باب ۳۱ از ۵۴صفحات ۳۷۱–۳۸۱
خانقاہ
علوم ظاہری کی نشر و اشاعت اور ان کی بقا و تحفظ کا یہ کام تھا۔ دوسری طرف خانقاہ ملتانیہ سے تصوف و روحانیت کے دریا بہائے جا رہے تھے۔ اصول سنت پر ان کی تربیت اور تجلیات و انوار سے ان کے سینے روشن و منور کیے جا رہے تھے۔ تصوف بحیثیت علم اور تصوف بحیثیت عمل دونوں سے آراستہ کیا جا رہا تھا۔ اصلاح و ارشاد کے عظیم کام کے لیے افراد سازی کا کام ہو رہا تھا اور ظاہر و باطن کے جامع افراد تیار ہو رہے تھے۔ اس چشمۂ باطن سے چین، ترکستان، خراسان، ماوراء النہر، شام اور مصر تک کے اہل سلوک منازل سلوک طے کرکے خلافت و اجازت سے مشرف ہو کر مختلف ضرورت کی جگہوں پر جاکر ظاہر و باطن کی اصلاح و ارشاد کا کام انجام دے رہے تھے۔ اگر آپ غائر نظر سے ان بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان بزرگوں نے چپے چپے پر اپنے خلفا مقرر و متعین کر دیے تھے اور ہر طرف چشمۂ ظاہر و باطن سے لوگ فیض یاب ہو رہے تھے اور اس طرح اسلام و سنیت کی بقا و تحفظ کے ساتھ ان کی نشر و اشاعت اور دین کے ظاہر و باطن کا
کام ہو رہا تھا۔ اس مبارک خانقاہ میں اکابر اولیاے کرام آکر قیام کرتے تھے۔
حضرت قطب الاقطاب بختیار کاکی، حضرت بابا فرید گنج شکر، حضرت قاضی حمید الدین ناگوری، حضرت جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے بزرگ قیام کر چکے تھے اور آتے جاتے تھے۔ آپ کے لنگر خانے سے صرف یتیم طلبہ اور مہمان ہی کھانا نہ کاتے، بلکہ ہزارہا مسلمان اور ہندو عوام بھی پیٹ بھرتے۔ عجب ہجوم رہتا، فسق و فجور میں مبتلا مسلمان آکر توبہ کرتے اور کفار و مشرکین بھی آکر اسلام قبول کرتے۔ آپ کے اخلاق حسنہ سے ہر چھوٹا بڑا، ہر نیک و بد، ہر مومن و فاجر متاثر تھا۔ جمعہ کے روز جامع مسجد میں وعظ فرماتے۔ ایسا پر تاثیر وعظ ہوتا کہ سامعین کے دل ہل جاتے، لرزنے لگتے، چیخیں مارتے، بعض تو جاں بحق ہو جاتے، گناہوں سے توبہ کرتے اور ذکر و فکر میں مشغول ہو جاتے۔
عبادت: اسلام و سنیت اور تصوف و روحانیت کی اشاعت کی اس قدر بڑی ذمہ داریاں اور قوم و ملت کی عظیم خدمتیں اپنے سر لے کر بھی عبادت کا یہ حال تھا کہ کبھی دو رکعت میں پورا قرآن ختم کر دیا۔ بہت دنوں تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی۔ نماز تہجد کے بعد تلاوت قرآن میں مشغول ہوتے اور نماز صبح کے وقت پورا قرآن ختم کرکے اٹھتے۔ حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیا قدس سرہ فرماتے ہیں کہ حضرت بابا صاحب روزے زیادہ رکھتے تھے اور افطار کم تھا خواہ کچھ حالت ہو، مگر حضرت شیخ الاسلام زکریا روزے کم رکھتے، طاعت زیادہ تھی۔
آپ کے فرزند: آپ کے فرزند اکبر حضرت محمد الدین عارف کو جو آپ کے خلیفہ و جانشین بھی تھے والد بزرگوار کے ترکہ سے جائداد منقولہ کے علاوہ سات لاکھ اشرفیاں ملیں۔ جائداد اور دیگر مال تو آپ نے اپنے چھے بھائیوں کے لیے چھوڑ دیا اور جتنا نقد روپیہ حصہ میں آیا تھا آپ نے اسی وقت سب خدا کی راہ میں لٹا دیا، لوگوں نے عرض کیا کہ اگر یہ اتنا ہی برا تھا تو آپ کے والد بزرگوار نے اسے کیوں
