مواد پر جائیں

باب ۴۶ از ۵۴صفحات ۵۵۴–۵۶۹

حالت موت

اور یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ جو حالت عنایت الٰہی سے بوقت موت ظاہر ہوگی وہ حالت نماز سے بلند ہوگی کیوں کہ موت احوال آخرت کے مقدمات سے ہے اور جو آخرت سے نزدیک وقریب ہے وہ اتم واکمل ہے،کیوں کہ اس جگہ (دنیا میں)صورت کا ظہور ہے اور اس جگہ(آخرت میں )حقیقت کا ظہور ہوگا اور دونوں میں بہت فرق ہے۔

حالت قبر

اسی طرح جو حالت کرم الٰہی سے برزخ صغریٰ یعنی قبر میں میسر ہوگی وہ اس حالت سے بلند ہوگی جو بوقت موت میسر ہوئی تھی اور برزخ صغریٰ کو برزخ کبریٰ(آخرت) کے ساتھ یہی نسبت ہے کیوں کہ آخرت میں مشہود اتم واکمل ہے اور جنات نعیم کا مشہود بہ نسبت آخرت اتم واکمل ہے اور ان سب سے بلند وہ محل وموطن ہے کہ جس کی خبر نبی کریم ﷺنے دی ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کی ایک جنت ایسی ہے جس میں حور ہیں نہ قصور(محلات) اس جنت میں ہمارا رب خوشی وراضی تجلی فرمائے گا ۔

پس سب سے نیچے درجے کے ظہورات دنیا ومافیہا کے ہوئے اور سب سے بالاتر وہ جنت بلکہ دنیا ظہور کے مواطن سے بالکل ہے ہی نہیں،ظلال کے ظہورات اور مثال کا نمود ہے جو کہ دنیا کے ساتھ مخصوص ہے،یہ ظہورات میرے نزدیک امور دنیوی میں شمار ہیں اور در حقیقت دائرہ امکان میں داخل ہیں،ان ظہورات کو خواہ

تجلیات صفات کہیں خواہ تجلیات ذات،فقیر(حضرت مجددقدس سرہ) پوری دنیا کو ملاحظہ کرتا ہے تو خالی محض پاتا ہے اور اس جگہ مطلوب کی خوشبو ناک میں نہیں پہنچتی ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہ آخرت کی کھیتی ہے مطلوب کو اس جگہ ڈھونڈنا خود کو پریشان کرنا ہے یا غیر مطلوب کو مطلوب جاننا ہے جیسا کہ اکثر اس میں گرفتار ہیں اور خواب وخیال کے ساتھ آرام حاصل کیے ہوئے ہیں،نماز ہی ہے جو اس جگہ اصل کی خبر رکھتی ہے اور مطلوب کی خوشبو لاتی ہے۔(ماخوذ از مکتوب 263)

نماز کی تمامیت وکمال

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک نماز کی تمامیت اور کمال چار چیزوں کا نام ہے(1)فرائض(2)واجبات(3)سنن(4)مستحبات، ان کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے خشوع بھی انہیں چار امور میں مندرج ہے اور خضوع قلب بھی انھیں امور سے وابستہ ہے کچھ لوگ ہیں جو ان امور کا کافی علم رکھتے ہیں مگر عمل میں سستی اور کاہلی کرتے ہیں اس لیے لا محالہ نماز کے کما لات سے کم حصہ رکھتے ہیں اور کچھ لوگ وہ ہیں جو حق سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ حضور قلب کا اہتمام رکھتے ہوئے اعمال ادبیہ(مستحبات) جن کا تعلق ظاہری اعضاء سے ہے کم اختیار کرتے ہیں اور فرائض وسنن پر ہی اقتصار کر لیتے ہیں یہ جماعت بھی حقیقت نماز سے آگاہ نہ ہوئی اور کمال نماز کو غیر نماز سے ڈھونڈا کیوں کہ حضور قلب کو منجملہ احکام نماز شمار نہیں کیا ہے ۔

اور وہ جو خبر میں ہے‘‘لاصلاۃ الا بحضور القلب’’ نماز نہیں ہے مگر حضور قلب کے ساتھ ، ہو سکتا ہے کہ اس حضور سے مراد وہ حضور قلب ہو جو ان چار امور کے ساتھ ہوتاکہ ان امور سے کسی امر کی بجا آوری میں کوئی فتور نہ آئے، اس حضور کے علاوہ کوئی دوسرا حضور اس وقت میری سمجھ میں نہیں ہے۔

ایک سوال اور اس کا جواب:یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نماز کی

