باب ۳۴ از ۵۴صفحات ۴۰۳–۴۱۳
علامات زہد
حضرت امام قدس سرہ نے زہد کی تین علامتیں ذکر فرمائیں:
۱۔ موجودہ چیز پر خوش نہ ہو اور نہ ہی غیر موجود پر غمگین ہو جیسے ارشاد خداوندی ہے:
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمْ (سورۃ الحدید: ۵۷؍۲۳)
ترجمہ: اس لئے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا۔’’
بلکہ اس کا برعکس ہو یعنی موجود مال پر دکھ ہو اور جو نہیں ملا اس پر خوش۔
۲۔ اس کے نزدیک مدح و ذم دونوں برابر ہوں۔ پہلی مال میں زہد کی علامت ہے اور دوسری جاہ میں۔
۳۔ اللہ تعالیٰ سے انس و محبت ہو اور اس کے دل پر اطاعت خداوندی کی حلاوت اور مٹھاس غالب ہو کیوں کہ دل حلاوت محبت سے خالی نہیں ہوتا یا تو دنیا کی ہوگی یا اللہ تعالیٰ کی اور ان دونوں کا تعلق دل سے ایسا ہوتا ہے جیسے پیالے سے پانی اور ہوا کا۔ جب پانی داخل ہوتا ہے تو ہوا خارج ہو جاتی ہے دونوں جمع نہیں ہوتے۔ جس کو اللہ تعالیٰ سے صحیح محبت ہوگی اسے اس کے غیر سے نہیں ہوگی۔’’
آج صوفیہ کرام کے طریقہ کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نہایت بالغ نظری سے انھوں نے ایک نطام مرتب کیا کہ دلوں کو دنیا و مافیھا کی محبت و رغبت سے کیسے آزاد کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اپنے خالق جل و علا کے حوالے ہو سکیں۔
یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ دنیا کی کوئی چیز نفس کی خواہش اور اس کی منفعت
کے لیے لینا اور چیز ہے اور بطور حاجت لینا اور چیز ہے۔
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: دنیا سے اللہ تعالیٰ کی طرف پھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر کی طرف متوجہ ہو اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان دنیا میں رہے اور رہنے اور بقا کے لیے ضروریات نفس کا ہونا ضروری ہے اور دنیا سے جب تم اسی قدر لوگے کہ بدن سے اس کو ہلاک کرنے والے امور دور کرو اور تمھاری غرض بدن سے عبادت پر مدد لینا ہو تو تم غیر خدا میں مشغول نہیں قرار دیے جاؤگے کیوں کہ جو چیز کسی چیز تک پہنچنے کا وسیلہ ہو وہ اسی سے ہوتی ہے۔ تم اپنے بدن کو کھانا پینا اس لیے دو تاکہ بھوک اور پیاس سے وہ ہلاک نہ ہو جائے، لباس اور رہائش اس لیے مہیا کرو تاکہ ہلاکت خیز گرمی اور سردی سے بچائے۔ پس تم ضرورت کی مقدار پر کفایت کرو اور اسے لذت پہنچانے کا قصد نہ کرو، بلکہ عبادت پر قوت پہنچاؤ۔(ماخوذ)
حسن نیت
حدیث شریف میں فرمایا گیا: إنما الأعمال بالنیات (اعمال کا ثواب نیتوں پر ہے) کوئی بھی عمل بغیر حسن نیت کے قابل ثواب نہیں ہوتا۔ فرائض و واجبات کا ثواب بھی نیت پر موقوف ہے حتیّٰ کہ مباحات بھی حسن نیت سے حسن، قبح نیت سے قبیح ہو جاتے ہیں۔ حسن نیت سے بیوی کے منہ میں لقمہ رکھنا بھی قابل ثواب ہے۔ در اصل اسی نیت کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ نیت میں حسن ہوگا، رضاے الٰہی کا قصد ہوگا تو لذت بھی جو نفس کو حاصل ہوگی بری نہیں۔
حضرت امام قدس سرہ نے اس سوال کا کہ جب آدمی بھوک کی حالت میں ہوتا ہے کھانا کھاتا ہے تو لازمی طور پر اسے لذیذ معلوم ہوتا ہے یعنی یہ زہد کے خلاف ہے، فرماتے ہیں کہ اس سے تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا جب کہ تمھارا مقصد لذت حاصل کرنا نہ ہو کیوں کہ ٹھنڈا پانی پینے والے کو بھی لذت حاصل ہوتی
