مواد پر جائیں

باب ۱۲ از ۵۴صفحات ۱۵۵–۱۶۴

اصل تصوف

خیال رہے کہ اصل تصوف کے بارے میں ہم کہ سکتے ہیں، ایک وہ حصہ ہے جو شروعاتی امور ہے جیسے وہ احکام جن کا تعلق قلب و قالب سے بجا لانے سے تعلق رکھتا ہے، اس میں یہ مذکورہ بالا تفصیل شامل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ وہ اخلاق و اوصاف ہیں جن کے ساتھ آراستگی کا قرآن و سنت اور ائمہ سلف نے ہمیں حکم دیا ہے۔ دوسرا حصہ اصل کا وہ ہے جن کا تعلق منہیات سے ہے۔ بعض اخلاق ذمیمہ اور اخلاق رذیلہ اور اوصاف رذیلہ اس سے قبل بیان کر چکے، بعض یہ ہیں: ریا، عجب، حسد، کینہ، تکبر ، حب مدح، حب جاہ، محبت ریا، حب شہرت، تعظیم امرا، تحقیر مساکین، اتباع شہوات، مداہنت، کفران نعم، حرص، طول امل، سوء ظن، عناد حق، اصرار باطل، مکر، غدر، خیانت، غفلت، قسوت، طمع، تملق، اعتماد خلق، نسیان خالق، نسیان موت، جرأت علی اللہ، نفاق، اتباع شیطان، بندگیِ نفس، رغبت بطالت، کراہت عمل، قلت خشیت، جزع، عدم خشوع، غضب للنفس اور تساہل فی اللہ وغیرہ مہلکات و آفات۔

اجزاے تصوف

یہ خاص کر دھیان رہے کہ صوفیہ کرام کا اصل مقصد انھیں اخلاق و اوصاف سے آراستہ کرنا اور اخلاق رذیلہ و اوصاف ذمیمہ سے قلب و قالب کو پاک کرنا ہے اور ظاہر و باطن میں پورے طور پر شریعت کو نافذ کرنا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے ساری جد و جہد کی اور مکمل نظام تیار کیا، خانقاہوں کو بنایا اور شب و روز کا نظام الاوقات تیار کیا۔ صوفیہ کرام نے قلب و قالب کی تطہیر اور پاکیزہ اخلاق کے ساتھ آراستگی کے لیے خواہ الہام و کشف سے یا تجربہ سے اصول و ضوابط مقرر کیے اور پتا لگایا کہ ان سب کا سرچشمہ قلب و نفس ہیں۔ لہٰذا ان کے تصفیہ و تزکیہ کے ذریعہ ان کے کشف و شہود میں ان پر ایک نیا عالم کھلا اور کشف و

شہود اور الہام کی ایک دولت ان کے ہاتھ آئی جس کے ذریعہ اپنے رب تعالیٰ کی ذات و صفات اور اسما و افعال اور اس کے مقبول و پیارے بندوں کے مراتب و مقامات اور کائنات کی وسعتوں میں مخفی اور پوشیدہ راز ہاے قدرت ان پر منکشف ہوئے۔ اس طرح معارف و حقائق اور معا ملات اور مکشوفات کا بڑا حصہ تصوف علمی کا جز بن گیا ورنہ اصل تصوف وہی ہے جو ہم نے بیان کیا۔

اس مجاہدہ و محنت کے درمیان ان پر اور بھی مخفی لطائف اور انسانی جسم میں ودیعت رکھی ہوئی امانتیں اور قوتیں ان کے مشاہدہ میں آئیں۔ ان کی تہذیب و تادیب کے طریقے بھی ان پر وا ہوئے اور ان کی تہذیب کے ذریعہ ان کےکمالات بھی ان پر منکشف ہوئے۔ چناں چہ انھوں نےتفصیل سے عالموں اور ان کے لطائف کو جانا اور ان کے کمالات سے آگاہ ہوئے اور انھیں تفصیل سے بیان کیا۔ اس طرح تصوف میں لطایف اور ان کی تہذیب کے اصول و ضوابط اور ان سے وابستہ کمالات بھی تصوف کا اہم حصہ قرار پائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ان پر اپنے قرب کے طریقے اور راہیں وسیع کیں، وہ اس سفر میں مختلف راہوں سے گذرے، ان میں خاص خاص نئے نئے کمالات سے مالامال ہوئے، راہوں کی خصوصیات سے واقف ہوئے۔ راستے کے منازل و مراحل اور ان کے کمالات اور کیفیات سے باخبر ہوئے۔ انھوں نے ان مراحل و منازل اور کمالات اور کیفیات و واردات کو جن الفاظ کے سہارے سے بیان کیا وہ الفاظ و اصطلاحات بھی تصوف کا بڑا حصہ قرار پائے۔

