باب ۲۵ از ۵۴صفحات ۳۰۴–۳۱۶
نعمتوں کی ناقدری
آج کے دور میں نعمتوں کی جس قدر ناقدری ہو رہی ہے وہ ہر ذی شعور، ذی علم جانتا ہے، مال، عزت، عافیت جو کچھ بھی ہے سب دنیا کے لیے ہے۔ مال کے خرچ میں دنیوی کاموں میں اسراف، مباح امور میں انہماک اور بےجا اخراجات نے مالداروں کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔ گھروں کی آرائشیں اور تزئین، شادیوں، بچوں بچیوں کے عقیقوں اور دیگر رسومات خاص کر انگریزی اور
دنیوی اعلیٰ تعلیم کے لیے اس قدر بے دھڑک مال خرچ ہو رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ پھر ناجائز کاموں کی فہرست جدا ہے۔
رجا (امید) (چوتھا مقام)
حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ حال اور مقام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جب کوئی وصف ثابت و قائم ہو تو اسے مقام کہا جاتا ہے اور جب وہ وصف عارضی ہو، اور جلد زائل ہو جائے تو اسے حال کہتے ہیں جس طرح زردی کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو ثابت و قائم ہے جیسے سونے کی زردی، دوم وہ جو جلد زائل ہو جاتی ہے جیسے خوف کی وجہ سے چہرے کا زرد ہو جانا، اور تیسرے ان دونوں کے درمیان ہے جیسےمریض کی زردی۔ اسی طرح دل بھی ان اقسام میں تقسیم ہوتا ہے جس میں ثبات نہیں اسے حال کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ فوری طور پر بدل جاتا ہے اور یہ دل کے تمام اوصاف میں جاری ہوتا ہے۔ اس وقت مقصود رجا (امید) کو بیان کرنا ہے۔ یہ بھی حال، علم،اور عمل سے مکمل ہوتا ہے، علم حال کا سبب ہے اور حال عمل کو چاہتا ہے اور رجا ان تینوں کے مجموعے کا نام ہے۔
اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ جو کچھ پیش آتا ہے وہ مکروہ (ناپسند) ہوگا یا محبوب۔ پھر وہ اس وقت موجود ہوگا یا ماضی میں تھا یا مستقبل میں انتظار ہے۔ اگر تمھارے دل میں وہ بات کھٹکے جو ماضی میں موجود تھی تو اس کو ذکر اور تذکر کہا جاتا ہے اور اگر اس وقت موجود ہے تو وہ وجد، ذوق اور ادراک ہے۔ وجد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حالت اسی وقت تمھارے دل میں پائی جاتی ہے اور اگر مستقبل میں کسی چیز کے پائے جانے کا احتمال ہے اور تمھارے دل پر غالب ہے تو اس کو انتظار و توقع کہتے ہیں جس کا انتظار ہے۔ اگر وہ مکروہ ہے جس سے دل میں دکھ اور تکلیف پیدا ہوتی ہے تو اسے خوف اور اشفاق کہتے ہیں، اور اگر وہ پسندیدہ ہے، اس کا انتظار ہے اور دل کو اس
سے تعلق ہے، دل کو اس سے لذت و آرام پہنچ رہا ہے تو اسے رجا (امید) کہتے ہیں۔ تو گویا رجا دل کی راحت کا نام ہے جو محبوب چیز کے انتظار سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ دھیان رہے کہ وہ پسندیدہ چیز جس کی توقع کی جاتی ہے اس کا کوئی سبب ہونا چاہیے، اب اگر اس کا انتظار اکثر اسباب کے ساتھ ہے تو اس پر رجا کا لفط صادق آتا ہے اور اگر اسباب بالکل نہ ہوں یا اضطراب کے ساتھ ہوں تو اس پر دھوکے اور بیوقوفی کا لفظ رجا کے مقابلے میں زیادہ صادق آتا ہے اور اسباب کے ساتھ وجود و عدم وجود کا کوئی علم نہ ہو تو اس کے انتظار پر تمنا کا نام زیادہ صادق آتا ہے۔ یہ ہمیشہ دھیان رہے کہ کوئی بھی حالت رجا اور خوف کا نام اسی پر صادق آتا ہےجس میں تردد ہو جس کے بارے میں یقین ہو اس پر نہیں۔