ہے، لیکن اس کا مقصد تو پیاس کی تکلیف کو زائل کرنا ہے اور جو شخص اپنی حاجت کو پورا کرتا ہے اسے اس سے راحت پہنچتی ہے، لیکن اس کے نزدیک یہ اس کا مقصود و مطلوب نہیں ۔ لہٰذا اس کا دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ انسان بعض اوقات رات کو عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے سحری کی خوش گوار ہوا اور پرندوں کی آواز سے راحت پہنچتی ہے، لیکن اس قسم کی راحت کےلیے کوئی مناسب جگہ تلاش نہ کرے تو کسی قصد کے بغیر جو کچھ اس تک پہنچےگا اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔
اولیاے کرام کا احتیاط
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو ایسی جگہ تلاش کرتے جہاں باد نسیم نہ پہنچے کیوں کہ اس کے ذریعہ پہنچنے والی راحت سے ڈرتے تھے اور انھیں دل کے ساتھ اس کا خطرہ رہتا تھا، انھیں ڈر تھا کہ اس طرح دنیا سے کہیں انس نہ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے انس میں کمی آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت داؤد طائیرحمۃ اللہ علیہ کا ایک ننگا کنواں تھا جس کا پانی دھوپ پڑنے سے گرم ہو جاتا تھا، وہ گرم پانی پیتے اور فرماتے: جو ٹھنڈے پانی کی لذت حاصل کرتا ہے اس کے لیے دنیا کو چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس احتیاط سے کام لینے والے اس طرح ڈرتے تھے۔ ان سب صورتوں میں احتیاط ہی مناسب ہے، کیوں کہ یہ اگرچہ مشکل ہے، لیکن ابدی نعمتوں کے لیے تھوڑی مدت تک پرہیز کرنا اہل معرفت پر بھاری نہیں ہوتا ہے۔ وہ شرعی سیاست کے ساتھ اپنے نفسوں کو مغلوب کرتے ہیں اور دین و دنیا کے درمیان اختلاف کی پہچان کرنے کے لیے یقین کی اس رسی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیںرضی اللہ عنہم۔
احکام زہد
آخر میں زہد کے احکام حضرت امام قدس سرہ کی زبان سے سماعت فرما لیں، فرماتے ہیں کہ زہد کے احکام فرض، نفل اور سلامتی میں تقسیم ہوتے ہیں۔ فرض زہد حرام سے بچنے میں ہے اور نفلی زہد حلال میں ہوتا ہے اور سلامتی شبہات سے اجتناب میں ہے۔ ورع و تقویٰ کے درجات بھی زہد میں داخل ہیں
جن کو تفصیل سے احیاء العلوم کے حلال و حرام کے باب میں آپ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور خفیہ امور کے حوالے سے دیکھا جائے تو ان کی کوئی انتہا نہیں، بالخصوص ریاکاری کے خفیہ امور تو بےشمار ہیں اور ان پر سواے بڑے بڑے علما کے کوئی مطلع نہیں ہو سکتا ہے، بلکہ ظاہری اموال میں بھی زہد کے درجات غیر متناہی ہیں۔ غرضیکہ ظاہری اور باطنی طور پر زہد کے درجات بےشمار ہیں اور سب سے کم درجہ ہر مشتبہ چیز میں زہد اختیار کرنا۔’’ زہد کی مکمل تفصیل کےلیے دیکھیے احیاء العلوم شریف، جلد چہارم۔
توکل (آٹھواں مقام)
فضائل، قرآنی آیات:
۱۔ وَعَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ (سورۃ المائدہ: ۵؍۲۳)
ترجمہ: اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔
۲۔ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ (سورۃ ابراہیم: ۱۴؍۱۲)
ترجمہ: اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔
۳۔ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ (سورۃ الطلاق: ۶۵؍۳)
ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
