل کفر صادر ہوا اور بے اطلاع توبہ ناممکن تو مبتلا کے مبتلا ہی رہے اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیم الطبع جاہل ڈر بھی جائے، توبہ بھی کرے، مگر وہ جو سجادہ مشیخت پر ہادی و مرشد بنے بیٹھے ہیں ان کی عظمت کہ خود ان کے قلوب میں ہے کب قبول کرنے دے وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ (اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی) اور اگر ایسے ہی حق پرست ہو گئے اور مانا تو کتنا؟ اتنا کہ آپ توبہ کر لیں گے، قول و فعل کفر سے جو بیعت فسخ ہو گئی۔ اب کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دیں اگرچہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو، یہ ان کا نفس کیوں کر گوارہ کرے نہ اس پر راضی ہوں گے۔ آج سے سلسلہ بند کریں، مرید کرنا چھوڑ دیں لاجرم وہی سلسلہ کہ ٹوٹ چکا، جاری رکھیں گے۔ لہٰذا عالم عقائد ہونا لازم۔
(۴)فاسق معلن نہ ہو، اس شرط پر اصول اتصال کا توقف صحیح نہیں کہ مجردفسق باعث فسق نہیں، مگر پیر کی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب، دونوں کا اجتماع باطل۔
شیخ ایصال
شرائط مذکورہ کے ساتھ مفاسد نفس ، مکائد شیطان اور مصائد ہوا سے آگاہ ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کرے، اس کا علاج بتائے، جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں، حل فرمائے، نہ محض سالک ہو نہ نرا مجذوب۔ عوارف شریف میں فرمایا: یہ دونوں قابل پیری نہیں’’ اس لیے کہ اول خود ہنوز راہ میں ہے اور دوسرا طریق تربیت سے غافل، بلکہ مجذوب سالک ہو یا سالک مجذوب اور اول اولیٰ ہے۔ ہم نفس و شیطان وغیرہ کے مفاسد و مکائد بیان کرتے ہیں تاکہ شیخ کامل کو بصیرت حاصل ہو، مریدین کی صحیح تربیت کر سکے۔ یہاں یہ بھی معلوم رہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شیخ کمال و تکمیل کی حد تک پہنچ جائے اور اسے ان مذکورہ باتوں کا تفصیلی علم نہ ہو، عدم علم کی صورت میں شیخ اور مرید دونوں نقصان کا شک
اہل خانقاہ کے خصائص و اوصاف:
اصحاب صفّہ سے مشابہت
وصف طہارت اور اصحاب صفّہ سے مشابہت: (۱)صحابہ کرام کے ایک وصف طہارت کی قرآن شریف میں بہت تعریف فرمائی۔ مسجد قبا شریف کے نمازیوں کی تعریف میں آیا ہے:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیۡنَ ( )
ترجمہ: بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔’’
جب ان سے پوچھا گیا کہ تم لوگ کیا عمل کرتے ہوجو اللہ تعالیٰ نے تمھاری اس قدر تعریف فرمائی ہے؟ ان حضرات نے جواب دیا کہ ہم ڈھیلے لینے کے بعد پانی سے طہارت کرتے ہیں۔ حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘یہ اور اس طرح کے جو آداب طہارت ہیں وہ صوفیہ کا روز مرہ کا معمول ہیں، وہ ہر وقت اپنی خانقاہ میں رہتے ہیں اور اس کی خبرگیری کرتے رہتے ہیں گویا رباط (خانقاہ) ان کا گھر ہے اور وہی ان کا خیمہ۔ جس طرح ہر قوم کے افراد کے گھر ہوتے ہیں اسی طرح صوفیہ کے گھر خانقاہیں ہیں۔ پس اس صورت میں وہ اہل صفّہ کے مشابہ ہیں۔’’
باہمی ارتباط
صوفیہ کو اہل صفّہ سے ایک مشابہت یہ بھی حاصل ہے کہ ان کی طرح ان میں باہم ربط و ضبط بہت رہتا ہے، ان کے ارادے یکساں اور عزم ایک جیسا ہوتا ہے اور سب کے احوال میں یک رنگی ہوتی ہے اور باہم بہت پیار و محبت کے
.......................
