باب ۴۷ از ۵۴صفحات ۵۶۹–۵۷۹
چند بُری خصلتیں
زبان: اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک زبان بھی ہے بندہ اگر چاہے تو اسی زبان کے ذریعہ اچھی آواز اور عزت ووقار پیدا کر سکتا ہے اور اس کے ذریعہ آخرت کے بہت سے ثواب جمع کر سکتا ہے،اگر یہ میٹھی رہے تو دلوں کو کھینچ لیتی ہے اسی کے ذریعہ علوم دینیہ کی تدریس،ذکر وتلاوت،تسبیح وتقدیس اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اہم امور انجام دیے جا سکتے ہیں اور آخرت کی بڑی دولت جمع کی جا سکتی ہے،گھر سے لے کر انجمن تک خلوت سے لے کر جلوت تک دن رات زبان کے ذریعہ نیکیاں حاصل کی جا سکتی ہیں، اور یہی زبان ہے اگر اس کا غلط استعمال ہو تو برائیاں ہی برائیاں فساد ہی فساد،اور اختلاف ہی اختلاف رونما ہو جائے۔ غیبت وچغلی اس کے ذریعہ،گالی گلوچ اس کے ذریعہ،دل آزاریاں اس کے ذریعہ،بحث وتکرار اس کے ذریعہ اور نہ معلوم کیا کیا اس کے ذریعہ ہوجائے۔اس کی آفتیں بےشمار ہیں گانوں میں یہ استعمال ہوتی ہے،ناجائز غزلوں میں یہ،فحش باتوں میں یہ جھوٹ اور لا یعنی باتیں بھی اسی کے ذریعہ ہوتی ہیں،اس کو قابو میں رکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،اسی لیے حدیث شریف میں آقا علیہ السلام نے فرمایا: جو زبان اور شرمگاہ کی ذمہ داری لے لے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت لیتا ہوں۔
امام محمد غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں: زبان اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی صفات عجیبہ کے لطائف میں سے ایک لطیفہ ہے،اس کا
جسم چھوٹا لیکن اطاعت وجرم بڑا ہے کیوں کہ کفر وایمان میں تفریق زبان کی شہادت کے بغیر نہیں ہوتی اور یہ دونوں اطاعت ونافرمانی کا انتہائی درجہ ہیں ۔
پھر یہ موجود ومعدوم،خالق ومخلوق،متخیل ومعلوم،مظنون و موہوم کا تعلق زبان سے ہے وہ اسے ثابت کرتی ہے یا اس کی نفی کرتی ہے،جو کچھ بھی علم میں ہوتا ہے زبان اس کو بیان کرتی ہے چاہے وہ حق پر ہو یا باطل پر،اور علم میں ہر چیز شامل ہے، یہ خاصیت جسم کے دوسرے اعضا کو حاصل نہیں،وہی شخص زبان کی شر سے محفوظ رہ سکتا ہے جو شریعت کی لگام کے ذریعہ اسے قابو میں رکھتا ہے اور اسے اسی بات کے لیے استعمال کرتا ہے جو اسے دنیا اور آخرت میں نفع دے اور اس سے روک لیتا ہے جس سے ان اعمال یا مستقبل میں گمراہی کا خطرہ ہو، اس کی آفات اور گمراہیوں سے بچنے میں لوگ سستی کرتے ہیں،اسی طرح اس کے جالوں اور رسیوں سے بھی نہیں بچتے حالانکہ انسان کو گمراہ کرنے میں زبان شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
حضرت امام قدس سرہ نے احیاء العلوم جلد سوم میں زبان کی بیس آفتیں بڑی تفصیل سے بیان فرمائی ہیں بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ ایسی کتابوں کو پڑھتے نہیں عوام کو تو کوئی تعلق نہیں خواص اور اہل علم بھی اکثر ان کتا بوں سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتے جن سے اخلاق کا تعلق ہے اگر کسی میں کچھ دل چسپی ہےبھی تو درسیات سے یا دیگر فتوؤں وغیرہ کی کتب سے،درسیات میں بڑی غفلت یہ ہے کہ احادیث وغیرہ میں اکثر ان ابواب سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے جن کا تعلق اخلاقیات سے ہے جب کہ آج کا دور ایسا ہے کہ ہر طرف مخرب اخلاق سامان موجود ہے،دور کا تقاضہ تھا کہ اخلاقیات پر کافی توجہ دی جاتی،اب تو خواص کا حال یہ ہے کہ اسی زبان کے ذریعہ رات ودن بہت گناہ کرتے ہیں اور یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم گناہ کر رہے ہیں۔