۴۔ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیۡنَ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۵۹)
ترجمہ: بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
یہ چند آیات ہیں جن سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ سچے مومن ہونے کی خصلت اللہ پر توکل ہے نیز جسے بھروسہ اور توکل کرنا ہے وہ اللہ ہی پر کرے، اللہ پر توکل ہر مشکل کا حل ہے۔ پھر یہ کتنی بڑی دولت ہے کہ اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ اللہ محبت کرے۔
۱۔ حضرت ابن عباسرضی اللہ عنہما راوی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے، جو ایسے ہوں گے ان کی صفت یہ ہے: ھم الذین لا یسترقون ولا یتطیرون و علیٰ ربّھم یتوکلون (جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے، فال کے لیے چڑیا نہیں اڑاتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں)
حدیث کے ان الفاظ کی شرح کرتےہوئے حضرت ملا علی قاریرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ جو اللہ ہی پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں اس تمام میں جو وہ کرتے ہیں اور جو چھوڑتے ہیں ۔ حضرت علامہ عینیرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دونوں جمع ‘لایسترقون و لا یتطیرون’ کے درمیان جمع کرنا چوں کہ اس نشانی سے ہیں جن سے استیعاب مراد لیا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے ‘‘لاینفع زید و لا عمرو’’ اس کا معنی ہوتا ہے کہ کوئی بھی انسان نفع نہیں پہنچا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ کسی بھی معاملے میں کوئی دنیوی اسباب اختیار نہیں کرتے۔
صاحب النہایہ نے فرمایا کہ یہ ان اولیا کی صفت ہے جو دنیا کے اسباب اور اس کے عوائق سے ایسا اعراض کرتے ہیں اور منہ پھیرتے ہیں کہ اس کے علائق و متعلقات کی طرف بالکل التفات نہیں کرتے۔ یہ خواص کا درجہ ہے جہاں تک ان کا غیر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن عوام تو ان کے لیے دوا و علاج اور جھاڑ پھونک وغیرہ کی رخصت ہے اور جس نے پرہیز کیا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی کشادگی چاہی دعا کے ذریعہ تو وہ بھی خواص اور اولیا سے ہے اور جس نے صبر نہیں کیا تو اس کے لیے جھاڑ پھونک اور دوا کی رخصت ہے۔
اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ آقاﷺ نے یہ فرمایا تو حضرت عکاشہ ابن محصن کھڑے ہو گئے، عرض کیا: یا رسول اللہﷺ، اللہ سے دعا کر دیں کہ ہمیں
انھی (ستر ہزار) سے بنا دے، آپ نے دعا فرمائی: اللھم اجعلہ منھم (اے اللہ عکاشہ کو انھی سے بنا دے) پھر دوسرے صاحب نے کھڑے ہوکر اپنے لیے دعا چاہی، آقاﷺ نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔(بخاری و مسلم)
حدیث کتنی صاف و صریح ہے کہ سب لوگ یکساں نہیں ہیں، اعتماد میں مختلف منزلیں ہیں، احکام بھی سب جدا جدا ہیں۔ حضرت ملا علی قاری علیہ رحمت الباری نے اسی مقام پر بیان فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال صدقہ کر دیا تو حضورﷺ نے کچھ ملامت نہ کی اور ایک دوسرے صاحب کو کچھ مقدار سونا لانے پر ملامت کی ہے۔