اثناے سلوک وہ جن منزلوں اور مقاموں سے گذرے ہر مقام کے تفصیلی کمالات اور وہاں کی خاصیات اور اس مقام کے لائق ذکر و فکر بھی ان کے رب تعالیٰ نے انھیں الہام فرمائے۔ نیز ان مقامات و منازل کے معاون اذکار و اشغال بھی ان کے علم میں آئے۔ اسی طرح مجاہدات و ریاضات کے نتیجے میں تصرفات

وکرامات پر بڑی زبردست دسترس حاصل ہوئی۔ اس طرح کے امور بھی تصوف کا ایک حصہ بن گئے۔ اولیاے کرام علیہم الرضوان کی بابرکت صحبت کے ذریعہ جب اہل سلوک پر باطنی معاملات کھلنے لگتے ہیں تو اس قدر جاذب اور پر کشش ہوتے ہیں کہ ان کی تحصیل کا شوق بڑھتا چلا جاتا ہے، ان کو مزید قوی کرنے کے لیے بہت سے اہل سلوک نے بڑے بڑے دشوار مجاہدات و ریاضات شاقہ اختیار کیں اور بعض ایسے امور جو قرآن و سنت میں وارد نہیں تھے اپنائے حتیٰ کہ بعض نے بعض غیروں سے اخذ کیے، لیکن ایسے نہایت نادر اور نایاب ہیں۔ غرضیکہ بہت سے دعوت اسما وغیرہ کے طریقے اور اعمال تصریفیہ اختیا رکیے جو اگرچہ کتاب و سنت میں وارد نہ تھے، مگر وہ اصل شرع کے مخالف بھی نہ تھے اور ان امور کو کسی عام انسان نے نہیں، بلکہ علم و عمل اور کرامت و تصرف کے جو بطل جلیل کہلاتے ہیں، جن کے ارشادت حجت ہیں انھوں نے اختیار کیے۔ اس طرح یہ امور بھی تصوف میں شامل ہو گئے۔

اولیاے کرامت نے کتاب و سنت کا سچا پابند بنانے کے لیے اور سرور کونینﷺ کے طفیل ان کے کمالات ظاہری و باطنی سے فیض یاب اور ان کی حفاظت اور قرب خداوندی کی تحصیل کے لیے خاص خاص حضرات نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف طریقے اپنائے۔ مثلاً اصلاح و ارشاد کے لیے سب سے مفید طریقہ صوفیہ کرام نے بیعت کا اپنایا۔ اس سے ایک سنت کا احیا بھی ہوا اور جو غرض تھی وہ بھی حاصل ہوئی، لیکن اس بیعت کو اہم بنانے کے لیے اور صاحب ارادت کو یہ بتانے کے لیے کہ بیعت کرنے سے وہ زندگی کے ایک نئے دور سے آشنا ہورہا ہے اور اس ماحول میں قدم رکھ رہا ہے جو سراسر دینی اور خالص یقینی ہے اور اسی پر دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اور دائمی و ابدی نعمتوں کا انحصار ہے اور اسے یہ باور کرانے کے لیے کہ اب سابقہ زندگی چھوڑ کر کون سی زندگی اختیار کرنی ہے۔ اس کے لیے