زبان کی آفتیں
حضرت امام قدس سرہ کی بیان کردہ بیس آفتیں یہ ہیں۔
(1)بے مقصدگفتگو
جان لو بہترین حالت یہ ہے کہ اپنے الفاظ کو ان آفتوں مثلا غیبت،چغلی،جھوٹ اور جھگڑے وغیرہ سے بچاؤ اور ایسی جائز گفتگو کرو جس میں نہ تمہارا نقصان ہو اور نہ ہی کسی دوسرے مسلمان کا اگر تم ایسی گفتگو کروگے جس کی تمہیں حاجت نہیں ہے تو اس طرح تم اپنا وقت ضائع کروگے اور تمہارے اس زبانی عمل کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی اور اس طرح تم اچھی چیز دے کر اس کے بدلے میں بری چیز لینے والے ہوگے،کیوں کہ گفتگو پر صرف ہونے والا وقت غور وفکر پر خرچ کرو تو اس کے نتیجے میں تمہیں فتوحات غیبیہ سےایسی چیز حاصل ہوگی جس کا نفع زیادہ ہوگا اور اگر تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو سبحان اللہ اور لا الہ الا اللہ پڑھو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے،کتنے ہی کلمات ایسے ہیں کی ان کی وجہ سے جنت میں محل بنایا جاتا ہے اور جو شخص اس بات پر قادر ہو کہ خزانوں میں سے کوئی خزانہ حاصل کرے لیکن وہ ایک غیر نافع ڈھیلا اٹھا تا ہے تو وہ واضح نقصان اٹھاتا ہے یہ اس شخص کی مثال ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو چھوڑتا ہےاور جائز لیکن بے مقصد کلام میں مشغول ہوتا ہے اگرچہ وہ گنہ گار نہیں ہوتا لیکن وہ نقصان اٹھاتا ہےکیوں کہ اس سے وہ بہت بڑا نفع ضائع ہو گیا جو اسے ذکر خداوندی کے ذریعہ حاصل ہوتا کیوں کہ مومن کی خاموشی فکر ،نطر عبرت اور بولنا ذکر ہونا چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے،جب کہ بندے کا اصل مال وقت ہے اور جب وہ اسے بے مقصد کام میں لگاتا ہے اور اس کے ذریعہ آخرت کا ثواب حا صل نہیں کرتا ہے تو وہ اپنےاصل مال کو ضائع کرتا ہے،اسی لیے نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: من حسن اسلام المرء ترک مالا یعنیہ’’یعنی انسان کے حسن اسلام میں سے لایعنی باتوں اور بے مقصد باتو ں کا چھوڑدینا ہے۔
اس کلام کو بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ آج کل لوگ اگر زیادہ احتیاط کرتے
ہیں تو بس اتنی کہ حرام بولیوں سے خود کوبچا لیتے ہیں بے مقصد باتوں اور لایعنی کاموں سے بچانے کی طرف تو دھیان بھی نہیں جاتا ،عوام کو تو زبان کے احتیاط سے کوئی تعلق ہی نہیں،روزوشب وہ کیا کیا کہتے ہیں، کیا کیا کرتے ہیں الامان والحفیظ،عارف رومی قدس سرہ فرماتے ہیں؎
اہل دنیا کافران مطلق اند
روز وشب درزق زق دربق بق اند
خواص کا بھی کچھ عجیب حال ہے اکثر ہیں جنہیں زبان کی آفتوں کی فکر نہیں خواہ احباب کے ساتھ ہوں یا اہل وعیال کے ساتھ یا دیگر اہل تجارت وغیرہ کے ساتھ،جتنی دیر جس کے ساتھ جو چاہتے ہیں بات کرتے ہیں،یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ہم لا حاصل یا بے مقصد گفتگو کر رہے ہیں،زائد گفتگو کی کوئی فکر نہیں حالانکہ چاہیں تو بہ آسانی ضروری گفتگو پر اکتفا کرکےباقی اوقات ذکر وفکر اور عبرت کے لیے استعمال کرسکتے ہیں نیز اہل وعیال اور اعزا واقربا اور مہمانوں وغیرہ کے ساتھ بہت سی گفتگو کو حسن نیت کے ساتھ حسن بنایا جا سکتا ہے،علما کو بھی چاہیے کہ عوام کی تربیت کریں اور اس طرح کے موضوعات وعنوانات پر تقریر کریں کہ جو ان کے کیے مفید ہوں، حضرت امام