مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائد۵۔صغیرہ گناہ کبیرہ کیسے بنتے ہیں

باب ۲۱ از ۵۴صفحات ۲۵۶–۲۶۸

۵۔صغیرہ گناہ کبیرہ کیسے بنتے ہیں

صغیرہ کے کبیرہ ہونے کے متعدد اسباب ہیں:

(الف)اصرار یعنی گناہ پر ڈٹا رہنا، اسے بار بار کرنا، اگر ایسا ہو سکے کہ ایک کبیرہ کے بعد آدمی باز رہے، دوسرا کبیرہ نہ کرے تو اس صغیرہ گناہ کے مقابلے میں معافی کی زیادہ امید ہے جس پر وہ اصرار کر رہا ہے۔

(ب)گناہ کو حقیر اور معمولی سمجھنا۔ جب گناہ کو بڑا سمجھا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ چھوٹا ہوتا ہے اور جب چھوٹا سمجھا جاتا ہے تو وہ اس کے یہاں بڑا ہوتا ہے کیوں کہ بڑا سمجھنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس سے نفرت کرتا ہے، اس کے برعکس چھوٹا سمجھنا الفت پر دلالت کرتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: مومن اپنے گناہ اس طرح دیکھتا ہے جیسے اس کے اوپر پہاڑ ہو اور اس کے گرنے کا ڈر ہو اور منافق اپنے گناہ کو مکھی کی طرح دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر گذرتی ہےتو وہ اسے اڑا دیتا ہے۔

(ج)صغیرہ گناہ پر خوش ہونا اور فخر کرنا بھی کبیرہ کرتا ہے نیز یہ کہنا کہ مجھ سے یہ کام نعمت خداوندی کی وجہ سے ہوا ہے حالاں کہ وہ اس بات سے غافل ہے کہ اس کا سبب بدبختی ہے۔ پس جب بھی بندے کو صغیرہ گناہ کی لذت حاصل ہوتی ہےتو وہ کبیرہ ہو جاتا ہے اور دل کی سیاہی میں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

(د)اللہ تعالیٰ بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور حلم سے کام لے اور ڈھیل دے، بندہ اس کو معمولی سمجھے اور اسے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ ڈھیل سزا ہے تاکہ اس طرح اس کا گناہ بڑھ جائے اور بندہ سمجھے کہ گناہوں پر اس کی طاقت و

قدرت اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے۔

(ہ)گناہ کرکے اسے ظاہر کرنا بھی صغیرہ کوکبیرہ بنا دیتا ہے، اس کے اس عمل سے دوسروں کو گناہ کی رغبت ہوتی ہےاور اس کے ذریعہ وہ اپنے فعل گناہ پردوسرے کو گواہ بھی بناتا ہے اور یہ دونوں ہی باتیں جرم ہیں۔ اس طرح صغیرہ کو طاقت مل جاتی ہے اور وہ کبیرہ ہوجاتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: تمام لوگوں کے لیے معافی ہے، لیکن گناہ کو ظاہر کرنے والوں کے لیے نہیں ، تم میں سے کوئی گناہ کی حالت میں رات گذارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا ہوتا ہے اور وہ بندہ پردے کو پھاڑ دیتا ہے اور اپنا گناہ بیان کرتا پھرتا ہے۔ (بخاری شریف)

(و)گناہ کرنے والا عالم ہو اور لوگ اس کی اقتدا و پیروی کرتے ہوں۔ جب وہ اس کا ارتکاب یوں کرے کہ لوگ دیکھ رہے ہوں تو یہ کبیرہ گناہ ہو جائےگاجیسے کوئی عالم ریشمی کپڑا پہنے، سونے کی سواری پر سوار ہو، بادشاہوں سے شبہہ کے طور پر مال حاصل کرے، بادشاہوں کے پاس آمد و رفت رکھے اور ان کے مال کو برابر جانے، بلکہ ان کی مدد کرے۔ مسلمانوں کی عزت کے خلاف زبان کھولے، مناظرات میں حد سے تجاوز کرے اور مقصود دوسرے فریق کی توہین کرنا ہو، ایسے علوم میں مشغول ہو جن کا مقصد محض مرتبے کا حصول ہو جیسے جدل و مناظرہ کا علم۔ یہ وہ گناہ ہیں جن میں عالم کی اتباع کی جاتی ہے، اب وہ عالم دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، لیکن اس کی برائی باقی رہتی ہے اور عرصہ دراز تک دنیا میں پھیلتی رہتی ہے۔

