باب ۳۵ از ۵۴صفحات ۴۱۳–۴۲۲
گھر بیٹھنا افضل ہے یا کمانا
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: اگر وہ کسب معاش کو ذکر و فکر، اخلاص اور عبادت میں مصروفیت کے لیے چھوڑتا ہے اور کسب معاش ان امور میں مخل ہوتا ہے اور اس کے باوجود وہ شخص لوگوں کے انتظار میں نہیں رہتا کہ وہ اس کے پاس کچھ لائیں، بلکہ صبر اور توکل علی اللہ میں اس کا دل مضبوط ہے تو ایسے شخص کے لیے گھر میں بیٹھنا افضل ہے۔ اور گھر میں بیٹھ کر دل پریشان ہے، منتشر ہے اور انتظار کرتا ہے کہ لوگ لائیں تو ایسے شخص کے لیے کمانا افضل ہے۔ پہلے کے متوکلین ان چیزوں کو نہیں لیتے تھے جن کا نفس انتظار کرتا تھا۔
یہ بھی دھیان رہے کہ کسب معاش کرنے والا کسب کے آداب اور اس کی نیت کی شرطوں کی رعایت کرے یعنی زیادہ مال جمع کرنے کا ارادہ نہ کرے اور اس کا اعتماد اپنے سرمایہ اور کفایت پر نہ ہو تو وہ بھی متوکل ہے۔ اور سرمایہ اور کفایت پر توکل کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کا مال چوری ہو جائے یا تجارت میں نقصان ہو جائے یا کوئی کام بند ہو جائے تو وہ اس پر راضی رہے اور اس کا اطمینان ختم نہ ہو اور نہ ہی دل پریشان ہو، بلکہ اس کا سکون جو نقصان سے پہلے تھا اب بھی وہی رہے کیوں کہ
جس کو جس چیز کے ذریعہ سکون نہیں ہوتا وہ اس کے چلے جانے پر پریشان نہیں ہوتا اور کسی شے کے چلے جانے پر پریشان ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے ذریعہ اسے سکون تھا۔
رہ گیا یہ سوال کہ سرمایہ ہو اور اس کے ذریعہ اسے سکون نہ ملے ایسا کیسے ہو سکتا ہے، بلکہ وہ جانتا ہے کہ کسب بھی سرمایہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ حضرت امام قدس سرہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جن لوگو ں کو بغیر سرمایہ کے روزی دیتا ہے وہ زیادہ ہیں اور جن کے پاس سرمایہ ہے اور وہ چوری ہو جاتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے تو ایسے لوگ بھی بہت ہیں۔
یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہے۔ مقصد یہ کہ سرمایہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر اعتماد اور بھروسہ ہو اور اس کے ذریعہ سکون حاصل ہو، اگر اللہ تعالیٰ سب کچھ ہلاک کر دے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کے لیے یہی بہتر تھا، ہو سکتا ہے سرمایہ کی بقا سے اس کا کوئی ذہنی نقصان ہو جاتا۔ لہٰذا اس کا کرم ہے کہ وہ اسے آخرت دینا چاہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ یہ بھوک سے مر سکتا ہے۔ تب بھی یہی سمجھنا چاہیے کہ اس حالت میں مر جانا آخرت کے معاملے میں ہمارے لیے بہتر ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص رات کو کسی تجارتی معاملے کا قصد کرتا ہے اور وہ کام ایسا ہوتا ہے کہ اگر کرے تو اس میں اس کی ہلاکت ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عرش کے اوپر دیکھتا ہے اور اسے اس کام سے پھیر دیتا ہے، صبح کے وقت وہ غمگین پریشان ہوتا ہے اور اپنے ہم سایے اور چچازاد بھائی کی بدشگونی لیتا ہے کہ کون میرے آگے آیا، کس نے مجھ پر مصیبت ڈالی حالاں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اس پر فرمائی ہے۔(حلیۃ الاولیا)