غزالی قدس سرہ کی یہ نصیحت بھی یاد رکھیں اور با مقصد بھی بے محل نہ ہو کیوں کہ بہت سے گفتگو کرنے والے بامقصد باتیں کرتے ہیں لیکن وہ اپنے محل پر نہیں ہوتی ہیں تو اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے،کسی بردبار اور بے وقوف سے بحث نہ کرو کیوں کہ بردبار تمہیں دل سے برا سمجھے گا اور بے وقوف تمہیں اذیت پہنچائے گا ،اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے اسی طرح ذکر کرو جس طرح تمہیں محبوب ہو کہ وہ تمہاراذکر کرے اور اس کی ان باتوں کو معاف کردو جن کے بارے میں تم چاہتے ہو کہ وہ تمہیں معاف کردے،اپنے بھائی سے ایسا معاملہ کرو جیسا اس سے چاہتے ہو اور اس آدمی کی طرح عمل کرو جس کو یقین ہے کہ نیکی پر اسے بدلہ دیا جائے گا اور جرم پر سزاپائے گا۔
(2)فضول کلام
یہ بھی مذموم ہے اور یہ بے کلام میں مشغول ہونے کو بھی شامل ہے اور اس کلام کو بھی جو اگرچہ فائدہ مند ہو لیکن ضرورت سے زائد ہو،اگر کسی کو کوئی بات کہنا ہو تو وہ مختصر گفتگو کے ذریعہ بھی اس کا ذکر کرسکتا ہے اور اسے بڑھا بھی سکتا ہے کہ بار بار ذکر کرے اگر ایک کلمہ سے اس کا مقصد حاصل ہو سکتا ہو اور وہ دو کلمے ذکر کرےتو دوسرا کلمہ فضول ہوگا یعنی ضرورت سے زائد ہوگا اور وہ بھی مذموم ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا اگرچہ اس میں کوئی گناہ یا ضررنہ ہو، حضرت عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں: تم سے پہلے لوگ فضول کلام کو نا پسند کرتے تھے اور اس کلام کو فضول سمجھتے تھے جو قرآن پاک ،سنت اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے علاوہ ہو یا وہ معاشی ضروریات سے متعلق ہو ، کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ تم پر حفاظت کرنے والے فرشتے کراماً کاتبین ہیں جو دائیں بائیں کاندھوں پر موجود ہیں انسان جو گفتگو کرتا ہے اس کے پاس ایک نگراں تیار بیٹھا ہے کیا تم اس سے حیا نہیں کرتے کہ جب تمہارا نامہ اعمال سب کے سامنے کھلے گا تو اس میں اکثر باتیں وہ ہوں گی جن کا دین اور دنیا سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔’’
حضرت مطرف فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا لحاظ رکھا کرو اور کتے گدھے کے ذکر کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا کرو مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے ہٹادے وغیرہ۔
حضرت یزید بن حبیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عالم کے لیے فتنہ یہ ہے کہ اسے سننے کے بجائے بولنا زیادہ پسند ہے اس لیے جب کوئی بولنے والا موجود ہو تو سننے میں زیادہ سلامتی ہے اور کلام میں زینت دنیا اور کجی زیادہ پائی جاتی ہے۔
(3)باطل میں مصروفیت
باطل میں مصروفیت وہ گفتگو ہے جس کا تعلق گناہ سے ہے جیسے عورتوں کے خیالات،شرابوں اور بدکاروں کی مجالس،مالدار لوگوں کی عیاشی اور ان کی مزموم رسموں اور نا پسندیدہ حالات کو ذکر کرنا یہ تمام امور
وہ ہیں جن میں مشغول ہونا جائز نہیں بلکہ حرام ہے،لیکن بے فائدہ باتوں میں مصروف ہونا یا فائدہ مند گفتگو زیادہ کرنا حرام نہیں البتہ چھوڑنا زیادہ بہتر ہے،ہاں وہ شخص جو بے فائدہ گفتگو کثرت سے کرے وہ باطل میں پڑنے سے بے خوف نہیں ہو سکتا اور اکثر لوگ تو ازالہ غم کے لیے گفتگو کرتے ہیں لیکن ان کی گفتگو لوگوں کی عزتوں یا باطل میں پڑنے سے متجاوز نہیں ہوتی،باطل کے اقسام شمار سے باہر ہیں اس لیے ان سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ دین اور دنیا کے حوالے سے ضروری گفتگو پراکتفا کیا جائے۔
