باب ۴ از ۵۴صفحات ۶۷–۷۸
کمالات باطن کا تحفظ: (تیسرا فائدہ)
تصوف کے ذریعہ علوم باطن اور کمالات باطن کا تحفظ ہوا ہے اور نور بندوں تک منتقل ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔ تصوف کے ذریعہ بندوں میں یہ لیاقت پیدا ہوئی کہ ہر وقت کے مناسب کمالات جدیدہ مختلف بندوں پر فائز ہوتے رہے اور عام امت تک پہنچتے رہے۔ اسی تصوف کے ذریعہ ایسے بلند و بالا اخلاق وجود میں
آتے رہے جو فاسقوں کے صالح اور کافروں کے مسلمان ہونے کا سبب بنتے رہے اور اسلام دلوں میں اترتا رہا۔ حقیقت یہ کہ دلائل و براہین کے ذریعہ اسلام و ایمان سمجھانا اور کافروں کو زیر کر لینا بہت مشکل کام ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی نشر و اشاعت خیر القرون کے بعد بزرگوں کے بلند اخلاق و کردار اور ان کے تصرفات و کرامات کے ذریعہ جس قدر ہوئی اس قدر کسی سے نہ ہوئی۔
ایمان کشفی: (چوتھا فائدہ)
تصوف کے ذریعہ ایک خاص فائدہ یہ ہوا کہ جو ایمان تقلیدی اور استدلالی تھا وہ تحقیقی اور کشفی ہو کر زوال سے محفوظ ہو گیا۔
ایمان کے درجے بیان کرتے ہوئے امام غزالی قدس سرہ نے بیان فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان کے تین درجے ہیں؛ (۱) عوام کا ایمان، یہ محض تقلیدی ہے۔ (۲)متکلمین کا ایمان، اس میں کسی قسم کا استدلال بھی ملا ہوتا ہے اور اس ایمان کا درجہ عوام کے ایمان کے قریب قریب ہوتا ہے۔ (۳)عارفین کا ایمان، نور یقین سے اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ پھر مثال سے یوں وضاحت فرمائی:
پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ شخص تمھیں خبر دے جس کی سچائی کا تمھیں تجربہ ہے، تمھارا دل اس کی بات پر مطمئن ہو اور محض خبر سننے ہی سےتمھیں اطمینان حاصل ہو جاتا ہے تو یہ محض تقلیدی ایمان ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ مثلاًتم گھر کے اندر سے، لیکن دیوار کے پیچھے سے زید کی آواز سنو تو اس بات پر استدلال کرو کہ وہ گھر میں ہے۔ یہ ایمان اور تصدیق و یقین اس تصدیق و یقین سے زیادہ قوی ہے جو محض سننے سے ہو۔ تیسرامرتبہ یہ کہ مثلاً تم گھر میں داخل ہو اور اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لو۔ یہ حقیقی معرفت اور یقینی مشاہدہ ہے اور مقربین و صدیقین کی معرفت ہےکہ وہ دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔
حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ نے اس سلسلے میں آیت کریمہ:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا
سے استدلال کیا اور کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اے وہ لوگو! جو ایمان استدلالی رکھتے ہو کشفی ایمان لاؤ۔
خیال رہے کہ چوں کہ آیت مذکورہ میں ایمان والوں سے ایمان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بظاہر تحصیل حاصل ہے؛ اس لیے علما نے اس کی مختلف تاویلیں فرمائی ہیں۔ حضرت خواجہ قدس سرہ کی تاویل دل کو بہت چھوتی ہوئی ہے۔
علوم کا بدیہی ہونا: (پانچواں فائدہ)
تصوف و طریقت کے مقاصد سے ہی ہےکہ علوم استدلالی و نظری، کشفی اور بدیہی ہو جائیں اور اجمالی تفصیلی ہو جائیں۔ صاحب کشف سالک پر اثناے راہ اس قدر علوم کا فیضان ہوتا ہےکہ بیان سے باہر ہے، وہ اجمال کی تفصیل ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر علم کلام میں بیان شدہ حقائق ذات و صفات وغیرہ پڑھیں اور پھر حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کے معارف و حقائق کشفیہ کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو اس بات کی مکمل تصدیق ہو جائےگی کہ علوم اجمال سے تفصیل اور نظری سے بداہت میں کس طرح آتے ہیں۔
حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ سے کسی نے پوچھا کہ سلوک سے مقصود کیا ہے؟ فرمایا کہ اجمالی معرفت تفصیلی اور استدلالی کشفی ہو جائے، یہ نہیں فرمایا کہ اس کے علاوہ دیگر علوم حاصل ہو جائیں۔ ہاں، راہ علوم و معارف بہت حاصل ہوتے ہیں کہ جن سے گذرنا چاہیے اور جب تک نہایۃ النہایۃ کے مقام صدیقیت تک نہیں پہنچتا ہے ان علوم سے حصہ نہیں پاتا ہے۔
یہ بھی معلوم رہے کہ باطنی کیفیات کے تحفظ کے لیے اس نورکی اشد ضرورت ہے جسے سرکار دو عالمﷺ لے کر آئے۔ آپﷺ انوار و تجلیات کا مرکز
...........................