حضرت امام قشیری قدس سرہ فرماتے ہیں: رجا اور تمنا میں فر ق یہ ہے کہ تمنا سے تمنا کرنے والے میں سستی و کاہلی پیدا ہوتی ہے۔ چناں چہ تمنا کرنے والا کوشش نہیں کرتا برخلاف رجا کے، لہٰذا رجا قابل تعریف اور تمنا مذموم ہے۔ صوفیہ نے رجا سے بحث کی ہے۔ اہل تصوف فرماتے ہیں: رجا تین طرح کی ہوتی ہے:
(۱)نیک کام کرکے مقبول ہونے کی امید رکھنا۔
(۲)کوئی گناہ کرکے توبہ کرے اور مغفرت کی امید رکھے۔
(۳)ایک جھوٹا انسان گناہ کرتے چلا جاتا ہے، مگر کہتا ہےکہ مجھے مغفرت کی امید ہے۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ امید کے ساتھ عمل کرنا خوف کے ساتھ عمل کرنے سے اعلیٰ ہے کیوں کہ حق تعالیٰ کے بندوں میں سب سے زیادہ قریب وہ ہیں جو سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں اور محبت امید پر غالب آتی ہے اور اسے دو بادشاہوں پر قیاس کیجیے ان میں سے ایک کی خدمت اس کی سزا کے
خوف سے کی جاتی ہے اور دوسرے کی خدمت انعام ملنے کی امید پر ہوتی ہے؛ اسی لیے امید (رجا) اور حسن ظن کے بارے میں بہت زیادہ ترغیب آئی ہے، بالخصوص موت کے وقت ایسا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب آئی ہے، ارشاد خدا وندی ہے:
رجا کی فضیلت:
لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ (سورۃ الزمر: ۳۹؍۵۳)
ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔’’
تو ناامیدی حرام ہے، نبی کونینﷺ کا ارشاد ہے:
لایموتَنَّ أحدُکم إلا و ھو یُحسِنُ الظنَّ باللہ تعالیٰ (مسلم، ج:۲)
یعنی تم میں کوئی نہ مرے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔’’
نیز حدیث قدسی ہے:
أنا عندَ ظنِّ عبدی بی فلیظُنَّ بی ما شاءَ (مسند احمد بن حنبل)
میں بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوں تو میرے بارے میں جو چاہے گمان کرے۔’’
نیز حدیث شریف میں ہے: ایک شخص نزع کی حالت میں تھا، نبیﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے پوچھا: اپنے آپ کو کیا پاتے ہو؟عرض کیا: میں اپنے آپ کو یوں پاتا ہوں کہ مجھے اپنے گناہوں کا خوف بھی ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید بھی ، آپﷺ نے فرمایا: اس وقت (موت کی حالت میں) کسی بندے کے دل میں یہ دونوں باتیں (امید و خوف) جمع نہ ہوں گی، مگر اللہ تعالیٰ اسے امید کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس سے اسے خوف ہوتا ہے اس سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔
رجا کی دوا
رجا کی دوا اور وہ کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اس کو حضرت امام قدس سرہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ دوا کے محتاج دو قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک وہ جس پر
