مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدسب سے اعلی لذت معرفت الٰہی ہے

باب ۳۸ از ۵۴صفحات ۴۴۵–۴۶۳

سب سے اعلی لذت معرفت الٰہی ہے

حضرت امام غزالی قدس سرہ نے اس مدعا پر بھی پر از حقائق کلام فرمایا ہے جس کا اختصار یہ ہے کہ لذتیں ادراکات کے تابع ہیں اور انسان بہت سی قوتوں کا اور طبیعتوں کا جامع ہے اور ہر قوت و طبیعت کے لیے ایک لذت ہے جیسے کھانے کی خواہش کی طبیعت حصول غذا کے لیے اسی طرح دیکھنے سننے وغیرہ کی طبیعتیں۔ اسی طرح دل کے اندر ایک طبیعت ہے جسے نور الہی کہا جاتا ہے، ارشاد خداوندی ہے:

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ (سورۃالزمر: ۳۹؍۲۲)

ترجمہ: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔’’

اس قلبی قوت کو عقل بھی کہا جاتا ہے۔ کبھی اسے باطنی بصیرت اور کبھی نور ایمان اور یقین بھی کہا جاتا ہے۔ پس قلب بدن کے اعضا سے مختلف ہوتا ہے۔ قلب کے ذریعہ ان معانی کا ادراک ہوتا ہے جو نہ تو خیال میں آ سکتے ہیں نہ محسوس ہو سکتے ہیں جیسےعالم کا پیدا ہونا، اس کا صانع کا محتاج ہونا جو صانع قدیم مدبر اور حکیم ہے۔ اس طبیعت کو ہم عقل کا نام دیتے ہیں بشرطیکہ لفظ عقل سے وہ چیز نہ سمجھی جائے جس کے ذریعہ مجادلے اور مناظرے کا طریقہ آتا ہے کیوں کہ عقل اسی نام سے مشہور ہے اور یہ صفت عقل اس لیے پیدا کی گئی کہ اس کے ذریعہ تمام امور کے

حقائق معلوم کیے جائیں۔ تو اس کی طبیعت کا مقتضا علم اور معرفت ہے اور یہی اس کی لذت ہے (پھر علم و معرفت میں لذت ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں)

واضح ہوا کہ جو معارف اشرف ہیں وہ زیادہ لذیذ ہیں اور علم و معرفت کا شرف معلوم کے اعتبار سے ہوتا ہے، معلوم جتنا اشرف ہوگا اس سے متعلق علم بھی اتنا ہی اشرف ہوگا۔ اگر معارف و معلومات میں ایسی چیز ہو جو نہایت بزرگی اور کمال کی حامل ہے اور اشرف و اعظم ہے تو اس کا علم لا محالہ لذیذ ترین اور نہایت شرف کا حامل اور بہت اچھا ہوگا۔ پس اللہ تعالی کی ذات سے کس کا وجود ارفع، اعلی اور اشرف و اکمل اور اعظم ہو سکتا ہے جو سب کا خالق ہے، زینت دینے والا اور ان کی تدبیر و تربیت کرنے والا ہے۔ وہ خدا جس کا کما حقہ وصف بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب تمھیں ان پر یقین ہے تو یہ بھی یقین کر لو کہ اسرار ربوبیت پر اطلاع اور تمام موجودات کو احاطہ کرنے والے امور الہیہ کے ترتب کا علم معارف و اطلاعات کی تمام انواع میں سب سے اعلیٰ، لذیذ تر، سب سے پاکیزہ، سب سے چہیتا اور سب سے زیادہ لائق ہے اس لیے کہ نفوس اس کے ساتھ اتصاف کے وقت اس کے کمال و جمال کا شعور حاصل کریں، خوش ہوں اور راحت حاصل کریں۔ پس اللہ تعالی کی ذات و صفات اور اس کے افعال عرش سے تحت الثریٰ مملکت میں ہیں اس کی تدبیر کا علم سب سے زیادہ لذیذ ہے۔

حضرت امام قدس سرہ اسی سلسلے میں بیان فرماتے ہیں: اگر کسی شخص کو اختیار دیا جائے کہ وہ موٹا تازہ مرغ یا حلوہ کی لذت حاصل کرکے یا ریاست، دشمنوں پر غلبہ اور بلندی کا درجہ پانے سے لطف اندوز ہو تو اگر اس کی ہمت خسیس (گھٹیا) ہے، دل مردہ اور حرص و لالچ کا شکار ہے تو وہ گوشت اور حلوے کو اختیار کرےگا اور اگر اس کی فکر بلند اور عقل کامل ہے تو ریاست کو اختیار کرےگا اور اس کے لیے بھوک اور کئی دن ضروری غذا سے صبر کرنا اس کے لیے آسان ہوگا۔ تو ریاست کا

اختیار کرنا یہ بتا رہا ہے کہ اس شخص کے نزدیک کھانوں کی لذت سے بڑھ کر ریاست کی لذت ہے اور بلند ہمت اور عقل کامل کے مالک کے لیے ریاست و حکومت کی لذت غالب ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی کی معرفت، اس کے دربار ربوبیت کے جمال کا مطالعہ اور امور الہیہ کے اسرار کی طرف نظر کرنا اس ریاست سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے جو ریاست مخلوق پر غالب لذتوں میں سبب سے بڑی اور اعلیٰ ہے۔

