مواد پر جائیں

Allama Afaque Ahmad Mujaddidiتصوف اور اس کے فوائدمؤلف کی حیات و خدمات

باب ۱ از ۵۴صفحات ۲۵–۳۸

مؤلف کی حیات و خدمات

قنوج کی تاریخ میں تین چیزیں بہت خاص ہیں۔ ایک تو یہاں کے رجواڑے، دوسرے یہاں کی خوشبو اور تیسرے یہاں کے اولیا و صوفیہ۔ یہاں کے رجواڑے تو کب کے ختم ہو گئے، مگر نہ تو یہاں کی خوشبو ختم ہو رہی ہے اور نہ ہی اولیا و صوفیہ کے نقوش محو ہو رہے ہیں۔ سلطان پیر، بالا پیر اور حاجی شریف کے مزرات پر آج بھی کثیر تعداد میں عقیدت مندحاضری دیتے ہیں۔

یہاں کی تاریخ میں چوتھی جس چیز کی شمولیت ہوئی ہے وہ مرد قلندر بحرالعرفان حضرت مفتی آفاق احمد صاحب قبلہ مجددی کی ذات ہے جنھوں نے كبھی پیڑ کے نیچے توکبھی کھلے آسمان تلے انتہائی بے سر و سامانی کے عالم میں تعلیم و تربیت، تعمیر و تنظیم، اصلاح و ارشاد اور اعمال و کردار کے وہ گہرے نقوش ثبت کیے ہیں جو ان شاء اللہ العظیم رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔

پیدائش: آپ کی پیدائش 1959ءکوضلع فرخ آباد کے ایک گاؤں بھڑونسہ، پوسٹ جراری کےایک دیندار گھرانے میں ہوئی۔ والد کا نام مرحوم حاجی قیام الدین (متوفی۱۰ٰ؍محرم ۱۴۲۹ھ)آپ بڑے دیندار تھے اور مشہور ہے کہ آخر عمر میں تہجد کی پابندی اس قدر تھی کہ زیراثر فراد کو جگا کر مسجد لے جاتے اور تہجد کی نماز مسجد میں ادا فرماتے ،آخری ایام میں تو ایک رات میں سو سو رکعتیں نوافل پڑھتے اور حسب علم لوگوں کو نوافل وغیرہ کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے) اور والدہ محترمہ بی بی حسب النساء ہیں۔ موصوفہ آج بھی بقید حیات ہیں اور حضور مفتیِ اعظم ہند‌رحمۃ اللہ علیہ سے ارادت رکھتی ہیں۔ دنیا کے این و آں سے لاتعلق ہو کر رضاے مولیٰ کے لیے صرف اسی کی عبادت میں مگن رہتی ہیں۔ فرائض و واجبات کے علاوہ نوافل و مستحبات تک کو بھی پابندی کے ساتھ ادا کرتی ہیں۔ بہت سارے ادعیہ و اذکار خصوصاً دلائل

الخیرات شریف پابندی سے پڑھتی ہیں۔

تعلیم: ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی ،والدہ ماجدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا عالم دین بنے مگر آس پاس کوئی اچھا مدرسہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پا رہا تھا ۔ایک بار جب حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ موضع ڈنڈوا میں تشریف لائے تھے تو آپ بھی زیارت مرشد کے لیے وہاں گئیں اور خود مرشد سے یا ساتھ رہنے والوں سے اپنی خواہش کا اظہار فرمایا،چناں چہ حضور بحرالعرفان درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر بدایوں میں گھنٹہ گھر کے قریب واقع جعفری مسجد میں چل رہے مدرسے میں داخلہ لیا اور مفتی خلیل صاحب کے شاگردوں میں رہے مگر جب موصوف راہ راست سے بھٹکے تو وہاں سے کچھوچھہ مقدسہ کے مدرسہ جامع اشرف چلے گیے اور وہیں سے فراغت حاصل کی ،بعد فراغت مدرسہ ہٰذا میں بحیثیت مدرس تقرری بھی ہوگئی۔کچھوچھہ شریف کے دوران قیام آپ وہاں کے مشائخ خصوصا حضرت سید اظہار اشرف صاحب رحمہ اللہ کی آنکھوں کا سرمہ بن کر رہے۔

نکاح: آپ کا نکاح23مئی1978ءبروز منگل کو ایک معززعلمی گھرانے میں عالی جناب مرحوم محمد شبیر صاحب ساکن، اکبر پور، ضلع قنوج کی دختر نیک اختر بی بی ظفر النساء سے ہوا۔ آپ کے خسر محترم مرحوم محمد شبیر صاحب ۱۲؍گاؤں کے سرپنچ اور خود اکبر پور کے زمین دار تھے، پڑھنے لکھنے سے کافی علاقہ رکھتے تھے، انھیں ڈائری لکھنے لکھنے کا کافی شوق تھا، فارسی زبان و ادب پر عبور رکھتے تھے۔

اولاد: آپ کے دو بیٹے؛ (۱)مولانا احمد سعید مجددی (۲)مولانا برکات احمد مجددی اور چھ بیٹیاں ہیں ، خدا کے فضل سے سبھی بیٹے اور بیٹیاں عالمیت و فضیلت کے بعد درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

بیعت و خلافت: آپ نے حضرت عارف باللہ شیخ احمد رضا خان صاحب بنارسی

دامت برکاتہم العالیہ سے سلسلہ نقش بندیہ مجددیہ میں بیعت کی اور باقاعدہ سلوک کی منزلیں طے کرکے چاروں سلاسل میں اجازت و خلافت سے نوازے گئے۔

رفیق ملت حضرت سید شاہ نجیب حیدر نوری دامت برکاتہم العالیہ نے بھی آپ کو خاندان برکات کی اجازت و خلافت سے نوازا۔

کارنامے: جس وقت آپ نے قنوج میں قدم رکھا اس وقت یہاں کی سنیت کا حال ناگفتہ بہ تھا۔ اپنوں کی کوتاہیوں اور اغیار کی دسیسہ کاریوں کی وجہ سے صرف چند مساجد ایسی تھیں جہاں سنی امام تھے، باقی مسجدیں بدمذہبوں اور بد عقیدوں کے قبضے میں تھیں۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی ثم قنوجی کے افکار و نظریات حاوی تھے، لوگ تصوف اور صوفیہ سے کافی دور ہو گئے تھے۔ ایسے ماحول میں آپ نے قنوج کو اپنی ہمہ جہت خدمات کے لیے منتخب فرمایا اور بلا کسی معاوضہ کے صرف دو وقت کی روٹی کے بدلے ایک مسجد کی امامت قبول فرمائی۔

کچھ ہی دونوں میں آپ نے الجامعۃ الاحمدیہ کے نام سے ایک مدرسے کا آغاز کیا جس کے سنگ بنیاد کی رسم آپ کے پیر و مرشد حضور عارف باللہ شیخ احمد رضا خان صاحب مجددی کے ہاتھوں بتاریخ ۴؍ رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ مطابق ۱۹۸۵ءعمل میں آئی۔

مدارس کا قیام

(۱)الجامعۃ الاحمدیہ:یہ ہندوستان کے بڑے سنی مدارس میں شمار ہوتاہے،یہاں حفظ وقرات کے علاوہ اعدادیہ تا فضیلت بلکہ افتاء تک کی تعلیم دی جاتی ہے اس وقت 300 طلبہ زیر تعلیم ہیں جنھیں دو وقت کا کھا نا مع ناشتہ کے فراہم کیا جاتا ہے اساتذہ و ملازمین کی تعداد 40 ہے۔

(۲)جامعۃ المحصنات:قوم کی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے سن2000 ء میں جامعہ احمدیہ کی پرانی بلڈنگ میں اسی کی شاخ کے طور پراس

مدرسے کا آغاز ہوا ،اس میں طالبات کو فضیلت تک تعلیم دی جاتی ہے،26معلمات کی نگرانی میں600 طالبات زیر تعلیم ہیں جن میں 500 ہاسٹل میں رہتی ہیں،ہرسال تقریبا تیس سے پچاس بچیوں کو ردائے فضیلت سے نوازا جاتا ہے اس سال (2018ء)میں پچاس طالبات ردائے فضیلت سے نوازی جا رہی ہیں۔

مدارس کی سرپرستی

۱ — جامعہ حکیم عبد الحی — قائم گنج، ضلع فرخ آباد، یو پی

۲ — الجامعۃ الخیریہ — شہر سیوان، بہار

۳ — دار العلوم فیضان غریب نواز — چتوڑ گڑھ، راجستھان

۴ — مدرسہ فیضان بالا پیر — شہر قنوج، یو پی

۵ — مدرسہ وارثیہ — ملاّواں، ضلع ہردوئی، یو پی

۶ — مدرسہ عربیہ اہل سنت ہدایت الاسلام — بسنت پور، ضلع دیوریا، یو پی

۷ — دار العلوم وارثیہ — دیدار گنج، ضلع، قنوج، یو پی

۸ — درسہ گلشن احمدیہ — تالگرام، ضلع، قنوج، یوپی

۹ — مدرسہ بزم اسلام — موضع ساکن، ضلع، جھانسی، یو پی

۱۰ — مدرسہ مجددیہ گلشن آفاق — مو ضع، پپلوتی خرد، حسن پور، امروہہ

۱۱ — جامعہ رضا علی — پڑاؤ، چندولی، یو پی

جامعہ کی شاخ جامعۃ المحصنات کی فارغات فاضلات نے جو طالبات کے ادارے قائم کیے ہیں وہ سیکڑوں ہیں جن کئی ہزار بچیاں زیر تعلیم ہیں۔

عصری اداروں کا قیام:

(۱)وارثی پبلک اسکول: یہ انٹر میڈیٹ انگلش میڈیم اسکول ہے اور قنوج کے

اسکولوں میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے ۔الجا معۃ الاحمدیہ کی موجودہ عمارت سے متصل ہے اس میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ وطالبات کی تعداد 550ہے جبکہ اساتذہ کی تعداد 25ہے۔

(۲)سرہند پبلک اسکول: یہ ادارہ بھی انگلش میڈیم ہے اور اس میں آٹھویں تک تعلیم دی جاتی ہے۔قنوج پولیس لائن کے پاس واقع ہے اس میں دوسو کے آس پاس طلبہ وطالبات تعلیم پاتے ہیں اسا تذہ کی تعداد 13ہے

خانقاہوں کا قیام: مادیت کے سلگتے ہوئے اس دور میں آپ نے بندگان خدا کو معرفت و طریقت کی لذتوں سے آشنا اور مقصد زیست سے ہم کنار کرنے کے لیے کئی خانقاہیں تعمیر فرمائی ہیں۔ چناں چہ درج ذیل خانقاہیں آپ کی نگرانی میں انسانیت سازی کا کام رہی ہیں۔

۱ — مرکزی خانقاہ مجددیہ — احمد نگر، قنوج

۲ — خانقاہ آفاقیہ مجددیہ — حبیب پورہ، بنارس

۳ — خانقاہ آفاقیہ مجددیہ — مری پالم، ویشاخا پٹنم

۴ — خانقاہ آفاقیہ مجددیہ — شاہین باغ، دہلی

۵ — خانقاہ آفاقیہ مجددیہ — سیکٹر ۵۶؍ چنڈی گڑھ

۶ — خانقاہ آفاقیہ مجددیہ — کنٹی، مدھیہ پردیش

درس و تدریس: اللہ رب العزت نے آپ کوعلوم ظاہری سے وافر حصہ عطا فرمایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ آپ کو مادہ تفہیم کی عظیم نعمت سے بھی سرفراز فرمایا ہے۔ آپ دقیق سے دقیق مسائل کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ طلبہ کے ذہنوں میں اتار دیتے ہیں۔ جامع اشرف میں ایک سال علم و فن کے گوہر لٹانے کے بعد اپنے پیر و مرشد کے حکم پر مدرسہ گلشن رضا، چھپیہ، گورکھپور تشریف لائے۔ یہاں تین سال دار العلوم کی ترقی کے لیے مسلسل جد و جہد کرتے رہے اور اسے ترقی کی راہ پر

گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہاں سے مستعفی ہونے کے بعد قنوج شہر کو اپنی ہمہ جہت خدمات کے لیے منتخب فرمایا اور الجامعۃ الاحمدیہ کی بنیاد رکھی،یہاں درس نظامی کی منتہی کتابیں آپ کے زیرتدریس رہیں،بے پنا مصروفیت کے باوجودآج بھی درج ذیل کتابیں پڑھاتے ہیں(2)بخاری شریف (یہ آپ کا تقویٰ کہیے کہ بخاری شریف مکمل ختم کراکے ہی ختم بخاری کی تقریب منعقدکرتےہیں) (2)المعتقدالمنتقد (3)مشکات شریف(4)شرح جامی (5)بزرگوں کی مختلف کتابوں سےافتاء کے طلبہ کو تصوف کا درس دیتے ہیں۔

خوف وخشیت:عالم وہی ہے جس کے اندر خدا کا خوف اور اس کی خشیت ہو ،حضور بحرالعرفان کی زندگی خوف وخشیت سے لبریز ہے۔تحریر وتقریر میں آپ حوروقصورکے قصے بیان کرنے کے بجائے دعوت عمل دیتے ہیں چناں چہ اسی کتاب(تصوف اوراس کے فوائد) کی درج ذیل تحریر اس کا بین ثبوت ہے ،بارگاہ سرکار دوعالم ﷺسے سرکار غوث اعظم اور سرکارامام ربانی رحمھما اللہ وغیرہ بزرگوں کو جو یہ بشارتیں ملیں کہ وہ اور ان کے مریدین جنتی ہیں اسے ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

یہ ان بزرگوں کے ساتھ نسبت جوڑنے کا فیضان ہے ورنہ روایتوں سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوبوں سے محبت کرنے والے، ان کی خدمت کرنے والے، مصافحہ کرنے والے، بلکہ ان کی زیارت کرنے والے بھی نا معلوم کس قدر بخشے جائیں گے۔

اہم تنبیہات: مگر مرید یا غیر مرید کو محض انھی بشارتوں پر تکیہ اور بھروسا نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ فضل و رحمت ہے جس کو بھی نصیب ہو جائے۔ قانون جدا چیز ہے، شریعت کا مزاج جدا ہے، اطاعت پر ثواب، معاصی پر عقاب جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔ شریعت نے ترغیب و ترہیب، تبشیر و تنذیر دونوں سے کام لیا ہے اور

ترغیب کی بنیاد بھی اعمال پر رکھی ہے کہ یہ عمل کروگے تو یہ ثواب ہے، یہ کروگے تو یہ عفت کی بشارتیں نہیں دی ہیں کہ تم کچھ بھی نہ کرو اور تمھیں سب کچھ مل جائےگا، بلکہ آپﷺ نے تو فرمایا ہے کہ سب سے بڑا احمق وہ ہے جو کھیت میں بوئے تو کچھ نہیں اور امید لگائے کہ اس میں فصل اگےگی اور میں کاٹوں گا۔ آقاﷺ جن کو شفاعت کبریٰ حاصل ہے۔ آپ کے صدقے آپ کی امت کو بھی منصب شفاعت ہے، مگرپھر بھی اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں ہمیشہ ڈراتے، اولاد و ذریت کے سامنے یا اہل ایمان و عقیدت کے سامنے کبھی وہ باتیں نہ کرتے جس سے لوگ عمل سے بے پرواہ ہوں، بلکہ صریح احادیث میں آیا ہے کہ بعض بشارتیں آپ لوگوں کو محض اسی وجہ سے سنانے سے منع فرماتے کہ لوگ کچھ کا کچھ مطلب سمجھ لیں گے اور عمل سے بے نیاز ہو جائیں گے۔’’

عیدین میں تو آپ کی رقت انگیز دعا پر آمین کہنے کیلیے شہر قنوج کے معززین اور عوام اہل سنت کا جم غفیر اکٹھا ہوجاتا ہے۔اس احقر الناس کادرج ذیل شعر آپ کی دعاؤں کی ترجمانی میں ہے؎

دردعائے خویش گریہ می کند زاروقطار

انمايخشيٰ بود مشہود روئے یار ما

وعظ و خطابت: واہب العطیات نے آپ کو وعظ و خطابت میں بھی راسخ ملکہ عطا فرمایا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کنیڈی آڈیٹوریم میں جہاں طلبائے اہل سنت کی طرف سے ہرسال اہل سنت کے چنندہ خطبا مدعو ہوتے ہیں وہاں بھی آپ نے اپنی خطابت سے متاثر کیا ہے۔ہفتے میں ایک دن وہ بھی جمعرات کو درود خوا نی کے بعد آپ حاضرین کو وعظ فرماتے ہیں جس کا ایک ایک کلمہ سامعین کے دلوں میں آب حیات کا کام کرتا ہے۔ اب تو کثیر تعداد میں لوگ لائیو (Live) بھی اس پروگرام کو دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف جلسوں، کانفرنسوں اور سمیناروں میں آپ کے خطبات جان پیدا کرتے ہیں۔ آپ کی یہ خاص بات ہے کہ آپ اتنا ہی

بولتے ہیں جس کی ضرورت ہوتی ہے اور جس پر آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

شعر و شاعری: صوفیہ کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے سوز دروں کو شعر و شاعری کے ذریعہ بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا اس فن میں بھی بغیر کسی کی شاگردی کے آپ کا ایک مقام ہے اور حمد و مناجات، نعت و مناقب اور غزلیات پر مشتمل آپ کا ایک شعری دیوان ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ کا ترانہ بھی آپ ہی کا نتیجہ فکر ہے۔آپ کی منتخب نعتوں کا ایک مجموعہ زیر اشاعت ہے اور ان شاء اللہ جشن عثمان غنی‌رضی اللہ عنہ (۱۱؍مارچ ۲۰۱۸ء) کے موقع پر آجائےگا۔

وقت کی حفاظت: آپ وقت کو اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت سمجھتے ہیں اور دوسروں سے بیان بھی کرتے ہیں کہ وقت اللہ تعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں سر حشر سوال پوچھےگا،اگر آپ کے فرزندان آپ کے ساتھ سفر میں ہوں اور مطالعہ کے لیے کوئی کتاب ساتھ نہ لے جائیں تو آپ سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے ہیں۔ تحفظ اوقات کا اندازہ آپ کی تصنیفات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اہل و عیال، طلبہ و اساتذہ، مریدین و معتقدین اور احباب و رشتہ دار کے حقوق ادا کرنے کے بعد بھی کئی ہزار صفحات آپ نے رقم فرما دیےاور تا ہنوز یہ سللسلہ جاری ہے۔

غربا پروری: بظاہر کوئی مستقل آمدنی نہ ہونے کے باوجود بہت سے غریب گھرانوں کی آپ مالی اعانت فرماتے ہیں۔ کسی حاجت مند کی جائز حاجت سن کر خاموش نہیں رہتے ہیں۔ غربا پروری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی سرپرستی میں کئی غریب بچیوں کی اجتماعی شادیاں ہوئیں۔ آج بھی آپ کا یہ اعلان ہے اور اخبار میں چھپ بھی چکا ہے کہ جس کا کوئی نہ ہو وہ ہمارے یہاں آئے اور فی سبیل اللہ کھائے پیے اور رہے۔ کئی بار کا مشاہدہ ہے کہ علما و طلبہ آپ کی ملاقات کے لیے آئے اور ان کو اپنے پاس سے کرایہ، بلکہ اس سے زائد روپے دے کر رخصت

کیا۔

سادگی: کھانے پینے اور رہن سہن میں آپ انتہائی سادہ واقع ہوئے ہیں۔ آپ کے ظاہری لباس کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ ٹھنڈیوں اور گرمیوں میں کس قدر سستے اور معمولی کپڑے استعمال فرماتے ہیں، جب کہ آپ کے چاہنے والے آپ کے ادنیٰ اشارے پر جانے کیا سے کیا کر سکتے ہیں، مگر آپ اکثر فرماتے رہتے ہیں ‘‘یہ دنیا ہے، لہٰذا اس سے کم سے کم استعمال کیا کرو’’۔ آپ ہر چیز میں سنت کی پیروی کرتے میں کھانا جیسا بھی ہو اتنا ہی تناول فرماتے ہیں جتنے سے بھوک مٹ جائے، بلکہ اکثر تو آپ ناشتہ بھی نہیں کرتے، بلکہ جوناشتہ آپ کے لیے جاتا ہے وہ واپس ویسے ہی آجاتا ہے۔ پھر ظہر میں آپ وہی تناول فرماتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اہل خانہ اسے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے نہ کھائیں۔ شان استغنا کا عالم یہ ہے کہ کبھی نہیں چاہتےکہ کوئی ان کی مدح سرائی کر ے، بلکہ راقم کو مذکورہ چیزیں لکھتے ہوئے بھی یہ اندیشہ ہے کہ کہیں پڑھ کر ناراض نہ ہو جائیں۔

معمولات شب وروز:میں 2012ءمیں پہلی بار حضرت سے متعارف ہوا اور 2015 میں طالب ہوا میں نے اس بیچ آپ کے شبانہ روز کے جو معمولات دیکھے یا جو حضرت کی صاحبزادی سے سنے انھیں سپرد قلم کررہا ہوں(1)آپ پابندی کے ساتھ تہجدادا فرماتے ہیں اہل خانہ میں بھی اگر کسی سے غفلت دیکھتے ہیں تو وقتا فوقتا تنبیہ فرماتے رہتے ہیں(2)سنت کے مطابق فجر کے قریب تھوڑی دیر استراحت فرماتے ہیں پھر نماز فجر کے لیے بیدار ہوتے ہیں اور اثنائے وضواہل خانہ کو بیدار فرماتے رہتے ہیں(3)فقہ حنفی کے مطابق فجر اجالا کرکے پڑھتے ہیں اوراپنی مسجد میں با جماعت نماز ادا فرماتے ہیں یہ وہی مسجد ہے جس میں بحیثیت امام آپ کا تقرر ہوا تھا،سلام پھیرنےکے بعداور دعا سے پہلے امام صاحب فیضان سنت سے مختصر درس دیتے ہیں بعدہ دعا،صلاۃوسلام ومصافحہ اورمعانقہ کے مراسم ادا ہوتے

ہیں،ان سب سےفراغت کے بعد حضرت اہل سلوک کی بڑی تعداد کےساتھ مراقب ہوتے ہیں اس محفل ذکرومراقبہ میں ہرایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس بحرعرفان سے چلوبھرتا ہے۔

یہی وہ روحانی محفل ہے جہاں آپ کی توجہات سے جانے کتنوں کے مردہ دل غافلین سے ذاکرین وواصلین کی صف میں آکر قرب وعرفان کی دولت سے با مراد ہوئے،مراقبہ کے اختتام پر فاتحہ وشجرہ خوانی اور رقت انگیز دعائیں ہوتی ہیں پھر حاضرین اشراق وچاشت کی دودورکعتیں ادا کرکے معمولات زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں مگر خود آپ معمول کے مطابق تلاوت قرآن پاک اور دلائل الخیرات شریف پڑھ کر سیدھا الجامعۃ الاحمدیہ تشریف لے جاتے ہیں۔

(4)مدرسہ پہنچ کریہ میر میخانہ جو اب تک بادہ وساغرلٹا رہا تھا اب شیخ الحدیث کا روپ دھارکرقال اللہ وقال الرسول کےسرمدی نغمے بکھیرنے لگتا ہے اور یہ سلسلہ دوپہر گیارہ بجے تک چلتا ہے،11بجتے بجتے آپ کی درسگاہ کا بیرونی حصہ آسیب زدہ وپریشاں حال مردوزن،اہل حاجت اور ملاقاتیوں سے بھر جاتا ہے،درس سے فراغت کے بعد حضرت ہر ایک کی پریشانی بغور سن کر حالت کے مطابق ہر ایک کو بزرگوں مثلا شاہ ولی اللہ وغیرہ اور خوداپنے مجرب نقوش وغیرہ بنا کسی معاوضہ کے عنایت فرماتے ہیں،تعویذات کے کام میں حضرت اپنے شاگردوں کو بھی شریک رکھتے ہیں تاکہ ان کی تربیت بھی ہو اور لوگوں کا کام بھی جلدی ہوجائے،اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعویذات میں بڑا اثر رکھا ہے،یہ سلسلہ اذان ظہر تک چلتا رہتا ہے اور دو شنبہ کے علاوہ حضرت ظہر کی نماز اکثر وبیشتر طیبہ مسجد(مدرسہ کی مسجد )ہی میں ادا فرماتے ہیں، بعد نماز حلقہ ذکرومراقبہ ہوتا ہے۔

(6)بعد ظہر اگر کسی دعوت وغیرہ میں جانا ہوا تو جاتے ہیں ورنہ گھر پر کھانا کھاکر قیلولہ فرماتے ہیں(7)عصر سے پہلے بیدار ہوکر وضو ونماز سے فراغت کے

بعد مغرب تک مسجد ہی میں ذکرومراقبہ میں محویت رہتی ہے(8)مغرب کی ادائگی کے بعد اوابین کی دو دوکرکے چھ رکعتیں پابندی سے ادا فرماتے ہیں اور دوسروں کو بھی ادا کرنے کی تاکید فرماتے ہیں کبھی کبھار بیس رکعتیں بھی ادا فرماتے ہیں پھر گھر تشریف لاتے ہیں اور عشاء تک تصنیف وتالیف میں مصروف رہتے ہیں۔

(9)عشا کی نماز کے بعد ایک بار پھر اہل سلوک کی بڑی تعداد کے ساتھ ذکرومراقبہ کی محفل گرم ہوتی ہے،مراقبوں کی ایسی پرکیف گھڑی ہوتی ہے جسے بس اہل سلوک ہی محسوس کرسکتے ہیں،عام آدمی کے لیے بس اتنا جاننا کافی ہے کہ لوگ اس قدر خاموش ہوکر بیٹھتے ہیں کی ان کی سانسوں تک کی صدا سنائی دینے لگتی ہے،اللہ تعالیٰ نے آپ کی توجہات میں وہ اثر رکھا ہے کہ چند دنوں کے اندر ہی اہل سلوک کے لطائف ماہی بے آب کی طرح تڑپنے اور پھڑکنے لگتے ہیں (10)ذکر و مراقبہ سے فراغت کے بعد خواص اور الجامعۃ الاحمدیہ کے اساتذہ سے مختلف مسائل پر مشورے ہوتے ہیں،اگرکہیں جلسے وغیرہ کا پروگرام ہے تو اس میں تشریف لے جاتے ہیں نہیں تو گھر جاکر کھانے پینے سے فراغت کے بعد تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

(11)دوشنبہ مبارکہ کو پابندی کے ساتھ حضرت کی مسجد میں ختم مجددیہ وختم خواجگان کی محفل منعقد ہوتی ہے ،جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں(12)جمعرات کو بعد نمازعشاء طیبہ مسجد میں درود خوانی کی محفل ہوتی ہے یہ منظر بھی دیدنی ہوتا ہے،آخر میں تصوف وروحانیت کے حوالے سے حضرت کاانتہائی عرفانی درس ہوتا ہے (13)نماز با جماعت کا اس قدر اہتمام ہے کہ سفر میں بھی آپ اکثروبیشتر اپنےخادم خاص مولانا آفتاب احمد آفاقی کو ساتھ رکھتے ہیں تاکہ با جماعت نمازادا کرسکیں۔

تصنیفی خدمات:

مطبوعہ کتب: (۱) آداب طریقت (۲) سلسلۂ نقشبندیہ اور اس کا سلوک (۳) حضرت مجدد الف ثانی اپنے کمالات اور دینی خدمات کے آئینے میں (۴) تذکرہ مشائخ مجددیہ (۵) ذکر و فکر (۶) تذکرہ مشائخ سہروردیہ (۷)نغمات بحر العرفان ( مجموعہ نعت و منقبت) (۸)الصلاح والفلاح (۹)علمائےآخرت (۱۰)تربیت اہل سلوک

غیر مطبوعہ کتب:

(۱) شرح ملا حسن (۲) شرح اصول الشاشی (۳) شرح میزان الصرف (۴) کشف و الہام کی شرعی حیثیت (۵) شطحیات اور ان کے اسباب (۶) معارف مجدد (۷) اصطلاحات تصوف (۸) صغروی سادات اور ان کی خدمات (۹) غوثیت و مداریت (۱۰) تصوف اور اس کے فوائد (۱۱) تجدید الف ثانی (تین جلدیں) (۱۲) حدیث تجدید (۱۳) داغہاے دل (۱۴) خصائص نقشبندیہ (۱۵) سلاسل اور ان کے اسباب اختلاف (۱۶) شرح اصطلاحات تصوف (۱۷)نبوت و ولایت (۱۸) ترجمہ مبدأ و معاد (۱۹) ترجمہ مقامات احمدیہ سعیدیہ (۲۰) مشائخ نقشبندیہ اور تحفظ سنیت (۲۱) تحدیث نعمت (۲۲) ترجمہ ہمعات(۲۳)روائح سکینہ ترجمہ لطائف مدینہ (۲۴) رسالہ فوائد کشف (۲۵) مہتمم و معلم کے آداب (۲۶) ارشادات مشائخ (۲۷)حضرت مجدد کی بعض کرامتیں (۲۸) نجدیت اپنے افکار و اعمال کے آئینے میں(۲۹)عظمت صحابہ (۳۰) دعوت الی اللہ وغیرہ۔

تصوف اور اس کے فوائد: ۶۳۰؍ صفحات پرمشتمل حضور بحرالعرفان کی ایک مبسوط تحریر ہے ،یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے ،پہلےحصے میں تصوف کے تیرہ فوائد ، تصوف کی تعریف ،غرض وغایت،مادہ اشتقاق اور مشہور صوفی خانوادوں کا ذکر ہوا ہے،اس حصے کے آخر میں سلوک وجذبہ کی تعریف اور دونون کے ما بین

فرق کو واضح کیا گیا ہے۔

دوسرے حصے میں سلوک کے مقامات عشرہ توبہ وغیرہ کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے آخر میں چند اچھی اور بری عادتیں ذکر کرکے کتا ب کا خاتمہ ہوا ہے۔

اس کتاب میں حجۃ الاسلام امام محمد غزالی اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہما اللہ کے مکتوبات سے خصوصی طور پر استفادہ کیا گیاہے،حضور بحر العرفان کی تحقیقات وتجربات سے کتاب قدیم وجدید کا مرقع بن گئی ہے۔

یہ کتاب چار یا پانچ سال پہلے تحریر کی گئی تھی جو مسودے کی صورت میں تھی جس پر کام کرنے کا باعث یہ ہوا کہ اس سے پہلے حضرت کی دو کتابوں الصلاح والفلاح اور علمائے آخرت پر کام کرنے کا شرف ملا مذکورہ دونوں کتا بوں میں جا بجا آرہا تھا کہ تفصیل کے لیے کتاب تصوف اور اس کے فوائد کا مطالعہ کریں بس اسی چیز نے مہمیز کیا کہ کیوں نہ اس کتاب پر کام کرکے جلدی منظر عام پر لایا جائے تاکہ لیلیٰ کے حسن کا ایک اور پہلو بے نقاب ہو۔

خدا کانام لے کر یہ کام شروع کیا گیااور کئی ٹائپسٹو ں کی خدمات لینے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی اس لیے کہ ان سے یہ تحریر پڑھی نہ جا رہی تھی،اللہ جزائے خیردے برادرگرامی مولانا دلشاد احمد مصباحی کو کہ انھوں نے بڑی عرق ریزی سےکتاب کے بیشتر صفحات کی ٹائپنگ کے فرائض انجام دیے مگر پھر بھی اس سال کے سالانہ جلسے پر جب کتابت کے مکمل نہ ہونے کا یقین ہونے لگا تو راقم نےبھی بغیر کسی تجربے کے ٹائپنگ کا کام شروع کردیا اور بفضلہ تعالیٰ چند ہی دنوں میں ایک سو بیس صفحات ٹائپ کر لیے۔

کتاب کی ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ کے درمیان بہت سے مقامات آئے جو کاغذ کے ہلکے اورروشنائی کے پھیل جانے کے سبب پڑھنے میں نہیں آرہے تھے

لیکن بار بار کی نظر سےانھیں سمجھ لیا گیا پھر بھی غلطی کےامکان سےانکار نہیں کیا جا سکتا ہے،ارادہ تھا کہ تخریج وتحقیق کے ذریعہ جدید طرز پر کتاب شائع کی جائے مگر برادر گرامی مولانا احمد سعید مجددی زید فضلہ کا اصرار تھا کہ جشن عثمان غنی رضی اللہ عنہ(9تا11مارچ2018) کے موقع تک کتاب آجائے اس لیے ایسا نہیں ہو سکا ان شاء اللہ دوسرے ایڈیشن میں ایسا کرلیا جائے گا۔

گذارش:کسی بھی کتاب میں کم ازکم دویا تین بار پروف ریڈنگ ضروری ہے،مگر وقت کی قلت کی وجہ سے یہ بےبضاعت اول تا آخرصرف ایک بار پڑھ سکا،اس لیے کہ 11مارچ کو کتاب کا رسم اجرا ہوناہے اور آج فروری کی ستائیس تاریخ ہو چکی ہے،لہٰذا قارئین کرام کی بارگاہ میں التجا ہے کہ جہاں کہیں غلطی نظر آئے براہ کرم ادارے کو مطلع فرمادیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح ہوسکے۔

بندہ کمتر

سیدنورعالم مصباحی

ریسرچ اسکالر،شعبہ فارسی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

E-mail: nooralammisbahi@gmail.com