(4)دوسروں کی بات کاٹنا اورجھگڑا کرنا: اس سے منع کیا گیا ہے،نبی اکرم ﷺکے چندارشادات ملاحظہ ہوں: (1)اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو نہ مذاق اور نہ وعدہ کرکے اس کی خلاف ورزی کرو(2) دوسری روایت میں ہے: جو شخص حق پر ہونے کے باوجودجھگڑا چھوڑدیتا ہے اس کے لیے جنت کے گردونواح میں گھر بنایا جاتا ہے(3)اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کے بعد کوئی قوم گمراہ نہیں ہوئی مگر اسے جدل یعنی باہم لڑائی دی گئی(4)کوئی بندہ حقیقت ایمان تک اس وقت تک نہیں پہنچتا جب تک جھگڑا نہ چھوڑدے اگرچہ حق پر ہو،حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا:علما سے نہ جھگڑنا ورنہ وہ تجھ سے عداوت کریں گے،حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین باتوں کے لیے علم حاصل نہ کرو ایک یہ کہ جھگڑا کرو دوم اس کے ذریعہ دوسروں پر فخر کرو،سوم دکھاوے کے لیے اورعلم کا حصول اس کی طلب سے حیا کرتے ہوئے،اس سے بےرغبتی کرتے ہوئے اور جہالت کو پسند کرنے کی وجہ سے ترک نہ کرو۔
جھگڑا جسے عربی میں‘‘مراء’’ کہتے ہیں یہ ہے کہ دوسرے کی بات پر اعتراض کیا جائے یعنی اس کے الفاظ یا معانی میں خلل ڈالنا یا اس کے ارادے میں خلل ڈالناور اگر اس پر اعتراض نہ کیا جائے تو یہ جھگڑے اور بحث کا ترک ہے،تم جو بات س
سنو تو دیکھو اگر وہ سچ ہے تو اس کی تصدیق کرو اور اگر وہ باطل یا جھوٹ ہے اور دلیل سے متعلق نہیں ہے تو خاموش رہو، دوسرے آدمی پر طعن کرنا بھی اس کے الفاظ میں ہوتا ہے مثلاً نحوی اعتبار سے اس میں خرابی نکالنا یا عربیت کے اعتبار سے غلطی نکالنا یا یہ کہ اس کی ترتیب غلط ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر ہے بعض اوقات یہ غلطی علم کی کمی کیوجہ سے ہوتی ہے یا زبان کی لغزش سے ایسا ہو جاتا ہے جو بھی وجہ ہو اس کی غلطی نکالنا صحیح نہیں،معنیٰ پر اعتراض کی صورت یہ ہے کہ مثلا کہتا ہے یہ کلام حق ہے مگر تمھاری نیت ٹھیک نہیں بلکہ اس میں تمھاری غرض شامل ہے اگر یہ غلطی علمی مسئلہ میں جاری ہو تو بعض اوقات اسے جدل کا نام دیا جاتا ہے یہ بھی مذموم ہے بلکہ خاموشی واجب ہے،یاکچھ فائدہ حاصل کرنے کےلیے سوال کرے اس میں عناد واعتراض نہ ہو بلکہ نرمی سے آگاہ کرے اور بطور طعن نہ بتائے۔
مجادلہ کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ دوسرے کے کلام پر اعتراض کرکے اس کو عاجز اور خاموش کر دیا جائے کہ وہ جاہل اور کم علم ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اسے دوسرے انداز میں سمجھانا اچھا نہ لگتا ہو بلکہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی غلطی ظاہر کرے تاکہ اپنی فضیلت اور دوسروں کی خامی کوواضح کرے،اس خرابی سے نجات کا طریقہ یہ ہے کہ ہر اس بات سے خاموشی اختیار کرے جس سے خاموش ہونے میں کوئی گناہ نہ ہو،اس کا باعث اپنے علم وفضل کے اظہار کے ذریعہ دوسروں پر برتری جتانا اور خامیاں نکال کر ان پر رعب جمانا ہے اور یہ دونوں نفس کی باطنی خواہشات ہیں جو اس کی تقویت کا باعث ہیں،افضلیت کا اظہار یا اپنی طہارت وپاکیزگی کا بیان یہ بندے کی سرکشی کا تقاضہ ہے کہ وہ بلندی اور بڑائی کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ یہ دونوں باتیں ربوبیت کی صفات سے ہیں۔