اس کی تعبیر اس سے کی جا سکتی ہے جو فرمایا گیا: کوئی نفس نہیں جانتا جو اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپائی گئی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وہ تیار کیا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی قلب بشر پر اس کا خیال گذرا اور یہ وہ چیز ہے جسے وہی پہچان سکتا ہے اس وقت جس نے دونوں لذتوں (لذت معرفت اور لذت ریاست) کو چکھا وہ لا محالہ تبتُّل و انقطاع تنہائی اور ذکر و فکر اختیار کرےگا اور معرفت کے سمندر میں غرق ہوگا اور دنیا کی ریاست و حکومت کو چھوڑ دےگا اور حقیر جانےگا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ریاست فانی اور جن پر ریاست و حکومت ہے وہ بھی فانی اور یہ ریاست ان تمام کدوروتوں اور گندگیوں سے ملی ہوئی ہے جن سے کسی حال میں یہ پاک نہیں ہو سکتا ہے۔ جب ان ساری چیزوں کو گہرائی سے دیکھےگا تو اور موت کو پہچانےگا تو لا محالہ معرفت الٰہی اور ان کی صفات و افعال کے مطالعہ اور اعلیٰ علیین سے لے کر اسفل سافلین تک اس کے نظام مملکت کی لذت زیادہ بڑی معلوم ہوگی۔

پھر یہ بھی دھیان رہے کہ دنیا کی سب لذتیں فانی اور یہ سب لذتیں ابدی ہیں، موت سے ختم نہیں ہوتیں کیوں کہ موت محل معرفت کو ختم نہیں کرتی اور محل معرفت روح ہے جو امر ربی آسمانی ہے۔ موت اس کے احوال میں تبدیلی پیدا کرتی ہے اور اس کے مشاغل اور رکاوٹوں کو دور کرکے قید سے آزاد کرتی ہے، اسے

مٹاتی نہیں، شہدا کے حق میں ارشاد خداوندی ہے:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ۙ وَیَسْتَبْشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمْ یَلْحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنْ خَلْفِہِمْ (سورۃآل عمران: ۳؍۱۶۹،۱۷۰)

ترجمہ: اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔ شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے۔’’

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ تم یہ گمان نہ کرنا کہ یہ اعزاز شہدا کے ساتھ خاص ہے کیوں کہ عارف کو ہر سانس میں ایک شہید کا درجہ ملتا ہے۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ شہید تمنا کریں گے کہ اسے دنیا کی طرف لوٹایا جائے تاکہ وہ دوبارہ شہید ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے بہت بڑا ثواب ملےگا اور شہدا تمنا کریں گے کہ کاش وہ علما (عارفین) ہوتے کیوں کہ وہ دیکھیں گے کہ علماے عارفین کا مرتبہ بہت بلند ہے۔

محبت کو قوت دینے والے اسباب

پہلا سبب

حضرت امام قدس سرہ نے محبت بڑھانے کے دو سبب بیان فرمائے:

۱۔ دنیا سے تعلق توڑنا اور غیر اللہ کی محبت دل سے نکال دینا کیوں کہ دل برتن کے مثل ہے، جب تک اس سے پانی نہ نکلے سر کے کی گنجائش نہیں ہوتی، ارشاد خداوندی ہے:

مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلْبَیۡنِ فِیۡ جَوْفِہٖ (سورۃ الاحزاب: ۳۳؍۴)

ترجمہ: اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔’’

کمال محبت یہ ہے کہ پورے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اور جب تک غیر کی طرف متوجہ رہےگا اس کے دل کا ایک زاویہ اللہ تعالیٰ کے غیر میں مشغول ہوگا اور جس قدر غیر میں مشغولیت ہوگی اسی قدر اللہ تعالیٰ سے محبت میں نقصان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں کمزور ہونے کی ایک وجہ دنیوی قوت ہے اور اس میں اہل و عیال، مال، اولاد، رشتہ داروں، زمین، جانوروں، باغوں اور سیر و سیاحت کی محبت بھی شامل ہے حتیّٰ کہ جو شخص پرندوں کی عمدہ آوازوں اور نسییم سحری کی حرکت سے سرور حاصل کرتا ہے وہ دنیوی نعمتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے محبت الٰہی میں نقصان ہوتا ہے۔ دل سے محبت دنیا اسی وقت دور ہو سکتی ہے جب زہد کے راستے پر چلے، ہمیشہ صبر اختیار کرے اور خوف و رجا سے آراستہ ہو اور ان مقامات توبہ، زہد وغیرہ کو حاصل کرے۔ یہ مقامات سب مقدمات ہیں تاکہ ان کے ذریعہ محبت کے کسی ایک رکن کو حاصل کرے اور غیر اللہ سے دل کو خالی کرنا، اس کا آغاز اللہ تعالیٰ پر اور آخرت، جنت، دوزخ پر ایمان لانا ہے۔ پھر اس سے خوف و رجا کی شاخیں پھوٹتی ہیں اور ان دونوں سے توبہ اور صبر نکلتا ہے۔ پھر یہ دنیا، مال و جاہ اور تمام دنیوی فوائد سے زہد کی طرف لے جاتا ہے حتیّٰ کہ ان تمام باتوں کی وجہ سے دل غیر اللہ سے پاک ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت کے نزول کے لیے وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ سب باتیں تطہیر قلب کے مقدمات ہیں اور یہ محبت کے دو رکنوں میں سے ایک رکن ہے۔

