مواد پر جائیں

باب ۲۶ از ۵۴صفحات ۳۱۶–۳۳۰

خوف کے فضائل

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ خوف کی حقیقت بعض اوقات غور و فکر سے معلوم ہوتی ہے اور بعض اوقات آیات و احادیث سے۔ پھر قسم کو بیان کرکے فرماتے ہیں کہ آیات و احادیث فضیلت خوف میں بے شمار آئی ہیں اور اتنی فضیلت بہت کافی ہے کہ خائفین (اہل خوف) کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت، رحمت، علم اور رضوان کو جمع فرمایا اور یہ تمام امور اہل جنت کے مقامات کو جمع کرتے ہیں۔ آیات کریمہ:

۱۔ ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ (سورۃ الاعراف: ۷؍۱۵۴)

ترجمہ: ہدایت اور رحمت ہے ان کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

۲۔ آیت مذکورہ ‘اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا’ ان کے خوف و خشیت کی وجہ سے ان کو علم سے موصوف فرمایا۔

۳۔ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ (سورۃ البیّنۃ: ۹۸؍۸)

ترجمہ: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔’’

خیال رہے کہ جو باتیں فضیلت علم پر دلالت کرتی ہیں وہ خوف کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کیوں کہ خوف علم کا ثمرہ ہے۔ اب اگر خوف کی بنیاد کو دیکھا جائے تو وہ علم ہے اور نتیجہ دیکھیں تو وہ ورع و تقویٰ ہے اور دونوں کی فضیلت میں جو آیا ہے

وہ پوشیدہ نہیں حتیّٰ کہ عاقبت تقویٰ کے ساتھ مختص کر دی گئی اور تقویٰ ان چیزوں سے رکنے کا نام ہے جو خوف کا مقتضیٰ اسی لیے ارشاد فرمایا:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ (سورۃ الحجرات: ۴۹؍۱۳)

ترجمہ: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔’’

اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اولین و آخرین کو تقویٰ کا حکم دیا اور فرمایا:

وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ (سورۃ النساء: ۴؍۱۳۱)

ترجمہ: اور بے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللّٰہ سے ڈرتے رہو۔’’

۴۔ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ (سورۃ آل عمران:۳؍۱۷۵)

ترجمہ: اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔’’

اس میں اللہ تعالیٰ نے خوف کا حکم دیا اور اسے واجب قرار دیا، بلکہ ایمان میں شرط قرار دیا اس لیے یہ تصور بھی نہیں ہو سکتا ہے کہ کوئی مومن خوف سے خالی ہو اگرچہ کتنا ہی کمزور ہو اور خوف کی صفت ایمان و معرفت کی کمزوری کے مطابق ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ ورع و تقویٰ ایسے نام ہیں جو ان معانی سے مشتق ہیں جن کے لیے خوف شرط ہے، اگر تم خوف سے خالی ہو تو ان ناموں سے موسوم نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح فضائل ذکر بھی مخفی نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے خائفین کے ساتھ خاص کیا، ارشاد خداوندی ہے:

۵۔ سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخْشٰی (سورۃ الاعلیٰ: ۸۷؍۱۰)

ترجمہ: عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے۔’’

۶۔ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ (سورۃ الرحمٰن: ۵۵؍۴۶)

ترجمہ: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنّتیں ہیں۔’’

۷۔ وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ (سورۃ المومنون: ۲۳؍۶۰)

ترجمہ: اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں۔’’

حضرت عائشہ‌رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! اس آیت سے چور اور زانی مراد ہیں، آپﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ شخص مراد ہے جو روزہ رکھتا، نماز پڑھتا اور صدقہ کرتا ہے اور اسے ڈر ہو کہ اس سے یہ قبول نہ ہو۔ (جامع ترمذی)

خوف الٰہی

حضرت امام ابو طالب قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ہر مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، لیکن اس کا خوف اس کے قرب کے بقدر ہوتا ہے۔ چناں چہ اسلام کا خوف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غلبہ اور قدرت کا اعتقاد ہو، قدرت اور غلبہ کو اس کے لیے تسلیم کرے۔ جن عذاب کی اس نے خبر دی اور جن عذاب سے اس نے ڈرایا ہے اس کی تصدیق کرے۔

