مواد پر جائیں

باب ۲۸ از ۵۴صفحات ۳۴۰–۳۵۱

فقرا کی فضیلت

۱۔حضرت ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کونینﷺ نے فرمایا: بہت سے پراگندہ بال دروازوں سے بھگائے ہوئے اگر اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دے۔ (مسلم)

حضرت مفتی احمد یار خاں نعیمی‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس فرمان عالی کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بندہ اگر اللہ تعالیٰ کو قسم دے کہ کوئی چیز مانگے کہ خدایا تجھے قسم ہے اپنی عزت اور جلال کی یہ کر دے تو رب تعالیٰ ضرور کر دے۔ یہ ہے بندے کی ضداپنے رب پر۔ دوسرے یہ کہ اگر وہ بندہ خدا کے نام پر قسم کھا کر لوگوں کو خبر دے دے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری کر دے۔ مثلاً وہ کہہ دے کہ خدا کی قسم تیرے بیٹا ہوگا یا رب کی قسم آج بارش ہوگی تو رب تعالیٰ اس کی زبان سچی کرنے کے لیے یہ کر دے۔ بعض لوگ بزرگوں کی زبان سے کچھ کہلواتے ہیں، حضور کہہ دو بیٹا ہوگا، کہہ دو کہ تو مقدمہ میں کامیاب ہوگا۔ اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ (از اشعۃ اللمعات)

۲۔ حضرت مصعب ابن سعد سے مروی، فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے سمجھا کہ انھیں اپنے سے نیچوں پر بزرگی ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے کمزوروں کی ہی برکت سے مدد کیے جاتے ہو اور روزی دیے جاتے ہو۔ (بخاری)

خیال رہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ مالدار بھی تھے اور بڑے سخی و بہادر بھی۔ ایک دفعہ انھیں خیال آیا کہ میں فلاں فقیر مہاجر صحابی سے افضل ہوں تب حضورﷺ نے ان سے یہ فرمایا۔

حضرت ملاّ علی قاری مکی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: فھم بمنزلۃ الأقطاب و الأوتاد لثبات البلاد و العباد

پس وہ ضعفا بندوں اور شہروں کے ثبات و قرار کے لیے اقطاب و اوتاد کے منزل میں ہیں۔ آگے فرماتے ہیں: اس کا ماحصل یہ کہ دشمنوں پر مدد اور مالداروں کے رزق کی توسیع فقرا کی برکت سے ہے۔ پس ان کا اکرام کرو اور ان پر تکبر نہ کرو۔ پس وہی محبت کے اہل سلوک ہیں اور جنت کے بادشاہ ہیں اعلیٰ عزت میں۔

۳۔ حضرت اسامہ بن زید‌رضی اللہ عنہ سے مروی، رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں داخل ہونے والے عام طور پر مسکین لوگ تھے اور مالداروں کو روک دیا گیا تھا۔ علاوہ اس کے اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا حکم دیا گیا تھا اور میں دوزخ کے درووازے پر کھڑا ہوا تو عام طور پر اس میں داخل ہونے والی عورتیں تھیں۔ (بخاری و مسلم)

۴۔ حضرت ابن عباس‌رضی اللہ عنہما راوی، رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانکا تو میں نے دیکھا کہ اکثر اہل جنت فقرا تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو دیکھا اکثر اہل دوزخ عورتیں تھیں۔ (بخاری و مسلم)

۵۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر‌رضی اللہ عنہما سے مروی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

فقرا مہاجرین قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم)

حضرت ملاّ علی قاری‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ کہ فانی نفع والے اموال و مناصب عرصات محشر روکے جائیں گے کیوں کہ ان کا حساب طویل ہوگا ۔ مناصب میں ان کے مالوں کی کثرت اور ان کے جاہ (منصب) کی توسیع اور ان لوگوں کے ان دونوں کے ذریعہ لذتیں حاصل کرنے اور شہوات نفس و ہویٰ کے موافق تمتعات کے سبب سے کیوں کہ دنیا کے حلال کے لیے حساب ہے اوراس کے حرام کے لیے عقاب ہے اور فقرا اس سے بری ہیں۔ لہٰذا ان سے نہ حساب ہوگا نہ وہ روکے جائیں گے، بلکہ مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ در اصل بدلہ ہے اس کا کہ انھوں نے دنیا میں حظوظ و تمتعات حاصل نہیں کیے۔’’

