مواد پر جائیں

باب ۳۹ از ۵۴صفحات ۴۶۳–۴۷۴

حقیقت رضا

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: جو لوگ کہتے ہیں کہ خواہش کے خلاف امور اور مختلف مصیبتوں میں صرف صبر ہو سکتا ہے، رضا کا تصور نہیں ہو سکتا گویا وہ لوگ محبت کا انکار کرتے ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کا تصور اور تمام ہمت کا اس میں مستغرق ہونا ثابت ہو جائے تو بلا شک محبوب کے کاموں پر راضی ہونے کا باعث ہے اور یہ دو طریقوں سے ہوتا ہے: (۱)تکلیف کا احساس ختم ہو جائے حتیّٰ کہ اس پر کوئی تکلیف دہ بات آئے تو اس کا احساس نہ ہو اور زخم پہنچے تو اس کا ادراک نہ ہو۔

(۲)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس درد کا ادراک ہو، لیکن وہ اس پر راضی ہو، بلکہ وہ اس میں رغبت رکھتا ہو اور عقل کی بنیاد پر وہ اس کا ارادہ کرے اگرچہ اس کی طبیعت پر گراں گذرے جیسے کوئی شخص رگ کھلوانا اور خون نکلوانا چاہتا ہے تو وہ اس کا درد محسوس کرتا ہے، لیکن وہ اس پر راضی ہوتا ہے اور رغبت رکھتا ہے اور رگ کھولنے والے کا احسان مند ہوتا ہے تو جس کو تکلیف پہنچتی ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ اسی طرح جو شخص نفع طلب کرتا ہے وہ سفر کی مشقت بھی برداشت کرتا ہے، لیکن سفر کے نتائج کی محبت اس کے نزدیک سفر کی مشقت سے زیادہ خوش گوار ہوتی ہے اور وہ اس پر راضی ہوتا ہے۔ تو جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش پہنچے اور اسے یقین ہو کہ اس کے لیے جو ثواب رکھا گیا ہے وہ اس فوت شدہ چیز سے زیادہ ہے تو وہ اس پر راضی ہوتا ہے اور رغبت رکھتا ہے اور اس کو پسند کرتے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ ثواب اور احسان کا لحاظ رکھے

جو اس مصیبت کے بدلے میں اسے ملتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محبت غالب ہو اور اس کا مقصود محبوب کی مراد اور رضا کے سوا کچھ نہ ہو اور یہ سب باتیں مخلوق کی محبت میں مشاہدے میں آتی ہیں۔ پھر حضرت امام قدس سرہ نے متعدد واقعات و شواہد پیش کیے۔

معلوم ہو کہ ایک بندے کا راضی ہونا کہ جو کچھ محبوب و مطلوب کی طرف سے پہنچے وہ اس پر راضی اور خوش رہے، بلکہ بلند مقامات کے حامل اولیاے کرام انعام کے مقابل ایلام کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انعام میں بندے کا حظ بھی شامل ہے اور ایلام سراسر محبوب کی مراد ہے، اس میں نفس کا حصہ یا منفعت نہیں ہے۔ اسی رضا کو آپ نے اب تک پڑھا جو مقامات سلوک کا سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ اور ایک ہے رضاے الٰہی کہ بندہ سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ آیت پڑھ چکے ‘‘رِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ’’ اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے۔

بندے کے لیے سب سے بڑی معراج ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔ رضا کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ایک خاص تعلق ہو جاتا ہے جس کا خاصہ ایک مخصوص قسم کا انجذاب ہے، جب یہ حاصل ہوتا ہے تو بندے کو سہولت اطاعت اور حضور دائم ملتا ہے۔ یہ محض وہبی چیز ہے، کسی عمل صالح میں قوت و صلاحیت نہیں کہ وہ رضاے الٰہی کے لیے کافی ہو سکے۔ جب بندہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح اور تعمیر کرتا ہے اور ایک مدت تک اس پر دوام اور ہمیشگی اختیار کرتا ہے تو رفتہ رفتہ ان اعمال میں سہولت ہونے لگتی ہے۔ تمام مراقبات، ریاضات، مجاہدات اور اذکار و اشغال کیے جاتے ہیں۔ مقصود ظاہر و باطن کی اصلاح ہے۔ اسی پر نسبت مرتب ہوتی ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ بندے سے راضی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ اللہ ان سے راضی ہوا۔

یہ بھی معلوم ہو کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کی رضا کا محتاج نہیں، بلکہ بندے

