باب ۲۹ از ۵۴صفحات ۳۵۱–۳۶۱
دین کو برباد کرنے والے امور
۱۱۔ حضرت کعب ابن مالکرضی اللہ عنہما اپنے والد سے راوی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں وہ ان بکریوں کو اتنا خراب نہیں کرتے جتنا انسان کا مال و عزت پر حرص کرنا اس کے دین کو خراب کرتا ہے۔ (ترمذی و دارمی)
مرأۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: یہ نہایت نفیس تشبیہ ہے ، مقصد یہ ہے کہ مومن کا دین گویا بکری ہے اور اس کی حرص اور مال و عزت گویا دو بھوکے بھیڑیے ہیں، مگر یہ دونوں بھیڑیے مومن کے دین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیے بکریوں کو تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز کرتا، اپنے عزیز اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے۔
پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسے جتن کرے جو بالکل خلاف اسلام ہیں جیسا کہ آج وزارت چاہنے والوں کو دیکھا جا رہا ہے۔
حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ریاکار مرنے کے بعد بھی ریا نہیں چھوڑتا، کسی نے پوچھا: وہ کیسے؟ فرمایا: وہ چاہتا ہے کہ میرے جنازے میں بہت لوگ ہوں تاکہ میری عزت ہو، ریا مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ (مرقات)
بے برکت مال:
۱۲۔ حضرت خبابرضی اللہ عنہ آقاے کائناتﷺ سے راوی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی مومن نے کچھ خرچ نہیں کیا، مگر اسے اس میں ثواب دیا جاتا ہے سواے اس کے خرچ کے اس مٹی میں۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
یعنی کھانے پینے، لباس وغیرہ پر خرچ کرنے میں ثواب ملتا ہے کہ یہ چیزیں عبادات کا ذریعہ ہیں، مگر بلا ضرورت مکانات بنانے میں کوئی ثواب نہیں۔ لہٰذا عمارات سازی کا شوق نہ کرو، اس میں وقت اور مال دونوں کی بربادی ہے۔ خیال رہے کہ یہاں بلا ضرورت دنیوی عمارتیں بنانا مراد ہے، مسجد، مدرسہ، خانقاہ، مسافر خانے عبادت ہیں کہ یہ تو صدقات جاریہ ہیں۔ یوں ہی بقدر ضرورت مکانات بنانا بھی ثواب ہے کہ اس میں سکون سے رہ کر اللہ کی عبادت کرےگا۔ بعض لوگ دیکھے گئے کہ وہ ہمیشہ مکان کے توڑ پھوڑ، ہر سال نئے نمونے کے مکانات بنانے میں ہی مشغول رہتے ہیں، یہاں یہ بھی مراد ہے۔ (مرآت، مرقات، اشعۃ اللمعات)
اگر غور سے دیکھا جائے تو آج کے دور میں مکانات کی تزئین، مختلف طرح کے پلاسٹر، پھر رنگائی وغیرہ، نیز پردے اور مکانات کی مختلف قیمتی لکڑیوں کی چوکھٹیں اور کواڑ وغیرہ میں اس قدر غلو اور اسراف ہو گیا ہے کہ بیان سے باہر ہے، نیز سیمینٹیڈ فرش کے بجائے ماربل، وہ بھی نہایت قیمتی قیمتی، پھر ان پر قالین وغیرہ، اس قدر
ان میں رقومات خرچ ہو رہے ہیں، ہر ذی شعور جانتا ہے۔ ان ساری چیزوں کا مقصد تزئین، پھر گناہ کے سوا کیا ہے۔ اس طرح کی تعمیرات وغیرہ کی متعدد احادیث میں مذمت آئی ہے۔ چناں چہ:
۱۳۔ حضرت انسرضی اللہ عنہ راوی کہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ سارے خرچ اللہ کی راہ میں ہیں سوائے عمارات کی تعمیرات کے کہ ان میں بھلائی نہیں۔(ترمذی)