انھوں نے بوقت بیعت متعدد طریقے اپنائے۔ یہ طریقے اگرچہ قرآن و سنت میں وارد نہیں تھے، مگر ان کے خلاف بھی نہ تھے کہ جس سے ان پر بدعت کا الزام لگتا، صوفیہ مورد طعن و تشنیع بنتے۔ اسی طرح انھوں نے اصول و ضوابط مقرر کیے۔ یہ سب کچھ رفتہ رفتہ تصوف میں بھی شامل ہوتا چلا گیا، مگر یہ سب چیزیں اصل تصوف یا مقاصد میں شامل نہ تھیں؛ اس لیے مختلف سلاسل میں مختلف صورتیں اور اعمال و اشغال وغیرہ معمول رہے۔ صوفیہ کرام میں بڑے بڑے اہل علم و فن ہوئے جو بیک وقت علوم ظاہر و باطن کی اعلیٰ چوٹی پر فائز تھے، انھوں نے اپنے تمام معاملات کو قرآن وسنت کی ہی روشنی میں پرکھا اور انھیں ثابت کیا اور مختلف آیات و احادیث اور متعدد صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم کی سیرت اور ان کی روش سے استناد کیا۔ چناں چہ احیاء العلوم، قوت القلوب، کتاب اللمع، رسالہ قشیریہ، کشف المحجوب اور حضرت غوث اعظم و مجدد الف ثانی قدست اسرارہم کی تصانیف سے یہ سارے امور بالکل واضح اور روشن ہیں۔ ان کے علاوہ ہر دور میں ذمہ دار صوفیہ کرام کی کتب و مکتوبات کا ایک ذخیرہ موجود ہے جن میں آج اصل کتاب مکتوبات یا ان کے تراجم منظر عام پر بھی آگئے ہیں، کوئی بھی ان کا مطالعہ کر سکتا ہے۔

امام ابو القاسم قشیری نے رسالہ قشیریہ میں اور حضرت داتا ہجویری لاہوری قدس اسرارہما نےکشف المحجوب میں صحابہ و تابعین اور تبع تابعین اور دیگر متاخرین و ائمہ صوفیہ کی ایک طویل فہرست درج کی ہے اور جن کے نام لیے ہیں وہ ائمہ طریقت و تصوف ہیں جن کا فضل و عرفان، تقوی و طہارت اور خدا رسیدگی کی عظمتوں کے آگےبڑے بڑے ائمہ شریعت نے سر جھکائے ہیں اور ان کی عظمتوں کا اعتراف کیا ہے۔ بہر حال تصوف میں یہ امور بھی داخل ہو گئے۔ اسی طرح پروردگار جل و علا نے اپنے حبیب لبیبﷺ کے صدقہ و طفیل خاص خاص اولیاے امت کو ہر دور کے مناسب کمالات سے آراستہ کیا اور ان پر کمالات جدیدہ فائض کیے اس

کو ہم تفصیل سے ایک علاحدہ تحریر میں ذکر کر چکے ہیں۔ یہ سب چیزیں بھی تصوف کا ایک حصہ بن گئیں۔

تصوف کا ایک حصہ ارباب کشف صوفیہ کے وہ مکشوفات و احوال ہیں جو مختلف تجلیات کے ورود کے سلسلے میں ان سے سرزد ہوئے اور ان کی تعبیر میں الفاظ و عبارات کی تنگ دامانی رکاوٹ رہی اور جس قدر وہ الفاظ کا سہارا لے کر ظاہر کر پائے ظاہر کیے۔ ان کی نازک تعبیرات سے بعض کم علم اور قلیل الفہم لوگ صحیح مطالب و مقاصد تک نہ پہنچ سکے اور انھیں کچھ اور ہی روپ دے دیا جیسے وحدت والوجود وغیرہ کی تعبیرات۔ اسی طرح وہ اقوال و افعال جو تصوف میں شطحیات کے نام سے جانے گئے مخالفین کو اور کچھ تو ہاتھ نہیں آیا بس اسی طرح کی چیزوں کو لے کر اچھل پڑے اور ان باعظمت انسانوں کی عظمت پر حملے شروع کر دیے۔ ہم آگے چل کر تمام معاندین کی اب تک کی تمام لاحاصل کوششوں کو ذکر کریں گے جس سے آپ سمجھ لیں گے کہ ان کی بساط کیا ہے، یہ کتنے پانی میں ہیں اور شیطان نے ان کی کیسی راہ ماری ہے۔ ویسے ہم شطحیات کے تعلق سے اپنی کتاب ‘‘شطحیات اور اس کے اسباب’’ میں قدرے تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔

آج کے عرف میں جو تصوف مشہور ہے اس میں وہ حصہ بھی داخل مانتے جس کا تعلق بزرگوں کے تذکروں اور سوانح و سیر سے ہے اور ان میں ان کے مختلف اقوال و ارشادات اور ذوقی و وجدانی امور مذکور ہیں۔ یہ جتنے حصے ہم نے بیان کیے شاید اب کوئی اس سے خارج ہو، لیکن اصل تصوف وہی ہے جو ہم شروع میں بیان کر چکے ہیں۔ یہ بات ہم پھر کہیں گے کوئی شخص آج بھی قرآن و سنت کے بیان کردہ مامورات منہیات خواہ ان کا تعلق احکام و عقائد سے ہو یا اخلاق و اوصاف عالیہ یا رذائل و صفات ذمیمہ سے عمل و اجتناب میں جو اعلیٰ نمونے اور کثرت و احتیاط جو اس طبقہ صوفیہ میں آپ پائیں گے وہ کہیں نہیں پائیں گے۔

ہم نے تصوف کے مراحل بیان کر دیے۔ اب اس کی روشنی میں اہل علم الاھم فالاھم کے اصول کے مطابق تصوف کو بحیثت علم و فن سکھانے کا کام کر سکتے ہیں، اس سے ایک راہ ملےگی۔ ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ اصل تصوف کی تحصیل کا تعلق زیادہ تر تصفیہ قلب و تزکیہ نفس سے ہے جس کی تاکید قرآن و سنت جگہ جگہ ہمیں کرتے ہیں۔ تصوف علمی سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صوفیہ کرام کی بولی اور تعبیرات سمجھیں۔ تصوف کے اس حصہ کو ایک مستقل تحریر میں بڑی جامعیت کے ساتھ جمع کر دیا گیا جس سے تصوف سمجھنے میں بڑی آسانی ہوگی اور مدد ملےگی اور تقریباً متقدمین و متاخرین کی زیادہ تر اصطلاحات اس کتاب میں جمع ہو گئی ہیں۔ ان اصطلاحات سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ صوفیہ کرام اثناے سلوک کن کن مراحل و منازل سے گذرتے ہیں اور ان پر کیا کیا کیفیات وارد ہوتی ہیں۔ نیز انسانی فلاح و بہبود اور شریعت کی حفاظت کے لیے ان بزرگوں نے کس قدر محنت کی اور تعمیر ظاہر و باطن کے لیے ایک باضابطہ علم مدوّن کیا۔

قرب و ولایت اور اس کے اقسام و احکام اور کمالات میں ایک جدا کتاب تحریر میں آچکی ہے۔ اسی طرح صوفیہ کرام نے انسانی جسم میں جو لطائف دریافت کیے اور ان کی تہذیب کے طریقے مقرر کیے اور ان کی تہذیب سے مرتب ہونے والے ثمرات و نتائج یہ بھی ایک کتاب میں تحریر کر دیے گئے ہیں۔

سلاسل تصوف دنیا میں بڑی تعداد میں رائج ہوئے، ان میں باہم جزوی اختلافات ہیں، اذکار و اشغال جدا جدا ہیں۔ اثناے راہ پیش آنے والے کمالات بھی الگ الگ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور مدنی آقاﷺ کی خاص عنایت تھی۔ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، ذوق مختلف ہیں، ہمتیں مختلف ہیں، استعدادوں میں تفاوت ہے۔ کسی کے مناسب کوئی راہ آئی، کسی کے لائق کوئی طریقہ ہوا۔ بہر حال ان مختلف راہوں سے نا معلوم کس قدر لوگ وصل کی دولت سے مالامال ہوئے۔

ہم نے ا ن سلاسل کے باہمی اختلافات اور طریقے بھی ایک کتاب میں بحسب فہم جمع کر دیے ہیں۔ مختلف سلاسل میں روحانی مدارج و منازل طے کرانے کے لیے جو اذکار و اشغال ہیں اور اثناے سلوک جو مقامات پیش آتے ہیں ان کو بھی جمع کر لیا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ تحریر ہیں جن کا تعلق بھی تصوف کے ہی کسی حصے سے ہے۔ إن شاء المولیٰ الکریم جس دن یہ سب چھپ جائیں گی اکثر تصوف معلوم ہو جائےگا۔ زیر نظر کتاب میں ہم تصوف کا وہ حصہ جو اصل تصوف اور اس کے فوائد سے تعلق رکھتا ہے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ ائمہ تصوف کی اہم اہم کتابیں اور ان کے تراجم چھپ گئے ہیں اور ان میں تصوف کے مذکورہ بالا حصے کافی تفصیل سے بیان کر دیے گئے ہیں۔ اس لیے ہم نے ہلکی سی نشان دہی کر دی ہے تاکہ عام تصوف کا متلاشی تصوف جان سکے اور اصل علم تصوف سکھا سکے۔

یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ ارباب کشف کے وہ مکشوفات و مشاہدات جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات و اسما و افعال سے ہے۔ نیز اولیاے کرام کی اقسام وغیرہ سے ہے اس سلسلے میں سب سے زیادہ صحیح اور واضح اور شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھلے ہوئے مشاہدات ہماری نظر میں وہ ہیں جو حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ نے بیان فرمائے ہیں ان کو ہم نےکافی حد تک معارف مجدد میں جمع کر دیاہے۔ اب ہم تصوف کا وہ حصہ ذکر کریں گےجس کا تعلق باطنی تربیت وغیرہ سے ہے۔

اول واجب

یہ دھیان رہے کہ علما نے باتفاق فرمایا ہے کہ اول واجب عرفان و معرفت خداوندی ہے۔

اقسام معرفت

یہ معرفت چار قسم کی بیان کی گئی ہے:

(۱)حقیقیہ: یہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اپنی ذات کی۔

(۲)معرفت عیانیہ یعنی دیدار خداوندی، ہمارے نبیﷺ کے علاوہ غیر کے

لیے دنیا میں ممکن نہیں، آخرت میں اہل ایمان کو بحسب مراتب حاصل ہوگی۔

(۳)معرفت برہانیہ جو نظر و استدلال کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، متکلمین نے اس کو فرض عین قرار دیا ہے۔

(۴)معرفت کشفیہ: یہ ارباب کشف و شہود کا حصہ ہے۔ صوفیہ کرام کی سب سے اہم کوشش اسی معرفت کی تحصیل ہے اور وہ انھوں نے دریافت کیا ہے کہ ہر انسان میں اس کی استعداد موجود ہے۔

فوائد بیعت

بیعت کے فوائد آپ نے پڑھے کہ اس کے ذریعہ اصلاح و ارشاد کا کس قدر زبردست کام ہو سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ انھی مقاصد کے تحت ہو جن ے لیے وہ مشروع ہوئی۔ بیعت کرنے والے اور بیعت لینے والے دونوں ہی میں حسن نیت و اخلاص شرط ہے اور مقصد صرف اصلاح و ارشاد ہو۔ اس سے صرف عوام ہی کی اصلاح وابستہ نہیں، بلکہ خواص کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ تعمیر ظاہر کا بھی بڑا کام ہو سکتا ہے اور تعمیر باطن تو اس کے بغیر نہایت مشکل جیسا کہ امام اہل سنت قدس سرہ کے مبارک کلام سے پڑھا کہ بغیر شیخ ایصال کے فلاح ظاہر و فلاح باطن ناممکن۔ اسی بیعت پر تمام تجلیات و انوار کا انحصار ہے۔ اسی لیے سیر و سلوک کے جملہ مقامات کا حصول و ابستہ اور قرب وعرفان کی دولت بھی اسی سے مربوط۔ خیال رہے کہ ان کے فوائد کے علاوہ جو بیعت و ارادت سے متعلق ہیں وہ فائدے بھی بہت مبارک ہیں جو بیعت تبرک سے حاصل ہوتے ہیں۔

امام اہل سنت علیہ الرحمۃ و الرضوان بیعت تبرک کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اقسام بیعت: بیعت بھی دو قسم پر ہے؛بیعت برکت، بیعت ارادت۔

(۱)بیعت برکت: یعنی صرف تبرک کے لیے داخل سلسلہ ہو جانا۔ آج کل عام بیعتیں یہی ہیں وہ بھی نیک نیتوں کی ورنہ بہتوں کی بیعت اغراض فاسدہ کے لیے