۔ سورۃ التوبۃ: ۹؍۱۰۸
ساتھ رہتے ہیں، کوئی کسی سے کینہ و بغض اور حسد وغیرہ نہیں رکھتا ہے، قرآن میں یہ اہل جنت کی صفت بیان کی گئی ہے جیسا کہ پہلے ذکر کر چکے ہیں ان کا ظاہر وباطن یکساں ہوتا ہے۔ کینہ و حسد دنیا داری سے پیدا ہوتا ہے، دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور اہل صفّہ نے دنیا کے جھمیلوں سے قطع تعلق کر لیا تھا، نہ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور نہ وہ جانور (مویشی) پالتے تھے جس سے دلوں میں حسد اور کینہ پیدا ہوتا ہے، یہی حال اہل خانقاہ کا ہے کہ وہ ظاہر اور باطن میں یک رنگ ہیں، باہمی الفت و محبت میں ان میں یکسانیت ہے اور اس پر سب جمع ہیں، ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، ان کی باہمی گفتگو میں یک رنگی ہے، اختلاف نہیں ہے، ایک ساتھ اکٹھے ہو کر کھاتے پیتے ہیں اور اس اجتماعی زندگی کی برکت سے بخوبی واقف ہیں، حدیث شریف میں اکٹھے ہوکر کھانا موجب برکت قرار دیا گیا ہے۔
اتحاد: اہل خانقاہ کا ایک وصف خاص یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اتحاد اور متحدہ ارادوں کی وجہ سےایک جسم کی طرح ہوتے ہیں، دوسری جماعتوں میں یہ بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے مومنین کی تعریف میں فرمایا:
کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرْصُوۡصٌ ( ) وہ مومنین ایسے متحد و متفق ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جیسے سیسہ پلائی دیوار۔ اور اس کے برعکس اہل ایمان کے دشمنوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے: تَحْسَبُہُمْ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمْ شَتّٰی ( ) تم ان کو متحد سمجھتے ہو حالاں کہ ان کے دل متفرق اور پراگندہ ہیں۔
جمعیت خاطر کی ضرورت
صوفیہ کے یہاں لازم تھا کہ وہ جمعیت خاطر رکھیں اور دلوں میں پراگندگی پیدا نہ ہونے دیں، دلی و روحانی اتحاد سے اس پراگندگی کا ازالہ کریں اس لیے کہ وہ سب ایک روحانی رشتے میں منسلک ہیں اور تالیف الٰہی کے
......................
۔ سورۃ الصف: ۶۱؍۴
۔ سورۃ الحشر: ۵۹؍۱۴
رابطہ سے باہم مربوط ہیں اور مشاہدہ قلوب کے ساتھ وابستہ ہیں، بلکہ خانقاہوں میں ان کی موجودگی ہی اس لیے ہوتی ہے کہ تزکیہ قلب اور آراستگی نفس حاصل ہو اور اسی بنا پر ان کے مابین ربط وضبط کا سلسلہ قائم ہے۔
حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا: ‘‘مومن آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ الفت و محبت کے ساتھ پیش آتے ہیں اور اس شخص میں کچھ بھلائی نہیں ہے جو نہ دوسروں سے محبت کرتا ہے اور نہ دوسرے اس سے محبت کرتے ہیں۔’’