فقیر مجددی عرض کرتا ہے کہ یہ تو حضرت امام نے اپنے دور کے لحاظ سے ان علما کے افعال ذکر فرمائے جنھیں عام طور پر گناہ نہیں سمجھتےتھے، ورنہ اب تو حال یہ ہے کہ صغیرہ تو کجا کبیرہ کا ارتکاب کھلم کھلا برسرعام ہوتا ہے۔ درس گاہوں میں نظر بازی، غیر محرموں کے ساتھ ہنسی مذاق، غیبتیں، چغلیاں، دنیا کے مال و متاع اور جاہ و منصب کی ترغیب، فساق و فجار اور کافر و مسلم نیتاؤوں کی تعظیم و تکریم، اپ

اپنے کام کے بدلے روپے طلب کرنا، منبروں اور اسٹیجوں پر ایک دوسرے کی تذلیل و تحقیر، مشربی صوبائی عصبیتیں، کسی سے بغض و عناد کو شرعی روپ دینا، اور اس کے خلاف اشتہارات شائع کرنا، نماز کا ترک، جماعتوں سے لاپرواہی وغیرہ وغیرہ۔

کیا کیا گنا جائے، قلب و قالب سے متعلقہ نا معلوم کتنے جرائم کا عوام کے سامنے اظہار ہی نہیں ہوتا، ناجائز کاموں کو جائز ثابت کرتے ہیں اور لوگوں کو معاونت پر ابھارتے ہیں، اپنی برائیاں چھپانے کے لیے دوسروں کے تقویٰ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ عوام گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وہ صاف صاف کہتے ہیں کہ جب مولانا لوگ ایسا کر رہے ہیں تو ہمیں کیا حرج ہے۔ دنیوی مال و متاع کی خاطر الیکشن لڑتے ہیں، مختلف پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ان کی بےجا حمایتیں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ امان میں رکھے۔ توبہ کی بحث میں ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ جرائم اور ان کی سزائیں وغیرہ اسی لیے درج کیں تاکہ گناہ کو گناہ سمجھیں اور ان کی قباحت اور اخروی وبال پر مطلع ہو کر توبہ کریں۔ بہت سے نرے گناہوں کو گناہ ہی نہیں سمجھتے اور بعض ایسے ہیں جو سب کو صغیرہ ہی سمجھتے ہیں۔ پھر بندوں کی رضا کے طالب بہت سے واعظین و مقررین ان گناہوں کے باوجود انھیں جنت کی بشارتیں دیتے رہتے ہیں۔

حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ حدیث پاک کا یہ حصہ ‘‘جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے، لیکن ان کے گناہ میں بھی کمی نہ ہوگی۔ نیز ارشاد خداوندی:

وَ نَکْتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمْ (سورۃ یٓس: ۳۶؍۱۲)

ترجمہ: اور ہم لکھ رہے ہیں جو انھوں نے آ گے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے۔’’