اسی لیے حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں
مالداری کی حالت میں صبح کرتا ہوں یا فقر کی حالت میں، کیوں کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ میرے لیے ان میں کیا چیز بہتر ہے۔
جس شخص کو ان امور کا کامل یقین نہ ہو اس سے توکل کا تصور نہیں ہو سکتا۔ ہر بندے پر لازم ہے کہ وہ ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی فاعل و رازق نہیں اور جو اس نے بندے کے لیے فقر و غنا اور موت و حیات مقدر فرمائی ہے وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ تمنا کرتا ہے، یہ جب ہوگا تو حال توکل مکمل ہوگا۔ اسی طرح تمام دینی مقامات خواہ اقوال ہوں یا اعمال سب کی بنیاد ایمان ہے۔
بہترین نسخہ
حضرت امام قدس سرہ نے ایک نسخہ بیان فرمایا کہ جس سے دنیوی اسباب ظاہری سے دل کو پھیرا جا سکتا ہے اور خفیہ اسباب کو آسان کرکے اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن حاصل کیا جا سکتا ہے وہ نسخہ یہ ہے کہ اس بات کو یقین کے ساتھ ذہن میں رکھو کہ بدگمانی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور حسن ظن اللہ تعالیٰ کی طرف سے القا ہوتا ہے، ارشاد خداوندی ہے:
اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ ۚ وَاللہُ یَعِدُکُمۡ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا (سورۃ البقرۃ: ۲؍۲۶۸)
ترجمہ: شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا۔’’
خیال رہے کہ آج ایمان کی کمزوری کس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ خدا جس نے فرمایا:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (سورۃ ھود: ۱۱؍۶)
ترجمہ: اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّہ کرم پر نہ ہو۔’’
متعدد احادیث میں بار بار ذکر آیا ہے کہ ماں کے پیٹ میں ہی اللہ تعالیٰ کے
حکم سے فرشتہ لکھ دیتا ہے کہ اسے کتنا رزق ملےگا۔ آج کل دنیا کی محبت اور ایمان کی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ روزی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل و اعتماد ختم سا ہو گیا ہے۔ اب عوام بجائے خواص تک کو اطمینان نہیں، وہ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور مختلف ناجائز اور جائز حیلوں سے مال حاصل کرتے ہیں۔ اب خواص کی مجلسوں میں توکل علی اللہ اور اس کی ذات پر بھروسہ اور اعتماد کی باتوں کی بجائے یہی سکھایا جاتا ہے کہ ایسا کرو ویسا کرو۔
افسوس، صد افسوس! اگر اسلاف کی تاریخ پڑھیں اور بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ کریں تو انھیں معلوم ہوگا کہ وہ اپنے رب پر کیسا ایمان رکھتے تھے اور انھیں اس کی ذات پر کیسا بھروسہ اور اعتماد تھا۔ کبھی وہ دنیاداروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔ ان کے یقین کی بنیاد پر غیب سے روزی ملا کرتی تھی۔
حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ انسان فطری طور پر شیطان کے ڈرانے پر کان دھرتا ہے اور جب اس کے ساتھ بزدلی، ضعف قلب اور ظاہری اسباب اور ان کو برانگیختہ کرنے والے امور کو دیکھ لیتا ہے تو بدگمانی مزید غالب آجاتی ہے اور توحید کلی طور پر باطل ہو جاتی ہے، بلکہ حصول رزق کو پوشیدہ اور مخفی اسباب کی طرف سے دیکھنا بھی توکل کو باطل کر دیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ وہ حکایات پڑھی اور سنی جائیں جن میں بندوں تک رزق پہنچنے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی عجیب صنعت کا ذکر ہے اور جن میں تاجروں اور مالدار لوگوں کے مالوں کو ہلاک کرکے ان کو بھوکا مارنے کا تذکرہ ہے جیسے:
حضرت حذیفہ مرعشی جو کہ حضرت ابراہیم ادھمرحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کئی سال رہے، فرماتے ہیں: ہم کئی دن کے بھوکے پیاسے کوفہ میں ایک ویران مسجد میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم ادھم نے فرمایا کہ اے حذیفہ! میرا خیال ہے کہ تم بھوکے ہو۔ آپ نے کاغذ اور دوات منگائی اور ایک رقعہ لکھا اور فرمایا: جاؤ، دل کو غیر
خدا کے ساتھ معلق نہ کرنا اور جس سے پہلے ملاقات ہو اسے یہ رقعہ دے دینا۔ فرماتےہیں: سب سے پہلے جس سے ملاقات ہوئی وہ خچر پر سوار تھا۔ میں نے وہ رقعہ اسے دیا، پڑھا تو رو پڑا اور پوچھا کہ جنھوں نے لکھا ہے وہ کہاں ہیں؟ میں نے کہا: فلاں مسجد میں۔ اس نے ایک تھیلی دی جس میں سو دینار تھے۔ پھر میری ملاقات ایک دوسرے شخص سے ہوئی۔ اس خچر سوار کے بارے میں اس سے پوچھا تو بتایا کہ وہ عیسائی ہے۔ حضرت ابراہیم کی بارگاہ میں پہنچ کر سارا واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: دیناروں کو ہاتھ نہ لگانا، وہ ابھی آئےگا۔ چناں چہ کچھ دیر کے بعد وہ نصرانی اندر آیا اور حضرت کے سر کو جھک کر بوسہ دیا اور اسلام قبول کر لیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے احیاء العلوم شریف۔
معلوم ہو کہ توکل و قناعت اور فقر و زہد وغیرہ کے سلسلے میں اولیا اور صالحین کی سیرتیں پڑھیں تو آپ کو ان باتوں کا صحیح علم ہو جائےگا جن کی طرف حضرت امام نے اشارہ کیا ہے۔ ان کی سیرت سے قوت یقین اور اعتماد کو طاقت حاصل ہوتی ہے اور عمل کے جذبات ابھرتے ہیں۔
حضرت مرزا مظہر جان جاناں : ہم اڑھائی صدی قبل کے بزرگ حضرت مرزا مظہر جان جاناں دہلوی شہید (م۱۱۹۵ھ) قدس سرہ اور ان کے خلیفہ خاص اور جانشین حضرت غلام علی دہلوی قدس سرہ کی حیات طیبہ کا وہ پہلو جس کا تعلق اسی باب سے ہے، سپرد قلم کرتے ہیں، آپ دیکھیں کہ سچے مسلمان کون تھے اور توکل و اعتماد وغیرہ کی دولت سے وہ کیسے مالا مال تھے اور اس دولت نے انھیں کن منزلوں تک پہنچا دیا۔
۱۔ محمد شاہ بادشاہ وقت نے اپنے وزیر قمر الدین خاں کی زبانی کہلا بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ملک عطا کیا ہے آپ جو چاہیں بطور ہدیہ قبول فرمائیں، آپ نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ (سورۃ النساء: ۴؍۷۷)