اہل خانقاہ کا یہی حال تھا کہ جب یہ جمع ہوتے تو ان کےدل اور باطن بھی مجتمع ہو جاتے اور ان کے نفوس ایک دوسرے کے ساتھ مقید ہو جاتے اور پھر وہ ایک دوسرے کے مال کے نگراں ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے ‘‘مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے’’۔ پس جب وہ کسی میں تفرقہ دیکھتے تو الگ ہو جاتے اس لیے کہ تفرقہ کا ظہور نفسانی خواہش کا نتیجہ ہوتا ہے اور غلبہ نفس سے وقت کا زیاں ہوتا ہے، یہ علاحدگی ہی تفرقہ والوں کے لیے سدھار کا سبب بن جاتی ہے۔
محاسبہ موجب خیر ہے
حضرت شیخ رویم قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘صوفیوں میں خیر اسی وقت تک ہے جب تک وہ آپس میں تنافر رکھیں اور اگر وہ آپس میں مصالحت کر لیں گے اور باہم مل بیٹھیں گے تو تباہ و برباد ہو جائیں گے۔’’
آپ کے اس قول میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے پر نظر رکھیں اور ایک دوسرے کا محاسبہ کرتے رہیں اور دیکھیں کہ کہیں کسی کا نفس اس پر غالب تو نہیں آگیا ہے اور جب وہ اس قسم کا محاسبہ اور نگہ داشت کو ترک کر دیں گے تو ایسی صورت میں اندیشہ ہے کہ آپس میں چشم پوشی اور درگذر سے کام لینے لگیں گے اور طریقت کے دقیق اور پوشیدہ آداب سے اغماز کرنے لگیں اور ان سے غافل رہ
دفع مخاصمت کا طریقہ
جب کوئی صوفی نفس سے مغلوب ہوکر اپنے لباس سے جھگڑ بیٹھے یا آمادہ پیکار ہو تو دوسرے بھائی کےلیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ اس کے نفس کا مقابلہ اپنے قلب سے کرے؛ کیوں کہ جب نفس کا تقابل قلب صافی سے کیا جاتا ہے تو برائی اور ستر کا مادہ زائل ہو جاتا ہے اور نفس کا مقابلہ نفس سے کیا تو ایک فتنہ کھڑا ہو جاتا ہے اور عصمت رخصت ہو جاتی ہے، ارشاد ربّانی ہے:
اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ وَمَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ( )
تم بہتر طریقے پر دشمن کی دشمنی کی مدافعت کرو تاکہ وہ شخص جس کے ساتھ تمھاری دشمنی ہے تمھارے گہرے دوست کی طرح ہو جائے اور یہ طریقہ صرف وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں جو صابر ہیں۔
حضرت ابو النجیب سہروردی قدس سرہ کا طریق مصالحت یہ تھا کہ جب کسی درویش کے ساتھ رنجش ہو جاتی تھی تو اس سے فرماتے: اٹھو اور استغفار کرو۔ اس پر وہ درویش کہتا کہ میرا باطن صاف نہیں ہے، تو آپ فرماتے: تم کھڑے ہو جاؤ اور استغفار تو پڑھو، تمھاری کوشش اور صلح کی خاطر قیام سے تم کو صفاے باطن بھی میسر ہو جائےگی۔ چناں چہ ایساہی ہوتا تھا، اس کو صفاے باطن عطا ہو جاتی تھی، اس کے دل میں نرمی پیدا ہو جاتی اور رنجش دور ہو جاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ جماعت صوفیہ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ باطنی کدورت کے ساتھ رات نہیں گذارتے اور نہ اس حال میں وہ کھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں، شیخ کے لیے ضروری ہے کہ ایسے درویش کی معافی رد نہ کرے، حدیث میں ہے:‘‘تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائےگا اور معاف کرو تم کو بھی معاف کیا جائےگا’’۔ خیال رہے
...................