۲۔ حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آقاﷺ کو میں نے سنا کہ فرماتے تھے کہ اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا کہ اس کا حق ہے تو وہ تمھیں اس طرح روزی دےگا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے ہوتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہوکر لوٹتے ہیں۔(ترمذی و ابن ماجہ)
۳۔حضرت عمرو ابن العاصرضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ انسانی دل کے ہر جنگل میں ایک شاخ ہے تو جو اپنے دل کو ان تمام شاخوں کے پیچھے ڈال دے اللہ پرواہ نہیں کرےگا کہ کس جنگل میں ہلاک کردے اور جو اللہ پر توکل کرے اللہ اسے گھاٹیوں سے بچائےگا۔
۴۔حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے کہا: ایک ، مرد اپنے گھر والوں کے پاس گیا، جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا، جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی، اسے رکھا اور تنور کی طرف گئی، اسے جھونک دیا، پھر بولی: اے اللہ ہمیں روزی دے تو اس نے دیکھا کہ پیالہ بھر گیا ہے اور وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا۔ فرماتے ہیں: پھر شوہر لوٹا تو کہا: کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا، اس کی عورت نے کہا: ہاں، اپنے رب کی طرف سے، اور وہ شخص چکی کی طرف
کھڑا ہوا۔ یہ واقعہ نبیﷺ سے عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یقیناً اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو وہ چکی قیامت تک گھومتی رہتی۔(احمد)
صاحب مشکات نے باب توکل و صبر میں یہ واقعہ بیان کیا۔معلوم ہوا توکل کرنے والوں کو بلا اسباب غیب سے روزی ملتی ہے۔
۵۔ آپﷺ فرماتے ہیں: جو شخص سب سے تعلق توڑ کر اللہ تعالیٰ سے رشتہ جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر مشقت میں کفایت کرتا ہے (اور ضرورتوں کو پورا کرتا ہے) اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جس جگہ کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص دنیا کا ہو رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے سپرد کر دیتا ہے۔(شعب الایمان)
۶۔ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مالدار ہو جائے تو اسے اپنے پاس موجود مال کے مقابلے میں اس چیز پر زیادہ اعتماد ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
معنی و حقیقت
لفظ توکل ‘وکل’ یا ‘وکول’ سے بنا ہے جس کے معنی ہیں اپنا کام دوسرے کے سپرد کر دینا، اسی سے تکلان ہے۔ شرع میں توکل نام ہے اپنے کاموں کو خدا کے حوالے کرنے کا۔ توکل دو قسم کا ہے۔ (۱)توکل عوام، اسباب پر عمل کرکے نتیجہ خدا کے حوالے کر دینا (۲)توکل خواص، اسباب چھوڑ کر مسبب الاسباب پر نظر کرنا۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ توکل ایمان کا ایک باب ہےاور ایمان کے تمام ابواب علم، حال اور عمل سے بنتے ہیں، اسی طرح توکل بھی۔ علم اصل ہے، عمل نتیجہ ہے اور حال سے مراد خود توکل ہے۔
معلوم ہو کہ توکل کی تعریف اور حقیقت میں بزرگوں کے بہت اقوال ہیں جیسے زہد وغیرہ میں ہیں۔ حضرت امام قدس سرہ کے نزدیک ہر ایک نے اپنے ذاتی