جمع کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: بھائی، میرے والد کے متعلق کیا پوچھتے ہو، وہ دنیا پر پوری طرح غالب تھے، دولت اور دنیا دونوں انھیں نہ طاعت و عبادت سے باز رکھ سکتی تھیں اور نہ مبتلائے فریب کر سکتی تھیں، لیکن میں ابھی ناقص ہوں اور اس مقام پر فائز نہیں ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ اب کبھی کبھی میں بھی دنیا پر غالب آ جاتا ہوں اور یہ مجھے بھی فریب نہیں دے سکتی ہے، مگر پھر بھی انسان ہوں، اپنی کمزوریوں سے واقف ہوں، ڈر لگتا ہے کہ کہیں دنیا مجھ پر غالب نہ آجائے اور راہ حق سے پھیر دے اس لیے میں نے یہ جھگڑا ہی چکا دیا تاکہ سکون و اطمینان کے ساتھ ذکر الٰہی کر سکوں۔ ترکہ پدری اور روایات آبا کے تحفظ و بقا کے لیے میرے اور چھ بھائی موجود ہیں۔
یہ تحریر قدرے طویل ہو گئی، سچ یہ ہے کہ آپ اور آپ کے بیٹے اور پوتے حضرت ابو الفتح رکن عالم قدس سرہم کے سوانح بڑے دماغ سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ان بزرگوں کے پاس دنیا کس قدر ساز و سامان اور تمام رعنائیوں کے ساتھ موجود تھی۔ بادشاہان وقت ان کی قدم بوسی اور ان کے در پر جبیں سائی کو سرمایۂ افتخار تصور کرتے تھے۔ ان بزرگوں نے اس دولت و ثروت اور اس جاہ و حشمت کو کس طرح دل سے دور رکھا اور ظاہر پاس رکھ کر اسلام و سنیت اور تصوف و روحانیت اور قوم و ملت کی عالم گیر سطح پر کس قدر خدمت کی۔ یہ سب کچھ نہ ان کے کمالات علمی وعملی کی تحصیل میں رکاوٹ بن سکا نہ عبادت و ریاضت میں مخل ہو سکا اور نہ ان کو قرب الٰہی کی فضاؤوں میں پرواز سے روک سکا اور نہ ان کے یہاں پیدا ہونے والے بچے کبھی اس سے متاثر ہو کر عیش و عشرت یا تکبر و انانیت یا علم و عمل سے محرومی کا شکار ہو سکے۔ یہ بظاہر بادشاہ تھے بباطن فقیر۔ انھوں نے دنیا رکھنے کا صحیح استعمال بتا دیا، اس کے فائدوں سے آگاہ کر دیا اور سمجھایا کہ دنیا کس کے لیے مضر ہے اور کس کے لیے مضر نہیں۔ اسی طرح کی دنیا رکھنے والوں کو حدیث شریف میں قابل رشک قرار دیا گیا ہے۔
اس سے ہر انصاف پسند سمجھ سکتا ہے کہ انبیاے کرام علیہم الصلوات و التسلیمات سے لے کر صحابہ و اولیاےعظام میں جو بھی ارباب غنا سے ہوئےان کا حال کیا تھا اور دنیا جو ان کے اجسام کے ارد گرد گھومتی رہی وہ اس سے قوم و ملت کو فائدے پہنچاتے رہے اور دین حق کی خدمتیں کرتے رہے، دنیا ان کے دل سے دور رہی، ان کی عبادتوں اور ریاضتوں میں کوئی فرق نہیں آیا، غربا و فقرا ان کے در سے پلتے رہے۔ یہ امرا ہو کر بھی فقرا کے لیے تواضع و انکساری کرتے رہے، ان کو کھلاتے رہے اور بہت اچھا کھلاتے رہے۔ جاہ و حشمت رکھ کر، غریبوں کی تعظیم و تکریم کر کے ان کے سر بلند کرتے رہے اور عوام کو ان کی قدروں سے آگاہ کرتے رہے۔
حضرت امام اعظم، حضرت غوث اعظم، حضرت شیخ الاسلام زکریا، حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیا وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سوانح اور سیرتیں پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ زمانہ ان کے در سے پلتا تھا۔ علوم دینیہ کے طلبہ اور اہل سلوک ان کے ٹکڑوں سے پرورش پاتے تھے اور نہایت لذیذ کھانے کھلاتے تھے۔ من پسند مختلف غذائیں ان کے مطبخوں میں تیار ہوتی تھیں، سب کو کھلا کر اکثر یہ بھوکے رہتے، سوکھے اور گرے پڑے ٹکڑے اٹھا کر کھا لیتے اور ان خدمتوں پر شکر کرتے، ایک عجب تاریخ بنائی۔