۔ سورۃالنساء: ۴؍۱۳۶
تھے۔ آفتاب نبوت کی ضیاپاشیاں ہر وقت دلوں کو روشن رکھتی تھیں۔ اس سے دلوں کی عجیب حالت رہتی تھی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: گویاہم اللہ تعالیٰ کو دیکھتے تھے؛ اسی لیے حدیث شریف میں ہے کہ جب آفتاب نبوت روپوش ہوا، صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم ابھی آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھےکہ ہم نے اپنے دلوں میں فرق محسوس کیا۔ (مشکات وغیرہ)
نورِ الٰہی کی حفاظت: (چھٹا فائدہ)
تصوف کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ وہ نور الٰہی محفوظ ہوا۔ آج بھی اہل نظر جانتے ہیں کہ جب وہ اپنے کامل مرشدین کے روبرو ہوتے ہیں تو ان کے دلوں کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور غائب ہونے کی حالت میں کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ جب تک وہ نور دل میں رہتا ہے اعتقاد و عمل میں کوئی کجی نہیں آتی ہے۔ پورے آب و تاب کے ساتھ کیفیتیں قائم رہتی ہیں اور جب اس نور سے محرومی ہوتی ہے تو ان میں کمزوری آتی ہے۔
حضرت مجدد قدس سرہ فرماتے ہیں کہ نور نبویﷺ جب تک دلوں میں جلوہ گر رہا بدعت نہیں پھیلی، سنتیں قائم رہیں اور جوں جوں انوار نبوت سمٹنے لگے کیفیتیں بدلنے لگیں۔ جب نور نکلا سنت پر عمل کمزور ہونے لگا، بدعتوں کو پنپنے کا موقع مل گیا۔ آپ دیکھیں جوں جوں دنیا زمانۂ نبویﷺ سے دور ہوتی گئی اعتقادی اور عملی کمزوریاں پیدا ہوتی چلی گئیں، نئے نئے فرقے وجود میں آتے گئے، فسق و فجور عام ہوتا گیا۔
جن بزرگوں کو درجۂ کمال حاصل تھا اور نور کے حامل تھے وہ اپنی اپنی بساط بھر دلوں کو روشن کرتے رہے، عمل کے جذبات قائم رہے، کیفیتیں برقرار رہیں، عقائد درست رہے۔ ان صوفیہ کاملین کی تاریخ پڑھ ڈالیں پتا چلےگا کہ خیر القرون کے بعد اعتقاد و عمل میں پختگی اور شریعت مطہرہ کے ظاہر و باطن پر مکمل عمل جو
ان کاملین اور ان سے وابستہ حضرات اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں میں ملےگا وہ دوسرے اہل علم و دانش میں نہیں ملےگا۔ ان بزرگوں کے یہاں درد ہے، عشق و محبت ہے، اخلاص ہے، مستحبات تک پر سختی سے عمل ہے۔ نہ مناظرہ ہے، نہ مباحثہ، نہ جدل، نہ باہم رسہ کشی، نہ تحاسد، نہ تباغض، نہ تکلف، نہ بناوٹ، نہ حیلہ سازی، نہ عیاری، نہ جاہ و منصب کی خواہش، نہ دنیا کی محبت۔ صبح و شام ذکر کے جلووں سے معمور، حق کی صداؤں سے فضائیں پُرنور، محلوں سے دور بوریہ نشینی سرمایۂ افتخار۔ نہ کسی کی تذلیل، نہ تحقیر، بس اپنے رب جل و علا سے کام۔
اس کے برخلاف دوسروں کو دیکھیے، درس گاہوں سے تاج داروں کے دربار تک چلے جائیے، کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، سب جانتے ہیں اور آج جو کچھ ہو رہا ہے سب پر عیاں ہے۔ تصوف اور صوفیہ کو رات دن کوسنے والے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں، اپنی کتاب دل کا مطالعہ کریں، آیا ان میں وہی ہے جو صحابہ میں تھا، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور جو کچھ ہے اسے دیکھیں کس قدر اخلاص ہے اور کس قدر عشق کے جلووں کی فراوانی ہے۔