ہوتی ہےوہ خارج از بحث ہیں۔ اس بیعت کے لیے شیخ اتصال کہ شرائط اربعہ کا جامع ہو، بس ہے، بیکار یہ بھی نہیں، مفید اور بہت مفید اور دنیا و آخرت میں کار آمد ہے۔ محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھا جانا، ان سے سلسلہ متصل ہو جاناہی فی نفسہ سعادت اول، ان خاص خاص غلاموں سالکان (۱) سے اس امر میں مشابہت اور رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: مَنْ تشبہ بقوم فھو منھم (جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرے وہ انھی میں سے ہے) ثانیاً ان غلاموں کے ساتھ ایک سلک میں منسلک ہونا۔ ثالثاً محبوبان خدا آیہ رحمت ہیں، وہ اپنا نام لینے والے کو اپنا کر لیتے ہیں اور اس پر نظر رحمت رکھتے ہیں۔بیعت ارادت: کہ اپنے ارادہ و اختیار سے یکسر باہر ہو کر اپنے آپ کو شیخ، مرشد، بادیِ برحق، واصل بحق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کر دے، اسے مطلقاً اپنا حاکم و مالک و متصرف جانے، اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے، کوئی قدم بے اس کی مرضی کے نہ رکھے، اس کے لیے اس کے لدنی احکام یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام اگر اس کے نزدیک صحیح نہ معلوم ہوں انھیں افعال خضر‌علیہ السلام سمجھے، اپنی عقل کا قصور جانے، اس کی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے، اپنی ہر مشکل اس ہر پیش کرے۔ غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہو کررہے۔ یہی بیعت سالکین ہے اور مقصود مشائخ مرشدین ہے یعنی اللہ عز وجل تک پہنچاتی ہے۔ یہی حضور اقدسﷺ نے صحابہ کرام سے لی ہے جیسے سیدنا عبادہ ابن صامت‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہﷺ سے سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشوار، ہر خوشی و ناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گےاور صاحب حکم کے کسی حکم میں چون و چرا نہیں کریں گے۔’’شیخ ہادی کا حکم رسول اللہﷺ کا حکم ہے اور رسولﷺ کا حکم اللہ کا حکم اور اللہ کے حکم میں مجال دم زدن نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاویٰ افریقہ۔

بہجۃ الاسرار شریف میں ہے: حضور پونور سیدنا غوث اعظم‌رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی: اگر کوئی شخص حضور کا نام لیوا ہو اور اس نے نہ حضور کے دست مبارک پر بیعت کی ہو نہ حضور کا خرقہ پہنا ہو، کیا وہ حضور کے مریدوں میں شمار ہوگا؟ فرمایا: جو اپنے آپ کو میری طرف منسوب کرے اور اپنا نام میرے دفتر میں شامل کرے اللہ اسے قبول فرمائےگا اور اگر وہ کسی ناپسندیدہ راہ پر ہو تو اسے توبہ کی توفیق دےگا، وہ میرے مریدوں کے زمرے میں ہے اور بیشک اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور ہم مذہبوں اور میرے ہر چاہنے والوں کو جنت میں داخل فرمائےگا۔’’

معلوم ہو کہ اس طرح کی بزرگوں سے خوش خبریاں تقریباً ہر سلسلے میں موجود ہیں اور ہر ایک میں کوئی نہ کوئی ولی یا بزرگ کو اس طرح کی بشارت دی گئی۔ حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام فرمایا کہ میں نے تمھیں بخشا اور ان لوگوں کو بخشا جو بلا واسطہ یا بالواسطہ تمھیں وسیلہ بنائیں یعنی تمھارے سلسلے میں داخل ہوں۔ اسی طرح سلسلہ عالیہ چشتیہ میں بھی متعدد بزرگوں کو اس طرح کی بشارت دی گئی۔ یہ بڑی مبارک چیز ہے اور بڑی امیدیں گناہ گاروں کے لیے وابستہ ہیں اور رحمت عالمﷺ کی رحمتوں کا صدقہ ہے۔

یہ ان بزرگوں کے ساتھ نسبت جوڑنے کا فیضان ہے ورنہ روایتوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوبوں سے محبت کرنے والے، ان کی خدمت کرنے والے، مصافحہ کرنے والے، بلکہ ان کی زیارت کرنے والے بھی نا معلوم کس قدر بخشے جائیں گے۔