یہ بھی دھیان رہے کہ اس حدیث میں چالیس سال ہے جب کہ ترمذی کی روایت میں ہے کہ فقرا مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان احادیث کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن مومنوں کو فقر و فاقہ یا تنگ دستی کی زندگی ملتی ہے یا دنیوی منفعتیں کم ملتی ہیں اور ان کی گذر اوقات کفاف اور بقدر ضرورت مال پر ہوتی ہے، تو ان کا آخرت میں حصہ بہت زیادہ ہوگا۔

حضرت مجدد قدس سرہ نے بڑی وضاحت سے یہ بیان فرمایا ہے کہ جس قدر دنیا زیادہ حاصل ہوتی ہے اسی قدر آخرت سے حصہ کم ہوتا ہے۔ پھر غور کرنے کا مقام ہے کہ دنیا میں مالداری اور عیش و تنعم کے باوجود ہزاروں غم لگے ہوتے ہیں، پتا نہیں کب یہ نعمتیں چھن جائیں، کب زندگی کی شام ہو جائے، کب کیا بیماری لگ جائے کہ اسباب تنعم کے ہوتے ہوئے بھی انسان لذیذ ماکولات و مشروبات سے محروم ہو جائے، نرم نرم اور گرم گرم بستر اس کے لیے درد و الم کا سبب بن جائیں ۔ پھر اس کے ساتھ کہیں اولاد کے مختلف غم، کہیں نافرمانی کا، کہیں دیگر بیماری کا،

کہیں شادی بیاہ کا، کہیں کسی کام کہیں کسی کا، کہیں بیوی کا، کہیں اعدا اور دشمنوں کا، کہیں کاروبار کے اتار چڑھاو کا، کہیں اس کی ترقی اور توسیع کا۔

الغرض ہر ذی شعور ان چیزوں کو جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مالداروں کو تمام عیش و تنعم کے باوجود کس قدر آلام و مصائب اور غموں کا سامنا رہتا ہے۔ ہر وقت دل دکھی رہتے ہیں۔ شب و روز تفکرات کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے مقابل جنت کا عیش و تنعم بالکل غموں سے پاک، راحت ہی راحت، مسرت ہی مسرت، خوشی ہی خوشی، تنعم ہی تنعم، عیش ہی عیش ہے۔ نہ کوئی محنت نہ مشقت، نہ کمائی کی فکر، نہ گھاٹے کا خیال، نہ اہل و عیال کا حزن، نہ اعدا کا خوف۔ اس دنیوی زندگی کواس جنتی زندگی سے کوئی نسبت ہی نہیں۔

پھر یہ توسع و تنعم یا عیش پرستی جو غفلت اور فسق و فجور اور حرام خوریوں اور حرام کاریوں تک لے جاتی ہے اور جس اسراف کا شکار بناتی ہے اس کا عذاب الگ اور نعمتوں کا حساب جدا۔ پھر یہ بھی دھیان رہے کہ بات صرف پانچ سو سال تک عرصات قیامت میں روکے جانے اور جنت میں تاخیر سے جانے کی نہیں۔ اس سے پہلے برزخی زندگی کی کتنی پرخطر گھاٹیاں ہیں قبر کے ہولناک اور درد ناک حالات سے گذرنا پڑتا ہے۔ الامان، الحفیظ۔ آپ گہرائی سے دیکھیں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ فقر میں سلامتی ہی سلامتی ہے اور غنا میں خطرہ ہی خطرہ۔

حضورﷺ کی دعا:

۶۔ حضرت انس‌رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبیﷺ نے عرض کیا: اللھم أحْیِنِی مسکیناً و اَمِتْنِی مسکیناً و احْشُرْنِی فی زُمْرَۃِ المَسَاکِین

اے اللہ مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین ہی وفات دے اور مسکینوں کے گروہ میں حشر نصیب کر۔ حضرت انس نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ یہ کیوں؟ فرمایا کہ مساکین جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔ اے عائشہ!

مسکین کو خالی نہ پھیرو اگرچہ کھجور کی قاش ہی دے دو، اے عائشہ مسکینوں سے محبت کرو، انھیں قریب رکھو تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں تمھیں قریب کر ے۔ (ترمذی، بیہقی)

۷۔ حضرت ابو دردا‌رضی اللہ عنہ سے مروی، نبیﷺ نے فرمایا: مجھےاپنے کمزوروں میں تلاش کرو، تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے ہی روزی اور فتح دیے جاتے ہو۔

۸۔ حضرت اسید بن خالد حضورﷺ سے راوی کہ آقاﷺ فقرا مہاجرین کے توسل سے فتح مانگتے تھے۔ (شرح سنہ)