تمامیت اور کمال ان ہی چار امور سے وابستہ ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا امر اس کے کمال میں ملحوظ نہیں تو نماز منتہی اور نماز مبتدی بلکہ نماز عامی جو کہ ان امور کی بجا آوری کے ساتھ ہو میں کیا فرق ہے؟ اس کے جواب میں حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ان سب کی نمازوں میں فرق عامل یعنی عمل کرنے والے کے اعتبار سے ہے نہ کہ عمل کے اعتبار سے ایک عمل کا اعتبار عاملوں کے مراتب کے فرق کے اعتبار سے متفاوت ہوتا ہے ،جو عمل عامل مقبول ومحبوب سے وقوع میں آتا ہے اس کا اجر اس عامل کے غیر کے اعتبار سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے کیوں کہ عامل جس قدر عظیم القدر ہوگا اس کا عمل اتنا ہی کثیر اجر والا ہوگا،یہی وجہ ہے کہ کہا گیا ہے کہ عارف کا عمل ریائی، مرید کے اس عمل سے بہتر ہے جو اخلاص کے ساتھ ہو تو پھر عارف کے اس عمل کا کیا ہوگا جو اخلاص کے ساتھ ہو پس منتہی درجے کے سالک کی نماز دنیوی نتائج وثمرات کے باوجود اس پر آخرت کا اجر عظیم مرتب ہوتا ہے برخلاف مبتدی اور عامی کی نماز کے؏

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

منتہی کی نماز کے کچھ خصائص ظاہر کرتا ہوں اسی سے قیاس کرلیں،کبھی ایسا ہوتا ہے کہ منتہی نماز میں قرات قرآن اور تسبیحات وتکبیرات کے بجا لانے کے وقت اپنی زبان کو شجر موسوی کی طرح پائے اور اپنے قویٰ وجوارح کو آلات ووسائط سے زیادہ نہ جانے اور کبھی پاتا ہے کہ ادائے نماز کے وقت باطن اور حقیقت پورے طور پر ظاہر اور صورت سے منقظع ہوکر عالم غیب سے ملحق ہو گئی اور عالم غیب سے مجہول الکیفیۃ نسبت پیدا کرلی ہے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتا ہے تو پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا ہے۔

اس کا دوسرا جواب بھی دیا جا سکتا ہے کہ امور اربعہ کو بہ تمام وکمال بجا لانا یہ منتہی ہی کا حصہ ہے مبتدی اور عامی سے بعید ہے کہ انہیں ان امور کو بہ تمام وکمال

بجالانے کی توفیق ملے اگرچہ ممکن وجائز ہے،(ماخوذ از مکتوب 305)

نماز چونکہ وصول الی اللہ کا بڑا ذریعہ اور جامع عبادات ہے لیکن تعجب ہے کہ جس قدر نماز اہم اور قرب وعرفان میں دخل رکھتی ہے اسی قدر اس کی طرف سے غفلت بھی زیادہ ہے ،یہ غفلتیں طہارت میں بھی ہیں اور نماز کو اس کے فرائض وواجبات اور سنن ومستحبات نیز خشوع وخضوع اور حضور قلب کے ساتھ ادا کرنے میں بھی ہے،اسی لیے حضرت مجدد قدس سرہ نے نماز کے فضائل ومناقب اور اس کی ادائیگی کے طریقے کو بڑے اہتمام کے ساتھ بیان فرمایا۔

لوگوں کو چاہیے کہ اس تعلق سے فقہ کی کتابوں کو تفصیل سے پڑھیں اگر عربی وفارسی میں نہ پڑھ سکیں تو بہار شریعت ہی پڑھیں اور فرائض وواجبات اور سنن ومستحبات وغیرہ تفصیل سے پڑھیں اور یاد کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں،تعدیل پر بھی بہت توجہ دیں اگر توفیق ہوئی تو نماز کے تعلق سے ایک رسالہ مستقل تالیف کروں گا ۔

نماز کے ساتھ ساتھ دیگر اذکار بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں : کوشش کریں کہ ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے کیوں کہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا اسے سوائے موت کے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز مانع اور رکاوٹ نہ ہوگی ۔

ہر نماز پنجگانہ ادا کرنے کے بعد 33بار کلمہ تنزیہ‘‘سبحان اللہ’’ 33بار کلمہ تمجید ‘‘الحمدللہ’’ 33بار کلمہ تکبیر‘‘اللہ اکبر’’ اور ایک بار ‘‘لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو علي ٰ كل شي قدير’’ پڑھیں تاکہ سو کی گنتی پوری ہو جائے۔

اس كے علاوه بھی آپ نے متعدد اذكار مختلف مکتوبات میں ذکر فرمائے ہیں

ہم نے ان چیزوں کو قدرے تفصیل سے "ذکروفکر " میں ذکر کردیا ہے(مکتوب17دفترسوم)