دوسرا سبب

دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کی معرفت کا قوی و وسیع ہونا نیز اس کا دل پر غالب ہونا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کو تمام دنیوی مشاغل اور تعلقات سے پاک کیا جائے، یہ اسی طرح ہے جیسے زمین کو گھاس پھوس سے پاک کرنے کے بعد اس میں بیج ڈالا جاتا ہے اور یہ محبت کا دوسرا رکن ہے۔ پھر اس بیج سے محبت و

معرفت کا بیج اگتا ہے اور وہ بیج کلمہ طیبہ ہے اور اچھا عمل اس معرفت کے لیے جمال اور خادم کی طرح ہے۔ اچھے اعمال سب کے سب پہلے دل کو دنیا سے پاک کرتے ہیں،پھر اس طہارت کو باقی رکھنے کا سبب بنتے ہیں، پس عمل سے یہی معرفت مقصود ہوتی ہے۔ جہاں تک کیفیت عمل کے علم کا تعلق ہے تو وہ عمل کے لیے مقصود ہوتا ہے۔ پہلے علم معاملہ ہے جس سے عمل مقصود ہوتا ہے، معاملہ کا مقصد دل کی طہارت و تزکیہ ہے تاکہ اس میں حق کی تجلی ہو اور علم معرفت سے مزین ہو اور یہ علم مکاشفہ ہے اور جب یہ معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے پیچھے محبت آتی ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ شواغل دنیا سے جدا ہونے کے بعد اس معرفت تک اس وقت پہنچ سکتا ہے جب کہ اسے صاف ستھری فکر اور دائمی ذکر، طلب میں بلیغ کوشش اور اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات اور اس کے ملکوت آسمان اور باقی مخلوقات میں دائمی نظر ہو۔ اس معرفت تک پہنچنے والے دو قسم کے لوگ ہیں: (۱)اقویا یعنی اصحاب قوت و طاقت جن کو پہلے اللہ تعالیٰ کی معرفت ہوتی ہے، پھر اس کے ذریعہ اس کے غیر کو پہچانتے ہیں۔ (۲) ضعفا یعنی کمزور لوگ جن کو پہلے افعال کی معرفت ہوتی ہے، پھر اس سے وہ فاعل تک ترقی کرتے ہیں۔ دونوں کے شواہد قرآنی آیات میں مذکور ہیں۔

علامات محبت

حضرت امام قدس سرہ کی بیان کردہ علامات کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ دار الاسلام میں محبوب کی ملاقات کشف و مشاہدہ کے طور پر چاہے۔ جب اسے معلوم ہے کہ اس تک موت کے ذریعہ دنیا سے کوچ کرنا اور اسے چھوڑنا ضروی ہے تو اسے چاہیے کہ موت کو پسند کرے، بھاگے نہ، کیوں کہ محب اپنے محبوب کے ٹھکانے تک جانے کو بوجھ محسوس نہیں کرتا کیوں کہ وہ اس کے مشاہدے سے

لطف اندوز ہوتا ہے اور موت ملاقات کی کنجی اور مشاہدہ میں داخل ہونے کا دروازہ ہے، نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

من أحبّ لقاءَ اللہ أحبّ اللہُ لقاءہ (جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی لقاپسند کرتا ہے)

خیال رہے کہ اکثر بندے موت کو پسند نہیں کرتے، اس کا سبب اہل و عیال اور مال و دولت وغیرہ کی جدائی کا افسوس ہوتا ہے۔ یہ کمال محبت کے منافی ہے، کمال محبت وہی ہے جو پورے طور پر دل کو گھیر لے، ہاں مال و اولاد کی محبت کے ساتھ کمزور محبت جمع ہو سکتی ہے۔ اس کا دوسرا سبب یہ ہوتا ہے کہ بندہ فی الحال محبت کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے، وہ ،موت کو ناپسند نہیں کرتا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تیاری کے لیے موت کے آنے کو پسند کرتا ہے تو یہ محبت کی کمزوری پر دلالت نہیں کرتی، نہ اس مقصد کے تحت موت کو ناپسند کرنا کمال محبت کے منافی ہے۔

۲۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اسے اپنی محبوب چیزوں پر، ظاہری و باطنی طور پر ترجیح دے۔ پس اسے عمل کا شوق ہو اور خواہشات کی اتباع سے بچتا رہے، سستی کو قریب نہ آنے دے، وہ ہمیشہ فرماں برداری میں رہے اور نوافل کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کرتا رہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں درجات قرب کا خواہاں رہے جیسے محب اپنے محبوب کے دل میں مزید قرب کی طلب کرتا ہے۔