مقام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے توکل کی تعریف کی ہے جس طرح کہ اہل تصوف کی عادت ہے۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں: اگر کشف یا پختہ عقیدے کے ذریعہ تمھارے دل میں یہ ثابت ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی فاعل نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ تمھارا یہ اعتقاد بھی ہو کہ وہ بندوں کی کفایت کے لیے مکمل علم اور قدرت رکھتا ہے، پھر اس کا لطف و عنایت اور رحمت تمام بندوں کو اجتماعی اور انفرادی طور پر شامل ہے اور اس کی قدرت سے بڑھ کر کوئی قدرت نہیں اور نہ ہی اس کے علم کے اوپر کوئی علم ہے۔ اسی طرح اس کی عنایت و رحمت سے بڑھ کر کوئی رحمت و عنایت نہیں تو لا محالہ تمھارا دل صرف اسی ذات پر توکل کرےگا اور دوسرے کی طرف بالکل توجہ نہیں کرےگا، بلکہ اپنی ذات و قوت پر بھی نظر نہ کرےگا۔
درجات توکل:
۱۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی کفالت و عنایت کے سلسلے میں اس کا حال وہی ہو جو دلیل پر اعتماد کا ہوتا ہے۔
۲۔دوسرا درجہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی حالت اس طرح ہو جس طرح بچے کی اس کی ماں کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ اس کے سوا نہ کسی کو جانتا ہے نہ ہی کسی دوسرے سے فریاد کرتا ہے اور اسی پر اعتماد کرتا ہے، جب دیکھتا ہے اس سے لپٹ جاتا ہے اور کسی حال میں چھوڑتا نہیں، اگر ماں کی عدم موجودگی میں کوئی بات اسے پیش آتی ہے تو اس کی زبان پر سب سے پہلے ماں ہی کا نام آتا ہے۔
۳۔ درجہ سوم جو سب سے اعلیٰ ہے وہ یہ کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنےایسے ہو جیسے مردہ بدست غسّال،وہ یقین رکھے کہ مجھے قدرت ازلیہ حرکت دے رہی ہے، یہ وہ شخص ہے جسے یقین ہے کہ حرکت دینے والا قدرت، ارادے، علم اور دیگر تمام صفات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
اب رہ گئی یہ بات کہ ان احوال میں بندے کے ساتھ تدبیر و اسباب کا تعلق باقی رہتا ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تیسرا درجہ تو تدبیر کی بالکل نفی کرتا ہے جب تک یہ حالت باقی ہو، بلکہ ایسا آدمی حیران و پریشان شخص کی طرح ہوتا ہے۔ اور دوسرے درجے میں تدبیر کی تو نفی ہوتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنا اور سوال کرنا باقی رہتا ہے جیسے بچہ اپنی ماں سے تعلق رکھتا ہے۔ اور پہلے درجے میں تدبیر و اختیار کی بالکلیہ نفی نہیں ہوتی ہے جیسے کوئی مؤکل شخص اپنے مقدمات میں وکیل پر توکل کرتا ہے، لیکن وکیل جس تدبیر کی طرف اشارہ کرے اسے اپناتا ہے اور اختیار کرتا ہے یا اسے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وکیل کی عادت ہے اور وہ واضح اشارہ نہیں کرتا ہے۔
چار اہم امور
بندے کی جملہ حرکات کا مقصود یا تو حصول نفع ہوگا یا خود کو نقصان سے بچانا یا ضرر کو دور کرنا۔ ان چاروں امور میں توکل کے شرائط اور درجات ہیں جو شرعی دلائل کے ساتھ مزین ہیں۔
امر اول
یعنی بفع حاصل کرنا، خیال رہے کہ اس کے اسباب تین درجات پر ہیں یا تو قطعی و یقینی ہوں گے یا ظن غالب جن پر اعتماد کیا جاتا ہے یا موہوم ہوں گے یعنی ان کا صرف وہم ہوگا جس پر نفس مکمل اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی مطمئن ہوتا ہے۔ پہلا درجہ جو قطعی ہے ان اسباب کے مثل ہے جن کے ساتھ مسببات اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت کے ساتھ اس طرح وابستہ اور مربوط ہیں کہ وہ رابطہ ہمیشہ قائم رہتا ہے جیسے کھانا سامنے رکھا ہو اور تم بھوکےہو، کھانے کی حاجت ہے،لیکن تم اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے، بلکہ کہو کہ میں تو متوکل ہوں، اللہ پر توکل ہے اور توکل کی شرط ہے کہ حرکت اور کوشش چھوڑ دی جائے۔ اسی طرح چبانا اور دونوں جبڑوں کو ملانا اور پھر نگلنا بھی ایک کام ہے اور یہ توکل کے خلاف ہے۔’’
تو ایسا سوچنا محض پاگل پن ہے، توکل کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر تمھارے
ذہن میں یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ روٹی کے بغیر سیر کر دےگا یا روٹی خود اٹھ کر تمھارے منہ تک آجائےگی یا کسی فرشتے کو حکم دےگا کہ روٹی اس کے منہ تک پہنچا دو۔ ایسا سوچنا اس بات کی دلیل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے طریقے سے ناواقف ہو۔
اسی طرح تم زمین میں کچھ بوؤ نہ اور طمع رکھو کہ بغیر بیج کے سبزی حق تعالیٰ اگائےگا یا ہم بستری کے بغیر تمھاری بیوی بچہ جنےگی تو یہ سب باتیں خلاف عقل ہیں، اس طرح کی باتیں بے شمار ہیں۔ اس مقام پر توکل عمل کے ساتھ نہیں،بلکہ حال اور علم کے ساتھ ہوتا ہے۔ علم یہ کہ بندہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانا، ہاتھ،دانت اور قوت و حرکت پیدا فرمائی ہے اور وہی تمھیں کھلاتا اور پلاتاہے اور حال کا مطلب یہ کہ تمھارا دل اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے اور اسے اطمینان و سکون ہو، ہاتھ اور کھانے پر نہ ہو۔ ہاتھ پر اعتماد ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ بعض اوقات وہ خشک ہو جاتا ہے، فالج کا شکار ہو جاتا ہے اور طاقت پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں جب کہ بعض اوقات عقل زائل ہو جاتی ہے جس سے قوت و حرکت بھی باطل ہو جاتی ہے یا کھانے کے وجود پر کیسے اعتماد ہو سکتا ہے جب کہ تم پر کوئی غالب آجائے یا موذی و مہلک جانور جیسے سانپ وغیرہ آجائے تو کھانا چھوڑ کر بھاگ جانا پڑے۔
دوسرے وہ اسباب جو یقینی نہیں، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ مسببات ان کے بغیر حاصل نہیں ہوتے جیسے وہ شخص جو شہروں اور قافلوں سے دور ہو جائے اور ایسے جنگل میں سفر کر رہا ہو جہاں لوگوں کی آمد و رفت بہت کم ہو اور وہ ایسے سفر میں زاد راہ ساتھ نہ لے تو یہ توکل نہیں ہے، بلکہ سلف کا طریقہ یہ تھا کہ وہ سفر میں زاد راہ لے جاتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ ہو، سامان سفر پر نہ ہو تو ایسی صورت میں سامان ساتھ لے جانے میں توکل زائل نہیں ہوتا اور اگر لے جائے تو یہ بھی جائز ہے اور یہ توکل کا اعلیٰ مقام ہے۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ ایسے اسباب اختیار کرے جن کے بارے میں وہم ہو کہ یہ
مسببات تک لے جاتے ہیں ، ظاہر پر اعتماد نہیں ہوتا جیسے مال حاصل کرنے کے لیے باریک تدابیر اختیار کرنا۔ یہ متوہم اسباب اختیار کرنا توکل کے تمام درجات سے بندے کو خارج کر دیتا ہے، ایسا شخص کسی بھی مرحلے میں توکل کرنے والا شمار نہ ہوگا۔ عام لوگوں کا یہی حال ہے یعنی وہ لوگ جو جائز مال جائز طریقے سے باریک حیلوں سے حاصل کرتے ہیں اور مال کو ایسے طریقے سے لینا جو شبہہ والا ہے یعنی اس کا حلال و حرام ہونا مشتبہ ہے تو مال یا اس کے طریقہ حصول کے مشتبہ ہونے کی صورت میں مال لینا انتہائی حریص ہونے کی علامت ہے اور اسباب پر مکمل اعتماد کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس صورت میں توکل باطل ہے۔