۹۔ حضرت ابو ذر غفاری‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے میرے محبوبﷺ نے سات چیزوں کا حکم دیا۔ مجھے مسکینوں سے محبت اور ان سے قرب کا حکم دیا ہے، اور مجھے حکم دیا کہ اپنے سے ادنیٰ اور کمتر کو دیکھوں اور اپنے سے اوپر کو نہ دیکھوں، اور مجھے حکم دیا کہ رشتوں کو جوڑوں اگرچہ وہ رشتہ دور کا ہو، اور مجھے حکم دیا کہ کسی سے کچھ نہ مانگوں، اور مجھے حکم دیا کہ حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو اور مجھے حکم دیا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور مجھے حکم دیا کہ لاحولَ وَ لا قوۃَ إلا باللہ کثرت سے کہا کروں کیوں کہ یہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے۔

۱۰۔ حضرت معاذ ابن جبل‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جب انھیں یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم عیش پسندی سے بچنا کیوں کہ اللہ کے بندے عیش و عشرت میں مشغول نہیں ہوتے۔ (امام احمد)

۱۱۔ حضرت علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا تو اللہ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوگا۔ (بیہقی)

اللہ تعالیٰ کس بندے سے محبت کرتا ہے:

۱۲۔ حضرت عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں

کہ اللہ تعالیٰ بال بچوں والے غریب مسلمان سے بہت محبت فرماتا ہے۔

۱۳۔ حضرت زید ابن اسلم‌رضی اللہ عنہ راوی کہ حضرت عمر‌رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایسا پانی لایا گیا جو شہد سے مخلوط تھا، فرمایا: یہ بہت اچھا ہے، مگر میں اللہ عز و جل کو سن رہا ہوں کہ اس نے لوگوں پر ان کی خواہشات سے عیب لگائے کہ فرمایا:

اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا (سورۃ الاحقاف: ۴۶؍۲۰)

ترجمہ: تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے۔’’

میں ڈرتا ہوں کہ ہماری نیکیاں جلدی سے دے دی گئی ہوں۔ چناں چہ آپ نے وہ نہ پیا۔ (رزین)

دنیا اور اس کی زندگی:

۱۔ اَللہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ ؕ وَفَرِحُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ (سورۃ الرعد: ۱۳؍۲۶)

ترجمہ: اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور تنگ کرتا ہے اور کافر دنیا کی زندگی پر اترا گئےاور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا۔’’

۲۔ مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ (سورۃ النحل: ۱۶؍۹۶)

ترجمہ: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے۔’’

آگے ارشاد ہے:

اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔ جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مسلمان ہو تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گےاور ضرور انھیں ان کا نیگ دیں گے جو ان کے سب

سے بہتر کام کے لائق ہو۔’’

۳۔ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (سورۃ الکہف: ۱۸؍۷)

ترجمہ: بیشک ہم نے زمین کا سنگار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انھیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں۔’’

سورہ یونس میں ہے:

پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جگہ دی تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔’’

۴۔ وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۶۴)

ترجمہ: اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچّی زندگی ہے کیا اچھا تھا اگر جانتے۔’’

۵۔ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوۡعَدُوۡنَ ۙ لَمْ یَلْبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنۡ نَّہَارٍ (سورۃ الاحقاف: ۴۶؍۳۵)

ترجمہ: گویا وہ جس دن دیکھیں گے جو انھیں وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر۔’’

۶۔ اِعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ (سورۃ الحدید: ۵۷؍۲۰)

ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمھارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا۔’’

۷۔ اَلْمَالُ وَ الْبَنُوۡنَ زِیۡنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚ وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیۡرٌ عِنۡدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ اَمَلًا (سورۃ الکہف: ۱۸؍۴۶)

ترجمہ: مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمھارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی۔’’

دنیا کی حقیقت اور اس فانی زندگی اور بے ثباتی و ناپائداری اور کس طرح لوگ اس کے دھوکے میں رہتے ہیں نیز اس سے محبت کرنے والوں کا انجام وغیرہ، پھر اس کی مختلف مثالوں کے ذریعہ وضاحت وغیرہ اس قدر قرآن پاک میں بیان ہوئی کہ اگر سب کو جمع کیا جائے تو مضمون کافی طویل ہو جائےگا۔ مذکورہ بالا چند آیتوں پر ہی غور و خوض نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے بہت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کس لیے بھیجا، جو کچھ روئے زمین پر ہے اس کے دل فریب نظارے کس مقصد کے لیے ہیں۔ یہ صرف کھیل کود کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بے ثبات ہے، بے قرار ہے، قرار و ثبات صرف آخرت کے لیے، دار القرار، دار الحیوان آخرت ہے، آنکھ بند ہوتے ہی اس کا حال معلوم ہو جائےگا۔ اور جو آخر میں سورۃ الحدید کی آیت کریمہ ذکر کی اس نے بڑی تفصیل سے دنیا کی حقیقت بیان کر دی، آپ غور کر لیں کہ حیات دنیا انھی امور کے محوَر پر گھوم رہی ہے اور ہر دنیادار کے سامنے یہی امور ہیں۔