علامت: خوف الٰہی کی علامت یہ ہے کہ ہر وقت نفس کا محاسبہ ہو، ہر لمحہ اپنے رب کا مراقبہ ہو، بغیر یقین کے ہر طرح کے علمی شبہات میں اور بغیر سمجھے عملی شبہات میں قدم بڑھانے سے اجتناب ہو۔ خیال رہے کہ ورع و تقویٰ خوف کا ایک حال ہے۔ پھر جوارح کو شبہات اور خشوع قلب اور وجود انابت کی وجہ سے ہر قسم کے فضول حلال سے روکنا بھی خوف میں شامل ہے۔ حضرت علی‌رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جسے جنت کا شوق ہوتا ہے وہ خواہشات سے دور رہتا ہے اور جو جہنم سے ڈرتا ہے وہ محرمات سے بچتا ہے، پھر زبان کو قید کر لیتا ہے اور باتوں کو بند کر دیتا ہے۔

خوف الٰہی کا ثمرہ

اللہ تعالیٰ کے خوف کا نتیجہ و ثمرہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حیا ہے جو کہ اہل انعام کے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔ اس خوف کے احکام دو

صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ بندہ اپنے سر اور اس میں شامل جملہ اعضا؛ آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت کرے۔ اور دوم یہ کہ پیٹ اور جو کچھ اس کے ارد گرد ہے یعنی قلب، شرم گاہ، ہاتھ اور پاوں کی حفاظت کرے۔ یہ عوام کا خوف ہے اور یہ حیا کی ابتدا ہے۔ خواص کا خوف یہ ہے کہ وہ چیز جمع نہ کرے جسے وہ نہ کھائے، اس چیز کی تعمیر نہ کرے جس میں وہ سکونت نہ کرے، اس چیز کی کثرت نہ کرے جس سے وہ دور ہونے والا ہے اور اس سے غفلت اور تجاوز نہ کرے جس کی طرف اسے کوچ کرنا ہے، اسی کا نام زہد ہے۔

اعلیٰ خوف

سب سے اعلیٰ خوف یہ ہے کہ اس کا دل خاتمہ کے ساتھ متعلق ہو، کسی علم اور عمل سے اسے سکون نہ ملتا ہو اور اپنے علوم کی بنیاد پر نجات کا قطعی فیصلہ نہ کرتا ہو اگرچہ وہ علوم کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں اور نہ اعمال کے سبب سے ایسا کرتا ہو اگرچہ اس کے اعمال کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیوں کہ انجام کی تحقیق اس کے پاس نہیں۔ (ماخوذ از قوت القلوب)

خوف کے درجات

معلوم رہے کہ خوف نہات قابل تعریف چیز ہے، لیکن کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر خوف محمود و پسندیدہ ہے تو ایسا نہیں، بلکہ خوف تو اللہ تعالیٰ کا ایک کوڑا ہے جس کے ذریعہ وہ بندوں کو علم و عمل پر مواظبت (ہمیشگی) کی طرف لے جاتا ہے تاکہ بندے اس علم و عمل کے ذریعہ قرب کا مرتبہ حاصل کریں۔ جانوروں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کوڑے سے خالی نہ ہوں۔ یہی حال بچوں کا ہوتا ہے، لیکن یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ مارنے میں مبالغہ محمود ہے اسی لیے خوف کے درجات ہیں:

(۱)قاصر خوف — (۲)مفرط خوف — (۳)اور معتدل خوف

اور محمود و پسندیدہ آخری خوف ہے۔ حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں کہ

قاصر خوف عورتوں کی رقت (نرمی) کی طرح ہوتا ہے۔ جب قرآن پاک کی کوئی آیت سنی جاتی ہے تو دل پر خوف ہوتا ہے، اس سے رونے کی صورت پیدا ہوتی ہے، آنسو جاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح پریشان کن مشاہدہ پر خوف ہوتا ہے۔ جب یہ حِس سے غائب ہو جاتا ہے تو دل غفلت کی طرف لوٹ آتا ہے تو یہ خوف قاصر ہے، اس کا عطیہ قلیل نفع کمزور۔ اس کی مثال ایسی ہے ہے جیسے کسی طاقت ور جانور کو نہایت کمزور کوڑے سے مارا جائے، اس سے مارنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے نہ اس سے جانور کی صحیح تادیب ہو سکتی ہے۔تمام عام لوگوں کا خوف اسی قسم کا ہوتا ہے۔