مایوسی غالب آجائے اور وہ عبادت کرنا چھوڑ دے دوسرا وہ جس پر خوف غالب ہو جائے اور وہ عبادت کی پابندی میں حد سے بڑھ جائے حتیّٰ کہ خود کو اور اہل و عیال کو تکلیف دے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ راہِ اعتدال سے ہٹ کر افراط و تفریط میں مبتلا ہیں، یہ ایسے علاج کے محتاج ہیں جو انھیں اعتدال پر لائے اور وہ آدمی جو گناہوں کا مرتکب ہے وہ عبادت سے منہ پھیرنے اور گناہوں کے ارتکاب کے باوجود اللہ تعالیٰ سے تمنا کرتا ہے تو اس کے حق میں امید کی دوائیں زہر قاتل اور ہلاکت خیز ہیں، ایسے شخص کے لیے صرف خوف کی دوائیں استعمال کرنی چاہیے اور وہ اسباب اختیار کرنا چاہیے جو خوف پیدا کریں۔
اسی لیے واعظ و مقرر کے لیے ضروری ہے کہ وہ نرمی برتنے والا اور بیماریوں کے مقامات سے آگاہ ہو اور ہر بیماری کا علاج اس کی ضد سے کرے، ایسی دوا نہ دے جس سے بیماری بڑھ جائے کیوں کہ مقصود تو صفات و اخلاق میں اعتدال پیدا کرنا ہے اور بہترین امور وہی ہیں جن میں اعتدال اور میانہ روی ہو ، لیکن جب اعتدال کسی ایک طرف جھک جائے تو ایسی دوا کےساتھ علاج کیا جائے جو اس کو اعتدال پر لائے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں مخلوق کے ساتھ امید (رجا) کے اسباب استعمال نہ کیے جائیں، بلکہ ڈرانے میں مبالغہ بھی ممکن ہے ان کو راہِ حق کی طرف نہ لائے، لیکن اسباب امید کا ذکر تو ان کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔ چوں کہ اسباب امید دلوں پر زیادہ ہلکے اور نفوس کے لیے زیادہ لذیذ ہوتے ہیں اور واعظوں کی غرض لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہوتی ہے اور ہر حال میں ان کا ثنا خواں رہنا ہوتا ہے اس لیے وہ امید دلانے کی طرف مائل ہوتےہیں حتیّٰ کہ فساد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور سرکشی میں منہمک لوگ اپنی سرکشی میں بڑھ جاتے ہیں۔’’
مقررین و واعظین
حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ کا یہ مبارک کلام باربار پڑھیے جو آج سے کئی صدی پیشتر کا ہے۔ اس زمانے میں مخلوق کے حالات کے پیش نظر وہ واعظوں اور مقرروں کو تنبیہ فرما رہے ہیں کہ اسباب امید کاذکر ان کے لیے تباہی و بربادی کا سبب ہے۔ آج عوام تو عوام خواص کا کیا حال ہے ہر دردمند ذی ہوش جانتا ہے، پانی کس قدر سر سے اونچا جا چکا ہے، عقائد و اعمال میں پختگی و استقامت یا پابندی کا کیا حال ہے؟ پھر ہمارے واعظین و مقررین ان مریضوں کو دوا کیا دے رہے ہیں ہر بالغ نظر ذی ہوش جان رہا ہے، جو خود مریض ہوں، جنھیں اپنے امراض کےازالے کی کوئی فکر نہ ہو وہ دوسروں کا علاج کیا کریں گے۔
حضرت امام قدس سرہ کے زمانے میں تو واعظین کی یہی نفسانی خواہش تھی کہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں ۔ اب تو اس کے ساتھ ساتھ خاص مقصد موٹے موٹے نذرانوں کی وصولیابی ہے، تقریریں کیا ہیں، ایک تجارت بن کر رہ گئیں، اب وہ یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ جن سے ہم خطاب کر رہے ہیں وہ کس مرض کے مریض ہیں، انھیں کس دوا کی ضرورت ہے، وہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ خوش کس طرح ہوں گے۔ سب سے زیادہ ہماری تقریر کس طرح پسند کریں گے تاکہ ہمیشہ بلائیں اور ہمیں بڑے نذرانے دیں، ہم سب پر بھاری کیسے ثابت ہوں، دوسروں کو زیر کیسے کریں۔