آج کے ارباب غنا خواہ عوام ہوں یا علما و مشائخ سب کے لیے ان بزرگوں کی حیات ایک دعوت ہے، مشعل راہ ہے، نمونہ ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مال رکھ کر، جاہ و حشمت رکھ کر سب کو دوسروں کے لیے استعمال کرنا اور حق کی اشاعت کرنا اور خود بے تعلق رہنا طاعت و عبادت میں ایسے ہی رکھنا جو تارک الدنیا بزرگوں کا ہے۔ یہ سب کچھ بڑا مجاہدہ تھا اور اس میں حکمت و مصلحت تھی کہ دنیا رکھ کر اللہ والا کیسے بنا جا سکتا ہے اور ارباب غنا، مقربین بارگاہ الٰہی کیا تھے اور
دنیا سے کیا فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہ اگر خدا سے، دین سے دور کر سکتی ہے تو قریب بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ سب کے بس کی بات نہیں، سب اس کے اہل نہیں، یہ بہت بڑے لوگوں کا کام ہے۔ ایسے افراد شاذ و نادر ہوتے ہیں، کبھی کبھی ہوتے ہیں۔
آج کے ارباب غنا خواہ وہ کوئی ہوں عوام ہوں یا خواص اپنے غنا کے لیے ان بزرگوں کو سند نہیں بنا سکتے ہیں۔ یہاں دنیا رگ رگ میں گھسی ہے۔ یہ سب کچھ اپنے لیے، اپنی اولاد در اولاد کے لیے ہے۔ اس کے آگے طاعت و عبادت کی کوئی فکر، مباحات تو مباحات محرمات تک سے پرہیز نہیں۔ نہ آج خانقاہ اور مدرسوں کی تعمیرات میں وہ خلوص ہے نہ وہ فائدے ہیں جو ان بزرگوں نے قوموں کو دیے۔
یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ ارباب غنا میں مقربین کا اوسط بہت کم ہے۔ اکثر تارک الدنیا ہی ہوئے، سب کی جدا جدا نیک نیتیں تھیں، مگر عوام میں جو قبول عام اور دوام عزت یا خلق کا رجوع جس قدر ترک و تجرید کے مالکوں کو ملا وہ ارباب غنا کو نہ ملا۔ عوام نے اکثر ادوار میں غنا کو بزرگی اور تصوف و روحانیت کے خلاف تصور کیا کیوں کہ جس طبقہ نے خود کو عبادت و ریاضت اور طاعت و محبت کے مکمل حوالے کیا اس نے اکثر دنیا سے بھی بے تعلقی اختیار کر لی اور وہ تارک الدنیا ہی مشہور ہوئے اور ترک و تجرید ہی ان کا شیوہ ہو گیا اور آج مشاہدہ ہے کہ خلق کا رجوع جس قدر ارباب زہد و فقر اور اصحاب ریاضات و مجاہدات کی طرف ہے۔ بعد وصال بھی وہ ارباب غنا کی طرف نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ بہت سے کم علم سرور کونینﷺ یا آپ کے سچے جانشینوں کا فقر بجائے اختیاری کے اضطراری قرار دیتے ہیں۔ انھیں یہ تو سوچنا ہی چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ جنھیں سب سے زیادہ چاہتا ہے انھیں فقیر کیوں رکھا اور باغیوں اور دشمنوں کو دولت مند کیوں بنایا، اکثر یہی ہے، بہر حال ہم یہ کہتے ہیں کہ جنھوں نے
فقر و زہد کا راستہ اختیار کیا وہ انھوں نے آقاﷺ کے ارشادات اور احوال و اعمال سب کی پیروی کی اور اسی کو اسوہ بنایا اور جن بعض نے غنا کا راستہ اختیار کیا ان کے سامنے بھی بعض انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات کی سیرت ہے اور بعض صحابہ کی اور دونوں حق پر ہیں اور اس کی مصلحت ہم بیان کر چکے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حجۃ الاسلام غزلی قدس سرہ کی تحریر کے بعض اقتباسات پڑھ لیے جائیں جو نہایت دقیق اور سراسر حقائق پر مبنی ہیں۔