۔ سورۃ حٓم السجدۃ: ۴۱؍۳۴
کہ استغفار کے بعد صوفیہ میں شیخ کی دست بوسی معمول ہے جس کی اصل بھی سنت سے ثابت ہے۔
قبولِ معذرت
اگر غلطی کرنے والا معذرت کرے تو ہر حال میں معذرت قبول کرنا چاہیے۔ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا: ‘‘جس شخص کے سامنے اس کےبھائی نے معذرت کی اور اس نے اس نے وہ معذرت قبول نہ کی تو اس پر وہی عائد ہوگا جو اس شخص پر عائد ہوگا جو خراج وصول کرنے اور بیع پر مامور ہے اور اس میں بددیانتی کرے’’۔ اور ایک روایت میں ہے: اگر کسی شخص سے کسی نے معافی مانگی اور معذرت کی اور اس نے معذرت اور معافی کو قبول نہیں کیا تو وہ حوض کوثر پر نہیں آسکےگا۔’’
گوشہ نشینی
گوشہ نشینی اور عزلت کے فائدے اور حکمت بیان کرتے ہوئےحضرت شیخ الشیوخ قدس سرہ فرماتے ہیں: ‘‘صوفیہ نے اس تنہائی کو آفات سے محفوظ رہنے کے لیے اختیار کیا ہے کہ اجتماع میں آفتوں کا سامنا ہے، ان کے نفوس خواہشوں میں گرفتار ہو کر ان چیزوں پر غور کرنے لگتے ہیں جو ان کا مقصود اصلی نہیں ہیں۔ اس صورت میں ان کو تنہائی اور عزلت نشینی ہی میں سلامتی نظر آئی۔ صوفیہ نے اپنی قوت عمل اور روحانی طاقت سے یہ برائیاں اپنے نفوس سے دور کر دیں ( جو اجتماعی زندگی سے پیدا ہوتی ہیں) تو انھوں نے اپنے زاویوں اور خانقاہوں میں اپنے مصلوں (سجادوں) پر جمع ہونا ہی مناسب سمجھا۔ چناں چہ ان لوگوں میں سے ہر ایک کا اپنا سجادہ (اصلی) اس کا زاویہ بن گیا اور پھر ہر ایک اپنے مقصد میں مصروف و کوشاں ہو گیا۔
یہ چند اصول و ضابطے اور صوفیہ کی خصوصیات اور خانقاہی نظام کے فائدے ہم نے عرض کر دیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی اگر خانقاہی نظام کو صحیح طریقے سے عمل میں لے آیا جائے تو اصلاح و ارشاد کا بڑا کام ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعہ تعمیر
ظاہر و باطن کا اہم فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے۔ تعمیر باطن کے لیے تعمیر ظاہر بنیاد ہے۔ خانقاہوں کے ذریعہ تربیت کا بھرپور کام ہو سکتا ہے۔
طریقہ تربیت
اس کا ایک طریقہ یہ اپنایا جا سکتا ہے کہ اہل ارادت و عقیدت، نیز غیر مریدین کو بھی اصلاح کی ترغیب دلائی جائے اور ان کے لیے چوبیس گھنٹوں میں کوئی مناسب فرصت کا وقت مقرر کیا جائے جس میں وہ جمع ہوں اور انھیں فقہ و تصوف کی کتابوں کا درس دیا جائے اور سرور کونینﷺ کے اخلاق و عادات اور سیرت مبارکہ کا بھی درس ہو، خاص کر مندرجہ ذیل امور کا:
۱۔عقائد حقہ اہل سنت تھوڑے تھوڑے روزانہ یاد کرائے جائیں۔ خیال رہے متکلمین اور صوفیہ کے عقائد میں کوئی خاص فرق نہیں۔ بعض امور میں معمولی اختلاف ہے۔ علما نے نظر و استدلال سے اور صوفیہ نے اپنے کشف و شہود سے بیان کیا ہے۔ بہار شریعت کے حصہ اول میں، نیز حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ نے اپنے متعدد مکتوبات شریفہ میں تفصیل سے ان عقائد کو بیان کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک رسالے میں علما و صوفیہ کے عقائد جمع کیے جا سکتے ہیں۔