ترجمہ: تم فرماد و کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔’’
گویا سات ولایتوں کی دولت کو کم فرمایا ہے، تمھارے پاس اس قلیل کا صرف ساتواں حصہ یعنی ایک اقلیم ہندوستان ہے، تمھارے پاس دینے کے لیے رکھا ہی کیا ہے؟ کہ فقرا کا سر ہمت جھک سکے۔
۲۔ ایک امیر نے حویلی اور خانقاہ بنوا کر فقرا کے لیے وجہ معاش مہیا کی، اس نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے درخواست قبول نہ فرمائی اور ارشاد ہوا کہ چوں کہ مکان چھوڑنا ہی ہے اس لیے مکان کا اپنا یا پرایا ہونا برابر ہے اور روزی جو علم الٰہی میں مقرر ہے وہ مل کر ہی رہےگی، فقرا کے لیے صبر و قناعت کا خزانہ کافی ہے۔
۳۔ ایک مرتبہ سخت سردی میں آپ پرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے، وہاں نواب فیروز جنگ بھی موجود تھے، وہ یہ منظر دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے، انھوں نے ایک مصاحب سے کہا کہ ہم گنہ گاروں کی کتنی بد بختی ہے کہ جس بزرگ سے ہماری ارادت بندگی ثابت ہے وہ ہمارا نیاز مندانہ تحفہ قبول نہیں کرتے، آپ نے فرمایا:
ہزار حیف کہ گل کرد بینوائی ما
بہ چشم آبلہ آمد برہنہ پائی ما
فقیر نے امرا سے نیاز نہ قبول کرنے کا روزہ رکھا ہے، اب جب کہ زندگی کا اختتام ہے اور روزہ توڑوں تو دس لاکھ روپیہ درکار ہوگا تب جاکر میرے ہمسایوں کی عورتوں کا چولہا گرم ہوگا۔’’
۴۔ نواب نظام الملک تیس ہزار روپے نقد بطور نیاز لایا، لیکن آپ نے قبول نہ کیے تو اس نے کہا کہ آپ حاجت مندوں میں ہی تقسیم فرمادیں، آپ نے فر مایا کہ میں تمھارا خان ساماں نہیں ہوں، یہاں سے باہر جاکر اس کی تقسیم شروع کرو، مگر پہنچنے تک ختم ہو جائےگا۔
۵۔ اسی طرح افغانوں کے ایک سردار نے تین سو اشرفیاں بھیجیں تو آپ
نے واپس کر دیا اور فرمایا کہ اگرچہ ہدیہ رد کرنے کی ممانعت کی گئی ہے، لیکن اس لینے کو واجب بھی قرار نہیں دیا گیا۔ اگر ہدیہ حلال ہونا متعین ہو تو اس کا لے لینا باعث برکت ہے۔ فقیر اپنے ان اصحاب سے جو اخلاص اور احتیاط کے ساتھ تحائف لاتے ہیں قبول کر لیتا ہے، لیکن امرا اور اغنیا جن کی دولت اکثر مشتبہ ہوتی ہے اور لوگوں کے حقوق ان سے متعلق ہوتے ہیں اس لیے تحائف قبول کرنے میں تامل لازم ہے۔
۶۔ ایک امیر نے آپ کی خدمت میں آموں کا ہدیہ بھیجا، آپ نے اسے رد کر دیا، اس نے دوبارہ بصد التجا بھیجے، آپ نے دو آم لے لیے، باقی تمام واپس کر دیے کہ میرا دل ان کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس وقت ایک باغباں آپ کے پاس شکایت لے کر آیا کہ فلاں امیر نے میرے آم جبراً لے لیے ہیں اور ان میں سے کچھ آپ کی خدمت میں بھیجے ہیں، اس مظلوم کی حمایت فرما دیں، آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ عاقبت نا اندیش منصوبہ بندیوں سے فقیر کا باطن تاریک کرنا چاہتے ہیں۔’’
آپ کے واقعات اس قسم کے بہت ہیں۔ یہ سب زہد و توکل اور کمال درجہ کے احتیاط پر دلالت کرتے ہیں جب کہ آپ کی خانقاہ میں بڑی تعداد میں طالبان حق اور اہل سلوک رہا کرتے تھے اور سب کا خورد و نوش خانقاہ کی طرف سے تھا، بظاہر کوئی ذریعہ آمدنی بھی نہ تھا۔ صفاے قلب کی حفاظت کااس قدر اہتمام تھا کہ اس قدر پاک اور حلال لقمے اہل سلوک کے پیٹ میں جائیں کہ کسی طرح ان کا باطن تاریک اور مکدر نہ ہونے پائے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، آپ کے جانشین حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ فرماتے ہیں:
آپ نے فقر کو دولت مندی پر ترجیح دی اور صبر و قناعت کو پسند کیا، تسلیم و رضا کو اپنی مرضی کی خاصیت کے مطابق بنا کر قضاے موافق و نا موافق کے مطابق بنا لیا تھا
اور دعاے نبویﷺ کے مطابق ‘‘اللھم اجعل رزق آل محمد کفافاً’’ (اے اللہ، آل محمد کی روزی بقدر ضرورت بنا) بشریت کے لیے جو کچھ ضروری ہے اس پر کفایت کرکے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی یہی دعا کرتے تھے کہ وہ اس قدر دولت مند نہ ہوں کہ فضول خرچی کرنے لگیں اور نہ اس قدر مفلس ہوں کہ نوبت قرض تک پہنچے۔
حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ: مولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہجہاں پوری نے حضرت شاہ غلام علی قدس سر ہ کے ملفوظات ‘‘المعارف’’ پر بڑا مفید آپ کا تعارف لکھا ہے، اس میں فرماتے ہیں: شاہ غلام علی نقش بندیرحمۃ اللہ علیہ ‘‘الفقر فخری’’ کا منہ بولتا ثبوت اور صبر و قناعت کا پیکر تھے۔ آپ کے خانقاہی نظام کے بارے میں سر سید احمد خان صاحب نے یہ وضاحت بھی فرمائی ہے: سبحان اللہ! کیا آزادی تھی کہ مطلق دنیا کا لگاو نہ تھا، اللہ اللہ کیا اطاعت سنت تھی کہ سر مو فرق نہ تھا، توکل تو اس درجہ پر تھا کہ کبھی کسی طرح کا خیال دل میں نہ آتا۔امرا اور بادشاہ دل میں آرزو رکھتے تھے کہ ہم خانقاہ کے فقرا کے لیے کچھ وظیفہ مقرر کریں، ہرگز آپ منظور نہ فرماتے۔ ایک دفعہ نواب امیر الدولہ، امیر محمد خان والیِ ٹونک نے بہت التجا سے درخواست تقرر وظیفہ کی، اس کے جواب میں آپ نے صرف یہ شعر لکھ بھیجا؎
ما آبروئے فقر و قناعت نمی بریم
بامیر خاں بگوئی کہ روزی مقرر است
خانقاہ میں رہنے والے فقرا، طالبین اور سالکین اور خود غلام علی دہلویرحمۃ اللہ علیہ کی بود و باش اور خورد و نوش وغیرہ میں یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے سر سید احمد خان صاحب نے یہ بھی لکھا ہے: حضرت کی خانقاہ میں پانچ سو سے کم فقیر نہیں رہتے تھے اور سب کا روٹی کپڑا آپ کے ذمہ تھا اور باوجودیکہ کہیں سے ایک حبّہ مقرر نہ تھا، اللہ تعالیٰ غیب الغیب سے کام چلاتا تھا، اس پر فیاضی اور سخاوت اس قدر تھی کہ کبھی سائل کو محروم نہ پھیرا، جو اس نے مانگا وہی دیا، جو چیز عمدہ اور تحفہ آپ کے پاس آئی اس کو
بیچ کر فقرا پر صرف کرتے اور جیسا گزی، گاڑھا موٹا تمام فقیروں کو میسر ہوتا ویسا ہی آپ بھی پہنتے اور جو کھانا سب کو میسر ہوتا وہی آپ کھاتے، بھلا غور کرو کہ بشر کی طاقت ہے کہ ایسی بات کر سکے۔’’