اس کی رضا کے محتاج ہیں ، لیکن وہ رب کائنات اپنے فضل و کرم سے اپنے محبت و اطاعت کرنے والوں کو راضی اور خوش کرتا ہے جیسا کہ رضا کے سلسلے میں پہلی آیت میں فرمایا: اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے’’ یہاں رضا کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو بیان ہوا کہ بندے کو مقام رضا حاصل ہو جائے جیسا کہ عام مقربین بارگاہ الٰہی اور اہل سلوک کو ہوتا ہے اور اس سے بڑھ کر وہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی رضا چاہے، یہ شرف اللہ تعالیٰ نے سید المحبوبینﷺ کو بخشا، ارشاد ربّانی ہے:

فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا (سورۃ البقرۃ: ۲؍۱۴۴)

ترجمہ: تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔’’

نیز فرماتا ہے:

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (سورۃ الضحیٰ: ۹۳؍۵)

ترجمہ: اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔’’

مزید یہ معنی دیگر آیات سے بھی معلوم ہوتے ہیں، اس کے علاوہ حدیث قدسی ہے: أنا اطلبُ رضاک یا محمد (اے رسول میں تیری رضا چاہتا ہوں) حضرت خواجہ محمد معصوم خلف و جانشین حضرت مجدد الف ثانی قدس اسرارھما نے مکتوب:۱۰،جلد اول میں حضورﷺ کی نعت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فرشتے ان کے طفیلی اور آسمان ان کی حویلی ہے، وجود کا رشتہ ان کے ساتھ منسلک اور ایجاد کا سلسلہ ان کے ساتھ مربوط اور ربوبیت کا ظہور ان کے ساتھ وابستہ ہے، جملہ کائنات ان ہی کے پیچھے ہے، اور کائنات کا بنانے والا (اللہ تعالیٰ) ان کی رضا کا طالب ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے ‘‘أنا اطلبُ رضاک یا محمد’’

نماند بعصیاں کسے در گرو

کہ دارد چنیں سید پیش رو

یعنی جس کا امام و پیشوا ایسا سردار ہو وہ شخص گناہوں کے بدلے میں گروی نہ رہےگا۔

مکتوب:۶۲ میں رضا کے تعلق سے فرماتے ہیں: رضا کے مقام میں جو کہ سب سے آخری مقام ہے دو اعتبار ہیں۔ پہلا اعتبار ہے حق سبحانہ کا بندے سے راضی ہونا اور دوسرا اعتبار ہے بندے کا حق سبحانہ و تعالیٰ سے راضی ہو جانا۔ دوسرا اعتبار پہلے اعتبار پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ پہلے حق کی رضا ہے، اس کے بعد بندے کی رضا جیسا کہ حق سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ

حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی‌رحمۃ اللہ علیہ آیت بالا کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب ﷺ سے یہ وعدۂِ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں ۔ کمالِ نفس اور علومِ اوّلین و آخرین اور ظہورِ امر اور اعلاے دِین اور وہ فتوحات جو عہدِ مبارک میں ہوئیں اور عہدِ صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونا اور اسلام کا مشارق و مغارب میں پھیل جانا اور آپ کی امت کا بہترینِ امَم ہونا اور آپ کے وہ کرامات و کمالات جن کا اللہ ہی عالِم ہے اور آخرت کی عزّت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاعتِ عامّہ و خاصّہ اور مقامِ محمود و غیرہ جلیل نعمتیں عطا فرمائیں ۔

مسلم شریف کی حدیث میں ہے، نبی کریمﷺنے دونوں دستِ مبارک اٹھا کر امّت کے حق میں رو کر دعا فرمائی اور عرض کیا اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ ، اللہ تعالٰی نے جبریل کو حکم دیاکہ محمّد(مصطفٰیﷺ) کی خدمت میں جا کر دریافت کرو، رونے کا کیا سبب ہے باوجود یکہ اللہ تعالیٰ دانا ہے ، جبریل نے حسبِ حکم حاضر ہو کر دریافت کیا، سیّدِ عالَم ﷺ نے انہیں تمام حال بتایا اور غمِ امّت کا اظہار فرمایا،

جبریلِ امین نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ تیرے حبیب یہ فرماتے ہیں باوجود یکہ وہ خوب جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا جاؤ اور میرے حبیب (ﷺ) سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی امّت کے بارے میں عنقریب راضی کریں گے اور آپ کو گراں خاطر نہ ہونے دیں گے ۔

حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سیّدِ عالَم ﷺنے فرمایا کہ جب تک میرا ایک امّتی بھی دوزخ میں رہے میں راضی نہ ہوں گا ۔