۲۔احادیث کریمہ میں مروی دعائیں مختلف اوقات میں پڑھی جانے والی مختلف کاموں کے لیے جن سے سنت قول پر عمل بھی ہوگا اور ثواب بھی اور جان و مال کی حفاظت و برکت بھی۔ یہ دعائیں بزرگوں نے اپنی کتابوں میں تفصیل سے بیان کر دی ہیں۔ جیسے ‘حصن حصین’ اور ‘قوت القلوب’۔ نیز خواجہ محمد معصوم سرہندی قدس سرہ کی کتاب اذکار نبویہ ۔ چھوٹی چھوٹی دعائیں زبانی بھی یاد کرائی جائیں۔ ایک مناسب طریقہ یہ بھی ہے کہ چھوٹے چھوٹے کتابچے جن میں چھوٹی بڑی دعائیں قدرے تفصیل سے مذکور ہیں، ساتھ رکھے جائیں اور کتاب میں دیکھ کر جس وقت کی دعا ہے اسے تلاوت کر لی جائے، توجہ اور حضور قلب کے ساتھ پڑھا جائے اور دعاؤں کے ترجمے بھی ہو گئے ہیں۔ بہتر ہے جہاں تک ہو سکے معانی بھی
۳۔روز مرہ پیش آنے والے مسائل کا باضابطہ درس ہو تاکہ رفتہ رفتہ ضروری مسائل حفظ ہو جائیں۔ کچھ مسائل تو وہ ہیں جو ہر عاقل و بالغ کے لیے ضروری ہیں جیسے نماز و طہارت اور روزہ وغیرہ کے مسائل اور حلال و حرام اشیا وغیرہ اور کچھ وہ ہیں جو خاص خاص افراد کے لیے ضروری ہیں جیسے جن پر زکات فرض ہے ان کے لیے زکات کے مسائل جن پر حج فرض ہے ان کے لیے حج کے مسائل وغیرہ ہر ایک کو اس کے حسب استعداد اور ضرورت کے مطابق یاد کرائے جائیں۔
۴۔اخلاق و سنن نبوی اور آداب صوفیہ کا باقاعدہ درس ہو۔ صوفیہ کرام علیہم الرحمۃ نے اخلاق نبویﷺ کی روشنی میں آداب کا بہت انضباط کیا ہے، جیسے (۱)بارگاہ الٰہی کے آداب۔ (۲)آداب حضرت رسالت مآبﷺ۔(۳)آداب طہارت۔ (۴)آداب وضو؛ مسواک کی سنت، وضو کا طریقہ اور اس کی دعائیں، فرائض وضو، سنن و مستحبات اور اس معاملہ میں صوفیہ کے خصوصی آداب۔
۵۔آداب نماز؛ فضیلت و بزرگی، خشوع و خضوع اور صوفیہ کے بیان کردہ خاص احوال، مقربین کی نماز یں، بارگاہ الٰہی میں کس طرح کھڑے ہوں وغیرہ۔ اس سلسلے میں عوارف اور خاص کر نماز کے کمالات سے متعلق حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے ارشادات ضرور درس میں شامل رکھیں، نماز کے اسرار بھی بیان کریں۔
۶۔روزہ اور اس کے پاکیزہ اثرات، فضیلت، شکم پروری کی مذمت، لذیذ کھانوں سے رغبت کا انجام، صوم و افطار میں صوفیہ کے خاص احوال، کھانے کے مفسدات و مصالح۔
۷۔کھانے کے آداب۔
۸۔لباس کے آداب و مقاصد۔
۹۔شبانہ عبادت کے فضائل، کتنی دیر سونا چاہیے، شب بیداریوں کی لذت، خلوت شب کی تجلیات، شب بیداری کے معاون اسباب، خواب سے بیداری اور ذکر میں مصروفیت، فجر کے بعد کے معمولات اور مراقبے دن کے وظائف و معمولات، رات کے وظائف ، شب و روز کی مختلف نمازیں، رات کی تقسیم اور تہجد گزاروں کی صفت، نماز جمعہ کے فضائل و آداب۔
۱۰۔آداب مرید یعنی شیخ کے حقوق مرید کے ذمے ہیں۔
۱۱۔مریدوں اور تلامذہ کے حقوق جو شیخ کے ذمہ ہیں۔
۱۲۔آداب صحبت و خلوت۔ نیک و بد اثرات۔
۱۳۔آداب سفر و حضر و مرافقت، اسباب اور ان کا ترک اور ازدواج۔