معلوم رہے کہ محبت نافرمانی کے ساتھ بھی جمع ہو جاتی ہے، نافرمانی کمال محبت کی ضد ہے، اصل محبت کی نہیں۔ کتنے ہی لوگ خود سے محبت کرتے ہیں اور وہ بیمار ہونے کی صورت میں صحت کے خواہش مند ہوتے ہیں،لیکن وہ چیز کھاتے ہیں جو نقصان دہ ہے حالاں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ضرر رساں ہے تو اس کا مطلب یہ

نہیں کہ خود سے محبت نہیں کرتے۔ اسی پر وہ روایت دلالت کرتی ہے کہ حضرت نعیمان نے چند بار ایک معصیت کا ارتکاب کیا، بار بار انھیں حد لگائی گئی، ایک صاحب نے ان پر لعنت کی تو حضورﷺ نے فرمایا:

لاتلعنہ فإنہ یُحبّ اللہ و رسولہ (ان پر لعنت نہ کرو کیوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتے ہیں)

۳۔ تیسری علامت محبت یہ ہے کہ ذکر الٰہی کا بہت حریص ہو، اس کی زبان اس سلسلے میں کبھی کوتاہی نہ کرے اور نہ خالی رہے۔ کہا جاتا ہے: من أحبّ شیئاً أکثرَ ذکرَہ (جو کسی چیز سے محبت کرتا ہے اس کا ذکر کثرت سے کرتا ہے) بلکہ اس کے متعلقین کا بھی ذکر کرتا ہے۔ تو محبت الٰہی کی علامت اس کے ذکر اور قرآن سے، حضورﷺ سے اور دیگر تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہیں سب سے محبت کرے۔محبت کا تو فیضان یہ ہوتا ہے کہ جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اس کے محل کے کتوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ محبت جب مستحکم ہوتی ہے تو وہ محبوب سے تجاوز کرکے ہر اس چیز تک پہنچ جاتی ہے جس کا محبوب سے تعلق ہو۔ جس آدمی کے دل پر محبت الٰہی غالب ہوتی ہے وہ کبھی تمام مخلوق سے محبت کرتا ہے اس حیثیت سے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہے۔ تو قرآن پاک اور حضورﷺ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے محبت کیسے نہیں کرےگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ (سورۃ آل عمران: ۳؍۳۱)

ترجمہ: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمھیں دوست رکھے گا۔’’

حضرت سفیان‌رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جو شخص اس انسان سے محبت کرتا ہےجو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی

تعظیم کرنے والے کی تعظیم کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتا ہے۔

۴۔ محبت الٰہی کی ایک علامت یہ ہے کہ گوشہ نشینی، اللہ تعالیٰ سے محبت، اور قرآن پاک کی تلاوت سے انس حاصل کرے، ہمیشہ تہجد پڑھے، رات کے سکون اور مشاغل سے انقطاع کے ذریعہ وقت کے خالص ہونے کو غنیمت جانے۔ محبت کا کم از کم درجہ محبوب کی خلوت سے لذت حاصل کرنا اور اس کی مناجات سے لطف اندوز ہونا ہے جس شخص کے نزدیک نیند اور گفتگو میں مشغولیت مناجات خداوندی کے مقابلے میں زیادہ لذیذ ہو تو اس کی محبت کیسے صحیح ہوگی۔ الحاصل محبت کی علامت محبوب سے کمال درجہ کا انس اور مناجات ہے نیز خلوت و تنہائی سے لطف اندوز ہونا اور جس کام سے خلوت میں نقص اور مناجات میں کمی اور تکدر پیدا ہو وہ کامل وحشت ہے۔ انس کی علامت یہ ہے کہ عقل و فہم مکمل طور پر لذت مناجات میں مستغرق ہوں جیسے کوئی اپنے معشوق کو پکارتا اور ہم کلام ہوتا ہے۔

بعض حضرات میں یہ لطف و لذت انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ منقول ہے کہ ایک بزرگ نماز پڑھ رہے تھے اور ان کا گھر جل گیا، لیکن انھیں پتا نہ چلا اور ایک بزرگ کے پاوں میں تکلیف تھی تو حالت نماز میں ان کا پاوں کاٹا گیا، لیکن ان کو خبر نہ ہوئی۔

۵۔ پانچویں علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا باقی جو کچھ بھی اس سے چلا جائے اس پر افسوس کا اظہار نہ کرے اور جس وقت ذکر الٰہی نہ کر سکے اور طاعت نہ ہو پائے اس پر بہت زیادہ افسوس کرے۔ محب کو چاہیے کہ جب وہ کسی وقت غفلت کا شکار ہونے بعد اس سے رجوع کرے تو محبوب کی طرف رجوع کرے اوراسی کی طرف متوجہ ہو، اس کے عتاب کو دور کرے، اللہ تعالیٰ سے سوال کرے اور کہے کہ یا اللہ تو نے میرے کس گناہ کے سبب اپنا احسان دور کیا، بارگاہ سے دور کیا، مجھے میرے نفس و شیطان کی اتباع میں لگایا۔ اس طرح ذکر خداوندی کی صفائی اور رقت