زہد و فقر کا فرق
پہلے وہ فرق نظر میں رکھیں جو زہد وفقر میں آپ نے بیان کیا ہے، فرماتے ہیں کہ دنیا سے قطع تعلق کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ دنیا خود انسان سے الگ ہو اسے فقر کہتے ہیں، دوم یہ کہ بندہ اس سے الگ ہو اسے زہد کہا جاتا ہے۔
۱۔ زہد سے بھی اعلیٰ درجہ: زہد ایک ایسا درجہ ہے جو ابرار کا کمال ہے اور جو مقربین سے ہوتا ہے اس کے حق میں زہد نقص ہے، کہا جاتا ہے حسنات الابرار سیئات المقربین (ابرار کی نیکیاں مقربین کے لیے برائیاں ہیں) فرماتے ہیں: جو شخص دنیا کو ناپسند کرتا ہے وہ دنیا میں مشغول ہے جس طرح اس میں رغبت رکھنے والا مشغول دنیا ہے اور غیر اللہ کے ساتھ اشتغال اللہ تعالیٰ سے حجاب ہے، پروردگار جل و علا اور تمھارے درمیان کوئی دوری نہیں، وہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ کسی مکان میں بھی نہیں کہ آسمان و زمین وغیرہ حجاب نہیں، حجاب صرف اس کے غیر کے ساتھ اشتغال ہے جب انسان اپنے نفس اور خواہشات میں مشغول ہو تو وہ بھی غیر خدا میں مشغولیت ہے اور چوں کہ تم اس میں مسلسل مشغول رہتے ہو، لہٰذا مسلسل حجاب میں ہو۔ تو جو شخص نفس سے محبت میں مشغول ہووہ اللہ تعالیٰ سے اعراض کرتا ہے اور جو شخص اپنے نفس کے ساتھ نفرت میں مشغول ہو وہ بھی اعراض کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہے اس رقیب کی طرح ہے جو اس مجلس میں حاضر ہے جہاں عاشق و معشوق دونوں جمع ہوں۔ پس اگر عاشق کا دل رقیب کی طرف متوجہ ہو کہ اس سے بغض رکھنے اور اسے بوجھ سمجھنے کی طرف مشغول ہو۔ نیز اس کی حاضری کو ناپسند کرے تو ایسی حالت میں وہ معشوق کے مشاہدہ کی لذت سے اعراض کرنے والا ہوتا ہے اور سچا اور کامل عشق غیر معشوق سےغافل ہوتا ہے، اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تو جس طرح معشوق کی موجودگی میں غیر معشوق کی طرف محبت سے دیکھنا عشق میں شرک اور نقصان ہے اسی طرح اس کے بغض کی وجہ سے دیکھنا بھی شرک و نقصان ہے۔ ہاں ایک دوسرے سے ہلکا ہے۔ کمال یہ ہے کہ غیر معشوق کی طرف دل متوجہ نہ ہو خواہ بغض کی وجہ سے یا محبت کی وجہ سے تو جس طرح دل میں ایک ہی حالت میں دو محبتیں جمع نہیں ہو سکتیں اسی طرح ایک ہی حالت میں محبت و بغض جمع نہیں ہوتے۔ لہٰذا دنیا سے بغض رکھنے والا بھی اسی طرح غافل ہے جس طرح محبت کرنے والا غافل ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جو محبت کی وجہ سے غافل ہے وہ دوری کے راستے پر چل رہا ہے اور بغض والا بھی اگرچہ غافل ہے، لیکن وہ قرب کے راستے پر چل رہا ہےاور امید ہے کہ وہ ایسی حالت تک پہنچ جائے جہاں یہ غفلت زائل ہو جائے کہ شہود میں بدل جائے۔ اس کا کمال ترقی پذیر ہوتا ہے کیوں کہ دنیاسے بغض ایک سواری ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتی ہے۔’’
پھر ایک زبردست مثال سے آپ نے اس کی وضاحت فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ یہ خیال مناسب نہیں کہ دنیا سے بعض بالذات مقصود ہے، بلکہ چوں کہ دنیا حجاب اور رکاوٹ ہے جسے دور کیے بغیر اس تک پہنچا نہیں جا سکتا ہے۔ غرضیکہ دنیا سے بے رغبتی اور زہد سے مراد اگر یہ ہو کہ نہ مال کے وجود کی رغبت ہو نہ عدم وجود کی تو یہ سب سے اعلیٰ کمال ہے اور اگر اس کے عدم وجود میں رغبت مراد ہو تو وہ راضی،
قانع اور حریص کی نسبت سے کمال ہے، لیکن جو مستغنی کا درجہ ہے اس کی نسبت سے نقصان ہے۔ کمال یہ ہےکہ تمھارے نزدیک مال اور پانی دونوں برابر ہوں، پڑوس میں پانی کا ہونا نہ ہونا کچھ نقصان نہیں دیتا مثلاً جو دریا کے کنارے ہو اسے پانی نقصان نہ دےگا، اسی طرح پانی کی قلت بھی ایذا نہیں پہنچاتی۔
ہاں اگر ضرورت سے کم ہو تو ایذا ہے تو جس قدر پانی کی حاجت ہے مال کی بھی حاجت ہے۔پس تمھارا دل زیادہ پانی کے پڑوس سے بھاگنے میں مشغول نہ ہو اور نہ ہی زیادتی سے بغض رکھے، بلکہ تم یوں کہو کہ ضرورت کے مطابق اس سے پیوں گا اور اس سے حاجت کے مطابق لوگوں کو پلاؤں گا، بخل سے کام نہ لوں گا۔ پس مال کی بھی یہی حالت ہونی چاہیے کیوں کہ حاجت کے سلسلے میں روٹی اور پانی دونوں برابر ، فرق صرف قلت اور کثرت کا ہے اب تمھیں اس معرفت پر یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر عالم سے جس طرح پانی حسب حاجت آتا ہے اسی طرح روٹی بھی آئےگی۔
۲۔ اہل عرفان دنیا سے کیوں بھاگے:
سوال: انبیاے کرامعلیہم السلام و اولیاے عظام نے دنیا سے نفرت کی اور وہ کلی طور پر اس سے بھاگے اس کی وجہ کیا ہے؟
جواب: جس طرح وہ پانی سے بھاگے مطلب یہ کہ انھوں نے ضرورت سے زیادہ نوش نہیں فرمایا، پس جو حاجت سے زیادہ تھا اس سے بھاگے، انھوں نے مشکیزوں اور مشکوں میں جمع نہیں فرمایا کہ اپنے ساتھ لیے پھرتے ہوں، بلکہ انھوں نے اسے نہروں، کنووں اور صحراوں میں محتاجوں کے لیے چھوڑ رکھا، یہ نہیں ہوا کہ ان کے دل اس کی محبت اور بغض میں مشغول رہے۔ نبیﷺ اور حضرت ابو بکر و عمررضی اللہ عنہما کے پاس زمین کے خزانے آئے، لیکن انھوں نے ان کو
لے کر ان کے مناسب مقام پر خرچ کیا، ان سے بھاگے نہیں کیوں کہ ان کے نزدیک مال، پتھر اور پانی ایک جیسے تھے، ان سے منقول نہیں کہ انھوں نے ان چیزوں سے انکار کیا ہو، اگر انکار منقول ہے تو ایسے لوگوں سے جن کو خوف تھا کہ مال انھیں دھوکہ دےگا اور دل کو قیدی بنا لےگا۔ پھر وہ ان کو خواہشات کی طرف بلائےگا۔ یہ کمزوروں کا حال ہے۔ ایسے لوگوں کے حق میں مال سے بغض اور اس سے بھاگنا کمال ہے۔ یہ حکم تمام لوگوں کا ہے کیوں کہ انبیا علیہم السلام اور اولیاے کرام کے علاوہ سب کمزور ہیں یا یہ انکار ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو درجہ کمال کو پہنچے، لیکن انھوں نے راہ فرار اس لیے اختیار کر لی اور کمزوروں کے درجہ پر اتر آئے کہ ترک مال کے سلسلے میں لوگ ان کی اقتدا کریں کیوں کہ لوگ اگر مال لینے میں ان کی اقتدا کریں گے تو ہلاک ہو جائیں گے جیسے سپیرا اپنی اولاد کے سامنے سانپ سے بھگتا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ اسے پکڑ نہیں سکتا، بلکہ اس لیے کہ اسے دیکھ کر اولاد بھی پکڑےگی اور وہ اس طرح ہلاک ہو جائیں گے۔
فقر کے چھ مراتب
اس سے معلوم ہو گیا کہ فقر کے کل چھ مراتب ہیں اورسب سے اعلیٰ مرتبہ مستغنی کا ہے، پھر زاہد، پھر راضی، پھر قانع، پھر حریص اور مضطر کےحق میں بھی زہد، رضا اور قناعت کا تصور ہو سکتا ہے اور ان احوال کے اختلاف سے اس کا درجہ بدلتا رہتا ہے اور فقیر کا لفظ ان پانچوں پر بولا جاتا ہے۔ جہاں تک مستغنی کا تعلق ہے اس کو فقیر کسی دوسری وجہ سے کہیں گے وہ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فقیر (محتاج) ہے جب تمھیں اشتراک کی وجہ معلوم ہو گئی تو تم جان لو کہ حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد:
أعوذ بک من الفقر (یعنی اے اللہ میں فقر سے پناہ چاہتا ہوں) (مسند احمد)
اور: کاد الفقر أن یکون کفراً (قریب ہے کہ فقر کفر ہو جائے) (کنز العمال)
آپ کے اس ارشاد: أحْیِنِی مسکیناً و اَمِتْنِی مسکیناً (اے اللہ مجھے مسکین زندہ رکھ اور
مسکینی کی حالت میرا وصال ہو) (سنن ابن ماجہ)
کیوں کہ مضطر کا فقر وہ ہے جس سے وہ پناہ مانگتا ہے (پہلی دو حدیثوں میں اسی طرف اشارہ ہے) اور وہ فقر جو مسکینی، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہونا ہے آپ نے اس کی دعا مانگی ہے۔’’
معلوم ہو کہ حضرت امام حجۃ الاسلام قدس سرہ کے زمانے میں ایمان والے یا مسلمان کبھی مال کی خاطر مذہب نہیں چھوڑتے تھے، مگر آج مشاہدہ ہے کہ مال کی خاطر انسان سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ حرص اور محبت نے اس منزل پر کھڑا کر دیا ہے کہ مال کے لالچ میں وہابی ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی بن رہے ہیں۔ بعض تو مسلمان کہلا کر بھی کلمات کفریہ بکتے رہتے ہیں اور شکوہ کرتے رہتے ہیں اور تو اور مولوی کہلانے والے، تعویذ گنڈے کرنے والے مال کے لالچ میں کفریہ اعمال کر رہے ہیں۔
نیز یہ بھی معلوم ہو کہ حضرت امام قدس سرہ نے بزرگوں کے ترک دنیا کی جو وجوہات بیان فرمائیں وہ نہایت اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام و اولیاے عظامرضی اللہ عنہم کے حالات و واقعات اور ان کی باتوں سے پتا چلتا ہے کہ کچھ لذائذ سے اس لیے کنارہ کشی کرتے تھے کہ ان کے نبیﷺ نے لذائذ اختیار نہیں کیے جیسا کہ گذشتہ حدیثوں میں حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ بعضوں کو یہ خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری بھلائیوں کا صلہ ہمیں دنیا میں ہی تو نہیں دیا جا رہا ہے۔ لہٰذا وہ طیبات اور ماکولات و مشروبات وغیرہ میں لذتوں سے بھاگتے تھے۔ بعض کو یہ بھی خوف رہتا تھا کہ دنیا کا تنعم کہیں آخرت میں تنعم کی کمی کا باعث نہ ہو جائے۔
یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ امرا و سلاطین اور اہل ثروت کے نذرانوں سے بہت سے اولیاء اللہ بھاگے اور اس حالت میں ان کے نذرانے قبول نہ فرمائے کیوں کہ
ان کے حالات ان بزرگوں کے سامنے تھے کہ ایسے لوگوں کے اموال عام طور سے ظلم سے پاک نہیں ہوتے تھے۔ متاخرین بزرگوں میں اس کی بہت مثالیں ملتی ہیں۔ بہر حال یہ سب کچھ کرکے بہت خوب رسمیں ڈال گئے بقول حضرت مرزا مظہر جان جاناں دہلوی قدس سرہ۔
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
فقر کا سر بزرگوں نے اس قدر اونچا کر دیا کہ اہل سلطنت و ثروت کو ان کے قدموں پر جھکنا پڑا اور دنیا کو اس کی اوقات بتا گئے اور اپنے محبوب حقیقی کی محبت میں سب لٹا کر محبت کی اعلیٰ مثالیں قائم کر گئے اور دوسروں کو طریقہ بتا گئے۔