یہ اور اس قسم کے دوسرے آداب سماع وغیرہ عوارف شریف و قوت القلوب و احیاء العلوم شریف وغیرہ میں تفصیل سے مذکور ہیں۔ نیز ان کا کچھ حصہ فقیر مجددی نے کتاب آداب طریقت میں جمع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سالک کے لیے اس دور مصروفیت میں رات و دن کے موٹے موٹے اصول و ضابطے اپنے علم وتجربہ کی بنیاد پر نہایت اختصار کے ساتھ رسالہ ‘‘سلسلہ نقش بندیہ اور اس کا سلوک’’ میں بیان کر دیے ہیں، ان سب کا باضابطہ درس ہو اور انھیں حفظ کرایا جائے تو إن شاء اللہ العزیز تعمیر ظاہر کے لیے بہت مفید ہوں گے۔ ان کے علاوہ کتب سیرت اور بہار شریعت کا سولہواں حصہ جو اب اسلامی اخلاق و آداب کے نام سے چھپا ہے وہ بھی ہت مفید ہے۔
ضروی فقہی مسائل کے لیے بہار شریعت، قانون شریعت وغیرہ مطالعہ میں ضرور رکھیں، ان سب کا درس جہاں عوام کے لیے ضروری ہے وہیں خواص کے لیے بھی۔ آج کے اکثر خواص پہلے کے عوام سے کم علم ہوتے جا رہے ہیں۔ مشاہدہ ہے کہ آج فارغ التحصیل حضرات بھی نماز و طہارت کے موٹے موٹے اور عامۃ الوقوع
مسائل سے آگاہ نہیں ہیں، ضروری عقائد تک سے بے خبر ہیں۔ اس تعمیر ظاہر سے تصوف کے ایک جز کی تکمیل بھی ہوگی اور عمل بھی اور یہ چیز تصوف عملی یا روحانیت کی بنیاد ہے۔
یہ بھی دھیان رہے کہ علم کی فضیلت اور اس کے اقسام، عالم ربّانی، علم الٰہی، علم ظاہر، علم باطن، علماے آخرت کے درجات اور علماے سو کی مذمت وغیرہ بھی، نیز کس علم کی کتنی مقدار ضروری ہے، اس کا بھی درس ہو۔ احیاء العلوم و قوت القلوب وغیرہ میں نہایت تفصیل سے مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ اوپر جتنے امور مذکور ہوئے، ان کے خصائل و مناقب اور ترغیبات و ترھیبات بھی بیان کی جائیں۔
اخلاق صوفیہ، خلق کی تعریف اور اس کے اقسام، خلق عظیم، اخلاق الٰہی سے تخلق اور اس کا مطلب، تواضع، تحمل، ایثار و سخاوت، عفو و درگزر، جواں مردی، خندہ روئی و خندہ پیشانی، پاکیزہ مزاج، قناعت، حلم، مودت و محبت، شکر و احسان۔ خیال رہے کہ قرآن و سنت میں بڑی تفصیل سے اچھے برے اخلاق بیان فرمائے گئے ہیں، ہم زیر نظر کتاب کے آغاز میں قرآن و سنت کے مطلوبہ تصوف کے عنوان کے تحت کچھ بیان کر چکے ہیں۔ مفسرین کی کتب تفسیر کی اور احادیث اور ان کی شروح کی فہرستوں سے بھی یہ اخلاق بڑی حد تک جانے جا سکتے ہیں اور ان آیات و احادیث کے مجموعے تیار کیے جا سکتے ہیں جن کا تعلق اچھے اور برے اخلاق و اوصاف سے ہے۔ خلق اور اس کی حقیقت اور اخلاق حمیدہ و ذمیمہ ہم اس سے قبل بھی کچھ ‘‘تصوف علم الاخلاق ہے’’ کے عنوان کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ مزید اخلاق جو صوفیہ کرام نے احوال و مقامات کے تحت بیان کیے جیسے محاسبہ و مراقبہ، توبہ، صبر و شکر، خوف و رجا، فقر و زہد، توحید و توکل، محبت و شوق، رضا، نیت و اخلاق، محاضرہ و مکاشفہ، قبض و بسط، انس و ہیبت و قہر و لطف، نفی و اثبات و مسامرہ و محادثہ، علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین وغیرہ بالترتیب و التفصیل تعلیم دیے
جائیں۔ ان کے لیے احیاء العلوم و قوت القلوب و عوارف شریف وغیرہ کا مطالعہ کریں۔