البتہ عارفین اور علما کا معاملہ جدا ہے۔ علما سے میری مراد رسمی علما نہیں جو محض نام کے علما ہیں کیوں کہ وہ خوف میں سب سے دور ہیں، بلکہ وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ایام و افعال کا علم رکھتے ہیں ایسے لوگ کمیاب ہیں؛ اسی لیے حضرت فضیل بن عیاض‌رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر تم سے پوچھا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہو؟ تو تم خاموش رہو کیوں کہ اگر ‘نہیں’ کہوگے تو یہ کفر ہے اور اگر ‘ہاں’ کہوگے تو یہ جھوٹ ہوگا۔’’

اس کا مقصد یہ تھا کہ خوف اعضا کو گناہوں سے روکتا اور عبادت کی زنجیروں میں جکڑتا ہے اور جو اعضا میں موثر نہ ہو وہ محض ایک ایسی بات ہے جو خوف کہلانے کی مستحق نہیں۔

خوف کے سلسلے میں افراط اور زیادتی اور حد اعتدال سے تجاوز بھی مذموم ہے کیوں کہ وہ عمل سے مانع اور اس سے رکاوٹ ہوتا ہے اور بعض اوقات خوف بھی مرض اور کمزوری نیز ضعف عقل اور دہشت، بلکہ زوال عقل، بلکہ موت تک لے جاتا ہے کیوں کہ خوف کا فائدہ بچنا، ورع، تقویٰ، عبادت اور ذکر و فکر ہے اور وہ تمام اسباب ہیں جو اللہ تعالیٰ تک لے جاتے ہیں اور یہ سب باتیں صحت بدن اور عقل کی

سلامتی کے ساتھ زندگی کی داعی ہیں جو ان اسباب میں خرابی کا باعث بنے وہ مذموم ہے۔

لہٰذا سب سے زیادہ پسندیدہ خوف وہ ہے جو اعتدال پر مبنی ہو۔ غرضیکہ جو خوف عمل میں مؤثر نہ ہو یعنی قاصر خوف اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور اگر مؤثر ہو تو ظہور اثر کے اعتبار سے اس کے کئی درجے ہیں۔ اگر صرف عفت یعنی شہوات کے تقاضوں سے رکنے تک محدود ہے تو اس کے لیے ایک درجہ ہے، اور جب ورع پیدا کرے تو وہ اس سے اعلیٰ درجہ ہے اور سب سے بہتر اور اعلیٰ درجے کا خوف وہ ہے جو صدیقین کے درجات تک پہنچائے وہ یہ کہ ظاہر و باطن میں ماسواسے ترک تعلق اس درجہ کرے کہ اس میں غیر حق کی بالکل گنجائش نہ رہ جائے، یہ آخری درجہ ہے اور محمود ہے، اس کےلیے صحت و عقل کا باقی رہنا ضروری ہے۔ اگر خوف ان کے ازالے تک لے جائے تو یہ محمود نہیں، بلکہ مذموم ہے۔

یہ بھی دھیان رہے کہ خوف کا تحقق کسی ناپسندیدہ چیز کے انتظار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ شے یا تو ذاتی طور پر ناپسندیدہ ہوگی جیسے آگ یا وہ شے کسی ناپسندیدہ چیز تک پہنچاتی ہے جیسے گناہوں کا ارتکاب آخرت میں ناپسندیدہ امر تک پہنچائےگا اسی لیے وہ ناپسند ہیں۔ اہل خوف کے دلوں پر جو مکروہات غالب آتے ہیں وہ ممنوعات ہیں، اس اعتبار سے ان کے درجے ہیں۔

لوگوں پر خوف کبھی وعدہ ٹوٹنے کا ہوتا ہے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ادا کرنے کی قوت کمزور ہے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ دل کی نرمی سختی میں نہ بدل جائے، کبھی سیدھے راستے سے بھٹکنے کا خوف ہوتا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن خواہشات سے الفت ہے ان کی اتباع میں عادت کے غالب آنے کا خوف ہوتا ہے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ پروردگار جل و علا ان نیکیوں کے بارے میں باز پرس فرمائےگا جن پر اعتماد کر لیا ان کے ذریعہ لوگوں میں عزت حاصل کی یا کثرت