آثار سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسی عمل کرنے والے اور اس کے عمل کے ختم ہو جانے کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عالم کے لیے خرابی اس کی اتباع کی وجہ سے ہوتی ہے، اس سے کوئی لغزش ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اس سے رجوع کر لیتا ہے، لیکن لوگ اس کام کو کرنے لگتے ہیں اور پورے عالم میں پھیلا دیتے ہیں۔ بعض بزرگوں کا کہنا ہے: عالم کی لغزش کشتی کے ٹوٹنے کی طرح ہے، وہ خود بھی ڈوبتی ہے اور جو اس میں سوار ہیں وہ بھی ڈوبتے ہیں۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ علما کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے۔ لہٰذا ان پر دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک ترک گناہ، دوسرے چھپانا اور جیسا کہ گناہوں کی وجہ سے علما کی سزا زیادہ ہے اسی طرح ان کی نیکیوں کا ثواب بھی زیادہ ہے اگر شریعت کے مطابق چلیں۔ پس جب وہ زیب و زینت اور دنیا کی طرف میلان چھوڑ دیں اور تھوڑے مال پر قناعت کر لیں، حسب ضرورت رزق اور سادے کپڑوں پر صبر کر لیں اور لوگ ان کی اتباع کریں تو اتباع کرنے والوں کے برابر ثواب ملےگا۔ اور اگر ان کا زیب و زینت کی طرف میلان ہو تو اس سے نچلے درجے کے لوگوں کی طبیعت اس سے مشابہت کی طرف میلان رکھے گی اور پھر ان کے لیے وہ مختلف حیلوں سے دولتیں جمع کریں گے۔

سچی توبہ

بہر حال انسان کو چاہیے کہ وہ گناہوں کی تفصیل جانے اور معلوم کرے کہ کس گناہ سے توبہ کا کیا طریقہ ہے۔ توبہ ہر گناہ کے ازالے کے لیے کافی و وافی ہے۔ کوئی گناہ ایسا نہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تک کہ کفر و شرک بھی۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر اس لیے کہ وہ اس کے رب عز و جل کی نافرمانی نادم و پریشان ہو کر فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دل سے پورا عزم کرے۔ جو چارہ کار اس کی تلافی کااپنے ہاتھ میں ہو بجا لائے مثلاً نماز روزے کے ترک یا غضب، سرقہ (چوری) رشوت، ربا (سود) کہ

صرف آئندہ کے لیے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو نماز روزے ناغہ کیے ان کی قضا کرے، جو مال جس سے چھینا، چرایا، رشوت، سود میں لیا انھیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو واپس کر دے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے تو اتنا مال تصدق کر دے اور دل میں نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملیں اگر اس تصدق پر راضی نہ ہوئے تو اپنے پاس سے انھیں پھر دوں گا۔ (فتاویٰ رضویہ بحوالہ شرح فقہ اکبر)

توبۃ السِرّ و توبۃ الاعلان

تنہائی میں گناہ کیا تو اس کی توبہ بھی تنہائی میں کافی ہے اور مجمع اور لوگوں کے سامنے کیا تو اس کی توبہ بھی مجمع میں ضروری ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ و الرضوان کے جامع کلام کا خلاصہ درج ہے، فرماتے ہیں کہ وہ گناہ جو خلق پر بھی ظاہر ہو جس طرح خود اس کے لیے ۔ اس کے دو تعلق ہیں؛ ایک بندے اور خدا میں کہ اللہ عز و جل کی نافرمانی اور اس کاثمرہ جل و علا کی معاذ اللہ ناراضگی اس کے عذاب منقطع یا ابدی کا استحقاق۔ دوسرا بندے اور خلق میں کہ مسلمانوں کے نزدیک وہ آثم (گنہ گار) و ظالم یا گمراہ و کافر گناہ کی حیثیت کے اعتبار سے ٹھہرے اور اس کے لائق سلام و کلام و تعظیم و اکرام و اقتداے نماز وغیرہا امور و معاملات میں اس کے ساتھ انھیں برتاو کرنا ہو۔ یوں ہی اس سے توبہ کے لیےبھی دو رخ ہیں۔ ایک طرف خدا اس کا رکن اعظم بصدق دل اس گناہ سے ندامت ہے، فی الحال اس کا ترک اور اس کے آثار مٹانا اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا صحیح عزم ہے۔ یہ سب باتیں سچی پشیمانی کو لازم ہیں؛ اسی لیے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: الندم توبۃ (ندامت توبہ ہے) یعنی وہی سچی صادقہ ندامت کہ بقیہ ارکان توبہ کو خود مستلزم ہے، اسی کا نام توبۃ السِرّ ہے۔ دوسرا جانب خلق کہ جس طرح ان پر گناہ ظاہر ہوا ان کے قلوب میں اس کی طرف سے کشیدگی پیدا ہوئی اور معاملات میں اس کے ساتھ گناہ کے لائق انھیں احکام دیے گئے۔ اسی طرح اس توبہ و رجوع