۱۴۔ انھی سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دن نکلے اور ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے بلند قبّہ (عمارت) دیکھی تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کے صحابہ نے عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کی ہےحضورﷺ خاموش ہو گئے اور یہ بات دل میں ڈال لی حتیّٰ کہ جب اس قبّہ کا مالک حاضر ہوا تو آپ کو بھرے مجمع میں سلام کیا تو آپﷺ نے منہ پھیر لیا، انھوں نے یہ کئی مرتبہ کیا حتیّٰ کہ ان صاحب نے حضورﷺ میں غصہ محسوس کر لیا تو حضورﷺ کے صحابہ سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ خدا کی قسم میں رسول اللہﷺ کو غیر پاتا ہوں، لوگوں نے کہا کہ حضورﷺ تشریف لے گئے تھے تو تمھارا قبّہ دیکھا تھا، وہ شخص اپنے قبّے کی طرف لوٹا اور اسے ڈھاکرزمین کے برابر کر دیا۔ پھر رسول اللہﷺ ایک دن نکلے تو اس قبّے کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ قبّہ کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اس کے مالک نے آپ کی بے توجہی کی شکایت کی تو ہم نے انھیں بتا دیا تو انھوں نے وہ ڈھا دیا، آپﷺ نے فرمایا کہ ہر تعمیر اس کے مالک پر وبال ہے سوائے اس کے یعنی سوائے اس کے جس کی اسے ضرورت ہو۔ (ابو داؤد)
مرآت المناجیح میں ہے: اگر وبال سے مراد گناہ ہے تو عمارت سے مراد وہ عمارتیں ہیں جو بلا ضرورت فخر و تکبر کے لیے بنائی جائیں کہ یہ عمل ناجائز ہے، فخر و تکبر کا ہر کام حرام ہے، اور اگر وبال سے مراد آخرت کا بوجھ ہے تب بلا ضرورت کی
ہر عمارت اس میں داخل ہے خواہ فخریہ ہو یا نہیں حتیّٰ کہ بلا ضرورت مسجد بنانا بھی ثواب نہیں، بلکہ کبھی گناہ، غیر آباد جگہ کوئی نماز و اذان ادا کرنے والا نہ ہو، مسجد بنا دینا محض بیکار ہے۔ ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد بنا دینا کہ نہ وہ آباد رہے نہ یہ آباد ہو، گناہ ہے۔ بہر حال یہ فرمان عالی وسیع ہے۔ عمارت کے وبال ہونے کی بہت صورتیں ہیں۔ یہ بھی دھیان رہے کہ ضرورت خواہ دینی ہو یا دنیوی ضرورت کے لیے عمارت بنانا مباح ہے جیسے اپنے مکان دُکانیں اور دینی ضرورت کے لیےبنانا ثواب ہے۔ مسجدیں، مدرسے، خانقاہیں یا بزرگان دین کے مزارات پر قبّے جب کہ وہاں زائرین کا ہجوم رہتا ہو۔ ان کی آسائش، تلاوت قرآن مجید وغیرہ کے لیے وہاں عمارت بنانا ثواب ہے۔ حدیث بالا میں وبال سے جسے مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ مالابُدَّ منہ ہے یعنی جس کی ضرورت ہو، اس میں بڑی گنجائش ہے۔
انسان کو کتنا کافی ہے:
۱۵۔ حضرت ابو ہاشم ابن عتبہرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے عہد فرمایا کہ تمھیں مال جمع کرنے کے لیے ایک خادم اور اللہ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔(احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
یعنی یہ غلام اور گھوڑا بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں، محض خواہش نفسانی کے لیے نہ ہوں ۔ ان سے دینی کام جہاد یا تبلیغ، حج یا طلب علم مقصود بالتبع۔ اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت چیزیں نہ رکھو۔