قلب پیدا ہوگی اور سابقہ غفلت کا کفارہ ہوگا اور یہ لغزش نئے ذکر اورقلبی صفائی کا ذریعہ ہوگی اور جب محب ،محبوب کے ماسوا سے صرف نظر کر لیتا ہے اور سب کچھ اسی کی طرف سے دیکھتا ہے تو نہ افسوس کرتا ہے اور نہ شک، بلکہ مکمل طور پر راضی ہوتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کے محبوب نے جو کچھ اس کے لیے مقدر کیا ہے اس کی بھلائی اسی میں ہے۔

۶۔ محبت کی یہ علامت بھی ہے کہ اطاعت خداوندی سے آرام پائے، اس کو بوجھ نہ سمجھے، اور نہ اس میں تھکاوٹ محسوس ہوجیسے کسی بزرگ کا قول ہے کہ ہم نے بیس رات کو مشقت برداشت کی، پھر بیس سال اس سے آرائش حاصل کی۔

۷۔ ساتویں علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں پر شفیق و مہربان اور اس کے دشمنوں پر اور ان تمام لوگوں پر سخت ہو جو اس کی مرضی کے خلاف کرتے ہیں، ارشاد خداوندی ہے:

اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ (سورۃ الفتح: ۴۸؍۲۹)

ترجمہ: کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔’’

اس سلسلے میں ملامت سے نہ ڈرے، اللہ کی خاطر غضب و غصہ سے کوئی عمل اسے پھیر نہ سکے، خداوند قدوس کے دوستوں کا یہی وصف ہوتا ہے۔

اس آخری علامت کو بار بار غور سے پڑھیں، سمجھیں کہ صوفیہ کا طریقہ صلح کل کا نہ رہا اور نہ وہ بد مذہبوں سے کوئی تعلق رکھتے تھے۔ بعض صوفیہ سے جو محبت و شفقت کی باتیں منقول ہیں، وہ بھی مصلحت دینی سے خالی نہ تھیں اور انھوں نے دور کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے طریقہ تبلیغ اختیار کیا۔ بعض بزرگوں کی کچھ اپنی کیفیتیں تھیں جن سے مغلوب ہو کر ان کی روش مصلحانہ رہی ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کو چاہنے والے اس کے دشمنوں سے یاری رکھیں۔ یہی حال حضور سرور کونینﷺ سے محبت کا ہے کہ جسے آپ سے سچی اور حقیقی محبت ہوگی وہ آپ کے

دشمنوں، توہین و تنقیص کرنے والوں، آپ کے ذکر کو مٹانے والوں سے، آپ کی عظمت و محبت نکالنے والوں سے کبھی بھی نہ رشتہ کرےگا نہ دوستی نہ تعلقات رکھےگا۔ دراصل یہ سب کچھ سچے محب ہی کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی بجائے اپنے دنیوی منافع کا دیوانہ ہوگا وہ صرف اپنا نفع دیکھےگا، جہاں سے ملے، اسے خدا و رسولﷺ کے دشمنوں اور دوستوں سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔

۸۔ محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں خائف ہو اور اس کی ہیبت و تعظیم میں دبلا پتلا ہو جائے۔ بعض اوقات خیال کیا جاتا ہے کہ خوف محبت کی ضد ہے جب کہ ایسا نہیں، بلکہ عظمت ادرا ک ہیبت پیدا کرتی ہے جس طرح جمال کے ادراک سے محبت پیدا ہوتی ہے اور خاص محبین کے لیے مقام محبت میں ایسے خوف ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے نہیں ہوتے اور بعض خوف بعض سے سخت ہوتے ہیں۔ پہلا خوف عدم توجہ کا ہے، اس سے سخت حجاب کا خوف، اس سے سے بھی سخت اپنے آپ سے دور کرنے کا خوف ہے۔ ہاں بُعد اور دور ی کا خوف اسی کے دل میں ہوتا ہے جو قرب سے مانوس اور لطف اندوز ہو۔ جن کو دور کر دیا گیا ہے ان کی باتیں سن کر اہل قرب و محبت بوڑھے ہو جاتے ہیں اور جسے دوری سے انس ہو قرب کا مشتاق کیسے ہو سکتا ہے اور جس کے لیے قرب کی بساط ممکن نہ ہو وہ دوری کے خوف سے نہیں روتا۔

جوخوف اوپر ذکر کیے گئےان کے علاوہ اہل قرب محبت کو یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ کہیں ہماری منزل رک نہ جائے، میں ترقی سے محروم نہ ہو جاؤں۔ قرب کے درجات بےشمار ہیں، بندےپر لازم ہے کہ وہ ہر وقت ترقی کی کوشش کرے، کہا جاتا ہے: مَنِ استویٰ یوماہ فھو مغبونٌ و من کان یومُہ شراً من أمسہ فھو ملعونٌ (جس آدمی کے دو دن برابر ہیں(یعنی ترقی نہ ہو) وہ گھاٹے میں ہے اور جس