الغرض جلسوں وغیرہ میں مقررین و واعظین کی بے اعتدالیاں حد سے تجاوز کر گئیں، انھیں نہ مذہب سے بحث، نہ مسلک کی ترویج و اشاعت کی فکر، بلکہ ان کے غیر مہذب لب و لہجہ اور ان کے انداز و کردار سے آدمی مذہب سے متنفر ہورہا ہے، جہلا اور عوام کو راضی کرنا محض وصولیابی کےلیے ان کا اصل مقصود ہے۔ کافی
پرانے زمانے سے چند موضوعات چلے آرہے ہیں انھیں پر وہ بھی اس انداز سے کہ عوام کی سمجھ میں نہ آئے، وہ صرف خاص پہلو یہ دیکھتے ہیں کہ کس بات سے کس روایت سے ہماری واہ واہ کیسے ہوگی خواہ وہ موضوع ہی کیوں نہ ہو ، اگر لطیفوں سے لوگ خوش ہو سکتے ہیں تو وہی تقریر کا ماحصل ہیں۔ کسی شیخ یا پیر کی خانقاہ میں یا مدرسہ کے جلسوں میں ناظمین وغیرہ کی بے جا تعریفات سے خوش ہو سکتے ہیں تو انھیں وہی کرنا ہے۔
بے جا تعریفات اور مبالغہ آرائیاں ، تملق و چاپلوسی، جاہلوں اور ان پڑھوں کو علامہ وغیرہ بتانا ان کے لیے معمولی بات ہے، ان پڑھ عوام کے ذہن بھی ایسے بنا دیے کہ ایسے ہی تاجروں کو پسند کرتے ہیں، تقریر کو ایسا فن بنا دیا ہے کہ اب کوئی مخلص سنجیدہ باتیں سنجیدہ ماحول میں کرنا بھی چاہے تو کوئی سننے والا نہیں، ان کی مرضی کے مطابق دوا دی جائے تو وہ ان کے لیے بڑا زہر ہے۔
افسوس، صد افسوس! آہ، صد آہ! مسلک کا خون ہو رہا ہے، ہماری ان حرکتوں سے تعلیم یافتہ طبقہ ہم سے بھاگ رہا ہے، ہماری علمی تہذیب اور وقار کے پرخچے اڑ رہے ہیں، قول و عمل کے تضاد سے ہمارے ہی ہم سے دور ہو رہے ہیں، لیکن ہمیں کسی کی فکر نہیں ہے، فکر ہے تو صرف اپنی جیب کی، بس وہ بھری رہے، اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں، خاص کر اہل ثروت اور سیٹھوں کو پھانسنے کے لیے کون سی نا کردنی نہیں کر رہے ہیں، کیا کیا ذکر کیا جائے۔
مشائخ اور علما کی خدمات
ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اکثر ادوار اور زمانوں کی اسلام و سنیت کی ترویج و اشاعت اور دین کو اس کے ظاہر و باطن کے ساتھ زندہ اور قائم رکھنے کا کام مشائخ اور علما نے کیا۔ مشائخ کرام نے ظاہر
کی آراستگی کے ساتھ ساتھ تصفیہ قلب و تزکیہ نفس کا باضابطہ کام کیا، اس کے لیے اصول وضع کیے، طریقے سوچے۔ یہ الہام خداوندی کہیے یا ان کی دینی فہم اور فراست مومنانہ کہ انھوں نے اس خدمت کے لیے ایک ایسا مکمل نظام بنا لیا جس کی دنیا میں نظیر نہیں ملتی ہے، ان کو باضاطہ مدوّن کرکے خانقاہوں کے ذریعہ اسی نظام کو نافذ کیا اور ایسے صاف دل اور جلوۂ حق سے معمور و پرنور قلوب اذہان کے مالک تیار کیے جو اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق حمیدہ سے آراستہ اور کشف و مشاہدہ اور کرامات و مشاہدات کے مالک تھے، جن کے قدموں پر سلاطین سے لے کر رعایا تک سب کو جھکنا پڑا اور ہر دور میں اسلام و سنیت کی برتری ثابت کرنے، کفار و مشرکین کے دلوں میں اسلام و سنیت کو اتارنے کا کام انجام دیتے رہے اور عزیمت و استقامت کے ایسے پہاڑ تیار کیے جو کبھی بھی کسی بھی لالچ یا دباو میں ذرہ برابر نہ پھسلے، نہ بہکے اور نہ دین کا سودا دنیا اور اہل دنیا سے کیا۔