۱۶۔ حضرت عثمانرضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ انسان کا سوائے ان اشیا کے کسی اور چیز میں حق نہیں؛ وہ گھر جس میں رہتا ہو، وہ کپڑا جو اس کا ستر چھپائے اور روٹی کا ٹکڑا اور پانی۔(ترمذی)
۱۷۔ حضرت مقدام ابن معدیکربرضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سرکارﷺ کو فرماتے سنا کہ کسی نے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا، انسان کے لیے چند لقمے
کافی ہیں جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں۔ پھر اگر زیادہ کی ضرورت ہو تو تہائی پیٹ کھانا، تہائی پیٹ پانی اور تہائی پیٹ اپنی سانس کے لیے۔(ترمذی و ابن ماجہ)
پیٹ بھر کھانے کا وبال:
۱۸۔ حضرت عبد اللہ ابن عمررضی اللہ عنہما سے مروی کہ حضورﷺ نے ایک شخص کو ڈکاریں لیتے سنا تو فرمایا کہ اپنی ڈکار کم کر کیوں کہ قیامت کے دن لوگوں میں بڑا بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں بہت زیادہ پیٹ بھرےگا۔(شرح سنہ و ترمذی)
۱۹۔ کعب ابن عباسرضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔
دنیا کس کے لیے ہے:
۲۰۔ حضرت عائشہرضی اللہ عنہا حضورﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا: دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہو اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہ ہو اور اسے وہ جمع کرےگا جسے عقل نہ ہو۔
دنیا کا حال:
۲۱۔ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی، رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ خوفناک چیز ان چیزوں میں جن کا امت پر میں خوف کرتا ہوں نفسانی خواہش اور لمبی امیدیں ہیں۔ لیکن نفسانی خواہش تو وہ حق سے روکتی ہے اور لمبی امید تو وہ آخرت کو بھلاتی ہے اور یہ دنیا کوچ کرکے جا رہی ہے اور یہ آخرت کوچ کرکے آرہی ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں۔ اگر تم یہ کر سکو کہ دنیا کے بیٹے نہ بنو تو ایسا کرو کیوں کہ تم آج عمل کی جگہ میں ہو جہاں حساب نہیں اور تم کل دار آخرت میں ہوگے جہاں عمل نہیں۔
۲۲۔ حضرت شدادرضی اللہ عنہ راوی کہ میں نےرسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: اے لوگو! دنیا موجودہ سامان ہے جس سے نیک بھی کھاتے ہیں اور برے بھی اور بیشک
آخرت سچا دعویٰ ہے جس میں انصاف والا قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرےگا، اس دن سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دکھائےگا۔ تم آخرت کی اولاد بنو، دنیا کی اولاد نہ بنو کیوں کہ ہر بچہ ماں کے پیچھے ہوگا۔ (ابو نعیم)
انسان کا کتنا مال ہے:
۲۳۔ حضرت مطرف اپنے والد بزرگواررضی اللہ عنہما سے راوی، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ سورۂ الھٰکُمُ التَکاثُر تلاوت فرما رہے تھے، فرمایا: ابن آدم کہتا ہے: میرا مال میرا مال، فرمایا ہے: اے انسان! تیرا مال نہیں ہے، مگر جو تو کھاکر ختم کر دے یا پہن کر گلا دے یا خیرات کرکے آگے بڑھا دے۔(مسلم)
اللہ کیا چاہتا ہے:
۲۴۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری غریبی دور کر دوں گا اور اگر تو یہ نہ کرےگا تو تیرا ہاتھ کام کاج سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور نہ کروں گا۔(احمد و ابن ماجہ)
۲۵۔ حضرت ابو امامہرضی اللہ عنہ نبیﷺ سے راوی، فرمایا: میرے اولیا (دوستوں) میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مسلمان ہے جو کم سامان والا، نماز کے بڑے حصے والا ہو، اپنے رب کی عبادت خوب اچھی طرح کرے اور خفیہ اس کی اطاعت کرے اور لوگوں میں چھپا ہوا رہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کیے جائیں ، اس کا رزق بقدر ضرورت ہو، اس پر صبر کرے۔ پھر حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے چٹکی بجائی، فرمایا: اس کی موت جلد آجائے، اس پر رونے والیاں کم ہوں، اس کی میراث تھوڑی ہو۔(احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
زہد کی عنایتیں:
حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی بندہ زاہد (بے رغبت) نہیں ہوا، مگر اللہ تعالیٰ اس کے قلب میں حکمت اگاتا ہے اور اس سے اس کی زبان میں گویائی دیتا ہے اور اسے دنیا کے عیب، اس کی بیماریاں اور ان کا علاج دکھا دیتا ہے اور اسے دنیا سے جنت کی طرف سلامت نکالےگا۔(بیہقی)
فلاح یافتہ کون ہے:
انھی سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے دل کوایمان کے لیے اللہ سے خالص کیا ہےاور اپنے دل کو سلامت رکھا اور اپنے دل کو مطمئن اور طبیعت کو سیدھا رکھااور اپنے کان کو سننے والا، اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنایا، لیکن کان تو وہ چین کی خبر ہے اور لیکن آنکھ تو وہ اس چیز کو قائم کرنے والی ہے جس کی دل حفاظت کرتا ہے، کامیاب ہو گیا وہ جس نے اپنے دل کو حفاظت کرنے والا بنایا۔(احمد، بیہقی)
افضل کون ہے:
۲۷۔ حضرت عبد اللہ ابن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی، آقاﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں افضل کون ہے، فرمایا: وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو نہ بغاوت، نہ کینہ نہ حسد۔(ابن ماجہ، بیہقی)
انھی سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جب تجھ میں چار خوبیاں ہوں تو تجھ پر حرج نہیں کہ دنیا تجھ سے الگ رہے؛ امانت کی حفاظت، بات کی سچائی، اچھی عادت، کھانے میں پاکدامنی۔(احمد، بیہقی)
۲۸۔ حضرت معاذ ابن جبلرضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب متقی اور پرہیزگار ہیں جو بھی ہوں جہاں بھی ہوں۔(احمد)
یہ چند احادیث مبارکہ مشکات شریف کے کتاب الرقاق اور فضل الفقرا سے لی
گئی ہیں۔ ان آیات و احادیث کریمہ سے دنیا اور اس کی زندگی اور اہل دنیا اور اہل آخرت کے احوال سمجھے جا سکتے ہیں ۔ اگر رسول کونین ﷺ کی نظر مبارک میں دنیا سے بے رغبت رہنے اور دنیا میں رہ کر آخرت کی طلب اور فقر میں سلامتی نہ ہوتی اور دنیاکی قباحتوں اور شناعتوں اور اس کی خفیہ آلائشوں سے پاک رہنا اور اس کے مخفی اور مضر اثرات سے دامن بچانا ضروی نہ ہوتا تو آپﷺ اس قدر تفصیل سے اس کے اثرات بد اور بے ثباتی وغیرہ کو بیان نہ فرماتے۔
مومنوں کی تین قسمیں