کا آج کل کے مقابلے میں برا ہو وہ رحمت سے دور ہے۔

اسی طرح اہل محبت کو محبوب سے بے غم ہو جانے یا بھول جانے کا خوف ہوتا ہے اس لیے کہ سچا محب ہمیشہ شوق، طلب اور حرص میں رہتا ہے، مزید درجات کی طلب میں کوتاہی نہیں کرتا ہے، اسے لطف جدید اور نئی نئی نوازشات سے خوشی اور تسلی ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ اس کے رک جانے یا رجوع کا سبب ہوتا ہے کیوں کہ یہ چیز بھی کبھی اس انداز سے آتی ہے کہ وہ جان نہیں پاتا ہے جس طرح کبھی اس جگہ سے آجاتی ہے کہ یہ سمجھ نہیں پاتا ہے۔ ان تبدیلیوں کے لیے مخفی آسمانی اسباب ہوتے ہیں، بشر کی طاقت نہیں کہ ان پر مطلع ہو سکے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر خفیہ تدبیر یا استدراج اور ڈھیل کا ارادہ کرتا ہے تو اسے بے غم کر دیتا ہے اور پوشیدہ رکھتا ہے۔ بندہ امید میں رہتا ہے اور حسن نظر یا غلبہ غفلت یا خواہش یا بھول کی وجہ سے دھوکہ کھاتا ہے۔

یہ سب شیطانی لشکر ہیں، فرشتوں کے لشکروں یعنی علم، عقل،ذکر اور بیان پر غالب آجاتے ہیں اور وہ اوصاف الٰہیہ جو ظاہر ہیں جوش محبت کا تقاضا کرتے ہیں، وہ اوصاف لطف، رحمت اور حکمت ہیں۔ اسی طرح بندے کے بعض اوصاف جو روشن ہوتے ہیں وہ بے غم ہونے کا سبب بنتے ہیں جیسے صبر، عزت اور استغنا وغیرہ اور یہ خفیہ تدبیر بد بختی اور محرومی کے مقدمات ہیں۔ تو محب خوف سے خالی نہیں ہوتا ہے اور خوف کرنے والا محبت سے خالی نہیں ہوتا ہے، لیکن جس آدمی پر محبت غالب ہو حتیّٰ کہ اس میں پھیل جائے اور خوف معمولی ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ مقام محبت میں ہے اور وہ محبین سے شمار ہوتا ہے اور خوف کی آمیزش محبت کے نشے کو کچھ تسکین دےگی۔ پس اگر محبت غالب ہو اور معرفت بھی زیادہ ہو تو بشری طاقت اس کو برداشت نہیں کر سکتی۔ البتہ خوف کی وجہ سے اس میں کچھ اعتدال آجاتا ہے اور دل پر اس کا وقوع خفیف ہوتا ہے۔

۹۔ نویں علامت یہ ہے کہ محبت کو چھپائے اور دعواے محبت سے پرہیز کرے اور محبوب کی تعظیم، ہیبت اور اجلال کی وجہ سے وجہ کو ظاہر کرنےسے بچے کیوں کہ اس کے راز کو ظاہر کرنا اس کی غیرت کے خلاف ہے اور محبت بھی اسرار سے ہے۔ اور بسا اوقات دعویٰ میں اصل بات سے زائد بات نکل جاتی ہے اور یہ بہتان ہوگا جس کا نتیجہ آخرت میں برا ہے اور دنیا میں بھی آزمائش ہوتی ہے۔ ہاں بسا اوقات محب نشہ محبت میں مدہوش ہو جاتا ہے اور اس کے احوال میں اضطراب پیدا ہو جاتا ہے اس وقت محبت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اگر اس قسم کا اظہار کسی تکلف اور اختیار کے بغیر سرزد ہو تو وہ مجبور ہوگا کیوں کہ وہ مغلوب ہوا۔ اور بعض اوقات آتش محبت شعلہ زن ہوتی ہے کہ کسی کو اس کی تاب نہیں ہوتی اور کبھی اس سے دل بہہ جاتا ہے تو اس بہاو کو روکا نہیں جا سکتا۔

خیال رہے کہ محبت قابل تعریف ہے اور اس کا اظہار بھی محمود، البتہ بتکلف ظاہر کرنا برا ہے کیوں کہ اس میں دعویٰ اور تکبر ہے اور محبت کا حق تو یہ ہے کہ اس کی پوشیدہ محبت افعال و احوال سے ظاہر ہو، اقوال سے نہیں، اور مناسب یہ ہے کہ اس کی محبت قصد و ارادے کے بغیر ظاہر ہو، اور وہ ایسے فعل کو بھی ظاہر نہ کرے جو محبت پر دلالت کرتا ہے، صرف محبوب مطلع ہو، دوسروں کو اطلاع کرنا محبت میں شرک ہے اور خلل پیدا کرنا ہے۔

۱۰۔ محبت کی علامتوں سے انس و رضا بھی ہے جس کا بیان آگے آئےگا۔ خلاصہ یہ کہ دین کے تمام محاسن و مکارم اخلاق محبت کا ثمرہ ہیں اور اگر محبت کا ثمرہ نہ ہو تو وہ خواہش کی اتباع ہے اور یہ نہایت برے اخلاق سے ہے۔ ہاں بعض اوقات آدمی اللہ تعالیٰ سے اس کے احسانات کی وجہ سے اور بعض اوقات اس کے جلال و جمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے۔ محبت کرنے والے ان دونوں قسموں سے باہر نہیں ہوتے۔