زکات:ارکان نماز کے علاوہ آپ قدس سرہ نے دیگر ارکان اسلام پر بھی بہت زیادہ زور دیا ہے چناں چہ آپ مذکورہ مکتوب میں فرماتے ہیں : اور ادائے زکات مال بھی ضروریات دین سے ہے لہٰذا برغبت ومنت اس کے مصارف تک زکات پہنچانا چاہیے،جب کہ منعم حقیقی جل سلطانہ اپنے عطیہ وانعام سے فرماتا ہے کہ چالیس حصوں سے ایک حصہ فقراومساکین کو دیں ہم اس کے بدلے تمہیں بڑا اجر اور عظیم بدلہ دیں گے ،وہ بہت بڑا بے انصاف بلکہ بڑا سرکش ومتمرد ہوگا جو اس جزء حقیر (چالیسواں حصہ)کو ادا کرنے میں بھی توقف کرے اور اس کو عطا کرنے میں بخل ختیار کرے ، اوامر شریعت کو بجالانے میں اس قسم کی جو توقفات ہوتی ہیں ان کا منشا قلبی مرض اور آسمانی نازل شدہ احکام پر عدم یقین ہے۔

محض کلمہ شہادت کہہ لینا کافی نہیں منافقین بھی تو یہ کلمہ کہتے تھے یقین قلب کی علامت خوشی ورغبت کے ساتھ شرعی احکام کو بجا لانا ہے ،ایک جتیل(اس زمانے کا سکہ) ادائے زکات کی نیت سے فقیر کو دینا ان لاکھوں روپے کے خرچ سے بہتر ہے جو اس نیت کے بغیر ہو کیوں کہ وہ ادائے فرض ہے اور یہ نفل اور نفل بہ نسبت فرض کچھ شمار واعتبارنہیں کاش کہ وہ نسبت ہوتی جو ایک قطرہ کو دریائے محیط سے ہے ،یہ شیطان لعین کی تسویلات اور آرائشوں سے ہے کہ لوگوں کو فرائض سے باز رکھ کر نوافل کی طرف توجہ دلاتا ہے اور زکات سے روکتا ہے۔

روزے: رمضان المبارک کے روزے بھی ارکان اسلام اور ضروریات دین سے ہیں ،اس کی ادا میں بھی اہتمام کرنا چاہیے اور نا مسموع اعذار کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑنا چاہیے،حضور اکرم ﷺنے فرمایا ہے کہ روزہ آتش دوزخ سے ڈھال ہے ، اگر کوئی ضروری رکاوٹ مثلا مرض کی وجہ سے روزہ قضا ہو جائے تو اس کو بلا تاخیر ادا

کرنا چاہیے سستی اور کاہلی کو دخل نہیں ہونا چاہیے،یہ کیسابندہ ہے اپنا اختیار نہیں رکھتا ہے،مولیٰ جل وعلا رکھتا ہے چارہ نہیں رکھتا ہے اس سے کہ اوامرونواہی کے مطابق زندگی بسر کرے تاکہ امید نجات متصور ہو اگر ایسا نہیں کرتا ہے تو وہ سرکش بندہ ہے جس کی سزائیں مختلف قسم کی عقوبات ہیں۔

فقیرمجددی عرض کرتا ہے کہ آج ہر ذی شعور محسوس کر سکتا ہے کہ ادائے زکات کے سلسلے میں لوگ کس قدر کوتاہی کرتے ہیں اکثر اہل تجارت کے حالات سامنے ہیں،لاکھوں کروڑوں کے کاروبار کرتے ہیں ،ڈھیروں کماتے ہیں ،نقد روپے ،مال وزیور اور نا معلوم کس قدر پلاٹ اور زمین رکھتے ہیں ،ایک ایک مالدار کے نا معلوم کتنے کاروبار ہیں مگر زکات کا چالیسواں حصہ ان پر نہایت گراں ہے اگر رمضان میں کچھ ادا بھی کیا تو بہت تھوڑا،اسی طرح اکثر کاشتکار تھوڑی یا زیادہ زمینیں رکھتے ہیں اور سال میں کئی کئی فصلیں کرتے ہیں اور بہت پیدا کرتے ہیں مگر عشر نہیں دیتے اگر دیتے بھی ہیں تو تھوڑا بہت گیہوں وغیرہ دے دیتے ہیں وہ بھی کوئی عشر یا زکات کی نیت سے نہیں ۔

یہی وہ اہل تجارت اور کاشتکار ہیں جو شادیوں اور عقیقوں میں بے تحاشہ خرچ کرتے ہیں اور ولیموں میں بے پناہ تکلفات کے ذریعہ ناموری کے لیے لاکھوں روپے لٹادیتے ہیں ،سجاوٹوں اور لذیذ کھانوں میں کیا کیا تکلفات ہو رہے ہیں یہ سب دیکھ رہے ہیں، افسوس صد افسوس! غریبوں اور مدارس کی مددکے لیے ان کے پاس کوئی دولت نہیں، غریبوں کی جوان بیٹیاں بوڑھی ہوئی جارہی ہیں غربت کی وجہ سے مجبور ہیں شادیاں نہیں ہورہی ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں ۔