معلوم ہو کہ ہم تمام مومنین فقرا اور اغنیا کو تین قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
۱۔ وہ فقرا و اغنیا جو ایمان کی دولت لے کر آخرت تک پہنچے۔اس کے سوا نہ اعمال صالحہ کی کوئی نیکی ان کے پاس ہے اور نہ معاصی اور گناہوں سے وہ بچے۔ مذہب اہل سنت میں اللہ تعالیٰ قادر ہےکہ سب گناہ معاف کر دے اور جنت میں داخل کر دے بغیر سبقت عذاب کے، مگر قانون یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنے گناہوں کی سزا پائیں گے؛ قبر میں بھی، حشر میں بھی، جہنم میں بھی اپنے اپنے جرائم اور گناہوں کے مطابق۔
۲۔ وہ فقرا و اغنیا جو ایمان کی دولت کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات و سنن مؤکدہ پر عمل بھی کرتے رہے اور محرمات سے بھی بچتے رہے، ان کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں۔ قانون الٰہی کے مطابق ایسے لوگ قبر و حشر میں عذاب اور تکلیفوں سےمحفوظ رہیں گے اور جنت میں بے سبقت عذاب داخل ہوں گے۔
۳۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو فرائض و واجبات و سنن مؤکدہ پر عمل اور تمام معاصی کبیرہ و صغیرہ سے اجتناب بھی کرتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ مستحبات کثرت ذکر و کثرت نوافل کے پابند رہے، اپنے قلب کو دنیا و ما فیھا کی محبت سے آزاد کرکے اپنے محبوب حقیقی جل و علا اور اس کے رسولﷺ سے سب
سے زیادہ محبت کی، کبھی کسی کی وجہ سے غافل نہ ہوئے، کسی شیخ کامل کے توسط سے قرب و عرفان کی اعلیٰ نعمتیں حاصل کیں اور حسب استعداد قرب الٰہی کی نعمت سے مشرف ہوئے۔
پہلی قسم میں اگر ہم معاصی کے ارتکاب میں اغنیا کو برابر تصور کر لیں تب بھی اغنیا فقرا کے مقابل بوجھل ہوں گے جس کو حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ تمھارے لیے سخت پہاڑ ہیں جنھیں بوجھل لوگ طے نہیں کر سکیں گے۔ حضرت ابو الدردا کی اہلیہ ام الدردا نے حضرت ابو دردا سے کہا کہ جس طرح فلاں کمائی کرتا ہے آپ نہیں کرتے تو انھوں نے یہی حدیث ذکر کرکے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں ان پہاڑوں کے لیے ہلکا رہوں۔ دوسرے فقرا کے مقابل ان کو مال کا حساب دینا ہوگا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ یہ اس وقت ہے جب کہ مال جائز حد تک خرچ ہوتا رہا ورنہ اگر مال کی وجہ سے جرائم میں مبتلا ہوا تو جو جرائم کرےگا اس کا وبال الگ ہوگا۔
مذکورہ بالا تینوں قسموں میں یہ بات مشترک ہے کہ فقرا کے مقابل اغنیا کو طول حساب کا سامنا کرنا پڑےگا جب کہ وہ اور سارے مالی حقوق ادا کرے اور فقرا کی طرح اپنے قلب و قالب کو ذکر و عبادت کے لیے خاص کر لے، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے قدر کفاف پر گذر اوقات کرنے والا جس قدر وقت ذکر و عبادت کے لیے، کمالات علمی و عملی کی تحصیل کے لیے، راہ سلوک طے کرنے کے لیے بچا لےگا وہ غنی دنیوی اشتغال کی وجہ سے کبھی بھی نہیں بچا سکتا ہے۔ پھر یہ بھی اس وقت ہے کہ مال و زر کی تحصیل اور مالدار ہونے کے بعد گناہوں اور بداخلاقیوں کا شکار نہ ہو۔ یہ بھی ارباب غنا کے لیے بہت بڑی محرومی ہے جس کی وجہ سےدائمی و ابدی بڑی بڑی نعمتوں سے محروم ہوں گے اور جن فقرانے وقت کی حفاظت کر کے ان کو کمالات کی تحصیل میں خرچ کیا وہ اعلیٰ نعمتیں لے جائیں گے، اسے آپ معمولی خسارہ نہ