وہ اپنے نبی پاکﷺ کے ظاہر و باطن کی پوری جھلک ہوتے تھے، ان کی آہوں میں اثر، ان کی باتوں میں بلا کا گداز اور سوز اور ان کے کردار اس قدر پرکشش تھے کہ دل کھینچے چلے آتے تھے۔ جب تک ایسے پاکیزہ نفوس پیدا ہوتے رہے، اسلام پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر رہا اور کسی بھی مذہب کے سامنے جھکنے نہ دیا اور اسلام و سنیت کی حقانیت ہمیشہ آشکارا ہوتی رہی۔ اس عظیم کام کے لیے انھوں نے ہر قربانی دے ڈالی۔
ایک صدی سے قبل تک یہ کام کافی حد تک منظم ہوتا رہا، ان کو کسی سے کوئی دنیوی منفعت کی کوئی لالچ نہ تھی، صرف رضاے الٰہی مقصود تھی، یہ نہایت بالغ نظری سے حق کی اشاعت بھی کرتے رہے اور باطل کی سرکوبی بھی، حکمت بالغہ سے حق کو دلوں میں اتارنے کا ایسا انوکھا انداز اپنایا تھا کہ اترتا ہی چلا جاتا تھا اور ایسا اتر جاتا تھا کہ پھر کسی شیطان کو بہکانے کا کوئی راستہ نہ رہتا تھا۔
دوسری طرف دین دار علماے حق تھے جو علوم اسلامیہ کی بقا و تحفظ اور اس کی نشر و اشاعت اور مختلف علوم و فنون کی ایجادات و اختراعات کرتے رہے اور اہل باطل کی تحریروں کا تحریری اور تقریروں کا تقریری جواب دیتے رہے۔ مدارس قائم کیے، اچھے اساتذہ تیار کیے، بہترین اور لائق مصنفین پیدا کیے، اچھے اور نیک خطبا اور واعظین تیار کیے اور علوم و فنون کے دریا بہا دیے۔ ان کاموں کے لیے انھوں نے اپنے سارے شب و روز وقف کر دیے، ساری راحتوں کو قربان کر دیا، عیش و عشرت سے ہاتھ دھو لیے۔ علوم و فنون کی اختراعات و ایجادات اور ذہانتوں اور فطانتوں کے ایسے سکّے بٹھائے کہ تمام امتوں کے علما پر اس امت کے علما کی اور اقوام عالم کے جملہ مذاہب باطلہ کے تمام دانشوروں پر سبقت لے گئے اور اس امت کے علما کی بے مثالی ثابت کر دی، ہر فن کو اس کے حد کمال تک پہنچادیا، ہر ایک اپنی اپنی منزل کے اعتبار سے مختلف محاذ سنبھالے ہوئے تھا۔ کوئی عوام کی اصلاح و ارشاد کا کام وعظ و تقریر کے ذریعہ، کوئی تصنیف و تالیف کے ذریعہ، کوئی تعلیم و تدریس کے ذریعہ دین کی خدمت اور امر معروف و نہی منکر میں لگا ہوا تھا۔
وہ پہلے امراض کی تشخیص کرتے تھے،پھر اس کا مناسب علاج سوچتے تھے۔ وہاں اپنے نبیﷺ کی محبت میں دین کی اشاعت مقصود تھی، انھیں اپنی مادی منفعت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اب مشائخ نے بھی اپنی بساط الٹ دی، رخ بدل دیا اور دھارا ٹھیک الٹی طرف بہنے لگا۔ پہلے حبّ دنیا اور حب جاہ و مال اور دیگر اخلاق رذیلہ سے تخلیہ اور صفائی ہوتی تھی، اب دل کی رگ رگ میں یہی بسی ہوئی ہےاور اس کے لیے ہر فریب پر آمادہ ہیں، پہلے شب بیداریاں اور آہیں تھیں، عبادتوں کی کثرت تھی، ہر وقت حق ہو کی صدائیں تھیں، فرائض تو فرائض، سنن تو سنن، مستحبات تک نہ چھوٹتے تھے۔ اور اب تو فرائض کا کھلے بندوں خون ہو رہا ہے۔ الغرض علم سے کوسوں دور تو عمل کیا ہوگا پھر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ہر