جہاں تک دوسروں میں کمی نکالنے کا تعلق ہے تو یہ درندوں کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو پھاڑ کھانا چاہتا ہے انہیں اذیت دیتا اور پھاڑ کر رکھ دیتا اور توڑناچاہتا
ہے،اس کا علاج یہ ہے کہ اس تکبر کو توڑے جس کی وجہ سے وہ اس پر فضیلت ظاہر کرتا ہے اسی طرح اس درندگی کا بھی خاتمہ کردے جو دوسروں کی عیب جوئی کا باعث ہے۔(ماخوز از احیاء العلوم)
حضرت امام قدس سرہ کے اس بیان سے آج کے اہل علم کو سبق لینا چاہیے۔
(5)خصومت: یہ بھی قابل مذمت ہے اور یہ جدال ومراء کے علاوہ ہے،مراء دوسروں کے کلام پر طعن وتشنیع کو کہتے ہیں یعنی ان میں خلل ظاہر کیا جائے اور مقصود صرف اس کی تحقیر اور اپنی فضیلت ہو،جدال مذاہب کے اظہار اور ان کی تقریر یعنی ان میں میں بحث ومباحثہ ہے جب کہ خصومت اپنے کلام پر ڈٹ جانا ہے تاکہ اس کے ذریعہ دوسرے کا مال یا حق حاصل کیا جائے یہ کبھی ابتداء میں ہوتا ہے اور کبھی اعتراض کی صورت میں جب کہ مراء صرف گذشتہ کلام پر اعتراض کی صورت میں ہوتاہے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہاں سب سے نا پسندیدہ وہ شخص ہے جو بہت جھگڑالو ہے۔(صحیح بخاری)
ایک اور روایت میں ہے: جو شخص بغیر علم کے خصومت میں پڑتا ہے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔
حضرت امام قدس سرہ نے خصومت کی جو آفت ذکر کی ہے زبان کی آفتوں میں وہ بہت عام ہے اور اس بلا میں اکثر لوگ مبتلا ہیں۔
(6)فحش کلامی اور گالی گلوچ
یہ آفت بھی بہت عام ہے عوام کی تو گنتی ہی کیا ہے خواص کی زبانیں بھی اس گندگی سے بہت آلودہ رہتی ہیں،معمولی غصہ میں علما اور طلبا گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں جب کہ یہ نہایت مذموم چیز ہے،حدیث شریف میں ہے : اپنے آپ کو فحش کلا می سے بچاؤ بے شک اللہ تعالی فحش کلامی اور بتکلف فحش کلام کرنے کو پسند نہیں فرماتا ہے۔(مسند امام احمد)
اسی طرح آقا علیہ السلام نے جنگ بدر میں مقتول ہونے والے مشرکین کو گالی دینے سے منع فرمایا،ارشاد ہوا: ان لوگوں کو گالی نہ دو جو کچھ تم کہتے ہو وہ ان تک نہیں پہنچتی ہے بلکہ زندوں کو تکلیف پہنچاتے ہو،خبردار! بری بات کہنا کمینگی ہے۔(المستدرک للحاکم)
نیز روایت میں ہے: مومن طعن کرنے والا،لعنت بھیجنے والا،فحش گوئی اور بد کلا می کرنے والا نہیں ہوتا۔(السنن الکبریٰ)
(7)غیبت:غیبت اور چغلی ایسی بلائیں ہیں جو اکثر دیندار کہلانے والوں تک میں پائی جاتی ہیں اور اکثر لوگ یہ گناہ کرتے ہیں مگر انہیں اس کے گناہ ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا،چند آیات واحادیث اس کی مذمت میں ملاحظہ فرمائیں:
وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ (سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۲)
اور تم ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اور اس سے تو تم گھن کرتے ہو۔’’
(1)نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہ’’ یعنی ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون،مال اور عزت حرام ہے، اور غیبت عزت سے کھیلنا ہے۔
(2)ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،باہم دشمنی نہ کرو،ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو،اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ(مسلم)