حدیث شریف میں ہے: جنت میں جانے کے بعد کسی چیز پر حسرت اور افسوس نہ ہوگا سواے ان ساعتوں کے جن میں دنیا میں ذکر الٰہی نہ کیا۔
پوری تاریخ کا تجربہ شاہد ہے کہ علمی و روحانی کمالات کی تحصیل جس قدر فقرا و غربا نے کی وہ کبھی بھی امرا و اغنیا نہ کر پائے اور جو سبقت فقرا لے گئے وہ دوسروں کو میسر نہ آئی۔
اکثر اہل غنا کا حال
پھر یہ سب اس وقت ہے کہ غنا کے بعد بھی گناہوں اور بداخلاقیوں سے محفوظ رہے اور انہماک مباحات کی حد تک رہے، مگر ایسا نہیں ہوتا، حالات ہمارے سامنے ہیں، جوں جوں مال آتا ہے حرص بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سو آئے تو دو سو کی طلب، دو سو آئے تو ہزار کی فکر، ہزار پر لاکھ کی فکر۔ پھر ہوس رفتہ رفتہ کہاں تک لے جاتی ہےاس کی کوئی حد نہیں۔ پھر جوں جوں مال آتا ہے مکانات اور جائدادوں کی تحصیل ، ماکولات و مشروبات میں توسیع، پھر عیش و عشرت۔ آج کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ دنیا کے ساتھ اشتغال جس قدر بڑھتا ہے اتنا ہی انسان بداخلاقیوں اور تکبر وغیرہ کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے، محرمات کا مرتکب ہوتا ہے، اپنے اوپر، اپنی اولاد پر، مکانات کی آرائش اور ان کی توسیع پر، جائدادوں کی کثرت پر تو خوب خرچ کرتا ہے۔ نام ونمود کے لیے ہی تو خرچ کرتا ہے۔
مگر دوسری طرف اکثر زکات تک دینے سے محروم ہو جاتا ہیں۔ ارباب حقوق کے حقوق کی ادئگی کی کوئی فکر نہیں رہتی، کھانے پینے رہنے سہنے، نفسانی خواہشات کی تکمیل میں ، زناکاریوں، حرام کاریوں میں قدم بڑھتے چلے جاتے ہیں، رشوتوں کے بازار گرم ہوتے ہیں، کثرت مال و زر کی تحصیل کی خاطرنہ کسی حرام میں خرچ سے اجتناب، نہ رشوت سے پرہیز، نہ اسراف کی کوئی فکر حتیّٰ کہ کفر اور کافروں تک کی مدد کرنے لگتے ہیں۔ یہ نعمتیں پھر اولاد کی انگریزی تعلیم وغیرہ پر
خرچ ہونے لگتی ہیں۔ ہر وقت جہازوں سے سفر، مہنگے ہوٹلوں میں قیام، بلا ضرورت بے فائدہ اخراجات عام مالداروں کا شیوہ ہے خواہ اہل منصب ہوں یا اہل تجارت۔ پھر ان میں بعض بعض سے زیادہ طغیان و سرکشی پر آمادہ۔
دنیا میں آنے کے بعد گناہوں سے بچ جانا ناممکن سا ہے۔ سچ فرمایا آقا و مولیٰ، مخلوق میں ہر خیر و شر کو سب سے زیادہ جاننے والےﷺ نے، ارشاد ہوا: کیا کوئی ایسا ہے جو پانی پر چلے اور پاوں نہ بھیگیں؟ صحابہ کرامرضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں یارسول اللہﷺ، فرمایا: یوں ہی صاحب دنیا گناہوں سے محفوظ نہیں رہتا ہے۔’’
آج اکثریت میں دین پر چلنے والے غریب، فسق و فجور سے بچنے والے غریب، علوم دینیہ کی تحصیل کرنے والے غریب، دین کی ترویج و اشاعت کرنے والے غریب، دین کی خاطر محنت و مشقت کرنے والے غریب، سنت و سنیت کی خاطر تن من دھن کی بازی لگانے والے غریب ہی ہیں، مذکورہ بالا محرمات و اسرافات سے بچنے والے غریب، انگریزیت و یہودیت کے تہذیب و تمدن سے دور رہنے والے غریب، تکبر و فرعونیت سے محفوظ رہنے والے غریب۔