اسی لیے سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی قدس سرہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بندے عام بھی ہیں خاص بھی۔ عام لوگوں نے یہ مرتبہ اس لیے پایا کہ وہ ہمیشہ اس کے احسانات اور نعمتوں کی کثرت کو دیکھتے ہیں تو وہ اسے راضی کیے بغیر نہیں رہ سکتے، البتہ انعامات و احسانات کی کمی زیادتی سے ان کی محبت بھی کم زیادہ ہوتی ہے، لیکن خاص لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، علم، حکمت اور سلطنت میں یکتائی کے باعث، اس کی عظمت کے باعث، اس کی عظمت کے پیش نظر محبت کا مقام حاصل کیا۔

یہ بھی دھیان رہے کہ بعض لوگ اپنی خواہشات نفسانیہ اور شیطان لعین سے محبت کرتے ہیں جو اللہ کا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں حالاں کہ ان لوگوں میں محبت کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی ہے اور اگر ہوتی ہے تو محض منافقت، ریاکاری اور شہرت کی وجہ سے ایسا دکھاتے ہیں، ان کی غرض دنیا کا نقد نفع ہوتا ہے جیسے علماے سواور قاری۔

انس: معلوم ہو کہ انس، خوف اور شوق محبت کے آثار میں سے ہے، لیکن یہ آثار مختلف ہیں جو محب پر مختلف ہوتے ہیں، اس کی نظر اور غلبہ وقت کی وجہ سے جب غیب کے پردوں کے پیچھے منتہاے جمال تک اس پر اطلاع حاصل کرنے کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ حقیقت جلال پر اطلاع سے خود کو قاصر سمجھتا ہے تو دل اس کی طلب میں برانگیختہ ہوتا ہے اور جوش مارتا ہے۔ اس حالت کو شوق کہتے ہیں۔ اس پر یہ امر غائب کی نسبت سے ہوتا ہے۔ اور اس قرب اور مشاہدہ حضور کی خوشی غالب ہو جو کشف سے حاصل ہوا اور اس کی نظر مطالعہ جمال پر محصور ہو تو اس خوشی کو انس کہتے ہیں، اور اگر اس کی نظر صفات عزت، استغنا اور بے پرواہی اور زوال بعد کے امکان کے خطرے پر ہو تو اس شعور سے دل میں دکھ پیدا ہوتا ہے اور اس دکھ کا نام خوف ہے۔

تو یہ احوال ان ملاظات کے تابع ہیں اور ملاحظات ان اسباب کے تابع ہیں جو ان ملاحظات کا تقاضا کرتے ہیں اور یہ بے شمار ہیں۔ تو انس کا معنی مطالعہ جمال سے دل کو خوش ہونا ہے حتیّٰ کہ جب یہ خوشی غالب ہو اور جو کچھ غائب ہے اس کا خیال نہ رہے اور نہ خطرہ زوال ہو تو اس کی لذت اور فرحت بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ مشتاق ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں، شوق تو غائب چیز کا ہوتا ہے، جب غائب حاضر ہو جائے تو کس کا شوق ہوگا۔ یہ اس شخص کا قول ہے جو حاصل شدہ پر خوشی میں ڈوبا ہوا تھا، مزید لطف و کرم جو ممکن ہے ان کی طرف توجہ نہ تھی اور جس آدمی پر انس غالب ہو اس کی خواہش تنہائی اور گوشہ نشینی کی طرف ہوتی ہے۔

علامت: انس کی خاص علامت یہ ہے کہ لوگوں کی مجلس سے اس کا دل تنگ ہو اور ان سے گھبراہٹ ہو نیز ذکر خداوندی کی شیرینی کا بہت زیادہ حریص ہو۔ اس صورت میں اگر وہ ملےگا تو وہ جماعت میں تنہا، خلوت میں مجتمع، وطن میں اجنبی، سفر میں مقیم، غائب ہونے کی حالت میں حاضر اور حاضری کی حالت میں غائب ہوتا ہے، بدن سے میل جول رکھتا ہے، لیکن قلبی طور پر تنہا ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مٹھاس میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔

نتیجہ: جب انس دائمی، غالب اور مستحکم ہو اور شوق کی پریشانی یا تبدیلی اور حجاب کا خوف اسے گدلا نہ کرے تو اس سے اقوال و افعال اور اللہ تعالیٰ سے مناجات میں کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ بعض اوقات بظاہر یہ برا ہوتا ہے کیوں کہ اس میں جرأت ہوتی ہے اور ہیبت کم ہوتی ہے، لیکن جو شخص مقام انس میں ہوتا ہے اس سے یہ بات برداشت کی جاتی ہے اور جو آدمی اس مقام میں نہیں ہوتا، بلکہ فعل و کلام میں ان لوگوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے اور کفر کے قریب ہو جاتا ہے۔