کاش یہ بے جا روپے خرچ نہ کرکے رقومات کو بچاتے اور ان کو غرباء ،مساکین اور بیواؤں پر خرچ کرتے اور غریبوں کی شادیاں کرتے تو خداوند قدوس ان کی مدد کرتا اور انہیں مزید دولتیں دیتا اور ان کے ذریعہ عزتیں عطا کرتا۔ہمارا اندازہ ہے کہ

اگر شہر وقصبات اور دیہات کے سارے ہی لوگ صرف مکمل زکات ہی ادا کرنے لگیں اور اسے منظم طور پر صحیح ضرورت کی جگہ خرچ کریں تو سارے مسائل حل ہو جائیں،لوگوں کی غربتیں دور ہوں ،شادیاں ہو جائیں اور مدارس بھی ترقی کرجائیں۔

حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ملعون شیطان کی تسویلات سے یہ بھی ہے کہ وہ نوافل پر ابھارتا ہے اور فرائض ترک کراتا ہے،آج مشاہدات ہیں کہ نفلی نمازوں صلاۃ التسبیح وغیرہ کو بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں اور فرض نمازوں کی کوئی پرواہ ہی نہیں ، نیز بزرگوں کی چادروں وغیرہ میں خوب روپے خرچ کرتے ہیں مگر زکات کے لیے تیار نہیں ۔

اسی طرح بہت سے مالدار فرض حج کے بعد نرے نرے نفلی حج اورعمرے کرتے ہیں اور وہاں بہت سی رقومات خرچ کرتے ہیں مگر اکثر حاجی آج تک فرض نمازوں کے پابند نہیں کاش کہ یہ نماز کا اہتمام کرتے اور اور حج فرض پر اکتفا کرکے زکات دیتے، غریبوں اور دین کی مدد میں خرچ کرتے تو یہ بھی گناہوں سے بچتے اور غریب بھی ترقی کرتے، یہ ایسی دردناک کہانی ہے کہ بیان سے باہر ہے، اب کون ان باتوں پر دھیان دینے والا ہے ، ہم اپنے عقیدتمندوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ حضرت مجدد قدس سرہ کی ان وصیتوں اور نصیحتوں پر عمل کریں اور دوسروں کو اسی کی تعلیم دیں اور فرائض وارکان کو بڑے اہتمام سے ادا کریں۔

عبادت کی ایک اور قسم

آپ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اعتقاد کو صحیح کرنے اور شریعت حقہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام والتحیۃ کے تقاضے کے مطابق اعمال صالحہ کو بجا لانے کے بعد اپنے اوقات کو ذکرالٰہی کے ساتھ معمور رکھنا چاہیے اور اس کی یاد سے خالی نہیں رہنا چاہیے،ظاہر کو اگر خلق کے ساتھ مشغول رکھیں تو چاہیے کہ باطن حق جل وعلا کے ساتھ مشغول رہے اور اس کی یاد سے لذت حاصل کریں ۔یہ دولت ہمارے حضرات خواجگان قدس اللہ اسرارہم کے طریقہ میں مبتدی کو

پہلے ہی قدم میں شیخ کامل کی صحبت میں اللہ تعالیٰ کی عنایت سے میسر ہے ۔

اس کے بعد ذکر وغیرہ کے تعلق سے آپ نے اہم نصیحتیں سپرد قلم فرمائیں،الغرض عبادت کے مختلف انواع واقسام ہیں چاہیے کہ ہر ایک میں کوشش کریں اور کثرت اختیار کریں ،جو لوگ طریقت کا کام کرتے ہیں اور ان سے ارشاد وہدایت کا تعلق ہے اخلاص کے ساتھ عبادت کی کثرت ان سے وابستہ لوگوں کو بھی عبادت پرابھارے گی اور باطنی ترقیات کا سبب بنے گی، جو لوگ دینی نفعات خواہ ان کا تعلق ظاہری تعمیر سے ہو یا باطنی ایسے حضرات کو چاہیے کہ نماز کے فرائض اورضروری نوافل پر اکتفا کرکےنفع رسانی کے کام پر زیادہ دھیان دیں،خاص کر اس دور میں باطن کی تعمیر پر پوری توجہ صرف کردیں اور زیادہ تراوقات تصفیہ قلب وتزکیہ نفس اور طریقت کے آداب وغیرہ کی تعلیم میں صرف کریں بقدرضرورت ظاہر کی تعلیم کے بعد اور اگر علم ظاہر وباطن کا جامع انداز میں کام کرسکیں تو کیا بات ہے؟۔