حربہ استعمال ہو رہا ہے اور اپنی بزرگی کی دھونس جمانے کے لیے ہر فریب سے کام لیا جا رہا ہے۔
علما کا حال یہ ہے کہ جو کچھ ذمہ دار اور ذی علم ہیں وہ زیادہ تر درس گاہوں تک محدود ہیں، ان میں بھی اکثر میں عملی کوتاہیاں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں، زیر درس طلبہ کی تربیت سے کوئی سروکار نہیں، بس ایک ڈیوٹی ہے جو دی جا رہی ہے۔ باقی رہے واعظین و مقررین تو ان کا حال سب پر عیاں ہے، عوام کا رابطہ انھی سے ہے، عوام انھی مشائخ اور مقرروں کو دینی رہبر تصور کرتے ہیں۔ جب رہبر بجاے رہبری کے رہزنی کرنے لگے تو اس قوم کا خدا حافظ۔
یہ ایک درد کا بیان تھا جس نے الفاظ کا جامہ پہن لیا اور صفحات قرطاس پر ثبت ہو گیا، ورنہ ہم سمجھتے ہیں ان باتوں سے دشمنی اور مخالفت تو مول لی جا سکتی ہے، اصلاح نہیں کی جا سکتی ہے، مگر پھر بھی مکمل مایوسی نہیں کیوں کہ جس خدا نے دین اور قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا وہ اس کے لیے محافظت کرنے والے افراد بھی پیدا فرمائے گا۔ ہم اپنے تمام عقیدت مندوں اور محبت کرنے والوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آج کے مشائخ اور علما کو نہ دیکھیں، بلکہ ضرورت دیکھیں، امراض پہچانیں، حق کی خاطر صحیح علاج اور ہر میدان میں بگاڑ کو سدھارنے کی کوشش کریں۔ اچھے مشائخ تیار کریں، ذمہ دار علما پیدا کریں اور ہر دور میں اسلام و سنیت کی بقا و تحفظ اور نشر و اشاعت کے لیے جو مفید طریقے ہو سکتے ہوں وہ اپنائیں، سب کی مدد کرنے والا ان کی مدد کرےگا۔
خیال رہے کہ چوں کہ اہل حق اس زمین پر قرب قیامت تک رہیں گے کیوں کہ دین کی حفاظت کا وعدہ قرآن نے فرمایا۔ لہٰذا دین کو اس کے ظاہر و باطن کے ساتھ زندہ رہنا ہے اس لیے حاملان دین کو بھی رہنا ہے۔ اس دور میں بھی ہیں، مگر اب ان کا وجود دوسروں کے مقابلے میں بہت کم ہے، بلکہ نادر سمجھیے۔ جو عقائد
حقہ کے پابند ہیں ان میں اکثر تو وہ ہیں جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں نہ انھیں حقوق اللہ کی فکر نہ حقوق العباد کی۔ کچھ وہ ہیں جن کا ظاہر شریعت سے آراستہ، مگر حقوق العباد کی ادائگی اور کسب وغیرہ میں بہت لاپرواہ اور غیر ذمہ دار، ایسے بہت کم ہیں جو تمام حقوق اللہ اورحقوق العباد ادا کرتے ہوں۔ پھر ایسے تو بالکل نادر ہیں جو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن اور روحانیت و تصوف کے حامل ہوں۔ اولیاے عزلت کو تو ہم نہیں جانتےمگر اولیاے عشرت جن سے سلوک کی منزلیں طے ہو سکیں ڈھونڈنے سے نہیں ملتے ہیں۔
غرضیکہ سچے دیندار اس دور میں نایاب سے ہو گئے ہیں۔ اکثر وہ لوگ جو دیندار کہلاتے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی پہلو دینی معاملات میں کمزور ہے۔ لہٰذا اس دور میں رجا و امید کے بجاے حکمت یہ ہے کہ دلوں میں خوف الٰہی پیدا کیا جائے اور انذار و تخویف سے کام لیا جائے اور ان کی اصلاح کی مناس تدبیرں اختیار کی جائیں۔ حضرت امام قدس سرہ اپنے دور کے بارے میں کیا فرما چکے وہ آپ پڑھ چکے، اب کیا حال ہوگا اسی سے اندازہ کر سکتے ہیں۔ پھر حضرت امام قدس سرہ اسباب رجا کے بیان میں فرماتے ہیں:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: عالم وہ شخص ہے جو نہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید کرے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ان کو بے خوف کرے۔’’