(3) اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ بے شک غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے کیوں کہ ایک آدمی زنا کرتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما
لیتا ہے جب کہ غیبت کرنے والے کی بخشش ومغفرت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ شخص معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے۔(الدرالمنثور)
(3 )حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی کی حضور اکرمﷺنے فرمایا: میں شب معراج ایسی قوم کے پاس سے گذرا جو اپنے چہروں کو اپنے ناخنوں سے چھیل رہے تھے،میں نے کہا اے جبریل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔(سنن ابی داؤد)مزید تفصیل کے لیے احیاء العوم دیکھیں۔
غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کرو کہ اگر اس تک یہ بات پہنچے تو وہ اسے نا پسند کرے چاہے اس کی بدنی یا نسبی عیب کا ذکر کرو یا اخلاق واعمال کے اعتبار سے کوتاہی بیان کرو،اس کی دنیوی خرابی کا ذکر کرو یا اخروی کا،حتیٰ کہ اس کے کپڑے،مکان اور جانور کے حوالے سے نقص بیان کرنا بھی غیبت ہے۔
غیبت کی صورتیں
یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ بالا طریقہ پر زبان سے ذکر کرنا تو حرام ہے ہی،حضرت امام غزالی قدس سرہ فرماتے ہیں اس سلسلہ میں اشارتا گفتگو صریح گفتگو کی طرح ہے اور فعل قول جیسا ہے۔اشارہ کرنا،آنکھ مارنا،لکھنا اور حرکت کرنا وغیرہ تمام ایسے طریقے جن سے مقصود سمجھ میں آتا ہو غیبت میں داخل اور حرام ہیں،اس سلسلے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے وہ فرماتی ہیں : ہمارے پاس ایک عورت آئی جب وہ واپس جانے لگی تو میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس کا قد چھوٹا ہے،نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی ہے۔(الدرالمنثور)
کسی کی نقل بھی غیبت میں داخل ہے مثلا لنگڑا کر چلتا ہے یا جس طرح وہ دوسرا شخص چلتا ہے تو یہ غیبت ہے بلکہ غیبت سے بھی زیادہ سخت ہےکیوں کہ اس کے ذریعہ دوسرے کی تصویر کشی زیادہ ہوتی ہے۔حضور ﷺنے حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی دوسرے کی نقل اتاروں اور مجھے فلاں فلاں چیز حاصل ہو۔
اسی طرح کتابت کے ذریعہ بھی غیبت ہوتی ہے کیوں کہ قلم دو زبانوں میں سے ایک زبان ہے،اپنی تصنیف میں کسی معین آدمی کا ذکر کرنا اور اس کے کلام کی برائی بیان کرنا بھی غیبت ہے البتہ اس کے ذکر کی کوئی حاجت ہو تو جائز ہے مثلا یوں کہے کہ کچھ لوگ اس طرح کہتے ہیں تو یہ غیبت نہیں ہے یا یوں کہے کہ وہ بعض لوگ جن کا آج میرے پاس سے گذر ہوا یا جن لوگوں کو آج میں نے دیکھا ہاں یہ اس وقت غیبت ہے جب مخاطب اس سے کسی معین شخص کے بارے میں سمجھ جائے کیوں کہ اسے یہ بات سمجھانا ہی منع ہے اور اگر معین شخص کا علم نہ ہو پارہا ہو توجائز ہے۔
غیبت سن کر خوش ہو نا یا اس کی طرف کان لگانا بھی غیبت ہے وہ اس لیے خوشی وتعجب کا اظہار کرتا ہے کہ غیبت کرنے والا ہوتا ہے اور زیادہ غیبت کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے،گویا اس طریقے سے وہ غیبت کرواتا ہے مثلا وہ کہتا ہے تعجب ہے ہم تو ایسا نہیں جانتے تھے،میں تو اب تک اسے اچھا آدمی سمجھتا رہا،میں تو اسے کچھ اور ہی سمجھتا رہا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس آزمائش سے بچائے یہ سب کچھ غیبت کرنے والے کی تصدیق ہے اور غیبت کی تصدیق بھی غیبت ہوتی ہے بلکہ خاموش رہنے والا بھی غیبت میں شریک ہوتاہے۔(احیاء العلوم)