جذب کا دوسرا طریقہ یعنی صحبت: انسان کی اچھی بری تعمیر میں سب سے زیادہ دخل صحبت کو ہے،اچھوں کی صحبت اچھا بناتی ہے انسان عقیدہ وعمل میں جس قدر اچھا ہوگا اتنے ہی اس کے ہم نشین لوگوں میں اس کے اثرات سرایت کریں گے،اگر پختہ سنی ہے تو اس کے پاس بیٹھنے والے پختہ سنی ہوں گےِ عقیدہ کی درستگی کے ساتھ اس کے اعمال جتنے اچھے ہوں گے،تقویٰ اور دیگر اوصاف جس قدر عمدہ ہوں گے اور اس شخص کے اندر جس قدر تبلیغ وتربیت کا جذبہ ہوگا اسی قدر اس کے اوصاف دوسروں میں سرایت کریں گے۔

اگر انسان عقیدہ وعمل میں خراب ہوگا تو اسی طرھ کے عقائد اس کے پاس بیٹھنے والوں میں پیدا ہوں گے،اگر بد عمل ہوگا تو کبھی اس کی صحبت میں بیٹھنے والے باعمل نہیں ہوسکتے بلکہ احتمال ہے کہ باعمل بھی بد عمل ہو جائیں،اسی لیے

قرآن مجیدوحدیث شریف میں اچھوں کی صحبت اختیار کرنےاور بروں کی صحبت سے پرہیز کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ،ارشادخداوندی ہے:

فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ (سورۃ الانعام: ۶؍۶۸)

یاد آنے کے بعد اس قوم کے پاس نہ بیٹھو جس نے ظلم کیا۔ ‘‘

جو گناہ کرتے ہیں وہ بھی ظالم کہلاتے ہیں،اس سے معلوم ہوا کہ ظلم اورگناہ کرنے والوں کے پاس اگر بھولے سے بیٹھ جائے تو یاد آنے پر فورا اٹھ جائے،یہ بھی یاد رہے کہ عمل کے اعتبار سے جس قدر مناسبت زیادہ ہوتی ہے اسی قدر اثرات مرتب ہوتے ہیں،ایک گناہگار کی صحبت جس قدر مضر ہے اتنی کافر کی نہیں،ارشادخداوندی ہے:

وَ لَا تُطِعْ مِنْہُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوۡرًا (سورۃ دھر: ۷۶؍۲۴)

ان میں سے نہ گناہگار کی اطاعت کرو اور نہ کافر کی ۔’’

علما فرماتے ہیں کہ آثم کی تقدیم اسی لیے ہے کہ اس کا دینی اعتبار سے قریب ہونا انسان کو شبہ میں ڈال دیتا ہے اور اس کے حق وباطل میں عام انسان فرق نہیں کرپاتاہے اس کے برخلاف کافر کا باطل پرہونا عام سے عام مسلمان کو بھی معلوم ہوتا ہے لہٰذا وہ کسی بھی دینی معاملے میں اس پر اعتماد نہیں کرتا ہے۔

آج مشاہدہ ہے کہ تبلیغی جماعت سے یا جو گمراہ لوگ حنفی کہلاتے ہیں ان سے جس قدر اسلام وسنیت کو نقصان ہےوہ غیر مقلدین اور قادیانیوں وغیرہ سے نہیں ہے کیوں کہ وہ عقیدہ وعمل کے اعتبارسے زیادہ دوری رکھتے ہیں،اسی طرح جتنا نقصان غیرمقلدوں سے ہے اتنا قادیانیوں اور رافضیوں سے نہیں ہے،جس کا اعلان جتنا زیادہ واضح ہوتا ہے اسی قدر اس کے اثرات سے حفاظت رہتی ہے۔

حضور ﷺنے نیکوں کے پاس بیٹھنے والے کو مشک والے کے پاس بیٹھنے سے تشبیہ دی ہے کہ گویا تو مشک لے لے گا یا کم ازکم خوشبو ملے گی یعنی ہرحال میں

نفع ہوگا اور بروں کے پاس بیٹھنے والے کو لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھنے والے سے تشبیہ دی ہے کہ یا تو چنگاری اڑ کر جلا دے گی یا اس کی گرمی اور دھواں وغیرہ لگے گی یعنی ہر حال میں نقصان اٹھائے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ عقیدہ وعمل میں پختگی ،استقامت اور کمال کے ساتھ ساتھ جس قدر انسان انوار وتجلیات اور قرب وعرفان کا حامل ہوگا اور باطن معمورہوگا اسی قدر بحسب مناسبت باطن کی تعمیر عمدہ اور اچھی ہوگی اور صحبت موثر ہوگی۔