نعمت پر اترانے اور اکڑنے کا خوف ہو یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی غیر کے ساتھ مشغول نہ ہو جاؤں یا نعمتوں کے پیہم ملنے اور متواتر طریقے پر حاصل ہونے پر یہ خوف کرنا کہ کہیں یہ استدراج اور ڈھیل نہ ہو یا یہ خوف کہ عبادات کے مکر و فریب ظاہر نہ ہو جائیں یا یہ خوف کہ لوگ غیبت، خیانت، دھوکے اور دل میں برائی چھپانے کے ذریعہ اس کے پیچھے نہ لگ جائیں یا اس برائی کا خوف جس کا اسے علم نہیں یا موت سے پہلے رسوائی یا دنیوی زیب و زینت کے ذریعہ دھوکہ کا شکار نہ ہو جائے یا بوقت موت برے خاتمہ کا ڈر۔ یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب و الشہادہ ہماری خفیہ باتوں پر مطلع ہے اور میں غافل ہوں۔ عارفین کو ا ن تمام باتوں کا خوف ہوتا ہے اور ان میں ہر ایک کا خصوصی فائدہ ہے یعنی وہ اس چیز سے بچنے کا راستہ اختیار کرتا ہے جس کا اسے خوف ہوتا ہے۔

خوف افضل ہے یا رجا

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: خوف اور امید دو دوائیں ہیں جس کے ذریعہ علاج کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان کی فضیلت اس بیماری کے اعتبار سے ہوگی جو موجود ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی اور غرور کی بیماری غالب ہو تو خوف افضل ہے اور اگر اس کی رحمت سے ناامیدی غالب ہے ہو تو امید افضل ہے۔ اسی طرح اگر بندے پر گناہ غالب ہو تو خوف افضل ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مطلقاً خوف افضل ہے کیوں کہ گناہ اور مخلوق کا دھوکے میں ہونا زیادہ پایا جاتا ہے، اگر منبع کو دیکھا جائے تو امید افضل ہے کیوں کہ اسے بحر رحمت سے سیراب کیا جاتا ہے اور خوف غضب کے سمندر سے سیراب ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ جو چیز کسی غیر کے لیے مراد ہوتی ہے اس کے لیے لفظ اصلح استعمال کرنا چاہیے، لفظ افضل نہیں۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کے لیے امید کے مقابلے میں خوف زیادہ صلاحیت رکھتا ہے کیوں کہ گناہوں کا غلبہ ہے، لیکن متقی شخص جس نے ظاہری اور باطنی، پوشیدہ اور واضح گناہ ترک کر دیے تو زیادہ صحیح

یہ ہے کہ اس کا خوف اور امید دونوں اعتدال پر ہوں اسی لیے کہا گیا ہے کہ اگر مومن کے خوف و امید کا وزن کیا جائے تو دونوں برابر ہوں گے۔ (ماخوذ)

حالت خوف کا علاج

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: ہم نے صبر کی دوا کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا اور صبر و شکر کے بیان میں جو تشریح ہے وہ اس غرض کے لیے کافی ہے کیوں کہ صبر اسی وقت ممکن ہے جب خوف اور امید حاصل ہوں کیوں کہ دین کا پہلا مقام یقین ہے جو حق تعالیٰ، آخرت، جنت اور دوزخ پر ایمان کی قوت کا نام ہے اور یہ یقین لازمی طور پر جہنم سے خوف اور جنت کی امید کو ابھارتا ہے اور امید و خوف صبر پر طاقت دیتے ہیں کیوں کہ جنت ناپسندیدہ امور سے ڈھانپی گئی ہے (حُجِبَتِ الجَنّۃُ بالمَکارِہ) اور اٹھانے پر صبر امید کی قوت کے بغیر نہیں ہو سکتا اور جہنم خواہشات کے ساتھ ڈھانپا گیا ہے اور ان شہوات کے ازالے کے لیے قوت خوف کی ضرورت ہے۔

اسی لیے حضرت علی‌رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص جنت کا شوق رکھتا ہو وہ شہوات سے نکل جائے اور جو جہنم سے ڈرتا ہو وہ حرام کاموں سے باز رہے۔’’