ظاہر ہو کہ ان کے دل اس سے صاف ہوں اور احکام حالت براءت کی طرف مراجعت کریں، یہ توبہ علانیہ ہے۔ توبۂ سِر سےتو کوئی گناہ خالی نہیں ہو سکتا اور گناہ علانیہ کے لیے شرع نے توبہ علانیہ کا حکم دیا ہے۔

علانیہ توبہ کی حکمتیں

پہلی حکمت یہ ہے کہ ہمیں آپس میں صلح و صفائی کے ساتھ رہنے کا حکم ہے۔ یہ گناہ علانیہ توبہ علانیہ پر موقوف کہ جب مسلمان اس کے گناہ سے آگاہ ہوئے، اگر توبہ سے واقف نہ ہوں تو ان کے دل اس سے ویسے ہی رہیں گے جیسےتوبہ سے پہلے تھے۔ دوم جب لوگ اسے برا سمجھے ہوئے ہیں تو اس کے ساتھ وہی معاملات بعد و تنفر رکھیں گے جو اس کے بغیر کے ساتھ درکار ہیں، علی الخصوص بدمذہب لوگ۔ سوم جب یہ واقعہ ثابت ہو گیا اور نبیﷺ نے فرمایا: جس نے گناہ سے توبہ کر لی تو وہ اس کی طرح ہے جس نے گناہ نہیں کیا۔ تو مسلمانوں کے وہ معاملات واقع کی طرف نظر کرتے ہوئے بےجا ہوں گے اور اس بےجا پر خود یہ شخص عامل ہوا کہ اگر اپنی توبہ کا اعلان کر دیتا تو کیوں وہ معاملات رہتے۔ چہارم ایسے گناہوں میں جو بدمذہبی بددینی ہے ایک سخت آفت کا اندیشہ ہے کہ اگر یہ مر گیا اور مسلمانوں پر اس کی توبہ ظاہر نہیں اور بدمذہب کی مذمت اس کے مرنے پر بھی جائز، بلکہ کبھی شرعاً واجب ہے تو اہل سنت اسے برا اور بددین اور گمراہ کہیں گے اور آقاﷺ نے اہل حق مسلمانوں کو زمین میں اللہ عز و جل کا گواہ بنایا ہے، آسمان میں اس کے گواہ ملائکہ اور زمین میں اہل سنت تو ان کی گواہی سے اس پر سخت ضرر کا خوف ہے اور اس میں وہ خود قصور وار ہے کہ توبہ کا اعلان کر دیتا تو ان کے دل صاف ہو جاتے۔

پنجم یہ کہ گناہ علانیہ دوہرا گناہ ہے اس لیے کہ اعلان گناہ دوسرا گناہ ہے، بلکہ اس گناہ سے بھی بدتر گناہ ہے۔ اعلان گناہ پر باعث نفس کہ جرأت و جسارت و سرکشی و بے حیائی ہے اور مرض کا علاج ضد سے ہوتا ہے۔ جب مسلمانوں کے مجمع

میں اپنی ندامت و پشیمانی ظاہر کرےگا اور اپنے قول یا فعل یا عقیدہ کی بدی و شناعت پر اقرار لائےگا تو اس سے جو انکسار پیدا ہو اس سرکشی کی دوا ہوگا۔’’ (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ، جلد سوم)