خیال رہے اس سلسلے میں حضرت امام غزالی قدس سرہ نے متعدد بزرگوں کی مثالیں ذکر کی ہیں۔ حضرت جنید بغدادی قدس سرہ کا یہ قول بھی نقل فرمایا ہے کہ اہل انس خلوت میں اپنے کلام اور مناجات میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو عام لوگوں کے نزدیک کفر ہیں۔ اور ایک مرتبہ فرمایا: اگر تمام لوگ یہ باتیں سنیں تو ان کو کافر قرار دیں حالاں کہ وہ ان باتوں سے اپنے معاملات میں ترقی پاتے ہیں، ان سے یہ باتیں برداشت بھی کی جاتی ہیں اور یہ ان کے لائق بھی ہیں۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتےہیں: اس بات کو بعید نہ جانو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کی ایک بات پر راضی ہوتا ہے جب کہ وہی دوسرے سے ناپسند ہوتی ہے، لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب ان کا مقام مختلف ہو۔ قرآن پاک میں ان معانی پر تنبیہات ہیں اگر تم سمجھو کیوں کہ قرآن پاک میں مذکور تمام واقعات اصحاب بصیرت و بصارت کے لیے تنبیہات ہیں کہ وہ ان سے عبرت پکڑیں اور ایسے لوگوں کے لیے یہ محض نام ہیں۔ پھر آپ نے متعدد مثالیں قرآنی آیات سے بیان کی ہیں مثلاً حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا قول قرآن نے نقل کیا کہ:

اِنْ ہِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ (سورۃ الاعراف: ۷؍۱۵۵)

ترجمہ: وہ نہیں مگر تیرا آزمانا تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے۔’’

یہ قول انبساط اور کشادگی کی دلیل ہے۔ حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض اور باتیں نقل کرکے حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ ‌علیہ السلام کے علاوہ کوئی شخص یہ باتیں کہتا تو بے ادبی شمار ہوتیں کیوں کہ جو شخص مقام انس میں ہوتا ہے اس سے نرمی برتی جاتی ہے اور اس کی باتیں برداشت کی جاتی ہیں۔ حضرت یونس علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام جب مقام قبض و ہیبت میں تھے تو ان

سے اس کم بات بھی برداشت نہیں کی گئی اور ان کو مچھلی کے پیٹ میں تین اندھیروں کی قید میں ڈال دیا گیا اور قیامت تک ان کے حق میں یہ ندا دی گئی:

لَوْ لَاۤ اَنۡ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ لَـنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ ہُوَ مَذْمُوۡمٌ (سورۃ القلم: ۶۸؍۴۹)

ترجمہ: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیاہوا۔’’

ان اختلافات میں سے بعض اختلاف احوال و مقامات کے اعتبار سے ہیں اور بعض اس وجہ سے ہیں کہ ازل میں بندوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دے دی گئی اور ان کی قسمت میں تفاوت رکھا گیا۔ حضرت عیسیٰ‌علیہ السلام بھی انھی انبیاے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات میں سے تھے جن کو فضیلت دی گئی اور اسی ناز کی وجہ سے انھوں نے اپنےاوپر سلام بھیجا، ارشاد ہے:

وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوْمَ اَمُوۡتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (سورۃ مریم: ۱۹؍۳۳)

ترجمہ: اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گااور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا۔’’

آپ نے مقام انس دیکھا تو جرأت کی اور ناز کے طور پر یہ بات فرمائی۔ اس کے برخلاف حضرت زکریا‌علیہ السلام مقام ہیبت و حیا میں تھے تو انھوں نے خود اپنے اوپر سلام نہیں بھیجا، بلکہ رب تعالیٰ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: وَ سَلاَمٌ عَلَیْہ (ان پر سلام ہو) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم شریف۔

خیال رہے کہ اس طرح کی مثالیں بزرگوں کی کتابوں میں بھی بہت ملیں گی، اہل باطل نے ایک یہ بھی دھوکہ کھایا کہ انھوں نے اشخاص و افراد کے احوال و مقامات کے اختلاف کو نہیں سمجھا اور سب کو ایک ہی میزان میں تولنا شروع کر دیا اور اپنی ناقص عقل و علم کے ذریعہ تنقید شروع کر دی۔

رضا (دسواں مقام)

رضا کے فضائل:

آیات:

۱۔ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ (سورۃ البینہ: ۹۸؍۸)

ترجمہ: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔’’

وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدْنٍ ؕ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ (سورۃ التوبۃ: ۹؍۷۲)

ترجمہ: اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی۔’’

اس آیت میں جنات عدن کے مقابلے میں رضا کا مقام بڑھ کر فرمایا جیسے اپنے ذکر کو نماز سے اوپر قرار دیا، ارشاد ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ ؕ وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُ (سورۃ العنکبوت: ۲۹؍۴۵)

ترجمہ: بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا۔’’

احادیث:

۱۔ نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ انھوں نے کہا: ہم مومن ہیں، آپ نے فرمایا: تمھارے ایمان کی علامت کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہم آزمائش کے وقت صبر کرتے ہیں، فراخی کے وقت شکر ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہتے ہیں، آپ نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم تم مومن ہو۔(معجم کبیر)

۲۔ اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جس کو اسلام کی ہدایت دی گئی اور ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور وہ اس پر راضی ہے۔(مسند احمد)

۳۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے رزق پر راضی ہوتاہے اللہ تعالیٰ اس سے تھوڑے عمل پر راضی ہوتا ہے۔