آیتِ کریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی کرے گا جس میں رسولﷺ راضی ہوں اور احادیثِ شفاعت سے ثابت ہے کہ رسول ﷺ کی رضا اسی میں ہے کہ سب گنہگار انِ امّت بخش دیے جائیں تو آیت و احادیث سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضورﷺ کی شفاعت مقبول اور حسبِ مرضیِ مبارک گنہگار انِ امّت بخشے جائیں گے۔

سبحان اللہ! کیا رتبۂِ عُلیا ہے کہ جس پروردگار کو راضی کرنے کے لیے تمام مقرّبین تکلیفیں برداشت کرتے اور محنتیں اٹھاتے ہیں ، وہ اس حبیبِ اکرم ﷺکو راضی کرنے کے لیے عطا عام کرتا ہے ۔

چند اچھی خصلتیں

حضوراقدس ﷺاورآپ کے حقوق،محبت،تعظیم:

حضور اکرم ،باعث تخلیق آدم وبنی آدم،سید دو عالم،محبوب عالم وصانع عالم جناب محمد رسول اللہ ﷺکی ذات گرامی کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعدسب سے زیادہ مستحق تعظیم وتکریم آپ کی ذات اقدس ہے آپ کی محبت عین محبت الٰہی ،آپ کی تعظیم عین تعظیم الٰہی اورآپ کی اطاعت عین اطاعت الٰہی آپ جامع جمیع کمالات الٰہیہ آپ اللہ کے مظہر اکمل و خلیفہ اعظم ہیں۔

قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں اللہ نے اپنی محبت کے ساتھ آپ کی محبت اور اپنی تعظیم کے ساتھ آپ کی تعظیم کو بیان فرمایا ہے،آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اور ہر چیز سے بڑھ کر آپ کی محبت لازم کی ارشاد باری ہے

قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُ نِاقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ وَاللہُ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیۡنَ (سورۃ التوبۃ: ۹؍۲۴)

ترجمہ: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمھاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمھاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔’’

اس آيت سے معلوم ہواکہ جسےدنیا،جہان،کوئی عزیز،کوئی مال اورکوئی چیز اللہ ورسول سے زیادہ محبوب ہوگی وہ بارگاہ الٰہی سے مردود ہے،اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف راہ نہیں دےگا بلکہ اسے عذاب الٰہی کے انتظار میں رہنا چاہیے۔

حضورﷺارشاد فرماتے ہیں:لايؤمن احدكم حتيٰ اكون احب اليه من والده وولد والناس اجمعين”

تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اسکےماں،باپ،اولاداورسب آدمیوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

تعظیم

ارشاد الٰہی ہے:

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا لِّتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیۡلًا (سورۃ الفتح: ۴۸؍۹)

ترجمہ: اے محبوب بیشک ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا،او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجا تاکہ اے لوگو!تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ،رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو۔’’

اس آیت کریمہ میں دین اور قرآن عطا کرنے کے تین مقاصد بیان کیے گیے (1)اللہ ورسول پر ایمان لانا(2)رسول اللہﷺپر ایمان لانا(3)اللہ کی عبادت کرنا

اطاعت:حضورﷺکی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اس مفہوم کی آیات کثیر تعدادمیں ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ (سورۃ النساء: ۴؍۸۰)

ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔’’

یعنی جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی بہر حال حاصل یہ کہ آپ کی محبت محبت الٰہی ہے،حدیث پاک میں ہے: اللہ تعالیٰ سےمحبت کرو کہ وہ ہر صبح تمہیں نعمت دیتا ہے اور مجھ سے محبت کرو کیوں کہ اللہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔’’

حضرت امام ربانی مجدد ومنور الف ثانی سیدنا ومولانا حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والوں کے سردار سید المحبین حضرت موسیٰ کلیم اللہ ہیں اور محبوبان الٰہی کے سید المحبوبین حضور اقدس ﷺ ہیں حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کو جس قدر چاہتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ حضور کو چا ہتا ہے صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا و علیہ وسلم۔

ہرسبب کےاعتبار سےآپ مستحق محبت ہیں:اسباب محبت آپ نے پڑھے آپ دیکھیں کہ ہر سبب کے اعتبار سے حضور نبی اکرمﷺمستحق محبت ہیں