پھر خوف و امید سے حاصل ہونے والا مقام مجاہدہ، ذکر خدا کے لیے علاحدگی اور دائمی فکر تک پہنچتا ہے اور دائمی ذکر انس پیدا کرتا ہے۔ جب کہ دائمی فکر کمال معرفت تک لے جاتی ہے اور کمال معرفت اور انس محبت تک لے جاتے ہیں اور محبت کے بعد مقام رضا و توکل، بلکہ تمام مقامات ہیں تو منازل دین کو طے کرنے میں اس ترتیب کو سامنے رکھا جائے اور اصل یقین (ایمان) کے بعد خوف اور امید کے سوا کوئی مقام نہیں اور دونوں کے بعد صبر کے علاوہ کوئی مقام نہیں اور اسی سے مجاہدہ اور ظاہر و باطن میں حق تعالیٰ کے ساتھ خلوت اور تنہائی نصیب ہوتی ہے اور جس کے لیے راستہ کھل جائے اس کے لیے مجاہدہ کے بعد صرف ہدایت و معرفت ہے اور معرفت کے بعد صرف محبت و انس کا مقام اور محبوب کے فعل پر راضی ہونا

اور اس کی عنایت پر یقین رکھنا محبت کی ضرورت سے ہے۔

حصول خوف کے طریقے

خوف دو مختلف طریقوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک دوسرے سے اعلیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے خوف دو جگہوں پر ہوتا ہے۔ ایک اس کے عذاب سے خوف، دوم خود اس کی ذات سے خوف۔ ذات سے خوف علما اور ارباب قلوب کا خوف مراد ہے جو جانتے ہیں کہ حق سبحانہ کی بعض صفات کا تقاضا ہیبت، خوف اور پرہیز ہے، وہ اس ارشاد ربّانی:

وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ (سورۃ آل عمران: ۳؍۳۰)

ترجمہ: اور اللہ تمھیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔’’

نیز ارشاد:

اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ (سورۃ آل عمران: ۳؍۱۰۲)

ترجمہ: اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔’’

اور پہلا خوف (عذاب سے ڈرنا) عام مخلوق کا خوف ہے اور جنت و دوزخ کے وجود نیز ان دونوں کی فرماں براداری اور نافرمانی کا بدلہ ہونے پر ایمان لانے سے حاصل ہوتا ہے اور اس کی کمزوری، غفلت اور ایمان کی کمزوری کا باعث ہوتی ہے اور غفلت کو وعظ، تزکیہ اور قیامت کے ہولناک مناظر اور طرح طرح کے اخروی عذاب میں ہمیشہ غور کرنے کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے۔ نیز رب تعالیٰ کا خوف رکھنے والوں کو دیکھنے، ان کی مجالس میں حاضر ہونے اور ان کے احوال کا مشاہدہ بھی غفلت کو دور کرتا ہے، اگر مشاہدہ نہ بھی ہو سکے تو ان کی باتیں سننا بھی تاثیر سے خالی نہیں۔

دوسرا خوف اعلیٰ ہے جس کا تعلق ذات خداوندی سے ہے یعنی اس سے دوری اور حجاب کا خوف ہو نیز اس کے قرب کی امید رکھے۔

حضرت ذوالنون مصری‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خوف فراق کے وقت دوزخ کا

خوف ایک گہرے سمندر میں قطرے کی طرح ہے اور یہ علما کا خوف و خشیت ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا (سورۃ فاظر: ۳۵؍۲۸)

ترجمہ: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔’’

اس خوف سے عام مومنوں کو بھی حصہ ملتا ہے، لیکن وہ محض تقلیدی ہوتا ہے، اس کی نسبت بصیرت کی طرف نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ کمزور بھی ہو سکتا ہے اور ازخود زائل بھی۔ جو شخص معرفت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہےوہ اس سے ضرور ڈرتا ہے ایسے شخص کے لیے حصول خوف کے لیے کسی علاج کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا پہچانتا ہے اتنا ہی اس سے ڈرتا ہے۔ سرور کونینﷺ سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے۔ لہٰذا آپ سے خوف کی روایتیں بہت آئی ہیں۔ ان مقدس بندوں کی نظر اللہ تعالیٰ کی شان استغنا پر ہوتی ہے۔

آپﷺ فرماتے ہیں: شبّتْنی ھود و أخواتھا سورۃ الواقعۃ و إذا الشمس کُوِّرتْ و عمَّ یتَساءلون

مجھے سورۂ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں؛ سورۂ واقعہ، اذا الشمس کورت اور عم یتسائلون نے بوڑھا کر دیا۔’’

علما فرماتے ہیں کہ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سورہ ہود میں رحمت سے دور کرنے کا ذکر ہے، ارشاد خداوندی ہے:

اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ہُوۡدٍ (سورۃ ھود: ۱۱؍۶۰)