ان بزرگوں کی روش میں اہل مدارس اور اہل خانقاہ کے لیے کس قدر عبرت ہے، اگر وہ ان مقدس نفوس کی راہ اپناتے تو تحصیل مال و زر کے لیے انھیں متکبر سیٹھوں کے دروازوں پر ایسی قطار نہیں لگانی پڑتی اور نہ وہ گھناونا کردار اپنانا پڑتا جو اپناتے ہیں۔ بزرگوں کے اس توکل و قناعت نے دنیا داروں سے کیسا بے نیاز کر دیا تھا اور علم و عرفان کی کیسی عظمت ان کے دلوں میں بٹھا دی تھی اور ان کو دنیا کی حقیقت جتا دی تھی۔ یہاں سے وہ لوگ بھی عبرت حاصل کریں جو بعض بزرگوں کو مثال میں پیش کر کے اولیاء اللہ اور صوفیہ کرام کے بارے میں یہ ذہن دیتے ہیں کہ وہ دنیا سے بھاگے، جنگلوں کا راستہ اختیار کیا اور اس طرح وہ کوئی دین کا کام نہیں کر سکے۔
حیرت ہوتی ہے جب اہل علم ایسی باتیں کریں گے اور تاریخ سے ناانصافی سے کام لیں گے تو جاہلوں سے کیا شکایت کا موقع ہے۔ ان صوفیہ نے قوم میں رہ کر جو انسانیت سازی کا کام کیا ہے اور شریعت حقہ سے جس طرح انسانوں کے ظاہر و باطن کی تعمیر اور قلب و ذہن کی تطہیر کا کام کیا ہے وہ خیر القرون کے بعد کن درس گاہوں نے کیا ہے۔ اگر وہ کام نہ کرتے تو ہر دور میں تسلسل کے ساتھ صالحین اور اولیا کا وجود کس طرح ہوتا اور روحانیت و تصوف کا تحفظ کس طرح ہوتا۔ سب انسان یکساں نہیں ہوتے اور نہ سب کی کیفیتیں یکساں ہوتی ہیں۔ حالات مختلف ہوتے ہیں۔ صوفیہ کرام نے خود کو مکمل اخلاق نبویﷺ سے آراستہ کیا اور ہر دور میں جہاں ضرورت ہوئی خدمت دین کے لیے سب کچھ چھوڑ کر وہیں رہ گئے اور علاقے کے علاقے سدھار دیے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض نے ترک و تجرید کی زیادہ بلند چوٹی پر پہنچ کر خود کو سب سے علاحدہ بھی کر لیا، وہ ان کے حالات تھے، وہ اپنی کیفیتوں یا روحانیت و طریقت کی حفاظت کے لیے جدا بھی ہوئے تو اس میں بھی وہ نیک نیت تھے اور نہ وہ تارک فرض ہوئے۔ یہ کہاں ہے کہ دعوت و تبلیغ فرض عین ہے اور ہر انسان اس کا مکلف ہے۔ وہ جس وقت جن حالات میں آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں کو گئے ہیں اس وقت بھی ان کے علاوہ دعوت کا کام کرنے والے ان کی بستیوں تک میں بہت ہوتے تھے۔ پھر وہ جنگلوں میں بھی اپنے اپنے حلقہ ارادت میں تعمیر ظاہر و باطن کا کام کرتے رہے۔
یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ اولیاے کرام دو قسم کے ہوتے ہیں:
۱۔اولیاے عشرت جو قوموں اور آبادیوں میں رہ کر دین کے ظاہر وباطن کی دعوت کا کام کرتے ہیں اور اقوام کی اصلاح و ارشاد ان کے سپرد ہوتی ہے۔
۲۔ اولیاے عزلت، یہ اکثر انتظام عالم کے امور کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں اور اکثر خلق سے جدا رہتے ہیں، وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے رب تعالیٰ کے الہام اور مرضی سے کام کرتے ہیں ۔
ان بزرگوں پر اعتراضات نہایت درجہ محرومی کی علامت ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنے اعمال و افعال کو دیکھے۔ متقدمین پر تنقید یا اعتراضات بھی قیامت کی علامتوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان نفوس قدسیہ پر حرف زنی ذلت و رسوائی کی علامت ہوتی ہے اور ان سے دور کرنا یہ دین سے دور کرنا ہے اور خداوند قدوس سے لڑائی مول لینا ہے۔