فقیر مؤلف کہتا ہے کہ ان حکمتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ بدعقیدگی وغیرہ ایسے گناہ ہوتے ہیں جن کا گناہ ہونا ہر ایک نہیں سمجھ پاتا ہے، بلکہ بہت سے لوگ دھوکہ کھاکر اس کے فریب میں آجاتے ہیں اور اس کی بدعقیدگی کو قبول کر لیتے ہیں، بلکہ بہت سے وہ لوگ جو خود کو اہل سنت ہی کہتے ہیں، مگر ایسے لوگوں کی قربت و صحبت یا ان کی بدعتوں کی اشاعت و شہرت سے حق مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اب اگر ایسا شخص بالاعلان توبہ کرتا ہے تو انھیں بھی ہدایت نصیب ہوگی جو ان کے کہنے وغیرہ سے بدعقیدہ ہو گئے نیز جن پر حق مشتبہ ہو رہا تھا ان پر بھی حق واضح ہو جائےگا اور اہل حق کو مزید تائید و تقویت اور ان کے دلوں کو خوشی حاصل ہوگی۔

خیال رہے کہ توبہ کے تعلق سے رفتہ رفتہ بات کافی طویل ہو گئی حالاں کہ لوگوں کے حالات چاہتے ہیں کہ مزید اس پر تفصیل ہو۔ توبہ بڑی اہم چیز ہے، اہل سلوک کو محض گناہوں ہی سے توبہ کی ضرورت نہیں پڑتی ہے، وہ جس نور اور صفاے قلب و قرب کے طالب ہوتے ہیں اس کے لیے ان امور سے توبہ کی ضرورت پڑتی ہے جنھیں علما نے گناہ نہیں کہا مثلاً دل کا یاد خدا سے غفلت برتنا۔ صوفیہ کے یہاں ہر وقت ذکر و یاد کی ضرورت ہے، معمولی غفلت بھی وہ ضرر تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح فساق و فجار وغیرہ کے ساتھ اختلاط و ملاقات اور ان کی صحبتیں دلوں کو مکدر اور آلودہ کرتی ہیں ،حلاوت اور ذوق کو ختم کرتی ہیں۔ باطن میں ان کے آنے سے وہ کیفیتیں نہیں رہتیں جو ہونی چاہیے۔ یہی سالک جوں جوں نیچے سے اوپر کی طرف جاتا ہے اور اس کے یقین و اخلاص میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ سابقہ

منزلوں کی عبادات و اذکار کو حقارت اور قصور کی صورت میں دیکھتا ہے اور وہ اپنی سابقہ عبادتوں سے توبہ کرتا ہے، بڑا مشہور شعر ہے؎

عاصیاں از گنہ توبہ کنندعارفاں از عبادت استغفار

گنہگار گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اہل معرفت عبادت سے۔ اس کا مطلب وہی ہے جو مذکور ہوا۔ اسی طرح کبھی خلاف اولیٰ اور ترک مستحب و سنن غیر مؤکدہ کے ترک پر باطن میں ایسی کدورت اور ظلمت محسوس ہوتی ہےکہ بیان سے باہر ہے۔ کبھی قبض کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور کئی کئی دن تک رہتی ہے، ان سب کی دوا توبہ ہے اور رب جل و علا کی بارگاہ میں تضرع و زاری۔

یہ چند مثالیں عرض کر دیں۔ شیخ کو چاہیے کہ مریدوں میں توبہ کا احساس بڑی کثرت سے پیدا کرے اور ہر گناہ وغیرہ کی توبہ اسی طرح کرائے جیسا کہ علما نے بیان کیا ہے اور مشائخ کے واقعات توبہ وغیرہ سنائے۔ توبہ علانیہ میں نفس پر بہت جبر کرنا پڑتا ہے جو خاص کر آج کے زمانے میں بڑا مشکل ہے۔ اہل حق سے کوتاہیوں کی صورت میں معافی مانگنا اور سب کے سامنے رجوع کرنا اور ان کے اموال واپس کرنا یہ سب کے بس کی بات نہیں، اس کام کے لیے بہت کچھ تیار کرنا پڑتا ہے۔

گناہوں کے اثرات بد

بزرگوں کے کلام سے اخذ کرکے گناہوں کی چند نحوستیں لکھتا ہوں، غور کریں کہ گناہ دنیا و آخرت میں کس قدر خسارہ کا سبب ہے:

(۱)معمولی گناہ کی نحوست طاعت سے محرومی اور حلاوت عبادت کا فوت ہونا ہے، بلکہ جو گناہ کا ارادہ کرتا ہےوہ بھی محروم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی یحیٰ‌علیہ السلام کو قرآن شریف میں ‘‘سید’’ (سردار) بنایا اسی لیے کہ انھوں نے کبھی گناہ کا رادہ بھی نہیں کیا۔

(۲)آدمی برابر گناہ کرے اور بظاہر کوئی نحوست نہ معلوم ہو تو پھر یہ ہوتا ہے

بندہ پر جو حالت بھی آتی وہ اس کی سزا ہوتی ہے۔ اگر زندگی میں کشادگی ہے تو وہی اس کی سزا ہے اور استدراج سے محفوظ نہیں رہتا اور اگر زندگی میں تنگی ہے تو وہی اس کی سزا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ بندہ گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ رزق حرام نیک اعمال کی توفیق کی کمی کی وجہ سے آتا ہے۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعود‌رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکہ میرا گمان یہ ہے کہ بندہ گناہ کی وجہ سےعلم بھول جاتا ہے اور اگر توبہ، علم اور استقامت علی الطاعۃ کی کوئی اور برکت نہ ہو تو کم سے کم یہ ہوتا ہے کہ بندہ کی جو حالت بھی ہوتی ہے وہ اس سے بہتر ہوتی ہے، اگر کشادگی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور لطف و کرم ہے، اور اگر تنگی ہے تو وہ امتحان اور بندہ کے لیے اس کا انتخاب ہے اور وہ اس کی حلاوت و لذت پاتا ہے کیوں کہ وہ اسی کے راستے میں ہے۔

علما کا یہ بھی ارشاد ہے کہ گناہ کی نحوست یہ بھی ہے کہ وہ علما کی مجلسوں اور اہل خیر کی محبتوں سے محروم ہو جاتا ہے اور صالح اور اہل علم اس سے بغض رکھتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں ۔ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسے علم سے محروم ہو جاتا ہے جس کے بغیر عمل کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔

(۳)اہل شام کے ایک صوفی فرماتے ہیں کہ ایک خوبصورت نصرانی لڑکے پر میری نظر پڑی تو رک کر میں اسے دیکھنے لگا، میرے پاس سے ابن جلا دمشقی گذرے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، مجھے ان سے شرم آئی، میں نے کہا: ‘‘سبحان اللہ! مجھے اس خوب صورت چہرےاور اتنی عمدہ خلقت پر تعجب ہو رہا ہے، اسے آگ کے لیے کیسے پیدا کیا گیا ہے، انھوں نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ بعد تم ضرور اس کی سزا پاؤگے۔ فرماتے ہیں : اس کے بعد تیس سال تک میں نے سزا پائی۔

بعض اسلاف فرماتے ہیں کہ میں اپنے گدھے کی سرکشی میں اپنے گناہ کی

سزا پہچان لیتا ہوں۔ کسی نے فرمایا کہ میں اپنی سزا پہچان لیتا ہوں یہاں تک کہ اپنے گھر کی آگ میں۔

حضرت منصور فقیہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ السکری کو خواب میں دیکھا، پوچھا کہ کیا معاملہ ہوا تو فرمایا کہ مجھے اپنے سامنے کھڑا کیا کہ میں پسینے میں ڈوب گیا یہاں تک کہ میرے رخسار کا گوشت گرپڑا، میں نے پوچھا: وہ کیوں؟ فرمایا کہ میں نے ایک لڑکے کو آتے ہوئے اور جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

سزائیں

سزا دراصل شدت و مشقت کا نام ہے۔ لہٰذا ہر بندے کی سزا اس پر ہونے والی شدت ہے۔ چناں چہ اہل دنیا کی سزا رزق دنیا سے محرومی کہ کمانا دشوار ہو جائے اور اموال ضائع ہونے لگیں اور اہل آخرت کی سزا رزق آخرت سے محرومی ہے کہ اعمال صالحہ کی توفیق کم ہو جائے اور علوم صادقہ کا انکشاف دشوار ہو جائے۔