چند احادیث کریمہ بھی ملاحظہ ہوں:

۱۔ حضرت مستورد ابن شداد‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے آقاﷺکو فرماتے سنا: خدا کی قسم! آخرت کے مقابلے دنیا نہیں ہے، مگر ایسی جیسے تم میں کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے کہ انگلی کتنے پانی کے ساتھ سمندر سے لوٹتی ہے۔ (مسلم)

مرأۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: یہ بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ فانی اور متناہی کو باقی غیر فانی غیر متناہی سے وہ نسبت بھی نہیں جو بھیگی انگلی کی تری کو سمندر سے ہے۔

۲۔ حضرت جابر‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک بھیڑ کے مرے بچے پر گذرے تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ پسند کرےگا کہ یہ اسے ایک درہم کے بدلے ملے، صحابہ نے عرض کیا: ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے، فرمایا: اللہ کی قسم، دنیا اللہ کو اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جیسے یہ تمھارے نزدیک۔ (مسلم)

۳۔ حضرت ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی، داناے غیوبﷺ فرماتے ہیں: آگ (جہنم) خواہشات سے گھیر دی گئی ہے اور جنت تکالیف سے گھیر دی گئی ہے۔ (بخاری و مسلم)

مطلب یہ کہ جس قدر خواہشات پر عمل ہوگا اسی قدر جہنم سے قریب ہوتا چلا جائےگا اور جس قدر نفس کے خلاف طاعات و عبادات اپنائےگا اسی قدر جنت کے قریب ہوتا جائےگا۔

۴۔ انھی سے مروی، آقاﷺ فرماتے ہیں: ہلاک ہوجائیں دنیا کے بندے، روپے پیسے کا بندہ اور اعلیٰ کپڑوں کا بندہ، اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے۔ (مختصراً بخاری)

۵۔ حضرت ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے رسول کونینﷺ نے فرمایا کہ اپنے بعد جن چیزوں سے تم پر خوف کرتا ہوں وہ دنیا کی تر و تازگی، دنیا کی زینت ہے جو تم پر کھول دی جائےگی، تو ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ کیا خیر بھی شر لاتی ہے تو حضورﷺ خاموش رہے حتیّٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر حضورﷺ نے اپنے سے پسینہ پونچھا، فرمایا: سائل کہاں ہے؟ گویا حضورﷺ نے ان کی تعریف فرمائی، پھر فرمایا: خیر شر کو نہیں لاتی ہے جسے بہار اگاتی ہے۔ اس میں سے بعض وہ ہے جو پیٹ پھلاکر ہلاک کر دیتی ہے یا بیمار کر دیتی ہےسواے اس جانور کے جو سبزہ کھائے تو اس کی کوکھیں تن جائیں تو

دھوپ میں آجائے تو لوٹے لوٹے پیشاب کرے۔ پھر لوٹ جائے اور کھائے اور یقیناً یہ مال ہرا بھرا میٹھا ہے تو جو اسے اس کے حق سے لے اور اس کے حق میں خرچ کرے تو وہ اچھا مددگار ہے اور جو اسے ناحق لے وہ اس کی طرح ہے جو کھالے اور سیر نہ ہو۔ یہ مال اس کےخلاف قیامت کے دن گواہ ہوگا۔’’(بخاری و مسلم)

حضرت مفتی احمد یار خاں‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ نہایت نفیس مثال ہے کہ جنگل کا سبزہ اللہ کی نعمت ہے، مگر جو گاے اسے ہوس کے ساتھ کھاتی جائے، بس ہی نہ کرے تو بیمار پڑ جاتی ہے، اسے سبزہ نے بیمار نہ کیا، بلکہ اس کی ہوس نے اسے مصیبت میں ڈال دیا۔ یوں ہی جو شخص کبھی دنیا سے سیر نہ ہو، حرام و حلال میں تمیز نہ کرے، جو ملے قبضہ کر لے، اللہ کی عبادت کے لیے فارغ نہ ہو، ہر وقت دنیا طلبی میں سرگرداں رہے ظاہر ہے کہ وہ ہلاک ہوگا۔