اعتدال کا حصول: (ساتواں فائدہ)
تصوف کی خاص کرم فرمائی یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ احکام الٰہیہ خاص کر جو ہماری شریعت سے تعلق رکھتے ہیں وہ غایت درجہ اعتدال پر مبنی اور افراط و تفریط سے دور ہیں۔ یہ ایک کھلی اور واضح حقیقت ہے کہ ہمارے حالات و کوائف اور ہمارے مصالح و مضارکا علم جس قدر اس عالم الغیب و الشھادۃ کو ہے وہ کسی کو نہیں۔ وہ بااختیار خود مالک و مؤثر ہے، اس پر کوئی کیفیت غالب نہیں؛ لہٰذا اس کا جو حکم ہوگا وہ نہایت کامل اور نفع بخش ہوگا اور اعتدال پر مبنی، نہ سخت ہوگا نہ نرم۔
سخت اس کے ہوتے ہیں جو صفت غضب سے مغلوب ہو اور نرم اس کے
ہوتے ہیں جو رحمت سے مغلوب ہو۔ وہ قہّار بھی ہے، رحیم و کریم بھی، مگر بااختیار خود ہے؛ لہٰذا ہر حال میں ہمیں شریعت کی پیروی کرنی ہے؛ کیوں کہ اس سے بہتر کوئی قانون نہیں ہو سکتا ہے۔
ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو کیفیت شدید ہوتی ہےوہ ہمیں مغلوب کرتی ہے؛ لہٰذا شریعت کی پابندی اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اعتدال پر قائم رہ سکیں۔ اگر شریعت مطہرہ ہمیں سہارا نہ دے تو ہم بگڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے اندر ہمدردی کا جذبہ ہے، مگر اس میں اس قدر افراط اور زیادتی ہے کہ بعض امور دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا وسوسہ پیدا ہونے لگے۔
جن حیوانات کو ذبح کرکے کھانا جائز ہے یا قربانی کا حکم ہے بہت سے مشرکین رقت قلب کی وجہ سے اسے معیوب سمجھ کر اسلام پر اعتراض کر بیٹھتے ہیں۔ یہ ہمدردی کے افراط کا نتیجہ ہے۔ نیز اہل و عیال کو بہت سے شرعی معاملات میں تنبیہ و تہدید یا تادیب نہیں کر پاتے ہیں، یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔
آج ہمارے سامنے جو حالات ہیں بعض ممالک میں یہود و نصاریٰ کی دست درازیوں کو دیکھ دعائیں مانگتے ہیں، روتے ہیں، گڑگڑاتے ہیں، اگر بظاہر دعا قبول نہیں ہوئی تو ہم میں بہت سے وسوسوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔
نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل بھی دی ہے اور فطرت بھی۔ اگر دونوں میں بھی ٹکراو ہو تا ہے تو شریعت پر عمل ہی ہمیں اعتدال پر قائم رکھ سکتا ہے۔ مثال کے طور کسی چیز کے فوت ہونے سے ہمیں رنج پہنچتا ہے، عقل رنج سے منع کرتی ہے؛ کیوں کہ رنج سے وہ چیز مل نہیں پاتی ہے؛ اس لیے رنج نہیں چاہیے، مگر طبیعت و فطرت رنج کا تقاضا کرتی ہے۔ شریعت میں دونوں کی رعایت ہے کہ رنج ہو، مگر غالب نہ ہو۔
اسی طرح دنیا کی فنا سے غفلت نظر عقل میں سخت جرم، مگر طبیعت و فطرت
غفلت چاہتی ہے؛ کیوں کہ فناے دنیا کو بار بار دیکھتے دیکھتے اس کا وجود و عدم مساوی ہو جاتا ہے اور جہاں یہ صورت ہو وہاں غفلت ہوتی ہے۔ شریعت ہمیں اعتدال سکھاتی ہے کہ غفلت ہو تو غالب نہ ہو کہ احکام عقل برباد ہو جائیں۔