مثلاآپ پہلے ہی سبب کو لے لیں کہ ہرنعمت خواہ وہ وجود یا توابع وجود یا علمی وعملی کمالات سے متعلق ہے سب کا خالق ومالک حقیقی و اصلی اللہ عزوجل ہے جب کہ قاسم،واسطہ فیوضات اور سب کا وسیلہ آپﷺکی ذات اقدس ہے، پھر تو لا محالہ آپ محبت کے مستحق ہیں۔آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں روحوں کے لیے بھی حصول فیض کا واسطہ ووسیلہ بنایا اور اس عالم اجسام میں بھی جس کو جو ملا آپ کے واسطے سے ملا ،ہم نے اس مضمون کو انوار حرمین اور معارف مجدد میں قدرے تفصیل سے عرض کیا ہے۔یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ کمالات خواہ ظاہری ہوں یا باطنی سب کا واسطہ آپﷺکی ذات اقدس ہے آپ جامع جمیع کمالات الٰہیہ ہیں اور آپ مظہر اتم واکمل ہیں جس قدر آپ کی ذات میں کمالات الٰہیہ کا ظہور ہوا اس قدر کسی شے یا شخص میں نہیں ہوا، آپ کی دو جہتیں ہیں:

(1)ایک ملکی یا روحی وغیرہ جس کی وجہ سے آپ اپنے رب جل وعلا سے مناسبت اتم رکھتے ہیں اس قدر مناسبت کسی بشر وملک کو حاصل نہیں اسی وجہ سے آپ میں سب سے زیادہ کمالات کاظہور ہوا اور جو آپﷺکو تن تنہا اور انفرادی طور پر حاصل ہے وہ سب کو اجتماعی طور پر حاصل نہیں آپ کثرت کمالات میں بھی بے مثال اور ہرہروصف میں بھی بے مثال خیال رہے کہ افاضہ واستفاضہ یعنی فیض دینے اورلینےمیں مفیض ومستفیض کے درمیان مناسبت شرط ہے جس قدر مناسبت زیادہ ہوگی اسی قدر فیضان زیادہ ہوگا اسی لیے جو فیضان آپ کو ملا وہ کسی کو نہیں ملا۔

(2)دوسری جہت بشری ہے وہ یہ کہ آپ ظاہری صورت میں بشر ہیں اس جہت وتعلق کی وجہ سے آپ کو مخلو قات یا بشر سے تعلق ہے،یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ آپ کو لباس بشری پہنا کر بھیجا ورنہ مخلوق آپ سے کیسے فیضیاب ہو سکتی تھی اسی مناسبت ومشابہت کی وجہ سے بندوں کو آپ ﷺکے ظاہر وباطن

سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا کمالات ظاہروباطن جو کچھ بھی صوفیا ،اولیاء،علما،فقہاء،محدثین اور مفسرین وغیرہ کو میسر آے اور وہ دیگر امتوں پر اپنے اوصاف وکمالات کی وجہ سے سبقت لے گیے وہ اسی مناسبت کا مرہون منت ہے۔

عقل کے اندھوں نے بشریت کو نقص کے روپ میں دیکھا حالانکہ اگر وہ صحیح فکر سے کام لیتے تو سمجھ لیتے کہ یہ تو خاص رحمت ہے،آپﷺسے پہلے بھی دنیا میں یہی انسان تھے وہی خدا تھا جو ہر شے پر قادر ہے مگر کتنے مسلمان تھے ،کتنے مومن تھے،کتنے ارباب کمالات تھے ،کتنے اصحاب معارف وحقائق تھےاور کتنے علوم وفنون کے مالک تھے؟ آخر ایسا کیوں؟ یہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کچھ کر دیتا لیکن اس کی مرضی و مشیت یہی ہے کہ وہ اپنی ظاہری وباطنی اور مادی وروحانی نعمتیں اپنے خاص بندوں کے واسطے اور وسیلے ہی سےدیتا ہے۔ ایمان واسلام،علوم ومعارف،جملہ کمالات اور نعمتیں سبھی آپ کے وسیلے سے ملیں،مل رہی ہیں اورملتی رہیں گی،آپ کی حاجت دنیا میں بھی ہے،قبر میں اور حشر ونشر میں بھی ہے۔

اس مختصر گفتگو سے آپ یہ بھی سمجھ گیے ہونگے کہ محبت کے دوسرےسبب یعنی احسان کے اعتبار سے بھی آپ محبت کے مستحق ہیں خداوند قدوس کے بعد اگر کسی کاسب سے بڑا احسان ہے تو وہ آپ ہی کا ہے آپ کے احسان کے فیض سے کو ئی خالی نہیں آپ رحمۃللعالمین ہیں۔

اسی طرح محبت کے تیسرے سبب یعنی حسن و جمال کو لے لیں خواہ حسن صورت ہو یا حسن سیرت ہر ایک میں آپ بے مثال ہیں،اسی حسن نے تو آپ کو بے مثال محبو بیت کا حامل بنادیا،آپ ﷺاللہ تعالیٰ کے بھی محبوب اعظم ہیں اور بندوں کے بھی جس قدر آپ کو چاہا گیا جتنی محبت آپﷺ سے کی گئی اتنی کسی سے نہیں کی گئی،جنھوں نے آپ کو کچھ جاناسمجھاانھوں نےاپنے اموال ،اپنے قبیلے

،وطن، اولاداور جانیں وغیرہ سب قربان کردیں، ان کے نزدیک آپ ہی سب سے زیادہ عزیز ومحبوب تھے،آپ حسن وجمال کا ایسا مجسمہ تھے جسکے لیے دل بے قرار تھے،مل کردلوں کی تسکیں ہوتی چلی گئی،قرار آتا چلا گیا۔پوری کائنات میں،ساری مخلوق میں آپ جیسا کوئی حسین وجمیل نہ ہوا جو حسن آپ کو ملاوہ کسی کو نہ ملا حسن باطن کا تو کہنا ہی کیا۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داریآنچہ خوبا ں ہمہ دارند تو تنہا داری

چوتھے سبب یعنی کمال کے اعتبارسے بھی مخلوق میں کوئی بھی آپ سے بڑھ کر محبت کا مستحق نہیں۔پانچویں سبب (مناسبت)کے اعتبارسے دیکھیں تو بھی آپ سبب سے زیادہ محبت کے مستحق ہیں ،جہت بشریت بھی مناسبت کا بڑاسبب ہے۔

مناسبت کے پہلو

فقیر مجددی غفر لہ کی نظر قاصرمیں مناسبت کے چند پہلو ہیں(1)ایک تو یہی بشریت(2)دوم وہ جو بعض علما نے بیان کیا کہ عالم ارواح میں روحوں کی باہمی الفت جو فطری مناسبت کہلاتی ہے،افاضہ واستفاضہ کے لیےالفت ومحبت بھی شرط ہے آپﷺکی محبت والفت اور تعظیم وتکریم تو بنص قرآن وسنت فرض ہے،ہر شے سے زیادہ آپ کی محبت مطلوب ہے،آپ کی محبت پر ایمان کا دارومدار ہے،فیض الٰہی بغیر آپ کی محبت کے حاصل نہیں ہو سکتاہے،اکتساب فیض کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے ساتھ موانست اور الفت ومحبت ہو ایسی محبت کہ آپ کے ہر قول وفعل سے محبت ہو،کسی معاملے میں کسی بھی طرح کی کراہت نہ ہو،آپ کی ہرہربات،ہر ہرفعل پسندیدہ ومحبوب ہو مناسبت کے اس پہلو کے اعتبار سے بندوں پر لازم ہے کہ اگر وہ فیوضات وانوار الٰہیہ سےمستفیض ومستنیر ہونا چاہتے ہیں تو آپ سے محبت کرکے آپ کے ساتھ مناسبت پیدا کریں،محبت کے ساتھ جس قدر اطاعت ہوگی،اقوال وافعال میں جس قدر مناسبت ومشابہت ہوگی اسی قدرافاضہ واستفاضہ کی راہ زیادہ ہموار ہوگی۔

(3)مناسبت کا تیسرا پہلو عروج ونزول سے تعلق رکھتا ہے جس کو حضرت مجدد قدس سرہ نے ایک مکتوب میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے،آپﷺکا عروج بھی سب سے اعلیٰ، اتم اور اکمل ہے اور نزول بھی اسی وجہ سے آپ کی ذات اقدس سے مخلوق کو جو فیض پہنچا وہ کسی سے نہیں پہنچا لہٰذا آپ کے امتی جس کثرت سے قرب وعرفان میں اعلیٰ درجہ پرپہنچے کسی بھی امت کے افراد اتنی کثرت اور اتنی بلند منزل پر نہیں پہنچے یہ مناسبت کوئی معمولی نعمت نہیں،اس کی قدر ومنزلت کا اندازہ عا م لوگ نہیں کر سکتےہیں اسی مناسبت نے رشدوہدایت کے وہ سمندر بہائے کہ جہان سیراب ہو گیا اور ہو رہا ہے،اسی مناسبت نے امت پر رحمت وشفقت اور ہمدردی کے وہ دروازے کھولے کہ انسانیت کی معراج ہو گئی،دنیا وآخرت میں سب کی بن آئی،اہل استعداد کوحسب استعداد کمالات حاصل ہوئے،گناہگاروں کو عذاب سے نجات ملی،سیہ کاروں کو شفاعت کی برکتیں نصیب ہوئیں۔