اس عالم رنگ وبو میں سب سے اہم،سب سےمفیداورسب سے زیادہ موثر صحبت حضور سرور کائنات ﷺکی تھی،ایمان لانے کے بعد ایک ہی صحبت میں بحسب استعداد انسان قرب کی انتہا کو پہنچ جاتا تھا،قرب الٰہی میں سب سے زیادہ موثر ومفید یہی صحبت ہے،سرور کائنات ﷺکے بعد آپ کے وہ کامل نائبین جو ظاہروباطن میں زیادہ مناسبت رکھتے اپنے اپنے درجے کے اعتبارسے اسی قدر مفیدصحبت رکھتے ہیں،یہ بحث اپنے تمام تر گوشوں کےاعتبار سے کافی طول کی طالب ہے ہم صرف امام ربانی حضرت مجددالف ثانی قدس سرہ کے چندارشادات پر اکتفا کرتے ہیں جن سے صحبتوں کی تاثیرات اور افادیت واہمیت اور تفاوت آپ سمجھ سکتے ہیں۔

حضرت مجدد کے چند ارشادات:

(1)حضرت میر محمدنعمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ارباب جمعیت کی صحبت کی رغبت دلاتے ہوئے فرماتے ہیں"فرصت تھوڑی ہے اور اس کو اعلیٰ ترین مقاصد میں خرچ کرنا ضروری ہےاور وہ ارباب جمعیت کی صحبت ہے،صحبت کے برابر کسی چیز کو مت قرار دینا خواہ وہ کوئی ہو،کیا نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو فضیلت دی گئی صحبت کی بدولت ان تمام لوگوں پر جواصحاب کے ماسوا ہیں غیر انبیاء علیہم السلام کے اگرچہ وہ اویس قرنی ہوں یا عمر مروانی باوجودیکہ یہ نہایت

درجات کو پہنچے ہوئے تھے اور غایت کمالات تک واصل تھے سوائے صحبت کے پس لا محالہ حضرت معاویہ کی خطا ان دونوں حضرات کےصواب سے بہتر ہے صحبت کی برکت کی وجہ سے اور عمر وابن العاص کی سہو ان دونوں کے صحو سے افضل ہے کیوں کہ ان اکابر کےایمان حضور ﷺ کی صحبت،ملک(فرشتہ) کے حضور،وحی کے شہود اور معجزات کے معاینہ کی وجہ سےشہودی ہوگئے تھے اور ان بزرگوں کے علاوہ کو وہ کمالات میسر نہیں آتے جو کہ تمام کمالات کے اصول ہیں اور اگر حضرت اویس قرنی اس خصوصیت کے ساتھ فضیلت صحبت کو جان لیتے تو انھیں صحبت سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنتی اور اس فضیلت پر تو وہ کسی چیز کو اختیار نہ کرتے "۔(مکتوب120دفتراول)

(2) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کےفضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خلاصہ یہ ہے کہ قرآن پاک نے صحابہ کی مدح کرتے ہوئے انھیں رحیم اور مہربان قراردیاہے لہٰذا جو چیزیں رحم اور مہربانی کے منافی اور خلاف ہوں گی وہ ان بزرگوں سے دائمی طور پر مسلوب ہوں گی لہٰذا ان سے بغض وکینہ اور حسدوعداوت کا تصور نہیں ہوسکتا ہے ،حضور ﷺکے فیض صحبت کی وجہ سے یہ حضرات اس امت خیرامم کے بہترین افراد ہیں اور اس ملت کے سابق ترپن یہی صحابہ ہیں،ان کا قرن(زمانہ) سب سے بہتر تھا،ایمان میں سابق ترین ہیں،اموال کے خرچ میں اولیت ان کو حصل ہے،جانوں کی قربانی ان کو میسرہے،جو لوگ کہ اس امت کے اولیائے کبار کی صحبت میں زندگی گذارتے ہیں ان رذائل سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں ۔(ماخوذ از مکتوب 24 دفترسوم)

(3)محمود پہلوان کے نام لکھے گئے مکتوب میں فرماتے ہیں: سعادت مند وہ ہے کہ جس کا دل دنیا سے سرد ہوگیا ہو اور محبت حق سبحانہ تعالیٰ کی حرارت سے گرم،دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے اور اس کا ترک تمام عبادتوں کی بنیاد ہے کیوں

کہ دنیا حق تعالیٰ کی مبغوض ہے،جس سے اسے پیدا فرمایا ہے آج تک اس کی طرف نظر نہ فرمائی،دنیا اور اہل دنیا طرد(بھگانا)اور لقن کے داغ سے موسوم ہیں۔

خبر میں ہے ‘‘الدنیا ملعونۃ وملعون ما فیہا الاذکر اللہ’’یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملوان ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ذکر،جب ذاکرین بلکہ ان کے وجود کے ذروں سے ہر ذرہ اللہ سبحانہ کے ذکر سےپر ہے اور بھرا ہوا ہے تو حق کے ذاکرین اس وعید سے خارج ہوں گے اور اہل دنیا کے شمار میں نہیں آئیں گے،دنیا وہ چیز ہے کہ دل کو حق سبحانہ وتعالیٰ سے باز رکھتی ہے اور غیر حق سبحانہ کے ساتھ مشغول کرتی ہے،وہ غیر خواہ اموال واسباب ہوں خواہ جاہ وریاست اور خواہ ننگ وناموس‘‘فاعرض عمن تولیٰ عن ذکرنا’’ یعنی ان لوگوں سے منہ پھیر لو جنھوں نے ہمارے ذکر سے منہ پھیر لیا ،نص قطعی ہے، جو کچھ دنیا سے ہے بلائے جان ہے ،اہل دنیا دنیا میں ہمیشہ تفرقہ میں اور آخرت میں حسرت وندامت والوں سےہیں۔