ہم امید کے اسباب ذکر کرتے ہیں تاکہ وہ مایوس لوگوں کے حق میں استعمال ہوں یا ان کے حق میں جن پر خوف غالب ہے۔ ہم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی اقتدا میں ایسا کر رہے ہیں کیوں کہ قرآن و سنت دونوں خوف اور امید پر مشتمل ہیں اس لیے کہ یہ دونوں مختلف قسم کے مریضوں کی شفا کے حق میں جامع ہیں تاکہ علماے کرام جو انبیاے کرام کے وارث ہیں ان دونوں کو حسب ضرورت
استعمال کریں، وہ ماہرطبیب کا طریقہ اختیار کریں، بے وقوف معالج کی طرح نہیں جس کے خیال میں ہر دوا ہر قسم کے مریض کے لیے کارگر ہے جو بھی بیماری ہو۔ ’’
پھر آپ نے دو اسباب ذکر فرمائے۔ ایک قیاس، دوم آیات و احادیث اورآثار کی تلاش۔ تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم شریف جلد چہارم۔
خوف: (پانچواں مقام)
حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ خوف کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خوف دل کے درد اور جلنے کا نام ہے اور اس کا سبب مستقبل میں مکروہ بات کی توقع ہوتی ہے۔ اس کا بیان رجا کے بیان میں واضح ہو چکا۔ پھر تفصیل سے خوف پر کلام کر کے فرماتے ہیں: تو مکروہ بات کے اسباب کا علم دل کو جلانے اور پریشان کرنے کا سبب ہے اور یہ جلانا ہی خوف ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا خوف بعض اوقات اس کی اور اس کی صفات کی معرفت کی وجہ سے ہوتا ہے کہ اگر وہ تمام جہانوں کو ہلاک کردے تو اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی اسے کوئی روکنے والا ہے اور بعض اوقات اس کا سبب بندے کے بہت زیادہ جرائم ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے باعث پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں۔ اور یہ خوف اسی قدر ہوتا ہے جس قدر اسے اپنے نفس کے عیبوں کی پہچان ہوتی ہے اور جس قدر اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے استغفار کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جا سکتا، لیکن بندوں سے پوچھا جائےگا تو اسی معرفت کے حساب سے خوف کی قوت ہوتی ہے۔ لہٰذا وہی شخص اپنے رب سے زیادہ ڈرتا ہے جو اپنے آپ کو اور اپنے رب کو زیادہ پہچانتا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: أنا أخوفکم (میں تم
سب میں خدا سے زیادہ ڈرتا ہوں) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (سورۃ فاطر: ۳۵۳۲۸)
ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔’’
پھر جب یہ معرفت پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے تو وہ خوف کا جلال اور دل کی جلن پیدا کرتی ہے اور پھر اس گرمی کے اثر کو دل سے بدن ، اعضا اور صفات پر ڈالتی ہے۔