حضرت ابو سلیمان دارانی‌رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھےکہ احتلام ایک سزا ہے اور فرمایا کہ کسی کی جماعت سواے گناہ کے کسی اور وجہ سے فوت نہیں ہوگی۔غرضیکہ سزاؤں کی باریکیاں رفع درجات کے بقدر ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی بندہ میری اطاعت پر اپنی خواہش کو ترجیح دیتا ہے تو سب سے کمتر سلوک یہ کرتا ہوں کہ مناجات کی لذت سے محروم کر دیتا ہوں۔

الغرض گناہ ایک ایسی منحوس شے ہے جس کی نحوستیں اور سزائیں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہیں، گناہ کا اثر طاعت و عبادت پر، جسم پر، دل پر، سب پر پڑتا ہے۔

دنیا کے فوت ہونے کا غم، حرص کی فکر بھی سزاؤں سے ہے۔ اسی دنیا پانے کی خوشی و مسرت کہ دین جانے کی کوئی پرواہ نہ ہو سزا ہے اور دائمی عافیت اور وسعت مال بھی گناہوں کی سزا ہوتی ہے جب کہ یہ دونوں معاصی کے اسباب بن جائیں اور

کبھی ایک گناہ کی سزا اسی جیسے دوسرے گناہ اور اس سے بڑے گناہ میں ہوتی ہے جس طرح نیکی کی جزا اسی جیسی یا اس سے بڑی نیکی میں ہوتی ہے۔ (ماخوذ از قوت القلوب)

توبہ کے تعلق سے مختلف بزرگوں کے یہ مختلف ارشادات بڑی رہنمائی کا سبب ہو سکتے ہیں اور انسان ہمت باندھ لے تو رفتہ رفتہ سارے ہی گناہوں کو چھوڑ سکتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ ان کی تفصیلات سے واقف ہو، گناہوں کے وبال اور ان کی سزائیں جانے تاکہ خوف پیدا ہو اور توبہ پر آمادہ ہو۔ توبہ کے فضائل سے واقفیت بھی ترغیب کے لیے ضروری ہے۔ مختصر یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تفصیل سے واقفیت کافی حد تک گناہوں کی تفصیلات سے آگاہ کر سکتی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی ہی گناہ ہے۔ حقوق الٰہیہ کا اتلاف بھی نافرمانی ہے اور حقوق العباد کا بھی اس کے ساتھ ساتھ توبہ کے ارکان اور مراتب کی جانکاری ضروری ہے کہ اس معاملے میں سالکین و واصلین کی خصلتیں اپنے اندر پیدا کر سکے۔ مزید معلومات کے لیے حضرت امام ابو القاسم قشیری قدس سرہ کے چند ارشادت ملاحظہ فرمائیں:

(۱)عربی زبان میں ‘توبہ’ کے حقیقی معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ چناں چہ جب کوئی شخص کسی بات سے رجوع کرتا ہے تو کہتے ہیں ‘تاب’ لہٰذا توبہ کے معنی ہوئے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے اس سے لوٹ کر قابل تعریف شے کی طرف آجائے۔

(۲)اہل سنت کے واصلین کہتے ہیں کہ توبہ کے صحیح ہونے کی تین شرطیں ہیں:

(الف)جن امور میں شریعت کی مخالفت کی ہے، ان پر ندامت کا اظہار کرنا۔

(ب)اپنی لغزش اور غلطی کو خود ترک کردینا۔

(ج)ارادہ کرنا کہ جو گناہ اس نے کیے ہیں انھیں دوبارہ نہیں کرےگا۔

(۳)توبہ کا پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ خواب غفلت سے بیدار ہو اور اپنی بری حالت کو محسوس کرے۔ جب انسان دل میں برے اعمال و افعال پر غور و فکر کرتا ہےتو توبہ کا ارادہ پیدا ہوتا ہےاور برے اعمال و افعال سے باز رہنے کا خیال آتا ہے۔ جب بندے کی طرف سے یہ ہوتا ہےتو اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے۔ اس طرح توبہ کے اسباب کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔

(۴)توبہ کے اسباب پر عمل کی ابتدا برے دوستوں کی مجلس سے الگ رہنے سے ہوتی ہے کیوں کہ وہی اسے اس ارادہ توبہ کے ترک پر اکساتے ہیں اور ارادہ کی محبت میں شکوک پیدا کرتے ہیں، اس کی تکمیل اسی وقت ہو سکتی ہےجب وہ اس مشاہدہ پر مداومت کرے جو توبہ کی رغبت میں اضا فہ کرتا ہے اور جس بات کا اس نے عزم کیا ہے اس کے پورا کرنے کے لیے ایسے اسباب پیدا کر دیتاہے جن سے اس کے خوف اور رجا کو قوت حاصل ہوتی ہے تب کہیں اس کے دل سے برے اعمال پر اصرار کرنے کی گرہ کھلتی ہے، ممنوع امور کو کرنے سے رک جاتا ہے اور اتباع شہوات سے اپنے نفس کے لگام کو کھینچ لیتا ہے۔ وہ خود اپنی غلطی کو ترک کر دیتا ہے۔

(۵)حضرت استاذ ابو علی دقاق‌رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ توبہ کی تین قسمیں ہیں: اول توبہ، دوم انابت، سوم اوْبَہْ۔ اس تقسیم میں توبہ کو ابتدائی مقام حاصل ہےاور اوبہ کو آخری اورانابت کو درمیانی۔ جس شخص نے سزا کے خوف سے رجوع کیا تو اس کو توبہ کہتے ہیں، جس نے ثواب کی لالچ کی وجہ سے توبہ کی اس کو انابت کہتے ہیں اور جس نے حکم کی پابندی کے خیال سے توبہ کی نہ تو ثواب کی خواہش ہے نہ سزا سے خائف ہوا تو اس کو اوبہ کہتے ہیں۔ یوں بھی کہا جاتا ہے کہ توبہ مومنین کی صفت ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ (سورۃ النور: ۲۴؍۳۱)

ترجمہ: اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب۔’’

انابت اولیا اور مقربین کی صفت ہے، قرآن میں ہے:

وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیۡبِ (سورۃ ق: ۵۰؍۳۳)

ترجمہ: اور رجوع کرتا ہوا دل لایا۔’’

اور اوبہ نبیوں اور رسولوں کی صفت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ (سورۃ ص: ۳۸؍۴۴)

ترجمہ: اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔’’

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے مرید کی تربیت کا مختصر خاکہ تحریر فرمایا کہ پہلے اسے عقائد اہل سنت سکھائے جائیں، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات و اسما و افعال، پھر انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات خاص کر ہمارے آقا و مولیٰﷺ سے متعلق ضروری امور اور حقوق بتائے جائیں، پھر گناہوں سے توبہ، کبیرہ اور صغیرہ گناہ، ان کی تعریفات اور کچھ کبیرہ گناہ کی مندرجہ ذیل تفصیل و تعریف بیان فرمائی ہے۔

کبیرہ گناہ: ‘‘اور حق یہ ہے کہ کبیرہ ہر وہ گناہ ہے جس پر دوزخ یا عذاب شدید کی وعید بیان کی گئی ہو، قرآن میں یا حدیث صحیح میں جو محدثین کے نزدیک معروف ہو یا اس کے مرتکب کو کافر کہا گیا ہو جیسا کہ حدیث میں فرمایا:

جس نے (قصداً) نماز چھوڑی اس نے کفر کیا۔

اور دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان فرق نما ز ہےتو جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا یا کبیرہ وہ ہے جس کے مرتکب پر شریعت میں حد مقرر ہو۔ چناں چہ زنا، چوری، راہزنی اور شراب پینا یا وہ گناہ جو مذکورہ کبائر کے برابر یا برائی میں زیادہ ہو صریح عقل کے حکم میں۔