انسان کی پیدائش جن اجزا و عناصر سے ہوئی ہےان کے تقاضے انسان کو اعتدال پر قائم نہیں رہنے دیتے ہیں۔ تصوف کی یہ خاص حکمت عملی ہے کہ یہ قوتوں میں اعتدال پیدا کرتا ہے جس سے شریعت پر عمل آسان ہو جاتا ہے ورنہ ان قوتوں کا مغلوب انسان کئی دفعہ جان کر بھی شریعت پر عمل نہیں کر پاتا ہے۔ اکثر تو حیوانیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۸۔اخلاق حسنہ و سیئہ:
اخلاق حسنہ کا حصول: (آٹھواں فائدہ)
قرآن و سنت نے اخلاق حسنہ اور عمدہ عادتوں سے آراستہ ہونے پر بہت زور دیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق بہتر ہیں۔ اخلاق یا عادتوں سے اعمال پیداہوتے ہیں، عادتیں بہتر ہیں تو اعمال بہتر اور بد ہیں تو اعمال بد صادر ہوتے ہیں۔ شریعت کے جملہ احکام کی ایک تقسیم یوں بھی کر سکتے ہیں کہ سب دو قسم پر ہیں؛ ایک وہ جن کا تعلق ظاہر سے ہے، دوم وہ جن کا تعلق باطن سے۔ پھر ان میں ہر ایک کی دو دو قسمیں ہیں؛ ایک وہ ہیں جنھیں مامورات کہتے ہیں یعنی جنھیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔مامورات ظاہری جیسے: کلمہ پڑھنا، نماز ، روزہ ، حج، زکات وغیرہ۔ اور باطنی جیسے: ایمان و تصدیق، صبر و شکر، توکل و قناعت، رضا و تفویض، اخلاص و محبت وغیرہ۔ دوم منہیات جن سے منع کیا گیا ہے۔ اول ظاہری جیسے: کفریہ کلمات بولنا، افعال شرک کرنا، زنا، چوری، سود خوری، رشوت وغیرہ۔ دوم باطنی جیسے: عقائد باطلہ، بے صبری، ریا، تکبر، عجب وغیرہ۔
مامورات باطنی کو فضائل اور منہیات باطنی کو رذائل بھی کہتے ہیں۔ ہمیں حکم دیا
گیا کہ مامورات بجا لائیں خواہ ظاہری ہوں یا باطنی اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ اخلاق عمدہ ہوں اور فضائل سے آراستہ اور رذائل کا ازالہ ہو۔ یہ چیز تصوف کے ذریعہ ہاتھ آتی ہے؛ کیوں کی تصوف اعتدال پیدا کرتا ہےاوراعتدال سے اخلاق حسنہ وجود میں آتے ہیں جن پر اعمال متفرع ہوتے ہیں؛ اسی لیے تصوف کا دوسرا نام علم الاخلاق ہے۔
تصوف علم الاخلاق ہے:
اس کی قدرے تفصیل یہ ہے کہ تصوف کا خاص مقصد تزکیۂ نفس و تصفیۂ قلب ہے۔ ریاضات و مجاہدات کے ذریعہ جب نفس کا تزکیہ ہو جاتا ہےتو نفس امارہ کی امّارگی اور سرکشی زائل ہو جاتی ہےاور شرارت و نقص کا مبدأ اب خیر و کمال کا مبدأ ہو جاتا ہے۔ تزکیہ ٔ نفس سے تمام رذائل سے اچھی طرح سے چھٹکارا حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے اخلاق بد اخلاق حسنہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ہر موڑ پر نیک اور عمدہ اخلاق کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ تزکیۂ نفس کے بغیر یہ بہت مشکل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ فضل خداوندی سے کوئی جوان مرد اندرونی برے تقاضوں کے باوجود اعضا و جوارح کو اعمال صالحہ پر محصور رکھے، مگر تصوف، تزکیہ کے ذریعہ شرو فساد کی جڑ ہی اکھاڑ پھینک دیتا ہے۔
حضرت امام غزالی قدس سرہ نے جس قدر تفصیل سےبیان فرمایا ہے شاید اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا ہے۔ چند چیزیں انھی کے کلام سے الغزالی کے حوالے سے عرض ہیں:
خلق کی حقیقت:
خُلق اور خَلق قریب المعنی الفاظ ہیں جو اکثر ساتھ ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کا خُلق اور خَلق دونوں میں اچھا ہے یعنی اس کا ظاہر بھی اچھا ہے اور باطن بھی۔ انسان حقیقت میں دو چیزوں کا نام ہے: (۱)جسم
(۲) روح۔ اور جس طرح جسم کی ایک خاص شکل و صورت ہےروح کی بھی ہے۔ پھر جس طرح جسم کی صورت اچھی یا بری ہوتی ہےروح کی بھی ہوتی ہے، اور جس طرح ظاہری صورت کے ظاہر سے انسان کو خوب صورت یا بد صورت کہا جاتا ہے روحانی صورت کے اعتبار سے اسے خوش اخلاق یا بد اخلاق کہا جاتا ہے۔
منطق کے اصول کے موافق خلق کی یہ تعریف ہے: روح میں ایسے ملکۂ راسخہ کا پایا جانا جس کی وجہ سے انسان سےاچھے یا برے افعال بلا تکلف آپ ہی آپ سرزد ہوں۔’’ اس تعریف میں تین قیدیں ہیں: ملکہ، راسخہ اور افعال کا بلا تکلف سرزد ہونا۔ پہلی قید کا یہ فائدہ ہے کہ اگر کسی شخص کی طبیعت فطرتاً سخی واقع ہو، لیکن اخلاص یا کسی اور مجبوری کی وجہ سےفیاضی کا اظہار نہ کر سکتا ہو تو اس کی سخاوت میں کوئی فرق نہیں آتا ہے۔
غرض خلق کے وجود کے لیےافعال کا صادر ہونا شرط نہیں، صرف یہ شرط ہے کہ طبیعت میں اس قسم کی یہ کیفیت موجود ہو کہ اگر کام کرنے کا سامان اور موقع ہاتھ آئے تو بلا تکلف وہ کام ظہور میں آئے۔ دوسری قید کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو کبھی بھی اتفاقیہ کسی کام کی طرف رغبت ہوتو وہ خلق میں داخل نہ ہوگا؛ کیوں کہ اس کو ملکۂ راسخہ نہیں کہہ سکتے۔ تیسری قید کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی طبیعت پہ زور ڈال کر اپنے غصے کو تھام لیتا ہے تو اس کو حلیم نہیں کہہ سکتےہیں؛ کیوں کہ یہ فعل اس سے بے تکلف ظہور میں نہیں آیا ۔
خلق کی بہت اقسام ہیں، لیکن اصلی ارکان جن سےاور تمام شاخیں نکلتی ہیں تین ہیں: علم، غضب اور شہوت۔ انھی تینوں قوتوں کے اعتدال کا نام حسنِ خلق ہے۔ کسی شخص کے اندر یہ تینوں قوتیں معتدل ہوں تو وہ پورا خوش اخلاق ہوگا، اگر صرف ایک یا دو ہوں تو ناتمام۔ جس طرح کہ کسی کے تمام اعضا خوب صورت ہوں تو کامل الحسن ہوگا ورنہ ناقص۔ علم کی قوت کے اعتدال کا نام حکمت ہےاو ر وہ
تمام اخلاق حسنہ کی بیخ و بن ہے۔
غضب کی قوت اگر افراط و تفریط سے بالکل بری ہو یعنی اس طرح عقل کے قابو میں ہو کہ وہ جس طرف بڑھائے بڑھے اور جہاں روکے رک جائے تو اس کو شجاعت کہتے ہیں۔ شجاعت کی قوت مختلف مظہروں میں ظاہر ہوتی ہے اور ہر مظہر کا کام جدا ہوتا ہے۔ مثلاً خودداری، دلیری، آزادی، حلم، استقلال، ثبات، وقار۔ یہ قوت و غضب جب استقلال سے ہٹ کر افراط کی طرف مائل ہوتی ہے تو تہوُّر بن جاتی ہے اور اس سے سلسلہ بسلسلہ غرور، نخوت، خودپرستی، خودبینی وغیرہ پیدا ہوتی ہے۔ جب تفریط کی طرف جھکتی ہے تو ذلت پسندی، کم حوصلگی، بے طاقتی دنائت کے قالب میں ظہور کرتی ہے۔ شہوت کی قوت میں جب کامل اعتدال پیدا ہوتا ہے تو اس کو عفت کہتے ہیں۔ یہی صفت مختلف سانچوں میں ڈھل کر مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے یعنی جود، حیا، صبر، درگزر، قناعت، پرہیزگاری، لطیف مزاجی، خوش طبعی۔ یہ صفت جب افراط و تفریط کی طرف مائل ہوتی ہے تو اس سے حرص و طمع، بے شرمی، فضول خرچی، ریا، اوباشی، رندی، تملق، حسد، رشک وغیرہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