خبردار! حضرت ہود کی قوم عاد کے لیے دوری ہے۔

اور فرمایا:

اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوۡدَ (سورۃ ھود: ۱۱؍۶۸)

سنو! صالح‌علیہ السلام کی قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔

اور فرمایا:

اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیۡنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوۡدُ(سورۃ ھود: ۱۱؍۹۵)

سنو! قوم مدین کے لیے دوری ہے جیسے قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔

یہ سب سورۂ ہود میں ہے۔ اسی طرح سورۂ واقعہ وغیرہ میں آیات تخویف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو آیات و احادیث خوف سے ایک مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔

حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: قرآن شریف میں اول سے آخر تک ڈر سنانے والی آیات ہیں، لیکن اس کے لیے ہیں جو غور و فکر سے پڑھے، اگر اس میں صرف درج ذیل آیت ہوتی تو بھی کافی تھی کیوں کہ مغفرت کی چار شرطیں بیان فرمائیں جن میں سے ہر ایک شرط ایسی ہے جس سے بندہ عاجز ہے، ارشاد ربّانی ہے:

وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی (سورۃ طٰہٰ: ۲۰؍۸۲)

ترجمہ: اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کیاور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔’’

چند آیات ملاحظہ ہوں:

۱۔ فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الْمُفْلِحِیۡنَ (سورۃ القصص: ۲۸؍۶۷)

ترجمہ: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو۔

۲۔ لِّیَسْـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدْقِہِمْ (سورۃ الاحزاب: ۳۳؍۸)

ترجمہ: تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے۔

۳۔ سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّہَ الثَّقَلٰنِ (سورۃ الرحمٰن: ۵۵؍۳۱)

ترجمہ: جلد سب کام نبٹا کر ہم تمھارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ۔

۴۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ (سورۃ ھود: ۱۱؍۱۰۲)

ترجمہ: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے۔

۵۔ وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا (سورۃ مریم: ۱۹؍۷۱)

ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔

۶۔ وَ اِذَا الْجَحِیۡمُ سُعِّرَتْ● وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ● عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ● (سورۃ التکویر: ۸۱؍۱۲۔۱۴)

ترجمہ: اور جب جہنّم بھڑکا یا جائے۔اور جب جنّت پاس لائی جائے۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔

۷۔ وَالْعَصْرِ● اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ● اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ● (سورۃ العصر: ۱۰۳؍۱۔۳)

ترجمہ: اس زمانۂ محبوب کی قسم۔ بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے، مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔’’

اس سورۂ مبارکہ میں ہر انسان کو گھاٹے اور نقصان کا شکار فرمایا گیا ہے، اس سے صرف وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے، اعمال صالحہ کیے اور حق کی تلقین اور صبر کی وصیت کی۔ یہ چار شرائط ہیں جن کو پورا کر کے انسان نقصان اور خسارہ سے بچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو شخص تقدیر پر گہری نظر رکھتا ہے اس پر لازماً خوف غالب آتا ہے۔ پس اسرار تقدیر کی پہچان رکھنے والوں کے یہ مقامات ہیں۔

جو شخص اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اس بلند مقام تک نہ پہنچ پائے اس کے لیے خوف کا راستہ یہ ہے کہ آیات و احادیث سن کر اور اہل خوف عارفین کے حالات و احوال کا مطالعہ کرکےاپنا علاج کرے۔ اسے چاہیے کہ غور کرے کہ انبیا علیہم الصلوات و التسلیمات اور اولیا عظام و علماے کرام علیہم رحمۃ الرحمٰن جو عقل و معرفت اور منصب کے اعتبار سے بالیقین ان لوگوں سے افضل ہیں جو امیدوں کے دام میں پھنسے ہیں۔ یہ حضرات جس قدر خوف رکھتے تھے۔ لہٰذا ان کی پیروی کرے اور جو بے خوف ہیں، حضرت امام قدس سرہ فرماتے ہیں: وہ فرعون، جاہل اور غبی ہیں، یہ ان کی اقتدا نہ کرے۔

رسول کونینﷺ تو تمام اولین و آخرین کے سردار ہیں، آپﷺ سب سے زیادہ خوف کھانے والے تھے۔ حضرت امام قدس سرہ نے اس سلسلے میں متعدد روایتیں نقل کی ہیں، اسی سلسلۂ بیان میں فرماتے ہیں کہ جب بدر کے دن مسلمانوں کی شوکت کمزور دیکھی تو آپﷺ نے یوں دعا مانگی:

یا اللہ اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں رہےگا جو تیری عبادت کرے۔ حضرت ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ اپنے رب سے مزید دعا نہ کریں، وہ آپ سے کیے گئے وعدے کو پورا کرےگا۔ (بخاری)

تو حضرت ابو بکر کا مقام وعدۂ الٰہی پر یقین کا مقام تھا اور نبیﷺ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کے مقام پر تھے اور یہ زیادہ کامل ہے کیوں کہ اس کا صدور اللہ تعالیٰ سے اسرار اور خفیہ امور نیز اس کی ان بعض صفات کے معانی کی کامل معرفت سے ہوتا ہے جن سے صادر ہونے والے بعض امور کو خفیہ تدبیر کہا جاتا ہے اور یہ کسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی گہرائی سے (کما حقہ) آگاہ ہوسکے۔ جس شخص پر یہ حقیقت واضح ہوگی وہ زیادہ خوف کھائےگا۔

حضرت عیسی روح اللہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں:

اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ (سورۃ المائدۃ: ۵؍۱۱۸)

ترجمہ: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔’’

آپ نے اس معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سپرد کر دیا اور خود کو درمیان سے مکمل طور پر نکال لیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ سب کچھ اللہ ہی کی مشیت سے ہے۔ اس بات نے عارفین کے دل توڑ دیے کیوں کہ قیامت کبریٰ یہ ہے کہ تمھارا معاملہ اس ذات کی مشیت سے وابستہ ہے، اگر وہ تمھیں ہلاک کر دے تو اسے پرواہ نہیں، اس نے نا معلوم کتنے ہلاک کر دیے اور کتنے ہیں جو طرح طرح کے آلام و مصائب اور امراض و اسقام کے شکار ہیں، وہ انھیں عذاب دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں کفر اور منافقت کی بیماری بھی ہے، پھر وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے، وہ فرماتا ہے:

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیۡ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ (سورۃ السجدہ: ۳۲؍۱۳)

ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت عطافرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنّم کو بھردوں گا ان جنوں اور آدمیوں سب سے۔’’

نیز فرماتا ہے:

وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ (سورۃ ھود: ۱۱؍۱۱۹)

ترجمہ: اور تمھارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنّم بھر دوں گا۔’’

تو جو قول ازل میں ثابت ہو چکا اس کا خوف کیسے نہ ہو، بلکہ اس کے تدارک کی کوئی امید نہیں، ہاں اتنا ہو سکتا ہے کہ قلب و قالب اور دل و اعضا پر ظاہر ہونے

والے اسباب سے کچھ راز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پس جس شخص کے لیے اسباب شر آسان ہو جائیں اور وہ بندے اور نیکی کے درمیان حائل ہو جائیں اور دنیا سے اس کا تعلق مضبوط ہو جائے تو گویا اس کے لیے حقیقتاً سابقہ راز منکشف ہو گیا جو اس کے لیے بد بختی کے ساتھ سبقت کر گیا کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص جس کام کے لیے پیدا کیا گیا وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا اور اگر ہر قسم کی نیکی آسان کر دی گئی ہو اور دل مکمل طور پر دنیا سے قطع تعلق کر چکا ہو اور وہ ظاہری و باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تو یہ بات تخفیف خوف کا تقاضا کرتی ہے اگر اس پر دائمی یقین ہو، لیکن ایک حال پر جما رہنا مشکل ہے اور خاتمے کا خطرہ خوف کی آگ کو شعلہ زن کرتا ہے اور اسے بجھانا ممکن نہیں اور حال کی تبدیلی سے بے خوفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ مومن کا دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے اور دل تو ہانڈی کے جوش مارنے سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہوتا ہے جب کہ مقلب القلوب جل وعلا فرماتا ہے:

اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَیۡرُ مَامُوۡنٍ (سورۃ المعارج: ۷۰؍۲۸)

ترجمہ: بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔’’

حضرت سہل‌رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مرید کو گناہوں میں مبتلا ہونے کا خوف ہوتا ہےجب کہ عارف کو کفر میں مبتلا ہونے کا خوف ہوتا ہے۔ عارفین قدموں کے ثبات اور قوت ایمان کے باوجود برے خاتمے سے ڈرتے تھے تو کمزور کو خوف خاتمہ کیوں نہ ہوگا۔