ترک دنیا کی حقیقت: ترک دنیا کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی طرف رغبت نہ رہے اور ترک رغبت اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا دونوں برابر ہو جائے، اور اس دولت کا حصول ارباب جمعیت کی صحبت کے بغیر مشکل ہے اگر ان بزرگوں کی صحبت میسر آئے تو غنیمت شمار کرنا چاہیے اور خود کو ان ہی کے سپرد کردینا چاہیے۔(مکتوب 197دفتراول)

(4)اولیائے کرام سے محبت: حدیث شریف میں ہے "المرء مع من احب" یعنی آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے محبت کرتا ہے، یہ ذکر کرنے کے بعد آپ قدس سرہ فرماتے ہیں:اولیا سے محبت کرنے والے ان کے ساتھ ہیں، اور یہی اولیا ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا شقاوت سے محفوظ ہے ،پھر اس سلسلے میں بخاری وغیرہ کی وہ مشہور حدیث ذکر فرمائی جس کے آخر میں ہے‘‘ھم الجلساء لا یشقیٰ جلیسہم’’ پھر فرماتے ہیں بحکم حدیث ‘‘انا جلیس من ذکرنی’’رب تعالیٰ

فرماتا ہے کہ میں اس کا ہم نشین ہوں جو میرا ذکر کرتے ہیں، اولیائے کرام کا ہم نشین بدبخت نہیں ہوگا۔(مکتوب 203)

(5)حضرت خواجہ محمد بدخشی سے فرماتے ہیں کہ اس بھائی کے کلمہ وکلام سے حرارت طلب مفہوم ہوتی ہے اور جمعیت کی بو آتی ہے شاید کہ یہ دولت قرب صحبت کا اثر ہے،بے فائدہ گرفتاریوں نے تمہیں نہ چھوڑا کہ ایک ہفتہ صحبت رکھتے ،تمھاری صحبت کے تمام ایام معلوم نہیں کہ دس روز بھی ہے،خدا سے شرم رکھنا چاہیے اور ہزار دنوں سے ایک دن بھی خدا کے واسطے انتخاب نہیں کرتے اور تعلقات شتّٰی سے خود کو جمع نہیں کرتے ،حجت تم پر درست ہو گئی ہے اور اپنے وجدان سے جانتے ہو کہ ایک گھڑی یہ صحبت مجاہدہ کے چلوں اور اربعینات سے بہتر ہے اس کے باوجود اس صحبت سے گریزاں ہو اور حیلوں سے خود کو دور ڈالتے ہو ،تمھاری استعداد کا جوہر نفیس ہے لیکن کیا فائدہ کہ قوت سے فعل میں نہ آئے،تمھاری استعداد بلند وارفع ہے لیکن تمھاری ہمت پست ہے۔(مکتوب203(

(6)حضرت میر ماہ محمود رحمۃ اللہ علیہ کو تحریر فرماتے ہیں: اس طریقہ عالیہ میں پہلی برکت کہ صحبت اول میں مبتدی مریدوں کو حاصل ہوتی ہے ،مطلوب حقیقی جل سلطانہ کی طرف قلب کی دوام توجہ ہے اور تھوڑی سی فرصت میں یہ دوام توجہ ماسوا (حق)کے نسیان تک پہنچاتی ہے کہ اگر بالفرض طالب(خدا) کی عمر ہزار سال وفا کرے تب بھی غیر حق سبحانہ اس کے دل میں نہ گذرے۔

اس نسیان کی وجہ سے جو اس کو ماسواسےحاصل اگر بہ تکلف وتعمل اس کو ماسوا کی یاد دلائیں تب بھی یاد نہ کرے اور جب یہ نسبت حاصل ہوتی ہے تو اس راہ میں پہلا قدم ہوتا ہے ،دوسرے،تیسرے اور چوتھے جہاں تک خدا چاہے، قدموں کے بارے میں کیا لکھے کہ تھوڑا زیادہ پردلالت کرتا ہے اور قطرہ سمندر کی خبردیتا ہے(مکتوب 83دفترسوم)

حضرت علامہ نوربخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور سید المرسلین ﷺکی اول صحبت میں وہ کمال حاصل کیا جو اولیائے امت میں کسی کو انتہا میں بھی حاصل نہیں ہوا ،اس آفتاب رسالت کے ایک ہی پرتو سے ان کے لطائف سے کدورتوں کے پردے دور ہوکر وصل بے چوں حاصل ہو گیا ، اسی طریق انعکاس کو حضرات نقشبندیہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے۔