عقل کی قوت اگر معتدل رہتی ہے تو حسنِ تدبیر، جودت ذہن، اصابت راے پیدا کرتی ہے۔ جب اس میں افراط آتا ہے تو مکر و فریب، حیلہ بازی، عیاری وغیرہ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔ تفریط ہوتی ہے تو حماقت، سادہ پن، نافہمی، ناعاقبت اندیشی، کی صورت میں ظہور کرتی ہے۔ مختصر یہ کہ محاسن اخلاق کے ارکان اصلی تین ہیں: حکمت، شجاعت، عفت۔
چند اخلاق حمیدہ
جس قدر اور اخلاق حسنہ ہیں سب انھیں کے مختلف قالب اور مظاہر ہیں۔ ارادہ، اخلاص، نیت، انس، تبلیغ، تفکر، تفویض، تقویٰ، تواضع، توبہ، توحید، توکل، خشوع، خوف، رجا، دعا، رضا، زہد، شکر، صبر، شوق، صدق، محبت وغیرہ
چند اخلاق ذمیمہ
آفات لسان؛ کذب، غیبت، چغلی، اسراف، بخل، بغض، تکبر، حب جاہ، حب دنیا، حرص، حسد، ریا، شہوت، عجب، غضب وغیرہ۔
کمال شریعت پر عمل: (نواں فائدہ)
قوتوں کا اعتدال ریاضت و مجاہدہ سے پیدا ہوتا ہےجیسا کہ تصوف کی یہ خاص کرم فرمائی ہے کہ وہ انسان کو افراط و تفریط سے بچا دیتا ہےاور اخلاق حسنہ کی دولت ہاتھ آتی ہے۔ قلب و نفس و عقل اور قالب کی تطہیر و تزکیہ کے بغیر اعتدال بہت مشکل ہے۔ مختصر یہ کہ اسلام و شریعت انسان کی جیسی کامیاب زندگی چاہتے ہیں تصوف اس کامیاب زندگی کی تعمیر و ترقی کے اصول و قواعد کا نام ہے اور سچی شریعت کا سچا خادم ہے۔
اس کے ذریعہ مکمل شریعت پر عمل آسان ہو جاتا ہے، اس کے بغیر شریعت مطہرہ پر مکمل عمل نہیں ہو سکتا ہے؛ اسی لیے علما و ائمہ نے تصوف بے افراط کو فرض عین قرار دیا۔ اس کی قدرے تفصیل یہ ہے:
شریعت کے بہت سے اجزا ہیں جن میں بعض کا حصول طریقۂ صوفیہ اپنانے پر موقوف ہے۔ جس طرح شریعت کے مختلف احکام کے مختلف نام پڑ گئے اسی طرح اس کے بعض اجزا کی تکمیل کا نام تصوف پڑ گیا۔ اب عرف عام کے مطابق اس کی مختصر تفصیل یہ ہےکہ شریعت کے اس جز کا جس کا تعلق اعمال ظاہری سے ہے فقہ نام ہو گیا اور دوسرا جز جس کا تعلق اعمال باطنہ سے ہے اس کا نام تصوف ہو گیا اور ان اعمال باطنہ کے طریقوں کو طریقت کہتے ہیں۔ پھر اعمال کو درست کرنے، تقویٰ و پرہیزگاری اپنانے، نیز مرشد کامل کی خاص توجہات کے ذریعہ نفس و قلب و روح و دیگرلطائف کے تزکیہ و تصفیہ سے جو جلا، روشی اور صفا پیدا ہوتی ہےاور جس کی بدولت قلب پر بعض حقائق کونیہ اعیان و اعراض کے حقائق و لوازم
خاص کر اعمال حسنہ و سیئہ اور حقائق الٰہیہ ذاتیہ صفاتیہ فعلیہ ، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان معاملات اسرار و رموز کی صورت میں منکشف ہوتے ہیں ان کو حقیقت اور اس انکشاف کو معرفت اور صاحب انکشاف کو محقق و عارف کہتے ہیں۔
معلوم رہے کہ شریعت و طریقت و حقیقت کے باہمی رشتوں اور ان کی حقیقت و ماہیت کو ہم ایک مستقل تحریر میں قدرے تفصیل سے عرض کر چکے ہیں، یہاں بعض علما کا قول نقل کرتے ہیں: