مواد پر جائیں

باب ۵۲ از ۵۴صفحات ۶۲۹–۶۳۹

ریا کے درجات

حضرت امام قدس سرہ نے ریاکے چار درجات بیان فرمائے:

۱۔ پہلا درجہ نہایت سخت ہے کہ بندہ عمل و عبادت کے ذریعہ ثواب کا ارادہ نہ کرے جیسے کوئی شخص لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے، مگر اکیلے میں بالکل نہیں پڑھتا، بلکہ بعض اوقات بلا طہارت بھی نماز پڑھ لیتا ہے۔ یہ محض ریاکاری ہے، ایسا شخص غضب الٰہی کا مستحق ہے۔

۲۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ ثواب کا بھی ارادہ کرتا ہے، لیکن یہ کمزور ہے۔ اس طرح کہ یہ اگر تنہائی میں ہو تو یہ کام نہ کرے اور یہ ارادہ اسے عمل کی ترغیب نہیں دیتا اور اگر ثواب کا ارادہ نہ ہوتا تب بھی وہ نمود و نمائش کی وجہ سے یہ کام کرتا۔ یہ دوسرا درجہ پہلے کے قریب ہے۔

۳۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ ثواب اور ریا دونوں کا ارادہ برابر برابر ہو، اس کا مطلب یہ کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک کا ارادہ ہو تو عمل نہ کرے اور جب دونوں ارادے جمع ہوں تو عمل کی رغبت پیدا ہو جائے یا یہ کہ اگر اس میں اس قدر قصد ہوتا تو عمل کی رغبت نہ ہوتی تو اس نے جو کچھ سنوارا تھا اسے بگاڑ دیا تو ہمیں امید ہے کہ یہاں معاملہ برابر ہو ہو جائےگا نہ ثواب نہ عذاب یا جس قدر ثواب ہوگا اسی قدر

عذاب۔ ظاہری روایات دلالت کرتی ہیں کہ یہ شخص بھی نہیں بچےگا۔

۴۔ چوتھا درجہ یہ کہ اس عبادت پر لوگوں کی اطلاع اس کی خوشی کو ترجیح دے اور مضبوط کرے اور اگر یہ نہ ہو تو بھی وہ عبادت کو نہیں چھوڑتا، اگر اس کا مقصد محض ریاکاری ہوتی تو وہ عمل نہ کرتا۔ حضرت امام قدس سرہ کا خیال یہ ہے کہ اسے مکمل ثواب نہیں ملےگا، کمی ہوگی یا ریا کے ارادے کے مطابق عذاب ہوگا اور ارادۂ ثواب کے مطابق ثواب۔

ریاے جلی و خفی

ریا کی دو قسمیں ہیں: (۱)جلی (۲)خفی۔ اول وہ ہے جو عمل پر ابھارتا ہے اور ترغیب دیتا ہے اگرچہ ثواب کی نیت کرے۔ ریا کی یہ قسم واضح و ظاہر ہے۔ اس سے ذرا پوشیدہ ریاے خفی ہے کہ صرف اسی کی وجہ سے عمل کی ترغیب نہیں ہوتی، لیکن جس عمل کے ذریعہ رضاے الٰہی مطلوب ہوتی ہے اس ریا کی وجہ سے اس کا کرنا آسان ہو جاتا ہے جیسے ایک شخص کی عادت ہے کہ وہ ہر رات تہجد پڑھتا ہے، لیکن اسے بوجھ ہی محسوس کرتا ہے اور جب اس کے پاس کوئی مہمان آئے تو خوش دلی سے پڑھتا ہے، نماز اور تہجد آسان ہو جاتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اگر ثواب کی توقع نہ ہوتی تو محض مہمان کو دکھانے کے لیے نہ پڑھتا۔

اس سے بھی کم درجہ کا ریا وہ ہے جو عمل پر اثر انداز نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ عمل کی آسانی کا باعث بنتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں ریا کا تصور موجود ہے اور چوں کہ عمل میں اس کا اثر نہیں ہوتا اس لیے بغیر علامات پہچاننا مشکل ہے۔ اس کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ لوگوں کہ اطلاع سے اسے خوشی ہوتی ہے۔ ایک قسم ایسی ہے جو اس سے بھی زیادہ دقیق ہے، وہ یہ کہ نہ تو عبادت پر لوگوں کے مطلع ہونے کی خواہش ہو کہ بوقت ملاقات لوگ سلام میں اس سے پہل کریں، خندہ پیشانی اور عزت و احترام سے ملیں، تعریف کریں، اس کی ضرورتوں کو خوشی خوشی پورا کریں، خرید و فروخت میں اس کے ساتھ رعایت کریں، مجلس میں اس

کے لیے جگہ چھوڑیں، اگر کوئی اس میں کوتاہی کرے تو اس کے دل پر بہت بوجھ ہو اور نفس کو یہ عمل بہت بعید لگے۔

خلاصہ یہ کہ وہ عبادت پر اطلاع کا خواہش مند نہیں، لیکن اس کے سبب اپنی تعظیم و احترام چاہتا ہے اور اس سے پہلے عبادت نہ کی ہوتی تو لوگوں کا رویہ بعید نہ لگتا۔ یہ ریا چیونٹی کی چال سے بھی باریک ہے، اس سے صرف صدیقین ہی محفوظ رہ سکتے ہیں، مخلص لوگ ہمیشہ پوشیدہ ریا (خفی) سے ڈرتے رہے، ان کی کوشش تھی کہ لوگ انھیں اعمال صالحہ کے سلسلے میں دھوکہ نہ دے سکیں۔ عام لوگ جس طرح اپنی برائیوں کو چھپانے کے حریص ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے نیک اعمال صرف خالص رکھنا چاہتےہیں اور قیامت میں پورا پورا ثواب پانے کی امید رکھتے ہیں۔ پوشیدہ ریا کا شائبہ بہت زیادہ ہوتا ہے جس کا کوئی شمار نہیں۔ جب تک آدمی اپنی عبادت کے سلسلے میں کسی انسان اور حیوان کے مطلع ہونے کی صورت میں فرق سمجھےگا، اس میں ریا کا شبہہ ہوگا۔ آدمی جب جانوروں سے طمع ختم کردے تو اسے پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کے پاس جانور یا دودھ پیتے بچے موجود ہیں کہ نہیں وہ اس کی حرکت پر مطلع ہیں کہ نہیں، اگر مخلص ہوگا تو صرف علم خداوندی پر قناعت کرےگا۔

پسندیدہ خوشی

ریا کے درجات آپ نے پڑھے، اعمال صالحہ کے ظاہر ہونے کی صورت میں جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ اچھی بھی ہے اور بری بھی، محمود بھی مذموم بھی۔ محمود اور پسندیدہ خوشی چار قسم کی ہے:

۱۔ عبادت گذار کا مقصد تو صرف یہی ہے کہ عبادت پوشیدہ رکھے اور اس میں اخلاص ہو، لیکن جب لوگوں کو اطلاع ہوتی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پر مطلع کردیا اور اس کے اچھے احوال کو ظاہر کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار جل و علا نے مجھ پر کرم کیا کہ گناہوں کو چھپایا اور عبادت کو ظاہر کیا۔

۲۔ وہ یہ خیال کرکے خوش ہو کہ جب دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال صالحہ کو ظاہر کیا اور گناہوں کو پوشیدہ رکھا تو آخرت میں بھی وہ یہی سلوک فرمائےگا کیوں کہ نبی کونینﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی بندے پر گناہ نہیں چھپایا، مگر آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائےگا۔(مسلم)

پہلی صورت میں فی الحال قبولیت پر خوشی تھی، مستقبل کا لحاظ نہ تھا اور اس صورت میں مستقبل کے اعتبار سے خوشی ہے۔

۳۔ بندے کا خیال یہ ہو کہ میرے اعمال صالحہ پر مطلع ہونے والوں کو میری اقتدا کی رغبت ہوگی اور اس طرح مجھے دوگنا ثواب ملےگا۔ ایک اعمال کو پوشیدہ رکھنے کا، دوسرا اس کے ظاہر ہونے کا اور اس کے مطابق لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے کیوں کہ عبادات و طاعات میں جس کی اقتدا کی جائے اسے اقتدا کرنے والوں کے عمل کے برابر ثواب ملتا ہے۔

۴۔ جو اس کی عبادت گزاری پر مطلع ہوکر تعریف کرتے ہیں تو وہ اس وجہ سے خوش ہوتا ہے کہ یہ لوگ تعریف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کر رہے ہیں اور اس کی اطاعت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے دل عبادت کی طرف مائل ہیں۔

مذموم خوشی

پانچویں قسم مذموم خوشی کی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دل میں پائے جانے والے اپنے مقام و مرتبہ پر خوش ہوتا ہے کہ وہ میری تعریف اور تعظیم کریں، میری ضرورتوں کو پورا کریں اور مجھے آگے کریں۔ یہ سوچ ناپسندیدہ اور مذموم ہے۔

ریاکاری کا علاج

آپ نے جان لیا کہ ریاکاری بڑی مہلک بیماری ہے۔ اس کے ازالے کے لیے بہت کوشش اور مجاہدہ کرنا چاہیے۔ حضرت امام قدس سرہ نے

علاج کی دو صورتیں بیان کی ہیں:

۱۔ ایک یہ کہ ریا کی جڑ ہی ختم کر دی جائے، اس کی جڑ اور اصل جاہ و منزلت، اس کی تفصیل کرنے سے تین اصول بنتے ہیں یعنی تعریف لذت، مذمت کی تکلیف سے فرار اور جو لوگوں کے پاس ہے اس کی لالچ اور طمع۔ یہی باتیں ریا کا سبب بنتی ہیں اور اس کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے حضرت ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک بدو نے نبی کونینﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عر ض کیا کہ یا رسول اللہﷺ کوئی غیرت کی خاطر لڑتا ہے، کوئی مقام و مرتبہ دکھانے کی خاطر، کوئی ذکر یعنی تعریف کے لیے لڑتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ فی سبیل اللہ ہے۔(بخاری)

ریا کی اس جڑ کو ایسے کاٹا جا سکتا ہے کہ آدمی غور کرے کہ انسان کسی چیز کا قصد اس لیے کرتا ہے اور اس میں رغبت رکھتا ہے کہ وہ اس کے لیے بہتر، نفع بخش اور لذیذ ہے خواہ فی الحال یا آئندہ، مثال کے طور پر ایک شخص جانتا ہے کہ شہد لذیذ ہے، لیکن جب اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے تو وہ اس سے اعراض کرتا ہے، اسی طرح مذکورہ رغبت کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے، وہ یقین کرے کہ اس میں نقصان ہے، بندہ جب نقصان جان لےگا کہ اس کے ذریعہ دل کی صلاحیت چلی جاتی ہے اور وہ دنیا میں توفیق اور آخرت میں مقام و مرتبہ کے حصول سے محروم ہو جاتا ہے نیز اسے بڑے عذاب اور سخت غضب کا سامنا کرنا پڑےگا اور ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑےگا۔

ریا کا نقصان صرف اتنا ہی نہیں جو مذکور ہوا، بلکہ ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ وہ عبادت اگر خلوص پر مبنی ہو، قبول ہو جاتی تو ہو سکتا تھا کہ اسے کوئی بلند درجہ مل جاتا، مگر ریا کی وجہ سے محروم ہو گیا۔ دوسرا نقصان یہ بھی کہ بجائے خالق جل و علا کے مخلوق کی رضا کے لیے جو عمل نیک کیا جائے اس میں پریشانیاں بہت اٹھانا

پڑتی ہیں، لوگوں کی رضا مندی کی کوئی حد نہیں، کوئی جماعت کسی پر راضی ہوتی ہے، کوئی کسی پر، کسی کو کچھ پسند، کسی کو کچھ۔ پھر یہ کس طرح سب کو راضی رکھ سکتا ہے۔ پھر غضب خداوندی اور اس کی ناراضگی الگ چیز ہے، بلکہ وہ لوگوں کو بھی ایسے انسانوں سے ناراض کر دیتا ہے اور جو اخلاص کے ساتھ عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوتا ہے، جنت میں بلند درجات پائےگا اور رحیم و کریم جل و علا بندوں کے دلوں میں بھی محبت ڈال دیتا ہے۔

علاج کا دوسرا طریقہ

ریاکاری کے علاج میں دوسری چیز یہ ضروری ہے کہ دوران عبادت پیش آنے والے عارضہ کو دور کرنے کا علم حاصل کرکے اسے دور کیا جائے کیوں کہ مجاہدہ نفس کرنے والا انسان اگرچہ قناعت کے ذریعہ ریا کی جڑ اکھیڑ کر طمع کو ختم کرتا ہے، مخلوق کی نگاہوں سے خود کو گراتا ہے، مخلوق کی مدح و ذم اس کے نزدیک حقیر و ذلیل ہو جاتی ہے، لیکن شیطان دوران عبادت اسے چھوڑتا نہیں، بلکہ ریا کے خیالات پیدا کرتا ہے اور وسوسے آتے ہیں، نفسانی خواہشات بالکل ختم نہیں ہو پاتی ہیں۔ حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ریا کے خطرات دور کرنے کے لیے مستعد ہونا ضروری ہے۔ ریا کے خطرات تین قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات سب جمع ہو جاتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی خطرہ ہے اور بعض تدریجاً ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔

پہلا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ بندے کو علم ہے کہ مخلوق کو اس کی عبادت کا پتا ہے اور اس کی امید بھی ہوتی ہے۔ پھر نفس کی طرف سے رغبت پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اور اسے لوگوں میں مقام و عزت حاصل ہو۔ پھر یہ رغبت بڑھتی ہے اور نفس قبول کی طرف مائل ہوتا ہے اور دل عزم کرتا ہے۔ پہلی صورت معرفت، دوسری کو خواہش اور تیسری کو عزم و ارادہ کہتے ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے کو دور کرنے کے لیے پوری قوت چاہیے تاکہ دوسرے خطرات کے

پیدا ہونے سے پہلے اسے دور کر دیا جائے۔ پہلے خطرہ کو یوں دور کرے کہ اپنے نفس سے کہے کہ تمھیں اس سے کیا فائدہ ہے کہ لوگوں کو تیرا عمل معلوم ہو، اللہ تعالیٰ تیرا حال جانتا ہے۔ اگر تعریف کی طرف رغبت ہو تو اسے جاننا چاہیے کہ اس کے دل میں ریا کی آفت پہلے سے موجود ہے۔ وہ سوچے کہ یہ آفت بروز قیامت پروردگار جل و علا کی ناراضگی کا باعث ہوگی اور جس وقت اعمال کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی اس وقت نامرادی ہوگی۔ تو جس طرح اطلاع عبادت ریا کی خواہشیں اور رغبت بڑھاتی ہے۔ اسی طرح آفت ریا کی پہچان اس کی نفرت پیدا کرتی ہے۔ پس ریا کو دور کرنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے:

(۱)آفت ریا کی معرفت اور پہچان (۲)کراہت (۳)انکار

مگر ہوتا یہ ہے کہ بندہ اخلاص کے ساتھ جب عبادت کا آغاز کرتا ہے، پھر ریا کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس وقت اسے وہ معرفت و کراہت جو اس کے اندر پوشیدہ ہے یاد نہیں رہتی ہے کیوں کہ اس کا دل مذمت کے خوف اور تعریف کی محبت سے لبریز ہوتا ہے اور اس پر حرص اس قدر غالب ہوتی ہے کہ دل میں کسی دوسری چیز کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ اس لیے آفت، ریا اور اس کے برے انجام کی معرفت کافورہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی انسان دل میں تحمل و بردباری کا جذبہ رکھتا ہے غصے کی مذمت اور برائی بھی موجود ہوتی ہے، لیکن جب غصہ آتا ہے وہ بردباری کا ارادہ بھی کرتا ہے،لیکن اس وقت ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جن سے غصہ اور تیز ہو جاتا ہے اور وہ پرانے عزم کو بھول جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مذکورہ بالا تینوں چیزیں؛ معرفت، کراہت اور انکار جمع ہوں۔ انکار کراہت کا اور کراہت معرفت کا نتیجہ ہے اور معرفت کی قوت، ایمانی قوت اورعملی نور کے حساب سے ہوتی ہے اور معرفت کی کمزوری کا سبب غفلت، دنیا کی محبت، آخرت کا نسیان اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے اس میں غور و فکر کی کمی ہے۔

عبادات کی دو قسمیں اور ان میں ریاکاری:

پہلی قسم

۱۔ پہلی قسم وہ عبادات ہیں جو بدن کو لازم ہیں اور غیر سے متعلق نہیں اور نہ ہی ان میں ذاتی طور پر لذت ہے مثلاً روزہ، نماز اور حج ہے تو ان میں ریا کے خطرات تین ہیں:

(۱)عمل سے پہلے ریا پیدا ہو۔ اس صورت میں آغاز ہی سے لوگوں کے دکھاوے کے لیے عمل کی ترغیب ہوتی ہے۔ اس صورت میں کوئی دینی باعث نہیں ہوتا، ایسے عمل کو چھوڑنا مناسب ہے کیوں کہ یہ محض گناہ ہے، عبادت نہیں، بلکہ عبادت کی شکل میں منزلت کی طلب ہے۔

(۲)دوم یہ کہ آغاز میں تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کرنے پر تیار ہوتا ہے، لیکن عبادت کے آغاز سے ہی ریا پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں عبادت کو چھوڑنا نہیں چاہیے اور ریا کو دور کرنے کے لیے نفس کا مقابلہ کرے اور جو علاج مذکور ہوئے عمل میں لائے اور اخلاص حاصل کرے۔

(۳)سوم یہ کہ وہ عبادت کا آغاز اخلاص سے کرتا ہے اور نفس پر دباو ڈال کر عمل کو اخلاص کے ساتھ ہی مکمل کرتا ہے کیوں کہ شیطان آغاز میں تو عمل چھوڑنے کی ترغیب دیتا ہے، بندہ جب نہیں مانتا ہے تو وہ ریا کی دعوت دیتا ہے اور اگر وہ اسے بھی قبول نہ کرے اور اس کو دفع کر دے تو اس صورت میں شیطان کہتا ہے یہ عمل خالص نہیں ہے، بلکہ تو ریاکار ہے، تمھاری محنت ضائع ہو گئی، عمل سے کیا فائدہ۔ اس طرح شیطان ترک عمل کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر بندے نے عمل چھوڑ دیا تو شیطان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔

۲۔دوسری قسم

وہ عبادت جو مخلوق سے متعلق ہیں، ان میں آفات و خطرات زیادہ ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ خلافت و امامت میں ہے، پھر قضا، پھر وعظ و تدریس، فتویٰ اور پھر مال خرچ کرنا۔ خلافت و امارت بڑی عبادت ہے

بشرطیکہ عدل اور اخلاص کے ساتھ ہو۔ خلافت و حکمرانی اگرچہ بڑی بڑی عبادات ہیں، لیکن متقی حضرات ہمیشہ اس سے بچتے رہے اور اس کو اختیار کرنے سے بھاگتے رہے کیوں کہ اس میں خطرہ زیادہ ہے، کیوں کہ اس میں باطنی صفات کو حرکت ہوتی ہے اور نفس پر جاہ و مرتبہ کی محبت کا غلبہ اور حکم جاری کرنے کی لذت زیادہ ہوتی ہے اور یہ دنیوی لذتوں میں سب سے بڑی لذت ہے۔

جب ولایت محبوب ہوگی تو حکمراں نفسانی مقاصد کے حصول کی کوشش کرےگا اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلے اور ہر اس کام سے باز رہے جو اس کے جاہ اور ولایت میں مخل ہو اگرچہ یہ حق ہی کیوں نہ ہو اور ہر اس کام کی طرف بڑھے جو اس کے مقام کو بڑھائے چاہے وہ باطل ہی کیوں نہ ہو، اس وقت وہ ہلاک ہو جاتا ہے اور ابدی خسران کا سبب بن جاتا ہے۔

خیال رہے کہ قاضی بننا اگرچہ خلافت و امامت سے کم درجہ میں ہے، لیکن اس کا بھی یہی حکم ہے کیوں کہ ہر والی امیر ہوتا ہے یعنی اس کا حکم نافذ ہوتا ہے اور امارت طبعی طور پر محبوب ہوتی ہے۔ اگر قضا میں حق کی اتباع کی جائے تو اس کا ثواب بہت بڑھےگا، لیکن حق سے انحراف اور بدعملی میں عذاب بھی بہت ہے۔ لہٰذا قضا کا حکم بھی وہی ہوگا جوحکومت و اقتدار کا ہے۔ کمزور لوگوں کے لیے اسے چھوڑنا مناسب ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کی نگاہ میں دنیا اور اس کی لذتوں کا کوئی وزن ہو وہ بھی اس کے قریب نہ جائیں۔ ہاں جو لوگ مضبوط ہیں اور وہ احکام الٰہیہ کی بجاآوری میں کسی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے انھیں چاہیے کہ اسے اختیار کریں۔

اور جب حکمراں ظالم ہوں اور قاضی منافقت اختیار کیے بغیر فیصلہ نہ کر سکے نیز اسے ان حکمرانوں اور ان کے متعلقین کی خاطر حقوق کو چھوڑنا پڑے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صورت میں وہ اسے معزول کر دیں گے یا اس کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے تو اس صورت میں عہدۂ قضا قبول نہیں کرنا

چاہیے۔ اور اگر وہ قبول کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ ان سے حقوق کا مطالبہ کرے اور حقوق چھوڑنے میں معزول ہونے کا خوف عذر نہیں بن سکتا اور نہ ہی غلط فیصلوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

جہاں تک وعظ، فتویٰ، تدریس، روایت حدیث اور ان بلند مرتبہ مسندوں کا تعلق ہے جن سے جاہ و مرتبہ بڑھتا ہے تو ان کی آفات بھی امارت و حکومت کی طرح بہت بڑی ہے۔ اسلاف اور بزرگوں میں جو خوف و خشیت الٰہی سے لبریز قلب و جگر رکھتے تھے وہ جہاں تک ممکن ہوتا فتویٰ نہیں دیتے تھے۔

اسی طرح واعظ و مقرر جب دیکھتا ہے کہ اس کے وعظ کا اثر دلوں پر ہو رہا ہے، اس کا وعظ سن کر وہ روتے ہیں، آہ و بکا کرتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اسے ایسی لذت ملتی ہے جس کے برابر کوئی لذت نہیں۔ اس کے دل پر یہ بات چھا جاتی ہے تو اس کی طبیعت مسجع و مقفیٰ اور ایسے کلام اور تقریر و خطاب میں لگتی ہے جسے لوگ پسند کریں، اور اس کا مطمح نظر عوام سامعین کو خوش کرنا ہوتا ہے، وہ اپنی سمجھ سے ایسی ہی باتیں کرتا ہے جو سامعین کو پسند آئیں، ان باتوں سے بھاگتا ہے جو لوگوں کو گراں معلوم ہوں اگرچہ وہ حق ہو اور ایسا کلام کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے دلوں میں حرکت پیدا ہو اور اس کا بڑا مقام ہو۔ وہ جب کوئی حدیث یا حکمت کی بات سنتا ہے تو صرف اس لیے خوش ہوتا ہے کہ وہ اسے منبر پر بیان کرےگا حالاں کہ اسے چاہیے تھا کہ اس پر خوش ہو کہ اس نے سعادت کا ایک راستہ معلوم کر لیا ہے۔ یہ دین کا راستہ ہے جس پر پہلے وہ خود عمل کرےگا پھر دوسروں تک پہنچائےگا۔

غرضیکہ وعظ و تقریر میں بھی بہت بڑا خوف و فتنہ ہے۔ اس لیے اس کا حکم بھی حکمرانی کی طرح ہے۔ جو شخص طلب جاہ اور اپنا مقام بنانے اور مال حاصل کرنے کے لیے یہ کام کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ کام چھوڑ دے اور اپنی خواہشات کی

مخالفت کرے یہاں تک کہ نفس کی ریاضت ہو جائے اور نیت میں اخلاص اور دین میں ہمت مضبوط ہو جائے اور فتنۂ نفس سے امن ہو جائے۔

فقیر عرض کرتا ہے کہ ان فتنوں سے کچھ کم آج کی پیری مریدی کا فتنہ نہیں ہے۔ پیری مریدی یا بیعت و ارشاد کا خاص مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو احکام شرعیہ و عقائد حقہ سے آراستہ کیا جائے اور تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کرکے باطن کو تجلیات و انوار اور قرب و عرفان کے لائق بنایا جائے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ پیر حضرات علوم ظاہر سے آراستہ اور ان پر عامل ہوتے اور دعوت و تبلیغ کے جذبات سے سرشار ہوتے تاکہ مریدوں کی تعمیر ظاہر کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ تزکیہ و تصفیہ قلب کے طریقوں اور اصول طریقت کی روشنی میں تربیت سے واقف ہوتے تاکہ باطنی کام کر سکتے اور اخلاص کی دولت سے خود بھی مالامال ہوتے اور دوسروں کو بھی مالا مال کرتے۔ لیکن اب بالکل اس کے برعکس ہے، اکثر پیر تو علم سے کورے ہیں، وہ دوسروں کو کیا سکھائیں گے۔ پھر جن کے پاس تھوڑا یا زیادہ علم ہے ان میں اکثر عمل سے خالی ہیں اور جو تھوڑا بہت عمل بھی کرتے ہیں ان کے اکثر میں دوسروں کی اصلاح و تربیت کا نہ جذبہ ہے نہ غیروں فرصت اور باطنی علوم کے حامل تو خدا ہی کو معلوم ہے کہ یہ کون ہے؟ کہاں ہے؟ اب ہر طرف جو نظر آرہا ہے وہ جاہ و عزت اور دولت و ثروت ہے۔ اسی لیے ہر ایک اپنا حلقہ بڑھانے کی فکر ہے، حسد ہے، کینہ ہے، اختلافات ہیں، نجی محافل و مجالس میں بجائے ذکر و فکر اور یاد آخرت کے غیبتیں ہیں، چغلیاں ہیں۔ آپ اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تعلیم و تدریس اور وعظ و تقریر وغیرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ بس یہ کہ یہ چیزیں ایک گونا خدمت دین اور تحفظ ایمان و سنیت کا ذریعہ ہیں۔