ان کا طریق عین صحابہ کرام‌رضی اللہ عنہم ہے۔ اس میں افادہ و استفادہ انصباغی و انعکاسی ہے یعنی سالکین کے دل صحبت کی برکت سے واصلین کے دلوں کے معارف کے انوار سے رنگے جاتے ہیں اور واصلین کے دلوں کے آئینوں سے صور انوار الٰہیہ طالبوں کے دلوں کے آئینوں کی طرف منعکس ہوتی ہیں۔ پس شیخ کامل مکمل کی صحبت و توجہ انعکاس و انصباغ کے لیے کافی ہے، مگر اس کے ساتھ آداب صحبت کی رعایت ضروری ہے مثلاً تمام حرکات و سکنات اور عبادات و معاملات میں سنت سنیہ کی کمال اتباع کرنا، پیر سے نہایت محبت رکھنا ظاہر و باطن میں اس کی فرماں برداری کرنا، اس کے کسی فعل پر اعتراض نہ کرنا اور اپنے تئیں اس طرح اس کے حوالے کرنا جیسا کہ مردہ غسّال کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ میرے پیر دستگیر قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ وصول الی اللہ کے لیے چلوں کی نسبت توجہ کا راستہ بہت ہی قریب ہے۔

آنکہ بہ تبریز یافت یک نظر شمس دیں

سخرہ کند بر دہر طعنہ زند بر چلّہ

واصلین کی صحبت کی تاثیر محتاج بیان نہیں۔ عارف رومی فرماتے ہیں؎

یک زمانہ صحبت با اولیا

بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

گر تو صخرہ سنگ یا مرمر شوی

چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی

حضرت خواجہ احرار قدس سرہ اس طرح فرماتے ہیں؎

نماز را بحقیقت قضا بود لیکن

نماز صحبت ما را قضا نخواہد بود

حضرت خواجہ یوسف ہمدانی قدس سرہ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہو، اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو اس بزرگ کی صحبت میں رہو جو اللہ تعالیٰ کی صحبت میں رہتا ہے کیوں کہ ان کی صحبت کی برکت تم کو اللہ تعالیٰ کی صحبت تک پہنچا دےگی۔ حضرت مولانا روم قدس سرہ فرماتے ہیں؎

ہر کہ خواہد ہم نشینی با خدا

گو نشیند در حضور اولیا

مذکورہ بالا بیان سے صحبت صالحین کی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسلاف اور علما و مشائخ کی صحبتیں دینی زندگی کے لیے بے پناہ مفیدہوتی تھیں۔ اسلاف کی عادت تھی کہ ان کی مجلسوں میں بیٹھنے والے صرف صحبت سے بہت کچھ عقائد و اعمال کا علم حاصل کر لیتے اور با عمل ہو جاتے۔ افواہ رجال (لوگوں کے منہ) تعلیم کا بہت کامیاب طریقہ رہا ہے، علما و مشائخ کو شوق تھا، وہ اخلاقی و شرعی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ گذشتہ زمانوں کے عوام بھی علم کے شوقین تھے، وہ مسائل پوچھتے تھے اور انھیں حفظ کر لیتے تھے۔ عوام کے لیے علما و مشائخ کی صحبتیں کامیاب درس گاہیں تھیں۔ مشائخ طریقت تعلیم ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنی باطنی توجہات کے ذریعہ تعمیر باطن بھی فرماتے اور ان کی موثر صحبتیں تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کا کام کرتیں اور تصوف کو بحیثیت فن بھی سکھاتے اور مدارج طے کراتے۔ اب رفتہ رفتہ سب کچھ ناپید ہو گیا ہے۔ اب نہ علما کو فکر کہ عوام کو سکھائیں نہ ہی عوام کو علما سے کوئی اس معاملے میں تعلق رہا۔ مشائخ تو اکثر ظاہر و باطن سے کورے ہیں۔ لہٰذا وہ تعمیر ظاہر و باطن کیا کریں اور اس دور میں نامعلوم کون لوگ روحانیت کے حامل ہیں جنھیں کچھ ظاہری علم سے حصہ بھی ملا ہے انھیں تربیت کی کوئی فکر نہیں حالاں کہ اب بھی یہ کر سکتے ہیں کہ صوفیہ کرام کی کتابوں سے اخلاق حسنہ کی ترغیب دیں، انھیں

سکھائیں، بتائیں، اخلاق رزیلہ اور امراض قلبیہ کی نشان دہی کریں، ان کا علاج بتائیں، قرآن و حدیث وغیرہ کے ذریعہ ترغیب دیں تب بھی کافی حد تک تہذیب اخلاق کا کام ہو سکتا ہے، مگر کوئی اب دنیا کی باتوں سے ہی فرصت نہیں۔