یہی مفتی صاحب فرماتے ہیں۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ غنیمتیں؛ دولت و عزت وغیرہ خیر ہی ہوگی، مگر اندیشہ یہ ہے کہ تم اس خیر کو غلط استعمال کرکے اپنے لیے وبال بنا لو، خیر ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے، مگر اس کا غلط استعمال شر کا باعث ہوتا ہے۔

۶۔ حضرت عمرو بن عوف‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خدا کی قسم، میں تم پر فقیری سے نہیں ڈرتا، میں تم پر ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر پھیلا دی جائےگی جیسے تم سے پہلے والوں پر پھیلا دی گئی تھی تو تم اس میں راغب ہو جاؤگے جیسے وہ لوگ راغب ہو گئے تھے اور دنیا تمھیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دےگی جیسے انھیں ہلاک کر دیا۔(بخاری و مسلم)

سچ فرمایا عالم ماکان و مایکونﷺ نے۔ امت پر جو خطرہ تھا وہ آج ہمارے سامنے ہے۔ دنیا کی طرف میلان و رغبت اور اس کی محبت نے امت کو دونوں طرح پیچھے کر دیا؛ آخرت کے لحاظ سے بھی اور دنیوی عزت و وجاہت اور حکومت و ثروت

کے لحاظ سے بھی۔ حکومتیں چھن گئیں، شوکت چلی گئی، بس ذلت و رسوائی ہی دامن میں رہ گئی۔ دنیا کی رغبت و محبت کے باوجود اس میں بھی اس قدر کسی بھی میدان میں اتنے کامیاب نہ ہو سکے جتنا کہ دوسرے کامیاب ہیں۔

۷۔ حضرت عمرو ابن میمون‌رضی اللہ عنہ راوی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خبردار! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب ملعون ہے سواے ذکر الٰہی کے اور ان چیزوں کے جو رب کے قریب کر دے اور عالِم کے اور طالب علم کے۔(ترمذی و ابن ماجہ)

۸۔ حضرت سہل ابن سعد‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اس سے کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا۔(احمد، ترمذی و ابن ماجہ)

۹۔ حضرت ابن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ باغات و کھیت نہ اختیار کرو ورنہ تم دنیا میں راغب ہو جاؤگے۔(ترمذی و بیہقی)

۱۰۔ حضرت ابو موسیٰ‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچا لیتا ہے تو جو باقی رہنے والی ہے اسے فانی پر اختیار کرو۔(احمد، بیہقی)

اسی سے ملتا جلتا اس حدیث کا مفہوم ہے جو بزرگوں نے اپنی کتابوں میں بیان فرمایا کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی سوتن ہیں، اگر ایک راضی تو دوسری ناراض۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے جو کامل طور پر آخرت کو طلب کرتا ہے تو دنیا اسے زیادہ حاصل نہیں ہو پاتی ہے۔ ویسے بھی جو صرف حلال ہی کماتا کھاتا ہے وہ اس قدر مالدار نہیں ہو پاتا ہے جیسا کہ دوسرے ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں اشتغال آخرت سے محروم کرتا ہے اور غفلت کا باعث ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جنھوں نے دین کو اس

کے ظاہر و باطن کے ساتھ حاصل کیا وہ دنیا سے کنارہ کش رہے اور وہ دنیا حاصل نہیں کر پائے اور جنھوں نے دنیا میں انہماک و اشتغال اختیار کیا اور توجہات اسی پر مرکوز کر دیں وہ ان کمالات سے محروم ہو گئے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ درویشی اور غنا دونوں جمع ہو گئے ہوں ۔

پھر یہ بھی دھیان رہے کہ جن بزرگوں کو دنیا ملی تو اس طرح نہیں کہ انھوں نے خود دنیا کی تجارتیں اختیار کی ہوں اور رات دن اس کی کمائی کے لیے وقف کر دیے ہوں اور اس طرح انھوں نے تکثیرِ مال و متاع کے لیے وقت صرف کیا ہو جیسا کہ عام دنیادار کرتے ہیں، بلکہ بغیر اشتغال کے یا نذرانوں اور عقیدت مندوں کی خدمتوں اور ہدایا و تحائف کے ذریعہ یا انھوں نے دوسروں کو لگا دیا جو ان کی طرف سے کارو بار و تجارت کرتے رہے اور ان بزرگوں نے خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت و طاعت اور ذکر و عبادت اور خدمت اسلام و سنیت کے لیے وقف رکھا۔ بہر حال ان کا اشتغال بہت کم رہا۔